Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 2
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 2
Zehr-e-Sheren Rania Siddiqui
معراج کے سوال پہ وہ خفیف سا مسکرائی تھی۔
شاید اس لئے کیونکہ میں جانتی ہوں کہ اپ کو ایک اسسٹنٹ میں کیا چاہئیے۔۔۔۔میں خود ایک رائٹر ہوں۔۔۔۔آپ کی طرح تو نہیں لیکن پھر بھی آپ کی ضروریات سمجھتی ہوں۔
معراج ایک کہنی ڈیسک پہ ٹکائے انگلیوں میں پین کو گھما رہا تھا۔
آپ ایک سوشل میڈیا رائیٹر ہیں۔۔۔لیکن اپ نے یہاں اپنا کوئی بھی پروجیکٹ مینشن نہیں کیا۔
وہ اس کی سی۔وی کی جانب اشارہ کرتا کہنے لگا۔
اگر مینشن کر دیتی تو یقینا مجھے انٹرویو کے لئے بھی بلایا نا جاتا۔
وہ متبسم سا مسکراتی کہنے لگی تو معراج نے اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھا۔
آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ میں خود پ۔۔۔۔۔۔
وہ مزید کچھ کہتا اس سے پہلے صندل نے اس کی بات کاٹ دی۔
میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میں اس معاملہ میں کوئی چانس نہیں لینا چاہتی۔۔۔۔اور ویسے بھی آپ کے ساتھ کام کرنا میرے لئے ذاتی طور پہ کافی فائدہ مند رہے گا۔
وہ ایک بار پھر سے اپنائیت سے کہنے لگی۔
میں آپ سے کافی کچھ سیکھ سکتی ہوں اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ لکھنے کے معاملے میں میری سوچ بھی بدل جائے۔۔۔۔
اخری بات وہ اس کی جانب ہلکا سا جھکتے ہوئے کہنے لگی۔ اور معراج خود کو اس کے چہرے کے نشیب و فراز میں کھوتا ہوا محسوس کرنے لگا۔
آپ کی باتیں مجھے تجسس میں گرفتار کر رہی ہیں۔
وہ کہے بغیر رہ نا پایا تھا اور صندل اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی۔
تجسس ایک خطرناک چیز ہے۔۔۔۔میں نے اپنی زندگی میں یہی سیکھا ہے۔
مجھے لگتا ہے اپ کو یہ نوکری نہیں دینے چاہئیے۔۔۔۔
معراج کو اس کا رویہ کچھ خاص نہیں بھایا تھا۔
لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ یہ نوکری آپ مجھے ہی دینے والے ہیں۔
اب کی بار اس نے اطمینان سے کہا تو معراج اس کے بھروسہ پہ مسکرا دیا۔
کیا کہا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔مجھے ایک ایسا اسسٹنٹ چاہئیے جو کہ مضبوط قوت ارادی رکھتا ہو اور اپ میں اس کی کوئی کمی نہیں۔
آپ مجھے اپنا اسسٹنٹ منتخب کریں گے تو مجھ میں مزید خوبیاں بھی نظر آنے لگیں گی۔
وہ رازدارانہ انداز اپناتی کہنے لگی۔
شاید وہ اسے کبھی اس جاب کے لئے منتخب نا کرتا لیکن کچھ تھا جو اسے سب سے الگ بناتا تھا اور معراج اس وجہ کو جاننا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔اقر پھر کون جانے شاید اسے اپنا نیا ٹاپک بھی مل جاتا۔
آپ کل سے جاب شروع کر سکتی ہیں۔۔۔۔میں کام اپنے گھر میں ہی کرنا پسند کرتا ہوں سو آپ کو یہیں آنا ہو گا۔
نو پرابلم۔۔۔۔۔
وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتی اسے پراسرار نظروں سے دیکھتی کہنے لگی۔۔۔لیکن اب ان نظروں میں کچھ اور بھی شامل تھا۔
معراج کو فضا بھاری ہوتی محسوس ہوئی۔ اس سب کے دوران صندل نے ایک بار بھی اپنی نظریں اس کی نظروں سے نہیں پھیری تھیں۔
اور وہ ان کی حدت بخوبی محسوس کر پا رہا تھا۔
اس نے کئی خواتین کے ساتھ بھی کام کیا تھا لیکن یہ احساس فو کبھی نہیں ہوا تھا۔
آپ کو میرا شیڈول ای میل کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔
معراج اس کی گہری آنکھوں میں ڈوبنے سے بچنے کے لئے مسلسل سرزنش کر رہا تھا۔
تو ٹھیک ہے ہم کل ملیں گے۔۔۔۔میں آپ کا مزید وقت نہیں لوں گی۔۔۔۔
وہ اپنا مرمریں ہاتھ اس کی جانب بڑھاتی تیزی سے کہنے لگی۔
معراج اس کا نازک ہاتھ دیکھنے لگا اور پھر اس اپنے ہاتھ میں تھام کر جیسے کنٹریکٹ فائنل کیا تھا۔
وہ تیزی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچتا تب تک ادھر ادگر دیکھتا رہا جب تک وہ وہاں سے چلی نہیں گئی اور پھر اپنے آفس کا دروازہ تکتا رہا۔
تنہائی میں بیٹھے اس نے سالوں بعد آج پہلی بار گھنٹوں تک اپنی مرحوم بیوی کو نہیں بلکہ کسی اور کو سوچا تھا۔
اور جب وہ اس سے تنگ آ گیا تو لان میں جا کر سگریٹ سلگانے لگا۔
________
ٹریک سوٹ میں ملبوس وہ معمول کے مطابق رننگ کر رہا تھا۔
شاید یہی وجہ تھی کہ 37 سال کی عمر میں وہ اپنے ہم عمر لوگوں کی نسبت کافی فٹ تھا۔
یو۔۔۔۔معراج۔۔۔۔۔کیا بنا پھر ۔۔۔۔
وہ ایک چکر لگا کر دوبارہ اسی ٹریک پہ آیا تو مخالف سمت سے امان آتا دکھائی دیا۔
امان اور اس کی ملاقات کالج میں ہوئی تھی اور شرارتی ہونے کی وجہ سے ان دونوں میں اچھی دوستی ہو گئی۔
دونوں نے بزنس سٹڈی کی تھی لیکن پھر معراج نے خود کو مصنف کے طور پہ منوایا جبکہ امان بزنس کی فیلڈ میں ہی رہا۔
دونوں نے مل کر بزنس شروع کیا آئمہ کی وفات سے قبل وہ اکثر آفس چکر لگا لیتا لیکن اس کے بعد سے اس نے سارا بوجھ امان کے کندھوں پہ ہی ڈال دیا اور خود کو لکھنے تک محدود کر لیا۔
کیا بننا تھا۔۔۔۔شکر ہے مجھے ایک اچھی اسسٹنٹ مل گئی ہے۔۔ کم از کم اب مجھے یہ بار بار اڈیٹرز سے بات تو نہیں کرنی پڑے گی۔۔۔۔۔ناک میں دم کر رکھا تھا۔۔۔۔۔
اوہو۔۔۔۔۔تو جناب کی اسسٹنٹ صاحبہ ہیں۔۔۔۔۔
اس نے انکھوں کو گھما کر کہا تو معراج ایک سیکنڈ کے لئے رکتا اسے دیکھنے لگا۔
بچے ہو گئے لیکن تجھے شرم نہیں آئی۔۔۔۔
وہ امان کو شرم دلاتا پھر سے دوڑ لگانے لگا۔
میں کون سا اپنے لئے کہ رہا ہوں۔۔۔۔ویسے اگر وہ خوبصورت ہے اور کنواری ہے تو تم ضرور سوچ سکتے ہو۔
اس کی بات پہ صندل کا چہرہ معراج کے سامنےلہرا گیا جس پہ وہ سر جھٹکتے اپنی رفتار تیز کر گیا۔
کیا نام ہے آپ کی اسسٹنٹ کا۔۔۔۔۔
امان بھی اس کی رفتار کی برابری کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔
صندل ۔۔۔۔۔
معراج نے پھولے ہوئے سانس سے اس کا نام ادا کیا جس پہ امان یکدم اپنی جگہ پہ رکا۔
وہی سوشل میڈیا رائیٹر۔۔۔۔وہ بھنویں اچکاتا پوچھنے لگا
ہاں وہی۔۔۔۔۔۔میرے خیال سے وہ یہ سب بہتر طریقہ سے مینج کر لے گی اور اسے بھی اس فیلڈ میں سیکھنے کا اچھا موقع ملے گا۔
معراج کندھے اچکاتے بظاہر لاپرواہی سے کہنے لگا۔ جب کہ اس کا دل آج پہلے سے زیادہ تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
ہمم۔۔۔نائس۔۔۔۔
وہ اس کے تاثرات دیکھنے لگا۔
چلو پھر آج شام چکر لگاؤں گا تمہاری طرف۔۔۔۔۔
وہ اس کے تاثرات غور سے دیکھ رہا تھا جس وجہ سے معراج نے خاموشی اختیار کرنا بہتر سمجھا۔
_______
بیرونی دروازے کو ہلکا سا دھکیلتا وہ اندر داخل ہوا۔
لان کی حالت زار اسے چیخ چیخ کر اپنی ناقدری کا احساس دلا رہی تھی۔
گھاس اب گٹھنوں کئی فٹ بڑھ چکی تھی اور لان کسی کھیت کی طرح دکھائی دیتا تھا۔
لیکن وہ اس سے لاپرواہ پتھروں سے بنے راہداری پہ چلتا اندرونی گیٹ کی جانب بڑھتا رہا۔
سامنے موجود منظر دیکھ کر وہ کچھ لمحے کے لئے ٹھٹکا تھا۔
صندل ہاتھ میں کافی کے دو ڈسپوز ایبل کپ تھامے کھڑی تھی اور اسے دیکھ کر مسکرانے لگی۔
سانولی رنگت ٹرازر اور چست شرٹ میں معراج دیکھنے والے کی آنکھوں کو خوب بھاتا تھا۔
آپ اتنی جلدی۔۔۔۔
وہ حیرانگی کا شکار اس کی جانب بڑھا تو صندل نے کافی کا ایک کپ اس کی جانب بڑھا دیا جسے معراج نے اپنے دائیں ہاتھ میں تھام لیا۔
میں نے سوچا کیوں نا دن کا آغاز کافی سے کیا جائے۔۔۔۔۔
وہ مسکرائی تو معراج کو اس کا چہرہ کھلتا ہوا محسوس ہوا۔
لیکن ابھی تو سات بھی نہیں بجے ہوں گے اور آپ کا ٹائم تو دس بجے شروع ہوتا ہے۔۔۔۔
اس کے گھر کے تو ملازم بھی بارہ بجے کے بعد آتے تھے۔ اور وہ اتنی جلدی وہاں گیٹ پہ کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی۔
ایم۔۔۔سوری آپ کو برا لگا تو۔۔۔۔میں تو بس۔۔۔۔
وہ شرمندہ سے کہنے لگی تو معراج کو خود پہ غصہ آنے لگا۔
آپ یہاں کب سے انتظار کر رہی ہیں۔۔۔۔
آدھا گھنٹہ۔۔۔۔شاید۔۔۔۔
وہ چہرہ جھکائے پلکوں کی اوٹ سے اسے دیکھتی کہنے لگی۔
شٹ۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز اسے پکڑنا۔۔۔۔۔
وہ سر جھٹکتا کافی اسے واپس تھماتا ٹرازر سے چابی نکال کر گیٹ کھولنے لگا۔ اور صندل اس جھنجھلاہٹ کے شکار شخص کو مسکراہٹ دباتے ہوئے دیکھنے لگی۔
پلیز۔۔۔۔کم ان۔۔۔۔اس وقت یہاں کوئی نہیں ہوتا۔۔۔ملازم بھی بارہ بجے کے بعد آئیں گے۔۔۔۔۔کیونکہ ناشتہ میں خود بنا لیتا ہو۔۔۔۔۔
صندل ایک خوبصورت لڑکی تھی اور یو اسے اپنے ساتھ تنہا پا کر وہ بوکھلانے لگا تھا۔
اٹس اوکے ۔۔۔۔مجھے برا نہیں لگا ۔۔۔۔۔
وہ کافی پھر سے اس کی جانب بڑھاتی کہنے لگی جسے معراج نے گہری سانس لے کر تھام لیا۔
نظریں صندل کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔ وہ اسے اپنے حصار میں جکڑتی جا رہی تھی۔
ایک دم گرم کافی نے اس کے لبوں کو چھوا تو وہ دنیا میں واپس آیا۔
کیا ہوا۔۔۔۔
صوفے پہ بیٹھی صندل نے اپنے کپسے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔
کچھ نہیں۔۔۔۔میں چینج کر کے آتا ہوں۔۔۔۔
وہ کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا جبکہ صندل سر کو ہلکا سا ٹیڑھا کرتی اپنے لبوں کو انگلی کی پوروں سے چھوتی ہلکا سا مسکرانے لگی۔
