Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

پھر سے مقتل کو سجاؤ کہ میں زندہ ہوں ابھی
میرے قاتل کو بلاؤ،،،،،،، کہ میں زندہ ہوں ابھی
نفرتیں ساری،،،،،،،،،، میرے واسطے خالص کردو
زہر کاجام پلاؤ،،،،،،،،،،،،،، کہ میں زندہ ہوں ابھی
اتنے معمولی سے،،،،،،،، زخموں سے بنے کیا میرا
زخم کاری سا لگاؤ،،،،،،،، کہ میں زندہ ہوں ابھی

ویر باہر درخت کے تنے پہ بیٹھا بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے اندر اٹھتے غم و غصے اور اشتعال کے طوفان کو اپنے اندر دبانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا تھا۔۔

وہ جو اپنے اصل کی جانب لوٹ کر یہاں گزرا ایک ایک پل بھول جانا چاہتا تھا۔۔وہ پھر چلی آئی تھی۔۔آرا لے کر اس کے دل کو چیرنے۔۔
اس کے دل و روح پہ نئے گھاؤ لگانے۔۔

سوچ سوچ کے پاگل ہو چکا تھا۔۔کیا کرے۔ایک طرف فرض تھا دوسری طرف محبت کی بے وفائی۔۔

فرض کہتا تھا کہ ایک ایسی لڑکی جو بے سہارا ہو چکی تھی۔۔جسے اس کے اپنے بھیڑیوں کے آگے پھینکنے کو کتوں کی طرح ڈھونڈتے پھر رہے تھے،، اسے بچا لیا جائے ۔۔

مگر ادھڑی ریزہ ریزہ ہوئی محبت کہتی تھی اسے یہیں پھینک کر چلا جائے اور زندگی بھر اس کی شکل نا دیکھے۔۔

سوچا نہیں تھا ایک مرتبہ پھر وہ اس طرح سامنے آ جائے گی کہ سانس تک سینے میں الجھا دے گی۔۔

وہ رونا نہیں چاہتا تھا مگر بار بار سرخ آنکھیں بھیگ جاتیں تھیں۔۔
پینٹ کی پاکٹ سے سگریٹ نکالی اور لبوں میں دبا کر سلگائی۔۔اب یہ نیا شغل اپنا لیا تھا اپنی جان کو سگریٹ کے دھویں میں جھونکنے کا۔۔

اندر وہ بھی ہوش میں تھی اور ویر کا ایک ایک لفظ سن چکی تھی۔۔
نمیرا نے اس کی ڈریسنگ کر کے اسے سیدھا کیا۔۔تو آنسوؤں نے گالوں کو بھگو رکھا تھا۔۔
اسے افسوس ہوا۔۔

سنو نمیرا،،، جاؤ تم لوگ،،، دوبارہ حملہ ہو جائے اس سے پہلے نکل جاؤ،،، جاؤ یہاں سے،،،

شٹ اپ نیناں،،، تم نے دیکھا تم نے انھیں کیا سے کیا بنا دیا ہے۔۔سر تو ایسے تھے کہ انھیں اپنے کام میں بس انسانوں کو ٹارچر کرنا ناپسند تھا۔۔چیخوں سے انھیں وحشت ہوتی تھی۔۔مگر رات،،،، رات وہ چیخیں سن کر سکون حاصل کر رہے تھے۔۔درندہ بنا دیا ہے تمھاری چار دن کی سو کالڈ محبت نے انھیں۔۔ پر یو نو واٹ دیکھ لینا وہ پھر بھی تمھیں اس جہنم میں چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔۔
کیونکہ ایک پاکستانی سپاہی ہر بار اپنی ذات سے پہلے اپنے فرض کو آگے رکھتا ہے۔۔

وہ نفرت بھرے لہجے میں بولی۔۔
نیناں پھر سسک پڑی۔۔

مگر ویر کی یہ حالت دیکھ کر وہ رات کو ہی ایک کڑا فیصلہ کر چکی تھی اب اس پر عمل کرنا تھا۔۔

مگر میں خود تم لوگوں کے ساتھ جانے سے انکار کر رہی ہوں۔۔مجھے نہیں جانا،، میں واپس جا رہی ہوں۔۔اپنی حفاظت کر سکتی ہوں۔۔

تبھی ویر روم میں داخل ہوا تھا اور اس کی بات بھی سن چکا تھا اسے سامنے اور اس حالت میں دیکھ کر ایک مرتبہ نیناں کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی تھی ۔۔اور نمیرا دنگ سی ویر کی دگرگوں حالت دیکھ رہی تھی۔۔

چلو یہاں سے نکلنا ہے ہمیں ،،،سب باہر کھڑے ویٹ کر رہے ہیں،، شہباز اور وہ سب دور تک دیکھ کر آئے ہیں کوئی نہیں ہے تعاقب میں ۔۔۔اب چلو،،،
ویر کہہ کر مڑا۔۔

نمیرا نے نیناں کی طرف دیکھا۔۔اور نگاہوں نگاہوں میں اسے اٹھنے کو کہا مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔

سر یہ،،، نمیرا جھجھکی۔۔

نمیرا سب چل رہے ہیں اور اگر کسی نے یہاں رہنا ہے تو بولو کس نے۔۔میں خود اسے شوٹ کردوں گا۔۔وہ غرایا اور باہر نکل گیا۔۔
بڑے سیدھے طریقے سے گھما کر دھمکی دی گئی تھی۔۔

چلو ،،،نمیرا نے کہا۔۔

مگر،،، نیناں اس سے پہلے کچھ کہتی نمیرا نے اسے بازو سے دبوچ کر کھڑا کیا تھا اور ساتھ لئے باہر نکلی۔۔وہ بے بسی کے احساس سے لب کاٹ کر رہ گئی۔۔

پھر وہ وہاں سے نکلے تھے۔۔نیناں کو چلنے میں تکلیف محسوس ہو رہی تھی اور خون بہہ رہا تھا۔۔مگر نمیرا نے اسے گھسیٹے رکھا۔۔
آخر وہ شام ڈھلے بلغاریہ کے بارڈرز پر تھے۔۔

جہاں پر شاہ زل اپنے ڈیڈ کو دیکھ کر اور خود پر قابو نہیں پا سکا اور گلے سے لپٹ کر بے آواز آنسو بہانے لگا۔۔

شاہ ویر سلطان کے ساتھ کچھ سولجرز تھے جو ان کے ساتھ ان لوگوں کو ریسکیو کرنے آئے تھے

ویر نے میرسن میں شاہ زر کو ازھاد کے ساتھ سہی سلامت پاکستان بھیج کر ترکی پولیس اور فوج سے رابطہ کیا تھا ۔
جس سے وہ بہت جلد ایکشن میں آئے اور جولی اور زبیر کو دم دبا کر ترکی سے بھاگنا پڑا۔۔۔
ویر کو غصہ آیا مگر اس سے تو بعد میں نمٹنے کی قسم کھائی پہلے اپنے بیٹے کی فکر لاحق ہوئی۔۔

تب ایک انجان لڑکی نے اس سے رابطہ کیا اور تمام صورتحال بتائی۔۔
پھر اسی نے ویر کو بتایا کہ وہ انھیں فوریسٹ سے بلغاریہ لے کر جا رہی ہے تو وہ سامنے سے پہنچ کر انھیں ریسکیو کریں۔۔

اور اب اس کا بیٹا اس کے سامنے تھا ٹوٹی بکھری حالت میں۔۔اس کے آدمیوں میں اور نمیرا کے علاوہ ایک اور لڑکی تھی جو پیلے زرد چہرے سے خود کو کھڑے رکھنے کی تگ ودو میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔

ویر کو سمجھنے میں دیر نا لگی کہ یہ وہی لڑکی ہے جس نے ان کی مدد کی تھی۔۔

وہ بلغاریہ آیا تھا۔۔اور اب وہ سب محفوظ تھے۔۔

ویر نے اس کی پیٹھ تھپتھپائیں۔۔ہیے جونئیر حوصلہ رکھو یار۔۔

جب اچانک نیناں زمین بوس ہوئی تھی۔۔ جونیئر نے تو پلٹ کر دیکھا بھی نہیں ۔۔نمیرا ہی اس کی جانب لپکی۔۔

وہ سب اب گاڑیوں میں ہوسپیٹل کے لئے نکلے تھے۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

یادوں میں تیری یاد تھی،،،
کیا یاد تھا؟،،، کچھ یاد نہیں
تیری یاد میں سب کچھ بھول گیا
کیا بھول گیا، کچھ یاد نہیں
بس یاد ہوتم،، صرف یاد ہو تم
کیوں یاد ہو تم، کچھ یاد نہیں

بیسمنٹ کے ٹھنڈے فرش پہ بیٹھے اریش کی آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔۔
پاؤن میں لوہے کی زنجیر سے اسے باندھا گیا تھا۔۔ کمر کے گرد بھی زنجیر تھی۔۔
سرخ آنکھیں،،، بکھرا حلیہ،،، بڑھی بئیرڈ،،،،،

اور اسے باندھنے والی کوئی اور نہیں اس کی سگی ماں تھی۔۔کاش وہ پیدا ہوتے ہی مر جاتا تو آج یہ نارسائی کا دکھ،،، پل پل تڑپتے نیم جان ہوتے اپنی کی گئی بے وفائی کا عذاب تو نازل نہیں ہوتا خود پر ۔۔

اگر اس کے بس میں ہوتا تو اپنی بے وفائی پر خون کے آنسو بھی بہا چکا ہوتا۔۔ پچھتاوں کے ناگوں نے ڈس ڈس کر رگوں کو زہریلا اور نیم جان کر دیا تھا۔۔

ہاتھ میں اس وقت وہ بریسلٹ تھی جب اس کی بیری نے اسے غصے سے دھتکارتے خود سے دور پھینکا تھا تب بیری کی کلائی سے نکل کر وہ بریسلٹ اریش کے ہاتھ آ گئی تھی۔۔

اے بےبی گرل،،، تم جانتی ہو تمھارا یہ گناہ گار کس قدر اذیت میں ہے۔۔اگر جانتی تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتی۔۔
اے ڈمپل گرل خدا کے لئے میرے سامنے کہیں سے آ جاؤ،، میں تمھارے قدموں کی خاک بن جاؤں گا۔۔
میری بیری،،،، مگر،،، تم تو وہاں چلی گئی ناں،،،، جہاں سے میں تمھیں چاہ کر بھی واپس نہیں لا سکتا۔۔

وہ بریسلٹ دل کے مقام پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رویا۔۔

فکر مت کرو بیری،،، تمھارا یہ بدنصیب قاتل بھی روز جیتا ہے روز مرتا ہے۔۔ پل پل ایک نئی اذیت نازل ہوتی ہے اس دل پر کہ میں نے وہ چِپ حاصل کرنے کے لئے تم سے دھوکہ کیا۔۔

مگر قسم لے میری محبت کی،، وہ رشتہ جو تم سے قائم کیا وہ دل سے کیا،،، تمھارے قریب آیا تو محبت کی رضامندی سے،، بغیر کسی مقصد کے۔۔ سنو مجھے معاف کر دو گی ناں۔۔وہ بریسلٹ سے یوں مخاطب تھا جیسے کہ سامنے اس کی بیری ہو۔۔

تبھی سیڑھیوں سے آہٹ محسوس ہوئی ۔۔مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔۔
مگر۔۔

سر۔۔اریش سر،، پارکر کی آواز آئی۔۔ایک ضروری خبر ہے آپ کے لئے ،،بہت مشکل سے جولی میم کے بندوں کو ڈاج دے کر یہاں پہنچا ہوں صرف آپ کو یہ بتانے،،،وہ قریب آ کر انگلش میں بولا۔۔

مگر وہ جوں کا توں بیٹھا رہا۔۔بھلا اب کیا خبر اس کے لئے اہم ہو سکتی ہے۔۔

سر ،،،خبر،،،مطربہ اریش زبیر کے بارے ميں ہے،،، اب کی بار پارکر نے اپنی بات پر زور دے کر کہا تو وہ فوراً سیدھا ہوا۔۔پارکر نے مطربہ شاہ زر سلطان کہنے کی بجائے مطربہ اریش زبیر کہا۔۔۔۔اور سرخ سوالیہ روئی ہوئی نگاہیں پارکر کے چہرے پر گاڑھیں۔۔

جلدی بتاؤ۔۔اریش بے چین ہوا۔۔

سر میں نے اپنی ایک وفادار ساتھی کو ہوسپیٹل بھیجا تھا۔۔جب مطربہ کی آخری رسومات چل رہی تھیں تو وہ ایز آ مسلم میت کا آخری دیدار کرنے کو آگے گئی۔۔مگر سلطانز نے کسی کو بھی اس کا چہرہ نہیں دیکھایا۔۔۔حتی کے قبرستان میں کافن میں بھی نہیں،، شیشے کے اوپر پرچم ڈال دیا گیا۔۔اٹس مین کے،،،،

پارکر جان بوجھ کر خاموش ہو گیا۔۔اریش جو بغور اس کی بات سن رہا تھا بولا۔۔

اٹس مین کے سلطانز کچھ چھپا رہے تھے،،، اٹس مین کے آخری رسومات کا وہ ڈرامہ جھوٹا بھی ہو سکتا ہے،، اٹس مین کے میری بیری زندہ بھی ہو سکتی ہے،، اریش کی آنکھوں میں چمک آئی۔۔

اور سر آپ نے یہ کیوں نہیں سوچا ابھی تک کہ اگر وہ شہید ہوتی تو ان کی باڈی پاکستان لے کر جائی جاتی ۔۔جہاں پورے اعزاز کے ساتھ انھیں دفنایا جاتا۔۔یہیں کیوں آخری رسومات ادا کی گئیں۔۔۔
وہ انگلش میں بولتا اس پر سوچوں کے نئے در وا کئے جا رہا تھا۔۔

جب بے تحاشا جوش سے اس کے ہاتھ تھامے۔۔تم نہیں جانتے پارکر تم نے مجھے جینے کی نئی وجہ دے دی۔۔ایک مقصد دے دیا،،
پارکر نکالو مجھے یہاں سے مجھے سچ جاننا ہے،، وہ دھاڑا اور پاؤں کی زنجیر کھینچی۔۔

سر پلیز،،،،، پیشنس رکھیں،،، ہر قدم سوچ سمجھ کر پلین بنا کر اٹھائیں ۔۔اس جولی کا بھروسہ جیتیں کہ آپ کو آپ کی غلطی کا احساس ہو گیا۔۔پھر باہر نکلیں اور اسے اور اس کے نیٹ ورک کو توڑیں ۔۔تب ہی آپ کے گناہوں کا ازالہ ہو پائے گا،،، اس بارے میں آپ سوچیں ،،،ابھی مجھے نکلنا ہوگا اس سے پہلے کہ کوئی آ جائے ۔۔

یہ کہہ کر پارکر جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے واپس چلا گیا مگر پیچھے ایک دیوانے کو جینے کا مقصد دے گیا۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سہانا کی جان سولی پر لٹکی تھی۔۔کیونکہ مسلسل اسے میسجز کر کے پریشان کیا جا رہا تھا۔۔

میسجز کرنے والے کو یہ تک پتا ہوتا کہ وہ اس وقت کہاں ہے،، کیا کر رہی ہے،،، کیا پہنا ہے۔۔
اس کے ہاتھ پاؤں پھولے رہتے۔۔

سوچ سوچ کر پاگل ہو گئی کہ یہ کون ہو سکتا ہے۔۔شاہ زین تو بلکل بھی نہیں وہ تو اس قدر ناراض تھا اس سے۔ شکل تک نہیں دیکھتا تھا اس کی۔۔

سلطان مینشن میں سب سے اسے بہت محبت ملی تھی۔۔ان کا ظرف تھا کہ کسی نے بھی اسے اس کی غلطی پر جتایا نہیں تھا۔۔سب ٹھیک تھا ۔۔مگر ربیع اس سے کم ہی بات کیا کرتی تھی۔۔

آخر اس کا لاڈلا بھائی جو ہرٹ ہوا تھا اس کی وجہ سے۔۔
اب بھی وہ ڈرتی جھجھکتی یونی آئی تھی۔۔

اور اسے کیا معلوم اس کی چہرے کی اڑی رنگت اور ڈرا سہما چہرہ کسی کو کتنا اچھا لگتا تھا۔۔
اب بھی وہ کینٹین،، لائبریری سے بچ کر آج آڈیٹوریم چلی آئی تھی اور اب قدرے ملگجے سے اندھیرے میں پرسکون سی چئیر پر بیٹھی تھی۔۔

کچھ بھی تھا ۔۔چاہے وہ اکیلی تھی مگر یہاں سکون تو تھا ناں
مگر اسی بات نے کسی کو آگ لگائی تھی۔کہ وہ وہاں اکیلی کیوں تھی۔۔۔۔سو وہ چلا آیا اس سے حساب لینے۔۔
فارس کی شرٹ پہن کر منہ پر دو رومال باندھے۔۔تاکہ الائچی کی خوشبو بھانڈا نا پھوڑ دے۔۔

وہ لاپرواہ سی بیٹھی اپنے خیالوں میں کھوئی تھی۔۔جب پاس والی چئیر سے غراہٹ نما سرگوشی سنائی دی۔۔

کیا کر رہی ہو یہاں اکیلی،،،

وہ اچھلی،،، کک، کون،،، اور اٹھ کر بھاگنے والی تھی جب ساتھ بیٹھے شخص نے بازو سے دبوچ کر واپس چئیر پر کھینچا۔ اور اچانک کھڑے ہو کر جھک کر چئیر پر دائیں بائیں بازو رکھ اس کے فرار کا رستہ بند کر دیا۔۔

اس کا چہرہ خوف سے لٹھے کی طرح سفید ہو چکا تھا۔۔شاہ زین نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔بلیک شلوار قمیض کے اوپر بلیک دوپٹہ لئے وہ چاندی کی طرح دمک رہی تھی۔۔۔ مگر یہ طے تھا کہ شاہ زین کو اس سے سرگوشی میں بات کرنی ہوگی نہیں تو وہ اس کی آواز پہچان لیتی۔۔

پھوپھی کا گھر ہے جہاں مزے سے اکیلی بیٹھی مراقبے میں گئی ہوئی ہو،، اگر ابھی میں تمھارے ساتھ کچھ کر دوں تو کسی کے باپ کو بھی پتہ نہیں چلنے والا،، وہ پھر سرگوشی میں غرایا،،
سہانا کو اس کی سنگین غلطی کا احساس ہو چکا تھا۔۔

مم میں،، ایسی غلطی دوبارہ نہیں کک،،،، کروں گی،، جانے دو مجھے،،، سہانا کی پلکیں بھیگ گئی۔۔

ہممم گڈ،،، ایسے ہی میری بات مانتی رہی تو،، ہماری فیوچر لائف بہت مزے کی گزرنے والی ہے،،
سرگوشی نما آواز اس کا دل دہلا رہی تھی،،
سامنے والے کے اس شوشے پر اب واقعی سہانا کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔۔

کک کیا مطلب،،، کک، کون ہیں آپ،، اندھیرے میں وہ دیکھ نہیں پا رہی تھی۔مگر سامنے والا مزید اس کے کان پر جھکا۔۔

دل کو یہ آرزو تھی کوئی دلربا ملے،،،،،،

سہانا کی سانس اٹکی۔۔مگر اب یہ ڈرنے کا وقت تو بلکل بھی نہیں تھا۔۔اسی لئے اس سے الجھ بیٹھی ۔۔

یو ایڈیٹ،،، جو کوئی بھی ہو،، کان کھول کر سنو،، پہلی اور آخری مرتبہ بول رہی ہوں،، دور رہو مجھ سے،، کسی اور سے محبت کرتی ہوں میں سمجھے،،، زرا دلچسپی نہیں مجھے تم میں،،، ایسا غائب کرواؤں،،،،،،،،
وہ دانت پیس کر بولی۔۔۔مگر شاہ زین نے اس کی بات مکمل نہیں ہونے دی۔۔

رئیلی،،، زرا اس سپر مین کا نام تو پتہ چلے مجھے بھی،، وہ رومال کے پیچھے گہرا مسکرایا،،، ٹانگیں توڑ دونگا اس کی،،،

شاہ زین سلطان نام ہے ،،،،اب زرا مرد کے بچے بن کے دکھاؤ اور توڑ کے دکھاؤ ٹانگیں،،، اس سے پہلے میں تمھارا منہ توڑ دوں گی۔۔وہ اس پر جھپٹی۔۔

مگر شاہ زین تیزی سے اس کی کلائیاں تھام چکا تھا۔۔

ارے ارے میری جنگلی بلی،،، مرد کا بچہ تو شادی والے دن بنوں گا،، اور اتنی محبت دوں گا کہ اسے بھول جاؤ گی۔۔ شاہ زین نے چھیڑا

مگر سامنے تو تلووں پر لگی اور سر پر بجھی۔۔لال ٹماٹر چہرہ لئے وہ پھنکاری
یو،،،، گدھے،،، الو کے پٹھے،، ہاتھ چھوڑو پھر بتاتی ہوں تمھیں میں،،،،

اس سے پہلے شاہ زین کو اس کی مزید قوالی سننے کو ملتی شرارت سے رومال کے پیچھے سے لب اس کے ماتھے پر رکھ کر رفو چکر ہو گیا۔۔

پیچھے وہ اس اجنبی کی جرات اور جسارت پر دنگ منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔

یو ،،،،،، االو کا پٹھا۔۔وہ اس کی جرات پر اس کا سر پھاڑنے اس کے پیچھے لپکی۔۔

وہ آڈیٹوریم سے باہر نکلی تھی۔جب بھاگتے کسی کے چوڑے سینے سے ٹکرائی۔۔

What the he’ll,,,,,,,

کیا بدتمیزی ہے یہ،، شاہ زین نے بمشکل سنجیدگی طاری کرتے اس سے پوچھا تو ،،،فوراً باہر نکل کر شرٹ بدلی تھی اور رومال ہٹائے تھے۔۔

آئم سوری،،مم میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا وہ،،،، وہ شاہ زین اندر،،، اندر مجھے کوئی لڑکا پریشان کر رہا تھا۔۔

اور تم اندر کر کیا رہی تھیں،،، زرا وضاحت دو،، وہ دانت پیس کر بولا تو سہانا لاجواب ہو گئی۔۔

آئندہ اس طرف آئیں تو ٹانگیں توڑ دوں تمھاری،،، وہ غراتا وہاں سے جا چکا تھا،،،
دونوں طرف سے اچھی طرح اس کے زہن میں بٹھا کر کے اب اسے ایسے کہیں اکیلے اور تنہا ،،،،،شتر بے مہار نہیں چل پڑنا ہے منہ اٹھا کر۔۔۔۔وہ جا چکا تھا۔۔۔
اففففففف کہاں پھنس گئی۔۔اس نے ماتھا پیٹا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ پاکستان لوٹے تھے۔۔ اور اب ائیرپورٹ کے بینچ پر سر جھکائے بیٹھی نیناں بڑی دیر سے کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔۔۔اور سوچ رہی تھی کہ اسے جانا کہاں ہے۔۔
سکارف اچھی طرح اپنے گرد لپیٹا ہوا تھا۔۔

کیونکہ گولی نکالنے کو پیچھے سے جیکٹ چاک کی گئی تھی۔۔
پھر بلغراد میں جب وہ بے ہوش ہوئی تھی اسے ٹریٹمنٹ دی گئی تھی۔۔

جونیئر کے سب آدمی الودع بول کر جا چکے تھے۔۔جب نمیرا اس کے قریب آئی۔۔۔
چلو۔۔۔نمیرا نے کہا،،،،

کہاں،،، نیناں نے غائب دماغی سے کہا۔۔

مطلب،،، نمیرا کے ماتھے پر بل آئے۔۔

کچھ نہیں ایسا کرو تم لوگ جاؤ اور مجھے یہاں کے کسی اورفنیچ کا ایڈریس دے دو،،، نیناں کاچہرہ سپاٹ تھا۔۔

نمیرا جاؤ تمھارے فادر آ گئے تمھیں رسیو کرنے۔۔

تبھی شاہ ویر سلطان وہاں اس کے پاس آیا تھا،، نمیرا چلی گئی جونئیر کو جا کر گاڑی میں بیٹھنے کو بولا۔۔

خود اس کے پاس بیٹھا،،،، تم میرے ساتھ چلو گی بیٹا،،، شاہ ویر نے سنجیدگی سے کہا۔۔
نیناں اندر تک ہلی۔۔

آپ کو پتا ہے میں نے آپ کے بیٹے کے ساتھ کیا کیا؟ وہ سردو سپاٹ لہجے میں بولی تاکہ سلطانز اسے اس کے حال پر چھوڑ کر بس چلیں جائیں۔۔

اب بس ہو چلی تھی اتنے بڑے دھوکے کے بعد اب اور ان کے احسانات کا بوجھ نہیں لادنا چاہتی تھی اپنے کندھوں پر۔۔کہ اس بوجھ تلے دب کر مر ہی جاتی۔۔

مجھے پتا ہے،،، شاہ ویر اطمینان سے بولا

پھر بھی آپ مجھے ساتھ چلنے کو بول رہے ہیں ۔۔مجھے تو آپ کو شوٹ کر دینا چاہئے۔۔

شاہ ویر مسکرایا۔۔تو نیناں کو پتہ چلا کے اس دشمنِ جاں نے وہ ڈمپل کہاں سے چرایا ہوگا۔۔

سلطانز اپنا انتقام شوٹ کر کے نہیں لیتے،،، شاہ ویر نے لاپروائی سے کہا۔۔

تو کیسے لیتے ہیں،، وہ بھی پوچھ بیٹھی۔۔

اسے چھوڑو،،، وقت آنے پر پتہ چل جائے گا مگر اب تم اس بات پر ایگری کرتی ہوں کہ سب چیزیں تم نے خراب کیں،، تم اس کی زمہ دار ہو،،، شاہ ویر پوچھ بیٹھا۔۔

یس میں قبول کرتی ہوں۔۔۔وہ بے چین سی بولی۔۔

تو پھر تمھیں ہی اس سب کو ٹھیک کرنا ہے رائٹ،،،؟ شاہ ویر نے حسبِ عادت سامنے والے کو باتوں میں الجھایا۔۔

یس مگر کیسے،،،،؟ اس نے شاہ ویر کو دیکھا۔۔

دیکھو بیٹا،،، نا تمھیں معافی لیے بغیر چین آئے گا نا میرے بیٹے کو معاف کیے بغیر،، تو اچھا نہیں ہے تم لوگ جو باتیں بگڑ چکی ہیں ان کو ٹھیک کرو،،، اس سے معافی مانگ کر پھر چاہے جدھر مرضی ہے چلی جانا۔۔شاہ ویر لاپرواہی سے بولا۔۔

پتہ تھا وہ چلی گئی تو اس کے بیٹے کی زندگی چلی جائے گی۔۔ خود کے ساتھ بھی تو بیت چکی تھی۔۔وقتی غصہ تھا،، اس کے بیٹے کا بلکل اسی کی طرح،،، بعد میں پھر مرے گا تڑپے گا۔۔

اب چلو،،،، شاہ ویر کھڑا ہوا

مگر وہ،،، نیناں نے سہم کر کہا،،

کچھ نہیں کہے گا،، ہمارے دو گھر ہے تم دوسرے میں رہنا،، اوکے
اب چلو،،، نیناں کھڑی ہو گئی اور مردہ سے قدموں سے شاہ ویر سلطان کے پیچھے چل دی۔۔

گاڑی تک پہنچے تو وہ فرنٹ پر آنکھیں موندے سیٹ سے سر ٹکائے نیم دراز تھا ۔۔

شاہ ویر نے نیناں کے لئے دروازہ کھولا،، بیٹھو بیٹا،، وہ چپ چاپ بیٹھ گئی مگر وہ ٹس سے مس نا ہوا۔۔
سچ تو یہ تھا وہ اسی جن سے ڈر رہی تھی جس کا اتنا غصیلا روپ دیکھ کر پیلی دفعہ اسے زندگی میں کسی چیز سے اتنا ڈر لگا تھا۔

ویسے بھی اتنے اچانک وہ سب ہو جانا،،، بھائی کا ساتھ چھوٹ جانا۔۔ماں باپ کا یہ روپ۔۔تن تنہا دور دیس آ جانا،، اس کا بری طرح کونفیڈینس بریک ہوا تھا۔۔

سلطان مینشن میں بھونچال آیا تھے۔۔۔وہ سب واپس لوٹے تھے۔۔

ایسی حالت میں۔۔

سب سے زیادہ طوفان حبہ لائی تھی۔۔اور شاہ زر کو اس کو سنبھال پانا مشکل ترین امر ہو گیا تھا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺