Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episde 7

شاہ زین آج یونی نہیں گیا تھا اور ربیع بھی کالج نہیں گئی تھی تو شاہ زین اسے ضروری نمیریکل سمجھا رہا تھا۔۔

جب اس کا فون رنگ ہوا۔۔
اس نے بے دھیانی میں ہی فون یس کر کے کان کو لگایا۔۔
ادھر چھوٹتے ہی پوچھا گیا۔۔

آج اپ یونی کیوں نہیں آئے شاہ زین ،،،آپ کو پتہ ہے میں نے آپ کا کتنا ویٹ کیا،،،،منہ پھلا کر بولا گیا ۔۔کیونکہ وقت کٹے نہیں کٹ رہا تھا۔۔

شاہ زین چونکا۔۔فون نمبر دیکھا جس پر اس نے ایس لکھ کر ہی سیو کیا تھا۔۔
اس نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔

ربیع آپ یہ کرنے کی کوشش کرو میں ابھی آتا ہوں،،،، یہ کہہ کر شاہ زین کمرے کی بالکونی میں چلا آیا۔۔

کیوں محترمہ میرے یونی آنے نا آنے سے آپ کا کیا لینا دینا،،،،؟

سہانا جل بھن کر کباب ہوئی ۔۔۔۔یعنی ابھی اس شخص کو یہ بتانا پڑے گا کہ اس کا کیا لینا دینا ہے۔۔

میں نے اسے،،،،، دل دے دیا،،،،،،،،،،،،، 🙄 حالانکہ ضرورت اس کو دماغ کی تھی،،

سہانا نے جل کر شعر کی صورت بھڑاس نکالی۔۔
شاہ زین کا قہقہہ ضبط کرنے کے چکر میں چہرہ سرخ ہو گیا۔۔

محترمہ میں کیمسٹری میں ماسٹرز کر رہا ہوں،،،، مجھے آپ کی یہ شعر شاعری سمجھ نہیں آتی۔۔

تو اور کیا سمجھ میں آتا ہے ،،،،،،؟ سہانا آج جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے میں لگی تھی۔۔۔

وہ کچھ فارمولوں میں سمجھائیں ناں،،شاید کچھ کام آ جائے،،،، وہ بھی تو چھیڑنے سے باز نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔

الائچی بہت کھاتے ہیں آپ،، وہ سونگ تو سنا ہوگا لونگ اور الائچی والا،،،،،، سہانا نے ایک اور کوشش کی ۔۔۔

جی سنا ہے ،،،شاہ زین نے دانتوں تلے لب دبایا۔۔

ہان تو وہی ،،،آپ لونگ ہیں اور میں الائچی،،، سہانا اطمینان سے بولی۔۔۔

پر میڈم الائچی تو کڑوی ہوتی ہے،،، شاہ زین نے کہا تو اب کی بار سہانا سٹپٹائی تھی۔۔۔کھسیا کر فون بند کر دیا

شاہ زین قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔۔

اونہہہہہہہ میڈم،،،،شاہ زین سلطان سے پنگے۔۔۔ناٹ چنگے،،،
وہ روم میں واپس آ کر ربیع کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

نینان مکمل بھیس بدل کر اور احتیاطاً ہیلمیٹ پہن کر لوکیشن ٹریس کرتی بائیک پر اپنے آدمی کے تعاقب میں نکلی تھی۔۔

جینیفر اس کے ساتھ تھی۔۔
کافی دور جا کر شہر کے دوسرے سرے پر ایک سنسان سی جگہ تھی۔۔جہاں پر ڈیوائس اس کی موجودگی کا پتہ دے رہا تھا ۔۔

اس نے قدرے دور بائیک پارک کی۔۔
اور وہ دونوں گن نکالے خاموشی سے آگے بڑھیں۔۔۔
تھوڑی ہی دور جا کر نیناں کی آنکھیں صدمے سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں ۔۔
وہ گیمر اس معاملے میں بھی اسے بری طرح شکست دے گیا تھا۔

کیونکہ کچھ ہی دور کوڑے کے ڈھیر کے اوپر اس کے آدمی کی شرٹ پڑی تھی جس میں اس نے ٹریکنگ ڈیوائس چھپایا تھا۔۔

Ssshhhhhhiiiiiiiiiittttttt,

وہ بھوکی شیرنی بنی واپس لوٹی۔۔
پلین بی پر عمل کرنے۔۔

اریش ہوٹل واپس لوٹا تھا
گہری سوچ میں تھا۔۔وہ سچ میں اتنی معصوم تھی جیسی دکھتی تھی یا دکھاوا کر رہی تھی۔۔

اونہہ مجھے کیا لینا دینا۔۔۔پلین بی پر عمل کرنے کا وقت ان پہنچا ۔۔
وہ کہتا فریش ہونے واش روم چلا گیا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ویر کاٹیج واپسی کے لئے نکلا تو اپنے آدمیوں کو فون کیا۔۔

سر ہم اسے وہیں لے کر جا رہے ہیں جہاں آپ نے کہا۔۔

فائن ۔۔چیک کرو اچھی طرح مشین سے اس کے کپڑوں میں ٹریکنگ ڈیوائس نا چُھپا ہو۔۔اگر ایسا ہوا تو کپڑے نکال کر پھینک دینا کسی سنسان جگہ پر۔۔

اوکے سر۔۔
انھوں نے چیک کیا تو واقعی ٹریکنگ ڈیوائس چھپایا گیا تھا اس کی شرٹ میں ۔۔
انھوں نے نکال کر بائیک پر اپنے دوسرے آدمی کو دی۔۔

وہ کسی اور روٹ پر کسی سنسان جگہ پر شرٹ پھینک آیا۔۔
اب وہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔۔

کچھ ہی دیر میں دشمن کا بھانڈا پھوٹنے والا تھا۔۔
مگر کاش یہ اتنا آسان ہوتا۔۔

وہ جسے بے ہوش کر دیا گیا تھا ۔۔جلد ہی ہوش میں آ گیا۔۔مگر سوتا بنا رہا ۔۔جب آدمیوں کا دھیان بٹا۔۔۔تو بڑے چپکے سے اس نے اپنے تعویذ سے ایک کیپسول نکالا۔۔
اور فورا نگل لیا۔۔

گارڈز اپنی منزل پر پہنچے۔۔یہ ایک پرانی طرز کی بنی عمارت تھی۔۔جہاں وہ اس آدمی کو لائے تھے۔۔
اسے لا کر رسیوں سے باندھ دیا گیا تھا۔۔

جلد ہی ویر اس جگہ پہنچ چکا تھا۔۔

اسے ہوش میں لاؤ،،،،،،ویر نے آرڈر دیا۔۔۔

یس سر،،، پھر انھوں نے ہر ممکن کوشش کی۔۔مگر اسے نہیں ہوش آنا تھا نا آیا۔۔۔
ویر کو غصہ آیا۔۔۔
What the he’ll……
اسے ہوش کیوں نہیں آ رہا۔۔قریب آ کر پلز چیک کی جو کہ چل رہی تھی۔۔

ہوسپیٹل لے کر جاؤ اسے اور فوراً بریفنگ دو مجھے کہ کیا مسئلہ ہے،،، اسی ہوسپیٹل لے کر جانا جہاں ہمارے ڈاکٹر ز ہیں،، ۔۔۔

یس سر،، وہ فوراََ حرکت میں آئے،، وہ اسے لئے ہوسپیٹل گئے،،
ویر کاٹیج واپس آ گیا،،
آدھے گھنٹے بعد ہی دانیال کا فون آ گیا۔۔۔

یس،،،، ویر نے فون کان کو لگایا۔۔

سر بری خبر ہے،، اس آدمی نے کوئی خطرناک ڈرگ اتنی مقدار میں نگل لی ہے کہ اس کا برین کچھ دنوں کے لئے کام کرنا بند کر گیا ہے۔۔ وہ کچھ دنوں کے لئے گہری نیند مطلب کومہ میں چلا گیا ہے۔۔کب ہوش آئے کچھ پتا نہیں ۔۔سر وہ اب آپ کے کسی کام کا نہیں،،،،،،،

Sshhhiiiiiiiitttttttttttttttt

یہاں ویر کو شکست ہوئی تھی۔۔۔

اوکے اسے وہیں چھوڑ کر نکلو وہاں سے،،،،

یس سر۔۔۔ویر نے کنپٹیاں سہلائیں۔۔
مقابلہ ٹکر کا تھا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ڈنر کے بعد ویر اپنے روم میں صوفے پر بیٹھا تھا۔۔اب نئے سرے سے تلاش شروع کرنا ہوگی ۔۔
نئے کلو ڈھونڈنے ہوں گے۔۔

اس کے ہاتھ میں ان مشکوک آدمیوں کی لسٹ تھی جو کہ اس حادثے کے بعد ترکی آئے تھے۔۔
اس نے صوفے سے سر ٹکا کر آنکھیں موندیں۔۔

ایک نیلا آنچل تصور کے پردے پر لہرایا۔۔اس نے گڑبڑا کر آنکھیں کھولیں ۔۔
ہے تبھی ہلکی سی نوک کے بعد شہباز اندر داخل ہوا۔۔۔

سر آپ نے جس لڑکی کی ڈیٹیلز مانگیں تھیں اس پیپر میں ہیں،،۔شہباز نے پیپر آگے بڑھایا جو کہ ویر نے تھام لیا۔۔

ویر نے اپنے ہاتھ میں موجود لسٹ شہباز کو تھمائی ۔۔
ان لوگوں کو اپنی ہٹ لسٹ میں رکھو،،، اور کام شروع کر دو،، زیادہ وقت نہیں،، جتنی جلدی ہو سکے،،

یس سر ،،وہ کہتا لسٹ لیے واپس چلا گیا۔۔
ویر نے وہ پیپر کھول کر دیکھا۔۔

نیناں درانی۔۔بیمار ماں ۔۔۔ترک باپ کا چھوڑ کر چلے جانا۔۔جاب کا نا ہونا۔۔بیچ پر وسل بجانا۔۔

وہ جیسے جیسے ڈیٹیلز پڑھ رہا تھا۔۔ ویسے ویسے دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔۔

انٹرسٹگ،،،،، پیپر کو ایک مرتبہ پھر پڑھا۔۔
فولڈ کر کے سائیڈ ڈرار میں رکھا،،، اور بیڈ پر لیٹ گیا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

اگلے دن نیناں بے چین سی اپنے کمرے میں ادھر ادھر ٹہل رہی تھی۔۔

اگر وہ آدمی مائکرو چپ کی سچائی بتا دیتا ہے تو سارا کھیل ختم ۔۔
ان کا پلین بری طرح فیل ہو جائے گا ۔۔
تبھی ڈور پر نوک کر کے جینفر اندر داخل ہوئی ۔۔

مبارک ہو میم ،،، ہمارے آدمی نے وہی کیا جو اسے کہا گیا تھا،،،،،اس نے وہ ڈرگ لے لی ،،،،ایک ہوسپیٹل سے ملا،،،،وہ کچھ پتہ نہیں لگا پائے۔۔۔

Yyesssssssss
یہ ہوئی نہ بات،،،،،میں اسی چیز کا ویٹ کر رہی تھی کہ اس کے بارے میں پتا چلے تو اگلے سٹیپ کی تیاری کی جائے ۔۔سنو جینفر جاؤ جا کر پلین بی کی تیاری کرو،،،، آج مجھے ہر حال میں اسے اس گھر تک لانا ہے،،، وقت نہیں ہمارے پاس چپ جلد ہی ترکی آنے والی ہے تب تک ہمیں انھیں زیر کرنا ہے،،،،،ان کے سامنے ایک اور پتہ پھینکو،،، تاکہ وہ باہر نکلیں۔۔۔

یس میم ،،،،،،وہ کہہ کر چلی گئی۔۔۔۔

پتہ نہیں ڈائمن کی تیاری کیسے ہوگی۔۔وہ جلدی سے واش روم گھسی اور تیار ہونے لگی۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ بریک فاسٹ کر کے ابھی فارغ ہوئے تھے۔۔تبھی دانیال کا فون آ گیا۔۔

فون یس کر کے کان کو لگایا۔۔ بولو دانیال ،،،؟

سر آپ نے جو لسٹ دی تھی اس میں سے ایک بندے کا اتا پتہ معلوم ہوا ہے،،،ہم نے پیچھا کیا مگر وہ بھاگ گیا ،،،،اس کے ساتھ دو تین اور آدمی تھے،،،، وہ بھی ہمیں دیکھ کر بھاگے ،، جس کا مطلب کچھ گڑبڑ ہے،،، وہ مختلف سمتوں میں بھاگے،،،
آپ لوگ نکلیں تاکہ انھیں ڈھونڈا جائے،،،،

اوکے،، ہم آتے ہیں،، ویر نے کہہ کر فون بند کیا،،، وہ بہت جلد تیاری کر کے نکلے تھے۔۔۔

وہ چاروں الگ الگ شہر کی مختلف سمتوں میں نکل کر انھیں ڈھونڈ رہے تھے۔۔کیونکہ اب دانیال کے فیس ڈیٹا ہیک کرنے سے ان کے پاس ان آدمیوں کی تصویریں بھی تھیں،،،

مطی کو جہاں کا ٹارگٹ ملا تھا وہاں ایک بہت بڑا ہوٹل تھا،،، اور ہوٹل کے آس پاس کا علاقے میں بہت پرانے پرانے فارم ہاؤسز تھے۔۔

وہ گھوم پھر کر سارا علاقہ دیکھ رہی تھی۔۔
آج وہ میرون فراک اور جینز کی ٹائٹس میں لیڈیز مہرون ہی کلر کی لیڈر جیکٹ پہنے سٹالر لئے ہوئے تھی۔۔

جب ایک پرانے سے فارم ہاؤس میں سے مختلف طرح کی آوازیں آئیں ۔۔اور اسے گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔

جو بھی تھا اسے دیکھنا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔۔وہ دبے قدموں فارم ہاؤس کی بیک سائیڈ آئی۔۔
دروازہ تو لاک تھا ۔۔البتہ لکڑی کا تھا چھوٹا سا ۔۔

وی جلد ہی اس کے اوپر چڑھ کر وہ دروازہ پھلانگ گئی۔۔۔

چپکے سے آگے بڑھی۔۔باہر سے تو بلکل سنسان تھا۔۔اندر سے ہلکے میزک اور کچھ غیر معمولی سنائی دے رہا تھا۔

اس نے ونڈو سے جھانک کر دیکھا۔۔اندر کا منظر دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گئی۔۔
اس قدر عجیب،، مضحکہ خیز اور بے ہودہ منظر اس نے آج تک اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ہو گا۔۔

تین لڑکیاں جن میں سے ایک سیاہ فارم اور دو شاید کورئین تھیں،،،،، جنھوں نے ایک لڑکے کو کرسی پر مضبوطی سے باندھ رکھا تھا۔۔اسے زبردستی کچھ پلانے اور کس کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔وہ لڑکا بری طرح جھٹپٹا رہا تھا۔۔

اور جیسے کوئی لڑکی اس کے قریب آنے لگتی وہ منہ دوسری سائیڈ کر لیتا۔۔وہ بدتمیزی کرتی قہقہے لگا کر ہنس رہیں تھیں۔۔۔
لڑکے کی مطی کی جانب پیٹھ تھی۔۔

مطی کا میٹر شارٹ ہوا ۔۔کھڑکی پھلانگ کر اندر داخل ہوئی تو لڑکیاں بری طرح چونکیں۔۔

You stay away from him,,,,,,,,
مطی نے دانت پیس کر کہا۔۔

Why are you angry, dear, you enjoy too
وہ کہتی قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں۔۔نشے میں بھی تھی۔۔

اب مطی نے کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی اور ان پر چھپٹ پڑی۔۔
وہ بھی شاید فائٹرز تھیں مقابلہ کرنا چاہا۔۔مگر مطی بہت غصے میں تھی۔۔کچھ ہی دیر میں اپنا بچاؤ کرتی انھیں دھول چٹا چکی تھی۔۔

وہ اٹھ کر بھاگ چکیں تھیں۔۔اب مطربہ نے پیچھے مڑ کر لڑکے کو دیکھا تو دنگ رہ گئی وہی اس دن والا ٹورسٹ تھا۔۔
اس نے قریب آ کر اسے رسیوں سے آزاد کیا۔۔

وہ خفت سے سرخ چہرہ لیے شرمندہ سا تھا۔۔
مطربہ کو اس مضحکہ خیز صورتحال پر ہنسی ضبط کرنا محال لگ رہا تھا۔

وہ جلدی سے فارم ہاؤس سے باہر نکل آئے۔۔۔
تھینکس،،،،، آخر اریش بولا۔۔

کس لئے،،، مطی نے دانتوں تلے لب دبایا ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں اس کا سرخ چہرہ جو کہ سامنے والا بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔

اریش خاموش ہو گیا۔۔۔

آپ کی عزت بچانے کے لئے،،جو کہ لٹنے والی تھی،،،،، مطی نے کہا اور ضبط نا کر سکی ہنسی کا فوراہ چھوٹا تھا۔۔
وہ پیٹ پکڑے ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھی۔۔

لبوں پر میٹھی سی ہنسی،،، گال پر چھوٹا سا ڈمپل اور آنکھوں میں پانی۔۔۔وہ مبہوت سا یہ میجکل سین دیکھ رہا تھا۔۔
مگر بظاہر خفت سے مطربہ کو گھور رہا تھا۔۔

(کاش یہ اس قدر دلنشیں ہنسی کبھی ان لبوں سے جدا نہ ہو) ڈائمن اپنی ہی خواہش پر بے تحاشا چونکا،، وہ جو اس کے ساتھ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔اس کے بعد کیا یہ ہنسی قائم رہ پائے گی۔
پھر اس نے ایسی خواہش کیوں کی۔۔
اس نے سر جھٹکا۔۔

او سوری ،سوری،،، شاید آپ کو برا لگا،، مطی نے بمشکل اپنی ہنسی پر کنٹرول کیا۔۔اس نے کوئی تبصرہ نا کیا۔۔

آپ کر کیا رہے تھے یہاں ،،،؟

ہیلپ کا بول کر لائی تھی یہاں کہ مجھے ہیلپ کی ضرورت ہے۔۔میں تو اپنے فرینڈ سے ملنے ہوٹل آیا تھا۔۔تو کہتی میری دوست زخمی ہے ہوسپیٹل لے کر جانا ہو ،،،،ساتھ چلو

اور آپ فادر ٹریسا بنے ساتھ چل پڑے،،،، آپ سچ مچ اتنے معصوم ہیں یا یہاں لڑکیوں کو دیکھ کر بن گئے ہیں ۔۔۔۔مطی نے چھیڑا جس پر اس نے اچھا خاصا برا منایا۔۔۔

میڈم میں سچ مچ ایک معصوم اور شریف بندہ ہوں جس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر بدمعاش ہوتا تو اندر انھیں رسیوں سے نا باندھنا پڑتا۔۔

ہاہاہا،،، ہاہاہا،، مطی کو ایک بار پھر وہ سین یاد آیا ۔۔اب کی بار تو اریش بھی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔۔
دونوں ہنستے چلے گئے ۔۔مطی کو جب محسوس ہوا کے وہ اتنے غور سے اسے دیکھ رہا ہے تو اس کی ہنسی کو بریک لگی۔۔

آپ ہنستے ہوئے بے تحاشا خوبصورت لگتی ہیں۔۔۔اریش نے اطمینان سے کہا
مطی نے گھورا۔۔

فلرٹ کر رہے ہیں میرے ساتھ،،،،

نہیں آپ فلرٹ کرنے کے لیے نہیں بنیں۔۔۔وہ سکون سے بولا۔۔

کیا مطلب،،،، اتنی بری ہوں میں یا لڑکی نہیں ہوں ۔۔مطی کو یہ بات بھی بری لگی۔۔

اریش نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔
نہیں یہ مطلب نہیں تھا۔۔مطلب یہ تھا کہ اپ فلرٹ کے لئے نہیں بنیں آپ تو عشق کرنے کے لیے بنیں ہیں ۔۔اس کا اطمینان اب بھی قابلِ دید تھا۔۔

مطی گڑبڑائی۔۔کیونکہ سامنے والے کی نظروں کی تون بلکل بدل چکی تھی۔۔

چلیں حساب برابر ہو گیا۔۔آپ نے اس دن میری ہیلپ کی آج میں نے آپ کی عزت بچا لی۔۔۔مطی نے شرارت بھری مسکراہٹ لئے اسے پھر چھیڑا۔۔

تھینکس جی میری عزت بچانے کے لیے،،،پاکستان میں میرے گھر والے اس سپر گرل کا نام ضرور جاننا چاہیں گے جس نے میری عزت بچائی،،، تو میں انھیں مطربہ بتا دوں گا،،، وہ چبا چبا کر بولا

آپ شاید برا مان گئے،،، میں چلتی ہوں اب،،، وہ ہوٹل کی جانب بڑھی

اپ بلکل چھوٹی سی بیری لگ رہی ہیں،،، اس نے پیچھے سے ہانک لگائی،،میرون ڈریس میں میرون چھوٹی سی بیری کی طرح،،

مطربہ کو تب چڑھی۔۔

واٹ،،، پیچھے مڑ کر اسے گھورا،، اب میرا قد اتنا بھی چھوٹا نہیں ہے جو آپ مجھے چھوٹی کہیں،،،،

اریش کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔۔
A beauty with № brain,,,,,
مگر وہ بھی تو کب کی چھیڑ رہی تھی،، اب اریش کی باری تھی۔۔

میں تو آپ کو بیری ہی کہوں گا ،،،

دوبارہ ملیں گے تو کہیں گے ناں،،،

اور میرا دل کہتا ہے کہ ہم دوبارہ ضرور ملیں گے۔۔وہ گہری نظر سے اسے دیکھتا بولا۔۔

مطی گھبرائی اور فورا ہوٹل کی طرف قدم بڑھائے۔۔
وہ پیچھے لپکا،،

آپ جانے لگی ہیں اور جانے کیوں یہ بات مجھے پریشان کر رہی ہے۔۔وہ عجیب سے لہجے میں بولا
مطی کے دل نے بیٹ مس کی۔۔

وہ اس شخص سے اب دور جانا چاہتی تھی جو جانے کیوں اس سے بے تکلف ہوا جا رہا تھا۔۔

وہ ہوٹل آئی۔اور بھیڑ میں جان بوجھ کر گم ہو گئی۔۔
پیچھے وہ اپنی پہلی کامیابی پر دل سے مسکرایا۔۔مگر لبوں سے بے اختیار نکلا۔۔

بیری،،،،،،،،،،

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ویر شہر کے پوش علاقے میں تھا۔۔مختلف گھروں کے ارد گرد چکر لگا چکا تھا۔۔

علاقہ قدرے سنسان سا تھا۔۔
جس گھر میں دانیال نے لوکیشن ٹریس کی تھی وہ گھر خالی تھا۔۔
کوئی نہیں تھا وہاں ہر۔۔۔۔

وہ ایک گھر کے سامنے سے گزرا تبھی اس کے پیچھے ایک بہت بڑا گملا جھماکے سے آ کر پھوٹا۔۔
اور فضا میں گملا ٹوٹنے کی آواز گونج اٹھی۔۔
ویر الرٹ ہوا اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔

تبھی ایک گھر کی دوسری منزل پر اسے وہ منظر دکھا جس نے اس کی رگوں میں شعلے بھڑکا دئیے۔۔

وہ نیناں درانی تھی۔۔کوئی آدمی اسے جکڑنے اور قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔وہ بری طرح جھٹپٹا رہی تھی۔۔
بول تو سکتی نہیں تھی۔۔شاید ویر کو متوجہ کرنے اور اپنی ہیلپ کرنے کے لئے اسی نے وہ گملا کسی طرح پھینکا تھا۔۔

ویر آندھی طوفان بنا اس گھر میں داخل ہوا تھا۔۔چند سیکنڈز لگے اسے گھر میں داخل ہونے میں ۔۔
دوسری منزل پر پہنچ کر دھاڑ سے دروازہ کھول کر وی ا آدمی پر جھپٹا تھا۔۔

کندھوں سے دبوچ کر اس کا سر دیوار میں دے مارا ت وہ بلبلا اٹھا۔۔

گارڈز۔۔۔وہ چلایا تو دو تین ہٹے کٹے سیاہ فارم جو شاید پچھلی طرف تھے ابھی۔۔۔۔۔۔۔

ویر نے اپنی بیلٹ نکالی تھی۔۔ ایک چھوٹا سا بٹن پریس کرتے ہی اس پر بلکل چھوٹے چھوٹے مگر نوکیلے کیل سے نکل آئے تھے۔

وہ صوفے پر گری بے تحاشا آنسو بہاتی نوٹ کر رہی تھی کہ وہ کون کونسے ہتھیار استعمال کرے گا۔۔

تبھی ان کی مڈ بھیڑ ہوئی ۔۔چند منٹوں میں وہ بیلٹ سے ادھڑے فرش پر زمین بوس تھے۔۔نیناں کو اس کے اس قدر مہارت سے لڑنے پر پریشانی ہوئی تھی۔۔

اب وہ اس آدمی کی جانب لپکا تھا ۔۔مگر بزدل دو چار بیلٹ کھا کر ہی بے ہوش ہو چکا تھا۔۔

ویر اس کی جانب پشت کیے کھڑا غصہ کنٹرول کر رہا تھا۔۔

اب بیٹھی منہ کیا دیکھ رہی ہو دوپٹہ اٹھاؤ،،،، دانت پیس کر اردو میں ہی بولا۔۔
کیونکہ وہ جانتا تھا اسے اردو آتی ہے۔۔۔۔

وہ فوراً اٹھی ویر نے بھی ادھر ادھر دیکھا مگر دوپٹہ کہیں نہیں تھا۔۔ شایر راستے میں کہیں گر گیا تھا۔۔
وہ پھر رونے کا شغل فرمانے لگی۔۔

ویر پیچھے مڑا ۔۔۔مگر اس کی پھٹی آستین دیکھ کر پھر رخ موڑ لیا۔۔اپنی جیکٹ اتاری۔۔

یہ پہنو،،،،اور چلو یہاں سے،،،،، اس نے روتے ہوئے جیکٹ تھام کر پہن لی۔۔۔

چلو ،،،ویر نے کہا مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔
جب ویر کو اندازہ ہوا کہ شاید وہ اس پر بھی بھروسہ نہیں کر رہی ہے تو دانت کچکچاتا مڑا۔۔

اس کا بازو دبوچ کر باہر کی جانب قدم بڑھائے۔۔

تو پلین اس سکسیس فل ۔۔وہ اس کے ساتھ تقریباً گھسٹتی ہوئی اس کی پشت کو گھورنے لگی۔۔
جس کے لمس سے اس کا بازو جیسے پگھل رہا تھا۔۔
رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے۔۔
اس لمس نے اس کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔

جب ماں کو بتایا کہ وہ دونوں بری طرح فیل ہو رہے ہیں تو جولی نے ان دونوں کو ہی یہ پینترا آزمانے کو بولا۔۔اور یہ بھی کہا کہ یہ پاکستانی بڑے جزباتی ہوتے ہیں۔۔
مدد کرنے کے لئے دوسرے کے پھڈے میں بھی گھس جاتے ہیں۔۔۔

جس سے نیناں میڈم تو کافی حیران بھی ہوئی تھی۔۔اور اب سامنے والے کا اپنے لئے ایٹیٹوڈ ،فکر اور غصہ دیکھ کر حیران کے ساتھ ساتھ پریشان بھی۔۔۔۔۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺