Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

رات کے وقت وہ سب ڈنر کے لئے ڈائیننگ ٹیبل پر موجود ہے۔۔ نیناں حبہ اور حرم کے بیچ میں بیٹھی تھی اور سہانا حرم کے بائیں سائیڈ پر۔۔

حبہ کو اب ہفتے بعد کہیں جا کر سکون آیا تھا جب شاہ زر نے وہ چٹ اسے بھی پڑھائی تھی۔۔اور سب گھر والوں کو بھی،،
مگر جونیئر ویر سکون سے ہر گز نہیں بیٹھا تھا۔۔

شاہ زل نے کن اکھیوں سے سامنے کا منظر دیکھا جہاں دونوں چھوٹی ممیاں پاس بیٹھی نیناں سلطان کے ناز نخرے اٹھانے میں مصروف تھیں۔۔
اس نے سرد سی آہ بھری۔۔

شاہ زین اس کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھا تھا۔۔
حرم بار بار سہانا بے بی کو بھی فل پروٹوکول دے رہی تھی۔۔ادھر ظہان نے دیکھا بڑی مما نے ربیع کو سر پر بٹھانے کی کسر چھوڑی تھی بس۔۔

اور ہمیں تو سڑکوں سے پکڑ کر لائیں ہیں ہماری مائیں،،، شاہ زل کو تپ چڑھی۔۔ بڑبڑاہٹ قدرے بلند ہی تھی۔۔

بھیا،،، کچھ جلنے کی سمیل آ رہی ہے،،، ربیع نے ویر کو چھیڑا۔۔

تم تو کچھ بول ہی نہیں سکتیں ربیع،،، کیونکہ تم بھی جونئیر کے عہدے پر فائز ہو گئی ہو۔۔کسی نے تمھاری جگہ لے لی ہے جونئیر ربیع،،،

شاہ زل نے ایک گہری نگاہ اس دشمنِ جاں پر ڈالتے ہوئے ربیع کو چھیڑا اور جونئیر پر زور دیتے ہوئے اپنا حساب بے باک کیا۔۔

ربیع نے سچ مچ رونی سی شکل بنائی تو پری نے بیٹے کو گھورا،،، کیوں آگ لگا رہو ہو شاہ زل،،، چپ چاپ کھانا کھاؤ

اونہہہہہہ ان کا بس چلے تو منہ سے نکلنے والے شعلوں سے ہی سامنے والے کو جلا دیں۔۔۔ڈوریمون۔۔۔یہ نیناں کا فرمان تھا جو کہ وہ بس دل میں ہی بڑبڑا پائی۔۔

ادھر سہانا اپنی جگہ سے اچھلی تھی،،،
کیا ہوا سہانا،،، حرم نے کہا،،

کچھ نہیں مما،، گرم نوالہ کھا لیا،،، ٹیبل کے نیچے سے اپنے پاؤں پر رینگتا کچھ محسوس ہوا تو سہانا نے اپنے پاؤں پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔
مگر سامنے بیٹھے شخص کو بری طرح اگنور کیا۔۔

مما میرا پیٹ بھر گیا،، حرم نے نیناں کی پلیٹ میں اور چاول ڈالنے چاہے تو وہ روہانسی ہوئی۔۔

تھوڑے سے اور کھالو،،،، کھایا ہی کتنا ہے،، حرم نے کہا مگر نیناں نے برا سا منہ بنایا۔۔

سڑی بھنڈی،،،، شاہ زل کو پھر وہ برا سا منہ بناتی دیکھ،،،،، کچھ یاد آیا۔۔

چھوڑو بھئی ،،،میرا بھی ہو گیا،، اب میں اور میری بیٹی لاؤنج میں بیٹھ کر باتیں کریں گے،،، شاہ میر بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور نیناں کی جانب بڑھا۔۔

مگر ،،،
نہیں انکل مجھے آرام کرنا ہے،،، وہ کہتی اپنے روم میں جا چکی تھی۔۔

میر کے چہرے پر سایہ سا لہرایا۔۔ایک ہفتہ ہو چلا تھا ماں بیٹی کی ناراضگی کو طول پکڑے،،، نیناں کا اپنے پاپا کو انکل کہنے پر اس کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔۔جو کہ اس نے سب سے چھپانے کی کوشش کی۔۔

مگر شاہ زل سلطان کی نگاہوں نے وہ نمی دیکھتے ہوئے اپنے اندر تک اترتی محسوس کی تھی۔۔
دل تو کیا ابھی جائے اور ظالم لڑکی کا مزاج درست کر دے۔۔
جب سب اپنے اپنے روم میں چلے گئے تو جونیئر اٹھ کر شاہ ویر کے پاس آیا تھا۔۔ماتھے پر ڈھیروں بل تھے۔۔

یہ چل کیا رہا ہے ڈیڈ،،،، چھوٹے پاپا سے اس کا رویہ،،،

ناراض ہے اپنے باپ سے،،، جس نے اپنی بھائی کی بیٹی کو بچانے کے لئے اسے خود سے دور کرتے ایک جہنم میں جھونک دیا۔۔ نہیں تو آج اس کی جگہ مطی ہوتی۔۔ اس حادثے سے وہ پورے تئیس سال اپنے سگے ماں باپ سے دور ایک مصنوعی اور دھوکے والی زندگی گزار رہی تھی۔۔۔یہ کتنا اذیت ناک ہوگا۔۔۔
شاہ ویر نے سرد سی آہ بھری۔۔

مگر اسے اب چھوٹے پاپا کے ساتھ اس طرح نہیں کرنا چاہیے،،،،،شاہ زل کو میر کی آنکھوں کی نمی چین نہیں لینے دے رہی تھی۔۔

میں ابھی مزاج درست کرتا ہوں میڈم کے،،، اس نے دانت پیس کر کہا۔۔

کوشش بھی مت کرنا جونئیر،،، نہیں تو حرم نہیں چھوڑے گی تمھیں،، یہ نا ہو ایک باپ کی سفارش کرتے ایک شوہر ہاتھ ملتا رہ جائے،،،،

شاہ ویر نے چھیڑا تو وہ بھی مسکرا دیا اور اپنی جگہ سے اٹھا،،، یہ تو زرا ناممکن ہے ڈیڈ،، آپ کی بہو کے کسے بل نکالنے میں مجھے بڑا مزہ آئے گا،،،
اس نے ایک آنکھ دبائی۔۔۔

تو شاہ ویر ہنس پڑا،،
آج شاہ زل کو رات کے وقت کچھ کام تھا تو وہ اپنے ڈیڈ سے بولتا سلطان مینشن سے باہر نکلا تھا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

نیناں اپنے روم میں تھی۔۔۔بیڈ پر نیم دراز اس نے آنکھیں موند رکھیں تھیں،،،
جب ایک من پسند ڈمپل والا منظر آنکھوں کے پردے پر لہرایا،،
تبھی فون رنگ ہوا۔۔۔

بیرونِ ملک کا نمبر تھا۔۔۔اسے حیرت ہوئی،،، مگر جینفر کا سوچ کر اٹھا لیا۔۔۔

یس،،، مگر سامنے سے جو مکروہ آواز سنائی دی تھی اس نے نیناں کے رونگٹے کھڑے کیے تھے۔۔

بھول گئیں کہ یاد کرواؤں کی میں کون بول رہی ہوں لینا زبیر،،،،،، جولی نے مکروہ لہجے میں کیا۔۔

یاد ہے مجھے،،، مگر بھول جانا چاہتی ہوں تمہارے مکروہ اور فریبی چہرے کو ،،،اپنے پیرنٹس کے بیچ رہ کر ،،،اب فون رکھو اور خبردار مجھے کال کی آئیندہ ،،،نیناں غرائی۔۔۔

ہاہاہا،،،، پھر بھی بھول نہیں پاؤ گی لینا،،،، کیونکہ مطربہ شاہ زر سلطان میرے پاس ہے،،، لے کر آیا تھا تمھارا بھائی اسے یہاں ،،،مگر افسوس اس کی حفاظت نہیں کر پایا،،، اب پڑا ہے ٹوٹی ٹانگوں کے ساتھ میرے بیسمنٹ میں۔۔۔

واٹ،،،،، کیا بکواس کر رہی یو تم،،، جھوٹ بول رہی ہو،،، کوئی نئی چال نیا حربہ،،، میں جانتی ہوں،،، وہ چلائی۔۔

نہیں یقین آتا تو اس اپنی وفادار کتیا جینفر سے پوچھ لو،،، جولی نے جینفر کو فون دیا،،،،
ہاں نیناں یہ سچ کہہ رہی ہے،،، جینفر کے الفاظ نہیں ہتھوڑا تھے جو نیناں کی سماعتوں پر بجے تھے۔۔۔

اب غور سے سنو لینا،،، مجھے مطربہ سلطان سے زرا بھی دلچسپی نہیں،،، مجھے تم چاہیے ہو،،، جتنی دیر لگاؤ گی،،، اتنا ہی مطربہ سلطان کی جان و عزت کے لئے خطرہ بڑھے گا،،،،، میں جانتی یوں تم پکی کھلاڑی یو اپنا ویزہ پاسپورٹ ہر پیپر لے کر نکلی تھی یہاں سے،،، اب چپ چاپ ابھی اور اسی وقت وہاں سے نکلو اور لندن کے جہاز میں بیٹھ جاؤ،، ائیرپورٹ پر موجود میرا آدمی تمھیں ٹکٹ دے دے گا،،، سمجھیں
میرے بندوں کی نظر رہے گی تم پر ،،،،،ویر سلطان یا کسی کو بھی بتانے کی گستاخی کی تو مطربہ سلطان کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گی۔۔

جولی نے فون رکھا۔۔۔
نیناں تڑپ گئی اور بال مٹھیوں میں بری طرح جکڑے تھے،،،

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

کلی دل کی اچانک کھل گئی ہے
کوئی کھوئی ہوئی شے مل گئی ہے
یہ کس انداز سے دیکھا ہے تو نے
زمین پیروں تلے سل ہل گئی ہے

مطی اب اس کے روبرو کھڑی اس کی آنکھوں میں دیکھنے میں مصروف تھی۔۔
جو سنجیدگی سے کھڑا مطی کو غور سے دیکھ رہا تھا۔۔

میں نے کہا مارو مجھے،،، ڈائمن ڈیول،،، بلکہ ایسا کرو بیلٹ رکھو اور کوئی تلوار لاؤ،،، جس سے،،،،،،،،

بیری،،،،،، وہ دھاڑا،، اور اس کا بازو پکڑ کر اندر روم میں لے آیا۔۔دونوں بازوؤں سے تھام کر اسے دیوار سے لگایا۔۔
گرفت میں نرمی تھی۔۔مگر آنکھوں میں جنون۔۔

بےبی گرل بھول جاؤ اس روح تک کو تکلیف پہنچانے والے وقت کو،،، اس حادثے کو،،، اس زخم کو،،، جس نے ہمارا سب کچھ چھین لیا ہم سے،، ریکویسٹ ہے ڈمپل گرل پلیز،، میں ڈائمن نہیں اریش ہوں صرف تمھارا اریش۔۔

اریش کی آنکھوں سے آنسو بہے،، چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کر ماتھے سے ماتھا ٹکایا۔۔

وہ جو اس واقعے کا ذکر تک نہیں کرتی تھی،،، اب نارمل ہونے پر خود ہی ذکر کر بیٹھی تھی۔۔
کیونکہ ایک مرتبہ تو بھڑاس نکالنی ہی تھی۔۔

نو ڈائمن ،،تم صرف ایک بے رحم اور سفاک ڈائمن ڈیول ہو،،، کبھی نہیں بھولوں گی،، نا تمھیں بھولنے دوں گی،،
وہ اب اس کے ہاتھ جھٹکتی اس کا گریبان جھنجھوڑ کر بولی تھی۔۔۔کیونکہ اس حادثے نہیں تمھارے اس وار نے میری روح،، میری محبت میرے اعتماد اور بھروسے کا خون کیا تھا،، سب کچھ چھین لیا تھا مجھ سے،، میری کوکھ اجاڑی تھی۔۔ نفرت ہے مجھے تم سے ڈائمن ڈیول،،، نہیں رہنا میں نے تمھارے ساتھ،،، دم گھٹتا ہے میرا،،،، مجھے جب بھی موقع ملا میں یہاں سے بھاگ جاؤں گی۔۔ نہیں رہوں گی تمھارے پاس،، آئی ہیٹ یو،،

وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اب زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔اریش بھی اس کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکا تھا۔۔

مجھے معاف کردو بیری،،، اپنے اس گنہگار کو معاف کر دو،،، میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا،،، ہمیں بھٹکایا گیا تھا،، میں نے اپنی محبت کے ساتھ دھوکہ کیا تو قدرت سے سزا کے طور پر مجھے میرے ہی خون سے دھوکہ ملا،، میرے تو سگے پیرنٹس نے مجھے دھوکہ دیا،،، بیری میں کتنی تکلیف میں ہوں تم نہیں جانتی،،، سب کچھ کھو چکا ہوں میں اب تمھیں نہیں کھونا چاہتا،،، مجھے معاف کر دو۔۔
وہ بھی آج بہت ٹوٹی بکھری حالت میں تھا۔۔
جب بازو کی آستین سے چہرے صاف کرتا باہر نکلا تھا۔۔

باہر وہ اتنی زیادہ ٹھنڈ میں بھی جل رہا تھا،، جب فون رنگ ہوا۔۔
وہ اگنور کر گیا مگر مسلسل چنگھاڑتے فون نے اپنی جانب متوجہ کر ہی لیا۔۔

نمبر دیکھا تو پارکر کا تھا،،جو کہ اس کہ یہاں آنے کے دو دن بعد ہی لندن واپس چکا گیا تھا،،، اریش نے یس کر کے کان کو لگایا۔۔

بولو پارکر،،،

سر بہت بری خبر ہے،،، پارکر کا لہجہ بھیگا ہوا تھا یوں جیسے کہ پتہ نہیں کتنا رویا ہو۔۔۔

بولو پارکر کیا ہوا،،، تم روئے یو،، جلدی بتاؤ مجھے،، اریش پریشان ہوا۔۔

سر وہ زلیل عورت جولی،،، جیل سے بیماری کا ناٹک کر کے ہوسپیٹل گئی،، وہاں سے اس کے بندوں نے اسے فرار کروا لیا،،، اسے پتہ چل گیا کہ جینفر میم لینا کی اور آپ کی وفادار ہے،، اس نے جینفر سے سب کچھ اگلوا لیا،، آپ کے بارے میں بھی اور لینا میم کے بارے میں بھی۔۔

واٹ،،،، آگے بتاؤ پارکر،،، پیشنس نہیں رکھ پا رہا میں،،،

سر اس نے کوئی ایسا جال بچھایا ہے کہ لینا میم خود ہی لندن چلی آئیں،،،شاید یہ پتہ پھینکا ہے مطربہ سلطان اس کے پاس ہے،،،،، آپ کچھ کریں روکیں انھیں،،، کسی بھی طرح

میں کچھ نا کچھ کر لوں گا تم مجھے اور انفارمیشن دو،،،

سر لینا میم سلطانز کی ہی بیٹی ہیں،،، پارکر اسے سب بتاتا گیا،، وہ حیرت سے سنے گیا،،،
اور اب زلیل عورت جولی کو سب سے بڑی تکلیف اور ہار یہی لگ رہی ہے کہ لینا میم اپنے اصل پیرنٹس کے پاس کیوں پہنچ گئی ہے۔۔اسی لئے وہ لینا میم کو مارنے کی سازش کر رہی ہے۔۔

تم بتاو پارکر تم رو کیوں رہے ہو،، تم اور جینفر تو ٹھیک ہو ناں۔۔

سر اس نے جینفر کو بہت ٹارچر کیا،،، وہ اپنا منہ نہیں کھول رہی تھی۔۔مگر اس عورت نے اسے اتنی تکلیف پہنچائی کہ جینفر کو وہ کرنا پڑا جو وہ چاہتی تھی۔۔۔پھر جولی نے میری جینفر کو مار ڈالا۔۔۔وہ ایک مرتبہ پھر رویا۔۔۔ میں وہاں سے بہت مشکل سے بھاگا اور اب یہ انفارمیشن بہت مشکل سے نکلوائی ہے آپ کے لئے ۔۔

اریش کی سینے میں نفرت کا ایک طوفان برپا ہوا تھا جیسے،،،،
پارکر تمھارا یہ احسان میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا ۔۔۔
ٹھیک ہے میں جلد تم سے دوبارہ کونٹیکٹ کرتا ہوں،،،

اریش نے فون رکھا اور جلدی سے اندر کی جانب لپکا،،،
مطی اب بیڈ پر نیم دراز تھی۔۔

بیری ،، وہ مطی کے قریب آیا،،، بہت بڑی گڑبڑ ہو گئی ہے،،

اسے اس قدر پریشان اور گھبرایا دیکھ کر مطی سیدھی ہوئی اور سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔۔
بیری نیناں کی جان و عزت خطرے میں ہے،،،، پھر اریش اسے سب بتاتا چلا گیا۔۔

وہ خالی خالی نگاہوں سے حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی۔۔
تم ویر سلطان کو کال کرو،،،میں نے کہا تو،، میری بات کا اعتبار نہیں کرے گا،،،،، میں چلا جاتا مگر اتنی جلدی یہاں سے نکل نہیں پاؤں گا،، باہر برف باری ہے اور رستے بند ہیں۔۔۔
اریش کی بے چینی قابل دید تھی۔۔

اس نے کال ملا کر فون مطی کو تھمایا،،

ادھر ڈرائیونگ کرتے ہوئے ویر کا فون رنگ ہوا،،، یس کر کے ہینڈ فری کان کو لگائی،،،

یس،،،

ویر،،،،،،، مطی نے پکارا

ویر کو گاڑی کی بریک لگانا پڑی،،،

مطی از دیٹ یو،،،،،؟ کدھر ہو تم جلدی بولو،، پاکستان میں ہی ہو ناں،،، یہ پاکستان کانمبر ہے رائٹ،، جلدی بولو میں،،،، میں تمھیں لینے آؤں،،

ویر کالم ڈاؤن،،، میں جہاں بھی ہوں بلکل سیف اور ٹھیک ہوں،،،میری فکر مت کرو،،،
مطی نے ایک اچٹتی نگاہ سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔۔۔
پر اب جو بول رہی ہوں وہ غور سے سنو،،، نیناں کی جان خطرے میں ہے۔۔

پھر مطی نے ویر کو ساری ڈیٹیلز سنائیں ۔۔۔۔جو کہ اس نے سنتے سنتے اپنی گاڑی سلطان مینشن کی جانب موڑی۔۔۔

اریش کا ایک وفادار آدمی ہے پارکر ،،،،اگر نیناں ،،،،،سلطان مینشن موجود نا ہوئی تو نمبر سینڈ کرتی ہوں تم اس سے کونٹیکٹ کرنا،،

اوکے میں دیکھ لوں گا،،، وہ سکون سے بولا مگر اندر کیسے کیسے طوفان اٹھ رہے تھے یہ تو شاہ ذل سلطان ہی جانتا تھا۔۔
مطی تم ٹھیک ہو ناں،،،

ہاں میں ٹھیک ہوں،،، سلطان مینشن دیکھ کر دوبارہ کال کرنا۔۔

مطی نے فون رکھا،، اور اریش کی جانب بڑھایا۔۔
اریش نے فون تھام کر ایک مرتبہ پھر پارکر کو کال ملائی۔۔
اس کے ایک ایک عمل میں بے چینی دیکھ مطی بھی فکر مند ہوئی تھی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ طوفان بنا سلطان مینشن داخل ہوا تھا۔۔

دماغ جھنجھنا اٹھا تھا ،،،،،اور اب دعا کر رہا تھا کہ نیناں سلطان نے اپنے قدم سلطان مینشن سے باہر نا نکالیں ہوں۔۔
اس کے ہر عمل بے بے چینی اور تڑپ تھی۔۔

دھاڑ سے دھڑک دھڑک کر پاگل ہوتے دل کے ساتھ نیناں کے روم کا دروازہ کھولا۔۔

سانس حلق میں اٹکی۔۔
نیناں،،،، نیناں،،، واش روم کے باہر سے آواز دی ،،،،شاید وہاں کہیں سے نکل کر سامنے کھڑی ہو جائے
ہر وہم اور وسوسہ رد ہو جائے ،،،

مگر وہ تو ظالم تھی،،، ہر مرتبہ،،، ہر بار اس کا ضبط آزماتی تھی۔۔

پورا سلطان مینشن دیکھ لیا،، حاتم مینشن سے بھی خبر لے لی۔۔
مگر وہ کہیں نہیں تھی۔۔

اپنے ڈیڈ کے روم تک آیا،، ہلکی دستک دی،،

یس ،،،کم ان،، شاہ ویر کی آواز آئی،،

اندر آیا،،، پلوشہ تلاوت کر رہی تھی۔۔شاہ ویر بک لئے بیڈ پر نیم دراز تھا۔۔

ڈیڈ میرے میرے ساتھ میرے روم میں آئیں زرا،،، بات کرنی ہے آپ سے۔۔لہجہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا،،
شاہ ویر فوراََ اٹھا۔۔

پلوشہ چونکی،،، شاہ ذل کیا بات ہے۔۔اتنے پریشان کیوں ہو،،

کچھ نہیں مما،،، صبح بات ہوگی۔۔وہ نگاہیں چراتا وہاں سے نکلا۔۔

اپنے روم میں آیا،،، اب اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔۔
شاہ ویر اس کے پیچھے کھڑا اب اسے اپنے چھوٹے سے سفری بیگ میں دو ڈریس اپنے اور دو نیناں کے رکھتے دیکھ رہا تھا۔۔۔

کیا بات ہے جونئیر،،،

آپ کی پاگل بہو ڈیڈ،،، جس نے میرا جینا حرام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہوئی،، میرا چین سکون سب برباد کر کے رکھ دیا ہے،،، ہر بار،،، بار بار مجھے ایسی تکلیف دیتی ہے جس سے میری روح تک کے بخیے ادھڑ جاتے ہیں۔۔۔
اس کی رگیں تنی ہوئی تھیں مگر لہجہ بھیگا ہوا تھا۔۔

اب کیا ہوا؟ کیا کیا اس نے۔۔؟

کدھر ہے وہ کچھ خبر ہے آپ لوگوں کو،،، اس نے جبڑے بھینچ کر کہا۔۔

شاہ ویر چونکا واقعی اس نے کافی دیر سے نیناں کو نہیں دیکھا تھا۔۔

جولی لندن میں جیل سے فرار ہو گئی ہے اور آپ کی بہو کو فون کیا کہ مطی اس کے پاس ہے تو وہ منہ اٹھائے ،،،،،،بغیر مجھے بتائے،،،،،،،،،،، بغیر تصدیق کیے،، بے وقوفون کی طرح منہ اٹھائے چل پڑی ہے مدر ٹریسا بنی اسے بچانے ۔۔۔جبکہ مطی لندن میں نہیں یہیں پاکستان میں ہے۔۔

جونئیر نے شاہ ویر کے پیروں نیچے سے زمین کھینچی۔۔دروازے کے پاس کھڑی پلوشہ کے ہاتھ سے کافی کا کپ زمین پر گر کر چکنا چور ہوا تھا۔۔

پھٹی پھٹی نگاہوں سے شاہ ذل کو دیکھا۔۔
وہ دونوں پلوشہ کی جانب متوجہ ہوئے
شاہ ویر اس کی جانب آیا۔۔اور اس کے کندھوں کے گرد بازو حمائل کیے۔۔

مما تسلی رکھیں،،، کچھ نہیں ہونے دوں گا اسے،،، سہی سلامت واپس لاؤں گا،،، آپ بس حرم مما سے یہ بات چھپانا،،، کہنا ویر لے کر گیا ہے اسے،، کہاں ہمیں بھی نہیں پتہ ،،،،،

وہ کہتا وہاں سے نکلنے لگا۔۔

جونئیر میں بھی چلتا ہوں،،، شاہ ویر پریشانی سے بولا،،

رہنے دیں ڈیڈ،،، آپ اپنی بیوی کو دیکھیں،،، میں اپنے والی کو دیکھ لوں گا۔۔۔

اس نے پلوشہ کی موجودگی میں بوجھل ہوتے ماحول کو زرا ہلکا کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ،،،

پلوشہ بے آواز رو دی تھی۔۔
مما بس دعا کریں،،، سب ٹھیک کر دوں گا میں،،، اور یہ دشمنی اب ہمیشہ کے لئے ختم کر کے لوٹوں گا،،، آئی پرامس،،،

ویر لب کچلتا وہاں سے نکلا تھا۔۔
گاڑی تک پہنچا بیگ بیک سیٹ پر اچھالا،،، ائیر پوڈ کان میں لگایا۔۔
اور گاڑی لے کر فورا نکلا۔۔

مطی نے جو نمبر ایس ایم ایس کیا تھا وہ ڈائل کیا۔۔۔
فورا رسیو کیا گیا۔۔

یس سر میں پارکر بول رہا ہوں آپ ویر سلطان ہیں،،،

یس میں ویر سلطان ہوں،،

جی سر بولیں میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں،،،

بس جو بولوں کرتے جاؤ،،، ویر نے اسے چند ہدایات دے کر فون بند کیا اور کرنل وسیم کو کال کی۔۔
جو کہ رسیو کر لی گئی۔۔۔

ویر نے انھیں ساری صورتحال بتائی۔۔

اوکے ٹھیک ہے آپ کو جو پروٹوکول چاہئے مل جائے گا،،، مگر پاکستان کی بیٹی اور ہماری بہو کو کچھ نہیں ہونا چاہئے،،، اور ایک بات اور اس عورت کا سر کچل کر آنا شاہ ذل سلطان،،اسے میرا آرڈر ہی سمجھ لو،، اس کی پرمیشن میں تمہیں دیتا ہوں،،، مگر اب کی بار وہ بچنی نہیں چاہئے،، کرنل وسیم نے اسے کھلی اجازت دی۔۔

یس سر،،، کہہ کر وہ فون رکھ چکا تھا۔۔

نیناں سلطان،،، اب کی بار تو خود ہی اپنے ہاتھوں سے تمھارا گلا دبا دوں گا تاکہ ایک ہی بار رو لوں تمھیں،،،
اس نے غصے کی انتہا سے سٹیئرنگ پر مکا مار کر اپنا ہاتھ زخمی کیا تھا۔۔

Continue,,,,,,,,,,,

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺