Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 29
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 29
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
وہ بہت ہی سکون سے کھانے کی ساتھ انصاف کرنے میں مصروف تھا جبکہ ھدیل اس کا چہرہ دیکھنے میں۔
بہرہ ان کے پاس آیا ان کی شاندار شام کا تھرڈ کورس لگانے لگا۔
ھدیل نے ابھی تک کچھ بھی نا چھوا تھا۔۔۔۔حلق سے پانی تک نہیں اتر رہا تھا۔
تم کچھ کھا نہیں رہی۔۔۔
وہ اس کی پلیٹ میں کھانا سرو کرتا ہوا کہنے لگا۔
میرا دل نہیں کر رہا۔۔۔۔
اس کا دھیان بار بار صندل کی جانب جا رہا تھا۔۔۔نجانے اس نے کچھ کھایا بھی ہو گا۔۔۔۔کس حال میں ہو گی۔۔۔۔کہیں واقعی وہ مر۔۔۔
یہ سوچ اتے ہی اس نے جگرجھری بھری تھی وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی کہ اس شخص نے اس کی بیٹی کے ساتھ کیا کیا ہو گا۔
ھدیل مجھے تمہارے چہرے پہ صرف مسکراہٹ نظر آئے۔۔۔۔اور یہ کھاؤ۔۔۔۔کب تک بھوکی رہو گی۔
وہ اس کے سامنے سیلیڈ کی پلیٹ کھسکاتا ہوا کہنے لگا۔
تبریز کیا تمہیں واقعی اس کی کوئی فکر نہیں۔۔۔
اسے ابھی تک سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اچانک اسے کیا ہو گیا۔۔۔
ہم اس بارے میں پھر بات کریں گے۔۔۔۔ابھی کھانا کھاؤ تم بہت کمزور ہو گئی ہو۔۔۔۔
وہ اسے زبردستی اس فائیو سٹار ریسٹورنٹ لایا تھا جبکہ شیش آج رات نمرہ اور عالیان کے ساتھ تھا۔
وہ مزید مزمت کرنا چاہتی تھی لیکن اس کے تاثرات دیکھ کر خاموش ہو گئی۔وہ کچھ بھی کہ لیتی لیکن کرنا تو اس نے وہی تھا جو وہ چاہتا۔
تنگ آ کر وہ بےدلی سے زبردستی سیلیڈ ٹھونسنے لگی۔
شمس کے موبائل کی بیل پہ وہ چنچ چھوڑتا اسے پکڑ کر کرسی سے پشت ٹکا گیا۔
کسی خبر پہ اس کے چہرے کے تاثرات سخت ہوئے تھے اور پھر اس کے چہرے پہ تمسخرانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
__________
وہ اس کے ہاتھوں کو رسی سے باندھ کر اسے زنجیر کی مدد سے چھت سے لٹکا گیا تھا۔
صندل کے پاؤں بمشکل فرش کو چھو رہے تھے وہ پچھلے ایک گھنٹے سے لٹک رہی تھی۔
اس نے بمشکل اپنا سر اٹھا کر چھت جو دیکھا جس میں لگی ہک سے وہ زنجیر لٹکی تھی۔
پیروں کے انگوٹھوں میں مسلسل کھڑے ہونے سے اب اس کے بازؤں پہ دباؤ بڑھنے لگا تھا۔
کلائیوں میں بےتحاشہ جلن اور تکلیف تھی۔۔۔۔بندھے رہنے کی وجہ سے وہ جالی ہو چکی تھیں اور خون اس جگہ جم چکا تھا۔
اسے تو لگتا تھا کہ وہ کسی بیماری میں مبتلا ہو چکی ہے لیکن اب پریشانی کی بات نہیں تھی۔
شھیر کا کہنا تھا وہ اج رات اس کا کام ختم کر دے گا مطلب اسے اس درد سے آزادی مل جاتی۔
وہ اس لمحہ کے انتظار میں تھی جب اسے اس جسم سے چھٹکارا حاصل ہوتا۔۔۔۔
میری کوئی قبر نا ہو گی۔۔۔۔کوئی جنازہ نہیں۔۔۔۔کوئی فاتحہ نہیں۔۔۔۔کوئی میرے لئے ہاتھ نہیں اٹھائے گا۔۔۔۔کوئی میرے لئے روئے گا نہیں۔۔۔۔صندل تم کتنی بدقسمت ہو۔۔۔۔
وہ خود سے سرگوشی کرتی اور پھر اپنی بےبسی پہ مسکرانے لگی۔
ایک بار پھر ٹانگوں نے ساتھ چھوڑا اور وہ لڑکھڑا گئی۔۔۔خود کو کھینچتی وہ پھر سے پیروں کے انگوٹھوں سے توازن قائم کرنے لگی۔
رسی پہ وزن بڑھا تو وہ زوردار اواز کے ساتھ فرش پہ منہ کے بل گری۔
اسے اس کے لئے قطعا تیار نا تھی۔ پسلیوں میں اس قڈر درد اٹھا کہ وہ چلا بھی نا پائی اور بس سانس لینے کی کوشش کرنے لگی۔
لمحات گزرے تو دماغ نے کام کرنا شروع کیا۔۔۔۔وہ آزاد تھی۔۔۔۔رسی پرانی ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گئی تھی۔۔۔۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا وہ خود کو آزاد کروانے لگی تو رسی اس کی کلائیوں میں کسی بریسلیٹ کی طرح اٹک گئی لیکن کم از کم وہ آزاد تو تھی۔
کتنے عرصے بعد وہ دل کی گہرائیوں سے مسکرائی تھی۔
وہ کھڑی ہونے لگی لیکن سینے اور ٹانگ میں بےپناہ درد تھا۔
نہیں مجھےاس کے واپس انے سے پہلے جانا ہو گا۔۔۔۔وہ کبھی بھی زیادہ وقت کے لئے اسے اکیلا نہیں چھوڑتا تھا۔
وہ دوبارہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن کراہ بھر کر زمین بوس ہوئی۔
اس بار وہ ہتھیلیوں کی مدد سے آہستہ آہستہ اٹھنے لگی جیسے ہی درد کی شدت بٹھتی وہ وہیں رک جاتی حتی کہ سانس بھی روک لیتی۔۔۔آخر کار وہ اپنے قدموں پہ کھڑی تھی۔۔۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ درواہ کی جانب بڑھنے لگی۔
_______
تم اچانک کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔وہ ہونقوں کی طرح اس سے پو چھنے لگی۔
عالیان آ رہا ہے۔۔۔۔تمہیں گھر لے جائے گا۔۔۔۔مجھے ابھی ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔۔
وہ تیزی سے کیتا کار سٹارٹ کرنے لگا جب ھدیلاس کا درواشہ کھولتی خود بھی سوار ہوئی۔
نہیں تم کام نہیں جا رہے۔۔۔۔سچ بتاؤ مجھے۔۔۔۔
وہ کھڑکی سےباہر کسی کار کو دیکھنے لگا جو اب پارکنگ سے نکل چکی تھی۔۔۔
بحث مت کرو۔۔۔۔اترو گاڑی سے۔۔۔۔
وہ درشتی سے کہنے لگا جس پہ ھدیل تنگ ا کر اپنے ہاتھ سینے پہ باندھ کر سامنے دیکھنے لگی۔
ھدیل۔۔۔ابھی جاؤ۔۔۔بعد میں بات ہو گی۔۔۔۔
وہ اتنا بڑا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے سکتا تھا۔۔۔شھیر وہاں موجود تھا۔۔۔اور اب وہ وہاں سے جا رہا تھا۔۔۔۔وہ بل سے بایر نکلا تھا۔۔۔لیکن زیادہ دیر کے لئے نہیں۔۔۔
شمس کے چہرے پہ موجود طمانیت اسے قریب کھینچنے کا باعث بنی تھی۔۔۔لیکن وہ بےوقوف نہیں تھا وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتا تھا۔
شیش اور صندل دونوں ہی بہترین اوبشن تھے۔
ھدیل اترو۔۔۔۔اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا لیکن جب شھیر کی کار نظر سے اوجھل ہونے لگی تو مجبورا وہ اس کا پیچھا کرنے لگا۔
عالیان نے اسے شھیر کی موجودگی کی خبر پہنچائی تھی وہ کافی عرصہ سے خود پہکسی کی نئر محسوس کر رہا تھا اور تب ہی سمجھ گیا کہ یہ شھیر ہے جو اس کی تکلیف سے محظوظ ہوتا ہے۔
تبریز ہم عالیان کی کار میں کیوں اور کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔
وہ آئے تو اپنی گاڑی میں تھے لیکن اب کسی اور کار میں سوار تھے جو پہلےسے وہاں موجود تھی۔
شمس کی مکمل توجہ اڈ وقت ڈرائیونگ پہ تھی۔۔کافی فاصلہ پک رہ کر شھیر کا پیچھا کرنا مشکل تھا جبکہ اسے اس بات کا بھی خیال رکھنا تھا کہ اسے بلکل بھی شک نا ہو۔
_______
وہ حویلی کے بیرونی دروازے پہ موجود تھی۔۔۔۔ٹھنڈی ہوا کے جیسے ہی اس سے ٹکرائی وہ کپکپا کر رہ گئی۔
ایک گہری سانس بھرتی وہ اپنے اطراف کی معائنہ کر رہی تھی کہ اس وقت کہاں جائے۔۔۔۔جب شھیر کی گاڑی کو حویلی کی حدود میں داخل ہوتے دیکھا۔
تم۔۔۔۔تم یہاں کیسے ائی۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتا ہوا غرا اٹھا۔۔۔صندل بوکھلاہٹ کے مارے واپس بھاگی جبکہ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کی جانب آیا۔
ایک کمرے میں داخل ہو کر وہ دروازے کا لاک ڈھونڈنے لگی جب مخاپف سمت سے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا گیا جس وجہ سے اسے دروازے سے کچھ دور ہٹنا پڑا۔
عمل تنفس بگڑنے لگا اور اس کا جسم بری طرح لرزنے لگا۔
تم نے ابھی تک کچھ نہیں سیکھا۔۔۔۔کوئی بات نہیں آج رات اسے ختم کرنے کا وقت آ گیا۔۔۔
وہ حقارت سے اسے دیکھتا کہنے لگا بال گندگی سے آپس میں الجھے ہوئے تھے چمڑی ہڈیوں کے ساتھ چپکی ہوئی تھی کوئیایسا حصہ نا تھا جہاں زخم کا نشان موجود نا ہوتا۔۔۔
کئی زخم پیپ سے رس چکے تھے۔۔۔خوف سے اس کی کمزور ٹانگیں آپس میں ٹکرانے لگیں اور وہزمین بوس ہو گئی زبان پہ مانو قفل لگ چکا تھا
وہ چلانے کے لئے منہ کھولتی لیکن آواز ساتھ نا دیتی۔۔۔اس کی موت اس کے سامنے تھی۔
اونہوں۔۔۔۔افسوس تمہیں تو مارنے میں بھی مزہ نہیں ائے گا۔۔۔۔۔وہ جیکٹ سے گن نکال کر اس پی نشانہ لگاتے ہوئے کہنے لگا۔
کم از کم اس کی موت تو اتنی بھیانک نہیں ہو گی۔۔۔۔
وہ اس پہ گولی چلانے لگا تھا جب کوئی اس پہ حملہ آور ہوا۔۔۔۔
