Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

محبت میں رد ہونے کا احساس بہت ذلت آمیز ہوتا ہے ایسے موقع پر عورت خود اپنی نظروں میں ہی گر جاتی ہے۔۔۔

کچھ گھنٹوں بعد ہوسپیٹل کے سرد سے روم میں سہانا کی آنکھ کھلی تو اپنے بابا کو خود پر جھکے پایا۔۔

وہ بہت محبت سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہے تھے۔۔
سہانا نے خالی خالی آنکھوں سے اپنے بابا اور ارد گرد کے ماحول کو دیکھا۔۔

پھر کچھ ہی دیر تک اسے سب یاد آتا گیا۔۔
پاپا،،،، اس نے بازو پھیلائے،،،، شبیر نے اسے سہارا دے کر اٹھا گر بٹھایا تو وہ مسکرا دی۔۔

سہانا بے بی کیا ہوا تھا یونی میں،،،، مجھے بس یہ پتہ چلا کہ جھگڑا ہوا تھا،،،، کیوں اور کس سے ہوا تھا اب یہ آپ بتائیں گی مجھے،،،
شبیر عثمانی کی اپنی گڑیا کو مسکراتا دیکھ جان میں جان آئی پھر سنجیدگی سے پوچھ بیٹھے۔۔
مگر،،،

کچھ بھی نہیں پاپا معمولی سا جھگڑا تھا،، میری طبعیت تو رات سے خراب تھی،،، بریک فاسٹ بھی نہیں کیا،،، کینٹین گئی تو فرینڈ سے جھگڑا ہو گیا،،، واپس آ رہی تھی تو یہ سب ہو گیا،،،،، ٹینشن کی کوئی بات نہیں،،،
وہ لاپروائی سے بولی،،،

پکی بات ہے ناں سہانا بےبی،،،، کہ یہی بات ہے،،، شبیر اس کی طرف غور سے دیکھ کر بولے،،

یس پاپا،،، نو ڈاؤٹ،، وہ سکون سے بولی۔۔

پھر وہ جلد ہی ہوسپیٹل سے ڈسچارج ہو کر گھر آئی تھی۔۔شبیر نے سارا وقت اپنی پرنسز، کے ساتھ گزارا۔۔۔

وہ بھی نارمل رہی۔۔

اور اب رات کو بیڈ پر لیٹی وہ خالی خالی نظروں سے چھت کو گھورنے میں مصروف تھی۔۔
اس نے اب تک ایک بھی آنسو نہیں بہایا تھا۔۔ایک بھی نہیں ۔۔

اور کہتے ہیں کہ،،
درد اذیت اور کرب کو آنسو بنا کر بہنے دینا چاہئے ورنہ یہ آگ بن کر اندر ہی اندر سب کچھ خاکستر کر دیتے ہیں ۔۔امید، تمنائیں اور آرزوئیں جب ٹوٹتی ہیں تو دل کے کانچ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جاتے ہیں پھر ہر کرچی خون میں اتر کر کاٹنے لگتی ہے،،
زخم دینے لگتی ہے،،

اور یہی تو نہیں کر رہی تھی وہ۔۔

جو آنسو آنکھوں سے نہیں بہتے وہ آپ کے اندر گر کر ایک بہت بڑا طوفان لاتے ہیں۔۔

ایسا طوفان جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔۔
سہانا بھی اسی طوفان کو اپنے اندر اکٹھا کر رہی تھی۔۔
جو جانے کیا کچھ بہا کر ساتھ لے جانے والا تھا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

شاہ زین تن فن کرتا گاڑی تک آیا۔۔
اور زور سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر اپنا غصہ کنٹرول کرنے لگا۔۔
اسے تو سب یونی میں کالم بوآئے کہتے تھے۔۔

فارس اور حمزہ حتی کہ آج تک کسی نے بھی اسے اس قدر غصے اور طیش میں نہیں دیکھا تھا۔۔

فارس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے شانت رہنے کو کہا۔۔
جب کچھ دیر تک اسے کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے تو فارس نے ہی اسے اس کی سنگین غلطی کا احساس دلایا۔۔

شاہ زین تم نے بہت زیادہ ری ایکٹ کیا،، تم تو خواتین کی اتنی عزت کرتے ہو،، تمھیں سب کے سامنے اس کی اتنی انسلٹ نہیں کرنی چاہیے تھی۔مانا کہ،،،

پلیز فارس،،، پلیز،،، مجھے معلوم ہے میں نے غلط کیا،، مگر اس وقت قسم سے مجھے تنہائی چاہیے،، اکیلا رینا چاہتا ہوں میں ۔
اس نے بری طرح کنپٹیاں سہلاتے کہا۔۔

اوکے گھر جاؤ پھر ،،،فارس نے کہا تو وہ گاڑی لے کر نکل آیا۔۔
حرم نے اس کا بجھا بجھا چہرہ دیکھا تو پریشان ہوئی،، مگر اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ طبعیت ٹھیک نہیں ۔۔

پھر وہ رات تک اپنے روم میں رہا۔۔

ہاں میں نے انسلٹ کی،،، سب کے سامنے،،، بہت روڈ ہو گیا،،، پر اس نے کیا کیا،،
وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا،،
یوں سر عام میرا تماشا لگانے کی کیا ضرورت تھی،، برسوں کی میری ریپوٹیشن بری طرح خراب کر دی ۔۔ میرے کردار کو ہی مشکوک بنا دیا۔۔میری تربیت پر سوال اٹھ گئے ۔۔مجھے ایک گوسپ بنا کے رکھ دیا۔۔

Sshhhhiiiiiiittttt

وہ بیڈ پر ڈھے گیا،،، معصوم چہرہ آنکھوں کے پردے پر لہرایا۔۔

بیشک وہ ایسی بلکل بھی نہیں تھی جیسی اس نے سوچا یا آئیڈیلائز کیا تھا۔۔مگر پھر بھی محبت بدل دیتی ہے انسان کو۔
کمپرومائز بھی ہو ہی جاتا ہے،،

۔شاہ زین کو اس کے حلیے یا مزاج نے اتنا صدمہ نہیں پہنچایا تھا جتنا کہ سب کے سامنے اس پاگل لڑکی کی وجہ سے تماشہ بننے پر اسے غصہ آیا تھا۔۔

اور اس کا غصہ سہانا کہ ایکشن کا ری ایکشن ہی تھا۔۔اور اب جب غصہ اتر چکا تھا تو شام سے وہ بار بار فون چیک کر رہا تھا کہ اگر وہ فون کر کے اپنی بے وقوفی پر سوری مانگے گی تو وہ بھی معافی مانگ لے گا،، کیونکہ اب احساس ہوا ،،،،،،،وہ بہت غلط کر چکا ہے۔۔

مگر اب رات کے بارہ بج چکے تھے کوئی کال کوئی میسج نہیں ۔۔اس کا میٹر دوبارہ شارٹ ہوا تو موبائل دیوار میں مار کر چھناکے سے توڑ بیٹھا تھا۔۔

دل کیا ابھی جائے اور اس پاگل لڑکی کا حشر بگاڑ دے جو کہ اس کی زندگی کو ڈسٹرب کر کہ خود جانے کہاں دبک گئی تھی۔۔

ساری رات کرٹیں بدلیں ۔۔مگر بستر پر جیسے کانٹے اگ آئے تھے۔۔ شعلوں پر گھسیٹ لیا گیا تھا۔۔۔وہ تڑپ کر اٹھا اب جب محبت رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگی تھی تو وصل کے خواب دیکھنے والے کے مقدر میں ہجر کا عذاب لکھ دیا گیا تھا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

صبح بریک فاسٹ کے بعد ویر یونہی اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا اپنی حالت سوچ رہا تھا۔۔

کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔کل سے جب سے اسے فون نمبر دے کر آیا تھا انتظار کی سولی پر جان لٹکی ہوئی تھی۔۔
مگر وہ جل پری تو شاید اسے بھول ہی گئی تھی۔۔

اور یہی بات بے چینی کا سبب تھی۔۔
تبھی فون پر آئے میسج نے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔
چھوڑو بھی یار ،،،پھر میسج اوپن کر کے مایوسی ہی ہو گی۔۔وہ یونہی پڑا رہا ۔۔

مگر زیادہ دیر اگنور نہیں کر سکا۔۔
میسج اوپن کیا تو دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی ۔۔اور خوش گوار حیرت ہوئی ۔۔

جلدی سے گھر آئیں،،،،
نیناں۔۔۔۔

وہ فوراََ اٹھا گاڑی کی چابی،، والٹ موبائل اٹھایا اور سن گلاسز لگاتا باہر نکلا۔۔
بیس سے پچیس منٹ کی ڈرائیو پر وہ نیناں کے کاٹیج کے سامنے گاڑی پارک کر چکا تھا۔۔
وہاں ایک اور بھی گاڑی موجود تھی۔
اسے کچھ غیر معمولی لگا۔۔

گاڑی سے اتر کر دروازے پر دستک دی۔۔۔جو کہ کھلتا چلا گیا۔۔
وہ جلدی سے اندر داخل ہوا تو جینیفر کھڑی تھی۔۔

کیا ہوا جینیفر،،، اس نے پوچھا تو وہ اسے لئے نیناں کی ماں کے روم میں داخل ہوئی جہاں سہانا بیٹھی زارو قطار رونے میں مصروف تھی۔۔

اور ڈاکٹر اس کی ماں کا چیک اپ کرنے میں مصروف تھا۔۔
آنٹی ویسے تو بیمار ہی ہیں انھیں کینسر ہے مگر آج کچھ زیادہ طبعیت خراب ہے۔۔۔ایک مرتبہ تو یوں محسوس ہوا جیسے ان کی سانس بند ہو گئی ہے۔۔مگر ڈاکٹر نے آ کر آکسیجن لگائی تو اب ٹھیک ہیں ۔۔۔نیناں بہت زیادہ ڈر گئی تھی،، شاید اسی لیے آپ کو بلا لیا،،،

جینیفر نے کہا تو ویر نے سر ہلایا،، اور نیناں کے پاس گیا۔۔
پھر ڈاکٹر سے مخاطب ہوا۔۔

ڈاکٹر ،،،ہوسپیٹل چلیں ،،،وہ انگلش میں مخاطب ہوا

نہیں اب اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ ٹھیک ہیں ۔۔بس میڈیسن ٹائم پر دیں،،،، اور آکسیجن کا بندوبست گھر پر کر کے رکھیں۔۔اب میں چلتا ہوں۔۔۔

اوکے آئیں ۔۔۔ویر ڈاکٹر کو چھوڑنے باہر تک جانے لگا،، جینیفر جانے لگی تو ویر نے اشارہ کر کے منع کر دیا ۔۔
وہ خود باہر تک آیا،،، اور فیس وغیرہ بھی پے کر دی۔۔

ڈاکٹر رخصت ہوا تو وہ پھر اندر آیا۔۔جہان نیناں رونے کا شغل فرما رہی تھی ۔۔وہ قریب آ کر صوفے پر بیٹھا۔۔
اور تسلی دینے کے لئے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔

ہیے،،، ٹھیک ہو جائیں گی بلکل تمھاری مدر،،، ڈونٹ وری۔۔وہ نرمی سے بولا تو نیناں نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ویر نے فوراً ہاتھ ہٹا لیا۔۔

نیناں جاؤ،،، اپنے فرینڈ کے لئے جوس لے کر آؤ۔۔جینیفر نے کہا تو نیناں باہر چلی گئی۔۔
تم لوگ انھیں ہوسپیٹلائز کیوں نہیں کرتی ہو۔۔ویر کو الجھن ہوئی۔

کوءی فائدہ نہیں ۔۔انھیں بلڈ کینسر ہے جو کہ لاسٹ سٹیج پر ہے ڈاکٹرز بہت پہلے مایوس ہو چکے ہیں اب بس دعا ہی ہے،،، جینفر نے ڈیٹیلز بتائیں تو اسے افسوس ہوا۔۔

تبھی آنٹی نے آنکھیں کھول کر ویر کو دیکھا اور اشارے سے اسے پاس بلایا۔۔
وہ قریب گیا تو وہ آکسیجن ماسک ہٹا کر بولی۔۔

بیٹا میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں،،، تمھاری آنکھوں میں اس کے لیے محبت ہے،،، میرے بعد میری بیٹی کا خیال رکھنا۔۔

وہ کچھ کہتا تبھی روم میں نیناں آ گئ تو اس نے صرف اثبات میں سر ہلا کر انھیں تسلی دی۔۔

مجھے آرام کرنا ہے،، باہر جاؤ،، آنٹی بولی تو وہ تینوں باہر آ گئے ۔۔جینفر اپنی جاب کا کہہ کر چلی گئی ۔۔
اب وہ دونوں آپنے سامنے بیٹھے تھے،، ویر جوس گھونٹ گھونٹ پیتا اسے غور سے دیکھ رہا تھا اور وہ بری طرح نروس ہو رہی تھی۔۔۔

آج وہ اورنج فراک میں تھی۔۔۔

تم نے مجھے میسج نہیں کیا،،،؟ ویر نے شکایت کی۔۔
تو اس نے حیرت سے ویر کو دیکھا۔۔اور اپنا موبائل اٹھا کر کچھ ٹائپ کیا۔۔
ویر کے فون پر میسج ٹون بجی تو مسکرا کر موبائل اٹھایا۔۔اور میسج اوپن کر کے دیکھا۔۔

اور ابھی جو کچھ دیر پہلے کیا تھا،،،
وہ کیا تھا،،،؟

تو کیا میں اس مختصر میسج کو تمھاری طرف سے ہاں سمجھوں۔۔
ویر کے شرارت سے پوچھنے پر وہ بوکھلائی۔۔اور پہلو بدلا۔۔

ویر سامنے سے اٹھ کر اس کے قریب جانے لگا۔۔ویر کے ہر قدم پر اس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔
اونہہہہ مما ٹھیک کہہ رہی تھیں یہ۔۔۔۔

ویر قریب آ کر اس کے پاس مگر فاصلہ رکھ کر بیٹھ گیا۔۔وہ لاشعوری طور پر دور کھسکی اس کی یہ حرکت ویر نے اچھی طرح ابزرو کی تھی۔۔

اب جواب دو میری بات کا،،، وہ اطمینان سے بولا۔۔

واٹ۔۔؟ اس نے موبائل پر ٹائپ کر کے ویر کے سامنے موبائل کیا۔۔

جو پوچھ رہا ہوں وہ بتاؤ،،، ہاں سمجھوں،،،،

وہ پھر سے سر جھکا کر موبائل پر کچھ ٹائپ کرنے لگی۔۔
ویر کہ موبائل پر میسج ٹون بجی۔۔
مسکرا کر میسج اوپن کیا۔۔

تو کیا میں نے آپ کو یہاں چھم چھم کھیلنے کے لئے بلایا ہے🤭

ویر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔وہ مبہوت سی وہ ڈمپل دیکھنے لگی جو بلکل اس کے قریب جگمگا رہا تھا۔۔۔

پر میں تو کچھ اور کرنے آیا تھا یہاں۔۔۔اس کے معنی خیزی سے کہے جملے پر وہ اندر تک ہل چکی تھی۔۔

سوالیہ نگاہوں سے ویر کو دیکھا۔۔تو ویر نے اپنی پینٹ کی پاکٹ سے ایک رنگ نکالی،،،
May I,,,,,,,,
وہ سکون سے بولا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا،۔۔۔۔وہ پہلو بدل کر رہ گئی ۔۔۔مگر ناچار اپنا ہاتھ اگے بڑھا دیا۔۔ویر نے دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ چھوئے بغیر رنگ پہنا دی۔۔

چھوٹی سی نفیس سی رنگ تھی بے حد دلکش اور خوبصورت۔۔وہ غور سے دیکھے گئی۔۔

وہ تمھارے ہاں میرا مطلب ہے ترکی میں رنگ پہنانے کے بعد ایک اور رسم ہوتی ہے،،،،،اس کے بارے میں کیا خیال ہے،،،،

نیناں اچھل ہی تو پڑی،،، مگر ویر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تو وہ بھی بے تحاشا ہنس دی۔۔

ویر اسے غور سے دیکھنے لگا۔۔تو اس کی ہنسی کو بریک لگا۔۔

اوکے میں چلتا ہوں ،،،کل آؤں گا،،،،تو باہر چلیں گے،، اور اپنی زندگی کے متعلق اہم فیصلے کریں گے،،،،،۔رائٹ

اس نے سر اثبات میں ہلایا۔۔
تو وہ مسکرا کر باہر کی جانب بڑھا۔۔
وہ الجھن بھری نگاہوں سے پھر اس کی پشت کو گھورنے لگی۔۔

مما نے تو کہا تھا یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔۔درندے ۔۔۔جانور۔۔۔وغیرہ
اس نے ہاتھ میں موجود وہ رنگ دیکھی جو وہ اسے بنا چھوئے پہنا کر گیا تھا۔۔

اوننہہہہہہ،،، ابھی کیا پتہ اعتماد جیتنے کے چکر میں ہو،،، دیکھ لوں گی گیمر تمھیں ۔۔

وہ اپنی ہی سوچ میں الجھی ہوئی تھی جب جینیفر ہنستی اندر آئی۔۔

بہت خوب میم،،،، داد دینی پڑے گی،،، یعنی ان انٹیلیجنس آفیسرز کو کیا خوب الو بنایا،، واااااہ،، مزا آ گیا اور جولی میم کہہ رہی تھی یہ بہت مشکل ٹاسک تھے۔۔۔

تمھارا دماغ خراب ہے جینیفر ۔۔وہ پھنکاری

کیا مطلب میم،،، وہ چونکی۔۔

تمھیں کیا لگتا ہے یہ اتنا ہی آسان تھا۔۔۔بہت چالاک اور شاطر ہیں یہ،،،،، دو تین مرتبہ میری اور ڈائمن کی آئیڈینٹٹی کراس چیک کروا چکا ہے۔۔
میری تعلیم سکول ہر جگہ سے ویری فائی کروا چکا ہے۔۔شکر ہے کہ ہم تہہ تک گئے اور اصلی نیناں کا ڈیٹا ہٹا کر ہر جگہ ہمارا دیا گیا ڈیٹا رکھوا دیا ۔۔۔ڈائمن کی پاکستان تک سے ساری انفارمیشن نکوا چکا ہے۔۔وہ بھی شکر ہے باقاعدہ وہاں بھی اس کا گھر اور نقلی خاندان ہائر کرنا پڑا۔۔۔۔
یہ تمھارے آسان ٹاسک ناکوں چنے چبوا کر ہاتھ آئے ہیں ہمارے ۔۔کہاں کہاں،،،، کیا کیا نہیں کرنا پڑا ہمیں ۔۔۔تب یقین کیا ہے ہم پر،،، یہ آج کی نہیں سالوں کی ہیرا پھیری ہے جو آج کام آئی تبھی وہ قابو آئے۔۔۔

اوہہہہہہہ،،، جینفر کو حیرت ہوئی ۔۔۔
اور میں تو سمجھ رہی تھی کہ،،،،

پاگل ہو تم تو،،، اور اب جاؤ،،، کل کی تیاری کرو،،،،

اوکے میم۔۔۔کہہ کر جینفر چلی گئی وہ پھر اس رنگ کو گھورنے لگی جس سے اس کا سارا جسم جیسے جل رہا تھا۔۔
کیا مصیبت ہے،،، وہ جھنجھلائی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

مطی اپنے کاٹیج کے باہر سڑک پر یونہی چہل قدمی میں مصروف تھی جب اریش کہیں سے نکل کر سامنے آیا ۔۔

مطی کے دل نے ایک بیٹ مس کی،،،

ہائے بیری،،، کیا کر رہی ہو،،،؟

لڈی ڈال رہی ہوں،،، وہ اطمینان سے بولی تو اریش قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔۔۔۔

Can I join you?

اب مطی کے ہنسنے کی باری تھی۔۔

کیون ہنس رہی ہو۔،،،،،؟ اریش الجھا

وہ میں تصور کر رہی تھی کہ تم لڈی ڈالتے ہوئے کیسے لگو گے،،؟ مطی نے دانتوں تلے لب دبایا۔۔۔۔

کیسا ؟ بڑے شوق سے پوچھا

ایسے جیسے کیچڑ میں مینڈک پھسل رہا ہو،،،،
ہاہاہا ہاہاہا،،، وہ ہنستی چلی گئی جبکہ اریش اب خفا سا اسے گھور رہا تھا۔۔

رائٹ میں مینڈک اور تم میری مینڈکی،،، واہ کیا جوڑی ہوگی،،، ویسے بھی تم نے گرین کلر پہنا ہے،،
اریش نے اس کی گرین فراک پر چوٹ کی۔۔

غلط فہمی ہے تمھاری کہ میں تمھاری ،،،،،،مطی کی زبان کو بریک لگی۔۔۔

کیا میری،،،؟ وہ اسے جملہ پورا کرنے کے لئے اکسا رہا تھا۔۔

وہ جھنجھلا کر جانے لگی ۔۔تب وہ اس کے پیچھے لپکا۔۔

اے بیری ،،،،لسن ٹو می،،،،،

Ay don’t call me like that,,,,,,,,,
مطی بھنا کر پلٹی چونکہ وہ بہت قریب تھا۔۔ایک مرتبہ پھر اس کے چٹانی سینے سے ٹکرائی۔۔
اس سے پہلے کہ زمین بوس ہوتی اریش نے کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے تھام لیا۔۔

افففف ماں،،،، فولاد کی اولاد،،،، کسی دن میری ناک ٹوٹ جائے گی۔۔وہ اپنی چھوٹی سی سرخ ناک سہلاتے بولی۔۔

اریش بڑے غور سے اس کا سرخ معصوم چہرہ دیکھنے میں مصروف تھا۔۔

مطی کو اپنی پوزیشن اور کمر پر ایک نرم مگر دہکتے لمس کا احساس ہوا تو گڑبڑا کر اس کی بانہوں سے نکلی۔۔

تم لوہا کھاتے ہو کیا،،، وہ دانت پیس کر بولی،،، کچھوے کہیں کے،،،، ایک اور خطاب دیا۔۔

جس پر اب وہ اچھا خاصا منہ بگاڑ کر بولا

بیری ایک ہی مرتبہ ڈیسائیڈ کر لو کیا ہوں،،، مینڈک کے کچھوا،،، اور خود جو بار بار پھسل جاتی ہو مینڈکی کہیں کی،،،

یو،،،،،،،،

اشششششش،،، مجھے اب میرے سوال کا جواب چاہیے جو کل میں نے پوچھا تھا،،، اب شرافت سے جواب دے دو نہیں تو اٹھا کر لے جاؤں گا مینڈکی،،،

تم خود ہو گے مینڈک،،، وہ دانت پیس کر بولی،اور اس کے سوالوں سے بوکھلا کر ، جان بوجھ کر تن فن کرتی ناراض ہو کر کاٹیج آ گئی۔۔۔

پیچھے وہ معنی خیز سا مسکراتا اس کے قدموں کے نشانوں کو دیکھنے لگا۔۔
پہلی دفعہ کسی کھیل میں اس قدر مزا آ رہا ہے بیری،،،،

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺