Rate this Novel
Episode 9
منافقوں کی بستی ہے،، ظالموں کے ڈیرے ہیں🤫 تیرے منہ پہ تیرے ہیں، میرے منہ پہ میرے ہیں😔
ویر اس وقت ان چاروں آدمیوں کے سامنے بیٹھا تھا۔۔چہرے پر نقاب تھا۔۔
اس کے باقی آدمیوں کے چہروں پر بھی ماسک تھے۔۔
وہ لوگ جن کی درگت بنائی گئی تھی،،،
جنھیں ازھاد نے ان کی نانی یاد دلا دی تھی۔۔مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے تھے۔۔
شاید بہت تگڑی ٹریننگ کی گئی تھی۔۔تبھی نہیں ٹوٹ رہے تھے۔۔
پھر ویر نے موبائل نکالا اور ہینڈ فری اٹیچ کر کے کانوں میں ٹھونس لیں جس کا مطلب تھا۔۔
ازھاد اپنا آخری داؤ آزما سکتا ہے۔۔
اور پھر کٹر لے کر ازھاد ان کی جانب بڑھا مگر اس سے پہلے ہی ان میں سے ایک نے چیختے چلاتے سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا۔۔
ازھاد نے ویر کو اوکے کا اشارہ کیا۔۔ تو ویر اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔
اب جلدی سے بولو وقت نہیں میرے پاس،،،، ویر کا سرسراتا لہجہ
ہمیں زیادہ نہیں معلوم مگر ہمیں تم لوگوں کو الجھانے اور بھٹکانے کا کہا گیا تھا۔۔
کیا مطلب،،، ویر چونکا مگر ظاہر نا ہونے دیا بلکہ ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے۔۔۔۔
مطلب ہمیں یہ کہا گیا تھا کہ جب تم لوگ ہمارے تعاقب میں آؤ تو ہمیں چھپنا ہے اور تم لوگوں کو پیچھے بھگانا ہے ۔۔
اور یہ کس نے کہا تھا،،، ویر نے دانت پیسے۔۔
ہمیں نہیں معلوم ،،،ہمیں بس
unknown
نمبر سے کال آئی تھی اور کورئیر سے ڈھیر سارے پیسے یہ کام کرنے کے لئے ۔۔
ویر نے ازھاد کی طرف دیکھا۔۔۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔جس کا مطلب تھا وہ کراس چیک کر چکا ہے اور وہ سچ بول رہا ہے۔۔
تم جانتے ہو اتنی سی انفارمیشن سے میرا پیٹ نہیں بھرا،، اور اب تم لوگ میرے کسی کام کے نہیں ۔۔ویر کے سرسراتے لہجے کے بعد اس کے آدمیوں نے ان کے سروں پر گن تانی ۔۔۔۔تو وہ گھگھیا گئے،۔۔۔۔
ٹھہرو ،،،مت مارو ہمیں،،، میں اور بھی کچھ جانتا ہوں،،، بتانے کو تیار ہوں،،، ان میں سے ایک بولا۔۔۔
تو جلدی بولو،،، ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے تم لوگوں کے لئے ،،،،
میں ،،،مم ،،،مائکرو چپ کے بارے میں جانتا ہوں۔۔۔
جلدی بولو،، ویر نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
وہ یہ کہ چپ ابھی ترکی میں ہے ہی نہیں،،،، اس کی اس بات پر ویر،،، ازھاد ،،،مطربہ اور نمیرا بے تحاشا چونکے تھے،،، وہ ابھی پاکستان میں ہے مگر بہت طاقتور زریعے سے اگلے ماہ کی بیس تاریخ کو ترکی لائی جانے والی ہے،،،
اس آدمی نے رٹے رٹائے جملے بولے،،،،
جو اس کو جہاں جتنا بولنے کو کہا گیا تھا بول دیا۔۔ایک اور جال بچھایا گیا،،
اس کے علاوہ کچھ،،،
نہیں اس کے علاوہ میں کچھ نہیں جانتا،،، اتنا بھی میں اس لئے جانتا ہوں کہ کورئیر کے زریعے مجھے الرٹ کیا گیا کہ وہ چپ میں رسیو کروں گا ۔۔۔۔
گڈ،،، ویر اٹھ کر باہر آیا۔۔
اب ازھاد نے انھیں بے ہوشی کے انجیکشن لگائے،،، ٹھکانے لگا کر (جیل کی ہوا کھلانے کے لئے)
وہ وہاں سے جلد کاٹیج آئے تھے اور ویر نے خفیہ طریقے سے ہیڈ کوارٹرز میں کرنل وسیم کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔۔
پھر وہاں سے آرڈرز آئے تھے۔۔۔انھیں یہیں رہ کر انتظار کرنے کے لئے۔۔۔جس میں ابھی پچیس دن باقی تھے ۔۔وہاں بھی کرنل وسیم نے خبریوں کو کام پر لگا دیا تھا۔۔
دشمن کی چال کامیاب ہو چکی تھی۔۔انھیں یہیں الجھائے رکھنے کی۔۔یہیں پھنسائے رکھنے کی۔۔
دشمن کو وقت چاہیے تھا جو کہ ان کو مل چکا تھا۔۔
اور یہ وقت بہت ظالم چیز ہے۔۔جب برا آ جائے تو بڑ ے بڑے شاہوں کا تخت الٹ دیتا ہے۔۔
سب کچھ چھین لیتا ہے۔۔
برباد کر دیتا ہے۔۔
جھکا کر توڑ دیتا ہے۔۔
اور ابھی دشمن کا وقت چل رہا تھا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ بیڈ پر لیٹی گہری سوچ میں تھی۔۔
مٹھی میں ابھی بھی وہ کارڈ تھا جو کہ اریش نے اسے تھمایا تھا۔
اس کارڈ پر اس کا نمبر بھی موجو تھا۔۔
کانوں میں اس کی باتیں گونج رہیں تھیں ۔۔
الجھن سی الجھن تھی۔۔آخر تنگ آ کر اپنے ڈیڈ کو کال ملائی جو کہ دوسری جانب سے تیسری بیل پر رسیو کر لی گئی۔۔
ہییے باربی ڈول کیا کر رہی ہو،،، شاہ زر اپنی گڑیا کی آواز سن کر چہکا۔۔
کچھ نہیں ڈیڈ،،، مما کا پوچھنا تھا وہ تو بہت ناراض ہوئی ہوں گی ہمارے یہاں اتنے دن رکنے کا سن کر،،،، اسے فکر ہوئی
ہر گز نہیں ڈول،،، تم جونئیر کے ساتھ ہو ،،زیادہ ری ایکٹ نہیں کیا،،، میں نے سمجھا دیا تھا،،، ابھی پھر اتنے دنوں گھومو پھرو،،، انجوائے کرو،،، شاہ زر نے چھیڑا۔۔
کہاں ڈیڈ ،،یہ جو ڈوریمون ہے جلاد،،، وہ کہیں جانے دے تب ناں،، یہاں آ کر تو اتنا سٹرک ہو گیا ہے،، یہ رول فولو کرو یہ ریگولیشن ہیں،،، بلا بلا،،، وہ برا سا منہ بنا کر بولی
شاہ زر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا،،
اونہہہہہ کب تک،،، بگ بی نے گڈ نیوز دی ہے کہ کسی لڑکی میں دلچسپی لے رہا ہے برخوردار،،، وہ اب اس میں بزی ہو جائے گا تو تم فری،،،،، شاہ زر نے ہوا میں بات اڑائی
سچ ڈیڈ،،، مطی کو خوشگوار حیرت ہوئی ،،،ہاؤ ڈئیر ہی،،،،، اس ڈوریمون کی ہمت کیسے ہوئی سب سے پہلے مجھے نا بتانے کی۔۔
مطی کو نئی ٹینشن ہوئی
اسے چھوڑو تم اپنی سناؤ پرنسز،،، شاہ زر نے تو یونہی پوچھ لیا مگر وہ تو بری طرح گڑبڑائی۔۔۔۔
کک،، کیا،،، ڈیڈ ،،،مم،،، میں کیا سناؤں،،، کچھ خاص ہے ہی نہیں ،،،،
آج پہلی مرتبہ مطی اپنے ڈیڈ کے سامنے لڑکھڑاتی زبان میں بولی تھی۔۔جس سے شاہ زر کو بہت کچھ خاص ہونے کا اندازہ ہو گیا۔۔
Mattii my princess,,,,,,, Who is that guy,,,,?
ڈیڈ یہ کک کیا بول رہے ہیں آپ،،،،؟ مطی بری طرح سٹپٹائی ۔۔
Mattii,,, I said,,,,,, who is that boy,,,,,?
شاہ زر نے اپنی بات پر زور دے کر کہا تو اسے خاموش ہونا پڑا۔۔
الجھن میں کیوں ہو،،، کیا چیز پریشان کر رہی ہے میری گڑیا کو،،،
شاہ زر نے نرمی سے پوچھا
ڈیڈ ابھی میں خود بھی نہیں سمجھ پا رہی ہوں اپنی کیفیت کو،،، وہ روہانسی ہوئی،،، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا بہت الجھن ہے ڈیڈ،،،،
اوکے رائٹ،،، اگر دل میں فیلنگز ہیں تو اس میں کچھ رونگ نہیں ہے پرنسز،،، مجھے بتاؤ کون ہے وہ؟
شاہ زر نے دوستانہ سا اپنی پرنسز سے پوچھا۔۔
ڈیڈ میں کارڈ کی پکس بھیج دوں گی آپ ڈیٹیلز پتا کروانا،،،
اوکے بائے،،،ٹیک کیئر،،لو یو ڈیڈ،،،
شرم سے دوہری ہوتی اس نے فوراََ فون رکھا۔۔تو شاہ زر کھل کے مسکرا دیا۔۔یہی تو وہ تھا جس نے اپنی بیٹی کو ہمیشہ دوستوں کی طرح ٹریٹ کیا تھا۔۔
اسے سپیس دی تھی ۔۔اسے اتنا اعتماد دیا تھا کہ وہ بلا جھجھک اپنی ہر بات اپنے ڈیڈ سے شئیر کرتی تھی۔۔
والدین کو ایسا ہی ہونا چاہئے ،،بچوں سے دوستانہ ماحول رکھنا چاہئے ۔۔انھیں سمجھنا چاہیے ۔۔سپیس دینی چاہیے۔۔اتنا اعتماد دینا چاہئے کہ بچے کوئی چور دروازہ ڈھونڈ کر غلط راہوں پر چلنے کی بجائے اپنا ہر مسئلہ ہر پریشانی اپنے پیرنٹس سے بلا جھجھک شئیر کریں۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ دونوں بہت ہی خفیہ طریقے سے مکمل بھیس بدل ایک خفیہ ڈیپارٹمنٹ پہنچے تھے۔۔
جہاں جولی اور زبیر آج ہی لندن سے پہنچے تھے۔۔
انھوں آج تک کی تمام صورتحال سے انھیں آگاہ کیا کہ انھیں کتنی کامیابی ہوئی ہے ۔۔
ہم نے انھیں ایسا پھانسا ہے کہ تقریباً ایک ماہ تک وہ یہیں ہیں ہمارے جال میں پھنسنے کے لیے پیش قدمی کر دی ہے،،، منزل بہت قریب ہے مام،،،، ڈائمن مغرور سا بولا
ادھر وہ تو تقریباً جال میں پھنس ہی گیا ہے مما آپ فکر مت کریں جلد ہی ان کا سارا خاندان خون کے آنسو روئے گا،،، لینا اطمینان سے بولی۔۔۔
میں یہاں آئی،، کیونکہ میں انھیں شکست سے دوچار ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔جولی نفرت سے بولی،،
(اور لینا اور ڈائمن کو لگا کہ ان کی ماں کہیے گی کہ میں یہاں آئی کیونکہ مجھے اپنے بچوں کی فکر تھی)
میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ میرے بچوں کہ قدم کہیں لڑکھڑا نا جائیں ۔۔کہیں وہ خود دشمن کے جال میں ناں پھنس جائیں ان کے جھوٹے بہکاوے اور دکھاوے میں ناں آجائیں۔۔۔
جولی کو پتہ نہیں کس چیز کا ڈر تھا۔۔جو یوں مرنے کو تھی۔۔
سنو ڈائمن،،، غور سے میری بات،،، یہ پاکستانی عورتیں بہت چالاک اور مکار ہوتی ہیں،، معصومیت اور پاکیزگی کا ڈھونگ رچاتی ہیں،،، تم اسے جال میں پھانسنا،، مگر اسے قریب لانے کی گستاخی مت کرنا ،،،ان کی ادائیں نقلی ہوتی ہیں،،، وفائیں جھوٹی اور آنسو فریبی،،، کبھی اس کے جال میں نا پھنسنا
وہ زلیل بےبغیرت عورت اپنے بچوں کا دماغ جھوٹے گند سے بھر رہی تھی۔۔۔جھوٹی مکار اور فریبی تو وہ خود تھی،، سچ ہے جیسا انسان خود ہوتا ہے ویسا دوسروں کو سمجھتا ہے،،،
اور لینا تم،،، کان کھول کر سن لو،،، یہ پاکستانی مرد پورے درندے ہوتے ہیں،،، جانور،،، موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔۔دور رہنا اس سے،،، قریب مت آنے دینا،،، یہ درندگی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اس لئے الرٹ رہنا،،، انھیں محبت سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔۔ بس اپنا مطلب پورا کرتے ہیں ۔۔میں اسی لئے،،،،،
مما آپ فکر مت کریں،،،، مجھے اپنی حفاظت کرنا آتی ہے،،، ایسا کچھ کرنے کی کوشش بھی کی تو پہلی فرصت میں شوٹ کر دوں گی اسے۔۔۔
گڈ۔۔۔جولی خوش ہوئی۔۔اب تم لوگ میری آنکھوں کے سامنے رہو گے تو مجھے تسلی ہوگی ۔۔۔ترکی میں ہر جگہ ہمارے آدمی پھیل گئے ہیں ان کا بچ نکلنا مشکل ہے۔۔اب تم لوگ جاؤ اور اپنے کام پر فوکس کرو،،،
جولی نے کہا،،،،
اوکے موم،،،، آپ دیکھتی جائیں بس۔۔۔
لینا اور ڈائمن نے انھیں گڈ بائے کہا اور اپنی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گئے ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مطی دانت کچکچاتی ویر کے روم میں داخل ہوئی تھی جو بلا وجہ اپنے موبائل کو گھورنے میں مصروف تھی۔۔
یو ڈوریمون،،،،، ہاؤ ڈئیر یو،،،، وہ آتے ہی تکیہ لئے ویر پر پل پڑی۔۔ویر اس اچانک افتاد پر بوکھلایا۔۔
کیا ہوا کیا ؟چھٹکی جو یوں پتنگے لگ گئے،،، وہ تکیوں کے وار روکتا اسے پوچھنے لگا۔۔۔۔
تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا اس لڑکی کا،،، مجھے کہیں اور سے کیوں پتہ لگا،،، یو سٹوپڈ،،، وہ چلائی۔۔۔
تم نے بھی تو مجھے نہیں بتایا چھٹکی،،، وہ اطمینان سے بولا تو مطی گڑبڑائی،،
کک کیا مطلب تمھارا،، وہ دانت پیس کر بولی۔۔
اس پاکستانی ٹورسٹ سے بڑی ملاقاتیں ہو رہی ہیں چھٹکی ۔۔۔خیر تو ہے،،،،؟ وہ اطمینان سے بولا تو مطی کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملی
ڈوریمون،،، ایڈیٹ تم میری بھی نگرانی کروا رہے ہو کیا،،، وہ دانت کچکچا کر بولی،،
نو،،، تمھاری حفاظت کروا رہا تھا،،،
وہ میں خود کر سکتی ہوں ۔۔۔
آں ہاں،،،، سچ میں،،اوکے رائٹ
I’m in love
،،اب تم بتاؤ،،،، تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا ،،،چھٹکی،،،،
وہ چھیڑنے سے باز نہیں آ ر ہا تھا۔۔
وہ ویر،،،، وہ کھسیا گئی،،، کچھ نہیں ڈوریمون،،، مرو تم پرے،، وہ کہتی وہاں سے بھاگ آئی،،
ویر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔
پھر فون کو اٹھا کر دوبارہ دیکھا۔۔۔مگر میسج نے نہیں آنا تھا نا آیا۔۔۔۔
وہ بے چین ہوا۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
شاہ زین یونی کے لئے نکلنے لگا ،،،،،جب اس کے فون پر میسج رنگ ہوا،، اوپن کر کہ دیکھا تو ایس میم کا تھا۔۔
Today I have a surprise for you,,,,,,,
آج میں خود آپ کے پاس آ کر کہوں گی ،،،،
تم میرے صرف میرے ہو کر رہو،،،،،،،،
دن ایک بجے کینٹین میں،،،،،
شاہ زین کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی،،،لڑکا ہوتے ہوئے بھی عجیب سی فیلنگز ہو رہی تھیں۔۔۔
وہ یونی پہنچا۔۔
تمام دن پہلو بدلتے،،، کنفیوز ہوتے اور پریشانی میں ہی گزرا۔۔
آخر بارہ پچپن پر فارس اور حمزہ(جنھیں پہلے ہی ساری بات بتا چکا تھا) کے ساتھ کینٹین کا رخ کیا۔۔
مگر وہاں عجیب سی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ گیا۔۔
وہاں بی ایس سی کی وہ وزیرِ اعلیٰ ساحب کی صاحبزادی نے عجیب طوفانِ بدتمیزی مچا رکھا تھا۔۔
اوپر سے حلیہ ۔۔۔۔۔لاحول ولاقوة ۔۔۔۔۔
شارٹ شرٹ کے نیچے ٹخنوں سے اوپر تک ٹراؤزر اور دوپٹے کے نام پر گلے میں جھولتا چھوٹا سا سٹالر۔۔۔
میں ایسے کھلم کھلا یہ بے ہودگی یہاں یونی میں نہیں ہونے دوں گا۔۔۔مس،،، ایک لڑکا چلایا
کیوں تمھیں کیا تکلیف ہے تمھارے باپ کا خرچہ ہوا ہے جو تکلیف ہو رہی ہے،،، میں اپنے باپ کا خرچ کر کے جو دل کرے گا وہی کروں گی سمجھے،،، سہانا چلا کر بولی،،،
یہ یونی کی کینٹین ہے کوئی لور پوائنٹ نہیں،،، کیا سوچ کر تم نے یہاں یہ بندوبست کیا ہے،،،
اہنے باپ کا مال سمجھ کر ،،،،تمہیں تکلیف ہو رہی ہے تو یا آنکھیں بند کر لو یا یہاں سے دفعہ ہو جاؤ،،،،
اس لڑکی کی چلتی زبان،،، ڈریسنگ،،، اوور کانفیڈینس اور بولڈنیس،،، شاہ زین نے دل میں استغفار پڑھی۔۔۔۔
( کیونکہ یہ وہی لڑکا تھا جس کی درگت آتے ساتھ ہی سہانا بنا چکی تھی سو وہ آج رنگ میں بھنگ ڈال کر اور اس کا تماشا لگا کر حساب برابر کر رہا تھا)
اب سہانا کے گارڈ اس لڑکے کی جانب آئے تو وہ دم دباتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔مگر اب تو تماشا لگ چکا تھا اور سب ان کی طرف متوجہ بھی ہو چکے تھے۔۔
تبھی اس کی نظر کینٹین میں داخل ہوئے شاہ زین پر پڑی ۔۔تو وہ پھولوں سے سجے ٹیبل جہاں کیک رکھا گیا تھا ایک سرخ گلابوں کا بوکے اٹھا کر اس کی جانب آئی ،،،،،اور اس کے آگے بوکے بڑھایا۔۔
شاہ زین ہق دق پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔جس نے اس کے پیروں نیچے سے زمین کھسکا دی تھی۔۔
آج آپ پھر ایسے کنفیوز ہو رہے ہیں جیسے آپ لڑکی ہوں اور میں لڑکا۔۔۔وہ ہنسی۔۔
تم میرے صرف میرے ہو کہ رہو،،،،،
اس کا کہنا تھا کہ اس کی دوستوں نے اور وہاں موجود سب نے ہوٹنگ کرنی شروع کر دی۔
عجیب تماشہ تھا جو اس پاگل بے وقوف لڑکی نے اپنے قیمتی جزبوں کا یوں سرِ بازار لگا دیا تھا۔۔
شاہ زین کو اس بھیڑ میں اپنے لئے وہ سرگوشیاں بھی سنائی دے رہی تھیں جو اس کے اخلاق و تربیت پر کڑا سوال اٹھا رہی تھیں
گھنا
میسنا،
ویسے تو بڑا شریف بنتا تھا۔۔
یہ دیکھو شرافت،،
کھلے عام بے شرمی،،
شاہ زین کی رگیں تنی تھیں چہرہ خفت اور شرمندگی کے مارے سرخ ہو گیا۔
مگر سامنے وہ پاگل بے شرم لڑکی،، اس کے اگلے قدم نے شاہ زین کو جیتے جی زمین میں گاڑھ دیا تھا۔۔
جب شاہ زین کی خاموشی پر اس نے زرا سا آگے بڑھ کر اس کے ڈمپل کی جگہ بڑی بے باکی سے ہلکے سے اپنے لب رکھے تھے۔۔
کینٹین تالیوں اور ہوٹنگ سے گونج اٹھی۔۔
شاہ زین غصے کی انتہا سے پاگل ہوا تھا۔۔۔شدید طیش میں اسے دور جھٹکا۔۔
سہانا لڑکھڑا کر پیچھے ٹیبل پر گری تھی۔۔
ہوٹنگ اور تماشا کرنے والوں کو سانپ سونگھ گیا۔۔
اس نے بوکے زمین پر سہانا کے قدموں میں دے مارا۔۔۔کئی ٹیبل جھماکے سے زمین بوس کیے تھے۔۔
سہانا صدمے سے پھٹی آنکھوں سے اس کا غصہ دیکھ رہی تھی۔۔
جب وہ اس کی جانب لپکا اور دھاڑا
یو۔۔۔ایڈیٹ ۔۔۔پاگل،، بے شرم،،، بے ہودہ لڑکی،،، کوئی دلچسپی نہیں مجھے تم میں،، کوئی تعلق نہیں رکھنا مجھے تمھارے جیسی لڑکی سے،،،،، آئندہ مجھے اپنی یہ منحوس شکل دکھائی تو جان سے مار ڈالونگا،،، سمجھیں،،، مجھے نظر بھی مت آنا اج کے بعد،،،
وہ کہتا اس کی محبت،، عشق،،، قیمتی جزبے اپنے پیروں تلے روندتا تن فن کرتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔
پیچھے سہانا یونی سے نکلی تھی۔۔اپنی گاڑی تک پہنچتے وہ زمین بوس ہو چکی تھی۔۔
جسے گارڈز اٹھا کر ہوسپیٹل لے گئے تھے۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
