Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

رات دس بجے کے قریب انھوں نے سلطان مینشن میں قدم رکھے تھے۔۔

گاڑی سے نکل کر ویر نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔۔ گاڑی سے شال نکال کر اس کے کندھوں پر اوڑھائی۔۔

ایک ہاتھ سے کوٹ کندھے پر گرائے دوسرے سے نیناں کا ہاتھ تھامے وہ سلطان مینشن کے لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔۔

سب موجود تھے۔۔ انھیں آتا دیکھ سب کے چہرے کھلے تھے۔۔حرم نیناں کی جانب لپکی۔۔اور اسے خود میں بھینچا۔۔

شاہ ویر نے اٹھ کر بیٹے کو سینے میں لگایا۔۔

ہیے پراؤڈ آف یو جونئیر ،،،شاہ ویر نے بیٹے کے کان میں کہا تو وہ گہرا سا مسکرا دیا۔۔
پلوشہ نے بھی بیٹے اور بہو کی بلائیں لیں۔۔

میر سر جھکائے نم آنکھیں لیے کھڑا تھا۔۔جب نیناں میر کے قریب آئی۔۔۔اب اسے سمجھ آ گئی تھی کہ اس کے ڈیڈ نے چوبیس سال پہلے وہ سب کیوں کیا تھا۔۔

ڈیڈ،،، نیناں نے قریب جا کر پکارا،، میر نے حیرت سے دیکھا اور بیٹی کو سینے میں بھینچ لیا۔۔
سب کو خوشگوار حیرت ہوئی۔۔

شاہ زر نے جونئیر کی طرف اشارہ کیا۔۔ جیسے پوچھنا چاہتا ہو کہ یہ کایا پلٹ کس طرح ہو گئی۔۔
جونئیر نے فرضی کالر جھاڑے جیسے کہنا چاہتا ہو دیکھا چھوٹے پاپا میرا کمال۔۔۔

نیناں کافی دیر اپنے ڈیڈ کے گلے لگ کر روتی رہی پھر میر نے ہی زبردستی اسے خود سے الگ کر اس کے آنسو صاف کیے۔۔

اب بس بھی کریں ناں آپی،،، کتنا دریا بہائیں گی،، سلطان مینشن میں باڑھ آ جائے گی۔۔
ربیع کے شوشے پر سب ہنس دئے۔۔۔
وہ نیناں کے گلے میں جھول گئی۔۔

اے جونیئر چپکو ربیع پیچھے ہٹو،،،، شاہ زین نے ربیع کو مصنوعی ڈانٹا اور پیار سے نیناں کو گلے لگایا۔۔۔

اب میں آپ کو کبھی روتا ہوا نا دیکھوں ،،،سمجھیں آپ،،، شاہ زین نے نیناں کو پیار بھری دھمکی دی،،
سہانا بھی آگے بڑھ کر نیناں کے گلے لگی۔۔

تبھی باہر سے ایک اور گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو ان کو حیرت ہوئی۔۔۔

کہ اس وقت کون ہے۔۔مگر کچھ دیر بعد ہی مطی کو اریش کے ساتھ اندر آتا دیکھ سب بہت بے حد خوش ہوئے تھے۔۔۔

مطی بھاگ کر آکر حبہ اور شاہ زر کے گلے لگی تھی۔۔وہ خود تو مسکرائے گئی،، شاہ زر بھی خوش تھا مگر حبہ بری طرح رو دی تھی۔۔

اریش پیچھے ہی کمر پر بازو باندھے اطمینان سے کھڑا رہا۔۔
شاہ زل اس کی جانب بڑھا تھا۔۔اور روبرو آ کر اس کی جانب دیکھا۔۔
تبھی اریش نے سکون سے ہاتھ آگے بڑھایا تھا،، جو کہ شاہ ذل نے تھام لیا۔۔

تھینکس،،، شاہ ذل کے منہ سے بے اختیار ادا ہوا،، مگر وہ اب بھی سامنے کھڑے شخص کو آزمانا چاہتا تھا،،، تمھیں زرا افسوس نہیں اپنی ماں کی ڈیتھ کا،،، میں نے اسی ہاتھ سے تمھاری مدر کو شوٹ،،،،،،،،

شی ڈیزرو،،،،،،، اگر جولی کی بات کر رہے یو تو وہ صرف ایک پیشہ ور کریمنل تھی،،، جو جانے کتنے گھر کتنی زندگیاں برباد کر چکی تھی۔۔جس نے اپنی سگی اولاد کو بھی نہیں بخشا۔۔ اگر وہ صرف جویریہ زبیر ہوتی تب اس کے مرنے کا افسوس ہوتا مجھے،،،

وہ شاہ زل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے جھجک بولا تھا۔۔۔اس کا لہجہ مضبوط اور آنکھوں میں سچائی تھی۔۔

ان کے قریب کھڑے شاہ ویر سلطان نے ان کی تمام گفتگو سنی تھی۔۔

تم،،، تمھاری جرات کیسے ہوئی،، سلطان مینشن میں قدم رکھنے کی،،، میری بیٹی کو کڈنیپ کرنے کی،،، میں منہ توڑ دوں گی تمھارا۔۔۔حبہ مطی کو پرے کرتی اریش کی جانب لپکی۔۔

تبھی مطی حبہ کے سامنے آئی تھی۔۔۔

پلیز مما کالم ڈاؤن،،،

چھوٹی مما،،، پیشنس رکھیں،،، شاہ ذل نے نرمی سے کہا،،

تبھی شاہ زر نے آگے بڑھ کر حبہ کا بازو تھاما تھا۔۔
یہ ہماری بیٹی کا ہزبینڈ ہے حبہ،،،، اور اس حقیقت کو تم جتنی جلدی تسلیم کرو گی اتنا ہی مطی کے لئے اور ہم سب کے لئے بہتر ہوگا۔۔

نیناں اریش کی جانب لپکی تھی۔۔
بھائی۔۔۔
اریش نے اس کے کندھے کے گرد بازو حمائل کر کے اسے خود سے لگایا۔۔

ہیے نیناں کیسی ہے میری گڑیا،،،

میں ٹھیک ہوں برو آپ کیسے ہیں،،،،

میں بھی ٹھیک،، وہ مسکرائی،،، پاس کھڑے ایک شخص نے یہ مسکان دل کی گہرائیوں میں اترتی محسوس کی۔۔۔

وہ تو نظر آ ہی رہا ہے ڈول،،،، اریش نے اس پر چڑھے کسی کے عشق کے رنگوں پر ٹونٹ کی۔۔۔
تو وہ نگاہیں جھکائے شرما دی۔۔۔

اریش کو سکون آیا۔۔شاہ زل نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا تو وہ سکون سے لاؤنج کے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔

وہ بڑے غور سے اپنی بیری کو دیکھنے میں مصروف تھا۔۔کسی کا لحاظ کیے بغیر جو کہ اب اپنی فیملی سے پہلے کی طرح ہنسنے مسکراتے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔۔

سب اریش کی یہ بے اختیاری اور محویت نوٹ کر رہے تھے۔۔

حبہ بھی مطی میں آنے والی یہ خوشگوار تبدیلی نوٹ کیے خاموش ہو گئی۔۔

سلطانز اسے اپنی فیملی میں ایکسیپٹ کر چکے تھے لہذا اب اسے بھی پروٹوکول دیا جا رہا تھا۔۔

اب سب نے ڈنر ایک ساتھ کیا۔۔شاہ زل اریش کے ساتھ بیٹھا تھا،، اور نارمل اس سے گفتگو کرتا رہا۔۔

ڈنر کے بعد اریش نے جانے کی اجازت چاہی ۔ وہ اپنا مدعا بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر تھا۔۔جو کہ شاہ ویر اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔۔
آخر شاہ ویر نے ہی اس کی مشکل حل کی۔۔

ہم جانتے ہیں اب مطربہ تمھاری امانت ہے ہمارے پاس۔۔ہم آپس میں مشورہ کر کے تمھیں بتا دیں گے۔۔ ہم بہت جلد دھوم دھام سے شاہ زل،،، زین اور مطی کی شادی کریں گے تم بھی تیاری کر لو۔۔

بہت شکریہ انکل،،، اریش کو سکون آیا،،، حبہ نے پہلو بدلہ۔۔

اریش نے اب حبہ کو مخاطب کیا تھا،، آنٹی آپ بلکل فکر مت کریں میں کبھی آپ کی بیٹی کو آپ سے دور نہیں کروں گا اور اپنی نئی زندگی کی شروعات لندن میں تو ہر گز نہیں کروں گا۔۔۔اب وہاں میرا کچھ نہیں رکھا سوائے تلخ ترین یادوں کے۔۔ اسی لیے میں جلد ہی ادھر اپنا گھر لوں گا۔۔اور پاکستان ہی شفٹ ہو جاؤں گا۔۔۔تاکہ کم از کم بیری مطلب مطربہ کم از کم اپنی فیملی سے الگ نا ہو۔۔۔۔۔۔اسی فیلڈ میں پاکستان کے لئے کام کروں گا۔۔
اریش نے انھیں اپنا ارادہ بتایا۔۔
جسے سن حبہ کو سکون آیا۔۔

چند ضروری باتیں کر کے اریش رخصت ہوا۔۔ ویر اسے باہر تک چھوڑ کر آیا۔۔

وہ جاتے جاتے محسوس کر سکتا تھا کہ وہ کھڑکی میں کھڑی اسے جاتے دیکھ رہی ہے
اریش کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔

مطربہ اریش زبیر میری محبت تمھیں پور پور میرے لئے بے قرار کر دے گی،،، تڑپو گی اب میری بانہوں میں آنے کو۔۔

وہ مسکراتا ویر سے ہاتھ ملاتا سلطان مینشن سے گاڑی نکالتا چلا گیا۔۔۔۔

ویر اندر آیا ،،،،سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔اس نے سب کے سر پہ بم پھوڑا۔۔

مما نیناں کا ضروری سامان میرے روم میں شفٹ کروا دیں،،،، نیناں روم میں آ کر ابھی میری بات سنو،،،، وہ لاپروائی اور نہایت اطمینان سے کہتا اپنے روم میں جا چکا تھا۔۔

نیناں شرم اور خفت سے کانوں تک سرخ ہوئی تھی۔۔ دل میں دانت کچکچائے۔۔۔
یہ بولڈنیس اور بدتمیزی تو گھٹی میں ملی ہے شاید ،،، بے شرم کہیں کے۔۔۔
یقیناََ سب بڑوں کو اندازہ ہو گیا ہوگا،،،، اففففففففففففف

نیناں نے پہلو بدل۔۔۔

مگر پری آپی،،، حرم بے چین ہوئی۔۔۔۔۔وہ تو دھوم دھام سے شادی کرنے کی بات کر رہے تھے اب یہ جونئیر کا شوشا سمجھ میں نہیں آیا۔۔

شاہ ویر سلطان نے بڑی مشکل سے دانتوں تلے لب دبا کر لبوں پر آتی ہنسی کنٹرول کی۔۔
گدھا،،،،،،،، باپ پر ہی چلا گیا ہے۔۔۔۔

پلوشہ نے شاہ کو گھورا،،،
حرم تم فکر مت کرو،،، سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔نیناں تم جاو بات سنو اس کی میں سامان بھجواتی ہوں تمھارا۔۔۔

پلوشہ نے کہا۔۔۔

نیناں بمشکل اٹھی،،، شرم وحیا سے بھاری ہوتے قدم بڑی مشکل سے اٹھے تھے۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ روم میں داخل ہوئی جب بہت اچانک اسے بازوؤں سے پکڑ دیوار سے پن کیا گیا تھا۔۔

اتنی دیر لگانے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں نیناں سلطان،،، جب کے بول کہ آیا تھا فورا روم میں آؤ،،،،
جانے ویر کا کیوں دل کر رہا تھا پنگے لینے کو۔۔

آپ کو یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی،،، سب کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ۔۔۔۔نیناں نے غصے سے کہتے اپنے لب کاٹے۔۔

کیا،،،، کیا اندازہ ہوا ہوگا،،، وہ اطمینان سے پوچھ بیٹھا۔۔۔۔

آپ کو شاید کچھ کام تھا۔۔نیناں نے نگاہیں ترچھی کر کے پوچھا۔۔

وہ تو کچھ دیر بعد بتا ہی دوں گا،،، اتنی بھی کیا جلدی ہے ،،وہ اطمینان سے بولا۔۔

نیناں کانوں تک سرخ ہوئی۔۔

چھوڑدیں مجھے ۔۔۔جانے دیں،،، مجھے حرم مما سے کام ہے۔۔۔وہ مچلی۔۔۔

نیناں میری ایک بات غور سے سنو اور اپنے زہن میں بٹھا لو،،، میری پرمیشن کے بغیر تم اس روم سے باہر نہیں نکلو گی۔۔۔
ویر تو حق جتا رہا تھا،،، کیونکہ نیناں کے زرا سے بھی دور ہونے سے اس کی سانس اٹکنے لگ جاتی تھی۔۔

مگر ادھر وہ سمجھی تھی کہ ویر سلطان اب بھی اسے اعتبار کے قابل نہیں سمجھ رہا تھا۔۔

سچ ہے بعض باتیں،، رویے،،، جزبات الفاظ اور اظہار کے محتاج ہوتے ہیں ۔۔۔

الفاظ کا سہارا لیے بغیر اظہار نا کیا ہو تو بہت بڑی بڑی غلطی فہمیاں پیدا ہوتی ہیں ۔۔
شک و شبے دلوں میں گھر کرتے ہیں ۔۔۔

اور رشتوں کی بنیادوں کو ہلا دیتے ہیں ۔۔ انھیں کمزور کر دیتے ہیں ۔۔
جیسے اب نیناں شاکی نظروں سے ویر سلطان کو دیکھ رہی تھی۔۔

آپ،،، آپ ایسے مجھے پابند نہیں کر سکتے،، وہ سسکی۔۔

ویر کو آگ لگی۔۔۔کمر میں ہاتھ ڈال کر سختی سے اسے خود میں بھینچا۔۔

میں ایسا کر سکتا ہوں نیناں،،، میرا حق ہے،،، اور تم میرے خلاف جانے کی جرات نہیں کرو گی،،، نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔
وہ دانت پیس کر بولا۔۔

آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں شاہ ذل چھوڑیں مجھے۔۔

آ،،، ہاں،،،چلو تمھیں اپنی برائی کا ایک نمونہ دکھاؤں۔۔
وہ اسے بانہوں میں اٹھائے بیڈ تک لایا تھا۔۔

نیناں بوکھلائی،،، شاہ زل ،،،،

اشششششششش،،،، خاموش ہو جاؤ،،، وہ اسے بیڈ پر لٹائے اس پر جھکا۔۔
نیناں نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنا چاہا جو کہ ویر نے تھام کر نرمی سے بیڈ سے لگائے۔۔۔

اور ان نرم گداز لبوں کو اپنی دسترس میں لیا،،، جنھوں نے اس کی نیندیں اڑا دی تھی۔۔

شاہ زل اپنی بے قراریاں شمار کرنے لگا جبکہ نیناں اس کی پاگل قربت میں اب گھٹن محسوس کر رہی تھی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پورا ایک ماہ گزر چکا تھا۔۔۔

سلطان مینشن میں سب کی زندگی نارمل روٹین کی طرف آ چکی تھی۔۔
شاہ زین اور سہانا کے لاسٹ سمسٹر چل رہے تھے،، جس کے فورا بعد بچوں کی شادی کے فنکشنز کیے جانے تھے۔۔

مطی بھی اپنی نارمل لائف میں لوٹ آئی تھی۔۔اریش نے جا کر اس سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔
وہ چاہتا تھا اب کی بار بیری اس سے خود رابطہ کرے۔۔

شاہ زین اور سہانا بری طرح سٹڈی میں بزی تھے سو ایک دوسرے سے دور ہی تھے۔۔
شاہ زین نے بھی اسے چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔

ظہان لندن واپس جا چکا تھا،،، ربیع کا بھی ایف ایس سی کے لئے کالج سٹارٹ ہو چکا تھا۔۔۔

نیناں اپنی اسی گھٹن زدہ محبت میں قید تھی۔۔جب وہ دشمن جاں گھر موجود ہوتا اسے ہر حال میں ہر قیمت میں اپنے آس پاس نیناں چاہیے تھی۔۔
نیناں اسے اس کی بے اعتباری ہی سمجھتی خود کو مسلسل مینٹلی ٹارچر کرتی رہتی تھی۔۔

آج بھی دن معمول کے مطابق طلوع ہوا تھا کون جانتا تھا اپنے اندر اتنے بڑا طوفان سمائے آیا ہے۔۔

شاہ زین اور سہانا یونی میں تھے آج ربیع کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی سو وہ کالج نہیں گئی تھی۔۔
نیناں کی طبعیت بھی بوجھل سی تھی۔۔

سو ربیع اس کے سر پر سوار تھی۔۔

نیناں آپو پلیز،،، پچھلے لان میں آئیں ناں،،، بہت بوریت ہو رہی ہے،، چلیں لڈو کھیلتے ہیں ،،،

ربیع کے مسلسل اصرار پر نیناں اس کے ساتھ پچھلے لان میں چلی آئی ۔۔۔۔
واقعی کھلی فضا میں آ کر وہ دونوں بہت ہلکا پھلکا اور فریش فیل کرنے لگیں،، تو کافی دیر وہیں بیٹھی رہیں۔۔

شام کے چار بجے کا وقت تھا۔۔
شاہ ذل گھر لوٹا تھا۔۔
اپنے روم میں آیا،،، نیناں کو وہاں موجود نا پا کر اس کے ماتھے پر کافی بل آئے تھے۔۔

پھر سلطان مینشن میں ہر طرف اسے دیکھا۔۔کہیں نہیں تھی۔۔
ویر کے سینے میں بھانبھڑ جلا۔۔

مما،،، مما،،،، پلوشہ کو آواز دی۔۔

کیا آفت آ گئی ویر کیوں شور مچا رہے ہو۔۔۔پلوشہ اپنے روم سے نکلی۔۔

مما نیناں کہاں ہے،،، خطرناک حد تک سنجیدگی سے پوچھا۔۔

پچھلے لان میں ہے ربیع کے ساتھ،، کوئی کام ہے تو مجھے بتاؤ،، پلوشہ نے ہوچھا۔۔

مگر وہ تن فن کرتا پھر پچھلے لان کی جانب گیا تھا۔۔

حرم اس کی اونچی آواز سن کر روم سے باہر نکلی تھی۔۔جونئیر کا یہ تحمکانہ لہجہ اسے بلکل پسند نہیں آیا تھا۔۔
تبھی لاؤنج میں شاہ ویر،،، میر اور شاہ زر داخل ہوئے تھے۔۔

نیناں ریلیکس سی کین کی کرسی پر بیٹھی ربیع کے تماشے ملاحظہ کر کے مسکرا رہی تھی۔۔
تبھی ویر اس کے سر پر آ کر سوار ہوا تھا۔۔

بازو سے دبوچ کر اسے چئیر سے اٹھایا تھا۔۔۔
نیناں کتنی بار سمجھاؤں کے روم سے مت نکلا کرو،، تمھیں میری اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی،،،،
وہ دانت پیس کر بولا۔۔

شاہ ذل چھوڑیں مجھے،،، ویر نے جو اس کا بازو شدت سے دبوچ رکھا تھا ،،اس سے نیناں کو تکلیف ہوئی

مگر وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹے روم میں لانے لگا۔۔نیناں کی بس ہو چکی تھی۔۔آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے۔۔
بری طرح مزاحمت کر کے اپنا بازو اس وحشی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔۔

وہ لاونج تک آیا تو حرم اور میر کو جونئیر کے اس رویے نے شدید طیش میں مبتلا کیا تھا۔۔

شاہ ویر کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے۔۔
وہ اسی طرح دیدہ دلیری اسے گھسیٹے اپنے روم میں لے جا رہا تھا
جب میر کا غصہ سوا نیزے پر پہنچا تھا۔۔

جونئیر چھوڑو اسے۔۔۔میر غرایا۔۔آگے بڑھ کر اس کی گرفت سے نیناں کا بازو چھڑوایا۔۔

ڈیڈ،،،،،،،وہ سسکتی بے تحاشا روتی میر سے لپٹی۔۔۔

یہ کیا بے ہودگی اور بدسلوکی ہے جونئیر،،،
شاہ ذل خاموش رہا۔۔

حرم نیناں کو اپنے روم میں لے کر جاؤ۔۔

مگر چھوٹے پاپا۔۔۔شاہ ذل نے بولنا چاہا۔۔

شٹ اپ جونئیر،،، شاہ ویر غصے سے غرایا۔۔

Continue,,,,,,,,,,,

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺