Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

صبح صبح ایس ولا کے در و دیوار تک ہل چکے تھے۔۔۔۔ جیسے ایک بھونچال سا آ گیا ہو۔۔۔۔

شبیر احمد عثمانی مشہور سیاسی لیڈر جو کہ پاکستان کے وزیر اعلیٰ پنجاب تھے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔۔
اور اپنے کمرے سے باہر آئے۔۔۔

یقیناً ان کی اکلوتی آفت نے آندھی مچائی ہوگی۔۔۔ وہ لاؤنج سے نکل کر کچن تک آئے جہاں سے آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔

اور توقع کے عین مطابق ان کی آفت بیٹی سہانا نے کچن میں طوفانِ بدتمیزی مچا رکھا تھا۔۔۔

جو شدید طیش میں کچن سے برتن اٹھا اٹھا کر کچن کے فرش اور لاؤنج پر پٹخ رہی تھی۔۔۔۔برتن چھناکے سے ٹوٹ رہے تھے
تمام سرونٹس سر جھکائے لائن میں کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔

کسی میں بھی ابھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ سہانا بے بی کو روک سکے۔۔۔
اور یہ یقیناً اس بات کا غصہ تھا کہ اس کی روز روز کی شکایتوں سے تنگ آ کر شبیر احمد نے اسے کینیڈا سے واپس بلوا لیا تھا۔۔۔

اسے وہاں پڑھنے بھیجا گیا تھا۔۔۔مگر وہ وہاں اپنی تہزیب، روایات اور اقدار بھول کر پرائے ملک کے رنگ میں رنگتی جا رہی تھی۔۔

سو شبیر نے یہی مناسب سمجھا کہ سہانا کو اس کی مرضی کے خلاف واپس بلا لیا۔۔

وہ جتنے نرم اور دھیمے مزاج کہ ایک مہربان انسان تھے.۔۔۔ ان کی بیٹی اتنی ہی منہ زور، ضدی اکھڑ اور بدتمیز۔۔۔
شبیر احمد نے اپنی تمام زندگی اس ملک کی خدمت کے لئے وقف کر دی۔۔

سہانا کی پیدائش کے چند سال بعد ہی ان کی عزیز از جان بیوی ماہ پارہ کا انتقال ہو گیا۔۔
شبیر احمد تو سیاست میں مصروف رہے،،، اور سہانا گورنس کے ہاتھوں پل کر بڑی ہوئی۔۔

ماں کی کمی باپ کی بے توجہی نے اس کی شخصیت کو مسخ کر رکھ دیا تھا۔۔۔کئی کمیاں تھی اس کی شخصیت میں۔۔۔

جن کا شبیر احمد کو اب احساس ہوا۔۔۔
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔ اب تو دعا ہی کی جا سکتی تھی کہ اس کی زندگی میں کچھ ایسا ہو جو اسے سدھار دے۔۔
ایڈمیشن یونی میں کروا چکے تھے۔۔۔ اور آج اس کا فرسٹ ڈے تھا

شبیر نے آ کر اس کا ہاتھ روکا۔۔۔ سہانا بےبی یہ کیا طریقہ ہے،،، لہجے میں نرمی تھی.،،، ،،،

پاپا میرا یونی کا فرسٹ ڈے ہے اور انھوں نے مجھے لیٹ کروا دیا،،،، وہ غرائی۔۔۔ ایک تو بریک فارسٹ اتنی لیٹ دیا اوپر سے اتنا یوز لیس،،،، ،،تو اس کی یہی سزا تھی،،،،

اوکے۔۔ فائن میں اپنی ڈول کو اس کی پسند کا بریک فاسٹ بنوا کر دیتا ہوں،،،،،ادھر آؤ،،،،،، فہمیدہ یہ سب صاف کرواؤ اور جو بےبی نے کہا ہے بلکل ویسا بریک فاسٹ بنوا کر لاؤ،، ۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

یونی کے گراونڈ میں وہ تینوں مگن سے بیٹھے تھے۔۔۔

دو دن تھے اسائنمنٹ سبمنٹ کروانے کے لئے۔۔۔ شاہ زین تو بکس کنگھال رہا تھا۔۔
جبکہ حمزا اور فارس خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔
دو بج چکے تھے۔۔۔بس وہ نکلنے ہی والے تھے۔۔۔

تمھیں پتہ ہے حمزہ آج یونی میں ایک قیامت آئی ہے،،،،،،،،فارس نے شرارت سے کہا

کیا مطلب،، ،،،،،حمزہ ناسمجھنے والے انداز میں بولا۔۔۔

یار بی ایس سی ڈیپارٹمنٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی صاحبزادی تشریف لائی ہیں،،،، ،،پوری یونی ہلا دی ہے محترمہ نے،،،،،وہ اب ہنس رہا تھا۔۔۔

کیوں کیا کیا، ؟ اب حمزہ کو بھی دلچسپی ہوئی۔۔۔ جبکہ شاہ زین انتہائی غیر دلچسپی سے پیپرز پر جھکا ہوا تھا۔۔۔

وہ تینوں بلکل ہم مزاج تھے۔۔۔لڑکیوں سے دور بہت دور بھاگنے والے۔۔
یونی میں اسی لئے تو ان کہ اس منی گروپ کو
Anty girl group
کہا جاتا تھا۔۔۔

اسی لیے تو گہرے دوست تھے۔۔۔ مگر آج جو یونی میں ہنگامہ ہوا تھا اس نے فارس کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی۔۔۔۔

ہونا کیا ہے،،،، ،،پورے ڈیپارٹمنٹ کے لڑکے پاگل ہو گئے محترمہ کے حسن سے متاثر ہو کر،،،، ،،ایک نے تو جوشِ جزبات میں فوراً پرپوز بھی کر ڈالا اور چھتر کھائے آج،،،،شاید گھر سے ہی لڑ کر آئی تھی محترمہ ،،،،،،،ہاہاہا ہاہاہا

دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔۔۔۔شاہ زین بھی مسکرایا۔۔۔ڈمپل نے نمائش کی۔۔۔

مجھے تو ایسی دبنگ لڑکیاں بہت پسند ہیں،،،، فارس نے اپنی پسند بتائی۔۔۔

اور مجھے بھی،،،، ،حمزہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔۔اور تمھیں شاہ زین؟،،، ،،،لگے ہاتھوں شاہ زین سے بھی پوچھا گیا

سوری میرے بھائی،،،، ،مگر مجھے ایسی توپ اور آفت لڑکیاں بلکل نہیں پسند،،، ،لڑکیوں کو تو بلکل میری مما کی طرح ہونا چاہیے،، بلکل انوسنٹ، دھیمے اور نرم مزاج کی،،،، خاموش طبع،،، اور شرمائی سی،،،باپردہ،،،، وہ گہرا مسکرایا

حمزہ اور فارس کا دل کیا ماتھا پیٹ لیں۔۔۔۔ او میرے بھائی
Mama’s boys
یار کبھی ممی سے ہٹ کر بھی کچھ سوچ لیا کرو۔۔۔۔فارس سے رہا نا گیا تو ٹوک دیا.

نو،،،، ہر گز نہیں،،،، میں نے شروع دن سے اپنی مما کو آئیڈئلاز کیا ہے،،،اور اگر کبھی کسی کو اپنی زندگی میں شامل کیا تو اس میں تمام کوالٹیز وہی ہوں گی جو میری مما میں ہیں۔۔۔۔ بلکل میری مما جیسی،، وہ لاپرواہی سے بولا۔۔۔

اوکے یار دعا کریں گے کہ تمھارے دل کی خواہش جلد پوری ہو۔۔۔۔ چلو چلنا نہیں ہے کیا،،، ،،،؟ فارس نے پوچھا۔۔۔

نہیں تم دونوں جاؤ مجھے لائبریری سے ضروری بکس لینی ہیں،،،، ،شاہ زین کا اب لائبریری جانے کا موڈ تھا۔۔
سو وہ دونوں اٹھ کر چلے گئے ۔۔
شاہ زین لائبریری کی طرف چلا آیا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ویر اور مطربہ ہیڈ کوارٹرز آفس میں داخل ہوئے تھے…

وہ دونوں اجازت لے کر کرنل وسیم کے آفس میں داخل ہوئے جنھوں نے اسپیشل انھیں بلایا تھا
کرنل وسیم نے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔

وہ چئرز پر ان کے سامنے بیٹھے تو کرنل وسیم نے بات شروع کی۔

مسٹر شاہ زل سلطان آپ کو ایک انتہائی اہم اور حساس مشن سونپنا چاہتا ہوں،،،،، کیونکہ اس مشن کے لیے انتہائی شارپ اور فزیکلی اور مینٹلی سٹرونگ آفیسرز کی ضرورت ہے تو مجھے آپ کا اور مس مطربہ کا نام سجیسٹ کیا گیا ہے،،یہ کیس اتنا حساس ہے کہ اگر دائیں ہاتھ سے کام کر رہے ہیں تو بائیں ہاتھ کو بھی نا پتہ چلے،،،بلکل صفائی سے،، اگر راستے سے کسی کو ہٹانا پڑے تو وہ یوں غائب ہو کہ اس کا سایہ تک نا ملے ،،ایسا ہی کچھ،،،، ،،کیا آپ ریڈی ہیں،،،،

دل و جان سے سر،،، آپ بھروسہ کر سکتے ہیں،،، شاہ زل اطمینان سے بولا

میں پہلے آپ کو آزمانا چاہوں گا۔۔۔ آپ کو کوئی اوبجیکشن،،، ،،،؟

No sir,,,,,,, its my pleasure,,,,,
وہ اسی اطمینان سے بولا.

تو ٹھیک ہے آفیسر،،،، ،،کرنل نے اپنی سائیڈ ڈرار سے ایک تصویر نکال کر ٹیبل پر شاہ زل کے سامنے رکھی…… یہ آدمی مجھے چاہیے زندہ یا مردہ،،،، ،چیلنج یہ ہے کہ یہ ہمیشہ پبلک پلیسز میں چھپتا ہے۔۔۔۔

Something like that
بھیڑ میں چھپ جانا،،،، ہمیں پتہ ہے کہ یہ کہاں ہے مگر پبلک پلیس کی وجہ سے اسے پکڑ پانا ہی ایک چیلنج ہے،، آپ سمجھ گئے نا میری بات،،،، ،،کہ بھیڑ میں بھی کسی کو کان و کان خبر نا ہو اس کے غائب ہونے کی،،،، یہ اس وقت لاہور میں ہے،،، ،کب کہاں آپ کو بتا دیا جائے گا،،،، آپ آج،،، بلکہ ابھی لاہور کے لئے نکل جائیں

جی سر،،،، ،،ہو جائے گا سر،،، ،،،،

کرنل نے انٹرکام اٹھایا اور کسی کو اندر آنے کیا کہا۔۔۔۔
تبھی دو نفوس اندر داخل ہوئے
شاہ زل کو خوشگوار حیرت ہوئی کیونکہ ان میں سے ایک تو اس کا بیسٹ فرینڈ ازھاد تھا۔۔۔

ان سے ملئے مسٹر شاہ زل سلطان،،،، یہ ہیں انسپکٹر ازھاد اور یہ ہیں انسپکٹر نمیرا،،، یہ اگلے کیس میں آپ کے انڈر کام کریں گے،، مگر میں چاہتا ہوں آپ کو ٹیم ورک کی پریکٹس ہو تو یہ لاہور بھی آپ کے ساتھ جائیں۔۔۔

اوکے سر،،،، ،،نمیرا نے مطربہ سے مصافحہ کیا اور ازھاد نے ویر سے،،،،

چند ضروری اور ہدایات دے کر کرنل وسیم نے انھیں جانے کا آرڈر دیا.۔۔۔
تو وہ باہر چلے آئے۔۔
باہر آ کر ویر اور ازھاد دونوں گرم جوشی سے ایک دوسرے سے بغلگیر ہوئے۔۔۔

مطربہ مسکرائی کیونکہ وہ بھی ازھاد کو جانتی تھی۔۔۔
مگر نمیرا کہ لئے یہ سب نیا تھا۔۔۔تو انھوں نے تعارف کروایا

ابے گھونچو،،، ،،بڑا رعب شعب ہے تمھارا،،، بڑے اسپیشل کیسز مل رہے ہیں۔۔۔ ازھاد نے چھیڑا

ویر نے فرضی کالر جھاڑے۔۔۔دیکھ لو پھر سلطانز ہیں ہی بڑی توپ چیز،،،، ،،،

ہاں کچھ زیادہ ہی،،، ازھاد نے جل کر کہا تو چاروں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ سٹڈی ٹیبل میں ویر کے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
ویر کب سے اسے سمجھا رہا تھا ۔۔۔۔۔

حبہ بچوں کو سپیس دو بیٹا،،،، ،،،ایسے کیسے چلے گا،،،، ان پر اپنی مرضی تھوپیں گے تو کس طرح چلے گا،،،، ،کیا کبھی وہ خوش رہ پائیں گے،،،، ،ویر نے اسے تسلی دی ۔۔۔۔۔

آپ کی بات بلکل ٹھیک ہے ویر بھیا مگر میں اپنے دل کو کیسے سمجھاؤں،،،،، ماں ہوں اگر کل کو کچھ۔۔۔۔۔،،،

کچھ نہیں ہوگا حبہ،،،،، بیٹا نیگٹیو کیوں سوچ رہی ہو،،،،، پوزیٹو سوچو،،،، اچھا سوچو گی تو اچھا اچھا ہوگا۔۔۔۔اور

ابھی ویر کچھ اور بولتا تبھی شاہ زر کا فون رنگ ہوا۔۔۔
اس نے یس کر کے کان کو لگایا۔۔۔۔

شاہ زل کا تھا۔۔۔اس نے اپنے اور مطی کے لاھور جانے کی ڈیٹیلز بتائی تھیں ۔۔۔اور یہ بھی کہا کہ انھیں ابھی نکلنا ہے
فون بند ہوا۔۔۔اس نے کن اکھیوں سے حبہ کو دیکھا۔۔۔

کس کا فون تھا شاہ زر،،،، ویر نے پوچھا

وہ بگ بی،،،، جونئیر کا تھا۔۔اسے اور مطی کو ابھی لاہور کے لیے نکلنا تھا ہے اسی لئے،،،، شاہ زر نے نظریں چرائیں ۔۔۔

حبہ نے شکایتی نگاہوں سے شاہ زر کو گھورا ۔۔۔
ویر نے شاہ زر کی پتلی ہوئی حالت دیکھ کر ہنسی دبانے کے لیے دانتوں تلے لب دبایا۔۔۔۔

حبہ روم سے نکلی تو ویر کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔۔۔۔شاہ زر بھی ہنس پڑا۔۔۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

رات کے قریباً تین بجے ان دونوں کی گاڑی جے ولا میں پہنچے تھی۔۔

لندن کی انڈین سوسائٹی میں بنا بہت بڑ ا بنگلہ ۔۔۔۔وہ اپنی مثال آپ تھا۔۔۔
وہ دونوں گاڑی سے اترے۔۔۔
علی صاحب کو تو ٹکھانے لگا آئے تھے ۔۔
جے ولا میں مکمل خاموشی طاری تھی۔۔

مگر انھیں پتہ تھا کہ جے ولا کے بیسمنٹ میں اس وقت ایک الگ ہی جہان آباد ہوگا۔۔
اسی لئے ان کا رخ سیدھا بیسمنٹ ہی تھا۔۔۔

وہ بیسمنٹ میں پہنچے ۔۔سامنے ہی طویل بڑے ٹیبل کی سربراہی کرسی کی جگہ وہیل چیئر پر بیٹھی جویریہ زبیر عرف جولی نے مسکرا کر اور بانہیں وا کر کے ان دونوں کا استقبال کیا۔۔۔

لینا اور ڈائمن آ کر جولی سے لپٹ گئے۔۔۔

کیسا رہا،،،، زبیر نے پوچھا

لینا نے وکٹری کا نشان بنایا۔۔

میرے بچے ہیں یہ زبیر،،، شکست کا لفظ ان کی ڈکشنری میں نہیں،، جولی نے زہر خند لہجے میں کہا۔۔

او کم آن ڈیڈ،،، ایسا سٹوپڈ کوئسچن مت پوچھا کریں،، ڈائمن نے بھی اپنی قابلیت واضح کرنی ضروری سمجھا۔۔اور وہ پیپر اور پیکٹ لا کر ٹیبل پر رکھے جو وہ علی نامی بندے سے چھین کر آئے تھے

ادھر میرے سامنے بیٹھو،، مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔
جولی نے لینا اور ڈائمن کا ہاتھ تھام کر سامنے بٹھایا

وہ دونوں سامنے بیٹھے ۔۔۔

میں نے تم دونوں کو شروع دن سے اپنی اوپر بیتنے والے تمام مظالم کی داستان سنا رکھی ہے۔۔کس طرح مجھے پوری یونی کے سامنے بے عزت کیا گیا ۔۔کس طرح مجھے پوری زندگی کے لیے معزور بنا دیا گیا،،،،
یہ سب دوبارہ سن کر ایک مرتبہ پھر لینا اور ڈائمن کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔۔
اور وہ جو میرے دشمن ہیں وہ بڑے مزے سے اپنی زندگی جی رہے ہیں،،یہ پاکستانی ہوتے ہی بےحس ظالم ،،جابر اور مکار ہیں،، اسی لیئے تو ہم ان کے دشمنوں کا ساتھ دیتے ہیں ،،،،،، جولی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ان سے ان کے کئے گئے تمام مظالم کا حساب لیا جائے ۔۔۔۔
یہ کہہ کر جولی خاموش ہو گئی ۔۔

زبیر بڑی دلچسپی سے بیوی کا ٹوپی ڈرامہ ملاحظہ فرما رہا تھا۔مگر چہرے پر مصنوعی اداسی بھی طاری کر رکھی تھی۔۔۔

اب وہ اپنے بچوں کے دماغ میں سالوں سال سے پلتے زہر کو مزید زہریلا کر کے اسے ناسور بنا رہی تھی
پاکستان کے خلاف،،،، پاکستانیوں کے خلاف اس نے کیا کچھ نہیں ان کے دماغوں میں زہر گھولا تھا۔۔وہ پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا عزم رکھتی تھی۔۔
(جو کہ کسی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے)

زبیر غور سے جولی کو دیکھ رہا تھا
جولی سے اس کی ملاقات جیل میں ہوئی تھی۔۔۔وہ ایک انڈین تھا اور غیر قانونی کاموں میں ملوث تھا۔۔
خاص کر وومن ٹریفکنگ میں ۔۔۔کیونکہ انڈیا میں بے وقوفوں کی کوئی کمی تو تھی نہیں جو شادی کے نام پر اپنی بیٹیوں کو باہر بھیجنے کے چکر میں ہمیشہ کے لیے جہنم میں جھونک دیتے تھے۔۔

جولی جیل سے باہر آئی ۔۔پھر زبیر کو باہر نکالا۔۔
تب تک شاہ زر اور نمرہ پاکستان شفٹ ہو چکے تھے
وہ غصے میں بس لکیر پیٹتی رہ گئی ۔۔۔
جولی نے زبیر سے ہاتھ ملایا اور شادی کی۔۔۔

سالوں میں ان کا نیٹ ورک بہت ہی زیادہ سٹرونگ ہو چکا تھا۔۔پاکستان اور انڈیا سے لڑکیاں منگوائی جاتیں ۔۔اور انھیں دوبئی لے جایا جاتا۔۔ زیادہ تر شیخ جو ان کاموں میں ملوث ہوتے وہ ان کا ساتھ دیتے تھے ۔۔۔جولی ڈالروں میں کھیلتی رہی۔۔۔اور اب جب اس کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ بننے والے ان دو آفیسرز کا اسے پتہ چلا تو ایک مرتبہ پھر وہ انگاروں پر لوٹ گئی تھی ۔۔۔

اب تو سہی معنوں ميں وہ کانٹوں پر لوٹی تھی جب اسے ان آفیسرز کا پتہ چلا تھا۔۔
یعنی وقت آن پہنچا تھا کچھ پرانے حساب بے باک کرنے کا۔۔
پرانے بدلے لینا کا۔۔۔
ایک بہت بڑا جال بچھانے کا ۔۔۔

جس سے دشمن کو بھی شہہ مات ہونے والی تھی۔۔
اور اس کو کروڑوں کا فائدہ بھی ہونے ولا تھا۔۔۔

مگر جو جولی کی سب سے بڑی چالاکی اور مکاری تھی وہ یہ تھی کہ اس نے اپنے بچوں کو انٹیلجنس آفیسرز بنایا تھا
اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے ۔۔۔وہ بڑی مکاری اور شاطرانہ چالوں سے اپنے خلاف ثبوت مٹوا دیا کرتی تھی۔۔

جیسا کہ آج ہوا تھا۔۔وہ علی ایک میڈیا رپورٹر تھا جو کہ جولی اور زبیر کے خلاف کچھ ویڈیوز اور ثبوت اکٹھے کر چکا تھا

جو کہ بڑی صفائی سے جولی حاصل کر چکی تھی۔۔

لینا اور ڈائمن کے حساب سے ان کی ماں پاکستان میں ظلم و ستم کی شکار ہونے والی بے بس،،، مجبور اور لاچار لڑکیوں کو لا کر ان کی شادیاں کرواتی تھی۔۔
وہ کبھی پاکستان نہیں گئے تھے ۔۔اس لئے حقیقت بھی نہیں جان پائے تھے۔۔
انھوں نے پاکستان کو اپنی ماں جولی کی نگاہوں سے دیکھ رکھا تھا

لینا اور ڈائمن خواہ کتنے ہی چالاک اور ذہین تھے۔۔مگر اپنی ہی ماں نے انھیں ہر طرف سے دھوکے میں رکھا ہوا تھا۔۔

مگر کیا جولی یہ جانتی تھی کہ جب اس کے بچوں کی آنکھوں سے اس کے دھوکے کی پٹی اترے گی تو کیا ہوگا۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سہانا تن فن کرتی لائبریری میں داخل ہوئی تھی ۔۔ناپسندیدہ جگہ ناپسندیدہ لوگ،،کچھ صبح ہوا تماشہ، وہ جی جان سے جلی ہوئی تھی ۔۔۔
گرین ٹی شرٹ کے نیچے،، جینز کی پینٹ اور گلے میں مفلر،،،، بڑا بے باک حلیہ تھا اس کا،،،
مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔۔۔

لاکھ ضدی اور ہٹ دھرم تھی۔۔مگر پڑھائی کے معاملے میں کافی سنجیدہ تھی۔۔۔اور پڑھائی کی وجہ سے اس کی انسلٹ ہو یہ وہ کسی صورت گوارا نہیں کر سکتی تھی۔۔

سر عابد نے کل تک کے لئے ایک اسائنمنٹ دے دی تھی ریڈی کرنے کے لئے ۔۔جو اسے کسی بھی صورت مکمل کرنی تھی۔۔

لائبریری میں داخل ہوئی ۔۔اپنی مطلوبہ بکس لے کر ایک ٹیبل پر آ کر بیٹھی۔۔اور اپنے کام میں مصروف ہو گئی ۔۔
یونہی طائرانہ سی نگاہ چاروں اور دوڑائی۔۔ ایک مرکز پر آ کر نگاہ رکی تھی۔۔
بلکہ تھم گئی تھی۔۔ساکت ہوئی تھی ۔۔یہ اس کے ساتھ پہلی مرتبہ ہوا تھا ۔۔
کہ وہ،،،،، سہانا شبیر احمد عثمانی کسی پر سے نگاہ نہیں ہٹا پا رہی تھی۔۔

بلیک شلوار قمیص میں شاہ زین اپنے ڈیڈ کی مردانہ شال کندھوں پر لیئے سٹڈی میں مصروف سا تھا۔۔۔

مردانہ وجاہت کا شہکار،،،،، سرخ سفید رنگت
گھنے سیاہ کالے ماتھے پر بکھرے بال۔۔۔

اوپر سے وہ وقفے وقفے سے چھوٹی الائچی منہ میں جب جب چباتا تو قاتل ڈمپل اپنی بھر پور نمائش کر رہا تھا

وہ بڑی دیر سے ،،،،
بڑے غور،،،،، سے اسے دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔

تبھی اس کے دل کی دھڑکن نے ایک سو بیس کی رفتار پکڑی تھی،،، جب وہ کوئی کتاب پڑھتے گہرا سا مسکرایا تھا۔۔۔
اور وہی وہ پل تھا جب وہ سامنے بیٹھے شخص کے سحر میں بری طرح جکڑی گئی تھی۔۔۔

اس کے عشق میں پور پور گرفتا ہو چکی تھی۔۔۔۔
اس پر اپنا دل و جاں ہار بیٹھی تھی۔۔۔۔

وہ مبہوت سی یہ میجیکل منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔

اسی وقت شاہ زین اٹھا۔۔۔۔اور وہ بک ایشو کراوانے لائبریرین کے پاس گیا۔۔۔
وہ بھاگ کر اس کی بکس اور نوٹ بکس کے پاس آئی
قلم بے اختیار اٹھا تھا۔۔۔۔۔

Just saw your dimple,,,,,,,,,
And believe me, this magical scene has never been seen before.

اپنی خاطر جگے ہو،،،، ،،سوئے ہو
اپنی خاطر ہنسے ہو،،،، ،،،روئے ہو
کس لئے آج کوئے کھوئے،،،، ،،،،ہو
تم نے آنسو بہت پئے،،،، ،،،،، اپنے
تم بہت سال رہ لئے،،،، ،،،،،،،اپنے

اب میرے صرف میرے ہو کہ رہو

ایک آرزو،،، ایک فرمائش،،، دل کی آواز
جینے کا مقصد لکھ کر وہ فورا بھاگی اور چھپ گئی

شاہ زین واپس آیا،،، مگر بے تحاشا چونکا،، سامنے نوٹ بک پر وہ تحریر،،،،
اس کے ماتھے پر گہرے بل آئے۔۔

سامنے والی نے یہ ادا بھی دل کی گہرائیوں میں اتاری۔۔۔

وہ ادھر ادھر دیکھے بغیر لاپرواہ سا اپنی نوٹ بک سے وہ پیج پھاڑ کر ڈسٹ بن کی نظر کر چکا تھا۔۔

سہانا کے چہرے پر سایہ سا لہرایا۔۔مگر پھر دوبارہ گہرا مسکرائی

وہ تو بہت خاص تھا۔۔۔عام لڑکوں کی طرح کیوں ری ایکٹ کرتا۔۔

اب وہ اپنی چیزیں اٹھا کر وہاں سے باہر نکلا

سہانا اس کے پیچھے لپکی۔۔۔

اب اس دشمن جاں کی ڈیٹیلز بھی تو نکلوانی تھیں ۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺