Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

مطی بری طرح ٹوٹی تھی۔۔۔بکھر گئی تھی۔۔
اگلے یہ انتظار کے پندرہ دن اس نے اپنے روم میں رہ کر گزارے تھے۔۔
وہ کاٹیج سے باہر نکلی ہی نہیں ۔۔کچھ طبعیت اتنے دن اس کی بہت خراب رہی،،،،

اریش نے اس سے ملنے کی بارہا بہت کوشش کی مگر وہ اس کے سامنے ناچار آئی ضرور،،،،،،، مگر دوبارہ اس کے ساتھ کہیں نہیں گئی۔۔
وہ ہر طرح سے اسے منانے کی کوشش کرتا رہا ۔۔
اس کے لئے مختلف گفٹس لاتا،،،،

وہ لاکھ تڑپا جھٹپٹایا،،، ناراض بھی ہوا،،، مگر مطی تو خود بکھر چکی تھی اسے کیسے سمیٹتی۔۔۔

اگلے پندرہ دن تک ویر نے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی چپ کو ڈھونڈنے کے لیے۔۔۔
بہت اچھا رزلٹ ملا تھا اسے۔
اب بس وقت آنے پر ایکشن کا کا انتظار تھا۔۔

اس دوران وہ نیناں سے بھی ملتا رہا۔۔یہی ڈیسائیڈ کیا تھا کہ وہ اور آنٹی اس کے ساتھ پاکستان چلیں گیں۔۔

پلاننگ کافی اچھی تھی ۔۔
ویر بہت خوش تھا۔۔آخر اپنی کامیابی اور پہلی محبت کے مل جانے پر کوئی خوش کیوں نا ہوتا۔۔

آخر وہ دن بھی آن پہنچا جب ویر کو خاص سورسز سے پتہ چلا کہ مائکرو چپ ترکی پہنچ چکی ہے،،،

یہ بھی پتہ تھا کب اور کہاں،،، اور اب وہ یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔۔
وہ ازھاد اور نمیرا کاٹیج سے نکلے تھے،،،

مطی کی شدید طبعیت خراب تھی تو ویر نے اسے منع کر دیا تھا ساتھ آنے سے۔۔۔
مگر اسے ڈاکٹر کے پاس جانے کے ضرور بول کر گیا تھا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

دو ہفتے مزید گز گئے مگر شاہ زین کی بے چینی بڑھتی چلی گئی۔۔

رات کے دس بجے شاہ زین اپنے کمرے میں سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا تھا۔۔
کونسٹریٹ نہیں کر پا رہا تھا بلکل بھی۔۔
ایک تو اپنا فون توڑ بیٹھا تھا جس میں اس دشمنِ جاں کا نمبر تھا۔۔
اور اب اتنے دنوں سے سہانا نے کوشش ہی نہیں کی تھی اس سے رابطہ کرنے کی۔۔

وہ جھنجھلایا ،،،،کیا یار میڈم ایس،،، کہاں چھپ گئی ہو جا کر،،
یونی بھی نہیں آئی،، مجھ سے سوری بھی نہیں بولا،، میں بھی سوری بولنے والا تھا۔۔۔
اس نے اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔۔

ادھر سہانا گھر سے چھپ کر نکلی تھی پیپر ہاتھ میں تھے۔۔رکشے میں بیٹھی اور پلان کیے گئے ہوٹل پہنچی۔۔

وہاں مخصوص روم میں جا کر شاہ زین کو کال ملائی۔۔

ادھر شاہ زین نے رات کے دس بجے اپنے فون پر ان سیو نمبر دیکھا تو دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔

دھڑکتے دل سے دوسری بیل پر ہی فون اٹھا کر کان کو لگایا۔۔
مگر سامنے سے جو سنا سلطان مینشن کی چھت جیسے اس کے سر پر گری ہو۔۔

ہیلو،،،

ہیلو شاہ زین،،، ہیلپ می،،،، سہانا بے تحاشا رو رہی تھی۔۔میں بہت بڑی مصیبت میں پھنس گئی ہوں،،،،،

کیا ہوا سہانا مجھے بتاؤ،،؟ کیا ہوا،، وہ فون لے کر کھڑا ہوا۔۔

وہ زین۔۔مم،، میں اپنی فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی میں گرینڈ سٹی ہوٹل آئی تھی،، مگر انھوں نے مجھے ٹریپ کیا،،، اور ایک روم میں بند کر دیا۔۔یہ پتہ نہیں میرے ساتھ کیا،،، شاہ زین آپ جلدی آ جاؤ، وہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔

اوکے میں آتا ہوں،،، روم نمبر،، کونسا ہے،، شاہ زین کی آنکھوں سے جیسے لہو ٹپکنے لگا تھا۔۔رگیں تنی تھی ۔۔غصہ پھر سوا نیزے پر تھا۔۔

روم نمبر 204،،،یہ کہہ کر وہ فون رکھ چکی تھی،، اور جانتی تھی کہ شاہ زین اس کی عزت کی خاطر کسی کو کچھ نہیں بتانے والا۔۔

شاہ زین نے اپنا موبائل،، والٹ اور کیز اٹھائیں اور طوفان بنا سلطان مینشن سے نکلا
سامنے سے شاہ زر اتا دکھائی دیا۔۔

ہیے۔۔۔شیر طوفان بنے کدھر جارہے ہو،،،؟ شاہزر اس کی حالت دیکھ کر چونکا۔۔۔

وہ چھوٹے پاپا فرینڈ کا ایکسڈینٹ ہو گیا ہے ادھر ہی جا رہا ہوں ۔۔وہ کہتا کوئی دوسری بات سنے بغیر گاڑی لے کر نکل آیا تھا۔۔

تم تو میری عزت ہو سہانا،،،، شاہ زین سلطان کی عزت،، کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا تم پر،،، تمھاری طرف بڑھنے والے ہاتھ کاٹ کر پھینک دوں گا۔۔
Ssshhhhiiitttttttttt
اس نے غصے سے چٹختے دماغ سے سٹئرنگ پر ہاتھ مارا۔۔

بہت جلد وہ گاڑی طوفان کی طرح بھگائے ہوٹل پہنچا تھا۔۔ہوٹل پہنچ کر مطلوبہ روم کا پوچھ کر فوراََ قدم فورتھ فلور کی جانب بڑھائے۔۔

لفٹ سے فورتھ فلور آیا،،، اور پاگلوں کی طرح وہ روم ڈھونڈا،، اب اس روم کے باہر کھڑا اس نے غصے سے ڈور دھڑدھڑایا تھا۔۔
مگر روم کا ڈور خود بخود کھلتا چلا گیا۔۔

وہ جلدی سے اندر داخل ہوا۔۔مگر کمرے میں ملگجا سا اندھیرا تھا۔۔

سہانا،،، وہ دھاڑا،، کدھر ہو،،، سامنے آؤ ڈیم اٹ،،،
تبھی دروازے کے پیچھے سے چھپی سہنا باہر آئی تھی اور آکے اس کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔۔

ابھی وہ اس کی آہٹ پاکر پیچھے مڑتا سہانا سیکنڈز میں اس کی گردن میں ایک انجیکشن انجیکٹ کر چکی تھی۔۔

What the he’ll is,,,,,,,,,,,,,,,
انجیکشن کی ڈوز بہت پاور فل تھی۔۔وہ بے ہوش ہوتا بیڈ پر ڈھے گیا تھا۔۔
تبھی سہانا سامنے آئی۔۔

اپنے لئے آپ کی یہ فکر دیکھ کر بہت اچھا لگا شاہ زین،،، مگر میں محبت کے ہاتھوں مجبور ہوں ۔۔۔سہانا نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے،،، اور شرٹ اتار دی۔۔
مجھے یہ سب کرنے کے لئے آپ نے مجبور کیا،،،، اب وہ اس کے شوز اتار رہی تھی،،، اور اس سے ایسے مخاطب تھی جیسے وہ سن رہا تھا۔۔
بڑی مشکل سے اس چھ فٹ دو انچ کو بیڈ پر سیدھا کیا،،، بیڈ کی حالت بگاڑ دی۔۔

سائیڈ ڈرار میں سے وہ پیپر نکالے،، اور ان کے آٹھ دس ٹکڑے کر کے فرش پر پھینکے ۔۔مگر اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ ان پیپر پر موجود وہ نکلی سائن ضرور نظر آتے ہوں۔۔۔

وہ شاہ زین کے قریب آئی،، اور اس کے چہرے پر جھکی،،
ہیے ڈمپل بوائے۔۔
I love you so much,,,,,,,
اس کے ڈمپل کہ جگہ دوبارہ نرمی سے اپنے لب رکھے۔۔

گڈ نائٹ ڈمپل بوائے،، ہیو آ سویٹ ڈریمز،،،،، وہ کہتی اس پر کمفرٹر ڈال کر،،،،،، خود بھی کمفرٹر لے کر صوفے پر گئی۔۔ ارشد کاکا کو کال ملائی۔۔

کال رسیو کی گئی ،،،ارشد کاکا سب پلین کے مطابق ہو گیا اپ بس صبح پاپا کو اور ان کے گھر والوں کو یہاں لے کر وقت پر پہنچ جانا۔۔نہیں آئے تو آپ جانتے ہیں میں کیا کروں گی،،،،،

اس نے دھمکی دینا ضروری سمجھا۔۔

جیسا آپ کہیں گی سہانا بے بی ہم ویسا ہی کریں گے،،، ارشد ڈر گئے ۔۔

اس نے فون بند کیا اور مزے سے سو گئی۔۔
یہ جانے بغیر کہ اپنے اس عمل کی وجہ سے اپنی زندگی کی اگلی راتیں کبھی چین سے سو نہیں پائے گی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

صبح دن کے نو بج چکے تھے۔۔ سہانا اٹھ چکی تھی۔۔وہ کمفرٹر بھی غائب کر دیا جو خود پر اوڑھ رکھا تھا۔۔اب صوفے پر سوتی بن گئی ۔۔

زین کی آنکھ کھلی تو خود کو شرٹ لیس بیڈ پر پایا،،، سر بہت بھاری ہو رہا تھا۔۔اس کے باوجود اسے سب یاد آتا گیا۔۔وہ تڑپ کر بیڈ سے اترا۔۔

سہانا،،، وہ دھاڑا تو وہ ایک فٹ اوپر اچھلی۔۔
وہ تن فن کرتا اس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔۔بازو سے دبوچ کر اسے اپنے روبرو کیا ۔

کیا میں پوچھ سکتا ہوں یہ سب کیا ہے،، اس بے ہودہ بکواس مزاق کا مطلب،،، وہ پھر سے اسی دن کی طرح سرخ چہرہ لئے غصے کی انتہا سے دھاڑ رہا تھا جس سے سہانا سہمی تھی۔۔

اور اب اس نے سہانا کی گردن دبوچی تھی بری طرح ۔۔۔سہانا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔۔
وہ مچلی مگر گرفت چٹانی تھی۔۔

وہ بے تحاشا رو دی ۔۔۔چھوڑیں مجھے،، شاہ زین،، وہ چلائی

رات مجھے کیوں انجیکشن لگایا تم نے،، کیوں بے ہوش کیا،،یہ تو جانتا ہوں ہمارے بیچ کچھ غلط نہیں ہوا مگر اس گھٹیا حرکت کا مقصد،، بولو جلدی کرو کیا مقصد ،،،،،،،،،،،،،

ابھی وہ کچھ اور کہتا جب دروازہ دھاڑ سے کھلا تھا۔۔
اور اپنے تمام گھر والوں کو اور خود پر اٹھتی ان کی نظروں کو دیکھ کر شاہ زین کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی۔۔

ویر،،، شاہ میر،، شاہ زر،، پری،، حرم اور حبہ دم بخود سے یہ منطر دیکھ رہے تھے۔۔اور ان کے ساتھ دو بوڑھی آنکھیں اور جھکے کندھے جو اپنی بیٹی کے ساتھ غلط ہوتے دیکھ رو پڑے تھے۔۔

وہ جس حالت میں کمرے میں تھا،،، بہت کچھ غلط ہونے کا اشارہ تھا،، اوپر سے اب وہ شرٹ لیس سہانا کی گردن دبوچے کھڑا تھا۔۔
ان کو دیکھ کر اس نے جھٹکے سے سہانا کی گردن چھوڑی اور پیچھے ہٹ کر فوراََ اپنی شرٹ پہنی۔۔

سہانا لپک کر اپنے پاپا کے سینے سے لگی تھی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔

شاہ ویر تن فن کرتا اندر آیا اور شاہ زین کو بازو سے دبوچ کر اپنے سامنے کیا۔۔

What the he’ll is going here,,,,,, Shah Zain
ہو کیا رہا ہے؟ چل کیا رہا ہے ادھر،،، وہ دھاڑا۔۔

وہ بڑے پاپا،،، اس نے خونخوار نظروں سے سہانا کو گھورا اور خاموش ہو گیا۔۔
اب اپنی صفائی میں کچھ بھی کہتا تو سب رائیگاں ہی جانا تھا۔

میں نہیں چاہتا کہ یہاں باہر اس ہوٹل میں دو گھروں کی عزت کا تماشا بنے۔۔اسی لئے اب جو بھی بات ہوگی سلطان مینشن میں جا کر ہوگی۔۔

پر بڑے پاپا،،،

شٹ اپ شاہ زین،،،، منہ بند کرو،،، اور چلو یہاں سے۔۔وہ پھر غرایا اور اسے بازو سے گھسیٹ کر باہر لایا۔۔

گاڑیوں میں وہ ہوٹل سے نکل کر سلطان مینشن پہنچے تھے،، اور اب سلطان مینشن کے لاؤنج میں وہ سب تھے۔۔حرم اور میر خاموشی سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے۔۔پھر اس لڑکی کو جو باپ کے سینے سے لگی تھی جس نے رو رو کر اپنی آنکھیں سجا لیں تھیں،،

ویر سہانا کہ پاس گیا اس کے سر پر ہاتھ رکھا،،،، گڑیا بتاؤ مجھے کیا ہوا تھا،،

پر بڑے پاپا،،،، شاہ زین نے آخری کوشش کی۔۔آخر کوئی اس کے کیوں نہیں پوچھ رہا تھا کہ کیا ہوا تھا۔۔اسے دلی صدمہ تھا اس بات کا۔۔

شٹ اپ شاہ زین اس کی بات مکمل ہوئے بغیر اب تم بولو گے نہیں اینڈ دس از مائی آرڈر،،، اب کی بار شاہ میر غرایا تھا اور بیٹے کو غصے سے گھورا،،،
بولو بیٹا۔۔

وہ شاہ زین نے مجھ سے نکاح کیا تھا۔۔۔وہ روتے بولی شاہ زین بھونچکا سا اس پاگل لڑکی کو دیکھنے لگا جس نے اسے بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔۔

پھر وہ مجھے ہوٹل لے کر گئے اور میرے ساتھ،،، وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی،،، شاہ زین صدمے سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا جو اپنی محبت پر ایک سے بڑھ کر ایک الزام لگانے میں مصروف تھی۔۔

پھر صبح میں نے ان سے کہا کہ میں اپنے نہیں آپ کے گھر جاؤں گی تو مجھ سے جھگڑنے لگے کہتے میں تم جیسی لڑکی کو نہیں اپناؤں گا،،،،، نکاح کے پیپر پھاڑ کر پھینک دئیے اور کہنے لگے کہ اب تمھارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تم میری بیوی ہو۔۔
وی سسکتے لرزتے اپنی کہانی سنا رہی تھی۔۔

سب دم بخود سے کھڑے سن رہے تھے۔۔شبیر عثمانی صدمے سے نڈھال صوفے پر ڈھے گئے تھے۔۔

سہانا بےبی یہ کیا کہہ رہی ہو،،،،، شبیر صدمے سے بولے

سہانا کا اپنے پاپا اور شاہ زین کے دکھ صدمے اور شرمندگی سے سرخ ہوئے چہرے دیکھ کر دل جیسے کسی نے پیروں میں کچلا مگر وہ ڈھیٹ بنی رہی اب منزل کے اتنے قریب آ کر قدم کیسے ڈگمگانے دیتی۔۔

حرم شاہ زین کے پاس آئی۔۔
مما پلیز میری بات،،،،،،،

چٹاخ،،،، ایک زناٹے دار تھپڑ تھا جو حال میں گونجا تھا،، جو زندگی میں پہلی مرتبہ حرم نے شاہ زین کو مارا تھا۔۔
شاہ زین تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں،،،

اب بس،،،،،،،، برداشت کی حد ہو گئی تھی۔۔اس پاگل لڑکی کی وجہ سے اس پر فخر کرنے والی ماں نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا،،
جس چیز نے اس کے اندر سوئے ضدی،، جنونی،،،غصے سے پاگل،،، اور درندے سلطان کو جگایا تھا۔۔

اسے تھپڑ پڑتے دیکھ سہانا تڑپ کر آگے آئی۔۔آنٹی پلیز،،،، ہزبینڈ ہیں یہ میرے،، اگر مجھ سے اپنے رویے کی معافی مانگ کر دوبارہ نکاح کریں گے تو میں،،،،،،

اس کی بات بیچ میں ہی رہ گئی جب شاہ زین کی آواز حال میں گونجی۔۔
تنی رگیں،،، لہو ٹپکاتی سرخ آنکھیں اور چہرہ ،،اس نے زور سے مٹھیاں بھینچ رکھیں تھیں

جی مما میں نے کیا ہے اس سے نکاح،،، بیوی ہے یہ میری،،، اور میں اسے اس کا ہر حق دینے کو تیار ہوں،،، سہانا میرے روم میں آؤ،، اب یہ میرا اور میری وائف کا پرسنل میٹر ہے کوئی بیچ میں انٹر فئیر نا کرے،، میں خود سلجھا لوں گا۔۔

شاہ زین کا سرسراتا لہجہ،،،، رگوں میں لہو منجمد کر دینے والا لہجہ۔۔۔

اب حقیقت میں سہانا گڑبڑائی تھی۔۔جب چال الٹی پڑتی نظر آئی۔۔
وہ پھر روئی۔۔

مگر آنٹی نکاح کے پیپر تو پھٹ گئے ،،،اب کون مانے گا اس نکاح کو،، اسی لئے میں کہہ رہی تھی کی دوبارہ سب کے سامنے نکاح،،،

مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں،،، کسی کہ ماننے یا نا ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے جب میں مانتا ہوں،،، اور ہمارے پاس تو گواہ بھی ہیں ناں ڈارلنگ،،، وہ انتہائی تمسخرانہ بولا
سہانا کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی۔۔

مگر،،،

اس سے پہلے وہ کچھ کہتی شاہ زین نے اسے کلائی سے دبوچا تھا،
اور پھر سب کے سامنے وہ اسے لئے اپنے روم کی طرف بڑھا ۔۔

وہ اس کے ساتھ گھسیٹتی چلی جا رہی تھی۔۔رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔۔
چال الٹی پڑ گئی تھی،، شاہ زین نے اتنی جلدی مان لیا اور اسے کچھ کرنے کا موقع نہیں دیا،، اور یہ سب تو اس نے سوچا ہی نا تھا۔۔
اور اب اگر وہ کہتی کہ جھوٹ بول رہی ہے تو سب سے زیادہ انسلٹ تو اس کے پاپا کی ہوتی۔۔

وہ اب سچ مچ روتی اس بندے کا جارحانہ روپ دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اس کا شاہ کے ہاتھوں انجام کیا ہونے والا تھا۔۔

یہ سوچ ہی جسم سے روح کھینچنے کے لئے کافی تھی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

شاہ ویر شبیر کے پاس آیا اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
بھائی صاحب ۔۔۔

وہ رو دیے

میری تو اچھی دعا سلام تھی تم سے شاہ ویر،،، میں تو خود چاہتا تھا کہ میری بیٹی کا رشتہ اس گھر سے سلطانز سے جڑے مگر ایسا کچھ ہو جائے گا سوچا نا تھا۔۔

شبیر عثمانی آپ ایسا سوچتے تھے یہ ہماری خوش نصیبی ہے۔۔ہمارے بچے سے غلطی ہوئی،، ہم معزرت خواہ ہیں،، مگر غلطیاں بھی بچوں سے ہی ہوتی ہیں،،، بڑوں کو معاف کرنا پڑتا ہے۔۔

شاہ ویر میری بچی،،،

اب وہ سلطانز کی عزت ہے،، آپ بے فکر ہو جائیں ،،،ہم اس کا بہت زیادہ خیال رکھیں گے۔۔یہ حرم ہے نان اسے ماں کا پیار دے گی آپ اس طرف سے بلکل بے فکر ہو جائیں،،،

مگر اس طرح شادی،،، شاہ ویر لوگ کیا کہیں گے،، وہ پریشان ہوئے،، میڈیا تک بات ہہنچتی تو ان کی عزت کا تماشا ہی لگنا تھا۔

اس جانب سے بھی بے فکر ہو جائیں آپ،، ابھی بچے اپنے مسئلے مسائل سلجھا لیں تو دھوم دھام سے کریں گے شادی۔

شبیر عثمانی اپنے گھر چلے آئے تھے۔۔بیٹی پر غصہ تھے کہ اتنی بڑی بات ان سے کیوں چھپائی۔۔
مگر اب تو وہ کر چکی تھی نادانی تو اب جب اس کے سسرال والے اسے قبول کر رہے تھے تو وہ کیسے لے آتے اسے اپنے ساتھ

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

مطی نے اپنی خراب ہوئی حالت کے پیش نظر ڈاکٹر کو بلایا تھا۔۔
ڈاکٹر نے اس کا تفصیلی چیک اپ کیا اور جو نیوز ڈاکٹر نے سنائی اس نے مطی کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔

ابھی بمشکل پندرہ دن ہوئے تھے ۔۔اور اس کی حالت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ،،،

گونگریٹس،،، یو آر پریگننٹ۔۔

وہ صدمے سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ڈاکٹر کو دیکھے گئی،،

حیران مت ہوں ۔۔مجھے پتہ ہے آپ اس بات پر حیران ہو رہی ہیں کیونکہ آپ کی پریگنینسی کے بہت ارلی ڈیز چل رہے ہیں،،، یعنی شادی کو بمشکل پندرہ سے بیس دن ہوئے ہیں،، مگر کچھ لڑکیاں ہوتی ہیں جن کی طبعیت ارلی ڈیز میں زیاد خراب ہوتی ہے مگر بعد میں ٹھیک ہو جاتی ہے۔۔

میں کچھ میڈیسنز لکھ کر دے رہی ہوں،، ریگولرلی یوز کریں،، آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔
داکٹر تو چلی گئی مگر اسے نئے سرے سے جی بھر کر رونے کی ایک نئی وجہ دے گئیں ۔۔

اففف میں کیا کروں ۔۔۔یہ کیا ہو گیا میرے ساتھ،،، اور یہ بےبی،،،
اب کیا کروں۔۔۔

اریش کو فون کیا،،، وہ تو انتظار میں تھا،، ہر کام چھوڑ کر فوراً اپنی بیری کے پاس چلا آیا۔۔
اب وہ روئے جا رہی تھی اور اریش کب سے بغور اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔

ہیے کیا ہوا بیری اب بتا بھی دو،، سٹاپ کرائنگ جان،، اریش نے اسے پیار سے پچکارا اور اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔۔

وہ اریش ،،،،،،وہ بےبی،،، میں کیا کروں،،، وہ ہچکیوں کے درمیان اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولی،،،

جب سے اریش اس کے قریب آیا تھا تب سے اس نے بیری کو ہنستے نہیں دیکھا تھا،، اب بھی وہ اس کی بھیگی پلکیں اور سرخ ہوئی ناک دیکھ رہا تھا۔۔

جو اریش کو سمجھ آیا تھا اس نے اریش کے سینے میں خوشی کی کلی سی چٹخائی تھی،،
او کم ان بے بی گرل،،، اگر تم پریگننٹ ہو تو یہ بے بی ہمارا ہے،،، اس میں ٹینشن والی کونسی بات ہے،، اریش جھنجھلایا

مطی نے شکایتی نگاہوں سے اسے گھورا،،،

واٹ،،،، تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ تم اب میرے لئے کیا ہو بیری،، اور یہ بےبی،،، مجھے زندگی کی اب سے بڑی خوشی ملی ہے،، میں دنیا کو آگ لگا دوں گا اگر کسی نے میری اس خوشی کو نظر لگانے کی کوشش کی۔

وہ دعوہ کر رہا تھا یہ جانے بغیر کہ اس خوشی کو وہ بذات خود بے جا دُشمنی میں نظر لگا بیٹھے گا۔۔

اریش میں ڈیڈ کو بتا دوں گی یہ سب،، وہ پھر روئی۔۔۔ڈیڈ کے نام پر اریش کے ماتھے پر بے شمار بل ائے

نو،،،،، نیور،،، آئی مین وہ اتنی دور ہیں کیا کریں گے،، الٹا پریشان ہی ہوں گا،، میں ہینڈل کر لوں گا جان،،، اوکے چلو پاکستان چلتے ہیں ،،،
اریش نے اسے بہلانا چاہا،،

ہان ہمارا کام مکمل ہونے والا ہے تو چلیں گے کل پرسوں تک۔۔۔

کیا مطلب کونسا کام،،، اریش نے پوچھنا چاہا۔۔

اریش میری طبعیت ٹھیک نہیں مجھے آرام کرنا ہے،، پلیز،،، وہ روہانسی ہوئی۔۔

اوکے بیری آرام کرو مجھے بھی کچھ کام ہے،،، یہ کہہ کر وہ اس پہ کمفرٹر دیتا اس کے ماتھے پر دہکتے لب رکھے،،
اور جلدی سے باہر نکلا۔۔

بیری کونسے کام کے مکمل ہونے کی بات کر رہی تھی۔۔
مجھے دیکھنا ہو گا ۔۔۔کہیں وہ ویر سلطان چپ تک نہ پہنچ جائے۔۔

وہ طوفان بنا کاٹیج سے نکلا،،

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺