Rate this Novel
Episode 11
پورا ایک ہفتہ ہو چکا تھا،،، انھیں ترکی آئے۔۔
اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی تھی انھوں نے انفارمیشن اکھٹی کرنے کی۔۔
اریش نے ویر سے بھی ملاقات کی تھی اور اپنا پرپوزل اس کے سامنے رکھا۔۔
ویر نے بھی مطی کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی رضا مندی دے دی تھی۔۔
باقاعدہ طور پر پاکستان جا کر اریش نے اپنی فیملی کو بھیجنے کا بھی بتایا تھا۔۔
پھر دو تین دن پہلے وہ ویر کے پاس اپنی فیملی کو لئے چلے آیا جس میں اس کے دادا جی اور ماں باپ تھے۔۔وہ ابھی انھی دنوں میں اریش سے ملنے اس کے پیچھے ہی ترکی آئے تھے۔۔
وہ بڑی گرمجوشی سے ویر سے ملے۔۔
ویر کو مطی کی جانب سے تسلی ہو گئی۔۔۔
ادھر پاکستان میں بھی شاہ زر نے اریش کی فیملی کے متعلق مکمل انفارمیشن چیک کی تھی تو انھیں پتہ چلا کی اریش کی فیملی بھی اس کے پیچھے ترکی ہی گئی ہے۔۔
اس دوران ویر ،،،نیناں سے ملنے جاتا رہا،،، ویر نیناں کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھتا تھا۔۔
آج بھی وہ شام کے وقت نیناں سے ملنے آیا ہوا تھا۔۔
نیناں کچن میں کھانا بنا رہی آیا۔۔
چھوٹا سا کچن تھا۔۔وہ بھی کچن میں ہی چلا آیا۔۔
کچن کے کاؤنٹر پر بیٹھ گیا۔۔۔
وہ اسمختلف طریقوں سے اسے پریشان کرنے لگا۔۔
نیناں میں سوچ رہا تھا،،، کہ ہمارے کتنے بچے ہوں گے،،، اس کے لہجے میں بے تحاشا شرارت تھی۔۔
وہ اچھلی،،، دانت کچکچا کر میسج ٹائپ کیا۔۔
اونہہہہہہہ،،،، نا سوت نا کپاس،،،، چلے ہیں چادریں چڑھانے،،،،
ویر میسج پڑھ کر قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔۔اور کاؤنٹر سے نیچے اترا ،،،،وہ جو چولہے کے بلکل پاس کھڑی تھی۔۔اس کے دائیں بائیں سے سلیب پر ہاتھ رکھے۔۔
وہ بوکھلا کر پیچھے مڑی۔۔۔دونوں کے بیچ فاصلہ نا ہونے کے برابر تھا۔۔کیونکہ ویر کی نرم گرم سانسیں اسے اپنے ماتھے پر محسوس ہو رہی تھیں۔۔
پھر وہ اچانک جھکا۔۔نیناں کی روح فنا ہوئی اور سانس اٹک گئی۔۔ کیونکہ اگر زرا بھی ہلتی تو اس کے لب ویر کے لبوں سے ٹچ ہو جاتے۔۔
نیناں نے زور سے آنکھیں میچ لیں،،مگر ویر کی الائچی کی خوشبو میں بھری سانسیں اپنے لبوں سے کان تک محسوس ہوئیں۔۔
نیناں کے ہاتھ آٹے میں بھرے تھے۔۔ایک بالوں کی شریر لٹ بار بار اس کے چہرے پر آ رہی تھی جسے وہ سر جھٹک کر پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
جسے ویر پھونک مار کر اب پیچھے ہٹا چکا تھا۔۔
مگر نیناں جانے کیوں چاہتی تھی کہ وہ جو سمجھ رہی ہے وہ ہو جائے۔ ۔۔پہلی مرتبہ کسی کی قربت کی خواہش دل میں انگڑائی لے کر بیدار ہوئی خود سے بے تحاشا ڈر محسوس ہوا تو اس نے بے طرح گھبرا کر آنکھیں کھولیں۔۔
جہاں سامنے وہ بہت قریب اب لب دانتوں تلے دبائے اس کا سرخ چہرہ دلچسپی سے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔
تمھیں کیا لگا میں تمھیں کس کرنے والا ہوں،، ویر کی بات پر اس کی نظر جھکیں،،، نیور ،،،کبھی نہیں،،، بغیر کسی حق کے تو بلکل بھی نہیں،، نکاح کے بعد سوچوں گا کہاں سے شروع کروں اور کہاں پہ ختم،،،،،،
نیناں نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور دھکیلا۔۔
وہ ذومعنی سا بولا تو نیناں نے چمٹہ اٹھا کر بھنا کر ویر کے بازو پر ٹکا دیا۔۔
ٹرسٹ کرو یار کچھ نہیں کروں گا،،، بہت شریف بندہ ہوں،، ہاں جب حق حاصل ہوگا تو کیا کیا کروں گا سوچ بھی نہیں تمھاری،،، وہ ذو معنی بولتا آج اس کی نازک جان اپنے لفظوں سے ہی لینے پر تلا ہوا تھا۔۔۔
نیناں نے پھر چمٹہ اٹھایا تو وہ دور بھاگ گیا۔۔
وہ بوکھلائی سٹپٹائی سی بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔
وہ بے تحاشا حیرت زدہ تھی۔۔تقریباً رات کا وقت تھا اور گھر میں ان دونوں کے علاوہ کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔اور وہ بے بس تھی حالانکہ نا بظاہر بول سکتی تھی نا مزاحمت کر سکتی تھی۔۔
اگر ویر کو طلب تھی تو وہ بے حد آسانی سے پوری کر سکتا تھا خود کو سیراب کر سکتا تھا۔۔
مگر اس نے اس تنہائی اور نیناں کی بے بسی کا بلکل فائدہ نہیں اٹھایا تھا۔۔
نیناں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ اب لاؤنج میں موبائل میں بزی تھا۔۔
کبھی کبھی تو وہ بے تحاشا حیرت زدہ ہوتی کہ ویر اس خاکے کے بلکل الٹ ہی تھا جو کہ اس کی ماں نے اس کے سامنے ایک پاکستانی مرد کا کھینچا تھا۔۔
اس کا دل اس کی روح جھک رہی تھی سر تسلیم خم کر رہی تھی،، کسی کی محبت اور عشق چاہتی تھی۔۔
مگر ابھی وہ اس کو محض اپنا وہم اور وقتی اٹریکشن سمجھ کر جھٹک رہی تھی۔۔ مکر رہی تھی،،، بلکل انکاری تھی۔۔
بلکہ وہ تو شدت سے چاہتی تھی کہ ویر اس کے ساتھ کچھ بہت غلط کرے جیسا کہ اس کی ماں نے اس سے کہا،،، کوئی بدتمیزی کوئی بدسلوکی تاکہ اسے ویر کو دھوکہ دیتے تسلی ہو کہ وہ برائی کا جواب برائی سے دے رہی ہے۔۔
تاکہ ویر کا ظاہر اور باطن جو اب اتنا خوبصورت اور پاکیزہ لگتا ہے نیناں کی نظر میں اس کی بلکل نفی ہو جائے اور اسے ویر سے نفرت کرنے میں آسانی ہو۔۔
مگر ایسا کچھ نہیں ہو رہا تھا۔۔
ابھی تک اس نے نیناں کو چھونے کی کوشش کی ہی نہیں تھی۔شاید وہ نہیں جانتی تھی اس کی تربیت پری اور ویر نے کی تھی۔
وہ پاکستانیوں کو ابھی جانتی ہی کہاں تھی۔۔
اسی لئے ہی اندر اندر وہ جھٹپٹا رہی تھی۔۔دوہری کیفیت کا شکار ہوچکی تھی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اریش ویر کی اجازت لے کر اسے لینے آیا تھا۔۔
اور باہر گاڑی میں اس کا ویٹ کر رہا تھا۔۔
وہ جلدی سے تیار ہوئی۔۔اور باہر آ گئی، ریڈ فراک کے نیچے ریڈ ٹراؤزر اور بلیک شال میں وہ کھلی کھلی بہت خوبصورت لگ رہی تھی
اسے باہر آتا دیکھ ایک مرتبہ تو اریش کے دل نے ایک سو بیس کی رفتار پکڑی ہو جیسے۔۔
جھنجھلا تو اریش بھی رہا تھا اپنی کیفیت سے۔۔وہ ایسی چالاک،، مکار اور شاطر کیوں نہیں لگتی تھی جیسے کہ اس کی ماں نے اسے کہا تھا۔۔
اس کا تو ظاہر اور باطن بھی اس قدر پاکیزہ اور مخلص لگتا کہ وہ کبھی کبھی اپنی ہی کیفیت سے ڈر جاتا تھا۔۔اس کی طلب رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگی تھی۔۔اسے پانے کی تمنا منہ زور ہوتی جا رہی تھی۔۔
وہ تو مطی کا ایڈیکٹ ہو چلا تھا جسے وہ اپنی ضد سمجھ رہا تھا۔۔۔اب تو پلان کے بر خلاف جا کر بھی وہ بہت کچھ چیزیں کرنے والا تھا۔۔۔
وہ مطی کو کاٹیج سے نکلتے دیکھ رہا تھا۔۔جو اب نمیرا سے کھڑی کچھ بات کر رہی تھی۔۔
ٹھیک ہے مطربہ شاہ زر سلطان تم میری ضد ہو تو ایسا ہی سہی،،، تمھارے باپ کو تم سے الگ کر کے بھی سزا دی جاسکتی ہے۔۔تمھیں ہمیشہ اپنے پاس رکھ کر،، جانے کیوں مگر یہ ڈائمن ڈیول نا چاہتے ہوئے بھی تمھارا ایڈیکٹ ہو چکا ہے۔۔اور اب کبھی واپس جا پاؤ گی بھول ہے تمھاری۔۔
اب تمھیں ساری زندگی میرے ساتھ گزارنی ہے۔۔آج میں ہمیشہ کے لئے تمھیں پا لوں گا۔۔
وہ دل میں مطی سے مخاطب تھا ۔۔جب وہ قریب آ کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔
اتنی دیر کیوں لگا دی۔۔۔اریش نے پوچھا۔۔
کچھ نہیں اپ بتاؤ کہاں جا رہے ہیں ہم،،،،، وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
ہمارے گھر میرے دادا سے ملنے بہت بیمار ہیں۔۔تم سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو لینے چلا آیا،،،
وہ سن کر خاموش ہو گئی اور گاڑی سے باہر دیکھنے لگی۔۔
دیکھ لو بیری،، میں نے کہا تھا نا کہ میں تمھارا،،، تم میری مینڈکی،،،، ہماری لو میرج،،،، واؤ
وہ جان بوجھ کر کہتا اسے چھیڑ گیا مگر سامنے بھی مطی تھی۔۔
حالانکہ آپ کی شکل پر لکھا ہے اریش،،، کہ معزز صارف آپ کی شکل لو میرج کے لئے ناکافی ہے،،، وہ جل کر بولی تو اریش قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔۔
اوووو،،،، کچھوے بھی ہنستے ہیں مجھے آج پتہ چلا،، مطی نے پھر حساب برابر کیا۔۔
کیوں نہیں ،،،،،ہنستے بھی ہیں ،،،پیار بھی بہت زیادہ کرتے ہیں ،،،اور بچے بھی ڈھیر سارے پیدا کرتے ہیں ،،،،،وہ زو معنی سا بولا تو مطی کے اوپر گھڑوں پانی پڑ گیا۔۔
شٹ اپ مینڈک کہیں کے،،،
ویسے کم تو مینڈک بھی نہیں کرتے،،، ہاہاہا ہاہاہا اریش ہنسا اور مطی کا خفت سے سرخ چہرہ دیکھ کر خوب انجوائے کیا۔۔
ویسے ظلم ہے اتنے ہینڈسم ترین بندے کو مینڈک بولتی ہو۔۔کہیں یہ مینڈک برا نا منا جائے اور کچھ گستاخی نا کر بیٹھے،،، آج تو وہ مطی کو بار بار اچھلنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔
اریش خاموش ہو کر بیٹھیں،،،، نہیں تو واپس چلی جاؤں گی۔۔
وہ دانت پیس کر بولی،،
تو اریش کو خاموش ہونا پڑا۔۔۔
جلد ہی اس نے گاڑی ایک عمارت کے اندر پورچ میں روکی۔۔وہ گاڑی سے اترا۔۔
اریش یہ کس کا گھر ہے پہلے نہیں بتایا اور آپ ہوٹل میں کیوں رہ رہے تھے۔۔۔مطی الجھی۔۔مگر
بیری ،،،،اندر تو چلو سب پتہ چل جائے گا یار،، وہ لاپروائی سے بولا اور اس کا نازک ہاتھ تھام کر اندر بڑھا۔۔
اندر لاؤنج سے گزر کی راہداری میں داخل ہونے کے بعد ایک کشادہ کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔
جہاں بھیڑ سی لگی ہوئی تھی۔۔بیڈ پر اریش کے دادا لیٹے ہوئے تھے۔۔انھیں آکسیجن ماسک لگایا گیا تھا۔۔ڈاکٹر ان کا چیک اپ کر رہا تھا۔۔اورباریش کے پیرنٹس ان کے دائیں بائیں کھڑے تھے۔۔
اریش بھاگ کر ان کے پاس گیا ۔۔۔
کیا ہوا پاپا،،، گرینڈ فادر کو ابھی تو تھوڑی سی طبعیت خراب تھی۔۔ا اتنی سی دیر میں کیا ہو گیا،، وہ پریشانی سے بولا
تم نکلے تو انھیں مائنر ہارٹ اٹیک آیا۔۔ابھی بھی حالت ٹھیک نہیں۔۔
مگر کیوں،،، وہ بے چین ہوا۔۔
ڈاکٹرز نے کہا ہے یہ ٹینشن لے رہے ہیں،،، اور یہ ہیں کہ انھوں نے ایک ہی ضد پکڑی ہوئی ہے،،،، اریش کے ڈیڈ نے کہا
اور وہ کیا،،، اریش نے غصے سے پوچھا،،،
وہ تم جانتے ہو اریش اچھی طرح،،، تمھاری شادی کی ضد،،،
اریش کے ڈیڈ کی اس بات پر مطی بری طرح چونکی۔۔
او کم آن ڈیڈ کہا تو ہے ہمارے پاکستان جانے کا ویٹ کر لیں ۔۔کیا یار گرینڈ فادر،،،،، وہ جھنجھلایا سا بیڈ پر بیٹھا۔۔۔
(اگر تو یہاں یہ اداکاری ہو رہی تھی تو آفرین ہے ایسی اداکاری ایسے ڈرامے پر جو مطی کو بری طرح پھانسنے والا تھا)
تبھی اس بوڑھے شخص نے اپنا آکسیجن ماسک ہٹا کر مطی کو اشارہ سے اپنے پاس بلایا وہ جھجھکتی اگے بڑھی تو دادا جی نے اسے ہاتھ سے تھام کر اپنے پاس بٹھا لیا۔
ایک مرتے شخص کی آخری خواہش پوری کرو گی؟ انھوں نے پوچھا۔۔۔مطی الجھی
گرینڈ فادر پلیز۔۔۔۔
تم چپ رہو اریش میں بات کر رہا ہوں اور یہ کوئی اتنی بھی ناجائز خواہش نہیں،،، دادا نے اریش کو جھڑکا تو وی چپ کر گیا۔
میں تمھیں حقیقت بتاتا ہوں،، اس کی بہن کی شادی اس کی پھپھو کی طرف ہو چکی ہے ۔۔۔اس کی منگنی بچپن سے اس کی پھپھو کی بیٹی سے ہو چکی تھی۔۔مگر عین شادی قریب آئی تو یہ ترکی بھاگ آیا۔۔صاف انکار کرتا تو اس کی بہن کا گھر ٹوٹ جاتا۔۔یہاں آیا تو تم سے محبت کر بیٹھا۔۔تم سے شادی کرنے کی پاداش میں اس کی بہن کا گھر ٹوٹ جائے گا۔۔مگر وہ جلد ہی ماں بننے والی ہے تو اس کے بچے کے ساتھ اس کے گھر میں قدم مضبوط ہو جائیں گے ۔۔تب تک ہم اپنے خاندان میں تمھارے اور اریش کے رشتے کا اعلان نہیں کر سکتے۔۔مگر میں مر رہا ہوں اتنا انتظار نہیں کر سکتا ۔۔اسی لئے سوچا کہ کسی کو بھی بتاءے بغیر یہ رشتہ قائم کر دیا جائے۔۔اب میں چاہتا ہوں مرنے سے پہلے یہ شادی ہوتے دیکھ لوں،، تم ابھی اسی وقت نکاح کرو گی اریش سے،،،
ان کی فرمائش پر مطی نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دادا جی کو دیکھا۔۔
مم مگر دادا جی میں اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر کیسے۔۔۔مطی جی جان سے لرزی،،،
یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں وہ سب راضی تو ہیں ناں،،، بتانا اس لئے نہیں کہ یہ بات ہمارے خاندان تک نا پہنچ جائے،، اور بعد میں انھیں میں سمجھا دونگا کہ کیا حالات تھے،، اگر زندگی رہی تو،،، میں نا بھی رہا تو اریش کے پاپا زبیر سمجھا دیں گے انھیں۔۔۔،،،،،
وہ سخت تذبذب کا شکار تھی۔۔۔بری طرح نروس ہو کر انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔ڈیڈ تو آسانی سے سمجھ جائیں گے مگر مما،،، اففففففف،،، یہ سچ تھا کہ ہر طرف سے تسلی ہونے کے بعد حبہ اس رشتے کے لئے راضی تھی،،، مگر ایسے نکاح
اسے مما کا ری ایکشن سوچ کر ہی جھر جھری آئی۔۔
اگر تم نہیں چاہتی تو کوئی زور زبردستی نہیں کریں گے تمھارے ساتھ،،، یہ اور ابت ہے کہ میں اپنے اکلوتے پوتے کی خوشی دیکھے بغیر ہی یہ حسرت لئے دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا،،، وہ آبدیدہ سے ہو گئے ،،،
مطی نے اریش کی جانب دیکھا،،، اس نے بھی ہاں کرنے کے لئے اصرار کیا۔۔۔
اریش، کے پیرنٹس کی طرف دیکھا تو وہ بھی اصرار بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔
اریش میں ویر کو بلا لیتی ہوں۔۔۔مطی نے نظریں جھکا کر کہا تو وہ سب گڑبڑائے۔۔
نہیں اتنی دیر میں تو یہاں جن رشتہ داروں کو بابا کی طبعیت خراب ہونے کی اطلاع دی ہے وہ پہنچ جائیں گے اور انھیں پتہ چل جائے گا۔۔ابھی اس بات کو خفیہ ہی رہنے تو بیٹی اگر راضی ہو،، تمھیں ان کے پہنچنے سے پہلے جلد ہی فیصلہ کرنا چاہئے،،،،،، اریش کے بابا بولے تو وہ خاموش ہوگئی۔۔
اسے کسی بھی طرف سے وہ سوچنے کا موقع ہی نہیں دے رہے تھے۔۔
میری بچی کیا تم راضی ہو ۔۔دادا نے پھر پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
پھر زبیر نے جو جج ،،،قاری صاحب اور گواہ بلوا رکھے تھے انھیں دادا کے کمرے میں ہی بلوا لیا گیا۔۔
کاغذی کارروائی مکمل کی گئی وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ ہوتے دیکھتی رہی۔۔
اور یہ مطربہ شاہ زر سلطان کی زندگی کی سب سے بڑی پہلی اور آخری غلطی تھی۔جو کہ وہ کر بیٹھی تھی،،۔جو کہ اس کے وجود کوبھگتنا تھی۔۔اس کی روح کو بھگتنا تھی۔۔
بہت جلد ایجاب و قبول کا بھی مرحلہ طے ہو چکا تھا۔وہ سب جا چکے تھے۔۔۔۔اب دادا کے چہرے پر سکون سی مسکراہٹ تھی۔۔
اب وہ مطربہ شاہ زر سلطان نہیں،،،، مطربہ اریش زبیر بن چکی تھی۔۔۔رشتہ بدل چکا تھا،،، مقام بدل دیا گیا تھا،، اس کی پہچان بدل دی گئی تھی،،
اریش جاؤ بہو کو اپنا گھر دکھا دو،،، باقاعدہ شادی کے بعد جب گھومنے پھرنے آؤ گے تو تم لوگ ادھر بھی رہ سکتے ہو ،،،،اریش کی مما نے چھیڑا تو وہ بلش کر گئی۔۔
اریش نے اٹھ کر بڑے حق سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے لیے باہر آ گیا۔۔۔گھر کے مختلف حصے دکھا کر اب وہ اسے لئے اس گھر میں موجود اپنے روم میں آیا تھا۔۔
میں بہت خوش ہوں بیری اپنی جیت پر،،،، میرا مطلب ہے اپنی محبت کی جیت پر،،، اس کے لبوں پر پراسرار اور فاتحانہ سی مسکراہٹ تھی۔۔
مطی اس دوسری منزل پر موجود اس کے کمرے کی بالکونی میں چلی آئی جو تازہ پھولوں سے بے تحاشا خوبصورتی سے سجائی گئی تھی۔۔
اریش یہ منظر بہت خوبصورت ہے۔۔وہ بالکونی کے باہر نیچے اشارہ کرتی بولی۔۔
ہاں یہ منظر بہت خوبصورت ہے ،،،وہ اسے سر تا پا بہت گہری نظر سے دیکھ کر بولا۔۔اس کی نگاہوں کی پر حدت تپش اور ذومعنی لہجے سے وہ گڑبڑائی۔۔۔
اریش ہمیں واپس چلنا چاہئے۔۔۔۔یہ کہتی وہ نظریں جھکائے باہر کی جانب بڑھی جب اریش نے بہت اچانک اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے کشادہ سینے میں بھینچا۔۔
یہ ککک ،،،،کیا،،، اریش،،، چھوڑو مجھے،،، وہ گھبرا کر مچلی،،
کچھ نہیں کر رہا بیری ،،، بس زرا سا محسوس کرنے دو خود کو،، وہ کہتا اپنے دہکتے لب اس کی گردن پر رکھ گیا،،
تو مطی کی جان پر بن آئی۔۔
اریش،،، اس نے اریش کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور ہٹانا چاہا
مگر وہ اس کے دونوں ہاتھ تھام کر مطی کہ کمر سے لگا چکا تھا۔۔
اتنا کیوں ڈر رہی ہو بیری محرم ہوں تمھارا،،، اور اب ویسے بھی مجھ سے انتظار نہیں ہو گا،،، وہ کہتا اسے چھیڑ بیٹھا
اریش چھوڑو مجھے،،، ورنہ،، وہ دانت پیس کر بولی،، مگر پرواہ کسے تھی۔۔
اچھا،،، ورنہ ورنہ کیا،،،، وہ کہتا اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ چکا تھا۔۔مطی کے طوطے اڑے،،
پھر آنکھوں کو عقیدت سے چوما،، پھر دونوں گالوں کی سختی آئی۔۔
اریش وہ چلائی۔۔۔
بےبی گرل جلدی سے اپنا ڈمپل دکھاؤ ،،،مجھے ڈمپل پر کس کرنی ہے،، نا دکھایا تو لپس پر کروں گا،،، پھر شکایت مت کرنا،، وہ بہکا سا بولا،،
جب مطی کو اندازہ ہو گیا کہ وہ اس کی مرضی کے بغیر اس کی چٹانی گرفت سے نہیں نکل سکتی تو ناچار اپنے چھوٹے سے ڈمپل کی نمائش کی۔۔۔جس پر اریش نے اپنے دہکتے لب رکھے اور شاید ہٹانا بھول گیا۔۔
اریش وہ پھر مچلی،، وہ اپنی اتنی ہی جسارتوں سے اس کی روح فنا کر چکا تھا۔۔
تب قہقہ لگا کر پیچھے ہٹا اور اسے چھوڑ دیا۔۔
مطی نے اس کے سینے پر مکے برسائے،،، پر اثر کسے تھا۔۔
کیوں اپنی چھوٹی سی جان ہلکان کر رہی ہو جان چلو گھر چھوڑ دوں ۔۔۔میرا ارادہ بدل گیا تو بہت جلد نقصان کروا بیٹھو گی اپنا۔۔
وہ معنی خیز سا بولا تو مطی نے باہر کی جانب دوڑ لگا دی۔۔وہ قہقہہ لگاتا اس کے پیچھے آیا۔۔
وہ مطی کو چھوڑنے کاٹیج تک آیا تھا۔۔
سنو بیری ابھی ویر کو مت بتانا،،، مجھے ڈر ہے وہ کچھ زیادہ ری ایکٹ نا کرے اور تمھیں پریشانی ہو۔۔
اریش کی بات پر مطی خاموش رہی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
مگر کاٹیج پہنچ کر سب سے پہلے اس نے اپنے ڈیڈ کو کال ملائی تھی۔۔
ڈرتے جھجھکتے تمام صورتحال،،، حالات و واقعات بتاتی چلی گئی ۔۔کیونکہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے وہ اپنے ڈیڈ سے کم از کم سچائی نہیں چھپا سکتی تھی۔۔
شاہ زر پہلے تو پریشان ہوا پھر مطی کو تسلی دی کہ جو بھی ھالت رہے اس میں مطی کا کوئی قصور نہیں تھا وہ ہینڈل کر لے گا سب. اور مطی کو تسلی دی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ایک ہفتے سے شاہ زین کی جان سولی پر لٹکی تھی
روز یونی جا رہا تھا مگر وہ نہیں آئی تھی۔۔
چپکے سے فارس اور حمزہ سے پتا کروا چکا تھا مگر وہ تو آئی ہی نہیں تھی یونی
کیا ہوا ہوگا؟
کہیں بیمار نا ہو؟
کیا میرے رویے سے اتنی ہرٹ ہوئی کہ یونی بھی نہیں آ رہی۔۔
افففف پاگل ہو جاؤ گے شاہ زین سلطان ۔۔۔اس پاگل لڑکی نے تمھیں بھی پاگل کر چھوڑا ہے۔۔
وہ اپنی کیفیت پھر جی بھر کر بدمزہ ہوتا یونی سے واپس آ گیا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
