224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 35

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

کیا تم تیار ہو۔۔۔۔

وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا اپنا کالر ٹھیک کر کے خود پہ پرفیوم چھڑکنے لگا جب ائینہ کے عکس میں صندل کو دیجھتے ہوئے پو چھنے لگا۔

معراج نے اسے آج پہلی بار مشرقی لباس میں دیکھا تھا۔ خوبصورت رنگ کے امتزاج کا فراک پہنے وہ اپنا دوپٹہ کندھے پہ سیٹ کر رہی تھی۔

ہمم۔۔۔بس تیار ہو۔۔۔اسے سیٹ کر لوں۔۔۔

دانتوں مین پن دبائے پیشانی پہ بل سجائے اس کا مکمل دھیان اپنے حدف کو حاصل کرنے میں مدہوش تھی۔

یہ اتنا مشکل تو نہیں جتنا تم نے بنا دیا۔

وہ اس کے منہ سے پن پکڑ کر دوپٹہ خود پن اپ کرنے لگا۔

نائس۔۔۔۔اب لگ رہی ہو نا مشرقی لڑکی۔۔۔

وہ اس کے سراپہ ایک محبت بھری نظر ڈالتا ہوا گویا تھا تو غندل مسکرا دی۔

اس کی عادت مت بنا لینا۔۔۔

کیوں نہیں۔۔۔اچھی چیزوں کی ہی تو عادت بنانی چاہئیے۔۔۔۔

وہ اس کے ناک کو اپنے لبوں سے ہلکا سا چھوتا ہو کہنے لگا۔

چلیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔

وہ خود کو معراج کے حصار سے آزاد کرواتی ہوئی کہنے لگی تو فراک اس کے گرد گھوم گیا جو کسی خواب سا گمان دیتا تھا۔

Earth to Mr.miraj….

صندل اس جے سامنے ہاتھ لہراتے ہوئے کیجے لگی تو وہ اپنے ثواس میں لوٹا۔

ہاں چلو چلتے ہیں۔۔۔

وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے پورچ میں لے آیا۔

صندل کھڑکی سے باہر اندھیرے میں ٹمٹماتی روشنیوں کو دیکھنے لگی۔

تمہیں گھبرانے کو ضرورت نہیں۔۔۔

معراج اس کی خامشی بھانپتا ہوا اس کے نازک ہاتھ پہ ہلکا سا دباؤ دیتا کہنے لگا۔

میں پریشان نہیں ہوں۔۔۔اور نا ہی گھبرا رہی ہوں۔۔۔

وہ خفیف سا مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔

اچھا ہے۔۔۔امان میں اور تمہارے درمیان تعلقات غلط طریقہ سے شروع ہوئے لیکن اسے ایک موع دے کر دیکھو وہ دل کا بہت اچھا شخص ہے۔۔۔۔اور مجھے یقین ہے تمہیں اس کے بچے ہہت پسند آئیں گے۔۔وہ مسرور سی اس کی چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتے رہے۔

جبکہ دل ہی دل میں اس کے بچوں اور بیوی کے لئے افسوس کرتی رہی۔

________

آ ہی گئے جناب آخر۔۔۔۔

ان کے گھر آتے ہی امان نے انہیں خوش آمدید کہا اور ڈائیننگ روم کی جانب بڑھنے لگا۔

معراج انکل۔۔۔کیسے ہیں آپ۔۔۔۔

امان کے بچے معراج کو دیکھتے ہی اس کی جانب لپکے تو صندل اور معراج کے چہرے پہ بےخودی میں مسکراہٹ پھیل گئی۔

ہاں ہاں آ گیا تم لوگوں کا انکل اور اس بار آنٹی کو بھی ساتھ لایا ہوں۔۔۔

وہ ان کا رخ صندل کی جانب پھیرتا کہنے لگا تو صندل نجانے کیوں سرخ ہونے لگی۔

صندل آپ ان کو نئر انداز کر دیں۔۔انہیں تو معراج بھائی نے بہت شیطان کر رکھا ہے۔۔۔۔

امان کی بیوی خوش اخلاقی سے اس کی گلے ملی تو وہ پیلے سے قدرے کمفرٹیبل محسوس کرنے لگی۔۔۔وہ جو امان کے ساتھ کرنے والی تھی اس کے لئے اچانک افسوس بھی ہونے لگا۔

اس کے لالچ کی سزہ ان معصوم بچوں کو بھی ملتی۔

شیطان۔۔۔کہاں اتنے معصوم بچے تو ہیں۔۔۔۔

وہ صندل کے جانب اپنا بازو حمائل کرتا ہوا کہنے لگا۔

جب آپ دونون کے بچے ایسا کریں تب پوچھوں گی۔۔۔۔وہ آنکھیں ٹمٹماتی کہنے لگی تو صندل اپنے اطراف میں دیکھنے لگی جبکہ معراج کی نظریں اس پہ ٹک سی گئیں۔

اپنی بیوی کو بعد میں گھورئے گا ابھی ہمیں بہت بھوک لگی ہے۔۔۔

امان کے دونوں بچے انہیں تنگ کرنے لگے تو وہ کرسیاں کھینچ کر بیٹھ گئے۔

ڈنر ان سب سے ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران کیا۔ صندل کو ابھی تک تو کوئی گڑ برلڑ محسوس نہیں ہو رہی تھی شاید اس نے یہ ڈنر اسی لئے ارینج کیا ہو کہ اپنے اور معراج کے رشتی پھر سے استوار کر سکے۔

جھانے کے بعد چائے کا دور چلا تو سب ہال میں آ گئے ۔ صندل اپنے اطراف کو اچھے سے دیکھنے لگی۔

ماما۔۔۔پاپا ہم نانو گھر کب جائیں گے ۔۔۔۔

ارے صبر کرو۔۔۔چلے جائیں گے۔ ۔

اگر آپ کا کوئی پلین ہے تو ہماری وجہ سے مت رکیں ۔۔۔

معراج فورا امان کی بیوی سے کہنے لگا۔

ارے نہیں یار۔۔۔ساری رات ہے۔۔۔ویسے بھی انہیں ڈراپ ہی تو کرنا ہے۔۔۔

وہ۔۔۔مجھے واشروم۔۔۔۔

صندل امان کی بیوی سے پوچھنے لگی تو وہ سر ہلا گئی۔

یہ ڈائیننگ دوم کے ساتھ ہی سیڑھیوں سے نیچے ہے۔۔۔۔

جی تھینکس۔۔۔۔

وہ معراج کو مسکراتے ہوئے دیکھتی اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

سیڑھیوں کی اوٹ میں آتے ہی اس نے ایک نگاہ واشروم کے ساتھ کمرے کو دیکھا۔

اسے اپنی قسمت پہ یقین نہیں آ رہا تھا وہ شاید آفس تھا اور دروازہ بھی کھلا تھا۔

صندل نظر بچا کر جلدی سے اس کے آفس میں گئی اور اپنا کام شروع کر دیا۔

کمرے میں موجود واحد کھڑکی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے وہ اپنی ہینڈ بیگ سے سکہ نکالنے لگی۔

دوپٹہ اپنے ہاتھ پہ پھیلایا اور پھر اس سے کھڑکی کھول کر اس کے نیچے دھیان سے سکہ رکھ دیا۔

تاکہ اس کے کھلے یونے کا کسی کو احساس بھی نا ہو۔

وہاں موجود چیزوں کی وہ تلاشی لیتی اس سے پہلے ہی کوئی وہاں داخل ہوا۔

مجھے معلوم تھا۔۔۔تمہارے اس بہانہ کے پیچھے کوئی اور ہی مقصد ہے۔۔۔۔

امان کمرے کا جائزہ لیتا ہوا کہنے لگا صندل وہاں سے بایر نکلنے لگی جب امان نے اسے کہنی سے اوپر سے دبوچا۔

کیا کر رہی تھی تم یہاں۔۔۔۔

وہ آنکھیں سکیڑتا اس سے سوال کرنے لگا جس پہ صندل خود کو اس کے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔

جانے دو ورنہ اتنی زور سے چلاؤں گی کہ تمہاری بیوی اور معراج سب کو معلوم ہو جائے گا۔۔۔

وہ اسے دھمکی دینے لگی تو امان کے تاثرات کسی جنگلی میں بدلنے لگے۔

اوہ۔۔۔۔تو چلاؤ گی تم۔۔۔۔

وہ اپنے ڈیسک کی جانب پلٹا اور اس میں سے گن نکال کر صندل کی پیشانی پہ ٹکا دی۔

تمہارے حلق سے ایک بھی آواز نکلے اس سے پہلے ہی یہ کہانی ختم کر دوں گا میں۔۔۔۔

صندل خود کو پرسکوں کرنے لگی۔

تم مجھے نہیں مار سکتے۔۔۔۔

یہ محض تمہارا خیال ہے۔۔۔۔تمہیں تو میں تڑپا تڑپا کر ماروں گا اور یہ وعدہ رہا میرا۔۔۔

صندل اپنی مٹھیاں بھیچنے لگی اور اسے سرخ نظروں سے دیکھنے لگی۔

لیکن تم ابھی مجھے نہیں مار سکتے۔۔۔۔یہاں تو نہیں۔۔۔اس لئے جانے دو مجھے۔۔۔

وہ پھنکارتے ہوئے کہنے لگی۔ امان کچھ کہتا اس سے پہلے انہیں کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔

امان نے گن تیزی سے دراز میں رکھی اور صندل کو کھینچ کر دروازے کی پیچھے کر دیا۔

وہ دروازے کی اوٹ میں چھپ کر کھڑی ہو گئی نہیں جانتی تھی کہ معراج یا اس کی بیوی میں سے کوئی بھی اسے دیکھے۔

قسمت سے آنے والا شخص اس کا بیٹا تھا۔ اس کے اندر آتے ہی صندل دروازے سے کھسکتی کوئی واشروم میں جا گھسی۔

پاپا۔۔۔چلیں۔۔۔۔ماما ویٹ کر رہی ہے۔۔۔۔

جی بیٹا جی چلو۔۔۔میں کار کی چابیاں لینے آیا تھا۔ وہ ڈیسک کے اوپر پڑی چابیاں اٹھاتے آفس پہ ایک نظر اور ڈالتا باہر نکل گیا۔

اس کے واپس پہنچتے ہی صندل بھی وہاں آ چکی تھی۔

ایک دوسرے سے اجازت طلب کرتے وہ اکٹھے ہی اپنی اپنی سواری میں سوار ہوئے اور اپنی منزل کی جانب بڑھ گئے۔

________

تو تمہیں کیسی لگی امان کی فیملی۔۔۔۔

وہ اپنے بندے اتار کر واپس رکھ رہی تھی جب معراج نے اسے مخاطب کیا۔

اچھے تھے ۔۔۔۔بہت اچھے ۔۔۔۔

وہ اپنی ہی کسی سوچ میں کھوئی ہوئی بولی جب معراج نے اسے دوجوں کندھوں سے تھاما اور اپنے قریب کیا۔

ویسے تمہارا کیا خیال ہے اس بارے میں۔۔۔

وہ اس کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنساتے ہوئے کہنے لگا۔

کس بارے میں ۔۔۔

وہ اس کا عکس ائینہ میں دیکھتی استفسار کرنے لگی۔

بچے۔۔۔۔

وہ انکھوں میں ڈھیر ساری امید سجائے ہوئے کہنے لگا تو صندل اپنی نظریں جھکا گئی۔

اس کا دل تیزی سے دھڑجنے لگا تھا نجانے آج کے بعد وہ اس کی شکل دیکھنا بھی پسند کرتا یا نہیں۔

میں نے اس بارے میں سوچا نہیں۔۔۔۔

وہ اسے سچ بتانے لگی۔ شادی اور اپنی اولاد یہ سب کہاں کبھی اس کے ذہن میں آیا تھا۔

ہاں تو سوچو۔۔۔۔میں تو کہتا ہوں اب سے بس یہی سوچو۔۔۔

وہ اس کے بالوں پہ بوسہ لیتا ہوا اپنا لباس تبدیل کرنے چلا گیا جبکہ صندل وہیں کھڑی اپناعکس دیکھنے لگی۔ جب تک وہ واپس آیا صندل بیڈ پہ لیٹ چکی تھی۔

معراج بھی لائٹ آف کرتا بیڈ پہ آ لیٹا اور چہرے پہ آلعہی مسکراہٹ سجائے انکھیں بند کر لیں۔

اس کی تمام خواہشات شاید جلد ہی پوری ہونے والی تھیں۔

________

آدھی رات کے وقت وہ دھیرے سے اٹھ بیٹھی۔

معراج کی سانسیں اسی رفتار پہ چل رہی تھیں لیکن پھر بھی وہ اس کے چہرے کے سامنے سے ہاتھ گزارتی اسے یقین میں بدلنے لگی۔

آہستہ آہستہ سے وہ الماری تک بڑھی اور پھر اپنا لباس نکالنے لگی۔

معراج کو سوتا ہوا چھوڑ کر دوسرے کمرے میں لباس بدلا۔ ہوڈ سے اپنا چہرہ ڈھکا۔

خنجر کو اپنے شوز کے ساتھ بنی جگہ میں رکھ کر کار کی چابیاں اٹھائیں اور باہر چل دی۔