Rate this Novel
Episode 20
“رحمتو !! آؤ کلیجے سے لگا لو مجھ کــو
جانے پھر کب کوئی مجھ سا گنہگار ملے”
اللهمَّﷺصَلِّﷺوَسَـــلِّمْﷺوَبَارِكﷺْ ﷺنَبِيِّنَـــاﷺمُحمَّدﷺوآلﷺمحمدﷺ
اریش روم میں قرآن پاک اپنے سینے سے لگائے بیٹھا تھا۔۔۔ آنسو تواتر سے گال بھگو رہے تھے۔۔
وہ جانے انجانے کیا کچھ کر چکا تھا اس کا حقیقت کا تدارک روح کو چلھنی کرنے والا تھا۔۔
بے چینی حد سے سوا ہوئی تو قران پاک اٹھایا اور تلاوت کی۔۔انگلش ترجمہ بھی پڑھا پر جب اس آیت پر نظر گزری تو وہ خون کے آنسو رویا تھا
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اَفَمَنۡ يَّمۡشِىۡ مُكِبًّا عَلٰى وَجۡهِهٖۤ اَهۡدٰٓى اَمَّنۡ يَّمۡشِىۡ سَوِيًّا عَلٰى صِراطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ۲۲
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟ ۲۲
Surah Mulk : 22
مگر اب مکافات عمل کا مرحلہ شروع کرنا تھا اسے۔۔ اور یہ پاک اور نیک کام اس کے ہاتھوں ہوگا یہ سوچ دل پہ پڑے گناہوں کے بوجھ کو ہلکا کر گیا۔۔
”درد” کو اُلٹا لکھو یا سیدھا “درد”، “درد” ہی رہتاہے
درد کا پہلا ‘د’ نکال دیں تو ‘رد’ بنتا ہے دوسرا ‘د’ نکال دیں تو ‘در’ بنتا ہےاور بس جان لیں کسی کے ‘در’ سے جب انسان ‘رد’ کر دیا جاتا ہے تو “درد” ملتا ہےاور یہی “درد” انسان کو اس ‘در'(الله) سے جوڑ دیتاہے جہاں سے کوئ بھی’رد’ نہیں ہوتا۔
بس اسے اب اس در کو تھام کر سیدھے رستے پر چلتے ہوئے اپنی فرعون بنی ماں کو شہ مات دینی تھی ظلم و ستم کے پہاڑ جو اس نے توڑ رکھے تھے اس کے ظلم کا گھڑا بھر چکا تھا اس کی ڈھیلی رسی جو کہ اب دراز ہونے والی تھی۔۔
ایک پلین کے تحت اس نے جولی کو شیشہ میں اتارا تھا ۔۔یہ کہہ کر کہ اسے لینا نے بھٹکا دیا تھا۔۔اب وہ وہی کرے گا جو جولی کہے گی۔۔تب وہ اسے بیسمنٹ سے نکال کر اس کے کمرے میں لے آئی۔۔تب بیس دن جولی نے اس پر پل پل نظر رکھوائی تھی۔۔اسے لگا اریش کو پتہ نہیں چلا ہوگا ،،مگر اسے پتہ تھا۔۔بہت اچھی طرح
بیس دن اس نے جولی کے کہے کے مطابق ہر کام کیا اور اب جولی اریش کی جانب سے پھر بے فکر ہو چکی تھی۔۔
تبھی وہ جولی سے بہانا کر کے کہ دو دن گھومنے پھرنے باہر جا رہا ہے ،،،، ترکی چلا آیا۔۔
اب وہ ہوٹل کے روم میں بیٹھا تھا بس رات ہونے کا انتظار تھا آج ایک بہت اہم کرنا تھا اسے۔۔
اس کا انتظار ختم ہوا۔۔
رات کے دو بجے۔۔۔طوفانی رات۔۔۔کڑکتی بجلی. گھپ اندھیرے،،،، میں ایک لمبا چوڑا شخص بلیک رین کوٹ پہنے ترکی کے شہر میرسن کے قبرستان میں بہت خاموشی سے داخل ہوا تھا،،، جس کے کندھے پر پھاؤڑا رکھا تھا۔۔
اس نے گیٹ کھولا تو گیٹ کی بھیانک چرچراہٹ فضا میں گونجی،،،
وہ خاموشی سے قبروں کی قطاروں کے درمیان چلتا رہا،،،پانچ منٹ چلنے کے بعد ایک قبر پر آ کر پاؤں منجمد ہو گئے،،،، چہرے پر اس قدر بھیانک تاثرات تھے کہ خدا کی پناہ،،،
قبر کے سنہری کتبے پر بڑے واضح حروف میں،،،
مطربہ شاہ زر سلطان شہید
لکھا ہوا تھا۔۔۔۔
بیری،،،،،اس شخص کے منہ سے آہ کی صورت لفظ ادا ہوا۔۔
بڑے میکانکی انداز میں وہ پھاؤڑے سے وہ قبر کھودنے لگا۔۔۔
رات کے اس پہر اگر کوئی کمزور دل شخص یہ منظر دیکھتا تو یقیناً ہارٹ فیل کروا بیٹھتا۔۔۔ مگر وہ ڈائمن ڈیول تھا۔۔۔
آدھے گھنٹے کی مشقت کے بعد وہ قبر کھود چکا تھا۔۔۔اور اب وہ براؤن کافن سامنے تھا جس کے شیشے کے پار اگر اس شخص کی بیری کا سکیلٹن ہوتا تو یقیناً وہ اس ارادے سے آیا تھا کہ وہی پھاؤڑا اپنے سر میں مار کر خود بھی اسی کافن میں بیری کے ساتھ دفن ہو جائے گا۔۔۔
مگر وہ گھٹنوں کے بل جھکا۔۔۔ اور غور سے کافن میں دیکھا۔۔
جو کے خالی تھا۔۔۔
. اب اس شخص کے چہرے پر بیک وقت گہری پراسرار مسکراہٹ اور آنکھیں بھیگی ہوئیں تھیں۔۔۔
اوووہہہہہ۔۔نوٹ بیڈ۔۔۔تو میری بیری۔۔۔تمھارے باپ شاہ زر سلطان نے تمھیں مجھ سے چھپانے کے لئے تمھاری موت کا ڈرامہ رچایا۔۔۔
ویسے تو میرے پاس تمھارے بال بھی تھے اگر اس میں کوئی سکیلٹن ہوتا تو میں ڈی این اے کراس چیک کروانے والا تھا پر۔۔
اس نے کافن کھولا۔۔۔پلاسٹک کا وہ پیکٹ باہر نکالا۔۔۔ جس میں کچھ پیپر اور کچھ چیزیں تھیں۔۔۔ وہ پھر پراسرار سا مسکرایا۔۔
میری بیری،،،،دنیا کے کسی کونے میں چھپ جاؤ یہ تمھارا اریش تمھیں ڈھونڈ نکالے گا،،،،،اب اس کی آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔۔
مگر لبوں پر وہی پر اسرار مسکراہٹ تھی۔۔
کیونکہ ہاتھ میں جو روپوٹ پیپر تھا وہ آنسوؤں کا سبب تھا۔۔
بیری،،،تمھیں میرے بچے کو بیچ میں نہیں لانا چاہیے تھا،،، اور سب سے بڑا گناہ تو تم نے یہ کیا کہ اسے میرے ہاتھوں، اس کے باپ کے ہاتھوں مروا دیا،،،،، مگر پھر بھی یہ ڈائمن ڈیول تمھیں اس کی سزا نہیں دے گا،،،، بلکہ اس بار اریش آ رہا ہے،،،
اریش کا عشق
اریش کی محبت،،،
مگر
ڈائمن کا پاگل پن اور جنون ہو تم،،،
تمھارے بغیر یہ دن یہ وقت جانتی ہو میں نے کیسے پل پل مرتے تڑپتے گزارے،، اس خیال سے کہ تم نہیں رہیں،،،
مگر اب
بہت جلد
تمھیں دنیا سے،،،،،تمھارے باپ سے چرانے،،،،ہمیشہ ہمیشہ کیلئے،،،، اپنے پاس رکھنے کے لیے،،، سب سے چھپا کر،،،، ہر نظر سے بچا کر،،،
آ رہا ہے یہ پاگل جنونی دیوانہ،،،،
Just wait and watch.………..
اس کی آنکھوں اور لہجہ میں اس وقت جنون دیوانگی اور وحشت کی انتہا تھی۔۔۔
یوں جیسے وہ اس کے سامنے نا آئی تو وہ مر جائے گا پاگل ہو جائے گا۔۔
وہ اب پرسکون ہوٹل کے لئے نکلا تھا،،، اسی وقت وہاں سے نکل کر ائیرپورٹ پہنچا اور اگلی فلائٹ سے لندن
کچھ اہم کام نمٹا کر اسے اپنی زندگی کے پاس جانا تھا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ویر کھڑکی میں کھڑا اس وقت اپنی وحشتیں شمار کر رہا تھا۔۔جو اسے سامنے کا منظر دیکھ کر ہو رہی تھی۔۔
سگریٹ نکال کر لبوں میں دبائی اور دھواں اڑاتا پھر باہر دیکھنے لگا۔۔
نیچے نیناں کو عجیب سا محسوس ہوا تبھی چئیر سے کھڑے ہوتے ہوئے اس کی نظر اوپر اٹھی تھی۔۔
ویر کے دیکھنے کے انداز نے اس کا چہرہ خوف سے لٹھے کی طرح سفید کیا تھا۔۔
وہ تیز قدموں سے اندر کی جانب بڑھی ۔۔۔ظہان ہکا بکا رہ گیا کہ جو بلانے آیا تھا اس کا بھی ویٹ نہیں کیا اور بھاگ گئی محترمہ،،
ظہان بھی اندر گیا۔۔
ویر بھسم کرنے والے انداز میں وہاں سے ہٹا اور نیچے آیا۔۔
سب کھانے کی ٹیبل پر موجود تھے۔۔
نیناں آ کر پلوشہ کے پہلو میں دبکی بیٹھی تھی۔۔ ہلکی پھلکی گفتگو کے ساتھ کھانا کھایا جا رہا تھا۔۔
دو نازک جانیں تھیں جن کے نوالے حلق میں اٹک رہے تھے۔۔
ایک سہانا،، کیونکہ مسلسل آتے دھمکی بھرے میسجز اسے خوفزدہ کر رہے تھے۔۔
دوسری نیناں جو جلد از جلد شاہ زل سلطان کی بھسم کرتی نظروں سے خائف دور بہت دور بھاگ جانا چاہتی تھی۔۔
مطی بس چپ چاپ کھانا کھا رہی تھی۔۔کھانے کی ٹیبل پر اتنی خاموشی سب کو ہی کھلی تھی۔۔
شاید ڈوریمون اپنے گیجڈ کھو آیا تھا ،،،،
اور چھٹکی اپنے لڈو،،،،
تبھی ربیع کی زبان میں کھجلی ہوئی۔۔
وہ نیناں کے پاس بیٹھی تھی۔۔
نیناں آپی آپ کو پتہ ہے آج سب سے زیادہ کیوٹ آپ لگ رہی ہیں جانتی ہیں مجھے آپ کو دیکھ کر کیا فیل ہو رہا ہے،،، اففف یقین کریں زہن میں آ رہا ہے مگر زبان پر نہیں آ رہا،،، وہ زہن پر زور دیتی روہانسی ہوئی۔۔
A mermaid in blue dress…
ظہان نے اس کی بات مکمل کرتے شوشا چھوڑا۔۔
نیناں نے بری طرح پہلو بدلا۔۔شاہ زل کا دل کیا کھانے کا ٹیبل الٹا کر ہر چیز تہس نہس کر دے۔۔
شاہ ویر سلطان اور پلوشہ نے بیٹے کے تنے اعصاب دیکھے۔۔
رائٹ بلکل وہی،، میں بھی یہی،،،،،،
شٹ اپ ربیع،،، چپ چاپ کھانا کھاؤ،،، شاہ زل نے پہلی مرتبہ اسے بری طرح جھڑکا۔۔
اور ٹیبل سے اٹھ کر لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔
نیناں کا سانس اٹک گیا تھا۔۔جب وہ اٹھا تھا۔۔مضبوطی سے پلوشہ کا بازو تھاما تھا۔۔
پلوشہ نے اس کا خوف نوٹ کیا تھا۔۔
پلوشہ نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی تھی۔۔
گلو خلاصی تو تب ہوئی جب روپ اور حاتم واپسی کا کہتے اسے واپس لئے لوٹے۔۔
مگر اسے کیا معلوم تھا ایک بلا آگے اس کی منتظر ہے اپنی ساری وحشت اور تکلیف کا حساب لینے کے لئے۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
شبیر عثمانی طمانیت سے بھر پور احساس لیے واپس چلے گئے۔۔
شاہ ویر سلطان نے کچھ وقت مانگا تھا پھر شاہ زل اور شاہ زین کی اکھٹی اور دھوم دھام سے شادی کرنے کا کہا تھا۔۔
سہانا اپنے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔
اففففففففف مر گئی تھکن سے چور ہو گئی۔۔اس نے کندھے دبائے۔۔
دوپٹہ سیفٹی پنز سے آزاد کر کے بیڈ پر رکھا۔۔حجاب اتارا۔۔ بس جلدی سے اس ہیوی ڈریس سے آزاد ہونا چاہتی تھی۔۔
اب جیولری میں الجھ رہی تھی۔۔جلدی سے جیولری بھی اتار کر ڈریسنگ سے ڈریس لیا اور فریش ہونے واش روم آئی۔۔
ڈریسنگ ہولڈر سے ڈریس لٹکایا۔۔اور لائٹ جلانے کو ہاتھ بڑھایا۔۔
جب بہت اچانک اس کے بازؤؤں کو جکڑ کر اسے دیوار سے لگایا گیا تھا۔۔
سہانا کے رونگٹے کھڑے ہو گئے چلانے کو منہ کھولنا چاہا جب منہ پر ایک آہنی ہاتھ رکھ کر اس کی آواز بھی بند کر دی گئی تھی۔۔
وہ بری طرح مچلی مگر گرفت بہت سخت تھی۔۔ملگجے اندھیرے میں عجیب حلیہ اور چہرے پہ رومال ۔۔ ایک سرسراتی سرگوشی سنائی دی۔۔
How dare you,,,,,,,,
ہمت کیسے ہوئی تمھاری یہ نکاح کرنے کی۔۔ہاں،، سیدھی طرح جواب دینا چلائی تو سانس بند کردوں گا۔۔وہ غرایا
اس نے آہستگی سے ہاتھ ہٹایا۔۔وہ مچلی ،،،یو پاگل زلیل چھوڑو مجھے،،، یہ تو تم مجھے بتاؤ گے کہ تمھاری جرات کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔۔۔وہ اس کے کان میں چلاتی بپھری شیرنی لگ رہی تھی۔۔
میں اسے مار کر تمھیں بیوہ بنا دوں گا کیونکہ تم صرف میری ہو،،، سامنے والے کا اطمینان قابل دید تھا۔۔
ان سے پہلے میں اپنی جان دے دوں گی زلیل،،،، اور بیوہ ہو گے تم منحوس،،،،
شاہ زین کو اس کی بے سروپا باتوں پر بے تحاشا ہنسی آ رہی تھی مگر ہنسی پی گیا۔۔
میں تمھارا منہ توڑ دوں گی،،، وہ اس کی گرفت میں پھر مچلی۔۔
مگر سامنے والے کی سرگوشی نے اس کے چاروں طبق روشن کیے۔۔
پہلے اپنا منہ تو بچا لو مجھ سے میری جان،، وہ کہہ کر رومال کے پیچھے سے ہی اس کے لبوں پر جھکنے لگا جب اس خیال سے سہانا کی جان نکلی کے اسے کوئی غیر مرد چھونے لگا ہے۔۔
وہ اتنی ہی تیزی سے جھکی اور شاہ زین کے ہاتھ پہ بری طرح دانتوں سے کاٹا۔۔وہ تڑپا ۔۔۔
آؤچ،،،،، میری جنگلی کیٹو،،، گرفت ڈھیلی پڑی تو بجلی کی تیزی سے اس کی گرفت سے نکلی اور روم میں بھاگی۔۔
روم سے باہر نکل کر بھاگی۔۔رات کے تقریباً گیارہ بج چکے تھے۔سب اپنے اپنے روم میں تھے اس کا رخ سیدھا شاہ زین کے روم کی طرف تھا آخر وہ ہی تو تھا اب اس کا محافظ،،،، اج وہ اسے سب بتا دے گی کیونکہ وہ اجنبی اب اس گھر تک اس کے روم تک رسائی حاصل کر چکا تھا ۔۔
شاہ زین نے سہانا کے روم کی کھڑکی سے نکل کر رومال ہٹایا وہی رومال سہانا کا دیا گیا نشان چھپانے کے لئے ہاتھ پہ باندھ لیا۔۔۔شرٹ کے اوپر پہنی شرٹ اتاری اور کھڑکی سے ہی اپنے روم میں آ کر سٹڈی ٹیبل پر بیٹھ گیا۔۔
جب دھاڑ سے دروازہ کھول کر وہ افتاں خیزاں روم میں داخل ہوئی تھی۔
وہ گہرا مسکرایا۔۔مگر مسکراہٹ دبا کر اس کی جانب مڑا۔۔ جب وہ بے تحاشا روتی اس کے کشادہ سینے سے آ لگی۔۔
وہ،،،، وہ شاہ زین،،، وہ میرے ،،،
کیا ہوا سہانا،، بولو،، وہ سنجیدگی سے بولا۔۔اب اس کی دگرگوں حالت دیکھ کر اسے پچھتاوا ہو رہا تھا کیونکہ آج کا مزاق کچھ زیادہ سنگین تھا۔۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سہانا اس کے معاملے میں کتنی حساس ہے۔۔اور سب سے زیادہ اسے اس خیال نے ہرٹ کیا ہوگا کہ اسے کسی غیر نے چھوا۔۔
وہ شاہ،،، زین وہ،، میرے روم میں کوئی ہے،،، بب،،، بہت دنوں سے مجھے پریشان کر رہا ہے۔۔
چلو میرے ساتھ،،، شاہ زین نے نرمی سے اسے خود سے الگ کر کے اس کا ہاتھ تھاما۔۔
اور اسے لئے اس کے روم میں آیا۔۔
سارا گھوم پھر کر دیکھا۔۔
کوئی نہیں ہے یہاں،،، کسی کی اتنی جرات نہیں سلطان ہاوس میں داخل ہو سکے،، تمھارا وہم ہوگا۔۔
وہ نظریں چرا کر بولا اور جانے لگا۔۔
جب سہانا نے اس کا بازو دبوچا۔۔۔
شاہ،،،، زین،، مم،،، مجھے ڈر لگ رہا ہے،،، وہ سسکی۔۔
سہانا چھوڑو مجھے،،، شاہ زین نے دانت پیس کر کہا۔۔دلہن کے روپ میں بغیر دوپٹے کے وہ اس کی ملکیت اس کی محبت اب اس کا ضبط آزمانے پر تلی ہوئی تھی۔۔
شاہ زین آئم سوری،، وہ پھر سسکی۔۔اسے لگا وہ اب تک اسے ناراض ہے اسی لئے اس سے بے رخی برت رہا ہے۔۔
مگر شاہ زین کی تو جان پر بنا گئی تھی وہ۔۔
شاہ زین جانے لگا مگر سہانا کی گرفت اتنی سخت تھی کہ جھٹکا لگنے پر وہ لڑکھڑا گئی تھی۔۔
بہت اچانک ہوا تھا یہ جب وہ اس کے اوپر گری اور شاہ زین لڑکھڑا کر بیڈ پر گرا۔۔
نرم و گداز خوشبوؤں میں بھرا نازک وجود اس کے کشادہ سینے پر گرا تھا۔۔بہت قریب وہ سوں سوں کرتی اس کے جسم و جاں میں بسی تھی۔۔
واٹ سوری،،، نہیں معاف کرو گا میں،،، سزا دوں گا تمھیں،، وہ سنجیدگی سے بولا
مگر نازک کمر کے گرد ہاتھ جیسے خود بخود لپٹائے تھے۔۔
وہ پھر روئی اور آنسو شاہ زین کی گردن میں گرے وہ بڑے غور سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔
میری معافی کتنی امپورٹنٹ ہے تمھارے لئے سہانا بے بی۔۔وہ پوچھ بیٹھا حالانکہ جانتا تھا اچھی طرح۔۔
بب،،، بہت زیادہ ،،،اب اپنی سچویشن اور کنڈیشن کا احساس ہوتے ہی وہ گھبرائی تھی۔۔اور اٹھنے کی کوشش کی۔۔
تو معافی تو سزا کے بعد ملتی ہے۔۔ وہ لاپرواہ سا بولا۔۔۔
مم،،،،،مجھے سزا بھی منظور ہے،،،، وہ ہکلاتی بولی۔۔
تو بھگتو پھر،، شاہ زین نے اس کی گردن کے گرد ہاتھ لپیٹا تھا۔۔اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی۔۔شاہ زین نے اس کے گداز لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لیا تھا۔۔
سہانا نے سختی سے آنکھیں بند کیں،،، اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر دور جانے کی کوشش کی۔۔
مگر آج وہ اسے بخشنے کے موڈ میں ہر گز نہیں تھا۔۔
سہانا کی سانس اٹکنے لگی۔۔
کافی دیر خود کو سیراب کرنے کے بعد اسے سہانا کی غیر ہوتی حالت پر رحم آیا تو پیچھے ہٹا۔۔
نرمی سے اسے خود پر سے ہٹایا۔۔اور فوراََ اس کے کمرے سے چلا آیا۔۔۔
سہانا بری طرح سانس ہموار کرتی اس ظالم کے اس نئے روپ سے خائف تھی۔۔
شاہ زین بھی اپنی صورتحال پر شرمندہ ہوا تھا جو بھی ہوا بلکل بے اختیاری عمل تھا۔۔
افففففففف یہ لڑکی پاگل کر دے گی مجھے۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حاتم مینشن میں گاڑی رکی۔۔ روپ اور حاتم گاڑی سے نکل کر اندر آئے۔۔
پیچھے نیناں بھی آہستگی سے چلتی اندر داخل ہوئی تھی۔۔
اگر آپ لوگ تھکاوٹ محسوس کر رہے ہیں تو میں کافی بنا دیتی ہوں آپ لوگوں کو سٹرونگ سی۔۔ نیناں نے آفر دی۔
بھئی ہم تو چائے پئے گیں بچی ۔۔ اگر اپنے لئے کافی بنانی ہے تو بنا لو۔۔حاتم نے چمک کر کہا
وہ کچن میں آئی ان دنوں میں روپ نے اسے چائے بنانا تو سکھا ہی دی تھی۔۔
چائے رکھ کر وہ کافی پھینٹ رہی تھی جب فون کی بجتی رنگ نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔
یہ فون اسے روپ نے لے کر دیا تھا جس کا نمبر صرف روپ حاتم اور جینیفر کے پاس تھا۔۔
لندن کے پبلک فون بوتھ کا نمبر دیکھ کر اس نے پریشانی سے فون اٹینڈ کیا ۔۔۔
بولو جینفر برو تو ٹھیک ہیں ناں۔۔۔
سر ٹھیک ہیں مگر وہ تمھاری بیغیرت ماں۔۔
شاٹ اپ جینفر ماں نہیں ہے وہ میری۔۔نیناں دھیمے لہجے میں غرائی۔
اوکے سنو وقت نہیں کل وہ پاکستان سے لڑکیاں سمگل کروانے والی ہے مجھے نہیں پتہ کیسے مگر یہ پتہ ہے کہ کہاں سے اور وہ لڑکیاں نہیں پندرہ سولہ سالہ بچیاں ہیں ۔۔ایڈریس سینڈ کر دوں گی ڈیٹلز بتانے کا وقت نہیں۔۔ایک بڑا کنٹینر ہوگا جس میں انھیں سامان میں چھپایا گیا ہے ۔۔یہ انفارمیشن بھی جولی کے کمرے سے چرائی تھی ۔۔ٹیک کئیر بائے
افففف نیناں نے جھر جھری لی ۔۔۔جولی کا اتنا مکروہ چہرا اس کے سامنے آئے گا سوچا نہیں تھا۔۔
وہ عورت تھی کہ ڈائن۔۔
میسج رنگ بجی تو میسج کھول کر دیکھا۔۔۔دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔
ایڈریس تو یہیں السلام آباد کا تھا۔۔ یعنی یہاں سے کنٹینر نکلے گا اور کراچی پہنچ کر شپمنٹ کے ذریعے انھیں سمگل کیا جانے والا تھا۔۔ایسا ہی ہوگا۔۔
اور کوئی زریعہ اسے سمجھ میں نا آیا۔۔
مجھے اس زلیل عورت کو روکنا ہو گا۔۔ان بچیوں کو بچانا ہوگا اور کتنے گھروں کو اجاڑے گی ۔۔کتنی زندگیوں کو برباد کرے گی مکروہ عورت۔۔۔
وہ دانت پیستی مضبوط ارادے باندھ چکی تھی۔۔
ٹرے میں کپس رکھے باہر آئی۔۔روپ اور حاتم کو چائے سرو کی۔۔
گھونٹ گھونٹ کافی کی تلخی محسوس کرتی کل کا پلان بنانے لگی۔۔
وقت کل رات کا ہی تھا۔۔
پینٹ اس کے پاس موجود تھی۔۔کل کو آن لائن بلیک جیکٹ منگوا لوں گی۔۔اور بلیک سکارف۔۔۔یہ ٹھیک ہے۔۔
وہ گہری سوچ میں تھی ۔۔اتنی کہ روپ اور حاتم کب اسے گڈ نائیٹ وش کرتے اپنے روم میں چلے گئے پتا ہی نا چلا۔
وہ گہری سانس بھرتی اٹھی۔۔کپس کچن میں رکھے۔۔
اور اپنے روم کی جانب آئی یہ جانے بغیر اسے کسی کی وحشت نفرت اور تکلیف کا حساب دینا ہے ۔۔۔۔
ابھی اور اسی وقت۔۔۔۔۔۔۔
Continue,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
