Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

وہ چاروں لاہور آئے تھے ۔۔۔
لاہور پہنچتے ہی انھیں فون پر بریفنگ دے دی گئی تھی کہ ان کا شکار کہاں چھپا ہے۔۔۔

سو وہ وہیں پہ چلے آئے۔۔۔۔
وہ لاہور کا ایک مشہور ترین واٹر پارک تھا۔۔

وہ ایک پبلک پلیس تھی جہاں بہت زیادہ بھیڑ بھاڑ تھی۔۔
اسی بھیڑ میں سب سے پہلے مطی کو وہ آدمی نظر آیا۔۔تو اس نے خاموشی سے ویر کو اشارہ کیا۔۔

اب وہ اس کا گھومتے ہوئے پیچھا کر رہے تھے۔ویر کے وفادار آدمی بھی اس کے ساتھ تھے۔۔۔۔
آخر ویر کو موقع مل ہی گیا۔۔۔جب وہ آدمی جینڈز ٹوائلٹ کی جانب گیا۔۔

ویر نے ازھاد کو اشارہ کیا۔۔
اور اس کے پیچھے گیا۔۔

ویر بہت خاموشی سے پارک کے جینڈز واش روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔
وہ جو آؤئٹنگ اور ہلے گلے کے بہانے یہاں بظاہر فرینڈز کے ساتھ آیا تھا
اب واش روم میں واش بیسن کے سامنے بظاہر اپنے ہینڈ واش کر رہا تھا۔۔۔

مگر ایک گہری نظر اردگرد تھی.. شیشے میں سے اپنی بیک سائیڈ دیکھا.
ٹارگٹ ٹھیک اس کی بیک سائیڈ پر تھا۔۔۔

ایک پل کو آنکھیں موندی۔۔۔۔ پھر بجلی کی سی رفتار سے اپنا خاص ہتھیار لیے پیچھے مڑ کر ٹارگٹ کی گردن پر لپٹایا اور اس کی مزاحمت سے بہت پہلے اس کی گردن کی ہڈیاں چٹخا دیں۔۔۔

اتنی ہی تیزی سے اسے باہر بنے ڈسٹ بن میں پھینکا تھا۔۔۔ وہ پھر اطمینان سے واش بیسن کے پاس آیا۔۔۔
پھر لاپرواہ سا پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے باہر نکلا دو آدمی سامنے سے آئے جنھیں بس آنکھ سے ہلکا سا اشارہ کیا۔۔۔

اور پھر وہ آدمی ڈسٹ بن گھسیٹتے اب پارک سے باہر لے جا رہے تھے۔۔
اسے یونہی تو نہیں ایناکونڈا کہا جاتا تھا.. ثابت بندے نگل جایا کرتا تھا۔۔۔
بلکل غائب۔۔۔۔۔۔۔

ازھاد نمیرا اور مطربہ ویر کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔ جب ازھاد کو اس کا بہت پرانا دوست مل گیا۔۔۔تو وہ اس سے باتیں کرنے لگا۔۔۔۔
تبھی وہاں ویر اطمینان سے سن گلاسز لگاتا واش روم سے باہر آتا دکھائی دیا۔۔۔

ازھاد کا فرینڈ نومی اس کی پرسنیلٹی اور آٹیٹیوڈ دیکھ کر پوچھ بیٹھا۔۔۔
ازھاد یہ کون ہے،،،،،،،؟

یہ،،،،،،، ازھاد نے گہری سانس بھری،،،،
اس طوفان کا نام شاہ ذل سلطان ہے۔۔۔۔

مگر تم لوگ تو اسے ویر کہہ رہے ہو،،،،،،،،نومی الجھا

کیونکہ یہ اپنے ڈیڈ ویر کے نام سے جانا جاتا ہے۔۔۔۔ ازھاد نے کہا۔۔۔ ضدی، اکھڑ سر پھرا، منہ پھٹ اور بدتمیز۔۔۔۔۔ازھاد نے فخر سے بتایا۔۔۔

نومی کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔۔۔ کچھ اور،،،،،،،؟

ہاں۔۔۔۔۔۔۔بہت بڑا
Gamer…….. Sharper …..
کبھی نہیں ہارتا،،،،،ٹوٹنا اور جھکنا نہیں سیکھا،،،،،،ہارنا اس کی سرشت میں نہیں،،،،،اور کوئی دنیا میں ایسا نہیں جو اسے ہرا سکے،،،،، اسی لیے تو اسے گیمر کہتے ہیں،،،،

ابھی ازھاد بول ہی رہا تھا کہ ان کی طرف آتے ویر کی ایک لڑکی سے زور دار ٹکر ہو گیی،،،،

اب لڑکی بری طرح چیخ چلا رہی تھی۔۔۔اور دو چار اور لڑکیاں اکھٹی ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔

ازھاد تمھارے گیمر فرینڈ کو ہماری ضرورت ہے کہیں پبلک پلیس پر پٹ نا جائے،،،،، نومی نے تمسخر اڑایا

اونہہہہہہ۔۔۔۔وہ ویر ہے،،، ویر،،،، ابھی وہ لڑکی اس بات پر پچھتائے گی کہ دنیا پہ ہی کیوں آئی،،،کیونکہ وہ لڑکیوں سے نہیں الجھتا،،،،، مگر سامنے سے کوئی الجھے اسے بخشتا بھی نہیں ،،،، دیکھتے جاؤ،،،،،،وہ ویر کے قریب گئے۔۔۔جو اسی اطمینان سے کھڑا اس لڑکی کی قوالی سن رہا تھا۔۔۔

مسٹر اندھے ہو کیا،،،، نظر نہیں آتا،،،، یہ سن گلاسز اتارو تو تمھیں دنیا نظر آئے،،،،، لڑکی چلائی۔۔۔۔۔کوئی بگڑی امیر زادی تھی جو خواہ مخواہ اس ڈمپل بوائے کے گلے پڑ رہی تھی۔۔۔

مجھے تو نظر آ رہا ہے محترمہ۔۔۔ پہلے آپ خود کو سنبھالیں،،،، جو بن پیے ہائی ہیل میں لڑکھڑاتی پھر رہی ہیں،،،،، ویر کا اطمینان قابل دید تھا۔۔۔اس کی ہائی ہیل پہ ٹونٹ کیا جس میں وہ لڑکھڑائی تھی۔۔

شٹ اپ یو،،،،، میں سنبھال سکتی ہوں خود کو بھی اور اپنی ہائی ہیل کو بھی تم۔۔۔۔

سچ میں،،،،،،،،مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی چیز ڈھنگ سے سنبھال سکتی ہو کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے تم اپنے انڈر ڈریس کی سٹیپ سنبھالتی جو کہ نظر آ رہی ہے۔۔۔۔ویر اطمینان سے بولا۔۔

مگر اب اس لڑکی کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جو بھونچکا سی خفت سے لال ٹماٹر چہرہ لئے ویر کو کوس رہی تھی ،،،بدتمیز،،،منہ پھٹ،، کمینہ،،،،وہ فوراً کھسک گئی۔۔۔

ازھاد نومی اور دوسرے فرینڈ منہ کھولے اسے دیکھتے رہ گئے
جبکہ وہ اطمینان سے سن گلاسز سمیت اسی ڈریس میں واٹر پول میں اتر گیا۔۔۔

یہ جانے بغیر کہ کوئی جتنا مرضی بڑا Gamer ہو۔۔۔

جب عشق کا نقطہِ پرکار دلوں کے گرد محبت کا دائرہ کھینچتا ہے تو۔۔۔۔ساری زندگی گھومتے رہو گول گول کہیں سکون کا کونا نہیں ملتا۔۔

تب انسان ٹوٹتا بھی ہے۔۔جھکتا بھی ہے اور سب سے بڑھ کر
ہارتا بھی ہے۔۔۔۔

وہ اپنا کام مکمل کر چکے تھے ۔۔۔۔پھر بہت جلد واپسی کی راہ لی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ ہیڈ آفس میں کامیاب داخل ہوئے تو کرنل وسیم دیکھ کر مسکرائے۔۔

ان کو جو شخص مطلوب تھا وہ پہلے ہی ان تک پہنچا دیا گیا تھا۔اور کسی کو کان و کان خبر بھی نہیں ہوئی تھی۔۔

Well-done my boy..
کرنل وسیم شاز و نادر ہی کسی کی تعریف کیا کرتے تھے۔۔
مگر شاہ زل کے کام سے متاثر ہوئے بغیر بھی نہیں رہ پائے تھے۔۔

ان کے اشارہ کرنے پر شاہزل اور مطربہ ان کے سامنے بیٹھ گئے جبکہ ازھاد اور نمیرا ان کے پیچھے بیٹھے تھے۔۔۔

اب جس مشن کے لئے تمھیں منتخب کیا ہے اسے غور سے سننا اے سی پی،،،،،،،، بڑا نقصان ہو گیا ہے،،،، کسی نے ISI کے ہیڈ کوارٹرز سے ایک مائیکرو چپ چرائی ہے جس میں بہت حساس انفارمیشن ہے۔۔۔۔ وہ مائیکرو چپ اگر دشمن کے ہاتھ لگ گئی تو بہت بڑا نقصان ہوگا۔۔ہمیں وہ چاہئے کسی بھی صورت ۔۔کسی بھی حال میں،،،، کسی بھی قیمت پر ،،،،،

وہ چاروں بڑی توجہ اور غور سے ان کی باتیں سن رہے تھے ۔۔۔

اور اتنا ہی نہیں ایک عرصے سے وومن ٹریفکنگ کی شکایات مل رہی ہیں،،،،بہت سٹرونگ نیٹ ورک ہے،،،،، اور بہت خاص سورسز سے یہ پتہ چلا ہے کہ مائیکرو چپ چرانے والے اور یہ وومن ٹریفکنگ ایک ہی نیٹ ورک سے جڑے ہیں ۔۔۔۔ان کا کیا مقصد ہے ابھی یہ بھی نہیں پتہ،،،، مگر وقت سے پہلے ان کا سر کچلنا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔اس نیٹ ورک کا تعلق دو ممالک سے جڑا ہے،،، ایک دبئی دوسرا ترکی تیسرا لندن شہر سے تعلق ہے،،

کرنل وسیم سانس لینے کو رکے،،،، جہاں تک مائیکرو چپ کا تعلق ہے اسے چرا کر ترکی لے جایا گیا،،، اب تم لوگ سر دھڑ کی بازی لگا دینا،،، اسے واپس لانے میں،،، اور اس نیٹ ورک کا پتہ لگانے میں،،، ہو سکے تو چپ سہی سلامت واپس لانی ہے،،، سہی سلامت واپس نا بھی لا پائے تو اسے سپوئل کر دینا،،،،، جان دینی پڑے تو دے دینا،،،،،

کرنل وسیم کے لہجے میں ایک عزم ایک ہمت ایک تھا جو کہ ان کی رگوں میں غازی یا شہید ہو کر لوٹنے کا جوش و جذبہ بھرے دے رہا تھا۔۔۔۔۔

شاہ زل کی آنکھوں میں خاص چمک تھی۔۔۔

بہت کم وقت ہے تم لوگوں کے پاس،،،،، اسی لئے فوراً تیاری شروع کر دو۔۔۔
آرڈر دے دئے جائیں گے کہ کب جانا ہے،،، اور مشن پورا کیے بغیر لوٹ نہیں پاؤ گے،،، اب بولو کر پاو گے آپ

کرنل وسیم کے لہجے میں چیلنج تھا،،

شاہ زل کا اطمینان اب بھی قابک دید تھا،،، وہ یونہی تو نہیں قوم کا سپاہی بنا تھا،،، اس ملک کے لئے اس کی سرزمین اور عزت و توقیر کی حفاظت کیلئے جان دینے کا جزبہ لیے بیٹھا تھا دل میں۔۔

سر آپ بھروسہ رکھیں یا تو دشمن کو شہہ مات دے کر لوٹے گے یا جان دے کر،،،، شاہ زل نے کہا

سر آپ نے ہم پر جو بھروسہ کیا ہے وہ ہم کبھی ٹوٹنے نہیں دیں گے،،، یقین کریں،،، مطربہ نے بھی اطمینان سے کہا۔۔۔

گڈ،،،،، ازھاد اور نمیرا تم لوگوں کے ساتھ جائیں گے،،،،، یو مے گو ناؤ۔۔۔۔۔

یس سر،،، وہ کہتے باہر آ گئے ۔۔۔۔۔

شاہ زل نے ان سے چند ضروری باتیں کیں ۔۔۔اور واپسی کے لیے روانہ ہوئے ۔۔۔۔

سلطان مینشن میں گاڑی داخل ہوئی ۔۔
شام کے سایے گہرے ہو چکے تھے،،،
لاؤنج میں داخل ہوئے تو سب وہیں موجود تھے۔۔

سب کو دیکھ کو تھکاوٹ سیکنڈوں میں اڑنچھو ہو چکی تھی۔۔روپ دادو اور حاتم بھی وہیں موجود تھے۔۔
شاہ زل ان کے پاس بیٹھ کر باتوں میں مگن ہو گیا جبکہ مطی اپنے روم میں فریش ہونے چلی گئی،،،

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

لندن میں جے ولا میں ایک ریڈ لائٹ ڈارک روم میں تین نفوس ٹیبل پر بیٹھے تھے..
وہیل چئیر پر موجود جولی اور دو آدمی… ایک زبیر اور دوسرا جولی کا وفادار آدمی کارل

دروازہ نوک کر کے آنے والے شخص نے ایک پیکٹ اور دو فوٹو ٹیبل پر رکھی…

میم یہ ان کی پکس ہیں اور تمام ڈیٹیلز اس پیکٹ میں ہیں… اپنے گھر والوں کی نظر میں یہ بزنس مین شاہ زل سلطان ہے… مگر وہ ایک CID آفیسر ہے…اور دنیا شاہ ویر سلطان کہتی ہے اسے…. جرم کی دنیا میں اینا کونڈا کہتے ہیں اسے.. بندے یوں غائب کرتا ہے جیسے نگل کیا.. ایک دم غائب… اور اب آپ کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے.. یہ بھی اسی مائیکرو چپ کے پیچھے ہے جسے آپ حاصل کرنا چاہتی ہیں… اور یہ کبھی ہارتا نہیں ہے.. اپنے مشن کو کامیاب کیے بنا چین سے نہیں بیٹھتا….

ٹھیک ہے تم جاؤ… جولی بھیانک تاثرات لئے پاس بیٹھے آدمی کی جانب گھومی….
دیکھا زبیر…….. شاہ ویر سلطان کا بیٹا شاہ زل سلطان…. ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا وہ مکروہ قہقہے لگانے لگی…

زبیر…. لینا اور ڈائمن کو بلاؤ۔۔۔۔وہ پھنکاری

لینا۔۔۔۔ مگر وہ کیا کرے گی۔۔۔۔ڈائمن تو ٹھیک ہے مگر لینا…..؟ اتنے طاقتور اور شارپ آفیسر کو وہ کیسے ہینڈل کرے گی…. وہ ابھی تئیس کی ہے..زبیر چونکا

ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا… زبیر اسی دن کے لئے تو میں نے اسے تیار کیا ہے..
تئیس سال.. پورے تئیس سال سے اسے تیار کر کے ایک ایسی زہر میں بجھی تلوار بنایا ہے جو سلطانز کو تباہ و برباد کرے گی…
بلا ہے وہ…. خوبصورت بلا….. جو اس خاندان کی خوشیاں نگل جائے گی… شاہ ویر سلطان اور اس کے بیٹے کی کمر اور اکڑ دونوں توڑے گی… جتنی نفرت اکیس سال میں….. میں نے لینا اور ڈائمن کے اندر سلطانز کے لئے بھری ہے اتنی کافی ہے ان کی بربادی کے لیے…
آگ ہے وہ…. چالاک اور شاطر…. اس کے ساتھ ساتھ بری
بہت بری
Lina…… Bad girl
ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا

پاس بیٹھے اس کے خاص آدمی نے انٹرکام پر لینا کو بلانے کو کہا
کچھ ہی دیر میں وہ دروازے پر نمودار ہوئی…
اگر وہ اسے خوبصورت بلا کہہ رہی تھی تو سچ ہی تو تھا..
اگر خوبصورتی کی کوئی مثال تھی تو وہ لینا زبیر تھی…
چاندی کی طرح دمکتی وہ….
سرخ گھنٹوں سے نیچے تک سلیولیس فراک بلیک جینز کی پنڈلیوں سے بھی اونچی جینز کی ٹائٹس…. بلیک لونگ بوٹ…. کمر سے نیچے تک جھولتے کرلی گولڈن بال… ببل گم چباتی… ایک ہاتھ سے شولڈر پر پڑا اپنا کوٹ پکڑا ہویے لاپرواہی سے وہ بہت عجلت میں اندر آنے والی تھی..

گارڈ نے دروازہ کھولنے میں دیر لگائی.. جس سے اس کے ماتھے پر بل آئے اگلے ہی لمحے اس کے لانگ بوٹ کی زور دار کک گارڈ کے سینے پر بجی.. جس سے وہ دروازے میں دھاڑ سے لگا اور دروازہ کھلتا چلا گیا..

یو فول… آئندہ یاد رکھنا کہ دروازہ کتنی جلدی کھولنا ہے… وہ انگلش میں پھنکاری…. وہ اندر آئی..
ہائے ڈیڈ… اس نے زبیر کو وش کیا…
.. یس مام…. وہ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی.. اس عورت نے وہ فوٹو اور وہ پیکٹ اس کے آگے اچھالی..

تمھارا ٹارگٹ لینا…. جس کے لئے میں نے تمھیں تیار کیا
. وقت آ گیا ہے…. کہ

اوکے مام….. وہ خونخوار نظروں سے تصویر میں موجود اس ڈمپل والے لڑکے کو نفرت سے گھورتی ہوئی بولی.. میرا ہوم ورک کمپلیٹ ہے… آپ ٹینشن نان لیں.. جلد ہی یہ آپ کہ قدموں میں ہوگا..
بس بتا دینا کہ یہ کب پلین کی گئی جگہ پر پہنچے گا…

ڈائمن کدھر ہے؟

نو وری… میں اسے ڈیٹیلز بتا دوں گی.. آپ بے فکر ہو جائیں.. کہتی وہ اسی بے نیازی سے کوٹ بازوؤں پر لپٹائے وہاں سے نکلتی چلی گئی…..

ہاتھ میں موجود پک کو پھر غور سے دیکھا.
نظریں تصویر میں موجود اس مردانہ وجاہت سے بھرپور شخص کے ڈمپل پر پڑیں
اونہہہ… یہ ایشین مرد کچھ زیادہ ہی ہینڈسم ہوتے ہے… مزا آئے گا ایک گیمر کے ساتھ کھیلنے میں… اسے ہرانے میں..

وہ یہ ارادے باندھ رہی تھی یہ جانے بغیر کے… لینا… دی بیڈ گرل.. ایک ڈمپل نما گڑھے میں الجھ کر یوں اوندھے منہ گرے گی.. کہ پھر کبھی سنبھل نہیں پائے گی..
کبھی نہیں…….

وہ ان کے بنائے گئے اسپیشل روم میں آئی تھی ۔۔ڈائمن بھی وہیں تھا۔۔
جب اس نے پیکٹ کھول کر تمام ڈیٹیلز کے پیپر نکالے۔۔جو کہ انھوں نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر حاصل کیے تھے۔۔
ڈائمن کے آگے وہ تصویر بڑھائی ۔۔

ڈائمن نے وہ پک ہاتھ میں لی اور غور سے دیکھی۔۔
مگر کچھ تو تھا اس پک میں،،،،، جس نے اسے بری طرح چونکایا تھا۔۔۔
شاید وہ کانچ آنکھیں
پک کے پیچھے پک والی کا نام بڑی آب وتاب سے جگمگا رہا تھا

مطربہ شاہ زر سلطان۔۔

مطربہ تک تو ٹھیک تھا۔۔۔مگر شاہ زر سلطان کے نام کو اس نے لہو ٹپکاتی خونخوار نگاروں سے گھورا۔۔۔

پھر دونوں ان کی ڈیٹیلز پڑھنے لگے۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

آج پھر میر سٹڈی میں کاٹ پر بیٹھا تھا۔۔
بھیگی پلکیں اور ہاتھ میں فریم،،، جس میں ایک ننھی سی جان کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔۔۔

حرم اپنے روم میں گئی تھی اسے دیکھنے مگر وہ نہیں تھا۔۔
بریک فاسٹ پر سب ویٹ کر رہے تھے
اور حرم کو پتہ تھا کہ اس دن میر کہاں ہو سکتا تھا۔۔

وہ خاموشی سے سٹڈی میں آئی،،، حسب توقع وہ وہیں تھا۔۔۔

شاہ میر،،،،، حرم نے قریب جا کر کندھے پر ہاتھ رکھا،، شاہ میر نے اپنے آنسو چھپانے کیلئے اپنا منہ حرم کہ وجود میں چھپایا

حرم نے محبت سے اس کے بال سہلائے۔۔۔بس کریں میر،،، جانے والوں کو کون روک پایا ہے آج تک،،،،، حرم کا لہجہ بھی بھیگا

حرم کو پریشان ہوتے دیکھ بہت جلد میر نے اپنے آپ کو سنبھالا تھا۔۔۔۔اس سے الگ ہو کر پھر فریم کی طرف دیکھا۔۔
آج اگر میری گڑیا ربیع زندہ ہوتی تو بلکل مطی کی عمر کی ہوتی،،،، ہے ناں حرم

جی ،،،،مگر اس کی اتنی ہی زندگی تھی میر ،،،سنبھالیں خود کو،،،بھول جائیں اس حادثے کو،،،،، میں نے تو خدا کی رضا پر صبر کر لیا،،،، آپ بھی کر لیں میر،،، اور ویسے بھی خدا نے ہمیں شاہ زین اور چھوٹی ربیع سے بھی تو نوازا ہے،،،
حرم کے کہنے پر میر نے اثبات میں سر ہلایا۔۔تبھی ڈور ہلکا سا ناک ہوا
اور شاہ زین اندر داخل ہوا۔۔۔

مما ڈیڈ آ جائیں اب،،، سب ویٹ کر رہے ہیں ،،،،

اوکے شیر،،،، چلو ہم آتے ہیں،،، میر نے مسکرا کر کہا،،
وہ سویٹ سی سمائل دیتا واپس چلا گیا

بریک فاسٹ پر سب تھے،،، روپ اپنے فیورٹ پوتے شاہ زین کی بلائیں لے رہی تھی
شاہ زل سے برداش نہیں ہوا

کم آن دادو یار،،، ہم پر بھی نظرِ کرم فرما لیں،،، آخر ایک زمانہ ہینڈسم اور دیشنگ کہتا ہے ہمیں بھی،،،،

ہونہہ یہ منہ اور مسور کی دال،،،دادو آپ کو پتہ ہے کل لاہور میں میں لڑکیاں اسے ڈوریمون کہہ رہی تھیں،،،،، مطربہ نے شوشہ چھوڑا،،، اور اپنی بات بتائی کیونکہ وہ خود اسے یہی کہتی تھی
جس سے وہ اتنا ہیندسم بندہ اچھا خاصا چڑھتا تھا۔۔

اور آپ کو پتہ ہے دادو مطی کو سب وہاں چھوٹے بھیم والی چُھٹکی بول رہے تھے،،، شاہ زل بھی کونسا کم تھا تمام حساب بے باک کرنا جانتا تھا۔۔۔
حسب معمول جنگ چھڑ چکی تھی

دونوں زور شور سے لڑنے میں مصروف تھے۔۔۔

میں ہون ایک روبو،،،،،،،، ڈوریمون،،،، مطی لہک لہک کر گانے لگی

چُھٹکی لڈو دینا زرا،،،،،،،،مجھے طاقت چاہیے
شاہ زل نے جلتی پر تیل ڈالا

سب کے چہرے ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں سرخ پڑ چکے تھے۔۔

بڑے پاپا اب اور برداشت نہیں کر سکتا،،،، شاہ زین اچانک اونچی آواز میں ویر کو مخاطب کر کے بولا تو سب خاموش ہوئے ۔۔سوالیہ نگاہوں سے شاہ زین کو دیکھا۔۔۔

اس سے پہلے کہ مطی آپو کے بھونپو سے میرے کانوں سے لہو ٹپکنے لگے میں تو چلا،،،،،،

مطی جو لہک لہک کر ڈوریمون سونگ گا رہی تھی،،، بے تحاشا چونکی۔۔۔سمجھ آنے پر اپنی چپل نکالی تھی شاہ زین کا نشانہ لینے کو ۔۔۔۔۔
مگر وہ اس سے پہلے ہی مطی کی فلائنگ چپل کی پہنچ سے دور ہوا
کھسک چکا تھا
سب قہقہے لگا کر ہنسے تھے
مطی غصے میں واک آؤٹ کر چکی تھی۔۔۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

شاہ زین یونی میں اپنی گاڑی سے اترا

سہانا آج وقت سے بہت پہلے آ کر ایم ایس سی کے ایک چور سٹوڈنٹ کی تمام ڈیٹیلز نکلوا چکی تھی۔۔۔

جس نے بڑی دیدہ دلیری سے اس کا چین سکون برباد کر دیا تھا۔۔نیندیں چھین لیں تھیں ۔۔۔انگاروں پر گھسیٹ لیا تھا۔۔

وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب دھیمے قدموں سے چلتا جا رہا تھا۔۔مگر آج کچھ عجیب سا بھی محسوس ہو رہا تھا۔۔

یوں لگتا تھا کہ کسی کی نگاہوں کے حصار میں ہے۔۔وہ پھر بھی لاپرواہ سا اپنے ڈیپارٹمنٹ میں آیا

اپنی کلاس میں آ کر اپنے مخصوص ٹیبل پر بیٹھا۔۔۔۔
حمزہ اور فارس ابھی نہیں آئے تھے۔۔
بلکہ ابھی چند ایک سٹوڈنٹس ہی تھے جو کلاس میں تھے۔۔
اپنی بکس ٹیبل پر رکھتا وی بے تحاشا چونکا تھا

کسی نوکیلی چیز سے اس کی ٹیبل پر بڑی آ ب و تاب سے جگمگا رہا تھا

تم میرے،،،، صرف میرے ہو کہ رہو،،،،، SS

اسے ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔۔۔
ہنسی کسی کی انتہائی بچکانہ حرکت پر،،،،، غصہ اس بات پر کہ یقیناً اس کی یہ کھلی اس کے دوست اڑانے پر تلے بیٹھے ہیں

وہ اگنور کرتا بیٹھ گیا
مگر سامنے بورڈ پر نظر پڑی تو بھونچکا ری گیا

سامنے بورڈ پر بھی یہی جملہ لکھا گیا تھا۔۔۔
اب اسے صرف فارس اور حمزہ کے آنے اور ان کی خبر لینے کا انتظار تھا۔۔۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺