Rate this Novel
Episode 27
ویر نے ہر ممکن کوشش کی تھی مطی کو ڈھونڈنے کی مگر ناکام ہوا تھا۔۔
سب کیمرے چیک کیے۔۔
پورے شہر میں ڈھونڈا ۔۔۔
فلائیٹس چیک کیں مگر ناکام ہوا۔۔
اب غصے کی انتہا سے آگ کا گولہ بنا سلطان مینشن آیا تھا۔۔ سامنے ہی لاؤنج میں وہ ظالم ابھی ابھی روپ کے ساتھ حاتم مینشن سے آ کر بیٹھی تھی۔۔
پلوشہ،، حرم اور حبہ بھی وہیں بیٹھی تھیں ۔۔نیناں کو ابھی پتہ چلا تھا کہ اریش آیا تھا اور مطی کو لے گیا۔۔
وہ بھی پریشان ہوئی۔۔
ویر نے لاؤنج میں داخل ہو کر بہت اچانک اسے بازو سے دبوچا تھا۔۔
پلوشہ ارے ارے کرتی رہ گئی مگر وہ اسے لئے اپنے روم میں آیا تھا ۔۔نیناں حیرت زدہ سی تھی کہ اب اس سے کون سی غلطی ہو گئی تھی۔۔
روم میں آ کر اس نے دروازہ لاک کیا تھا۔۔اور جھٹکے سے اسے دیوار سے پن کیا۔۔
تم نے اسے بتایا مطی کا،،، وہ سرخ آنکھوں سے نیناں کی جانب دیکھ کر غرایا۔۔
ستم گر کیا ستم سہنے بھی دو گے
ابھی زندہ مجھے رہنے بھی دو گے
الفاظ تھے کے کوڑے جو ایک مرتبہ پھر وہ اس کی روح پر مارنے آیا تھا۔۔
نو،،، نیناں نے بنا ڈرے ویر سلطان کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا۔۔
مطی کہاں ہے نیناں سلطان بتاؤ مجھے،،،؟ وہ دانت پیس کر بولا
آئی ڈونٹ نو،،،نیناں نے ایک مرتبہ پھر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔۔
تو کسے معلوم ہے نیناں سلطان ،،،،مگر وہ چیک کرنے کے باوجود اس کی ذات کی دھجیاں اڑانے میں مصروف تھا۔۔
چھوڑیں مجھے شاہ زل تکلیف ہو رہی ہے،،،، وہ غصے سے مچلی تھی،،، کیونکہ ویر سلطان کی ہاتھوں کی انگلیاں جیسے لوہے کی طرح بازوؤں میں پیوست ہو رہیں تھیں۔۔
وہ مچلی مگر ویر نے ہھر ایک جھٹکے سے اسے دیوار سے لگایا۔
نہیں پہلے بتاؤ مجھے نیناں ورنہ،،،،،
نو،، وہ اب غصے کی انتہا سے ویر کی آنکھوں میں دیکھ کر غرائی تھی،، کیونکہ اب بس ہو چکی تھی نیناں سلطان کی بھی ،،اندر سے کہیں چپ بیٹھی لینا نے بغاوت کی تھی۔۔
No,,,,,, if I said no,,,,, then it’s means no
میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔۔نا میں اس چیز میں انوالو ہوں،،،،،،، بلکہ آپ تو چیک بھی کروا چکے ہوں گے،،، پھر بھی یقین نہیں تو کراس چیک کر لیں،،، وہ بپھری شیرنی کی طرح غرائی اور بڑی مہارت سے اس کی گرفت سے نکلی۔۔
کیونکہ وہ ایسا کر سکتی تھی،،، مگر جان بوجھ کر نہیں کرتی تھی۔۔
ویر نے اس بپھری شیرنی کو دیکھا،، آنکھوں میں آنسو ماتھے پر ڈھیروں بل،،،
وہ دروازے کی جانب بڑھی تھی۔۔جب ویر نے کلائی سے پکڑ کر پھر اسے اپنی جانب کھینچا،،
نیناں ابھی مجھے بتا دو،،،، بعد میں اگر مجھے پتہ چلا کہ تم زرا سا بھی اس سب میں انوالو تھیں تو،،، چھوڑوں گا نہیں تمھیں میں،،، وہ بھی اب غرایا۔۔
کیا کریں گے آپ،، وہ ویر سلطان کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی،، مار ڈالیں گے،، مار دیں مجھے ،،،، تاکہ آپ کی جان چھوٹ جائے،، وہ روتی بلکی اور اونچی آواز میں بولی۔۔
ویر نے اسے جبڑے سے دبوچا،،، آواز نیچی کرو نیناں سلطان،،، اب تم مجھے غصہ دلا رہی ہو ،، میں تم پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا،،، مگر تم اکسا رہی ہو مجھے،، وہ بھی غصے میں چلایا۔۔
چھوڑیں مجھے،، وہ مچل کر شدید غصے میں پورے زور سے اس کی گرفت اور بازوؤں سے نکلی تھی۔۔
مگر اپنا ہی توازن برقرار نہیں رکھ پائی۔۔
ایک جھٹکے سے کمر کے بل پیچھے پڑے ٹیبل کے پاس گری تھی۔ٹیبل کا شیشے والا کونا اس کی کمر میں پیوست ہوا تھا ایک چیخ اس کے منہ سے نکلی۔۔
بہت اچانک ہوا تھا یہ سب،، ویر شاکڈ سٹیٹ سے نکل کر اس کی چیخ پر اس کی جانب لپکا۔۔اسے فرش سے اٹھانے کے لئے اس کی جانب ہاتھ بڑھائے،،، جو کہ اس نے بے تحاشا روتے ہوئے بری طرح جھٹکے،،
ڈونٹ یو ڈئیر ٹو ٹچ می،،،، وہ پھر چلائی۔۔
ویر کو آگ لگی۔۔یہ جرات کرنے کا تو پرماننٹ ایگریمنٹ ہے میرے پاس ڈئیر وائفی،،،،،،،،ویر نے جارحانہ تیور لئے اسے بازوؤں میں اٹھایا تھا۔۔اور بیڈ پر اتارا تھا۔۔
اتنے ہی غصے سے اسے کمر سے پکڑ کر بیڈ پر اوندھا کیا تھا،، ہاف وائٹ فراک خون کے دھبے سے رنگ چکی تھی۔۔ویر نے بیڈ پر گھٹنے کے بل جھک کر اس کی کمر کی زپ کھولنا چاہی،،،
جب وہ پھر مچل کر اس کی گرفت سے نکلی تھی۔۔اور سیدھی ہو کر کھسک کر بیڈ کراؤن سے جا لگی۔۔
میں آپ کے دیئے گئے زخموں پر خود ہی مرحم لگا لوں گی شاہ زل سلطان ،،آپ زحمت مت کریں،،، وہ منہ پھیر کر بولی۔۔
نیناں اپنی جگہ پر واپس آؤ ابھی کہ ابھی،،، نہیں تو باندھ دوں گا تمھیں آئی سوئیر،،، وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا اب ٹائی گلے سے نکالتا اس کے پیروں کی جانب بڑھا تھا۔۔ غصے کی انتہاء نے اس کا دماغ گھمایا تھا۔۔
جیسے سچ مچ اسے باندھنے کا ارادہ ہو،،،
پری مما،،، وہ بے بسی سے چلائی۔۔
پلوشہ حرم اور حبہ جو کہ کب سے ان کے روم سے آوازیں سن رہیں تھیں ۔۔۔اب پلوشہ کی برداشت نے جواب دیا تھا۔۔
پلوشہ حبہ اور حرم اس کے روم تک آئیں تھیں اور دروازہ کھٹکھٹایا۔۔
جونیئر فوراً دروازہ کھولو،،، حرم نے آواز دی۔۔تو ویر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔۔
وہ اندر داخل ہوئیں تھیں۔۔۔
پلوشہ غصے کہ انتہا سے سرخ ہوئی تھی۔۔نیناں کو سہمے ہوئے بیڈ کراؤن سے لگا دیکھ۔۔
مما میری بات سنیں،،،، ویر نے کہنا چاہا کہ اس نے نیناں کو چوٹ نہیں پہنچائی تھی۔۔
ویر مجھ سے ایک اور تھپڑ نہیں کھانا تو دفع ہو جاؤ یہاں سے،،، پلوشہ نے اپنا غصہ ویر پر نکالا تو وہ لب کچلتا سرخ چہرہ لیے اپنی ماں سے اس عزت افزائی پر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔
نیناں گھٹنوں میں منہ دئیے بے تحاشا رو رہی تھی۔۔جب حرم اور حبہ اس کے قریب آئی حرم نے اسے سینے میں بھینچا تھا۔۔
جب اس کی کمر پر کچھ گیلا سا محسوس ہوا۔۔
ہاتھ آگے کر کے دیکھا تو حرم کو صدمہ لگا۔۔پری آپی اسے چوٹ لگی ہے۔۔
یہ ویر نے کیا،، پلوشہ بے چینی سے اس کے قریب آئی۔۔تو اس نے زور سے نفی میں سر ہلایا۔۔
اچھا ادھر لیٹو،،،، حبہ نے اسے تکیہ پر لٹایا،، اور جونئیر کی الماری سے فرسٹ ایڈ باکس لے آئی۔۔
حرم نے اس کی زپ کھولی،،، پری نے اسے ٹیوب تھمائی۔۔
نیناں نے اسی ظالم کے تکیے میں دوبارہ اپنے آنسو چھپانے کے لئے اپنا منہ دیا۔۔پلوشہ،، حرم اور حبہ اس کے اوپر جھکی ہوئی تھیں
جب تینوں کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی۔۔
سلطان مینشن کی دیواریں ان کے سر پر گری تھیں۔۔حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا۔۔
حرم پوری کی پوری لرز اٹھی تھی۔۔
کیونکہ نیناں کی کمر پر کندھے کے نیچے جو انھیں برتھ مارک نظر آیا تھا۔۔ وہ تو حرم کی مر چکی بیٹی ربیع کا تھا۔۔
پری نے جیسے تیسے اس کے زخم پر آئٹنمنٹ لگایا تھا۔۔۔
حرم تو لٹھے کی طرح سفید چہرہ لئے بس اس نازک لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔۔جو بے آواز آنسو بہانے میں مصروف تھی۔۔
نیناں ،،،پری نے تڑپ کر اسے پکارا اور سیدھا کیا۔۔۔ نیناں کو حیرت ہوئی۔۔
حرم نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر سیدھا کر کے جھنجھوڑا۔۔
نیناں تم جولی کی بیٹی نہیں ہو تو کس کی بیٹی ہو،،، کہہ کر اسے سینے میں بھینچا تھا حرم نے،،،،
نیناں کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔۔
پلوشہ نے شاہ ویر کو فون کیا تھا اور انھیں فوراً گھر واپس آنے کو کہا تھا۔۔۔
شاہ ویر پوچھتا رہ گیا کہ کیا بات ہے مگر اس نے فون رکھ دیا تھا کیونکہ حرم کی طبعیت خراب ہونے لگی تھی۔۔
نیناں حیران پریشان سی ان تینوں کو روتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
جب تک شاہ ویر میر اور شاہ زر گھر پہنچے تھے۔۔۔حرم دکھ صدمے کی کیفیت سے دوچار اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی۔۔
وہ بہت بری طرح گھبرائے تھے۔۔۔میر کو تو ہاتھ پاؤں پڑ گئے تھے۔۔
ڈاکٹر کو فوراً بلایا گیا تھا۔۔
کچھ دیر بعد حرم کی طبعیت کچھ سنبھلی تھی۔۔وہ بے تحاشا روتی ہوئی بمشکل اٹھی تھی۔۔اور میر کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑا تھا۔۔
میر میری ربیع کہاں ہے،،،؟ اس سوال پر میر نے حیرت سے حرم کو دیکھا تھا۔۔
تمھارے پاس ہے حرم یہ کیسی باتیں،،،،
بس کریں میر،،، جھوٹ بولنا بند کریں مجھ سے،،، اور حقیقت بتائیں مجھے۔۔حرم نے پھر میر کو جھنجھوڑا۔۔
شاہ میر پلوشہ کی جانب بڑھا۔۔پری تم مجھے بتاؤ آخر بات کیا ہے،،، ہوا کیا ہے،،،؟ وہ سنجیدگی سے بولا،،
تو پری نے ساری بات شاہ ویر کو بتا دی۔۔
اب تینوں بھائیوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔ایسے جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔
جبکہ شاہ ویر سوچ رہا تھا کہ یہ بات اس نے پہلے کیوں نہیں سوچی کہ اگر نیناں جولی کی بیٹی نہیں ہے تو ان کا خون،،،
میر کی ربیع ہو سکتی ہے کیونکہ
وہ فلیش بیک میں گیا۔۔اور ان سب کو حقیقت بتاتا چلا گیا۔۔
بائیس سال پہلے اتفاقا مطی اور ربیع دونوں شدید بیمار ہوئیں تھیں۔۔۔
حرم پھر سے پریگننٹ تھی اور اس کی طبعیت خراب تھی۔۔پری اور حبہ اس کے پاس تھیں۔۔
میر،،،، شاہ زر اور شاہ ویر بچیوں کو ہوسپیٹل لے کر گئے تھے۔۔
تبھی ایک سازش کے تحت ہوسپٹل پر حملہ ہوا تھا،،، آگ لگا کر فائرنگ کی گئی تھی۔۔
ٹارگٹ تو شاہ زر اور اس کی بیٹی تھی مگر اس حادثے میں کئی معصوموں کی جان گئی تھی۔۔
انھوں نے وہاں سے نکلنا چاہا۔۔ جب کئی آدمیوں نے ان کے سر پر گن تانی تھیں۔۔۔
تبھی جولی وہاں آن دھمکی تھی۔۔
مکروہ قہقہے لگاتی وہ پاگل عورت ایک مرتبہ پھر ان پر کاری وار کرنے آئی تھی۔۔
اس وقت اتفاقا شاہ ویر کی گود میں مطی اور شاہ زر کی گود میں ربیع تھی۔۔جب جولی کے بندوں نے شاہ زر کی گود میں سے ربیع کو چھینا تھا ۔۔
شاہ زر نے تڑپ کر کچھ بولنا چاہا جب میر نے اسے مضبوطی سے دبوچ لیا تھا۔۔
جولی نے انہیں جانی و مالی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔۔بلکہ ان کے دلوں کو کچلا تھا۔۔
وہ اپنے مکروہ عزائم بتانے لگی۔۔
ساری زندگی اپنی اولاد کے لئے ترسو گے شاہ زر،،،، تڑپو گے اور میں اسے ہی تم لوگوں کے خلاف ایک ایسا زہر میں بجھا ہتھیار بنا دوں گی جو تمھاری جڑیں کھوکھلی کر دیں گی۔۔۔تباہ برباد کر دے گی سلطانز کو،،، ہاہاہا، ہاہاہا
وہ دھول اڑاتی میر کے جگر کا ٹکڑا لیے وہاں سے جا چکی تھی۔۔شاہ زر بہت مچلا تھا مگر میر نے اسے بولنے نہیں دیا تھا۔۔
وہ تبھی گھٹنوں کے بل زمین پر گر کر پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا۔۔
شاہ ویر بھی یہاں آ کر بے بس تھا کیونکہ گن پوائنٹ پر وہ خود ہوتا تو موت سے بھی بھڑ جاتا مگر سامنے اس کے بھائی اور اس کی گود میں شاہ زر کی ننھی سی جان اس کی گڑیا تھی۔۔۔
میر بھی شاہ زر کے گلے لگ کر بہت رویا تھا۔۔
تبھی ہوسپیٹل سے ایک لاوارث جلی ہوئی بچی وہ گھر لے کر گئے تھے۔۔جسے ربیع کا نام دے کر سپرد خاک کر دیا گیا تھا۔۔نہیں تو حرم نے مر جانا تھا اس نازک حالت میں،،، مرے ہوؤں کو بہت جلد صبر آ جاتا ہے مگر جو کھو جائیں ان کا صبر ساری زندگی نہیں آتا۔۔
مگر حرم کو جانے کیوں یقین نہیں آیا تھا کہ اس کی بچی مر چکی ہے،،، نا صبر آیا تھا۔۔
ایک کہرام ایک قیامت برپا ہوئی تھی سلطان مینشن میں۔۔
شاہ ویر سلطان نے زمین آسمان ایک کر دیا تھا،، مگر جولی کو جانے زمین کھا گئی تھی کہ آسمان،،،
شاہ ویر نے لندن بھی سارا چھان مارا تھا مگر نہیں جانتا تھا وہ مکار عورت ربیع کو لے کر انڈیا بھاگ چکی ہے۔۔اور زبیر کے پاس ہے۔۔
وقت گزرتا گیا،،، سب کو صبر آ گیا تھا سوائے میر کو،،، وہ رات کے اندھیروں میں چھپ کر اپنی پری کے لئے بہت رویا تھا۔۔
میر بھی اب روتے ہوئے سر جھکائے حرم کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا تھا،،، نیناں حیرت سے پھٹی آنکھوں سے وہ سب سن رہی تھی،،
اور بے حد شاکی اور پر شکوہ نگاہوں سے اپنے پاپا کو دیکھ رہی تھی جنھوں نے بھائی کی بیٹی کو بچانے کے لئے اپنی بیٹی کو بلی چڑھا دیا تھا۔۔
حرم ایک مرتبہ پھر سن کر زمین پر ڈھے سی گئی تھی جب نیناں بے تحاشہ روتی پھر اپنی ماں کی آغوش میں چھپی تھی۔۔
حبہ اور شاہ زر بھی رو دئے تھے۔۔
شاہ ویر حیرت زدہ سا نیناں کو دیکھ رہا تھا۔۔
پلوشہ نے سجدہ شکر ادا کیا تھا۔۔
میر تڑپ کر روتے ہوئے اپنی گڑیا کی جانب بڑھا تھا،،،
میری گڑیا ،،،،میری بچی،،،،میر نے اسے پکڑ کر اپنے سینے میں بھینچ کر اپنی کھوئی پری کو محسوس کرنا چاہا کہ وہ زندہ ہے سہی سلامت اپنوں میں لوٹ آئی ہے۔۔
مگر نیناں نے حرم کے سینے میں منہ دے کر اپنے پاپا سے ناراضگی سے منہ موڑا تھا۔۔
کاش کہہ سکتی کہ اب کیوں تڑپے ہیں،، اس وقت کیوں نا بچا پائے
میر نے اپنی بچی کی ناراضگی دل کی گہرائیوں تک محسوس کی تھی۔۔
مگر گیا وقت سوکھی ریت کی طرح مٹھی سے پھسل چکا تھا۔۔جو لوٹ کر نہیں آنے والا تھا۔۔
مگر قدرت نے یہ ایک مہربانی کی تھی کہ سلطان مینشن کی بیٹی کسی طرح بھی سہی ان میں سہی سلامت لوٹ آئی تھی۔۔
رات کا وقت تھا نیناں حرم کی گود میں ہی منہ دئے لیٹی رہی۔۔
سب رو رو کر سنبھل چکے تھے۔۔مگر ان ماں بیٹی کا غم غلط ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔اب تو شاہ زین اور ربیع بھی نیناں اور حرم کے ساتھ لگے بیٹھے تھے۔۔
حرم اور نیناں دونوں شاہ میر سے ناراض ہوئیں تھیں۔۔وہ بہت بے چین تھا۔۔
مگر ابھی غم تازہ تھا اس لیے اس نے ماں بیٹی کو چھیڑنا مناسب نا سمجھا۔۔
مگر شاہ ویر سلطان نے ایک بہت اہم کام ضرور کیا تھا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رات کا وقت تھا وہ کھڑکی سے لگی کھڑی تھی۔۔
سارا دن اریش اس کے آگے پیچھے پھرتا رہا مگر دوبارہ مطی نے اس سے بات ہی نہیں کی تھی۔۔
تبھی وہ پھر روم میں ایک بڑی سی ٹرے لئے آیا۔۔
آؤ بیری کھانا کھا لو،،،، وہ سنجیدگی سے بولا،، مگر وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوئی۔۔
وہ ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اس کی جانب آیا۔ ہیے بے بی گرل چلو یار بھوک لگی ہے،، وہ نرمی سے بولا۔۔
مطی نے پھر اگنور کیا،، مگر اب کی بار اریش نے اس کی ویسٹ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
جس سے وہ اپنی جگہ سے اچھلی۔۔
کیا تکلیف ہے دور رہو مجھ سے،،، وہ غرائی،، نہیں کھانا مجھے کچھ بھی،، بھوک لگی ہے تو خود کھا لو،،،
انداز ایسا تھا جیسے کہنا چاہتی ہو،، بھوک لگی ہے تو خود ٹھونس لو۔۔
نو بیری،،، جب تک تم نہیں کھاؤ گی میرے حلق سے بھی نوالہ نیچے نہیں اترے گا۔۔اور ویسے بھی تم نے میڈیسنز بھی لینی ہے کھانا کھا کر۔۔۔
اب کی بار قریب آ کر اس نے مطی کی کمر کے گرد بازو حمائل کرنے کی کوشش کی تھی۔۔
وہ پھر بدکی۔۔کیا بدتمیزی ہے،، دور ہٹو،، وہ چلائی
بے بی گرل ،،،جب تک کھانا نہیں کھاؤ گی میں تمھیں ایسے ہی پریشان کرتا رہوں گا،، اسی لئے جلدی سے کھانا کھا کر میڈیسن لے کر سکون سے لیٹ جاؤ اگر مزید پریشان نہیں ہونا،، اریش نے اس کی نرم و گداز گال سہلاتے اطمینان سے بولا۔۔۔۔
مطی نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور اس فضول آدمی سے اپنی جان چھڑانے کو ٹیبل کی طرف بڑھی۔۔
بھوک تو لگی تھی،، اسی لئے اسپیشل فش پلاؤ سکون سے بیٹھ کر کھائی۔۔
وہ بھی سامنے بیٹھ گیا۔۔
مگر مطی اگنور کر کے کھانے میں مشغول رہی،، چھوٹے چھوٹے نوالے لیتی وہ اریش کے دل میں اتر رہی تھی۔۔
مگر اس کی ناراضگی اور نفرت نے اریش کے رگوں میں جابجا کانٹے کھبو ڈالے تھے۔۔اس کا سکون چھین رکھا تھا۔۔
وہ کھانا کھا چکی تھی۔۔
اسی لئے جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔
اریش ٹرے واپس لے کر گیا تھا۔۔مطی نے اٹھ کر الماری چیک کی،، بہت سارے کپڑے تھے،، شاید مطی کے لئے ہی تھے،، اس نے ایک بلو کلر کا ڈریس نکالا جو قدر سادہ سا تھا۔۔
سب فراکس تھیں۔۔
وہ ڈریس لئے واش روم گئی،،، شاور کھولا ٹھنڈا برف پانی تھا،، وہ ڈھیٹ بن گئی،، اب تو خود کی بھی پرواہ نہیں تھی،، دوپٹہ اتار کر اور اپنا ڈریس ہینگ سٹینڈ پر لٹکایا،۔۔
تبھی کلک کی آواز سے واش روم کا دروازہ کھلا تھا،، اور اریش گھبرایا سا اندر داخل ہوا۔۔
وہ اچھلی۔۔
یو چیپ،،، گھٹیا انسان یہ کیا کر رہے ہو،،، وہ چلائی،،
بیری کالم ڈاؤن ،،،آئم سوری،،، میں ڈر گیا تھا کہ تم شاور سے باتھ نا لے لو،، یہ بہت ٹھنڈا پانی ہے،، صبر کرو،، وہ نظریں چراتا بولا
اور باتھ ٹب میں مخصوص نل سے گرم پانی بھر دیا۔۔
وہ یونہی نظریں چرائے باہر نکل کر ڈور لاک کر چکا تھا۔۔
وہ جھنجھلائی۔۔
اونہہ،،، مجھے کوئی پرواہ نہیں،،، جو مرضی کر لے،،
وہ باتھ لے کر باہر نکلی،، مگر ہمیشہ کی طرح اپنی پیچھے گلے کی ڈوری میں الجھی جو کہ ہمیشہ سے حبہ باندھتی تھی۔۔
اریش روم میں داخل ہوا تھا۔۔جب اسے یوں الجھے دیکھا،، وہ قریب آیا،،
May I,,,,,,,,
حسرت سے پوچھا گیا۔۔
No,,,,,,,
نفرت سے جواب دیا گیا۔۔۔
مگر اریش نے اسے گھما کر دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔
یو،،،،
اششششش،،، خاموش رہو بیری،،، وہ سنجیدگی سے بولا،، اب اس کے ہاتھ اس کی کمر کے پیچھے اس کی ڈوری میں الجھے تھے،،، اریش نے نرمی سے انھیں باندھ دیا۔۔
وہ اس کے بہت قریب تھا،، سانسیں سانسوں سے ٹکرائیں ۔۔
مطی کا دل اچھل کر حلق میں آیا،،
مگر وہ نرمی سے پیچھے ہٹ چکا تھا۔۔
وہ اس کے لئے دودھ کا گلاس لایا تھا ہاتھ پر میڈیسن تھی۔۔
مطی نے بغیر بحث کیے میڈیسن لے لی تھی۔۔
مطربہ تھک چکی تھی،، صبح سے رو رو کر آنکھیں بھی جل رہی تھیں اور اب میڈیسنز نے زیر اثر نیند بھی آ رہی تھی۔۔
مگر بیڈ پر اب وہ بر جمان تھا۔۔
وہ کاؤچ کی جانب بڑھی۔۔جب اریش اٹھ کر بیٹھا تھا۔۔
بیری بیڈ پر آؤ۔۔وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
نو،،، ایک لفظی جواب تھا۔۔
میں پھر سے بیڈ سے باندھ دوں گا،، ادھر بھی اطمینان تھا۔۔
مطی نے اسے بری طرح گھورا،،،، تم چیپ انسان میرے ساتھ ایسے زبردستی نہیں کر سکتے،،،
یہاں پاکستان میں تمھاری لینگویج میں اسے زبردستی کہتے ہیں،،، جبکہ میری ڈکشنری میں تو اس کا کچھ اور مطلب ہے،، وہ پھر سکون سے بولا۔۔مگر بیڈ سے اتر کر اس کی جانب بڑھا۔۔
مطی کا چہرہ خفت سے سرخ ہوا،،، اس سے گریز کرتے وہ بیڈ تک آئی تھی بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔
وہ پھر آ کر اپنی سائیڈ بیٹھ گیا۔۔ پھر نیم دراز بھی ہو گیا۔۔
اب لیٹ جاؤ بیری کہ بیٹھ کر رات گزارنی ہے۔۔وہ شرارت سے بولا۔۔
چپ چاپ سو جاؤ،، جب لیٹنا ہوگا لیٹ جاؤں گی،، وہ دانت پیس کر بولی۔۔
کافی دیر وہ اس کے سونے کا انتظار کرتی رہی۔۔
اریش نے کروٹ دوسری جانب لی تو وہ مجبوراً لیٹ گئی۔۔
اب بس ہو چکی تھی۔۔
لیٹتے ہی کچھ دیر بعد ہی وہ گہری نیند میں چلی گئی تھی۔۔
اریش نے مڑ کر دیکھا،،، وہ بلکل بیڈ کے کنارے پر اٹکی تھی،،، زرا سی بھی کروٹ لیتی تو نیچے جا پڑتی۔۔
اریش کھسک کر اس کے پاس آیا۔۔
بہت نرمی سے کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے سینے پر گرایا تھا،،، اب سکون آیا تھا،، ۔
اس کے وجود کی مہک،،،،
اففففففففففففف،،
اس نے لمبی سی سانس بھر کر یہ خوشبو روح تک کھینچی تھی۔۔
پھر بہت جلد وہ بھی نیند کی وادی میں کھویا تھا۔۔
اس کی بیری اس کے پاس تھی اب اسے دنیا میں کسی چیز کی طلب نہیں تھی۔۔
Continue ,,,,,,,,,,,,,,,,
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
