Rate this Novel
Episode 1
سلطان مینشن میں اس وقت ہو کا عالم تھا….. رات کے تقریباً آٹھ بجے تھے..
ویر، میر اور شاہ زر سٹڈی میں اپنے کسی ضروری پروجیکٹ میں بزی تھے. …
پلوشہ، حرم اور حبہ اس وقت کچن میں موجود ڈنر کی تیاریوں میں مصروف تھیں ..
پلوشہ اور حبہ کا بری طرح موڈ آف تھا.. وجہ ان کے دونوں بدتمیز بچے تھے
حرم تو صدا کی پرسکون تھی.. کیونکہ اسے ایسی کوئی ٹینشن نہیں تھی…
جب بہت اچانک فضا میں جیسے بھونچال آیا تھا..
ہیوی بائکس کی سناٹا چیرتی آوازیں دور تک گونجیں تھیں… حرم دھیما سا مسکرائی..
باہر ایک ہیوی بائیک سے شاہ زل اور مطربہ اترے اور دوسری سے شاہ زین اور ربیع اترے…
ڈنر تو تیار تھا…. پری اب غصے اور طیش میں کچن سے واک آؤٹ کر چکی تھی.. سیدھے اپنے روم میں چلی گئ..
کچھ ہی دیر میں سلطان مینشن کے لاؤنج میں ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہو چکا تھا..
ویر مجھے آئسکریم کھانی تھی،،،، ،کیوں لائے واپس ابھی،،،، ،مطی چیخی.. سخت موڈ آف ہو چکا تھا.. وہ باہر گھومنے گئے تھے.. مطی کو موقع کا فائدہ اٹھانا آتا تھا..
شاہ زل وارن کر کے لے کر بھی گیا تھا کہ وہ صرف بائیک پہ گھمانے لے جائے گا مگر باہر کچھ بھی کھانا پینا نہیں ہے . مگر مطی نے باہر شور مچا دیا کہ مجھے آئسکریم کھانی ہے وہ زور زبردستی سب کو لے کر واپس آ گیا….
اور اب مطربہ شور مچا رہی تھی…
جس کی شاہ زل کو خاطرخواہ پرواہ نہیں تھی…
ہم عمر تھے بلکل… اسی لئے زیادہ ٹھنتی تھی ان میں.. ہر وقت لڑائی، جھگڑا، دھماکے…
چوبیس سال کے ہو چکے تھے دونوں…. مگر دوستی بھی تو اتنی تھی… دونوں میں
اسی لئے تو دونوں نے ایک ہی فیلڈ چنی تھی اپنے لئے…
باہر وہ جیسے مرضی تھے مگر سلطان مینشن میں ان کے دم سے رونق تھی..
ہر وقت کی نوک جھونک اور تماشے…..
ویر اور پلوشہ کا طوفان… شاہ زل سلطان.
اور شاہ زر اور حبہ کی مطربہ….
رہا،،،، ،شاہ میر اور حرم کا،،،، ،،،شاہ زین،،،، ،،،تو وہ ان دونوں سے دو سال چھوٹا تھا… اگر شاہ زل کا کوئی آپوزیٹ تھا تو وہ شاہ زین سلطان تھا.
جتنا شاہ زل طوفان اتنا ہی شاہ زین بلکل اپنی ماں کی طرح دھیمے، نرم مزاج کا..
یونی میں بھی شاہ زین کو کالم بوائے کہا جاتا تھا.. سمندر کی طرح پر سکون…
پھر شاہ میر اور حرم کی سب سے چھوٹی سولہ سال کی ربیع… جو بھائی کی طرح دھیمے مزاج کی تھی… اسی لئے تو حرم کو سکون تھا…
مگر پلوشہ اور حبہ ان بدتمیزوں کی وجہ سے اتنی ہی بے سکون..
اب بھی وہ بحث رہیں تھے…
شاہ زین اور ربیع ہمیشہ کی طرح بس خاموش تماشائی تھے
کہ حبہ تن فن کرتی کچن سے نکلی.. اسے ہر وقت مطی سے کوئی نا کوئی شکایت ہوتی..
کیا بدتمیزی ہے مطی،،،،،کبھی تو لڑکیوں والے کام کیا کرو،،،،،.. ہر وقت کی بدتمیزی،،،،،،اب جاؤ جا کر فریش ہو کر آؤ،،،، ،
حبہ نے اسے بری طرح جھڑک کر،،، سارے دن کی اس کی حرکتوں سے،، بیزاری کی کوفت نکالی،،، تو اس کا منہ لٹک گیا.…
وہ چپ چاپ اپنے روم میں چلی گئی…
چھوٹی ممی کا گرم مزاج دیکھ کر شاہ زین اور ربیع بھی کھسک چکے تھے..
اب شاہ زل لاؤنج میں اکیلا بیٹھا تھا.. ادھر ادھر نظر دوڑائی… کچن سے حرم باہر آئی..شاہ زل نے آنکھ کے اشارے سے ماں کا پوچھا…
اپنے روم میں،،،، ،،ناراض ہو کر گئیں ہیں،،،، حرم نے بتایا تو شاہ زل نے لبمی سی سانس بھری…
یعنی ایک اور محاذ تیار تھا.. شاہ زل ماں کے کمرے کی طرف گیا..
تبھی سٹڈی سے وہ تینوں باہر آئے…
شاہ زل کو اپنے روم کی طرف جاتے دیکھ شاہ ویر بھی اس کے پیچھے چلا آیا…
کیا ہوا جونیئر،،،، ،،،،،،ویر نے پوچھا..
ڈیڈ یار آپ کی مسز،،،،،،،،شاہ زل جھنجھلایا … ویر کو ہنسی آئی
دونوں روم میں اینٹر ہو چکے تھے
سامنے پری صوفے پر منہ پھلائے بیٹھی تھی… شاہ ویر نے فوراً پینترا بدلا…
یار جونیئر کب سدھرو گے،، ،،،اب تو میں بھی تمھاری ماں کی طرح پریشان ہو چکا ہوں تمھاری ان حرکتوں سے،،،، ،،
شہ زل بھونچکا سا اپنے چالاک ڈیڈ کو شکایتی نظروں سے گھورنے لگا… شاہ ویر نے بڑی مشکل سے قہقہہ ضبط کیا
ڈیڈ پلیز،،،،،اب میں نے کیا کیا؟ مما،،،،،یار،،،
شاہ،،،، ،بول دیں اپنے بیٹے کو مجھ سے بات نا کرے،،،، میں تنگ آ چکی ہو اس کی شکایتوں سے.. ہر وقت کی مار دھاڑ،،،ہر وقت بدتمیزی اور منہ زوری،،،، اور آج مسز انجم پھر شکایت لے کر آئیں تھیں،،،،،،پھر سے پیٹ کے آیا ان کے بیٹے کو،،،،وجہ پوچھیں اس سے،،،،،،
وجہ مما یہ کہ،،،، وہ پھر کسی لڑکی سے بدتمیزی کر رہا تھا،،،،،،اور
چلو ٹھیک،،،، ،،پری ہنوز خفا ہی تھی ویر دلچسپی سے ماں بیٹے کی بحث سن رہا تھا.. ،،،، ،اور وہ جو نیا شوق پالا ہے اس نے،، اس کی وضاحت لیں شاہ اپنے بیٹے سے،،،،،،،
ہاں جونیئر زرا وضاحت دو،،،، ،یہ کیا خبط ہے… مطلب سیریس،،، ،تمھیں اپنے لئے کوئی اور پِیٹ نہیں سوجھا،،،، ،ویر بھی سنجیدہ ہوا..
ڈیڈ شیر ہوں،،،کتے پالتا اچھا لگوں گا،،،،،آپ کے سب سے الگ شیر بیٹے نے اگر سب سے الگ پیٹ بھیڑیا پال لیا تو کیا ہوا،،،،،لائسنس ہے میرے پاس یار… شاہ زل نے ہوا میں بات اڑائی.. اور ویسے بھی میں نے اسے فارم ہاؤس پر رکھا ہے،،،،،،
شاہ زل کوئی کام سیدھا بھی ہے تمھارا،،،، ،پری اب جھنجھلائی
یس مما،،، ،ہے ناں،،، اپنی پری سے دنیا میں سب زیادہ پیار کرنے کا،،،، آپ کو پتہ ہے دنیا میں سب سے زیادہ میں آپ سے پیار کرتا ہوں،،،،، .. شای زل نے پلوشہ کے گرد اپنے بازو حمائل کرتے لاڈ سے کہا جس سے ویر کو ہمیشہ کی طرح آگ لگی..
اے جونیئر،،،، مائنڈ یور لینگویج..غلط فہمی ہے تمھاری کہ دنیا میں پری کو سب سے زیادہ تم پیار کرتے ہو،،،،،کتنی بار کہا ہے یہ صرف میری پری ہے،،، مما بولا کرو،،،، ،،ویر مصنوعی خفگی سے بولا..
او کم آن ڈیڈ… آپ بھی تو دادو کو زیب کہا کرتے تھے.. اور اب تک روپ دادو کو روپ کہتے ہیں تو میں بھی پری بولوں گا،،،، ،،،شاہزل اطمینان سے بولا
پلوشہ کا دل کیا ماتھا پیٹ لے کیونکہ باپ بیٹا پھر شروع ہو چکے تھے اور اکثر ان کی اس بحث میں پلوشہ کو ہی خجالت کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ ویر اپنی بولڈ چلتی زبان کے جوہر اب اس عمر میں بھی…. بیٹے کے سامنے دکھانے سے بھی باز نہیں آتا تھا..
تو یار جونیئر،،،، ،،،پلوشہ کہہ دیا کرو،،،،،پری یہ صرف میری ہے،،، ،اور تمھیں پتہ ہے میں جیلسی فیل کرتا ہوں،،، ویر کا بھی اطمینان قابلِ دید تھا….
میں تو پری ہی بولوں گا،،،، ،شاہ زل کونسا کم تھا… ماں کو چوم لیا…
اب ویر پلوشہ کے قریب آیا تھا.. وہ بوکھلا کر اٹھی…
شاہ چلیں ڈنر پر سب ویٹ کر رہے ہوں گے،،،،،،،،وہ دانت پیس کر بولی… تاکہ ویر اپنی کسی بھی حرکت سے باز رہے…
مگر ویر پلوشہ کے کندھے پر دائیں جانب سے بازو حمائل کر چکا تھا… یار جونیئر اپنے لیے کوئی اور پری ڈھونڈ لو،،،، ،،ویسے بھی جوبیس کے ہو چکے ہو،،، اور فیلڈ میں بھی ہو تو.،،،،،میری پری سے زرا دور رہا کرو،،،، ،
پلوشہ خجل ہوئی… چہرہ لال سرخ ہو گیا.
نو ڈیڈ،،،، ،مجھے تو یہی پری پسند ہے،،،، مجھے نہیں لگتا کی دنیا میں کوئی لڑکی ہے جو شاہ زل سلطان کو جھیل سکے،،،، ،شاہ زل شرارت سے بولتا پلوشہ کے گرد بائیں جانب سے بازو حمائل کرتا بولا…
باپ بیٹا پلوشہ کو تنگ کر کے اس کا موڈ بحال کر کے گہرا مسکرائے… دونوں کے ڈمپل قیامت خیز تھے.
پلوشہ نے دل میں ماشاءاللہ کہا اور نظر اتاری….
وہ تینوں باہر ڈنر کے لئے ایک ساتھ نکلے….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ بیڈ پر منہ لٹکائے بیٹھی تھی… جب ڈور ہلکا سا ناک ہوا….
یس کم ان،،،، ،،،،مطی نے جلے دل سے کہا
دروازہ کھول کر شاہ زر اپنی گڑیا کے پاس مسکراتا آیا… اپنے ڈیڈ کو دیکھ کر وہ کھلی…. اور اٹھ کر ان کے گلے میں جھول گئی
کیا ہوا میری آفت کو؟،،، شاہ زر نے دریافت کرنا چاہا..
یار ڈیڈ،،،، ،پلیز نیو ممی لے آئیں میرے لئے،،،،،وہ اطمینان سے بولی.. جبکہ شاہ زر نے اس کی بات پر قہقہہ لگایا مگر اندر آتی حبہ کو اس کی بات سے تپ چڑھی….
وہ تو مشکل ہے مائی پرنسز،،، ،،،،اسی مما سے کام چلاؤ،،، پر ہوا کیا،،،؟ شاہ زر نے صوفے پر بیٹھتے پوچھا
کچھ نہیں ڈیڈ،،،، ویر کے ساتھ ہیوی بائیک پر گھومنے گئی تھی،،،، ڈانٹ دیا آپ کی مسز نے مجھے،،، اس نے منہ بنایا
نہیں اس نے اس وجہ سے نہیں ڈانٹا،،،، اب کی بار شاہ زر سنجیدہ ہوا…. مطی بھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی.. حبہ پیچھے کھڑی تھی.. ان دونوں کی نظر نہیں پڑی تھی اس پر
حبہ اسی دن سے ناراض ہے تم سے جب سے تم نے اس کی مرضی کے خلاف جا کر جونیئر کے ساتھ ہی وہ فیلڈ جوائن کی.. تم صرف ویر کی وجہ سے،،،، ،،،،،،،
نہیں ڈیڈ،،،، میں نے ویر کی وجہ سے یہ فیلڈ جوائن نہیں کی،،،، یو آر رونگ،،، یہ میری خواہش تھی،،مما پاکستان کی ہر دوسری ماں کی طرح چاہتی ہیں کہ شادی کروں، گھر بساؤں ،، اور
وہ تمھیں کھونے سے ڈرتی ہے پرنسز،،، ،،،ایک ہی تو ہو تم ہمارے پاس،،،، ،،
ڈیڈ اگر پاکستان کی ہر ماں ایسے ڈرے گی تو پھر اس ملک کے سپاہی بزدل پیدا ہوں گے،،،، مطربہ نے سمجھانا چاہا
میں کچھ نہیں جانتی مطی،،،،،تمھیں یہ فیلڈ چھوڑنی پڑے گی،،، میری حالت پر رحم کھاؤ،،،،،،حبہ اب اور آگے بڑھی تھی اور بھیگے لہجے میں بول اٹھی..
مما پلیز،، ،،،مطی جھنجھلائی،،، پلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ می،،، ہمارا ڈیپارٹمنٹ بس کرائم انویسٹگیشن کا ہے اس میں اتنا خطرہ نہیں ہوتا ناں،،، ،،،اس نے ماں کو بہلانے کی کوشش کی
ٹھیک ہے کرو اپنی مرضی،،،، کل کو اگر کچھ ہو گیا تو میں کبھی تمھیں معاف نہیں کروں گی،،،، یاد رکھنا،،،، ،،،وہ کہتی تن فن کرتی وہاں سے جا چکی تھی..
مطی نے بے بسی سے اپنے ڈیڈ کو دیکھا،…..شاہ زر نے اشارے سے اسے سب کچھ ٹھیک ہو جانے کی تسلی دی….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ڈنر پر توقع کے برخلاف کافی خاموشی تھی..
کیونکہ حبہ کی سرخ آنکھیں اس بات کی چغلی کھا رہیں تھیں کہ وہ ابھی ابھی اپنے کمرے سے رو کر نکلی ہے…
شاہ زل اور مطربہ نے آٹھ ماہ پہلے اپنی ٹریننگ مکمل کر کہ یہ فیلڈ جوائن کی تھی..
دنیا کی نظر میں شاہ زل اپنے ڈیڈ اور چاچوؤں کی طرح ایک بزنس مین تھا… صرف گھر والے جانتے تھے کہ وہ
ACP Shah Zal Sultan
ہے.
ان آٹھ ماہ میں وہ تقریباً انیس سے بیس کیس بڑی ذہانت سے سولو کر چکا تھا.. مطربہ اس کے ساتھ تھی…
مطربہ اس فیلڈ میں آ پائی صرف اور صرف اپنے بڑے پاپا ویر،،،، ،،،ڈیڈ اور شاہ زل کی شہہ پر
نہیں تو حبہ نے تو ایڑھی چوٹی کا زور لگایا تھا کہ اس کی بیٹی ایسا نا کر پائے ….. مگر کچھ نہیں کر سکی….
شاہ زین کیمسٹری میں ماسٹرز کر رہا تھا….. جبکہ ربیع ابھی سائنس کے ساتھ میٹرک میں تھی..
سربراہی کرسی پر ویر تھا…
ایک خاموش نظر سب پر ڈالی… پھر شاہ زر کو آنکھوں سے اشارہ کیا….
بیگم کے بگڑے تیور دیکھ کر وہ بھی پریشان سا تھا… آخر ویر ہی بولا
حبہ گڑیا،،،، کیوں اتنی ٹینشن لے رہی ہو،،،، کچھ نہیں ہوگا،،، اللہ تعالیٰ پر اور اپنے بچوں پر بھروسہ رکھو،،،، اوکے شاہ زر اور حبہ ڈنر کے بعد مجھے سٹڈی میں ملو تم دونوں،،،، مجھے ضروری بات کرنی ہے
جی ویر بھیا،،،، حبہ نے خاموشی سے کہا اور اپنی پلیٹ پر جھک گئی…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ سٹڈی ٹیبل پر بکس اور پیپرز پر سر جھکائے بیٹھا مصروف سا تھا.. پاس ہی چئیر پر بیٹھی ربیع نے کب سے اس کے کان کھائے ہوئے تھے..
زین بھیا مجھے سمجھ نہیں آ رہی،، ،،،،،ربیع نے کڑوا سا منہ بنایا،،،، ایک نمیریکل میں کب سے نازک جان جھونک رکھی تھی مگر مجال ہے جو کچھ پلے پڑ رہا ہو
ربیع میں دیکھ رہا ہوں آج آپ کا دھیان سٹڈی میں نہیں ہے،،، شاہ زین جھنجھلایا…
جب ہلکا سا ڈور ناک کر کے میر اور حرم روم میں انٹر ہوئے…
ہیے… کیا ہو رہا شیر،،،، ،،،،میر نے زین کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا… کیونکہ وہ بری طرح ربیع کو گھور رہا تھا……
ڈیڈ کہاں آپ نے اپنی لاڈلی کو سائنس کا مشورہ دے دیا،،،، ،،،کب سے اتنی ڈیٹیلز میں سمجھا رہا ہوں مگر مجال ہے جو یہ سیریس لے رہی ہو،،،،،،،،
ڈیڈ دیکھیں ناں بھیا کو،،،، ،،ربیع نے رونی صورت بنائی
ہاں تو تم بھی تو میرے بیٹے کو پریشان کرنا بند کرو ربیع،،،، ،زرا دماغ استعمال کر لیا کرو،،، حرم اپنے لاڈلے بیٹے کی حمایت میں بول اٹھی…..
جس پر ربیع نے پھر برا سا منہ بنایا تو وہ تینوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے…
اوکے ادھر آؤ میری گڑیا،،،، ،یہ میں تمھیں سمجھاؤں،،، چلو شاباش،،، بھائی کو اپنا پڑھنے دو،،،، میر ، ربیع کو لئے سٹڈی میں چلا گیا..
حرم بیڈ پر بیٹھی تھی… جب شاہ زین اٹھ کر آ کر ماں کی گود میں سر رکھے لیٹ گیا… اور سکون سے آنکھیں موند لیں
کیا ہوا میرا بچہ،،،، آج زیادہ تھک گیا…..
حرم نے اس کے گھنے سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیرا
نو مما،،، ،،بس گڑیا نے بہت دماغ کھایا،،،، ،وہ مسکرا کر بولا.. تو حرم بھی ہنس دی
تو مت پڑھایا کرو،،،،ضروری تو نہیں،،،، اکیڈمی جوائن کر لے گی،،،، حرم نے چھیڑا….
کم آن مما،،،،،اب ایسی بھی کوئی بات نہیں،،،، آپ کو پتہ ہے وہ مجھے کتنی عزیز ہے،،، بس یونہی بول دیا… وہ خواہ مخواہ شرمندہ ہوا تو حرم ہنس پڑی…
میرے جھلے بیٹے مزاق کر رہی تھی،،،،،،حرم نے اس کے کندھے پر چپت رسید کی تو وہ بھی ہنس دیا…..
ایسا ہی تو تھا وہ رشتوں کے معاملے میں بے حد حساس، لونگ کیئرنگ…..
کچھ حرم کی تربیت نے چار چاند لگا دئیے تھے اس کی شخصیت میں…
وہ دکھنے میں ہوبہو اپنے ڈیڈ شاہ میر کی کاپی تھا…اور اخلاق و کردار میں اپنے ماں باپ کی طرح..
وہ خواتین کا بے حد احترام کرتا تھا… یونی میں نگاہیں ہمیشہ نیچی رکھتا.
اسی لڑکی سے بات چیت کر لیتا جو اسے بھائی بول کر مخاطب کرتی…
اکثر اسی بات پر اسے ٹونٹ کیا جاتا…
Mama’s boy
کہا جاتا…مگر اسے متعلق پرواہ نہیں تھی..
اس کی پچھلی زندگی اب تک بلکل کورے کاغذ کی طرح تھی… شفاف بے داغ….
یونی میں اتنے سال کئی لڑکیوں نے اس کی جانب دوستی کے ہاتھ بڑھائے مگر اس کے سرد و سپاٹ تاثر سے کوئی آگے نا بڑھ پائی..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ہائے بیوٹی فل،،،،،،،،،
لندن کے ایک مشہور نائٹ بار میں وہ بے نیازی سے ایک طرف صوفے پر بیٹھی بظاہر ڈرنک کر رہی تھی… پنڈلیوں سے کافی اوپر تک پہنی گرے سکرٹ کے اوپر بلو ٹاپ.. گلے میں پہنا مفلر….
دو آتشہ قیامت خیز حسن…..
جب اس کا شکار خود چل کر اس کے پاس آیا.. اور اس کے آگے ہاتھ بڑھایا..
Hyyyy,,,,,,,,I’m M. Ali and you……
اب لینا کے چہرے پر گہری پراسر سی مسکان تھی..
Hy,,,,, I’m Lina…….
لینا نے اس سے مصافحہ کیا… اس نے گرم جوشی سے لینا کا ہاتھ زرا سا دبایا… لینا نے نے حقارت سے اس کا ہاتھ دیکھا
مگر مسکرائی.
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں،،،،، ،؟
شیور،،،،
اب وہ دونوں قریب بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے…اور جلد ہی دونوں بے تکلف ہو گئے..
جب وہ لینا کہ اور قریب کھسک آیا..
لینا نے اپنا ہاتھ بڑے اعزاز کے ساتھ اس کے سامنے کیا.
اس نے بھی بڑی عقیدت سے ہاتھ تھام کر لینا کے ہاتھ کی پشت کو چوما..
مگر تب ہی بہت اچانک جیسے اس کا سارا جسم پیرالائز ہوا تھا.. وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پا رہا تھا…
اب لینا اس پر جھکی ہوئی تھی اور نائٹ بار میں سب کو بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ ان کے بیچ کچھ ہو رہا ہے.
مگر بہت صفائی سے لینا نے اس کی کوٹ کی اندرونی پاکٹ سے اپنی مطلوبہ چیز نکالی تھی….
وہ خونخوار نگاہوں سے لینا کو گھور رہا تھا.. جب لینا نے حقارت سے ایک آنکھ ونک کی..
You bloody Paki,,,,,,,,,,,,
لہجہ میں حقارت اور نفرت تھی،،،
جیسے پاکستانیوں کے خلاف اس کے ذہن میں جانے کتنا زہر گھولا گیا ہو….
لینا نے وہ چیز اپنی سکرٹ کی پاکٹ میں چھپائی.. اور کچھ ہی دیر میں لڑکھڑاتی اب اپنے ساتھی علی کو کندھے پر سہارا دئیے باہر گاڑی تک لا رہی تھی.
باہر علی کے آدمیوں سے بول کر کہ ان کا سر رات اس کے ساتھ گزارے گے وہ اسے قدرے اندھیرے میں کھڑی اپنی گاڑی تک لا چکی تھی..
گاڑی میں اسے پٹخنے کے انداز میں پھینک کر وہ فریٹ سیٹ پر آئی جہاں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ڈائمن اس کا ویٹ کر رہا تھا..
علی کے آدمیوں کو شاید کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تھا جب وہ ان کی گاڑی کی جانب لپکے..
ڈائمن گاڑی سے باہر نکلا…
مگر لینا کا اطمینان قابل دید تھا چپ چاپ اپنے ہاتھ کی پشت سے وہ زہریلی نقلی سکن احتیاط سے اتاری اور موبائل میں بزی ہو گئی.
پتہ تھا ڈائمن ڈیول کچھ ہی دیر میں ان کو موت کی نیند سلا دے گا.
ہوا بھی یہی… کچھ ہی دیر میں ڈائمن ان کی ہڈی پسلی ایک کر چکا تھا.. کچھ اپنی جان بچا کر بھاگ چکے تھے..
وہ اطمینان سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کی..
لاؤ مجھے دو لینا… ڈائمن نے ہاتھ آگے بڑھایا.
شیور برو… لینا نے اپنی پاکٹ سے وہ پیپر اور پیکٹ نکال کر ڈائمن کو تھمائے…
گاڑی اپنی منزل کی جانب راوں دواں تھی
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
