Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 23
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 23
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
وہ اسے کسی درندے کی مانند گھسیٹتا ہوا عمارت کے اندر لے آیا۔
نہی ۔نہیں۔۔۔۔یہ میرے ساتھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔یہ میرے ساتھ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔
مم۔۔۔میںرے ساتھ کیوں آخر کیوں۔۔۔۔
اس کی نظروں کے سامنے کبھی اندھیرا چھا جاتا تو کبھی سب دھندلایا سا دکھائی دیتا۔
وہ ٹانگیں چلاتے ہوئے حلق کے بل چلانے لگی تو شھیر اس کے حالت پہ محظوظ ہوتا دیوانہ وار ہنسنے لگا۔
شھیر نے اس پہ پکڑ ہلکی کی تو وہ بل کھاتی ہوئی سخت فرش پہ گر گئی۔
اسے سینے میں بے تحاشہ درد محسوس ہوا لیکن وہ اسے نظر انداز کرتی اپنے پیروں پہ کھڑی ہونے لگی۔
ویسے ایک بات تو ہے مجھے تم سے اس سے زیادہ دانش مندی کی امید تھی پر تم نے تو اپنے ماں باپ سے کچھ نہیں سیکھا۔
وہ اس سے دور ہوتی ایک کونے میں جا کھڑی ہوئی۔
آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور لب درد اور خوف سے لرزنے لگے تھے۔
پ۔۔۔پلیز مجھے جانے دو۔۔۔۔مم۔۔مجھے جانے دو۔۔۔۔
وہ آنکھوں کو زور سے بند کرتی اور کھولتی تاکہ اس کا دھندلاپن ختم ہو سکے۔
دیکھو مم۔۔میں نے تمہارا کک۔۔۔کیا بگاڑا ہے۔۔۔مم۔۔۔مجھے جانے۔۔۔دو۔۔می۔۔۔میں کسی کو نن۔۔۔نہیں۔۔۔۔
آہ۔۔مجھے یہ بلکل پسند نہیں۔۔۔۔
وہ اس کی جانب پھر سے بڑھا تو صندل خوف سے راہ فرار تلاش کرنے لگی۔
ابھی کچھ قدم ہی اٹھائے تھے جب اس نے اسے شرٹ سے دبوچ کر کھینچا صندل کے ہاتھ میں جو بھی چیز آئی اس نے وہ بنا دیکھے شھیر پی پلٹ وار کیا۔
شھیر نے اپنے چہرے کے سامنے ہاتھ کیا تو صندل پہ پکڑ کمزور ہوئی جس کا وہ فائدہ اٹھا کر اس کی پکڑ سے آزاد ہوتی اس کمرے سے باہر نکل آئی۔
وہ اسے کس جانب سے لے کر آیا تھا صندل کو کچھ یاد نا تھا۔
بنا سوچے وہ اندازے سے ایک دروازے کی جانب بھاگی جو ایک کاریڈور میں کھلا۔
صندل اس کی آواز سن سکتی تھی وہ اسے کے تعاقب میں تھا صندل بگڑے تناسب کے ساتھ بھاگنے لگی۔
ایک کے بعد دوسرے موڑ پہ پلٹتی وہ ایک لمحہ کے لئے کے لئے اپنی پشت کی جانب دیکھنے لگی۔
وہاں اب کوئی نا تھا۔۔۔۔شاید وہ اس سے بچنے میں کامیاب رہی تھی۔صندل شکر کا سانس دائیں جانب پلٹی تھی جب سامنے سے اسے کسی نے آ دبوچا۔
وہ اتنی زور سے سخت فرش پہ گری کہ اسے اپنیہڈی ٹوٹنے کا گمان ہوا۔
شھیر نے اپنے دونوں گٹھنوں سے اس کے بازؤں کو دبوچ رکھا تھا جب کہ وہ شیطانی تاثرات سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
آئی انجوائے اٹ۔۔۔۔
اس کی مکروہ مسکراہٹ پہ صندل آخری بار پوری طاقت سے چلائی لیکن اس کے زوردار طمانچہ سے اسے اپنے حواس کھوتے ہوئے محسوس ہوئے۔
یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کا جبڑہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا ہو۔
وہ اپنے پاؤں زور زور سے مارنے لگی جس پہ شھیر مزید ہسنے لگا۔
ایک اور تھپڑ اس کے دوسرے رخسار پہ داغا گیا تو اس کے ناک سے خون بہنے لگا۔
شھیر کے وزن اور اس تکلیف سے اس کے لئےسانس لینا ناممکن ہو گیا تو وہ اس سے ہٹ کر ایک گٹھنہ فرش پہ ٹکا کر بیٹھ گیا۔
صندل ایک آخری کوشش کی تحت پلٹی اور اپنی کہنیوں سے خود کو اس درندہ صفت سے دور کھینچنے لگی۔
شھیر نے اس کے سر پہ اپنا پاؤں رکھ دیا تو وہ کراہنے لگی۔ اپنا پاؤں اٹھا کر اس نے صندل کی کمر میں زور سے لات ماری تو اس کا سانس اکھڑ گیا اور کچھ لمحہ بعد وہ اس کے ساکت وجود کو گھسیٹتا اسی کمرے کی جانب لے آیا جہاں سے کچھ لمحے قبل ہی وہ فرار ہوئی تھی۔
________
وہ لگاتار ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی۔
تب سے وہ گیارھویں بار اس کے جالج کا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔
اس کے پاس کوئی کار نہیں تھی تبریز کو اس کا گاڑی ڈرائیو کرنا پسند نہیں تھا اور اس حالت میں تو قطعی نہیں ورنہ وہ خود اس کے کالج چلی جاتی۔
میم۔۔۔ہم آپ کو بتایا ہے کہ صندل آج کالج نہیں آئی اس کی تمام ٹیچرز نے بھی اس بات کو ویریفائی کیا ہے۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔وہ تو کالج کے لئے ہی نکلی تھی۔۔۔
دیکھیں میم ہم کچھ نہیں کر سکتے لیکن یہ آپ کی ذمہداری ہے کہ آپ کی بیٹی یہاں آئے۔۔۔۔اور اگر وہ کالج نہیں پہنچی تو اس میں ہمارا قصور نہیں۔۔۔۔
دیکھیں آپ اس کی کسی دوست سے پتا کریں۔۔۔۔
ھدیل پریشانی سے اپنی پیشانی ملتی ہوئی کہنے لگی۔
ہم یہاں سب سے پوچھ گچھ کر چکے ہیں آپ اس کی کسی دوست کو جانتے ہیں تو بتا دیں۔
وہ کچھ بھی کہ لیتی لیکن اس وقت وہ سب وقت کا ضیاع تھا۔
شیش جو کہ کب سے سکول سے واپس آ چکا تھا اپنی ماں کو پریشان دیکھ کسی حد تک معاملہ کی سنگینی سمجھ رہا تھا۔
کہاں چلے گئی یہ لڑکی۔۔۔۔
وہ اپنی گردن کی پشت ملتی آنکھ بھینچ گئی اور پھر انہیں وا کرتی تبریز کو کال ملانے لگی۔
تبریز۔۔۔۔۔
اس کی آواز سنتے ہی شمس نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے اسسٹنٹ کو وہاں سے جانے کا کہا۔
تم ٹھیک ہو۔۔۔۔
ھدیل کی آواز سے ہی وہ اس کی پریشانی بھانپ گیا تھا۔
نہیں۔۔۔ہاں۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔لیکن صندل۔۔۔۔
کیا ہوا ہے صندل کو۔۔۔۔۔
وہ ایک ہاتھ سے موبائل تھامے دوسرے سے لیپٹ ٹاپ بند کرتا چابیاں پاکٹ میں رکھتے آفس سے نکلنے لگا۔
اس کے اسسٹنٹ نے اسے روکنا چاہا جسے وہ نظر انداز کرتا تیزی سے بلڈنگ کا داخلی دروازہ عبور کر گیا۔
ھدیل۔۔۔میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔۔۔
ھدیک نے کافی عرصے بعد اس کے لظجہ میں وہ وہ سردمہری محسوس کی تھی جو ہمیشہ اس کے رونگٹھے کھڑے کر دیتی۔
وہ گھر نہیں پہنچی۔۔۔۔
کیا مطلب گھر نہیں پہنچی۔۔۔۔
معلوم نہیں۔۔۔میں نے کالج فون کیا لیکن وہ کیتے ہیں کہ صندل آج کالج نہیں آئی۔۔۔۔میں بہت پریشان ہوں تبریز۔۔۔۔ایسا کبھی نہیں ہوا۔۔۔۔
وہ رک رک کر اڈے بتاتی گئی جبکہ اس کے ہر لفظ پہ تبریز کی رگوں میں تناؤ ابھرتا رہا۔
میں پہنچ رہا ہوں۔۔۔
وہ موبائل کو سیٹ پہ پھینکتا گاڑی سٹارٹ کرتا وہاں سے روانہ ہو گیا۔
___________
عرصہ دراز سے بند رہنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بدبو اس کے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی جہاں اب خود جم چکا تھا۔
اس کے پیروں میں جنبش ہوئی اور پھر وہ آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولنے لگی۔
سر میں اٹھنے والی تکلیف سے اس نے انھیں پھر سے مندھ لیا اور ایک لمحہ کے لئے چاہا کہ اب وہ انہیں تاحیات بند ہی رکھے۔
ایک لمحہ میں اسے سب یاد آیا تو وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
اس جگہ پہ موجود ٹھنڈک اس کی ہڈیوں میں سرایت کر رہی تھی۔
وہ خوف کی شدت سے بری طرح کانپنے لگی اور اپنے اطراف کا جائزہ لینے لگی۔
چھت پہ ایک ننھا سا بلب چل رہا تھا جو اس جگہ مدہم سے روشنی بکھیر رہا تھا۔
صندل اپنے ناک اور جبڑے کو ہلکا سا چھوتی ہوئی نقصان کا جائزہ لینے لگی۔
اور پھر نرمی سے اپنی شرٹ سے جما ہوا خون صاف کرنے لگی۔
اسے اپنا حلق جسی ریگستان کی طرح محسوس ہوا تھا لیکن پہلا خیال جو اس کے ذہن میں آیا وہ راہ فرار کا تھا۔
وہ یہاں کیوں تھی۔۔ کب تک تھی۔۔۔۔وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا۔۔۔۔کب تک کرے گا۔۔۔۔کیا وہ اسے مار دے گا۔۔۔
بےپناہ سوال تھے لیکن جواب ندارت۔
دروازہ ایک دم آواز کے ساتھ کھلا تو وہ خود میں مزید سمٹ گئی۔
شھیر ہاتھ میں ایک پلیٹ پکڑ کر اس تک آیا اور پھر اسے اس کے سامنے پھینک دیا
اس میں ایک سوکھی روٹی موجود تھی۔
وہ پلٹنے لگا تو صندل اپنی سسکیاں روکتی منت کرنے لگی۔
پلیز۔۔۔م۔۔۔مجھے یہاں کیوں لے آئے ہو۔۔۔۔تم میرے ساتھ کیوں کر رہے ہو یہ۔۔۔۔
وہ اس کی جانب پلٹا اور اس کی آنکھوں میں موجود درندگی دیکھ وہ بری طرح لرزنے لگی۔
کیا تمہیں تمہارے ماما بابا نے مونسٹرز کے بارے میں نہیں بتایا ۔۔۔۔
وہ تمسخرانہ مسکراتہ ہوا اسے دیکھنے لگا۔
اس سے کچھ بھی امید رکھنی بیکار تھی وہ اپنا سر گٹھنوں میں دبا کر رونے لگی۔
اس نے کیوں نہیں مانی ماما کی بات۔۔۔۔آخر کیوں نہیں۔۔۔۔
تم میری پالتو ہو۔۔۔۔جب تک میں چاہوں۔۔۔اور پالتو سوال نہیں کرتے بلکہ وپی کرتے ہیں جو ان جا مالک چاہے۔۔۔۔
وہ شیطانی نگاہوں سے اسے دیکھتا پھر سے اسے اس اندھیری جگہ قید کر دیا۔
اس نے جو بھی کہا تھا وہ اسے بلکل بھی سمجھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔وہ تو کچھ بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی۔۔۔اسے تو اس وقت اپنے گھر میں ہونا چاہئیے تھا نا کہ اس قفس میں۔۔۔۔
________
تبریز۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتے ہی اس کی جانب بھاگی۔
میں ابھی اس کے کالج سے آ رہا ہوں۔۔۔۔وہ کالج نہیں گئی۔
اگر کالج نہیں گئی تو کہاں گئی۔۔۔۔وہ تو یہاں کسی سے نہیں ملتی نا کسی کے گھر جاتی ہے۔۔۔۔
کیا تم لوگوں میں کوئی بات ہوئی تھی۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔کوئی بات نہیں ہوئی تبریز۔۔۔۔
وہ اپنے ذہن پہ زور دیتی کہنے لگی پھر ایک جھماکے کے ساتھ کچھ دن قبل ہوئی گفتگو یاد آئی۔
ہاں۔۔۔وہ کسی فرینڈ کے ساتھ آرٹ گیلری جانا چاہتی تھی۔۔۔۔میں نے اس کی دوست سے ملنے کی خوایش کی تو وہ ناراض ہو گئی۔۔۔۔۔۔تمہیں لگتا ہے کہ وہ اس وجہ سے ناراض ہو کے کہیں چلی گئیں ہے۔۔۔۔
ھدیل اس کی آنکھوں میں دیکھتی پوچھنے لگی۔وہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا اس کی قصور وار وہ تھی۔
نہیں ھدیل وہ اتنا بڑا قدم نہی اٹھائے گی۔۔۔۔اور یہ دوست کوں ہے۔۔۔۔مجھے بتاؤ میں ابھی اس کے گھر جاتا ہوں۔۔۔
تبریز کے سوال پہ ھدیل مزید بوکھلا گئی۔
نہیں معلوم۔۔۔مم۔۔۔مجھے نہیں پتا۔۔۔۔اس نے نا کبھی نام بتایا۔۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔۔
تبریز مجھے بیت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔
ھدیل کی بگڑتی حالت دیکھ وہ اسے تھام کر صوفے تک لے آیا۔
یہاں بیٹھو۔۔۔۔مل جائے گی وہ۔۔۔۔پریشان مت ہو۔۔۔۔
وہ اسے تسلی دیتا اس معاملہ کو سوچنے لگا کہ آخر وہ کہاں جا سکتی ہے۔
بابا۔۔۔۔
شیش۔۔۔۔کیا ہوا۔
وہ اس کا آنس سے تر چہرہ دیکھ پوچھنے لگا۔
بابا۔۔۔آپی کا ایک دوست ہے۔۔۔۔وہ ان سے پارک میں ملتا تھا۔۔۔۔جب میں کھیلنے جاتا تھا۔
یہ بات ان دونوں کے لئے حیران کن تھی کیوں کہ وہ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے تھے۔
یہاں آؤ۔۔۔۔
شمس نے اسے بلایا تو وہ بھاگتا ہوا اس سے بغل گیر ہو گیا۔
کون تھا وہ۔۔۔۔کیا آپ نے دیکھا۔
شیش ان دونوں کو دیکھتا سر نفی میں ہلانے لگا۔
دور سے دیکھا اور وہ ہوڈ پہن کر رکھتا تھا۔
شیش بیٹا ہوڈ تو بہت لوگ پہنتے ہیں۔۔۔۔یوں ہمیں کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کون تھا۔
ھدیل اسے پیار سے کہنے لگی جس پہ شیش کی پیشانی پہ دو بل نمودار ہوئے۔
یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی بات کو شدت سے یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
بابا۔۔۔۔اس کے ایک ہاتھ کی آخرہ دو انگلیاں نہیں تھیں۔
شیش نے پرجوش ہوتے ہوئے بتایا جس پہ وہ دونوں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔
