Rate this Novel
Episode 21
اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں
روز ایک موت،،،،، نئے طرز کی ایجاد کرے
نیناں اس دشمنِ جاں کے بارے میں سوچتی کلچ میں اپنا موبائل رکھتی بے دھیانی میں اپنے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔
جب ایک آہنی ہاتھ نے اس کی گردن دبوچی تھی،،، اور اسے دیوار میں دے کر مارا تھا۔۔
وہ خود کو چھڑانے کے لئے مزاحمت کرتی ہوئی لڑ سکتی تھی،،،، مگر جب سامنے شاہ زل سلطان کی لال انگارا آنکھوں،،، ماتھے کے بلوں اور تنی رگوں کو دیکھا تو مزاحمت خود بخود دم توڑ گئی۔۔
وہ خاموشی سے دونوں ہاتھوں سے اس کی کلائی تھامے گردن پر وقتا فوقتا بڑھتا دباؤ محسوس کر رہی تھی۔۔
کہا تھا حاتم مینشن سے قدم بھی باہر مت نکلنا تو تمھاری جرات کیسے ہوئی،،،،،،،،،وہ دانت پیس کر بولا۔۔
جرات تو خود شاہ زل سلطان کی خود کی بھی نہیں تھی اپنی ماں اور دادی کے خلاف جا کر اسے روکتا۔۔
یہ غصہ تو کسی اور ہی چیز کا تھا جو وہ یوں تڑپا تھا۔۔ ظہان کا اسے نیلی جل پری کہنے نے اسے انگاروں پر گھسیٹا تھا۔۔پچھلے سارے زخم ادھیڑ دیئے گئے تھے۔۔
وہ،،،،،، روپ،،،، دادو،،،، نے ،،،،،کہا ،،،گلے پر دباؤ کی وجہ سے وہ اٹک اٹک کر بول پائی۔۔اب آنکھوں سے پانی بھی نکلنے لگا تھا۔۔
اب دباؤ سے اس کا دم گھٹ رہا تھا۔۔چہرہ پر جسم کا سارا لہو اکٹھا ہوا جیسے۔۔۔مگر ڈھیٹ بنی کھڑی رہی۔۔
اب اگر یہاں سے قدم باہر نکالا تو آئی سوئیر نیناں درانی تمھیں شوٹ کر دوں گا۔۔ وہ دھاڑا اور ایک مرتبہ پھر اسے دیوار پر پٹخ کر چھوڑتا دروازے کی جانب بڑھا۔۔
جب پیچھے سے کچھ آواز سنائی دی۔۔اچانک پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ آج کی پل پل اذیت سے دوچار ہوئی اب گردن پہ اتنا شدید دباؤ برداشت نہیں کر پائی تھی۔۔
اور اس سب کی تاب نہ لاتے ہوئے زمین بوس ہو چکی تھی۔۔
ویر کا جیسے دل کا خون ہوا تھا۔۔بھاگ کر اس کے قریب آیا اور نبض چیک کی جو کہ بہت دھیمی پڑ چکی تھی۔۔اس کے اوسان خطا ہوئے۔۔
نیناں،،، چہرہ تھپتھپا کر آواز دی۔۔ ہیے نیناں،،، پھر پکارا۔۔
مجھے وہ لاکھ تڑپائے ،،،،،،مگر اس شخص کی خاطر
میرے دل کے اندھیروں میں دعائیں رقص کرتی ہیں
کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کا سر بازو پر ٹکایا۔۔اب نیناں کا دایاں گال اس کے دل کے مقام پر تھا۔۔ بالوں سے اٹھتی بھینی مہک رگ رگ میں سمائی۔۔ ویر کی سرخ آنکھیں بھیگ گئیں۔۔
عجیب ستمگر تھا۔۔اذیت بھی دیتا تھا اور روتا بھی تھا۔۔
جاؤ جی جاؤ،،، کام کرو اپنا جا کر،،،، مجھے گالی دینے والے اب کیا ہوا،، کیوں زندگی گلے میں اٹک گئی،، چھوڑ کر چلے جاؤ اسے یہیں مرنے دو،،،
دل صاف مزاق اڑاتا سنائی دیا۔۔
دل کی بکواس ان سنی کرتا چپکے سے اسے بازؤوں میں بھرا اور لا کر بیڈ پر لٹا دیا۔۔
وہیں اس کے سرہانے بیٹھ کر اس کی سانس ہمورار ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔
سرخ آنکھیں بار بار بھٹک کر ایک نیلے نازک وجود پر ٹہر رہی تھیں۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔۔
کچھ دیر بعد جب اس کا سانس ہموار ہوا تو اٹھا ایک آخری نظر اس چہرے پر ڈالی۔۔جس نے اس کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں ۔۔۔زندگی سے سکھ، چین سکون سب برباد کر کے رکھ دیا تھا۔۔
وہ بھیگی پلکیں لیے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔
میں تمھیں بھی کانٹوں پر گھسیٹ لوں گا نیناں درانی۔۔میں مر رہا ہوں تو تمھیں کیوں سکون لینے دوں۔۔۔ وہ تلملایا جھنجھایا،،،،
طوفان بنا گاڑی لے کر نکلا تھا وہاں سے۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مطی حبہ کے آگے بیٹھی تھی۔۔حبہ نے اس کے سر میں تیل کی مساج کی تھی ۔۔
اور اب مطی فریش ہونے چلی گئی۔۔
مگر بات حبہ اب تک باپ بیٹی سے کرنے کو تیار نہیں تھی۔۔
شاہ زر نے لاکھ منتیں کیں،،، سمجھایا کہ یہ سب مطی کی قسمت میں ایسا ہی لکھا تھا۔۔مگر وہ تو پتھر کی بن چکی تھی۔۔
وہ فریش ہو کر باہر آئی تو حبہ کے سامنے آ کر بیٹھی۔۔
پلیز آئم سوری مما خدا کے لئے مجھ سے بات کریں۔۔ وہ رو دینے کو تھی۔۔مما ایسے تو مجھے کچھ نہیں ہوا مگر یہ آپ کی ناراضگی اور بے رخی ضرور میری جان لے لے گی۔۔
حبہ نے لب بھینچے سختی سے اس گھما کر اپنے سامنے بٹھایا اور گردن سے بال ہٹا کر اس کے کمر سے قمیض کی ڈوریاں باندھنے لگی جو کہ جال کی صورت قمیص پر ڈیزائن بنا ہوا تھا۔۔
شاہ زر ناک کر کے روم میں داخل ہوا تھا۔۔
حبہ نے بہت زور سے ڈوری کھینچی تھی اس تکلیف ہوئی۔۔۔تبھی ایک سسکی منہ سے نکلی۔۔
پلیز مما،،،
حبہ واٹ از دس،،، شاہ زر نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔تم اسے ٹارچر کر رہی ہو،، شاہ زر کو اپنی گڑیا کی زرا سی تکلیف سے بھی تکلیف ہوئی۔۔
حبہ شاہ زر کو نظر انداز کرتی اب مطی سے مخاطب ہوئی تھی۔۔
اگر چاہتی ہو کہ میری ناراضگی دور ہو تو میری بات ماننا ہوگی۔۔حبہ کا سرسراتا لہجہ۔۔
بولیں مما،،، آپ جو کہیں گی میں وہ کرنے کو تیار ہوں آئی پرامس۔۔۔مطی خوش ہوئی۔۔
تو پھر ٹھیک ہے جونئیر سے نکاح کر لو یا پھر انگیجمنٹ،، آپشن تمھارے پاس ہوں اب بولو۔۔
مطی کے پاؤں تلے سے زمین کھسکی۔۔تڑپ کر اپنے باپ کو دیکھا تو شاہ زر نے بے اختیار چپ رہنے کا اشارہ کیا کہ شاہ زر نے نکاح والی بات حبہ کو نہیں بتائی تھی۔۔
شاہ زر نے وقت کی طرف اشارہ کیا مطی سمجھ گئی۔۔
مما مجھے سوچنے کے لئے وقت دیں،، وہ دھیمے لہجے میں بولی۔۔
تو ٹھیک ہے جب سوچ لو اور اگر جواب ہاں میں ہو تو ہی مجھ سے بات کرنا۔۔
حبہ کہتی روم سے جا چکی تھی جونئیر جو کہ مطی سے ملنے اس طرف آیا تھا ساری بات سن چکا تھا۔۔
وہ روم میں آیا،،، شاہ زر بھی وہیں بیٹھا تھا۔۔
تم نے چھوٹی ممی کو انکار کیوں کیا،،، انگیجمنٹ کے لئے مان جاتیں۔۔۔ویر نے اطمینان سے کہا تو مطی نے جھٹکے سے خونخوار نگاہوں سے جونئیر کو یوں گھورا جیسے اس کے زہنی توازن پر شک ہوا ہو۔۔۔
شاہ زر بھی حیران تھا۔۔
اس بکواس کا مطلب ویر جب حقیقت جانتے،،،،،،
ہاں جانتا ہوں،،، مگر چھوٹی ممی نہیں جانتیں،،، سیریس ہونے کو کون بول رہا ہے۔۔ڈرامہ بھی تو کیا جا سکتا ہے۔۔ چھوٹی ممی بھی مان جائیں گی اور وہ مسئلہ سورٹ آؤٹ ہونے تک تمھیں سکون بھی مل جائے گا۔۔
اس کا اطمینان اب بھی قابلِ رشک تھا۔۔
مطی نے اسے غور سے دیکھا اور نتیجہ پر پہنچی ،،،،نیناں کو تڑپانا چاہتے ہو،،، ؟
مطی کی اس بات پر شاہ زر چونکا۔۔ حقیقت تو وہ بھی جانتا تھا
یہی سمجھ لو،، ویر سکون سے بولا۔۔
تم پاگل ہو گئے ہو ویر،،، وہ پھنکاری،،وہ اب کسی اور کو مطی بنتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔
وہ میری مجرم ہونے کے ساتھ ساتھ تمھارے مجرم کی بہن بھی ہے، اس نے مطی کے سر پر بم پھوڑا،،،
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ویر کو دیکھے گئی۔۔
اور تم لوگوں نے اسے حاتم مینشن رکھا ہوا ہے خوب بہت خوب ،،، وہ دانت پیس کر نفرت سے بولی۔۔یہ جان لیوا حقیقت تو آج اسے پتہ چلی تھی۔۔
مطی،،،،، شاہ زر نے اسے تنبیہی انداز میں پکارا اور پاس بٹھا کر ساری بات اسے بتا دی۔۔ویر لاتعلق سا بنا بیٹھا رہا۔۔
شاہ زر اٹھ کر جانے لگا،،، جب مطی کی آواز نے قدم پتھر بنائے۔۔ڈیڈ مما سے بولئے گا میں انگیجمنٹ کے لئے راضی ہوں۔۔۔
مطی تم دونوں،،،،،
ڈیڈ پلیز،،، صرف مما کو منانے کی خاطر ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔وہ بیزار سی بولی جو اپنی زندگی سے بیزار ہو چکی تھی اب اسے کسی چیز سے کیا فرق پڑنے والا تھا۔۔
شاہ زر افسوس سے سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا۔۔
ڈیوٹی کب جوائن کر رہی ہو مطی۔۔۔ویر نے سگریٹ سلگاتے اس سے پوچھا جب کہ اسے اسموکنگ کرتے دیکھ مطی کو اچھا خاصا جھٹکا لگا تھا۔۔
کبھی بھی نہیں،،، وہ نظریں چرا کر بولی تو ویر بھی ایک پل کو خاموش ہو گیا۔۔۔
مطی کیا ہم یہ ڈیزرو کرتے تھے جو ہمارے ساتھ،،، ویر نے کہتے اذیت کی انتہا سے دانتوں تلے لبوں کو کاٹا۔۔
مطی خاموش رہی،،، اب تو آنسو بھی خشک ہو چکے تھے،، انھوں نے بھی ساتھ دینا چھوڑ دیا تھا۔۔
ویر خاموشی سے باہر نکل آیا۔۔تبھی فون رنگ ہوا۔۔ازھاد کا تھا۔۔
یس بولو ازھاد،،،؟
سر پتہ چل گیا ان بچیوں کا کہ کہاں ہیں،، کیسے اور کدھر لے جایا جا رہا ہے۔۔آج رات کی پلاننگ ہے۔۔ سب جولی کے بندے کر رہے ہیں،،
ٹھیک ہے فالو کرتے رہو،، اس بچ جولی کی دم پہ تو میں پاؤں رکھوں گا۔۔۔ ویر کی رگیں تنی۔۔۔
آج رات ہی حملہ کرنا ہے۔۔جب وہ نکلیں گے۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
نیناں ک آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ پر پایا۔۔۔دن کے گیارہ بج چکے تھے۔۔وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔۔
رات والے بلو ڈریس میں وہ بیڈ پر تھی۔۔
پھر دھیرے دھیرے سب یاد آتا چلا گیا۔۔
شاہ زل سلطان کا ستم،،، وہ سہہ نہیں پائی تھی۔۔مگر بیڈ پر کیسے آئی۔۔
اوووو تو میرا ستم گر ہی میرا مہرباں ہے۔۔وہ مبہم سی مسکرائی۔
بازوؤں میں اٹھایا ہوگا۔۔۔
وہ سرخ ہوئی۔۔۔جسم یوں دہکا جیسے اب بھی اس ظالم کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا ہو۔۔
اپنے محبوب کی اتنی سی مہربانی پر ہی وہ کھل اٹھی تھی۔۔
سر پر ہاتھ مارتی جلدی سے اٹھی۔۔فریش ہوئی۔۔فریش ہوتے گردن پر پانی سے جلن محسوس ہوئی تو پتہ چلا سرخ نشان بھی ہیں۔۔
اس ستمگر گر کہ یہ ستمگری بھی مہربانی ٹھہری۔۔گردن پر ہاتھ سے چھوا اور ایک آہنی ہاتھ کا لمس محسوس کیا۔۔
وہ لاؤنج میں آئی،،، تو شرمندہ سی ہوئی
روپ دادو وہ میری طبعیت ٹھیک نہیں تھی اسی لئے لیٹ اٹھی۔۔اس نے خواہ مخواہ وضاحت دی۔۔
کوئی بات نہیں ۔۔جاؤ کچن میں بریک فاسٹ کرو پھر میڈیسن لینا۔۔۔وہ فکر سے بولی اس نے ناشتہ کیا۔۔
دماغ کنٹینر میں ہی اٹکا تھا باہر شاہ زین کی ہیوی بائیک کھڑی تھی۔۔۔آنکھوں میں چمک آئی۔۔
فوراً باہر آئی۔۔وہ روپ دادو مجھے ایک چیز چاہیے تھی۔۔وہ جھجھکی۔۔
بولو بیٹا۔۔روپ نے پیار سے کہا۔۔
دادو مجھے وہ باہر جو شاہ زین کی بائیک ہے اس کی کی چاہئے ۔میں گھر میں رہ رہ کر بور ہو گئی ہوں۔۔اور،،،
لے لو،،، کوئی پرواہ نہیں،،، مگر مجھے فکر ہے تو صرف اس بات کی کہ تم یہاں کے راستے نہیں جانتی ہو۔۔
روپ نے اس کی جانب چابی بڑھاتے کہا۔۔۔
روپ دادو میں کہیں دور تھوڑی جانے والی ہیں یہ جو بچوں کے سکول کے پاس پارک ہے بس وہیں تک گھوم کے آ جاؤں گی۔۔
سہی ،،،،روپ نے اسے چابی دے دی۔۔
دوپہر تک وہ جیکٹ بھی منگوا چکی تھی۔۔مگر اصل مسئلہ ہتھیار کا تھا اس کے پاس اس کی گنز نہیں تھیں۔۔
مگر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔روکنا تو ہر حال میں تھا ان کو۔۔
کچن سے دو تین تیز دھار چاقو اٹھا کر چھپائے تھے۔۔
اب بس رات کا انتظار تھا۔۔ کیونکر کنٹینر نے رات کے چار بجے نکلنا تھا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رات کے تین بجے نیناں مخصوص حلیے میں اپنے روم کی کھڑکی سے نکلی۔۔
بڑے سے بلیک دوپٹے سے نقاب کیا،،، اور خود کے وجود کو بھی چھپا لیا۔۔
باہر آئی۔۔پورچ میں سے بائیک بغیر آواز کے گھسیٹ کر پچھلی طرف کے بنے گیٹ تک لائی جہاں اس وقت واچ مین نہیں ہوتا تھا۔۔
چھوٹا دروازہ کھول کر بائیک گھسیٹ کر باہر نکالی اور دروازہ لاک کر دیا۔۔
اب یونہی بائیک گھسیٹ کر کچھ دور لائی۔۔بائیک پر بیٹھ کر اب بائیک یوں اڑائی جیسے ہوا سے باتیں کرتی ہو۔۔
آدھے گھنٹے میں وہ مخصوص جگہ پر پہنچ چکی تھی۔۔ایک پرانی فیکٹری سے بظاہر سامان لوڈ کیا جا رہا تھا۔۔
اس نے بہت دور بائیک جھاڑیوں میں چھپائی اور انتظار کرنے لگی۔۔
یہ جانے بغیر کے اس کنٹینر پر تو دو اور عقابی نظریں جمی ہوئی ہیں۔۔
ویر ازھاد اور اپنے آدمیوں کے ساتھ یہیں موجود تھا۔۔
وہ لوگ سامان لوڈ کر کے اب اندر گئے تھے۔۔۔جب چپکے سے نیناں کسی کی نظر میں آئے بغیر کنٹینر کے اندر جا چکی تھی۔۔
ویر کو محسوس ہوا تھا ایک ہیولہ اندر داخل ہوتے مگر اپنا وہم سمجھا۔۔
ویر نے ہاتھ کے اشارے سے حملے کا حکم دیا۔۔انھیں یہ بھی آرڈر تھا کے ان میں سے جتنوں کو ہو سکے زندہ پکڑنا ہے۔۔
اب اس کے آدمی اندر داخل ہوئے تھے۔۔
اندر فیکٹری میں ہلچل ہوئی تھی۔۔
ویر اور ازھاد بھی اندر داخل ہو چکے تھے،، وہ چیختے چنگھاڑتے ان پر بھر پور حملہ کر رہے۔۔
نیناں کنیٹر میں آئی تو کارٹن دیکھے،،، سب سے پیچھے والے کارٹنز میں بچیاں موجود تھیں ۔۔بے دردی سے باندھا گیا تھا انھیں ۔۔
نیناں نے پاکٹ سے چاقو نکالا اور انھیں کھولنے لگی وہ چھ تھی اور کوئی بھی چودہ یا پندرہ سال سے زیادہ کی نہیں تھی۔۔
اسے اس جولی کے پاگل ہونے کا یقین ہو چکا تھا۔۔
شیطان عورت کیا اتنی کم عمر بچیوں کو برباد کروائے گی۔۔۔
چھی،،، اسے سوچ کر گھن اور جھرجھری آئی۔۔
اندر ویر سے لڑتے ان کا سرغنہ چنگھاڑا تھا ۔۔
اے جاؤ ان لڑکیوں کو ختم کر دو،،، فوراً جاؤ پہچانتی ہیں ہمیں مار ڈالو۔۔
آدمی چیونٹیوں کی طرح نکل کر ان پر حملہ کر رہے تھے۔۔ویر بیلٹ سے انھیں ادھیڑ رہا تھا مگر وہ موقع نہیں دے رہے تھے۔۔اور کچھ آدمی باہر کنٹینر کی جانب چاقو لے کر لپکے۔۔
ویر پہلی دفعہ پریشان ہوا۔۔
ازھاد بچاؤ بچیوں کو،،، وہ چلایا۔۔
ازھاد نے باہر جانے کی کوشش کی مگر پانچ چھ لوگوں نے انھیں دبوچ لیا۔۔
اب ویر نے اپنی گنز نکالی تھی۔۔اور ان کی ٹانگوں کے نشانے لیے۔۔
وہ لڑتے لڑتے باہر آ چکے تھے۔۔
ویر کی سانس اٹکی کیونکہ اسے تھوڑی دیر ہو گئی اور وہ آدمی کنٹینر میں گھس چکے تھے۔۔
وہ کنٹینر کی جانب بھاگا جب بہت اچانک دو آدمی ہوا کی طرح اچھلتے کنٹینر سے باہر گر کر زمین میں پٹخے گئے تھے۔۔
اندر سے ان آدمیوں کی چیخ و پکار اور ہڈیاں چٹخنے کی آواز ائی وہ آگے آیا۔۔
نمیرا ہوگی ۔۔طبیعت خرابی کی وجہ سے منع کرنے کے باوجود ساتھ آنے سے باز نہیں آئی ۔۔
وہ مطمئن ہوتا دوبار دشمن کی طرف متوجہ ہوا۔۔
اور بہت جلد انھیں قابو کر لیا۔۔۔
مگر نیناں ویر سلطان کو دیکھ چکی تھی اس کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی ویر سلطان کو یہاں دیکھ کر ۔۔اگر وہ یہاں تھا تو اس کا مطلب بچیاں محفوظ تھیں،،، پھر اس کا کیا کام تھا یہاں
اور اگر ویر نے یہاں اسے دیکھ لیا تو۔۔۔
اس سوچ نے نیناں کے حلق میں اس کی جان اٹکائی تھی۔۔
اب اسے بھاگنا تھا یہاں سے۔۔
مگر وہ آدمی اسے موقع نہیں دے رہے تھے۔۔ وہ جان توڑ کوشش کر رہی تھی۔۔
پھر آخر اس نے انھیں دھول چٹا ہی دی۔۔
وہ بھاگنے لگی۔۔
جب بچیاں خوف و دہشت سے اس سے لپٹ گئیں۔۔
اس کی آواز سن چکی تھیں سو۔۔۔آپی بچا لیں ہمیں،،، گھر جانا ہے،،، وہ دھاڑیں مار مار کر روئیں
ہیے سنو،،، باہر پولیس ہے اور تمھارا بھیا ہے وہ بچا لے گی تمھیں مگر مجھے جانے دو۔۔۔ہاں
انھوں نے اثبات میں سر ہلایا تو نیناں باہر لپکی۔۔کنٹینر سے اتر کر وہ بائیک کی جانب لپکی۔۔
جب اندر سے آتے ویر اور اس کے ساتھیوں نے اسے دیکھ لیا۔۔
نمیرا سٹاپ،،، دیکھ چکا ہوں میں،،، اب رکو۔۔ویر نے پکارا
نیناں کے قدم وہیں جم گئے ۔۔مگر پھر بھی وہ ان سنی کرتی جانے لگی تبھی ان کے اوپر فائرنگ ہوئی۔۔
ویر اور اس کے ادمی جھکے اور کنٹینر کی اوٹ میں آئے۔۔
ویر یہ دیکھ کر بھنایا کہ نمیرا ابھی بھی بےوقوفوں کی طرح بھاگ رہی تھی۔۔
سنسناتی گولیاں کبھی بھی اس کے آر پار ہو سکتی تھی۔۔ویر بھسم کر دینے والے انداز میں اٹھا۔۔
سنبھالو انھیں اور مجھے کور کرو،،،، یہ بے وقوف لڑکی۔۔۔اس نے دانت پیسے اور اس کے پیچھے لپکا ۔۔۔بجلی کی سی تیزی سے وہ اسے لئے زمین پر گرا تھا کیونکہ اب فائرنگ کی بوچھاڑ اسی بے وقوف پر ہوئی تھی۔۔
واٹس پرابلم یو ،،،،وہ کہتے کہتے بے تحاشا چونکا تھا۔ کمر میں ہاتھ ڈال کر جسے چھوا تھا وہ نمیرا نہیں تھی۔۔
اب تو قبر میں وہ اس کی ہڈیوں کو بھی پہچان لیتا اب تو پھر بھی وہ جیتی جاگتی اس کے سامنے تھی۔۔
ویر کے تاثرات سیکنڈوں میں بدلے تھے۔۔کلائی سے دبوچ کر اسے کنٹینر کی اوٹ میں گھسیٹا۔۔
وہ بری طرح مچلی،، اور اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی مگر بے سود،،،
اب تو شیر کے منہ میں ہاتھ دے بیٹھی تھی۔۔
بہت جلد فائرنگ کرنے والوں کو بھی موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔۔بچیاں بازیاب کروا لی گئیں۔۔۔پولیس بھی پہنچ چکی تھی۔۔
نیناں وقتا فوقتا ایک آہنی گرفت سے اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کرتی رہی مگر وہ تو سرخ چہرے اور آنکھوں کے ساتھ پتھر کا بن چکا تھا۔۔ جیسے نہ کچھ دیکھ رہا تھا نا سن رہا تھا نہ اسے مچلتی کو محسوس کر رہا تھا۔۔۔
صبح کے اجالے چاروں اور پھیلنے لگے تھے۔۔
اب وہاں سے سارا علاقہ کلئیر ہو چکا تھا۔۔ اور وہ کھڑا ازھاد کو ضروری انسٹرکشن دے رہا تھا۔۔
مگر ازھاد کن اکھیوں سے اپنے سر کے ہاتھ میں جکڑی کلائی اور مچلتی اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔سمجھنے میں دیر نا لگی کے وہ کون ہو سکتی ہے۔۔
ازھاد ادھر جھاڑیوں میں شاہ زین کی بائیک ہے وہ بھی لے جاؤ،، اوکے۔۔
ازھاد بھی جا چکا تھا۔۔۔۔
اب وہ اسے لئے اپنی گاڑی تک آیا تھا اور تقریباً گاڑی میں پچھلی سیٹ پر تقریبا پٹخا تھا۔۔۔
کیا کر رہی تھیں یہاں۔۔۔وہ دھاڑا۔۔
وہ بچیاں،،، وہ ،،،انھیں،،، میں،،، وہ گھگھیا گئی۔۔
شٹ اپ ،،،کس کی اجازت سے،،، کس حق سے نیناں درانی،، ابھی کل میں نے کہا تھا حاتم مینشن سے مت نکلنا مگر شاید تمھیں میری ہر بات رد کرنے کا شوق ہے،،، آج میں تمھارا وہ حشر کروں گا کہ دوبارہ میری بات رد کرنے کے قابل نہیں رہو گی۔۔وہ پھنکارا
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی وہاں سے نکالی۔۔ ہوا سے باتیں کرتا وہ کچھ ہی دیر میں گاڑی حاتم مینشن کے پورچ میں رکی تھی۔۔
ویر بھسم کرنے والے انداز میں گاڑی سے نکلا۔۔
تنیں رگیں،،،لہو ٹپکاتی آنکھیں۔۔
جھٹکے سے ڈگی کھولی۔۔اس میں سے پٹرول کی گیلن نکالی اور دھاڑ سے ڈگی بند کی۔۔
نیناں خوف سے سیٹ پر اچھلی تھی۔۔یہ سوچ ہی روح کو فنا کرنے کو کافی تھی کہ اب یہ جلاد اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر اس نے نیناں کا بازو دبوچ کر باہر گھسیٹا۔۔۔
اور اسے لئے آگ بنا اندر چلا۔۔
شاہ زل چھوڑیں مجھے ،،،،درد ہو رہا ہے۔۔چھوڑیں مجھے۔۔وہ بلکتی رہی مگر وہ تو پتھر کا بن چکا تھا۔۔
دھاڑ سے حاتم مینشن میں اپنے روم کا دروازہ کھول کر اسے اپنے واش روم لایا۔۔اور لا کر فرش پر پٹخا۔۔
وہ فرش پر اوندھے منہ گری۔۔دوپٹہ سائیڈ پر گر گیا۔۔
تب وہ تیزی سے سیدھی ہو کر دیوار سے لگی۔۔جبکہ وہ جنونی سا بنا اب اس پر پٹرول چھڑک رہا تھا۔۔
شش،،، شاہ یہ کک کیا کر رہے ہیں آپ۔۔وہ صدمے سے پھٹی بھیگی سرخ آنکھوں سے اس ستمگر کو دیکھ رہی تھی۔۔
نیناں درانی تمھیں زندہ جلا رہا ہوں،،،، دکھائی نہیں دیتا۔۔وہ دھاڑا
اب وہ گیلن ایک طرف پھینک کر پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر لائٹر نکال چکا تھا۔۔
تب اس نے لائٹر جلا کر وہ لائٹر پہلے اس کے دوپٹے پر پھینکا تھا۔۔
نیناں اپنی جانب بڑھتی لمح با لمحہ اس آگ کو دیکھ کر بے تحاشا چیخی اور پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔۔
مگر پیچھے دیوار تھی۔۔
اور اس سے پہلے آگ دوپٹے سے نیناں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ویر نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر جھٹکے سے اسے اٹھایا اور پانی سے بھرے باتھ ٹب میں پھینک دیا۔۔
شدید ترین ٹھنڈ میں ٹھنڈے یخ پانی میں اسے غوطا آیا تھا۔۔وہ بلکتی ٹب سے فرش پر گھسٹتی باہر نکلی
اور سیکنڈوں میں ٹھنڈ سے نیلی پڑ کر تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔
اب ویر اسے بازو سے دبوچ کر کمرے میں لایا اور بیڈ پر پٹخا۔۔وہ نیلی پڑتی نیم بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔
ویر نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔۔۔اور زور سے آنکھیں اور جبڑے بھینچے۔۔
وہ بھیگ چکی تھی۔۔مر رہی تھی اور یہ بھی بات اسے کہاں گوارا تھی۔۔
یونہی طوفان بنا باہر نکلا۔۔ کچھ دیر میں واپس آیا تو اس کے ہاتھوں میں نیناں کے کپڑے تھے۔۔
بیڈ پر جھک کر اسے کندھوں سے جھنجھوڑا۔۔
ہیے یو۔،،،،نیناں اٹھو اور کپڑے چینج کرو۔،،،،،وہ غرایا۔
اس نے نیم جاں سی آنکھیں کھولیں ۔۔۔
شاہ،،، ممم،، مجھے مرنے دو،،،، وہ اسے خود پر جھکے دیکھ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
نو۔۔۔نیور۔۔میرے آخری سانس تک تمھیں یہ میری نفرت اور محبت اپنی جان پر جھیلنا ہے نیناں درانی۔۔۔اب اٹھو ۔۔اگر سیکنڈز سے پہلے نا اٹھیں تو یہ کام بغیر کسی رشتے کے میں خود کرتے ہوئے میں ایک پل بھی نہیں سوچوں گا۔۔
وہ دھاڑا تو وہ بمشکل اٹھی۔۔وہ دھاڑ سے دروازہ بند کرتا باہر جا چکا تھا۔۔
اس نے بڑی مشکل سے چینج کیا اور پھر بیڈ پر ڈھے گئی۔۔اب وہ اندر آیا تو ڈاکٹر اس کے ساتھ تھا۔۔
ڈاکٹر نے اسے انجیکشن لگایا۔۔۔اور خاموشی سے باہر چلا گیا۔۔
کیوں بچا رہے ہیں مجھے جب مارنا چاہتے ہیں،،،، جلانا چاہتے ہیں ،،،وہ بے بسی سے چلائی۔۔
وہ پھر بھنایا اس کی جانب لپکا اور گردن سے پکڑ کر اسے اوپر اٹھا کر اپنے رو برو کیا۔۔
آواز نیچی کرو نیناں درانی،،، نہیں تو سچ مچ بند کر دوں گا اسے ہمیشہ کے لئے ۔۔دماغ تو کچھ ایسا ہی کرتا ہے میرا کہ تمھیں تڑپاؤں،، ،اور اتنا تڑپاؤں کے گڑگڑاؤ میرے آگے،،، بھیک مانگو مجھ سے رحم کی،،،، اتنی تکلیف دوں کہ تمھاری روح کانپ جائے ۔۔
وہ کہتا اسے واپس بیڈ پر پٹخ کر تن فن کرتا جا چکا تھا۔۔
پیچھے وہ سرخ آنکھیں اور چہرہ لیے بھیگی پلکوں سے زخمی سا مسکرائی ۔۔
یہ تو بتا کر ہی نہیں گئے شاہ زل سلطان کے تمھارا دل کیا کرنے کو کہتا ہے۔۔
اتنے شور شرابے کی آواز سے روپ اپنے روم سے باہر آئی تھی۔۔
شاہ زل کو اتنے غصے میں حاتم مینشن سے نکلتے دیکھ وہ بھاگ کر نیناں کے روم میں گئی تھی۔۔
مگر وہ وہاں نہیں تھی۔۔
پھر وہ ویر کے کمرے میں آئی تھی۔۔بیڈ پر نیناں کو ایسی حالت میں دیکھ کر روپ کی روح فنا ہوئی۔۔
فورا پلوشہ اور شاہ ویر کو فون کر کے حاتم مینشن بلایا۔۔۔۔
Continue,,,,,,,,,,,,,,,,,,
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
