Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

تم اپنے آپ کو میرا سکون رہنے دے،،
دکھوں کے واسطے سارا جہان باقی ہے،،

پورے دس دن ہو چلے تھے نکاح کو۔۔ مگر جس وجود نے اسے سکون پہنچانا تھا ۔۔۔پتہ نہیں کہاں جا چھپی تھی۔۔

سلطان مینشن کے کس کونے کھدرے میں،،، کس پردے کے پیچھے۔
کہ ویر سلطان کی آنکھیں تشنہ ہی رہیں ایک من پسند منظر دیکھنے کے لئے،،،

اس دن کے بعد تین دن تک تو وہ اپنے کسی کیس میں ایسا الجھا کہ سلطان مینشن آیا ہی نہیں ۔۔پھر جب چوتھے دن وہ تھکا ہارا واپس آیا تو کسی کو دیکھنے کی طلب نے اس قدر بے چین کیا کہ بے قراری حد سے سوا ہو گئی مگر اس نے سامنے نہیں آنا تھا نا آئی۔۔

بہانے سے پورا سلطان مینشن بھی گھوم پھر کر دیکھا تھا۔۔ربیع سے پوچھا تو وہ بولی کہ بھابھی تو روپ دادو کے ساتھ گئیں ہیں،،،،،بڑی ماں نے بھیجا ہے وہاں،،،،

پھر اگلے دن وہ بہانے سے حاتم مینشن گیا۔۔مگر میڈم وہان سے سلطان مینشن پہنچ چکی تھی ۔۔۔وہ بھنایا۔۔۔

مگر سلطان مینشن آ کر بھی پتہ چلا کہ اپنے روم میں ہے۔۔۔

مزید دن گزر گئے۔۔
اور آج بس ہو چکی تھی برداشت کی،،،

شام کے وقت وہ تنے اعصاب لیے سلطان مینشن داخل ہوا تھا۔۔
لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا۔۔پلوشہ کچن میں کام میں مصروف تھی۔۔
وہ کچن میں آیا۔۔

مما نیناں کہاں ہے،،، اب جبکہ وہ اس گھر کی بہو ہے تو آپ ہر وقت کام کرتی رہتی ہیں اور میڈم سارا دن بستر توڑتی ہیں ،،،وہ کیوں نہیں کرواتی آپ کے ساتھ کام،،، وہ دانت پیس کر اونچی آواز میں بولا۔۔
اس کی گوہر افشانی کسی نے اپنے روم میں بہت اچھی طرح سنی تھی۔۔

شاہ زل بی ہیو،،، تمھیں گھر کے معاملات کا کیا پتہ،،، سب کام کرواتی ہے وہ اور اس وقت اپنے حصے کا ہر کام کر کے فری ہوتی ہے،،، یہ تمھارے سوال کا جواب تھا اور دوسری بات گھر کے معاملے میں جانوں یا میری بہو،،، تم دور رہو ان معاملات سے،،
پری اطمینان سے بولی۔۔

اسے چپ لگی،،،،، مگر آگ بھی لگی،،،

سہی،،،، ٹھیک ہو گیا،،،، اور اس کی زمہ داری بس گھر تک ہی محدود ہے ناں،،، شوہر جائے بھاڑ میں،،،

تم چاہتے کیا ہو شاہ زل،،، پلوشہ نے سنجیدگی سے پوچھا

اپنی چہیتی بہو کو کہیں میرے روم میں آئے اور میری شرٹ آئرن کر کے دے۔۔
اس کے شوشے پر اپنے روم کے دروازے پر کھڑی نیناں کی سانس اٹکی۔۔

تمھاری ساری شرٹس آئرن کر کے وارڈروب میں رکھیں ہیں نیناں نے،،، پلوشہ اس کا یہ مسئلہ بھی خاطر میں نا لائی۔۔

مجھے ان میں سے کوئی بھی نہیں چاہیے جو نکالی ہے وہ آئرن کروانی ہے،،، وہ بھی ویر سلطان تھا،،، اپنی ہٹ کا پکا۔۔کہہ کر اپنے روم میں جا چکا تھا۔۔اور اپنے بیڈ پر بیٹھ کر بے چینی سے پاؤں جھلاتا اس کا ویٹ کرنے لگا۔۔

وہ جو جان بوجھ کر اپنا ہر کام اس کے آنے سے پہلے مکمل کر کے اپنے روم میں بند ہو جاتی تھی آج اپنا ہر حربہ ناکام ہوتا دکھائی دیا تو دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔
پری نے تو اس پر کوئی زمہ داری ڈالی ہی نہیں تھا۔۔وہ خود ہی ہر کام میں ہاتھ بٹا دیا کرتا تھا۔۔

پلوشہ نے آواز دی تو اس کا دل کیا کہیں چھپ جائے۔۔مگر ناچار باہر آئی

جی مما،،، ؟

جاؤ بیٹا دیکھو شاہ زل نے کوئی شرٹ پریس کروانی ہے،،، کر آؤ جا کر میں گئی تو پھر ٹونٹ کرے گا،، پلوشہ نے نرمی سے کہا۔۔

وہ دھیمے قدموں سے ویر کے روم کی جانب گئی۔۔ ایک گہرا سا سانس بھرا اور چہرے پر سکون سا طاری کرتی اندر داخل ہو گئی۔۔

سامنے وہ بیڈ پر بیٹھا الائچی چباتا موبائل میں مصروف تھا۔۔

نینان بنا کچھ کہے آئرن سٹینڈ تک گئی،،، اور شرٹ آئرن کرنے لگی۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھا بظاہر موبائل کی طرف متوجہ تھا ۔۔مگر وقتا فوقتا اس پر ایک گہری نظر ڈال رہا تھا ییلو فراک ٹراؤزر میں دوپٹہ کندھوں پر گرائے اس کی کمر ویر کی جانب تھی۔۔
کمر کا گہرا گلا اور گلے پر بندھی ڈوری،،، ویسٹ سے نیچے تک جھولتی بالوں کی ڈھیلی چوٹی۔۔

دل بھی بے ایمان ہوا اور محبت بھی۔۔

کوئی رات میرے ہمنوا مجھے یوں بھی تو اک نصیب ہو،،
ویر کے دل نے صدا دی۔۔

وہ گڑبڑائی۔۔جی آپ نے کچھ کہا،،،؟ نیناں پوچھ بیٹھی۔۔

نہیں تم نے کچھ سنا،،، ویر لاپرواہ سا بولا۔۔

وہ پھر اپنے کام میں مصروف ہوئی۔۔مگر
ادھر گہری نگاہوں کی حدت نے نیناں کا ماتھا بار بار پسینے سے بھگویا تھا۔۔کمر جیسے جل رہی تھی۔۔وہ بار بار ماتھے پر آتا پسینہ ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی سخت نروس ہو رہی تھی۔۔

اس شرٹ آئرن کر کے سٹینڈ پر رکھی جب ویر فوراََ بیڈ سے اتر کر نیچے آیا،،، اپنی شرٹ اتاری اور وہ شرٹ اٹھا کر پہننے لگا۔۔
نیناں کی روح فنا ہوئی۔۔

فوراََ مڑ کر باہر جانے لگی،،، جب اتنی ہی تیزی سے ویر نے بچکانہ سی حرکت کرتے ہوئے اپنی شرٹ کا بٹن توڑا تھا۔۔

سنو،،، ویر نے پکارا۔۔

جی،، وہ پھر ٹھٹھکی۔۔۔

یہ بٹن ٹوٹ گیا ہے،،، مما کے روم سے سوئی دھاگہ لا کر اسے لگاؤ۔۔
ایک اور آرڈر دیا گیا۔۔

وہ خاموشی سے گئی۔۔اور سوئی دھاگہ لے آئی۔۔اب مصیبت تو یہ تھی کہ اسے کہاں یہ کام آتا تھا۔۔مگر سامنے والے کی دہکتی نگاہوں سے بچ نکلنے کا یہی طریقہ تھا کہ وہ جلدی سے یہ بھی کر گزرتی اور یہاں سے کھسک جاتی۔۔

شرٹ دیں،، وہ جھجھکی۔۔

ایسے ہی لگا دو،، وہ پھر لاپرواہ بنا،، دشمنِ جاں کا قریب بہت قریب سے دیدار کرنے کی خواہش دل میں انگڑائی لے کر بیدار ہوئی۔۔
وہ جھجھکتی قریب چلی آئی۔۔شرٹ پکڑی۔۔ویر نے وہ ملیحہ چہرہ غور سے دیکھا،،
جان بوجھ کر اسے ستانے کو پینٹ کی پاکٹ سے سگریٹ نکال کر سلگائی۔۔جانتا تھا

فلیش بیک میں گیا۔۔

نیناں اس کے قریب کھڑی تھی وہ مسلسل کچن میں اس کا دماغ کھا رہا تھا۔۔
تب شرارت میں کچن میں موجود جینفر کی سگریٹ کی ڈیبی میں سے اس نے سگریٹ نکال کر سلگائی۔۔سیکنڈوں میں نیناں کا چہرہ سرخ ہوا تھا کیونکہ اسے سگریٹ کے دھوئیں سے سخت نفرت اور الرجی تھی۔۔
نیناں نے لپک کر شدید طیش میں ویر کے لبوں سے سگریٹ نکال کر دور اچھالی تھی۔۔اور اس کے سینے پر مکے برسائے۔۔
وہ قہقہے لگا کر ہنس پڑا تھا۔۔

اب بھی سگریٹ کے دھوئیں نے نیناں کا چہرہ لال ٹماٹر کیا۔۔مگر وہ ضبط کیے کھڑی رہی،،

ویر کا دل چاہا اب بھی وہ اس کے لبوں سے سگریٹ کھینچ کر دور اچھال دے مگر۔۔۔

وہ آج مجھ سے نظر تک نہیں ملا پایا
بے وفائی نے،،،،،،،،بزدل بنا دیا اس کو

وہ ہلکے سے کھانسنے لگی تو ویر نے خود ہی سگریٹ بجھا دی۔۔

اب وہ جیسے تیسے بٹن لگا کر پھر سے جانے کو پرتولنے لگی۔۔
اور دروازے کی جانب بڑھی۔۔

ویر کی برداشت نے اپنی آخری حدوں کو چھوا تھا۔۔
چار قدم کا فاصلہ اس نے دو قدم میں طے کر کے وہ اس تک پہنچا تھا جب بازو سے تھام کر اسے اپنی جانب گھما کر اتنی ہی اچانک دیوار سے پن کیا تھا۔۔

اس اچانک افتاد پر وہ بوکھلائی۔۔
شاہ،،،،،،،،،،،،
ویر کے ہونٹوں نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی تھی۔۔اس کے نرم گداز، ہونٹوں کو شدت سے اپنی دسترس میں لیا تھا۔۔ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد حائل کیے ایک گردن پر لپٹائے وہ اپنی اتنے دنوں کی وحشتیں اور بے قراریاں شمار کر رہا تھا۔۔

نیناں نے کندھوں سے اس کی شرٹ مٹھیوں میں دبوچی تھی۔۔
ویر کے شدت بھرے لمس نے اس کی جان نکالی تھی۔۔
وہ مکمل مدہوش اور بے خود سا اس پر جھکا ہوا تھا۔۔ کندھے پر ایک جھٹکا سا محسوس ہونے پر ویر نے اسے آزادی بخشی تھی۔۔

وہ ویر کی گرفت سے نکل کر اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔۔
ویر ساکن سا وہیں کھڑا تھا جیسے وہ اسے چھو کر پتھر کا بنا گئی تھی۔۔
ہاتھ کے انگوٹھے سے اپنے لبوں کو چھوا جیسے ابھی بھی وہ لمس اس کے ہونٹوں پر موجود تھا۔۔
نیچے قدموں میں اس کا دوپٹہ پڑا تھا جھک کر اٹھایا۔۔۔
فولڈ کر کے اپنی الماری میں رکھ لیا۔۔

نیناں نے اپنے روم میں آ کر ہی دوسرا سانس لیا تھا۔۔ پورا جسم پسینے میں نہایا تھا۔۔بیڈ پر بیٹھ کر اپنی اکھڑتی سانس بحال کی۔۔
اور تو اور دوپٹہ بھی وہیں گر گیا تھا۔۔۔
وہ نڈھال سی بیڈ پر گری اور کمفرٹر میں دبک گئی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

کافی دن سے سہانا یونی نہیں جا رہی تھی۔۔ سمسٹر کے بعد یونی سے فری تھی۔۔
مگر آج کافی دن کے بعد یونی جانا تھا۔۔
تبھی تیار ہو کر باہر نکلی تو ربیع نے پیچھے سے آواز دی۔۔

سہانا بےبی،،، اس نے شرارت سے پکارا۔۔

سہانا نے پلٹ کر اسے گھورا،،، ربیع بری بات،،،
ربیع قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔۔

کیا بات ہے ربیع،،،

وہ حرم مما نے کہا ہے آج کے بعد آپ یونی زین بھائی کے ساتھ جایا کریں گی۔۔

تبھی شاہ زین اندر سے نکل کر باہر آیا تھا۔۔جینز کی پینٹ کے اوپر لائٹ گرے شرٹ میں حسبِ معمول و الائچی چباتا وہ بے حد ہینڈسم اور ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔جب ربیع کی اگلی بات نے ہنسی دبانے کے چکر میں اس کا چہرہ سرخ کیا تھا۔

وہ دراصل مما ڈرتی ہیں کہ کہیں سہانا بےبی گھر کا رستہ نا بھول جائے،، یا گم نا ہو جائے،، ہاہاہا ہاہاہا وہ قہقہہ لگا کر ہنسی

ربیع،،، پتہ نہیں پاپا نے مجھے کیوں تم لوگوں کے سامنے بےبی بول دیا،،، سہانا نے دانت پیسے اور اس وقت کو کوسا۔۔

ارے ناں کریں بھابھی،،،، میں نے تو بھابھی بولا آپ کو بےبی سنائی دیا۔۔ربیع نے معصومیت کا ریکارڈ توڑا
سہانا دانت پیستی گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔

وہ بڑی مشکل سے سنجیدگی طاری کرتا گاڑی میں بیٹھا۔۔

اس کا تپا تپا سا پھولا منہ اسے مزا دے گیا ابھی تو یونی جا کر اس کی درگت بنانی تھی اور اتنے دنوں کا حساب لینا تھا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ربیع سہانا کو چھیڑ کر اب لان میں آ کر جھولے پر بیٹھ کر جھولا جھولنے لگی تھی ۔۔
کالج سے پیپر دے کر فری تھی سو مزے ہی مزے تھے۔۔

جب پیچھے کسی کی آہٹ سنائی دی۔۔
مڑ کر دیکھا تو ظہان تھا ۔۔
وہ پھر سیدھی ہو گئی

وہ گھوم کر آ کر جھولے پر اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔

آپ کب آئے ظہان بھا،،،،،،

اے بھائی مت کہنا،،،، ظہان تڑپ ہی تو گیا تھا۔۔

کیوں،،،؟ وہ آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔۔

نکاح مکروہ کرو گی کیا،،، وہ دانت پیس کر بولا۔۔

تو پھر کیا کہوں،،، معصومیت سوا نیزے پر تھی۔۔

کچھ بھی نا کہو چپ ہی رہو،،، ظہان نے عافیت اسی میں جانی۔۔

پھر وہ شرافت سے واقعی خاموش ہو گئی۔۔

اچھا تمھاری فرینڈز تمھیں پیار سے رانی کہتی ہیں ناں،،،
ظہان نے ایک اور کوشش کی

ہاں تو،،، وہ بچوں کی طرح پاؤں جھلاتی بولی،،،

تو میں راجہ تم رانی،،،،

ہاں ایک تھا راجہ،،،، ایک تھی رانی،،، دونوں مر گئے ختم کہانی،،، ہا ہا ہا ہا ہا ہا،،، ربیع نے اس کی بات بیچ میں ہی اچکی اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔۔۔

ظہان نے رونی سی شکل بنا کر اس چھوٹی سی آفت کو دیکھا،،، اور اپنا سر پکڑا۔۔

ظہان کچھ نہیں ہو سکتا تمھارا ابھی لمبا انتظار کرو،،،،،
وہ اسے بچوں جیسی حرکتیں کرتا دیکھ ماتھا پیٹ کر رہ گیا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

دس دنوں سے مطی کی جان سولی پر لٹکی تھی۔۔۔۔

انجانے نمبرز سے ،، اسلام آباد کے مختلف فون بوتھ سے کال آتی ۔۔
نا اٹھاتی تو کال کرنے والا جان جو آجاتا۔۔

اٹھاتی تو وہی بھیانک لفظ سننے کو ملتا۔۔بڑی محبت سے پکارا جاتا۔۔

میری بیری،،،،
ایک دو دفعہ وہ وہمی ثابت ہو چکی تھی۔۔اب تو اس نے شور مچانا اور بتانا چھوڑ دیا تھا۔۔

مگر اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی۔۔
وہ جانتی تھی کوئی تو تھا جو لوٹ کر آیا تھا۔۔ اور جو اس نام سے اسے پکارتا تھا اسے سوچ کر ہی نفرت رگ رگ میں دوڑتی تھی۔۔

مگر آج
آج مطی کو پتا نہیں تھا کہ اس کا ڈر سراپا وجود بن کر اس کے سامنے آ جائے گا۔۔

وہ شاور لے کر واش روم سے باہر آئی تھی۔۔
دوپٹہ بیڈ پر رکھا تھا ۔۔بلیک فراک پاجامے میں گیلے بال کمر پر بکھرے تھے۔۔وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی تھی۔۔

جب کھڑکی سے کوئی آہٹ سنائی دی۔۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو چہرہ لٹھے کی طرح سفید پڑا۔۔ بے یقینی سی بے یقینی تھی۔۔
مگر اریش کے اپنی جانب بڑھتے قدموں نے اسے بے جان کیا تھا۔۔

تجھے نہیں ہے میری شدتوں کا اندازہ
کسی بھی سمت سے مجھ کو کبھی پکار کے دیکھ

میری بیری، لب وا ہوئے،،، صدیوں کی تڑپ تھی۔۔

ڈیڈ،،، وہ حلق کے بل چلائی اور دروازے کی جانب بھاگنے لگی۔۔جب اریش نے بڑی شدت سے بھاگ کر اس کے گرد بازو لپیٹے کر اسے خود میں بھینچنے کی کوشش کی۔۔

وہ بری طرح تڑپی۔۔مما،،،،، ڈیڈ،، بچائیں ۔مجھے،،،، وہ چلا رہی تھی۔۔
اریش کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کی بیری کا ردِ عمل اس قدر شدید ہوگا۔۔

باہر مطی کے روم سے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں اور آج اتفاقا سب ہی اس وقت گھر پر تھے۔۔
سب مطی کے روم کی جانب لپکے۔۔

بیری کالم ڈاؤن جان،،، وہ اسے قابو کرنے کی کوشش میں تھا۔۔مگر وہ مسلسل ہتھے سے اکھڑ رہی تھی۔۔بے تحاشا رو رہی تھی۔۔

تم مجھے موقع تو دو،،، اعتبار بنانے کا عدم
تھک جاؤ گے میری وفا کے ساتھ چلتے چلتے

ہیے بے بی گرل بات تو سنو یار۔۔۔

چھوڑو مجھے،،، دور ہٹو،،، وہ نفرت سے چلائی۔۔تبھی دھاڑ سے دروازہ کھول کر سب سے پہلے شاہ زر اور جونئیر روم میں داخل ہوئے تھے۔۔

شاکڈ تو وہ بھی تھے۔۔اس زلیل شخص کو مطی کے روم میں اس کے بازو جکڑے دیکھ۔۔

مطی کی حالت چیخنا چلانا دیکھ شاہ زل کے غصے نے اپنی آخری حدوں کو چھوا تھا۔۔
پینٹ سے اپنی بیلٹ نکال کر بٹن پش کیا۔۔

مطی بھاگ کر شاہ زر کے سینے میں چھپی تھی،، ڈیڈ یہ میں نے کہا تھا ناں،، یہ،،، یہ،،، ڈیڈ، بچائیں مجھے،،، وہ اب بھی بری طرح چلا کر پینِک ہو رہی تھی۔۔
شاہ ویر بھی سکتے میں تھا سوچا نہیں تھا وہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔۔

حبہ حرم اور پری دم بخود سی یہ تماشا دیکھ رہیں تھیں،،،
نیناں روپ کے بلانے پر حاتم مینشن میں تھی۔۔

تبھی شاہ زل دانت پیستا اس کی جانب لپکا تھا۔۔

ویر سلطان میری بات سن لو،،،

مگر شاہ زل نے اس کی نہیں سننی تھی۔۔اب شاہ زل نے اسے بیلٹ سے دھنکا تھا۔۔
اسے مارتے پٹختے وہ لاؤنج میں آئے تھے۔۔

اریش نے نا شاہ زل کو مارنے کی زرا سی بھی کوشش نہیں کی تھی۔۔نا اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی بس چپ چاہ مار کھا رہا تھا۔۔

اس کا سارا جسم ادھڑ چکا تھا اور کپڑے خون سے رنگے تھے۔۔۔
شاہ زل کے مگر ہاتھ نہیں رک رہے تھے۔۔

مطی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے مار کھاتا دیکھ رہی تھی۔۔
جب شاہ زل نے اپنی گن نکالی اور اریش کے دل کا نشانہ لیا تھا۔۔

Continue,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺