Rate this Novel
Episode 35
سلطان مینشن میں شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے۔۔کافی عرصے بعد جشن کا سا سماں تھا۔۔
لندن سے پریہا جلال اور ظہان بھی آ گئے تھے۔۔
نمرہ کی تو ڈیتھ ہو چکی تھی مگر اپنی ماں کی جگہ تانی ضرور شرکت کرنے آئی تھی۔۔
سہانا شبیر کے پاس جا چکی تھی اور جاتے جاتے شاہ زین کا چین سکون سب ساتھ لے گئی۔۔
یہ چار پانچ دن تو یونہی ہنگاموں کی نظر ہو چکے تھے۔۔ اور آج مہندی کا فنگشن تھا۔۔
شاہ ویر کی خواہش پر چاروں کا ایک ہی جگہ سلطان مینشن میں ہونا تھا مہندی کا فنگشن،،،
سہانا مطی اور ربیع پارلر گئیں ہوئیں تھیں،،، ہر کوئی گھن چکر بن چکا تھا۔۔
ویر نے خود کو کسی کی بے رحم یادوں سے دامن بچانے کو بری طرح کاموں میں الجھا رکھا تھا۔۔۔ اب بھی شاہ زین کے بلانے پر وہ شاہ زین کے روم میں آیا تھا۔۔
جہاں اریش اور وہ تیار ہو رہے تھے۔۔۔
ظہان بھی ادھر ہی موجود تھا۔۔
اریش بری طرح الجھا ہوا تھا کیونکہ اس نے کبھی شلوار قمیض نہیں پہنی تھی۔۔۔مگر آج وائٹ کلف زدہ شلوار قمیض کے اوپر چنری گلے میں ڈالنی تھی۔۔سب لڑکوں نے یہی پہننا تھا۔۔
ظہان کو اور زین کو اس کی شکل دیکھ کر ہنسی آئی۔۔۔
اریش کارٹون لگ رہیں ہیں قسم سے بلکل،،، ظہان نے مزاق اڑایا۔
تب ویر نے آگے بڑھ کر ظہان کو گھوری سے نوازتے اس کی مدد کی،،، کف کالر درست کیے اور چنری گلے میں ڈالی۔۔
وہ ضرورت سے زیادہ ہی ڈیشنگ اور ہنڈسم لگ رہا تھا۔۔
شاہ زین بھی تیار تھا،،، کم تو وہ بھی نہیں لگ رہا تھا،، بار بار ایک ڈمپل کے درشن ہو رہے تھے۔۔
کوئی ضروت نہیں اس کی بکواس سننے کی اریش بہت اچھے لگ رہے ہو۔۔
برو آپ تو تیار ہو جاؤ یار،،،، شاہ زین کہتا باہر گیا،،، ظہان بھی چلا گیا۔۔
اریش اس کے پاس آیا۔۔
اریش نے یہاں آ کر ڈیوٹی جوائن کر لی تھی۔۔
پھر اریش اور ویر نے جرم کی دنیا میں تباہی و بربادی مچا دی تھی۔۔
یہ وہ دو،،،، ،ہزار کے برابر تھے،،، جو کسی کی پکڑ اور قابو میں نہیں آ رہے تھے۔۔
دونوں میں گہری دوستی بھی ہو چکی تھی۔۔اب وہ آپس میں ہر بات شئیر کر لیا کرتے تھے۔۔
وہ قریب آیا اور ویر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
جب اسے تمھارے ساتھ بھیجا تو دل میں ہزار طرح کے وسوسے اور خدشے تھے۔۔مگر اب میں خود چاہتا ہوں کہ نیناں بہت جلد تمھارے پاس آ جائے۔۔
ویر نے کرب سے آنکھیں بند کیں،، اور اپنے ہونٹ کاٹے۔۔
حیرت کی بات ہے اس ڈائمن نے بھی اپنے طریقوں سے نیناں کو ہر طرح سے ڈھونڈنے کی کوشش کی،،، مگر ہم بھول گئے کہ آنٹی ہماری ماں ہیں،،، اریش اداسی سے بولا
کیونکہ ویر کی بکھری ٹوٹی حالت دیکھ کر اسے بہت برا فیل ہو رہا تھا۔۔
اس کا دوست دکھی اور غمزدہ تھا تو اس کی خوشی کیسے مکمل ہوتی۔۔
جانے دو یار،،، تم اپنا وقت انجوائے کرو،، میرا دل کہتا ہے وہ جلد میرے پاس میری دسترس میں ہوگی۔۔ انشاءاللہ
ویر زرا سا مسکرایا۔۔
تبھی حبہ انھیں بلانے آ گئی۔۔
وہ باہر آئے،، ویر اس کے ساتھ سٹیج تک آیا۔۔سب موجود تھے. ،،دلہے سٹیج پر بیٹھ چکے تھے۔۔
بہت پیارے لگ رہے تھے زین اور اریش۔۔۔ اب بس دلہنوں کا انتظار تھا۔۔جو کم از کم ان کے لئے طویل ہوتا جا دہا تھا۔۔
ویر سٹیج کے پاس کھڑا۔۔۔ازھاد سے کوئی بات کر رہا تھا جب پلوشہ اس کے قریب آئی
کیونکہ سب ہی تقریباً تیار تھے سوائے اس کے۔۔
ویر میں نے کپڑے نکال دئیے تھے تو پہنے کیوں نہیں ابھی تک،،،، پلوشہ پوچھ بیٹھی۔۔
وہ زخمی سا ہنس دیا،،، کیونکہ مما تنہائیاں اگر روح کی گہرائیوں میں اتر جائیں تو رونقیں اور کوئی خوشی انسان کو متاثر نہیں کر سکتی۔۔
پری اپنے بیٹے کی جانب دیکھے گئی۔۔۔
میں ایسے ہی ٹھیک ہوں مما،،، ڈونٹ وری،،،، وہ بلو ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا لاپروائی سے بولا۔۔
پھر لان کی ایک سائیڈ جا کر سگریٹ سلگائی ۔۔
اب وہ بڑے دھڑلے اور بے باکی سے سب کے سامنے سموکنگ کرنے لگا تھا۔۔
تبھی لان میں ہلچل سی ہوئی تھی۔۔
جب حرم اور حبہ کی ساتھ دھیمے قدموں سے چلتی مطربہ اور سہانا سٹیج کی جانب بڑھ رہیں تھیں۔۔
وہ تو پہلے ہی ان کے حسن کے تیکھے ترکشوں سے گھائل تھے۔۔۔اب بھی دو دلوں پر بجلی سی گری تھی۔۔
سہانا ییلو اور بلو امتزاج کے خوبصورت کامدار لہنگے میں تھی اور مطربہ ییلو اور ریڈ،،،
دلہن بنی وہ ہلکے میک اپ اور خوبصورت ہیر اسٹائل میں بے حد خوبصورت اور دلکش لگ رہی تھیں۔۔
ربیع نے بھی ہلکے کام والا سبز لہنگا ہی پہنا تھا۔۔ہلکے میک اپ گھنے سیاہ کرلی لمبے بالوں کی چوٹی آگے گرائے۔۔کلچ تھامے وہ لہنگے سے الجھتی جب لان میں داخل ہوئی تو محفل میں بیٹھے ایک شخص کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا۔۔
آج وہ اسے بچی بچی نہیں اپنی بیوی اور بڑی بڑی لگی۔۔
دلہنوں کو لا کر سٹیج پر دلہنوں کے ساتھ بٹھایا گیا۔۔
وہ بے حد نروس ہو رہیں تھیں کچھ جسم پگھلوتی نگاہیں تھیں جو بڑی بے باکی سے ان کا احاطہ کرنے میں مصروف تھیں۔۔
شاہ زین تو پھر سب سے نگاہیں چرا کر وقتا فوقتا ایک گہری نگاہ اس پر ڈال رہا تھا۔۔
مگر اریش نے شرمانے ورمانے کی زرا بھی ضرورت محسوس نہیں کی تھی
اور بڑی پر شوق نگاہوں سے مطی کو دیکھے جا رہا تھا۔۔مطی نے اس کی بے شرمی پر دل میں دانت کچکچائے۔۔
مگر افسوس کچھ کر نہیں سکتی تھی۔۔
سب بے حد خوش تھے۔۔
رسم ادا کی جا رہی تھی۔۔شبیر آ کر بیٹی کے پاس بیٹھے تھے اور شفقت بھری نگاہوں سے اسے شرماتے دیکھ رہے تھے۔۔
شاہ زین کی زبان میں کھجلی ہوئی۔۔زرا سا جھک کر سر گوشی کی۔۔
اوووو بےبی تو بڑی ہو گئی ہے آج دلہن بن گئی ہے،،، کل بچوں کی فوج پیدا کر کے مما بھی بن جائے گی،،، سو ایکسائیٹڈ۔۔
سہانا سخت تلملائی۔۔مگر پاس ہی پاپا بیٹھے تھے،،، مگر تبھی دماغ میں جھماکا سا ہوا۔اور اپنی سینڈل کی ہائی ہیل شاہ زین کے پشاوری چپل پہنے پاؤں پر زور سے رکھ دی۔۔
شاہ زین بلبلا اٹھا۔۔مگر سکون سے بیٹھا رہا،، جھک کر پھر سرگوشی کی۔۔
سہانا بے بی اگر نہیں چاہتی کہ کل ہماری مسہری میدان جنگ بن جائے تو فورا سے پہلے ہیل ہٹاؤ۔۔
سہانا بوکھلائی،، اور فوراََ پاؤں ہٹا لیا۔۔ جس سے پاس بیٹھے شاہ زین کا ڈمپل گہرا ہوا۔۔
جوکہ سہانا نے چور نگاہوں سے دیکھا،، مگر بد قسمتی سے کیمرہ مین نے وہ خوبصورت شرارتی پل کیمرے کی آنکھ میں ہمیشہ کے لئے قید کر لیا تھا۔۔
سہانا گڑبڑائی اور سیدھی ہو گئی۔۔شاہ زین خاموش ہو کر بیٹھیں،،، کچھ زیادہ ہی بدتمیز ہو گئے ہیں آپ،،،
شبیر اٹھے تو وہ دھیمے سے مگر غرائی۔۔
شو شوئیٹ،،، بےبی کو غصہ آ رہا ہے،،، مگر سو سیڈ کچھ کر نہیں سکتی۔۔۔
شاہ زین نے پھر چھیڑا۔۔
اب کی بار سہانا نے شاہ زین کے بازو پر پورے زور سے چٹکی کاٹی تھی۔۔
وہ اچھلا،،، سہانا کو ہنسی آئی تو سر جھکا لیا۔۔
جو کرنا ہے آج ہی کر لو سہانا بےبی،، کیوں کہ کل کا دن تو میرا ہے،، اس کے بدلے میں،،، میں کیا کیا کرنے والا ہوں سوچ ہے تمھاری۔۔۔
شاہ زین کی بات پر اب واقعی سہانا دوبارہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہی تھی۔۔
ادھر مطی بھی بے نیاز سی بنی بیٹھی تھی اور اریش کو منہ لگانا گوارا نہیں کر رہی تھی۔۔
اریش بھی کہاں زیادہ دیر چپ بیٹھنے والوں میں سے تھا۔۔۔
واؤ تو مینڈکی کو بھی زکام ہو گیا،،،،
مطی نے پہلو بدلا،،،
کچھ بول تو سکتی نہیں تھی کیونکہ پاس ہی اس کی سائیڈ پر اس کے ڈیڈ بیٹھے تھے۔۔مگر ادھار رکھنے والوں میں سے تو وہ بھی نہیں تھی۔
بڑی خاموشی سے اپنے دوپٹے میں سے کامن پن نکالی تھی۔۔
اور بڑی سرعت سے پن نے اریش کے پہلو کی تواضع کی تھی۔۔
وہ اچھلا۔۔۔ مگر ہار نہیں مانی۔۔
کچھ ہی دیر میں مطی کو اپنی پنڈلی کے اوپر ٹانگ پر کوئی چیز سرسراتی محسوس ہوئی ۔۔
وہ سٹپٹائی زرا سا آگے ہو کر دیکھا تو اریش کی پشاوری چپل میں سے پاؤں غائب تھا۔۔
اور مطی کی ٹانگ پر گستاخیاں کرنے میں مصروف تھا۔۔
مطی کو شدید طیش آیا۔۔
شاہ زر کسی فرینڈ کے بلانے پر سٹیج سے اٹھا۔۔
مطی کی پن نے اب اریش کی ٹانگ کی تواضع کی تھی۔۔
یو مینڈک،، بندر،،، سکون سے بیٹھو،،، مطی غرائی۔۔
اریش کو ہنسی آئی۔۔
نا آرام سے بیٹھا تو کیا کرو گی،، اطمینان قابلِ دید تھا۔۔
چھوڑوں گی نہیں میں تمھیں،، وہ دانت پیس کر بولی۔۔
آ،،،، ہاں،،، گڈ،،، آج تم مجھے مت چھوڑنا،،، میں کل تمھیں نہیں چھوڑیں گا،،، حساب برابر،،، وہ ذو معنی سا بولا۔۔
مطی کی سانس اٹکی،،
اب اسے اگنور ہی کرتی تو بہتر تھا کیونکہ وہ بڑے اطمینان سے اب اس کا ہاتھ تھام چکا تھا۔۔
جیسے تیسے رسمیں ادا کی گئیں،،
اب کھانا کھایا جا رہا تھا۔۔۔
ربیع کسی کام سے اندر گئی تھی۔۔ظہان گہری مسکان لیے اس کے پیچھے گیا۔۔
کافی دن سے اس کے دماغ کی دہی کسی نے نا کی تھی۔۔سو اپنے چھوٹے پیکٹ کی جانب بڑھا۔۔
جو ہاتھ میں ایک پیکٹ تھامے اب باہر ہی آنے والی تھی۔۔
لاؤنج میں ہی وہ اس کے سامنے آیا تھا۔۔دل پر بجلی سی گری تھی،، جب وہ اسے دیکھ کر مسکرائی۔۔
ظہان ببل چباتا اس کے اور قریب آیا۔۔
ہائے،،، کیا چل رہا ہے،، ظہان پوچھ بیٹھا۔۔
فی الحال تو آپ کا منہ چل رہا ہے،، وہ اطمینان سے بولی تو ظہان گڑبڑایا۔۔
میرا مطلب اور سناؤ،،،؟
نہیں نہیں،،، اگر میں نے آپ کو دو چار سنا دی تو آپ کا منہ غبارے کی طرح پھول جائے گا،،
وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔۔
ظہان کا کھلا منہ دیکھ کر زیادہ دیر ضبط نا کر سکی اور کھلکھلا کر ہنس دی۔۔
ظہان نے اسے گھوری سے نوازا۔۔
اب ایسے ندیدوں کی طرح تو ناں دیکھیں جیسے انڈیا والوں نے کشمیر پر نظر رکھی ہوئی ہے۔۔
وہ اترا کر بولی۔۔
اچھا اگر اتنے دنوں بعد آ ہی گئے ہیں تو ایک سوال کا جواب ہی دے دیں۔۔ربیع نے پھر شوشا چھوڑا۔۔
اچھا پوچھو،،، ظہان نے احسان کیا۔۔
وہ کونسی ایسی سٹی ہے جہاں رکشہ کار ،، گاڑی یا کوئی سواری نہیں جاتی۔۔
ظہان نے سرد سی آہ بھری،، نہیں معلوم،، تم بتاؤ۔۔
الیکٹری،،، سٹی،،،، ہاہاہا ہاہا ہا،، وہ ہنسے گئی۔۔۔
تبھی اچانک ظہان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچا تھا۔۔
وہ بے تحاشا بوکھلائی۔۔
ظ،،،، ظہان،،، وہ،،، وہ گھگھیا گئی۔۔۔
اوکے فائن،، اب ایک سوال کا جواب تم دو گی سوئیٹ ہارٹ،،، وہ اس کے بہت قریب خمار آلود لہجے میں بولا۔۔
ربیع کے ہوش اڑ گئے
کک،،،، کیا،،، پپ،، پوچھیں ،؟
وہ پوچھنا یہ تھا کہ،،،، وہ کونسے سوالات ہیں،،،،،
جس کے بارے میں شاعر کہتا ہے ‘ کہ اس نے شرما کے میرے سوالات پہ ایسے گردن جھکائی مزا آ گیا،،،؟
مم،،،مجھے،، نن،، نہیں پتہ،،، وہ اس کی پرتپش قربت میں مچلی۔
اوکے میں پوچھوں وہ سوالات،،، دیکھتے ہیں بھلا تمھیں شرم آتی ہے کہ نہیں،،، ظہان نے اس کی پتلی ہوئی حالت انجوائے کی۔۔
نن،،، نہیں،، بلکل،، نہیں ،،،وہ گھبرائی۔۔
تبھی ظہان نے زرا سا جھک کر اس کے ماتھے پر عقیدت سے محبت کی پہلی مہر ثبت کر کے اس کے رہے سہے اوسان خطا کیے۔۔
گرفت نرم کی تو وہ اپنا آپ ظہان سے چھڑا کر وہاں سے فورا رفو چکر ہوئی تھی۔۔
ظہان قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔
یقینا اس چھوٹے پیکٹ کی سنگت میں زندگی بے حد حسین گزرنے والی تھی۔۔
فنگشن کے ہنگامے سرد پڑ چکے تھے۔۔تمام مہمان رخصت ہو چکے تھے۔۔
رات کے ایک بج چکے تھے۔۔سب اپنے اپنے رومز میں جا چکے تھے۔
باہر سرونٹس اور ویٹرز لان میں سے چیزیں ہٹا رہے تھے۔۔
ویر وہیں ایک چئیر پر بیٹھا سموکنگ کرتا کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہا تھا ۔۔۔
آج اگر وہ دشمنِ جاں اس کے پاس ہوتی تو ان کا بھی فنکشن ہوتا۔۔یا ویر کس قدر خوش ہوتا۔۔
اب تو رگ و جاں اتنی وحشت زدہ تھی کہ دل کرتا ہجر کے غم میں خون کے آنسو روئے۔۔ آنسو اپنے اندر اتارتے اتارتے اب تو آنکھیں اور سینا بھی جلنے لگا تھا۔۔
اب برداشت جواب دے چکی تھی۔۔ حوصلہ ہارنے لگا تھا۔۔
اب صبر کا پیمانہ چھلکنے کو ہی تھا۔۔
کندھے پر ایک نرم اور مہرباں سا لمس محسوس ہوا تو اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔
ڈیڈ،،،، وہ شاہ ویر سے لپٹا تھا،،، اذیت سے تڑپتے اس کے آنسو شاہ ویر کے شرٹ میں جزب ہوئے تھے۔۔
وہ بے آواز رو دیا تھا۔۔
شاہ ویر کی رگیں تن گئیں۔۔جبڑے بھنچ گئے۔۔۔
شہباز،،، شہباز،، پاس ہی کام کرتے شہباز کو دیکھ کر وہ دھاڑا۔۔
وہ بوکھلا کر قریب آیا۔۔جی سر۔۔
اپنے پاپا کو بلا کر لاؤ ابھی اور اسی وقت۔۔
ججی جی سر۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد سمیع ہاتھ باندھے شاہ ویر کے آگے کھڑا تھا۔۔
سمیع دیکھ رہے ہو میرے بیٹے کی حالت،، وہ غرایا،،، آج تک میرے بیٹے کے منہ سے نکلنے سے پہلے میں نے اس کی ہر خواہش پوری کی،، اور آج اسے اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش سے دور کر دیا گیا ہے۔۔
اب بتاؤ گے کہ میری بہو کہاں ہے کہ نہیں،،، شاہ ویر کا لہجہ بہت سخت تھا۔۔
مگر سر،، وہ بیگم،،،،
سمیع،،، ایڈریس دو،، وہ دھاڑا،،،
سر وہ اماں حاجن کے حجرے میں،،، سمیع دھیمے لہجے میں بولا۔۔
شاہ ویر کی تنی رگیں ڈھیلی پڑیں
Ssssshhhhhiiiiiittttttttt
یہ بات میرے دماغ میں پہلے کیوں نہیں آئی۔۔۔
ہیے شیر اٹھو،،شاہ ویر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالا، نکلو فوراً میں ایڈریس میسج کر دیتا ہوں،،، لے آؤ اسے،،،، کل کے فنکشن میں ایک اور دلہن کا اضافہ چاہئے مجھے۔۔
شاہ ویر نے سکون سے کہا۔۔
وہ تیزی سے کھڑا ہوا۔۔فرطِ جزبات میں اپنے ڈیڈ کے سینے سے لگا۔۔
تھینکس ڈیڈ،،،،
اور تیزی سے سلطان مینشن سے نکلا۔۔
ادھر اندر پلوشہ حرم اور حبہ اندر بیٹھی کل کے فنکشن کی ضروری ڈسکشن کر رہی تھیں۔۔
کہ پلوشہ کا فون رنگ ہوا،،،
یس کر کے کان کو لگایا تو پیروں نیچے سے زمین کھسکی۔۔
مریم بی بی کی گھبرائی آواز فون میں سے گونجی۔۔۔
مجھے پتہ ہے پلوشہ،،، کہ تمھارے نمبر پر فون نہیں کرنا تھا،، مگر صورتحال ہی ایسی ہے کہ،،، پلوشہ نیناں کی بہت طبعیت خراب ہے۔۔۔پلیز فورا چلی آئیں۔۔۔
مریم بی بی نے کہہ کر فون رکھ دیا۔۔
پلوشہ کو ہاتھ پیر پڑے تھے۔۔
کیا ہوا آپی،،، حرم بے چین ہوئی۔۔
حرم تم میرے ساتھ آؤ۔۔۔ نیناں کی طبیعت ٹھیک نہیں،، اسے ہوسپیٹل لے کر جانا ہے۔۔
میں بھی ساتھ چلوں گی۔۔ حبہ نے کہا۔۔
سہی،،، وہ تینوں فوراً باہر نکلی۔۔ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کو بولا۔۔
رستہ تھا کہ طویل ترین ہوا جا رہا تھا۔۔
سفر تھا کہ کٹے نہیں کٹ رہا تھا۔۔
آخر کار وہ پہنچ ہی گئیں۔۔افتاں خیزاں اندر داخل ہوئیں۔۔ مگر اندر بے حد خاموشی تھی۔۔
وہ تیز قدموں سے اندر کمرے میں داخل ہوئیں تو حیرت ہوئی۔۔
مریم خاموش سی بیٹھی تھی۔۔جبکہ نازیہ بے چینی سے ادھر ادھر ٹہل رہی تھی۔۔
نیناں،،،،،،، نیناں،،،،
نیناں کہاں ہے مریم،،،، ان دونوں کے علاوہ روم خالی تھا۔۔ پلوشہ کی سانس اٹکی ۔۔
وہ بیگم صاحبہ،، نیناں بی بی کو تو چھوٹے صاحب لے گئے۔۔ نازیہ فق چہرہ لئے بولی۔۔
پلوشہ چلائی،،، کون چھوٹے صاحب۔۔۔
شاہ زل بھائی،،، نازیہ نے ان کے سر پر بم پھوڑا۔۔۔
Continue,,,,,,,,
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
