Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 33
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 33
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
وہ صدیقی سے بات کر کے ابھی فارغ ہی ہوا تھا جب صندل کو آفس میں داخل ہوتے دیکھا۔
کرسی گھماتے اپنا رخ اس کی جانب پھیر کر وہ اسے بغور دیکھنے لگا۔وہ نظریں جھکائے ہوئے بال کان کے پیچھے اڑستی ہوئی اس کی جانب بڑھی۔
وہ نظروں کا زاویہ بدلتی اسے دیکھنے لگی اور پھر نظریں جھکا کر اس کے سامنے لرسی پہ براجمان ہو گئی۔
معراج اپنی پشت کرسی سے ٹکاتا رولنگ چیئر کو حرکت دینے لگا۔
شادی کے بعد تمہارے چہرے پہ الگ ہی رونق آ چکی ہے۔۔۔۔
وہ اسے زچ کرنے کے لئے کہنے لگا تو صندل اس کی انکھوں میں دیکھنے لگی جس میں شرارت کود کر آئی تھی۔
مجھے کیوں۔۔۔۔شادی تو آپ کو بھی خاصی فائدہ مند رہی ہے مسٹر معراج۔۔۔۔
وہ اپنے دفاع میں کہنے لگی تو معراج مسکرا دیا۔۔۔
خیر اس کا فیصلہ ہم بعد میں کر لیں گے۔۔۔۔
وہ ابرو اچکاتا زومعنی طریقہ سے کہنے لگا۔۔۔ابھی تو مجھے تمہیں یہ خبر دینی ہے کہ کچھ دنوں تک جو پیشی آ رہی ہے اس کے لئے صدیقی زیادہ پر امید نہیں۔۔۔۔
صدیقی کا نام سنتے ہی صندل کے تاثرات بگڑے تھے جسے معراج نوٹ کئے بنا نہیں رہ سکا۔
پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
معراج۔۔۔میرے خیال سے یہ کیس صدیقی صاحب کی جگہ کسی اور کو ہینڈل کرنا چاہئیے۔۔۔۔
وہ اس کے کف لنک سے کھیلتی ہوئی کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر گویا ہوئی۔
وہ کوئی سوال کرتا اس سے پہلے ہی صندل مخاطب ہوئی۔
شروع سے ہی وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ کیس مشکل ہے۔۔۔میرے خیال سے ہمیں کسی اور وکیل سے مشورہ لینا چاہئیے۔۔۔
ویسے بھی وہ تو آپ کی فرم کے لئے کام کرتے ہیں تو ان کے لئے یہ کیس مشکل ہی ہو گا۔۔۔۔اس کیس کی نوعیت ان کا کام سے کافی مختلف ہے۔۔۔
صندل نے اپنی بات واضح کی تو معراج اس کا ہاتھ تھام کر انگلیوں کی پوروں سے اس کی کلائی سہلانے لگا جس پہ صندل کا تںفس بگڑا تھا۔
تم ٹھیک کہ رہی ہو۔۔۔مججے لگا تھا صدیقی یہ کیس ہینڈل کر لے گا۔۔۔لیکن شاید اسے بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔۔۔میں کل ہی کسی دوسرے وکیل سے رجوع کروں گا۔۔۔
اب جب وہ ان دونوں کے مخالف آ ہی گئی تھی توامان اور صدیقی اسے بچانے کی جگہ سلاخوں کے پیچھے دیکھنا زیادہ پسند کرتے۔۔۔ایسے میں وہ اپنی زندگی کا فیصلہ اس کے ہاتھ تو بلکل نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
اوہ نو مسز معراج۔۔۔۔چہرہ پہ یہ سنجیدگی کیوں۔۔۔۔
وہ اسے کلائی سے تھامے اپنی جانب کھینچتا ہوا گویا یوا۔
صندل اس کے عین سامنے کھڑی اپنا نچلا ہونٹ چبانے لگی۔
میں تو سنجیدہ نہیں ہوں۔۔۔۔بلکل بھی نہیں۔۔۔
لیکن تمہیں دیکھ کر کوئی بھی کہے گا کہ آپ کے خاوند نے یعنی میں۔۔۔۔آپ کو کوئی خاص خوش نہیں دے پائے۔۔۔۔
وہ اس کی کمر کو دونوں جانب سے تھامتا اپنی طرف کھینچنے لگا۔
یہ تو بیت برا ہو گا۔۔۔میں نہیں چاہتی کوئی میرے شوہر کے بارے میں ایسی غلط سوچ رکھے۔۔۔۔
وہ معراج کے بالوں میں اپنی انگلیاں چلاتی ڈرامائی طریقی سے سانس کھینچتی کہنے لگی۔
بلکل۔۔۔اس کا تو ازالہ ہونا چاہئیے۔۔۔۔
وہ اس کی ٹھوڑی پہ بوسہ لیتا کہنے لگا تو صندل ہنس دی۔
اسے ہنستا دیکھ معراج اسے گدگدی کرنے لگا تو وہ خود کو اس کی پکڑ سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے ہوئے بےاختیار ہنسنے لگی۔
چھوڑو مجھے معراج۔۔۔۔
وہ چیخنے کے انداز میں بولی تو معراج کا قہقہہ فضاء میں بلند ہوا۔
اچانک دروازہ پہ دستک ہوئی تو اس نے صندل جو آزاد کیا اور وہ فورا اس سے فاصلہ پہ ہو گئی۔
صاحب جی ۔۔۔بیبی جی۔۔۔کھانے میں کیا بناؤں۔۔۔
حمیرہ کا چہرہ دیکھتے ہی صندل جے چہرے سے ساری مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔
رہنےدو ہم کچھ ہلکا سا کھا لیں گے۔۔۔اور رات میں ڈنر پہ باہر جائیں گے۔۔۔
معراج کے جملے پہ حمیرا پلٹی لیکن پھر صندل کی آواز پہ رک گئی۔
اوپر والے پورشن میں کافی گند پھیلا ہوا ہے۔۔۔کل آپ اس کی صفائی کر دیجئیے گا۔۔۔۔
صندل اپنے مخصوص لہجہ میں گویا ہوئی۔۔۔
اب چونکہ میں آفیشلی آپ کی بیوی ہو تو سب سے پہلے تو لان کی گھاس اور تیسری منزل کی صفائی کرواؤں گی۔۔۔
وہ ناک سکیڑ کر کہنے لگی تو معراج بےآواز ہنس دیا اور پھر سر جھٹک دیا۔
حمیرہ غصیلی نگاہوں سے اسے دیکھتی سر اثبات میں ہلاتی وہاں سے چل دی۔
ویسے میں نے کبھی آپ کو تیسری منزل استعمال کرتے نہیں دیکھا ایسا کیوں۔۔۔
وہ متجسس سی پوچھنے لگی تو معراج اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
کبھی ضرورت ہی نہیں ہوئی۔۔۔ویسے بھی وہاں زیادہ تر پرانق سامان ہے۔۔۔آئمہ چند ماہ بعد وہاں کی صفائی کرواتی تھی پر اس کے بعد میرا کبھی دھیان ہی نہیں گیا۔۔۔
وہ کندھے اچکاتا ہوا کہنے لگا تو صندل مطمئن سی مسکرا دی۔
_________
صندل میں کام سے جا رہا ہوں دو سے تین گھنٹے لگ جائیں گے تم انتظار مت کرنا۔۔۔۔
وہ ہاتھ مئں صندل کے کیس کی فائل پکڑے ہوئے دروازہ کی جانب بڑھتے ہوئے گویا ہوا۔
گزشتہ رات وہ کافی دیر تک سیر و تفریح کرتے رہے جس وجی سے آدھی رات کے بعد واپس لوٹے۔۔۔
صبح دیر کے جاگے اور اب وہ ناشتہ کر کے وکیل سے ملنے لے لئے روانہ ہوا تھا۔۔۔۔
حمیرہ دروازہ میں کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن ہم کھانا اکٹھے کھائیں گے۔۔۔
وہ اس کے کالر کو درست کرتی کہنے لگی تو معراج مسکرا دیا اور پھر بایر چل دیا۔
کھانے میں کیا بناؤں بی بی جی۔۔۔۔
حمیرہ کے رویہ میں موجود تبدیلی اور آنکھوں کی مکاری صندل سے چھپی ہوئی نا تھی۔
کچھ بھی بنا دو۔۔۔۔
وہ مختصر جواب دیتی ہال میں کاغذ اور پینسل پکڑ کر بیٹھ گئی۔
دس منٹ میں سامان کی لسٹ تیار تھی۔۔۔
وہ کچن میں گئی جہاں حمیرہ کھانا بنانے کی تیاری میں مصروف تھی۔
ایسا کرو تم پہلے صفائی کر آؤ۔۔۔۔کعراج تو دیر سے آئیں گے یہ بعد میں ہو جائے گا۔۔۔
وہ عام سے انداز میں کہنے لگی جس پہ حمیرہ مجبورا صفائی کا سامان اٹھا کر تیسری منزل کی جانب بڑھ گئی۔
اسے اوپر بھیج کر چوکیدار کی جانب بڑھی اور اسے سامان کی لسٹ تھمائی۔۔
بی بی جی۔۔۔یہ سب ابھی چاہئیے۔۔۔۔
جی۔۔۔میں معراج کے لئے سپیشل ڈنر تیار کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
لیکن بی بی جی یہ تو مال سے ملے گا۔۔۔اور وہ تو کافی دور ہے۔۔۔
کوئی بات نہیں آپ رکشہ پی چلے جائیں۔۔۔پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔
ابھی جاؤں۔۔۔۔
وہ پھر غیر مطمئن سا پوچھنے لگا جس پہ صندل نے سینے پہ بازو باندھ لئے۔۔۔
ابھی چلا جاتا ہوں بی بی جی۔۔۔۔
وہ پیسے اور لسٹ جیب میں رکھتا ہوا گیٹ کے اس پار چلا گیا تو صندل واپس آ گئی اور اثتیاط سے اندرونی دروازہ لاک کر دیا۔
ہال کے وسط میں کھڑی وہ سیڑھیوں کو دیکھ کر گہرہ سانس بھرنے لگی اور پھر اپنی ہیل اتار کر ننگے پاؤں آہستہ آہستہ ہاتھ میں ہتھوڑا لئے اوپر چڑھنے لگی۔
سیڑھیوں کے سامنے ہی پہلے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اندر حمیرا چیزوں کو ایک طرف کرتی ہوئی دیکھی جا سکتی تھی۔
اس کی پیٹھ صندل کی جانب ہونے کی وجہ سے وہ اسے نا دیکھ سکی۔
صندل دبے پاؤں دروازے سے اندر داخل ہوئی۔۔۔اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور ہاتھ پسینے سے شرابور تھے۔
حمیرا اس کی جانب پلٹتی اس سے پہلے صندل سے اس کے سر کےایک جانب ہتھوڑے سے ضرب لگائی جس پہ وہ فورا زمین بوس ہو گئی۔
شاید وہ مر چکی تھی لیکن صندل اس کی پرواہ کئے بغیر تیزی سے کھڑکی کی جانب بڑھی اور اوٹ سے باہر دیکھنے لگی۔
جب اسے اس بات کا اطمینان ہو گیا کہ وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا وہ کھڑکی کھول کر حمیرا کے ساکت وجود کی طرف بڑھی۔
اسے کھینچ کر کھڑکی کے پاس لائی وہ کافی وزنی تھی اس لئے صندل کو اسے اونچا کرنے میں خاصی مشکل ہو رہی تھی۔
لیکن آخر کار اس نے حمیرا جے جسم جا اوپری حصہ کھڑکی پہ ٹکایا اور پھر اس کی ٹانگوں کو دھکیلنے لگی۔
وہ اپنے خون کی گردش کو سن سکتی تھی۔۔۔دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔
اپنی پوری طاقت سے اس نے حمیرا کو دھکا دیا تو وہ تیسری منزل سے نیچے جا گری۔
کھڑکی پرانی ہونے سے اور حمیرا کے وزن سے ایک سمت سے ٹوٹ گئی۔
صندل کمرے کی جانب پلٹی اور اس کپڑے کو اٹھایا جس سے وہ صفائی کر رہی تھی۔۔۔۔بالٹی میں بھگو کر گیلا کیا اور کھڑکی اور اندر اور باہر سے تیزی سے صاف کرنے لگی تاکہ ایسا لگے کے وہ باہر کی سمت سے صفائی کرتی ہوئی وہاں سے گر گئی۔
صفائی والا کپڑا بھی کھڑکی سے باہر پھینک دیا جو اس کے وجود سے کچھ دوری پہ جا گرا۔
حمیرا کا بےجان وجود اپنی پشت پہ گرا ہوا تھا جبکہ ایک ٹانگ غیرمعمولی زاویہ پی مڑی ہوئی تھی۔
صندل جلدی سے نیچے آئی کوئی کپڑا اور بالٹی میں پانی بھر کر اوپر بھاگی۔
دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور جسم کسی ہنگامی حالات کی طرح کام کر رہا تھا۔
فرش پہ بچھے پلاسٹک کو اس نے رگڑنا شروع کیا جہاں پہ حمیری کا خون موجود تھا۔
فرش اچھے سے صاف کرتی وہ جب مطمئن ہو گئی تو بالٹی کپڑا اور ہتھوڑی لے کر واپس پلٹی۔
سرخ پانی گرا کر وہ ہتھوڑی کو صاف کرنے لگی اور پھر اپنے کمرے میں جا کر خون آلود شرٹ بدلی۔کپڑے اور ہتھوڑی جو کہ اس کے خلاف ثبوت تھا اسے وقتی طور پہ چھپانے لگی۔
اچانک دروازے پہ دستک کی آواز پہ وہ رکی اور پھر مزید تیزی سے ہاتھ چلاتی اپنے حلیے کو درست کرتی سیڑھیوں کے قریب سے ہیل پہن کر دروازے کی جانب بھاگی۔
گھڑی پہ نظر دوڑائی تو اسے ڈیڑھ گھنٹہ ہو چکا تھا۔۔۔دروازہ کھولا تو دوسری جانب کوئی انجان شخص موجود تھا۔
کیا یہ معراج غزنوی کا گھر ہے۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑے ایڈریس کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا۔
جی۔۔۔لیکن آپ کون۔۔۔
وہ عام انداز میں پوچھنے لگی۔
