Rate this Novel
Episode 12
سہانا ایک ہفتے سے یونی نہیں گئی تھی۔۔
اب اپنے روم میں بیٹھی کسی کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔
جب ارشد کاکا دروازہ ہلکے سے ناک کر کے روم میں داخل ہوئے مگر سخت تذبذب کا شکا ر تھے۔۔
کیونکہ ان کے ہاتھ میں کچھ پیپر تھے۔۔
سہانا بے بی یہ غلط بات ہے بیٹا،،، شبیر صاحب کو پتا چلے گا تو انھیں کتنا افسوس ہوگا،،، اور اگر سب کو حقیقت پتا چل گئی تو اور زیادہ انسلٹ ہوگی آپ کی یہ مت،،،،،،،،
مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں کاکا،،،، کون بتائے گا کسی کو،، آپ پشتوں سے ہمارے وفادار ہیں ۔۔پاپا کے وفادار ہیں تو مجھے بھی آپ پر بھروسہ ہے،،،
مگر آپ بہت غلط کرنے لگی ہیں آپ جانتی ہیں اس کا انجام ،،،،،
اس نے میری محبت کو میری ضد اور جنون بنا دیا کاکا،،،، اب اسے میری محبت میرے عشق کی ،،،کی گئی تزلیل کا حساب دینا ہوگا،،،
تھوڑی سی انسلٹ تو اسے بھی کروانی پڑے گی محبت میں ،،،
اسے میرا ہونا ہوگا،،، ہر حال میں ہر قیمت پر،،، اب میں اس سے محبت کی بھیک نہیں مانگوں گی،،،بلکہ چھین لون گی اسے اسی سے،،
اب آپ وہی کرنا جو میں نے آپ سے کہا ہے،،، کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہئے کاکا،،، نہیں تو میں سیوسائیٹ کر لوں گی،،، جس کے زمہ دار صرف آپ ہوں گے،،،
وہ صدا کی ضدی ،،،خود سر ہٹ دھرمی سے بولی۔۔
ناسمجھ تھی،،،، ضدی،،، خود سر،،، نہیں جانتی تھی کتنا بڑا نقصان کرنے چلی ہے۔۔
نہیں جانتی تھی کسے جھکانے چلی تھی،، اسے یا خود کو
کسے توڑنے چلی تھی اسے یا خود کو،،
ایک مرتبہ پھر سوچ لیں سہانا بےبی یہ بہت غلط،،،،
کاکا پلیز مجھے مت سمجھائیں ،،،
Every thing is fair love and war,,,,,,
مجھے وہ چاہیے ،،،،،ہر حال میں،،، ہر قیمت پر
اس کی آنکھوں میں جنون غصہ،اور ناراضگی تھی،،،
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا ڈائمن کو زبیر سے،،،
تمھاری جرات کیسے ہوئی اس سے یہ رشتہ جوڑنے کی ۔۔میں نے تمھیں اسے برباد کرنے بھیجا تھا یا آباد کرنے،،،، سلطانز سے رشتہ داریاں کرنے،،،، کیسے کیا تم نے یہ ڈائمن،،، یہ نکاح کیوں کیا۔۔تمھاری ہمت کیسے ہوئی،،، جولی پھنکاری جیسے دم پر پاؤں آیا ہو۔۔۔۔۔
او کم آن مام،،،،، میں اس کے ساتھ وہی کروں گا جو اس کے باپ نے آپ کے ساتھ کیا،،، اسے اس کے باپ سے چھین کر ساری زندگی کے لئے اسے تڑپاؤں گا،،،،، وہ میری ضد بن چکی ہے،،، اپنے پاس رکھوں گا میں اسے،، کھلونا بنا کر،،، اس کے لئے یہ ڈرامہ کرنا ضروری تھا آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں ۔۔
وہ جھنجھلایا۔۔
(جھوٹ بول رہا تھا،،،، بکواس کر رہا تھا،،،، نکاح کے وقت ایسی کوئی بات نہیں تھی اس کے دل میں )
جولی خاموش ہو گئی ،،،،،
آج میں اسے ہر قیمت پر حاصل کر لوں گا اور یہ اس شاہ زر سلطان کی سب سے بڑی ہار ہوگی ،،میرا پلان آج کے لئے بھی پرفیکٹ ہے،،
اب جانے دیں مجھے،، وہ تن فن کرتا وہاں سے نکلا۔۔۔
پاکٹ سے موبائل نکال کر جینیفر کو کال ملائی اور اس سے کہا کہ نیناں سے بات کروائے۔۔
نیناں جب فون پر آئی تو وہ بولا،، سنو نیناں ویر سلطان کو الجھا کہ رکھنا آج،،،،، سب سے بڑا داؤ کھیلنے جا رہا ہوں میں،،،،
اوکے برو،،، نیناں نے کہا تو ڈائمن نے فون کٹ کر کے دوسرے فون سے ویر کو کال ملائی۔۔
ہائے برو،،، اریش چہکا۔۔۔
ہائے ۔۔۔واٹس اپ،،،، ؟کوئی خاص بات،،، ویر مصروف سا بولا
وہ برو میں مطربہ کو لنچ کے لئے گھر لے جانا چاہتا ہوں،،، پرمیشن ہے،،،،،، مما نے انسسٹ کیا ہے۔۔۔
اوکے لے جانا،،، مگر اس کا خیال رکھنا،،، ویر نے فکر سے کہا۔۔
شیور برو۔۔۔
وہ پراسرار مسکراہٹ لیے بولا اور فون رکھ دیا۔۔
بیری تمھیں آج میرا ہونا ہوگا ہمیشہ کے لئے۔۔۔۔۔آج یہ ڈائمن ڈیول ہمیشہ کے لئے تمھیں اپنا بنا لے گا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
جینیفر کا فون آیا تھا۔۔اور جو خبر اس نے ویر کو سنائی اسے ہلا کر رکھ گئی تھی۔۔
اس نے کہا کہ نیناں بازار گئی تھی اور ایکسڈینٹ ہو گیا وہ فورا ھوسپٹل پہنچے۔۔
وہ فوراً باہر نکلا تھا۔۔
تیزی سے گاڑی بھگائی ۔۔
پانچ دس منٹ لگے تھے ہو سپیٹل پہنچنے میں ،،،
پیشنٹ کا نام وغیرہ بتانے پر روم نمبر پتا چلا تو وہ تیز قدموں سے روم کی جانب بھاگا۔۔
روم میں پہنچا تو سامنے ہی وہ بیڈ پر لیٹی تھی۔۔سر پر اور پاؤں پر پٹی بندھی تھی اور وہ بے ہوش تھی۔۔
جینیفر فکر مند سی اس کے پاس بیٹھی تھی۔۔
وہ آگے آیا۔۔۔کیا ہوا؟ ہ سب کیسے ہو گیا؟
نہیں جانتی ۔۔یہ تو آنٹی کی میڈیسنز لینے بازار گئی تھی ۔۔لوگ کیی رہے تھے ایک ینگ سا لڑکا جو ابھی ڈرائیونگ سیکھ رہا ہو گا،،،، کار سے ٹکر مار گیا،،
کوئی پریشانی کی بات،،،، ویر نے پہلو بدلہ۔۔
نہیں خاص نہیں ،،،مگر سر کے پچھلے حصے پر گہری چوٹ ہے،، ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ اسے آرام کی سخت ضرورت ہے نہیں تو درد ہوگا ۔۔اسی لئے اسے بے ہوشی کا انجکشن لگایا،،، گئے رات ڈسچارج کریں گے۔۔۔
جینفر پریشان سی بولی،،،
اٹس اوکے،،، تم ابھی گھر جاؤ،،،اور آنٹی کی دیکھ بھال کرو،،، میں ہوں نیناں کے پاس ،،،
لیکن،،،،
نو آ رگیو،،، کوئی پرابلم نہیں ویسے بھی میں ابھی فری ہوں،،، مگر تمھیں تو جاب پہ جانا ہے ناں۔۔
ویر نے کہا تو جینفر نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔اور چلی گئی ۔۔۔
ویر اس کے سرہانے بیٹھ کر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔
چند دن
صرف چند دن لگے تھے اس لڑکی کو خون بن کر اس کی رگوں میں شامل ہوتے۔۔
وہ خود حیران تھا کہ وہ کای چیز تھی جو اسے اس چھوٹی سی لڑکی کی جانب بری طرح کھینچتی تھی۔۔
وہ کرنے کیا آیا تھا۔۔۔مگر اس کی زندگی یوں بدل جائے گی سوچا نا تھا۔۔
یہ سچ تھا کہ انھوں نے اپنے مقصد سے ایک دن ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں غفلت برتی تھی۔۔
مگر یہ بھی سچ تھا کہ وہ اپنی ڈیوٹی سے ہٹ کر بھی اب اپنے لئے کچھ کرنے لگا تھا۔۔
اور اسی میں سب سے بڑا نقصان تھا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اریش کا فون آیا تھا۔۔۔اسے تیار ہونے کا بولا ۔۔۔وہ ٹال مٹول کرتی رہی مگر اس نے ایک نا سنی۔۔یوں بھی اس نئے رشتے کہ بعد وہ اس کے سامنے جانے سے جھجھک رہی تھی۔۔
یہ بھی بہانہ رد کر دیا کہ ویر نہیں مانے گا کیونکہ اس سے تو وہ پہلے ہی پرمیشن لے چکا تھا۔۔
پرپل فارک کے نیچے جینز کی ٹائٹس اور پرپل سکارف لئے یکلا سا پنک گلوز لبوں پر لگایا۔۔
اور گھنے سیاہ لمبے بالوں کی اونچی سی پونی ٹیل کی۔۔
اس تیاری میں بھی وہ غضب کی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
تبھی اریش کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو وہ اپنا ہنڈ بیگ اور موبائل لئے باہر آئی۔۔
اریش نے اسے گہری نظر سے دیکھا اور دل میں اتارا۔۔
مطربہ کو پھولا منہ دیکھ کر وہ مسکرا دیا۔۔
کیا ہوا مسز بیری اریش،،،، اس نے چھیڑا
چپ رہو آپ،،،،،، مینڈک سے،،،، ہر وقت ٹر ٹر کرنا ضروری ہے۔۔۔وہ بھنائی۔۔
تو مینڈک بھی تو ٹر ٹر تبھی کرتا ہے جب اپنی مادہ کو خود کی طرف متوجہ کرنا ہو،،،،، وہ اسے لاجواب کر گیا،، اور میں تو تمھارے لئے ڈانسنگ فراگ بھی بن سکتا ہوں ۔۔وہ جو ساون میں ڈانس کرتا ہے اور اپنی مادہ کو متوجه کرتا ہے،،،
اب کی بار تو مطی کھلکھلا کر ہنس پڑی،، وہ مبہوت سا جیسے نقرئی گھنٹیوں کی آواز سنتا شرہا۔۔۔
یہ جانے بغیر کے آج کے بعد وہ اپنی بیری کی ہنسی کی آواز کم از کم نہیں سن پائے گا۔۔
مطی کو کچھ غیر معمولی لگا تو پوچھ بیٹھی،،،اریش ہم کہاں جا رہے ہیں یہ تو گھر کا رستہ نہیں،،،
ہم میرے فرینڈز سے ملنے جا رہے ہیں سوئیٹ ہارٹ صرف انھوں نے تمھیں دیکھنا ہے،، مل کے فوراَ واپس آ جائیں گے۔۔
مطی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے باہر رکی ۔۔۔وہ دونوں باہر آئے۔۔۔اریش نے اس کا ہاتھ تھاما اور وہ اندر کی جانب بڑھے۔۔
اندر ایک ٹیبل پر اریش کے فرینڈز تھے۔۔ان میں تین لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔۔وہ ٹیبل تک گئے۔۔
وہ بڑی گرمجوشی سے انھیں ملے۔۔
تعارف ہوا۔۔اریش نے جانے کے لئے اجازت چاہی مگر انھوں نے بس ان کے ساتھ ایک ایک سوفٹ ڈرنک پینے کی فرمائش کی۔۔
اریش نے تو منع کر دیا مگر مطی نے ان کے اصرار پر حامی بھر لی۔۔
تبھی ڈرنک سرو ہوا۔۔ انھوں نے خوش گپیوں کے بیچ ڈرنک ختم کیے۔۔
اریش فوراَ اٹھا۔۔اور مطی کو لئے باہر آیا۔۔
دونوں گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی پھر سے چل پڑی۔۔
ابھی پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ مطی کا سر زور سے چکرایا اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔۔
کیا ہوا بیری،،، اریش بظاہر پریشان ہوا۔۔یہ سارا کیا دھرا اسی کا تو تھا جس نے اپنے آدمیوں کے زریعے اس کی ڈرنک میں نشہ آور گولی ملائی تھی۔
میرا سر چکرا رہا اریش بری طرح ،،،وہ بولی۔۔
میں اسی لئے ہی نہیں رک رہا تھا وہاں سوئیٹ ہارٹ ،،،،جانتا تھا وہ اپنی عادت سے مجبور ہیں،،، ضرور مزاق کریں گے،،،، اور دیکھو انہوں نے تمھیں کوئی نشہ آور چیز دے دی ہے۔۔۔
وہ فکر سے بولا۔۔
واٹ،،، یہ کیا بے ہودہ مزاق ہے،، مطی کی آنکھیں بند ہوئی جا رہی تھیں ۔۔
تبھی اچانک گاڑی پر فائرنگ ہوئی۔۔
اریش جلدی سے اسے لئے نیچے جھکا۔۔ مطی گھبرائی۔۔۔اب تو کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔۔
اریش نے جلدی سے گاڑی بھگائی۔۔
فائرنگ کرنے والے ان کے تعاقب میں تھے۔۔اور مسلسل ان پر فائرنگ کر رہے تھے۔
پتہ نہیں کون ہیں ،،، اور کیا چاہتے ہیں،،، پولیس کو میسج کیا ہے جانے کب پینچے،،، اریش نے ایک اور جھوٹ بولا۔۔
مطی جھجھکتی بولی۔۔اریش میری وجہ سے آپ بھی مصیبت میں پھنس چکے ہو،،، یہ میرا پیچھا کر رہے ہوں گے۔۔
کیا مطلب؟ وہ جان بوجھ کر چونکا،،
وہ اریش میں،،، میں ایک سی آئی ڈی آفیسر ہوں،،،، مطی نے بتایا تو اریش خاموش ہو گیا۔۔
تفصیل بعد میں بتانا بیری،، ابھی مجھے کونسٹریٹ کرنے دو کہ محفوظ مقام تک کیسے پہنچا جائے۔۔
مطی کی آنکھیں بند ہوئی جا رہی تھیں ۔۔
اریش ویر کو کال کرو۔۔وہ ہوش میں رہنا چاہتی تھی۔۔
بیری موقع ملے تو تب ناں وہ مسلسل فائرنگ کر رہے ہیں اور تم اس پوزیشن میں ہو نہیں کے کال کر سکو۔۔۔
اریش بولا۔۔تبھی وہ گاڑی لئے اپنی پلین کی گئی جگہ پہ لے کر مڑا۔۔
مطی بے ہوش ہو چکی تھی وہ اسے لئے درختوں سے گھرے ایک بہت خوبصورت لکڑی سے بنے کاٹیج میں آیا تھا۔۔
گاڑی باہر پارک کی۔۔باہر آ کر مطی کی جانب آیا اور اسے بانہوں میں بھرا۔۔
اتنی دیر میں اس کے آدمی آئے اور گاڑی لے کر چلے گئے جس میں ان کے موبائل فونز بھی تھے۔۔
وہ اسے لئے اندر آیا۔۔
روم میں آ کر ڈور پاؤں سے آٹو لاک کیا۔۔
دھیمے قدموں دھڑکتے دل کے ساتھ چلتا وہ بیڈ تک آیا۔۔اور اپنی بیری کو بیڈ پر نرمی سے لٹایا۔۔
زرا سا پیچھے جھک کر اس کے پاؤں سینڈل سے آزاد کیے۔۔
خود بھی اس کے قریب ہی نیم دراز ہو گیا۔۔وہ مطی کی جانب بائیں کروٹ لیے اپنا بازو اپنے سر کے نیچے لئے اب بغور اس کا معصوم چہرہ دیکھنے میں مصروف تھا۔۔
پھر وہ اسی سے مخاطب ہوا۔۔
میری بیری،،، تم اتنی انوسنٹ کیوں ہو،،،،،ویسی کیوں نہیں جیسی میری مما مجھے بتاتی ہیں ،،،،بہت الجھن ہے،،، کل جب میں تمھارے قریب آیا تو تمھارا ڈرنا،،، گھبرانا،،، اور وہ تمھارا بلش کرنا مجھے پاگل کر گیا۔۔
یقین کرو میرا اگر تم کل میری پیش قدمی ویسے قبول کرتی جیسے میری ماما کہتی ہیں تو میں یہ سب نہیں کرتا،، پلٹ کر دیکھتا بھی نہیں تمھاری طرف،،،،
مگر تم،،، تم نے جانے مجھ پر کیا جادو کیا ہے کہ اب تمھاری طلب اور عشق میری رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔۔
یہ وحشتِ عشق ہی تو ہے جو مجھے میرے مقصد سے بھٹکاتی ہے۔۔
تمھارے پاپا نے میری ماما کے ساتھ بہت برا کیا۔۔اسی لئے اسے سزا ملے گی۔۔
مگر تم،،، تمہیں تو میں ساری زندگی اپنی بانہوں میں بسا کر رکھوں گا۔۔
اب اس نے قریب ہو کر ہاتھ کے انگوٹھے سے اس کہ نازک گلابی لب سہلائے تھے۔۔
گردن کے نیچے لے جا کر ہاتھ اس کے آبشار کی طرح خوشبو میں بسی زلفیں پونی سے آزاد کر دیں،،،،
اس وقت مجھے کچھ یاد نہیں میری بیری،،، میں دنیا بھول جانا چاہتا ہوں ،،،وہ اس پر جھکا اس کی گردن پر دہکتے لب رکھے۔۔
پھر اوپر ہو کر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا۔
بیری یہ سب،،،، کچھ بھی غلط نہیں ہے سنا تم نے،،، عقیدت سے ماتھے سے ماتھا ٹکایا،،، اس وقت اگر مجھے کچھ یاد ہے تو وہ اتنا کہ میری بانہوں میں میری شرعی اور قانونی بیوی ہے،، یہ رشتہ بلکل جائز ہے۔۔
ہاں میں ناجائز طریقے سے اپنا حق وصول کر رہا ہوں مگر مجبور ہوں میری بیری۔۔
یہ کہہ کر اس نے اس کے نازک گداز لبوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لیا تھا۔۔
کندھوں پر سرسراتے اریش کے ہاتھ مطی کی فراک نیچے کھسکا چکے تھے۔۔
وہ اسے چھو رہا تھا۔۔۔اسے محسوس کر رہا تھا۔۔لمحہ با لمحہ اس کی روح میں سما رہا تھا۔۔
واقعی وہ دنیا بھول گیا تھا۔۔یاد تھا تو اتنا کہ وہ اب اپنی بیری کے بغیر ایک پل بھی زندہ نہیں رہ پائے گا۔۔
وہ اسے پا چکا تھا۔۔اس کے وجود کو خود میں سمیٹ چکا تھا۔۔اس کی خوشبو اپنی روح میں بسا چکا تھا۔۔
اسی لئے اب پرسکون سا ہو کر آنکھیں موند لیں تھیں۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کچھ گھنٹوں کے بعد مطی کی آنکھ کھلی۔۔
خود کو جس حالت میں اور جس کنڈیشن میں اریش کی بانہوں میں پایا اس کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی آسمان سر پر گرا تھا۔۔
خود کو سنبھال کر واش روم گئی۔۔فریش ہو کر وہیں فرش پر گھٹنوں میں سر دیئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
یہ کیا ہوا تھا اس کے ساتھ۔۔
ادھر اریش کی ابھی کچھ دیر پہلے آنکھ لگی تھی ۔۔مگر دبی دبی سسکیاں سن کر وہ ہڑبرا کر اٹھ بیٹھا۔۔
بیری۔۔۔بیری۔۔وہ آوازیں دیتا تڑپ کر واش روم آیا۔۔۔
ہے یو،، ڈونٹ وری جان کچھ غلط نہیں ہوا ہم دونوں لیگلی ہزبینڈ وائف ہیں یار۔۔۔وہ گھٹنوں کے بل اس کے سامنے جھکا اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا
اس کی بھیگی پلکیں لرزتا وجود اریش کو تکلیف دے رہا تھا۔۔
کک کیا ہوا تھا اریش،،، وہ زارو قطار روتی پوچھنے لگی شاید یہ جاننا چاہتی تھی کہ اس میں اس کا کتنا قصور تھا۔۔
ہماری گاڑی پر فائرنگ ہو رہی تھی،،،،گاڑی کا ٹائر پھٹا تو وہ بے کار ہو گئی میں بڑی مشکل سے تمھیں وہاں سے لے کر نکلا ہمارے موبائل بھی گاڑی میں رہ گئے ،،،،یہ میرے قریبی دوست کا کاٹیج ہے جس کی ڈوبلیکیٹ کی ہوتی ہے میرے پاس،،،
وہ لمحہ بھر کو چپ ہوا۔۔ہم یہاں آئے تو تم نشے میں تھیں اور،،،،
اور میں بھی خود پر قابو نہیں پا سکا۔۔۔وہ شرمندہ سا بولا۔۔
تو وہ مزید پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
او کم آن میری جان،،، ہم نے کوئی گناہ تو نہیں کیا۔۔۔پاکستان جاتے ہی ہم اس نکاح کا اعلان کر دیں گے،،، وہ اس کا سر سینے سے لگائے اس کی پیٹھ سہلاتا اسے تسلی دیتا بولا
پرامس کرتا ہوں بیری سب کچھ ٹھیک کر دوں گا،،، کچھ غلط نہیں ہوا ہے،، بی بریو ڈمپل گرل،،،
وہ بولا تو اس کے رونے میں کچھ کمی آئی۔۔اس نے پیچھے ہو کر اریش کی آنکھوں میں جھانکا۔۔
اریش کی آنکھوں میں اپنے لئے محبت،،، عقیدت و احترام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھا تو اسے کچھ تسلی ہوئی۔۔۔
اے بے بی گرل سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ہاں۔۔۔پریشان نہیں ہونا،، وہ یہ قیمتی آنسو اپنے لبوں سے چنتا بولا
وہ پھر بلش کر گئی۔۔
بھیگی پلکوں سمیت گھبرا کر پیچھے ہٹی۔۔
وہ پرشوق نگاہوں سے اس کا گلابی پڑتا چہرہ دیکھنے لگا،،
کچھ ہی دیر کے بعد وہ کاٹیج سے نکلے،،،
شام ڈھلے اریش اسے لئے اس کے گھر تک آیا تھا۔۔
اے بیری،،، گھبرانے کی یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،،، سب کچھ ٹھیک کر دوں گا میں ،،،،،ہاں،،،وہ جانے کیوں بار بار اس کی رونے کی شدت سے سرخ پڑتی آنکھیں دیکھ کر تسلی دے ریا تھا۔۔
وہ بغیر کچھ کہے اپنے روم میں بھاگ آئی اور خود کو کمرے میں لاک کر کے بال مٹھیوں میں جکڑ کر پھر بے تحاشا رو دی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
