Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

رات شاہ زین اپنے بیڈ پر لیٹا گہری سوچ میں تھا۔۔۔
ہاتھ میں وہ ریڈ روز تھا جسے وہ غور سے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔

ابھی صرف وہ اس الجھن میں تھا کہ وہ کون تھی جو اس میں اتنی دلچسپی لے رہی تھی۔۔

کیا ویر کو بتاؤں وہ تو گھنٹوں میں پتا لگا لے گا کہ کون ہے میڈم،،،،،
نہیں ۔۔۔

پورے سلطان مینشن میں ڈھنڈورا پیٹ دے گا۔۔میرا ریکارڈ لگے گا سو وہ الگ،،،،

مطی کو بتاؤں،،،،،، اونہہہ وہ کون سا ویر سے کم ہے،،،،
آفت کی پرکالہ،،،

اور یہیں پہ وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرنے والا تھا ۔۔۔یہ بات کسی سے شئیر نا کر کے ۔۔

کون ہوگی، ۔۔۔؟

یقیناََ بہت شرمیلی ہوگی،نہیں تو آج کل تو لڑکیاں بہت بولڈ ہوتی ہیں دھڑلے سے آ کر بول دیتی ہیں،، محترمہ کو محبت ہوئی،،، بتائے بغیر رہ نہیں پائیں،،، مگر ڈر رہی ہوگی،،، باپردہ بھی ہوگی اسی لئے جھجھک رہی ہے۔۔۔کیا وہ ایسی ہوگی جیسے میں نے اپنی لائف پارٹنر کو آئیڈیلائز کیا۔۔۔۔۔

اور اگر وہ ایسی ہی ہوئی تو۔۔وہ گہرا مسکرایا

تبھی فون پر میسج رنگ بجی۔۔شاہ زین نے فون اٹھا کر میسج اوپن کیا۔۔

تم محبت نہیں،،،، عقیدہ ہو میں تمھیں اختیار کر لوں گی SS… 🌹🌹🌹

شاہ زین کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔۔۔
آج پرائیویٹ نمبر نہیں تھا۔۔۔شاہ زین کو نمبر شو ہو رہا تھا۔۔
جس کا مطلب تھا وہ چاہتی تھی شاہ زین اسے کال یا میسج اکرے۔۔

مگر وہ اتنا بھی بے اختیار نہیں تھا ۔۔۔فون اور ریڈ روز سائیڈ ٹیبل پر رکھا ۔۔
اور سکون سے آنکھیں موند لیں ۔۔

اپنی تو جان محبت نامی عذاب میں جھونک لی میڈم ایس ،،، مہربانی کر کے مجھے ڈسٹرب مت کرو۔۔۔وہ غائبانہ میڈم ایس سے مخاطب ہوا

ادھر سوہانا نے دیکھا ۔۔۔اس نے میسج سین کیا
آج تو اس نے نمبر بھی شو کروا دیا مگر اس کا جواب نا آیا

ظالم،،،، ستمگر ۔۔۔پتھر دل۔۔۔الائچیاں چبا چبا کر خود بھی کڑوے کریلے بن گئے ہیں۔ ۔۔بلکل

اس نے برے برے منہ بنائے۔۔
وہ بولڈ تھی۔۔۔۔دھڑلے سے ٹھوک بجا کر ہر بات بول بھی دیا کرتی تھی اور منوا بھی لیا کرتی تھی۔۔۔

مگر شاہ زین کے معاملے میں وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر پائی تھی۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کیوں ۔۔۔مگر اس کے سامنے آتے ہی اس کے حواس سلب ہونے لگتے تھے۔۔
سارا کانفیڈینس کہیں جا سوتا تھا۔۔

اردو ادب سے شروع دن سے دلچسپی تھی جو کہ آج کام آ رہی تھی۔۔۔
شبیر عثمانی اور گھر کے سرونٹس کچھ دن سے سہانا بےبی کی کھوئی کھوئی حالت نوٹ کر رہے تھے
وہ سمندر کی طرح شانت تھی۔۔

مگر کوئی نہیں جانتا تھا یہ طوفان کے آنے سے پہلے والی خاموشی اور سکون تھا۔۔۔

شبیر عثمانی ڈور لاک کر کے اندر داخل ہوئے۔۔اپنی گلابی گڑیا کو آڑھا ترچھا بیڈ پر لیٹے دیکھا تو فکر مند ہوئے

سہانا بےبی کیا بات ہے طبعیت تو ٹھیک ہے میری ڈول کی ،،،

اپنے پاپا کی آواز پر وہ فوراََ سیدھی ہوئی،،، جی پاپا بلکل ٹھیک ہوں میں،،، ۔۔۔۔۔(چور کی داڑھی میں تنکا) بے اختیار ہی فورا اپنا فون اٹھا کر سائیڈ ڈرار میں رکھا۔۔

چلو پھر کھانا کھاتے ہیں پرنسز،،، شبیر عثمانی نے اگے ہاتھ بڑھایا کیونکہ رات کہ اس پہر بھی وہ بھوکی تھی ۔۔
اور ابھی تک کھانا نہیں کھایا تھا۔۔

سہانا اپنے بابا کا ہاتھ تھامے باہر نکلی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

صبح وہ جانے کے لئے بلکل ریڈی تھے۔۔
سب انھیں ائیرپورٹ سی آف کرنے آئے تھے۔۔

شاہ زین بھی آج یونی نہیں گیا تھا ۔۔بلکہ اپنی فیملی کے ساتھ تھا۔۔
پلوشہ اور حبہ نے بڑا حوصلہ کیے رکھا اور شانت رہیں کہ ان کے بچوں کا دل خراب نا ہو جاتے جاتے ۔

وہ سب سے مل کر اندر چلے گئے کیونکہ بار بار اناؤنسمنٹ ہو رہی تھی۔۔
ازھاد اور نمیرا الگ سے بیٹھے تھے پلین میں ۔۔

وہ سب انھیں سی آف کر کے واپس آ گئے
گھر آ کر حبہ نے جی بھر کر بھڑاس نکالی ۔۔۔کہ شاہ زر کو اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔۔

پری بھی چھپ کر رو چکی تھی،،، مگر ویر نے اسے سنبھال لیا۔۔
کیونکہ وہ یہ کہہ کر نکلے تھے کہ مشن پورا کیے بغیر واپس نہیں لوٹنے والے۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سفر کافی تھکا دینے والا تھا۔۔
مگر وہ اپنی منزل پر پہنچ ہی گئے۔۔
اس سے آگے بھی انھیں سفر کرنا تھا۔۔

انھیں استنبول سے انطالیہ آنا تھا۔۔۔
مطی اور نمیرا کی تو ہڈی پسلی ہل چکی تھی اس سفر سے ۔۔۔
آخر وہ منزل تک پہنچ ہی گئے ۔۔

یہاں ان کے رہنے کے لئے آبادی سے قدرے ہٹ کر ایک کاٹیج کا پہلے سے بندوبست کر دیا گیا تھا۔۔

وہاں ان کے خاص کاموں کے لیئے وفادار آدمی بھی موجود تھے۔۔مگر یہ بات کوئی نہیں جانتا تھا کہ ویر کے دو خاص الخاص وفادار انسپیکٹر بھی اس کے آرڈرز پر اس کے پیچھے چلے آئے تھے۔ ۔۔
اور یہ بات صرف ویر کے علم میں تھی۔۔
کیونکہ ان میں سے ایک دانیال کمپیوٹر ہیکر تھا اور دوسرا شہباز بہت بڑا خبری ۔۔
وہ ہر طرح کی انفارمیشن ویر کے لئے لا کر دیتا تھا۔۔

وہ یہاں کے وقت کے مطابق شام چھ بجے اپنی منزل پر پہنچے تھے۔۔
کھانا کھا کر آرام کرنا تھا۔۔

سکون کے ماحول میں کھانا کھایا گیا۔۔یہاں رگوں میں خون منجمد کر دینے والی سردی تھی۔۔

پرسکون ماحول میں کھانا کھایا گیا،،
کھانا کھا کر ازھاد اور ویر باہر چلے گئے ۔۔
جبکہ مطی اور نمیرا اپنے مشترکہ روم میں چلی آئیں۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

لینا اور ڈائمن یہاں پہنچ کر یہاں کے رنگ میں رنگ چکے تھے۔۔

لینا نے آ کر نیناں کی جگہ لی تھی۔۔اب پلین کے مطابق یہ بھول جانا تھا کہ وہ لینا ہے۔۔

اس بوڑھی عورت کی جگہ یعنی اپنی ماں کی جگہ وہ ایک عورت کو لائی تھی۔۔

یہاں کوئی اسے نہیں پہچان پایا تھا۔۔کہ وہ نیناں نہیں ۔۔
وہ تین چار دن پہلے ہی وسل بجانے لگی ۔۔

اشارے کرنے پر بھی کافی عبور حاصل کر لیا تھا۔۔
مگر سکن کی رنگت نیناں کے مطابق رکھنے کے لئے اسے جینفر کو ساتھ رکھنا پڑا۔۔

آس پاس سب کو یہی بتایا کہ جینفر ان کی پینگ گیسٹ ہے ۔۔پیسوں کی کمی کی وجہ سے اسے اپنے ساتھ رکھا انہوں نے ۔۔
وہ ایک چھوٹا سا بہت خوبصورت سا کاٹیج تھا۔۔

جس میں وہ تینوں رہ رہے تھے ۔۔
جب تک ان کا پلان کامیب نہیں ہو جاتا اسے ڈائمن سے نہیں ملنا تھا۔۔
نا کوئی کانٹیکٹ رکھنا تھا۔۔

ڈائمن بھی اریش کے رنگ میں رنگ چکا تھا۔۔
وہ ایک ہوٹل میں ٹھہرا تھا۔۔۔اور بیچ پر کئی جگہوں پر ایز آ ٹورسٹ جان پہچان بنا لی تھی۔۔

اور پھر انھیں پتہ چلا کہ ان کا شکار جال میں پھنسنے کے لئے بہت قریب آن پہنچا ہے۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

صبح وہ بہت جلد ہی اٹھ چکے تھے۔۔
جب مطی کو پتہ چلا کہ ویر کاٹیج میں نہیں ہے۔۔

اس نے فون کیا تو ویر سے پتہ چلا کے وہ ایک آدمی کا تعاقب کر ریا ہے ۔۔جس کی انفارمیشن اسے شہباز نے دی تھی۔۔

کچھ دور تعقب کے بعد وہ گدھے کے سر سے سینگھ کی طرح غائب ہو چکا تھا۔۔
ویر فی الوقت کے لئے واپس لوٹ آیا۔۔
کاٹیج میں پہنچ کر وہ مطی،،، ازھاد اور نمیرا کے قریب آیا۔۔
فکر مند تھا۔۔

تم لوگ بہت الرٹ رہنا،،دشمن بے حد چالاک مکار اور شاطر ہے،،،آج میں ایک آدمی کا تعقب کر رہا تھا،،بڑی آسانی سے مجھے ڈاج دے گیا ،،،وہ بیچ سائیڈ گیا ہے،،، میں آج ایز آ ٹورسٹ بیچ پر جاؤں گا،،، تم لوگ شہر میں پھیل جانا تاکہ اس کے بچ نکلنے کا کوئی چانس نا ہو،،،
از دیٹ کلئیر،،،،

یس سر،،،،

پھر انھوں نے کھانا کھایا۔۔۔اب تو مطربہ بھی فکر مند تھی،، کیونکہ وہ جتنا آسان اسے سمجھ رہے تھے اتنا وہ تھا نہیں۔۔
دن دو بجے کے بعد وہ کاٹیج سے نکلے تھے۔۔

مطربہ،، ازھاد اور نمیرا شہر میں الگ الگ پھیل گئے تھے۔۔مگر کانفرنس کال کے ذریعے مسلسل ٹچ میں تھے۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ویر بیچ پر آیا تھا۔۔
جس جگہ شہباز کے مطابق اس کے ہونے کے چانس زیادہ تھے۔۔

اس نے ٹھیک ٹھاک اپنا حلیہ چینج کر رکھا تھا اور ایز آ ٹورسٹ ہی گھوم رہا تھا
جب مطلوبہ آدمی دکھائی دیا۔۔
وہ موجود بیچ کے ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں بیٹھا تھا۔۔ویر اسی ریسٹورنٹ میں داخل ہوا۔۔

یہودی ہوٹل تھا۔۔۔ بروسٹ ہوئے ثابت سالم پورک(سور) مین کاؤنٹر پر سجے ہوئے تھے
جن کی سمیل سے ویر کا جی بری طرح متلایا۔۔
مگر برداشت کر گیا۔۔

اس نے سمپل مارگریٹا آرڈر کیا۔۔۔(جو کہ وہ یہ بھی اس گندے ہوٹل میں نہیں پینے والا تھا) ۔۔

اب اس کے خاص آدمی بھی ہوٹل پہنچ چکے تھے۔۔ویر کی آنکھوں کے اشارے سے وہ اس آدمی کے قریب گئے۔۔
اور اس سے یوں باتیں گرنے لگے جانے کتنے برسوں سے کے شناسا ہوں ۔۔

اس سے پہلے اسے کچھ سمجھنے کا موقع ملتا ۔۔ان میں سے ایک بڑے چپکے اور خاموشی سے لائٹر میں چھپی گن اس کے پیٹ پر رکھ کر آہستہ آواز میں اسے وارننگ دے چکا تھا۔۔کہ ہلے نہیں اور چہ چاپ ان کے ساتھ چلے۔۔

ناچار اسے جانا پڑا۔۔اب وہ ویر کے آدمیوں کے ساتھ جا چکا تھا۔۔

ویر اپنا کام کر کے اب بیچ پر اطمینان سے گھوم رہا تھا۔۔

چھ فٹ سے نکلتا قد،،،،، جینز کی بلو پینٹ کے اوپر وائٹ شرٹ،،،، لیدر کی جیکٹ
سرخ و سفید رنگت،،، تنی مونچھیں،،، اور چھوٹی الائچی (جس کی لت اسے شاہ زین نے لگائی تھی) چباتے گال پر پڑتے ڈمپل ،،،آنکھوں پر سن گلاسز

کئی یورپی دل اس کے قدموں کے ساتھ ساتھ دھڑک رہے تھے۔۔اس قدر کشش تھی تقریباً سب لڑکیاں اسی کی طرف متوجہ تھیں ۔۔
اسے کوفت ہوئی۔۔

اسی لیے وہاں سے قدرے الگ خاموشی اور سکون والی جگہ پر آیا
مگر اس کا یہ سکون زیادہ دیر قائم نہیں رہ پایا

جب کانوں میں ایک مدھر سی بانسری کی جانی پہچانی (لمبی جدائی والی ) دھن سنائی دی۔۔
اسے حیرت ہوئی ۔۔۔

تجسس کے ہاتھوں مجبور ویر نے آواز کی سمت قدم بڑھائے
تھوڑی ہی دور پتھروں کے اس پار کا نظارہ کافی حیران کن انوکھا اور اچھوتا ہی تھا۔۔۔

وہ اب پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھتا اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

ایک پتھر پر بیٹھی وہ جل پری،،، پیروں تک نیلے لباس میں تھی۔۔۔۔سمندر کی ہواؤں کے سنگ لہراتا اس کا نیلا دوپٹہ اور براؤن لمبے بال۔۔بالوں میں لگا پرنسز والا تاج۔۔

(شاید تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی تھی،،، چوبیس سال پہلے اس کے ڈیڈ کو بھی کچھ اسی طرح کے منظر نے پوری زندگی کے لئے اپنی جادوئی قید میں لیا تھا)

محبت نیلا موسم بن کی آ جائے گی اک دن،،،،،،

آنکھیں بند تھیں ۔۔۔۔وہ انہماک سے آس پاس وہ میٹھی دھن بکھیرنے میں مصروف تھی۔۔۔
آس پاس لوگ اور بچے توجہ سے اسے سن رہے تھے۔۔۔

وہ ایک تھیم کریئیٹ کر کے بیٹھی تھی جیسے سمندر سے نکل کر جل پری بیٹھی ہو ۔۔۔

اتنا مکمل منظر تھا کہ ویر مبہوت سا دیکھے جا رہا تھا۔۔

مگر پھر اپنی عادت کے مطابق مسکرایا۔۔۔
A narrow way to get attention……..
(توجہ حاصل کرنے کا گھٹیا طریقہ )

وہ جانے لگا۔۔۔۔
مگر جانے کیوں جا نہیں پایا۔۔۔
کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔۔

اب وہ آنکھیں کھول کر وسل بجا رہی تھی۔۔
ویر اس کی سحر طاری کرتی نیلی آنکھوں میں دیکھے گیا۔۔

پھر وہ رکی کھڑی ہوئی ۔۔۔اور سر کو ہلکا سا خم دیتی لوگوں کے سامنے ایک کیپ بڑھاتی اپنی محنت وصول رہی تھی۔۔۔

ویر بھی اسی بھیڑ کے قریب مگر قدرے ہٹ کر پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ دئے کھڑا تھا۔۔
وہ انتظار کرنے لگا کہ کب وہ اس کے پاس آ کر اپنی کیپ اس کے سامنے بڑھائے۔۔۔۔

مگر وہ اس کے پاس آئی ہی نہیں ۔۔۔ایک طرف جانے لگی۔۔
اسے لگا اس جل پری نے اس کو اور اس کی بخشیش کو ریجیکٹ کیا۔۔
دھتکار دیا ہے۔۔۔

ویر کو آگ لگی۔۔۔ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے

اس کے پیچھے لپکا۔۔

Ayyyyy You,,,,,, Why didn’t you put your hat in front of me،???
(اے،،تم،،،،،،،،،،تم نے میرے سامنے اپنی ہیٹ کیوں نہیں بڑھائی؟)

وہ ایک پل کو رکی،،، پیچھے مڑ کر اسے دیکھا،،،
آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں ۔۔۔۔
اس کی نیلی آنکھوں میں پراسراریت تھی،،، سحر تھا،،،
جادو ،،،،،،،کالا جادو،،،،،،

اس نے اشارے سے ایک لڑکی کو پاس بلایا۔۔۔۔

وہ اس کے پاس آئی تو اس نیلی پری نے اشارے کیے۔۔اور لڑکی نے ترجمہ کیا۔۔۔

Because in your eyes i was a privilege, not honor.
(کیونکہ تمھاری آنکھوں میں میرے لئے حقارت تھی،،، احترام نہیں)

وہ دونوں وہاں سے جا چکی تھیں،،،،،،،،

اس جل پری نے ویر کو آئینہ دکھایا۔۔۔وہ بول بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔اور ویر نے،،،،،،،،،،،،،،

۔۔۔۔
Shhhhtttttttttttttttttttttttttt
ویر کی رگوں میں غصے کی انتہا سے شعلے بھڑکے۔۔۔۔

جانے کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

فون نکال کر شہباز کو کال ملائی جو آس پاس تھا۔۔اور اپنے سر پر نظر رکھے ہوئے تھا۔۔

جی سر حکم،،،، ؟

ابھی میں جس بلو ڈریس لڑکی سے بات کر رہا تھا،،،،،،شام تک مجھے اس کی ڈیٹیلز چاہیں۔۔۔

جی سر ،،،،مل جائیں گی ۔۔

اوکے،، ۔۔۔یہ کہہ کر وہ فون بند کر چکا تھا۔۔

ایک بلو کلر آنکھوں سے اوجھل کیا ہوا ۔۔یوں لگتا تھا جیسے اس کے چہار سو سے رنگ اڑ گئے تھے۔۔

وہ اپنی کیفیت سے جھنجھلایا سا واپس لوٹ آیا ۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

اس نے جلدی سے کاٹیج میں داخل ہو کر اپنے پیچھے ڈور یوں لاک کیا تھا جیسے کوئی بلا یا مونسٹر اس کے پیچھے ہو۔۔

جینفر کے ارے ارے کہنے کے باوجود وہ اپنے روم میں آ کر لاک ہو چکی تھی۔۔
آ کر بیڈ پر ڈھے گئی۔ ۔۔

سانس یوں پھول رہا تھا جیسے کہ جانے کتنی مسافت بھاگ کر طے کر کہ آئی ہو۔۔
ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں تھیں۔۔۔
اس نے غصے کی انتہا سے آنکھیں بند کر کے کنپٹیاں سہلائیں۔۔۔
اور فلیش بیک میں گئی ۔۔
ہوا کیا تھا۔۔۔آخر؟

Ayyyyyy you,,,,,,,, Why didn’t you put your hat infront of me,,,,,??

اس وقت پلین کے مطابق وہ پیچھے مڑی تھی۔۔
مگر،،،
مگر جب اس نے سامنے والے کی گہری کالی آنکھوں میں دیکھا۔۔

وہ زندگی میں پہلی مرتبہ،،، گھبرائی،، خوفزدہ ہوئی،،، اندر تک لرز گئی،،، تھرا اٹھی۔

وہ تو کبھی اپنے شکار سے خوفزدہ نہیں ہوئی تھی ۔۔۔اس کے کانفیڈینس نے کبھی ایسا ہونے ہی نہیں دیا۔۔۔۔تو آج کیا ہوا تھا۔وہ کیوں گھبرائی تھی۔۔

اس نے دماغ پر زور دیا۔۔
وہ بھول گئی تھی۔۔اس نے اشاروں سے اس سے خود بات کرنی تھی۔۔
اس سے ہائے ہیلو کر کے بے تکلف ہونا تھا۔۔

مگر وہ ایسا کچھ نہیں کر پائی۔۔اور اس سے پہلے جھٹپٹا کر کوئی غلطی کر بیٹھتی ۔۔۔۔۔جینیفر کو مدد کے لئے بلا بیٹھی۔۔

پھر جینیفر کے بات سمجھانے پر وہ فوراً وہاں سے بھاگ آئی۔۔

جیسے وہ اسے کھا جائے گا۔۔۔۔
اونہہہ یہ پاکی گیمر آفیسر،،،،، اسے تو میں دیکھ لوں گی۔۔۔نیناں نے دانت کچکچائے۔۔

میں تو اپنے شکار سے کبھی نہیں ڈری تو آج کیا ہوا تھا،،، اففففف نیناں پاگل ہو جاؤ گی۔۔

تبھی دروازہ دھڑ دھڑایا گیا۔۔
وہ اچھل کر اٹھی۔۔۔۔

اب کیا قیامت آ گئی ۔۔۔وہ جھنجھنا اٹھی
ڈور کھولا۔۔۔جینیفر افتاں و خیزاں اندر داخل ہوئی

میم غضب ہو گیا۔۔۔۔بیچ سے وہ اتنی پبلک میں بھی ہمارے آدمی کو اڑا کر لے گیا۔۔۔

واٹ۔۔۔نیناں داڑھی۔۔۔یہ کیسے ہو گیا۔۔اتنی پبلک میں کیسے ۔۔

مجھے نہیں پتہ مگر وہ اب کہیں نہیں مل رہا۔۔

نیناں باہر لپکی۔۔ تم نے اسے سمجھایا تھا کہ پکڑے جانے پر اسے کیا کرنا ہے۔۔

ہاں سمجھایا تھا،،،،جینفر نے کہا۔

اس کے کپڑوں میں ایک ٹریکنگ ڈیوائس تھا۔۔لوکیشن ٹریس کرواؤ۔۔ نیناں کو ہاتھ پاؤں پڑ چکے تھے۔۔

جی میم۔۔۔
اففففف۔۔۔نیناں نے سر پکڑا۔۔۔کافی انڈر ایسٹمیٹ کر رہی تھی وہ اس گیمر کو۔۔۔

Ssssshhhhhhhttttttttt

سمجھ جاتی ہوں مگر دیر سے داؤ پیچ اس کے وہ بازی جیت لیتا ہے میرے چالاک ہونے تک

اس نے آتے ساتھ ہی اس کے سر پر دو دو بم پھوڑے تھے

ایک تو اسے ڈرانے کا۔۔۔۔۔
دوسرا اس کے آدمی کو اڑانے کا ۔۔۔۔۔۔

اور اگر ڈائمن کو پتہ چل گیا کہ وہ پہلے ہی قدم پر لڑکھڑا گئی
تو،،،،،،

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

مطی کو گرین سگنل مل گیا تھا کہ وہ آدمی ہاتھ لگ چکا ہے
اب اسے واپس کاٹیج پہنچنا تھا۔

کچھ دور چلنے کے بعد اسے محسوس ہوا جیسے اس کا تعقب کیا جا رہا ہے۔۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ تین چار دیو ہیکل کالے حبشی تھے۔۔

اب جب کے وہ دیکھ چکی تھی تو وہ اس کی جانب لپکے۔۔
مطی بھاگی۔۔
کیونکہ پرایا دیس ۔۔۔لمبے چوڑے وہ جن
وہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی اور گن یوز کرنے کے ابھی اسے آرڈر نہیں تھے۔۔

وہ سر پٹ بھاگ رہی تھی۔۔جب کسی چوڑے چٹانی سینے سے بری طرح ٹکرا کر زمین بوس ہوئی ۔۔۔

اس کی آنکھوں کے سامنے دنیا گھوم گئی تھی۔۔
اف یہ بندہ کھانا کھاتا ہے کے لوہا۔۔۔وہ جھنجھلائی۔۔اور ماتھا سہلایا۔۔

میم ار یو اوکے،،،، ایک بھاری سی مردانہ آواز پر وہ چونکی۔۔فورا اٹھ بیٹھی۔۔۔

پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ ہٹے کٹے پہلوان غائب تھے۔۔
(کیونکہ ان کا کام بس یہیں تک کا تھا یعنی مطی کو ہراساں کرنے کا)

یس آئی ایم اوکے،،،،،،،وہ کہہ کر جانے لگی۔۔
سامنے والا کافی دیر سے اس معصوم سے چہرے کو غور سے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔

یہاں اس ایریا میں اکثر ایسے چور لٹیرے گھومتے ہیں جو لوٹتے بھی ہیں اور خواتین کے ساتھ ،،،،،،خیر کیا میں آپ کو سہی سلامت آپ کی گاڑی تک پہنچا دوں۔۔۔

مطی پہلے تو جھجھکی ۔۔مگر اس کی مما کی باتوں نے اس کا کانفیڈینس بری طرح بریک کر دیا تھا۔۔

اگر تمھیں کچھ ہو گیا،،،،
اگر تمھیں کچھ ہو گیا،،،،

یہی جملے دماغ میں گھوم رہے تھے اسی لئے

اب اس نے سامنے والے کو سر اٹھا کر چونک کر دیکھا کیونکہ وہ کافی صاف اردو بول رہا تھا۔۔
چھ فٹ سے نکلتا قد بلیک پینٹ کے اوپر بلو ہڈی ۔۔۔سفید رنگت۔۔بے تحاشا ہینڈسم اور ڈیشنگ،،،

گھبرائیے نہیں مس میں پاکستانی ہوں ،،،،یہاں ٹورسٹ ہوں،، آپ کو سہی سلامت گاڑی تک پہنچا دوں گا۔۔۔۔

اوکے ،،،،،مطی نے کہا تو وہ ہڈی میں ہاتھ ڈالے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔۔
مطربہ خاموش ہی رہی۔۔وہ وقتا فوقتا سر کو ہلکا سا خم دیئے بڑی غور سے ساتھ چلتی لڑکی کو دیکھ لیتا تھا۔۔

میرا نام اریش زبیر ہے اور آپ کا ؟؟؟؟

آئی ایم مطربہ،،،،،،، اس نے دھیمے سے کہا ۔
وہ کسی اجنبی پر اعتبار نہیں کر سکتی تھی سو پھر خاموش ہو گئی۔۔۔وہ گاڑی تک پہنچ چکی تھی۔۔

خاموشی سے گاڑی میں بیٹھی

Thanks for the help,,,,,,
وہ کہتی زن سے گاڑی بھگا چکی تھی۔۔۔

پیچھے وہ بڑے غور سے گاڑی کو دور جاتے دیکھنے لگا۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺