Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 5
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 5
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
کسی نے اس کے کندھے کو ہلایا تو معراج نیند کی وادیوں سے باہر نکلا۔
آپ کی مریضہ کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔۔۔یہ بل جمع کروا آئیں۔۔۔
نرس اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھماتی خود کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
معراج کچھ سیکنڈ وہیں بیٹھا رہا اور پھر ہاتھ میں تھامے ہوئے کاغذ کو دیکھنے لگا۔
ہوسپٹل میں اب کافی چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔
وہ بینچ سے کھڑا ہوا اور پارکنگ کی جانب بڑھ گیا۔
گاڑی میں سے اپنا والٹ نکالا اور پھر ہوسپٹل کی جانب پلٹا۔
ہوسپٹل کا بل ادا کر کے اس کی منزل پھر سے صندل کا کمرہ تھا۔
جب وہ اس کے کمرے میں پہنچا تو وہ بیڈ پہ بیٹھی گزشتہ رات سے کافی بہتر لگ رہی تھی۔
اسے دیکھے ہی معراج کے چہرے پہ ایک خفیف سی مسکراہٹ پھیلی تھی۔
پہلے سے کافی بہتر دکھ رہی ہو۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے کرسی پہ بیٹھتا کہنے لگا۔
یہاں آنے کا شکریہ۔۔۔۔اور میرے لئے یہاں رکنے کا بھی۔
وہ تشکر بھرے لہجے میں کہنے لگی۔
شکریہ کی ضرورت نہیں۔۔۔۔اور تم بس جلد از جلد ٹھیک ہو جاؤ تاکہ دوبارہ کام پہ آ سکو۔۔۔۔
وہ اپنے جذبات پہ قابو پاتا کہنے لگا جس پہ صندل کے چہرے پہ افسردگی پھیل گئی۔
کیا صرف اس لئے آپ ساری رات یہاں رکے۔۔۔۔۔
وہ شکوہ بھری نظروں سے اسے دیکھتی کہنے لگی جیسے اسے اس سے زیادہ کی امید تھی۔
وہ کچھ کہتا اس سے قبل ایک عورت وہیل چیئر کے ساتھ وہاں داخل ہوئی۔
چلو میں تمہیں تمہارے گھر لے چلتا ہوں۔۔۔۔
وہ کھڑا ہوتا کہنے لگا جبکہ وہ عورت اسے سہارہ دیتی وہیل چیئر پہ بٹھانے لگی اور پھر کمرے سے باہر لے گئی۔
کار میں بھی صندل اسی کے سہارے بیٹھی۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں تک اسے سٹیچز نکلوانے واپس آنا تھا باقی وہ ہر طرح سے صحت مند تھی۔
معراج کے دل و دماغ میں کئی قسم کے سوالات اٹھ رہے تھے جن میں سے سب سے اہم یہ تھا کہ وہ ہوسپٹل میں اکیلی کیوں تھی اس کے والدین یا کوئی اور اس کے ساتھ کیوں نہیں تھا۔
اور اس نے اسے کیوں ہوسپٹل بلوایا حالانکہ وہاں اس کی فیملی کو ہونا چاہئیے تھا۔
لیکن چاہتے ہوئے بھی اس نے صندل سے سوال کعنے سے اجتناب برتا۔
وہ اسے اپنے گھر کا ایڈریس بتانے لگی۔ آواز ابھی بھی رندھی ہوئی تھی لیکن اب اسے پہلے کی طرح تکلیف نہیں تھی۔
یہ جگہ تو مکمل طور پہ جل چکی ہے۔۔۔۔
معراج نے کار روکی تو وہ اپنے سامنے اس جلی ہوئی دو منزلہ عمارت کو دیکھتے ہوئے بولا۔
کہیں آپ کے والدین۔۔۔۔۔
اس کے دماغ میں اچانک خیال آیا تھا کہ کہیں اس کے والدین اس حادثہ کا شکار تو نہیں ہو گئے۔
صندل نے اس کی بات کو مکمل پونے سے پہلے ہی ٹوک دیا۔
نہیں میں یہاں اکیلی کرایہ پہ رہتی ہوں۔
معراج اس کی جانب متوجہ ہوا لیکن پھر اس عمارت کو دیکھنے لگا۔
لیکن اب آپ یہاں نہیں رہ سکتیں۔۔۔۔یہ جگہ رہنے کے قابل نہیں رہی۔
صندل اس کی بات کو نظرانداز کرتی گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی تو معراج نے تیزی سے اس کی بازو تھام لی۔
کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔۔
میرا سامان۔۔۔۔پیسے۔۔۔۔میرا لیپ ٹاپ۔۔۔۔سب اندر ہی تھا۔۔۔۔مجھے دیکھنا ہے کہ کیا بچا ہے۔۔۔۔۔
صندل یہ جگہ کای بھی وقت ڈھ سکتی ہے ایسے میں آپ اس کے اندر جانا چاہتی ہیں۔۔۔۔
صندل کے ارادے جان کر اس کی پکڑ میں مزید مضبوطی آئے گی۔
لیکن مجھے جانا ہی ہو گا۔۔۔۔ورنہ میرے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔۔۔
وہ ضدی لہجہ میں بولی اور اپنا بازو اس سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔
صندل پلیز آپ جوئی بچی نہیں۔۔۔۔اور یہ سب چیزیں تو پھر بن جائیں گی۔
معراج اس بار لہجہ میں قدرے سختی لاتے ہوئے کہنے لگا۔ جس پہ صندل اس کی جانب پلٹی۔
آہ۔۔۔معراج مجھے درد ہو رہا ہے۔۔
وہ کراہ اٹھی تو معراج نے اس کی بازو کو اپنی پکڑ سے آزاد کیا۔
مجھے معاف کر دو۔۔۔۔میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔
وہ اسے اپنی بازو کو سہلاتے دیکھ کر کہنے لگا۔
اٹس۔۔۔۔اٹس اوکے۔۔۔۔لیک۔ مجھے واقعی جانا ہو گا۔۔۔بنا پیسوں کے میں کسی اور جگہ کا بندوبست نہیں کر سکتی۔
رکو تم یہیں انتظار کرو میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔
وہ صندل کا جواب سنے بنا ہی گاڑی کا دروازہ کھولتا اس سے نکلنے لگا۔
مکان بری طرح سے جل چکا تھا۔ اس نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو لیکن جلے ہوئے ملبے سے راستہ بند تھا۔
ویسے بھی یہ ںاممکنات میں سے تھا کہ وہاں کوئی چیز سلامت بچی ہو۔۔۔۔صندل خوش قسمت تھی کہ وہ اس ملبے کا حصہ بننے سے بچ گئی تھی۔
وہ کار کی جانب واپس پلٹا اور اپنی سیٹ سنبھالتا کار سٹارٹ کرنے لگا۔
کیا کچھ ملا آپ کو۔۔۔۔
وہ تجسس سے پوچھنے لگی جس پہ معراج نے سر نفی میں ہلا دیا۔
آپ وہاں نہیں جا سکتیں مجھے اپنے کسی رشتہ دار کا ایڈریس بتائیں میں آپ کو وہاں ڈراپ کر دہتا ہوں۔۔۔
وہ سڑک پہ نظریں جمائے صندل سے کہنے لگا۔۔۔لیکن جب کچھ دیر تک صندل کا جواب نا موصول ہوا تو وہ اسے دیکھنے لگا۔
صندل۔۔۔مجھے بتائیں میں آپ کا کہاں ڈراپ کروں۔۔۔۔
میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔۔۔۔
وہ کھڑکی سے باہر گھورتے ہوئے بولی۔۔۔جبکی چہرہ پہ ویرانگی چھائی تھی۔
معراج نے کار کو ایک سائیڈ پہ روکا تھا اور پھر اس کی سمت پلٹ گیا۔
کیا مطلب ہے کہ کوئی رشتہ دار نہیں۔۔۔۔
وہ متجسس سا ہوا تھا۔
میں بہت چھوٹی تھی جب میرے والدین کا ایک بمب بلاسٹ میں انتقال ہو گیا۔۔۔۔
ان کی شادی گھر والوں کی مرضی کے خپاف ہوئی تھی اس لئے مجھے اپنانے والا کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
معراج کو یہ جان کر بہت افسوس ہوا تھا۔۔۔۔
مجھے بہت افسوس ہوا۔۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔۔یہ بہت وقت پہلے ہوا تھا۔۔۔۔
وہ اس کی جانب پلٹتی ہوئی کہنے لگی۔ جو اسے اپنے حصار میں لئے تھا۔
وہ رفتہ رفتہ اس کے دل میں اترتی جا رہی تھی۔
پھر آپ کی پرورش کس نے کی۔۔۔۔
اس کے سوال پہ صندل کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیلی تھی جیسے کہ وہ یاد اسے فرحت بخشتی ہو۔
میں چوری کرتے ہوئے پکڑی گئی تھی۔۔۔۔۔تھوڑی سی بریڈ چراتے ہوئے۔۔۔۔دوکاندار نے مجھے پیٹنا شروع کیا تو ایک شخص وہاں آیا اور مجھے بچایا۔
ان کی شادی کو چند سال ہوئے تھے اور ابھی ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔۔۔۔تو انہوں نے مجھے گود لینے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔جانتے ہو وہ چائلڈ سپیشلسٹ تھے۔۔۔۔۔
معراج نے صندل کو پہلی بار یوں کسی کے متعلق بات کرتے دیکھا تھا۔
یقینا وہ لوگ اس کے لئے بہت اہم تھے۔
سننے میں تو لگتا ہے کہ وہ اچھے تھے۔۔۔۔
اس کی بات پہ وہ ہنس پڑی۔۔۔۔
بہت۔۔۔۔پاپا تھوڑے الگ تھے لیکن وہ دونوں بہترین تھے۔۔۔
اس کی باتوں سے معراج کو کسی حد تک سکون پہنچا تھا۔
شاید اسی لئے وہ اسے سب سے الگ لگتی تھی۔
یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔۔میں پھر آپ کو وہاں ڈراپ کر دیتا ہوں۔
صندل کے چہرے سے خوشی کے تاثرات ایک لمحہ میں غائب ہوئے تھے۔۔۔۔
وہ یہاں نہیں رہتے۔۔۔۔اور ویسے بھی میں اب ان کے ساتھ نہیں رہتی۔۔۔
صندل کے جواب پہ اسے ایک بار پھر تجسس نے آن گھیرا تھا۔
وہ کیوں۔۔۔۔۔
کیونکہ میں ایک اچھی بیٹی نہیں بن پائی۔۔۔۔
وہ مختصر جواب دیتی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
معراج کچھ سمجھ نہیں پایا۔۔۔۔وہ مزید جاننا چاہتا تھا لیکن شاید یہ درست وقت نہیں تھا۔
آپ مجھے ایدھی سنٹر چھوڑ آئیں۔۔۔۔۔
اس کی اگلی بات پہ تو معراج حیران و پریشان رہ گیا تھا۔۔۔لیکن بنا جواب دیئے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
کچھ لمحے بعد صندل نے اپنے اطراف کا جائزہ لیا اور پھر اس کی جانب پلٹی۔
یہ کیا۔۔۔۔میں نے تو کہا تھا کہ ایدھی سنٹر چھوڑ دیں۔۔۔جب تک کوئی انتظام نہیں ہوتا میں وہیں رہ لوں گی۔
اب کی بار معراج نے اپنی مٹھیوں کو زور سے بھینچا تھا اور اس کی گردن میں ابھرتی رگیں وہ صاف دیکھ سکتی تھی۔
آپ میرے ساتھ میرے گھر رہیں گی۔
اس نے حتمی فیصلہ سنایا تھا۔
معراج میں آپ سے۔۔۔۔۔
نہیں صندل اس بارے میں مزید کوئی بات نہیں ہو گی۔۔۔۔آپ میرے ساتھ چل رہی ہیں بس۔
اس نے مانو حکم صادر کیا تھا معراج کا یہ روپ دیکھ کر پہلے تو چونکی لیکن پھر سے مسکراتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
_______
معراج نے اپنی ملازمہ کو کہ کر صندل کے لئے ایک کمرہ صاف کروایا تھا۔
یہ سب دیکھ کر ملازم آپس میں چہہ مگوئیاں کرنے لگے۔
اس کا خاص خیال رکھنے کا حکم دیا گیا جبکہ صندل کو آرام کرنے کی تلقین کرتا وہ خود اپنے کمرے میں چلا گیا اور بستر پہ گر گیا۔
کچھ دیر وہ چھت کو گھورتا رہا اور پھر اس کی نظر دیوار پہ لٹکتی اس کی اور آئمہ کی تصویر پہ گئی۔
میں صرف اس کی مدد کر رہا ہوں اور یہ وقتی ہے۔۔۔۔جیسے ہی اس کی رہائش کا انتظام ہو گا وہ چلی جائے گی۔۔۔۔
وہ اس کی تصویر دیکھتا جیسے خود کو سمجھانے لگا تھا۔
