Rate this Novel
Episode 28
تجھے مڑ کر دیکھنا
ایسا ہی ہے
جیسا کوئی اندھا ہونے کے بعد
پھر سے آنکھیں پا لے
سہانا دو تین دنوں بعد اپنے پاپا کے گھر سے واپس سلطان مینشن آئی تھی۔۔
شاہ زین نے اپنے روم کی کھڑکی سے اسے آتا دیکھا تھا۔۔
پھر،ربیع نے اسے گھر میں چل رہی ساری پرابلمز بتائی تھیں۔۔
اب وہ کچن میں حرم کے لئے سوپ بنا رہی تھی۔۔
جب شاہ زین کچن میں داخل ہوا۔۔ کسی اور کو کچن میں نا پا کر وہ واپس جانے کے لئے مڑا۔۔
جب ایک مہربان سی کھنک کانوں میں سنائی دی۔۔
کچھ چاہیے آپ کو،،،، سہانا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔
ادھر مسکان گہری ہوئی۔۔ڈمہل ابھرا جس کے درشن کرنے کے لئے سہانا بے قرار تھی مگر وہ ظالم بنا فوراً چھپا گیا۔
واپس مڑا،، سر میں درد تھا چائے پینی تھی۔۔ مگر یہاں تو کسی کو خیال ہی نہیں،،، خیر چھوڑو،،،
میں بنا دیتی ہوں،،، وہ منمنائی۔۔
گڈ،،، میرے روم میں دے جانا،،، وہ کہتا اپنے روم میں چلا گیا،، سہانا کی روح فنا ہوئی۔۔
مگر سوپ تو ریڈی تھا۔۔وہ سوپ باؤلز میں ڈال کر حرم اور نیناں کو دے آئی۔۔نیناں تو اسے شروع دن سے بہت سوئیٹ اور پیاری لگتی تھی۔۔اب تو اور بھی انسیت سی ہو گئی تھی۔۔
فوراً آ کر چائے بنائی۔۔کپ میں ڈال کر اب اس کے روم تک جانا موت نظر آ رہی تھی۔۔
مگر جی کڑا کر کے اس کے روم تک آ ہی گئی۔۔ڈور ہلکا سا ناک کیا۔۔
یس کم ان،،، وہ جو منتظر ہی بیٹھا تھا۔۔ فوراََ سیدھا ہو کر بیٹھو۔۔
ان دنوں اس نے سہانا کو شاعری اور اوٹ پٹانگ میسجز سینڈ کر کے خوب ناک میں دم کیا تھا۔۔
وہ ڈری سہمی رہنے لگی تھی۔۔
اب بھی روم میں آ کر ٹیبل پر کپ رکھا اور واپس مڑنے لگی۔۔ تبھی کچھ خیال آنے پر واپس مڑی۔۔اور بری طرح انگلیاں چٹخانے لگی۔۔
شاہ زین نے بغور اسے دیکھا ریڈ کرتی شلوار میں دوپٹہ اوڑھے وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔
کچھ کہنا ہے،،،؟
جی۔۔وہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ کوئی مجھے پریشان کرتا،،، آپ نے کہا میرا وہم ہے،، یہ وہم نہیں ہے یہ دیکھیں یہ میسجزز،،
سہانا نے اپنا فون اس کے آگے کیا۔۔
جو کہ اس نے تھام کر سائیڈ پر رکھ دیا سہانا کو حیرت ہوئی۔۔
اس چھوڑو میں تمھارے منہ سے سننا چاہتا ہوں،، کیا کہتا ہے وہ۔۔شاہ زین لاپروائی سے بولا۔۔اور اب اس کے مقابل پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے بے نیاز سا کھڑا تھا۔۔
عجیب اوٹ پٹانگ سے میسجز ہوتے ہیں اور شاعری،، وہ نگاہیں جھکا کر بولی۔۔
کیا،،،،، ؟ سناؤ؟ شاہ اطمینان سے بولا۔۔
اس کی فرمائش پر سہانا نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے حیرت سے دیکھا۔۔
شاہ زین کے قدم آگے بڑھ رہے تھے اور سہانا کے لاشعوری طور پر پیچھے۔۔ پھر جب پیچھے دیوار آئی تو اسے رکنا پڑا۔۔
شاہ زین نے اس کے دائیں بائیں دیوار پر ہاتھ رکھے۔۔
میں نے پوچھا کیا شاعری بھیجتا ہے مجھے سناؤ،،، وہ پھر اطمینان سے بولا
مجھے نہیں سنانی،،، جانے دیں مجھے،،، وہ جھنجھلا کر بولی،، وہ کیا مسئلہ سنا رہی تھی اور مسٹر اکڑو کی انوکھی فرمائشوں کا پروگرام جاری ہو گیا تھا۔۔
پہلے تو سنا دیا کرتی تھیں،،،،، وہ لاپروائی سے بولا
تو خفت سے اس کا چہرہ سرخ ہوا۔۔
مگر شاہ زین نے اچانک جھک کر اس کے کان کے قریب اسی مخصوص سرگوشی میں مخصوص فقرہ دہرایا۔۔
دل کو یہ آرزو تھی کوئی دلربا ملے،،،
سہانا کا وجود زلزلوں کی زد میں آیا تھا،، پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا ۔۔جو اب شرارت سے گہرا سا مسکرا رہا تھا۔۔
اب نظر ہاتھ پر پڑی تو اپنے دانتوں کا نشان بھی نظر آیا تھا۔۔
سیکنڈوں میں اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں۔۔
آپ،،، شاہ زین وہ آپ تھے،، تو آپ نے اس طرح بدلہ لیا مجھ سے،، میرا کانفیڈینس بریک کر کے،،، میری عزتِ نفس کو مجروح کر کے،،
سہانا نے شکوہ کیا۔۔
شاہ زین کا ڈمپل غائب ہوا۔۔۔نو سہانا،،، ایسا،،،،،
مگر وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر غصے سے وہاں سے جا چکی تھی۔۔
لو جی نواں کٹا کھل گیا جے،،،،،
شاہ زین نے ماتھا پیٹا،،، بے وقوف،،، پاگل لڑکی،،، بلکہ واقعی سہانا بےبی ہے۔۔سارے رومینٹک موڈ کی بینڈ بجا دی،،
شاہ زین نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے سرد آہ بھری۔۔
چھوڑوں گا نہیں تمھیں تو میں سہانا بےبی،، اس نے دانت کچکچائے۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پریہا اور جلال واپس جا چکے تھے،، مگر ظہان نے کچھ دن اور رکنے کا بولا تھا۔۔
شام کا وقت تھا۔۔وہ اپنے والدین کو ائیرپورٹ پر چھوڑ کر آیا تھا۔۔
اب خیال آیا کیوں نا ربیع کے ساتھ لونگ ڈرائیو پر جایا جائے اور باہر کھانا کھایا جائے۔۔
ہممم خیال تو اچھا ہے ظہان جلال جعفری،،، وہ حرم سے پوچھ کر ربیع کے روم تک آیا۔۔
دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوا تو وہ سامنے ہی بیڈ پر بیٹھی انہماک سے کارٹون دیکھنے میں مگن تھی۔۔۔
ظہان نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔
ارے آئیے ظہان بھا،،،،،،، میرا طلب ہے بیٹھیں،،،
نہیں بیٹھنا نہیں،، چلو ڈرائیو پر چلتے ہیں،، باہر ڈنر بھی کریں گے۔۔
مگر میں تو صرف ڈیڈ اور زین بھائی کے ساتھ باہر جاتی ہوں،،، وہ اطمینان سے بولی،،
مگر اب میرے ساتھ بھی جا سکتی ہو ناں،،، ظہان جھنجھلا کر بولا ۔۔
صرف ایک شرط پر،،، اب اس نے ظہان کے دماغ کا بینڈ بجانے کا فل پروف پروگرام بنایا تھا۔۔
وہ کیا،؟ وہ حیرت سے بولا۔۔
میرے کچھ سوالوں کے سہی جواب دیں تو میں آپ کے ساتھ چلوں گی۔۔
اچھا پوچھو،،، ظہان نے اعتماد سے کہا۔۔مگر
اچھاااااااا،، تو یہ بتائیں وہ کونسا ڈریس ہے جو ہم پہنتے نہیں،،،
ظہان کے طوطے اڑے،، بتہیرا سوچا مگر
نہیں پتا،، ہار گیا،،
ایڈ ریس،،،، ہاہاہا ہاہاہا،،، وہ کھلکھلائی ظہان نے اسے گھورا۔
اوکے دوسرا سوال اگر درخت ہم انسانوں جیسے ہوتے تو ان کا کیا نام ہوتا؟
اففف کہاں پھنس گیا،،، ظہان جھنجھلا گیا،، نہیں پتا،، تم بتاؤ۔۔
People
کے پیڑ،،،،، ہاہاہا ہا ہاہا،، وہ پھر ہنستی چلی گئی،، ظہان کا دل کیا ماتھا پیٹ لے،، اس چھوٹے پیکٹ بڑے دھماکے کو دیکھا جو پیٹ پکڑ کر ہنس رہی تھی۔۔
اچھا ایک اور۔۔وہ شہادت کی انگلی اٹھا کر منت بھرے انداز میں بولی۔۔
نو۔۔۔ظہان تڑخ کر بولا،،،
صرف ایک،،، بتائیں ایک چڑیا بھوکی ہے سامنے کھیر کا پیالہ ہے وہ کیوں نہیں کھا رہی کھیر،،، ربیع سنجیدہ سی ہوئی
کیونکہ کھیر خراب ہوگی،،،زہریلی ہو گی یا ایسا کچھ ۔۔۔ظہان نے تکا لگایا
نہیں بلکل ٹھیک ہے،، ربیع نے جواب ریجیکٹ کیا۔۔
مجھے نہیں پتا تم بتاؤ،،
کیونکہ چڑیا کو شوگر ہے،،، ہاہاہا ہاہا وہ ایک مرتبہ پھر ہنسی۔۔
یہ دیکھو میری ماں،،، میرے جڑے ہاتھ،، کہیں نہیں لے جا رہا تمھیں ،،،یہیں بیٹھو تم۔۔
وہ کہتا وہاں سے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوا تھا۔۔
ربیع بے تحاشا ہنستی اپنی سینڈل پہن کر اس کے پیچھے لپکی،،
اب آخر اتنا تنگ کر کے اب جیب بھی تو ڈھیلی کروانی تھی۔۔آئسکریم کھا کر۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ہفتے بعد ویر اپنے ایک مشن سے واپس لوٹا تھا۔۔
جاتے وقت جو اس کے ڈیڈ نے اسے فون کر کے اپنے آفس بلا کر کام کہا تھا وہ کام پورا کیے اب وہ دھیرے قدموں سے چلتا فائل ہاتھ میں تھامے اپنے ڈیڈ کے آفس داخل ہوا تھا۔۔
شاہ ویر فری ہی بیٹھا تھا،،، بیٹے کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔
وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔
ڈیڈ،، مجھے سمجھ نہیں آئی،،، اتنی جلدی ڈی این اے کی رپورٹ نہیں آتی مگر آپ کے اصرار پر میں نے یہ کام بہت جلد کروایا۔۔یہ لیں اپنی رپورٹ،، اور بتائیں مسئلہ کیا تھا۔۔ وہ بہت الجھا ہوا تھا کہ اس کے ڈیڈ کو آخر یہ کیا سوجھی تھی کہ کسی کا ڈی این اے کسی سے میچ کروایا تھا۔۔
ویر نے وہ فائل ہاتھ میں لی۔۔۔مسئلہ یہ تھا جونیئر کے نیناں شاہ زل سلطان ،،،،تمھارے چھوٹے پاپا شاہ میر سلطان کی بیٹی ہے،، جسے جولی نے بچپن میں کڈنیپ کر لیا تھا،،، شاہ ویر نے سکون سے بولتے اپنے بیٹے کے سر پر بم پھوڑا،،
واٹ،،،،، یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ڈیڈ،،،
سچ بول رہا ہوں،،، اور پھر شاہ ویر نے ساری حقیقت جونئیر کو بتا دی۔۔وہ حیرت سے سنے گیا۔۔
تو ڈیڈ اگر آپ کو سچائی پتہ چل ہی گئی تھی،، اور اس کی باڈی پر برتھ مارک بھی موجود ہے تو آپ نے یہ ڈی این اے ٹیسٹ کیوں کروایا۔۔۔ وہ لاپروائی سے باپ سے نظرے چراتا ونڈو کے باہر دیکھتا بولا۔۔
یہ میں نے اپنے لئے نہیں،،،،،،، تمھارے ہاتھوں سے،،،، تمھارے لئے کروایا ہے،،، ایجنٹ ہو ناں،،،،،، ثبوت سے کم پہ مانتے نہیں،،،، میرے سامنے کھول کر دیکھو اسے۔۔۔
ڈیڈ پلیز،،، وہ خفت و شرمندگی سے سرخ چہرہ لیے شاہ ویر کو دیکھنے لگا۔۔
اچھا اسے میری خواہش ہی سمجھ لو،،، رپورٹ کھول کر دیکھو،، شاہ ویر کے چہرے پر سکون تھا، ،،شاہ زل نے اپنے ڈیڈ کی خواہش کے احترام رپورٹ کھول کر پڑھی تھی۔۔۔۔
جس میں صاف صاف لکھا تھا کہ
شاہ میر سلطان اور نیناں سلطان کے ڈی این اے ہنڈرڈ پرسنٹ میچ کرتے تھے۔۔۔
شاہ زل کے رگ و بے میں سکون کی لہر دوڑی۔۔۔
ڈیڈ بس بھی کریں،،، اس نے رپورٹ شاہ ویر کے سامنے رکھی اور جھنجھلایا سا بولا۔۔
بس تو تم کرو شاہ زل سلطان،،، شاہ ویر سنجیدگی سے بولا،،
میری بات غور سے سننا،،، اور سمجھنا،،، جونئیر،،،،،، اب تمھارا نیناں سلطان کے بارے میں کیا گیا ہر شک و شبہ،، ہر بد اعتمادی رد کی جاتی ہے۔۔۔۔۔ اپنا لو اسے،، فائدے میں رہو گے،، تم نہیں جانتے حرم اور میر ان دنوں،، نیناں کو لے کر کتنے ٹچی ہو رہے ہیں ،،،اس بچی کے ساتھ تمھاری زرا سی بھی بد سلوکی اب سلطان مینشن میں برداشت نہیں کی جائے گی ،،،تو بہتر یہی ہے کہ اگر اپنی بیوی سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتے ،،اسے اپنی زندگی میں ایک مقام دو،،
نہیں تو حرم اور میر کوئی سخت قدم لینے میں ایک پل بھی نہیں سوچے گے۔۔
سوچ ہے ڈیڈ آپ کی،،، شاہ زل کا سرسراتا لہجہ،،، شاہ ویر چونکا مگر خاموشی سے بیٹے کو دیکھے گیا۔۔
یہ صرف سوچ ہی ہو سکتی ہے ،،،،کسی کی ڈیڈ کہ اسے کوئی مجھ سے الگ کر سکتا ہے یا چھین سکتا ہے،، وہ شاہ زل سلطان کی ہے اور مرتے دم تک میری ہی رہے گی،، میں تو اس کی سانسیں بھی اپنی دسترس میں چاہتا ہوں اور مجھے اس سے الگ کیے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔۔ سٹرینج،،،،،،
وہ استہزیہ بولا۔۔
اس کے لہجے میں الگ طرح کا ہی جنون اور دیوانگی تھی۔۔
شاہ ویر نے غور سے بیٹے کو دیکھا،،،،، تو پھر بار بار کیوں چوٹ پہنچا رہے ہو اسے جونئیر ،،،
وہ اٹھ کر کھڑا ہوا۔۔۔ مرحم بھی تو لگاتا ہوں ڈیڈ۔۔
کدھر جا رہے ہو،،،
گھر جا رہا ہوں،،، وہ لاپروائی سے بولا،، اور فورا وہاں سے نکلا۔۔شاہ ویر کو ہنسی آئی۔۔
گدھا،،،،،
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ سلطان مینشن کے لاؤنج میں پہنچا تھا،،، سب وہیں موجود تھے۔۔
ویر نے بلند آواز میں سلام کیا اور اپنے روم میں آیا۔۔
ایک بے چینی ایک بے قراری سی تھی اور وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ چین اور قرار کدھر ہے۔۔
روم میں آیا تو ڈریسنگ کے پیچھے کچھ کھٹ پٹ سنائی دی۔۔
دل کی مراد یوں پوری ہو جائے گی سوچا نہیں تھا۔۔دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی تھی سامنے نیناں کو دیکھ کر جو ڈریسنگ میں دھلی ہوئی آئرن شدہ شرٹس ترتیب سے رکھنے میں مصروف تھی۔۔
اس نے پیچھے مڑ کر ڈور لاک کیا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس تک آیا۔۔
قدموں کی آہٹ سن کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو سٹپٹائی۔۔
ویر نے غور سے اس کا ہوائیاں اڑا چہرہ دیکھا۔۔۔یہ کانچ کلرڈ آنکھیں ہمیشہ کہیں دیکھی دیکھی لگتی تھیں۔۔
ہٹیں سامنے سے مجھے جانا ہے،،، وہ الماری بند کرتی اس کی طرف مڑتی،،،،،،کڑوا سا منہ بنا کر بولی۔۔
تمھارا زخم ٹھیک ہے،،،؟ وہ پوچھ بیٹھا۔۔
آپ سے مطلب،،، ہٹیں سامنے سے،،،
آج اس کے لہجے میں کانفیڈینس تھا۔۔اور اکڑ بھی ،،،
جو کہ ویر سلطان کے سامنے زرا پانی ہی بھرنے والی تھی۔۔
مجھے ہی تو مطلب ہے نیناں شاہ زل سلطان تم سے،،، وہ کیا؟ ابھی بتاتا ہوں،،
بڑی تیزی سے ویر نے اسے ڈریسنگ کی طرف گھما کر اسے ڈریسنگ ساتھ لگا کی کمر سے زپ کھولی تھی،، کندھے سے شرٹ نیچے کھسکا کر زخم کے نشان پر دہکتے لب رکھے۔۔
نیناں کی روح فنا ہوئی،، بری طرح جھٹپٹائی۔۔چھوڑیں مجھے،،، یہ کیا بدتمیزی ہے،،، وہ غرائی
اب ویر نے اس کے پیٹ پر ہاتھ لپٹا کر اسے بری طرح اپنے سینے میں بھینچا تھا۔۔ ایک ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ کر ڈریسنگ کے ساتھ لگایا ہوا تھا۔۔
جب پچھلی گردن جا بجا پر حدت ہونٹوں کو لمس محسوس ہوا،،
وہ دن میں ہی نیناں کو چاند تارے دکھا گیا تھا۔۔
شش،،،،،،شاہ زل چھوڑیں مجھے،،،
نا چھوڑا تو،،،،، ویر اطمینان سے بولتا اسے اپنی جانب گھما کر ڈریسنگ سے لگایا۔۔اس کے بے حد قریب وہ نیناں کی اتھل پتھل ہوتی دل کی دھڑکنیں تک سن سکتا تھا،،
تو میں مما کو بلا لوں گی،،، نیناں نے شاہ زل کو اس دن والی دھمکی دی۔۔
رئیلی،،، اور بلا کر انھیں لائیو شو دکھاؤں گی،،، بائی دا وے کہو گی کیا ؟کہ آئیں دیکھیں اتنے دنوں بعد میرا شوہر گھر لوٹ کر مجھ سے سکون حاصل کر رہا ہے؟ آپ بھی دیکھ لیں۔۔
وہ بظاہر سنجیدگی سے کہتا اس کا مذاق اڑاتا بولا مگر آنکھوں میں بے تحاشا شرارت تھی۔۔
شاہ زل پیچھے،،،،،،،، اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی شاہ زل نے اس کے گداز ہونٹوں سے اپنے ہونٹ الجھائے تھے۔۔
نیناں نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کی مگر ناکام۔۔
ویر کے عمل میں شدت اور لمس پر حدت پگھلاتا ہوا تھا۔۔
نیناں کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی،، ویر کے اتنی شدت بھرے لمس نے اس کی سانس اٹکائی۔۔
وہ اس کے بری طرح مچلنے کے باوجود خود کو سیراب کرنے میں مصروف تھا جب دروازے پر ہلکی دستک ہوئی۔۔
وہ نرمی سے پیچھے ہٹا۔۔مگر ایک خونخوار نگاہ ڈور پر ڈالی تھی۔۔
نیناں کو دیکھا تو وہ بری طرح اپنا سانس ہموار کرنے میں مصروف تھی۔۔
تبھی اس نے آگے بڑھ کر ہاتھ اس کی کمر کے پیچھے لے جا کر خود کی کی گئی گستاخ کا ازالہ کرتے ہوئے ادھ کھلی زپ بند کی تھی۔۔
اس کا دوپٹہ نے پھر ویر کی قدم بوسی کی۔۔
وہ بھاگنے لگی جب ایک مرتبہ پھر اس کی کلائی ویر کی دہکتی گرفت میں آئی تھی۔۔
جھٹکا سے پھر اپنی جانب کھینچا۔۔
دماغ ٹھکانے پہ رکھا کرو نیناں سلطان،،، ہر بار دوپٹہ بھول جاتی ہو میرے روم میں،،، دوپٹے کا کیا فائدہ،،، کسی دن خود کو بھی بھولو تو فائدہ بھی ہو،،،،،
وہ کہتا اپنا ڈریس لے کر واش روم جا چکا تھا،، نیناں نے فوراً دوپٹہ اٹھایا،،،
اونہہہہہہہ ڈریمون نہیں یہ تو سر پھرے غصیلے جیان ہیں،،،
بھاگ کر دروازہ کھولا۔۔
ربیع تھی۔۔
آپو آپ،،، میں تو بڑی مما کے کہنے پر بھائی کو بلانے آئی تھی۔۔
وہ فریش ہو رہے ہیں چلو،،،، وہ ربیع کو لئے،،،،، اس مونسٹر کی دسترس سے دور گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوئی تھی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ایک ہفتہ ہو چلا تھا مطی کو اس کمرے میں رہتے۔۔۔
اریش نے دن رات ایک کر دیا تھا اس کا خیال رکھنے میں۔۔
اب تبدیلی یہ ہوئی تھی کہ مطی نے اس بے حس شخص کے آگے ،،،، مجھے جانے دو مجھے جانے دو کی گردان لگانا چھوڑ دی تھی۔۔
اریش کہیں گیا ہوا تھا۔۔
موقع مناسب تھا۔۔اس پنجرے سے نکل کر فرار ہونے کا۔۔
اس نے سر سے پن نکال کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی جو کہ تھوڑی دیر بعد کامیاب بھی ہوگئی۔۔
دروازہ کھول کر دبے قدموں باہر آئی۔۔ بہت ہی خوابناک سا کاٹیج تھا۔۔
وہ کاٹیج سے نکلی۔۔بیرونی دروازے کے پاس گارڈ بیٹھا تھا۔۔
اس نے تھوڑا آگے ہو کر ایک پتھر اٹھایا اور دوسری جانب اچھال دیا۔۔
گارڈ الرٹ ہوا اور دوسری جانب دیکھنے گیا کہ کون ہے۔۔برف باری مسلسل ہو رہی تھی۔۔
گارڈ وہاں سے ہٹا تو وہ بیرونی دروازہ ہار کر گئی۔۔
سبز فراک،، چوڑی دار پاجامہ،،، پاؤں میں سینڈل اور کندھوں پر صرف ایک گرم شال اور وہ بے وقوفوں کی طرح اس برف باری میں نکل آئی تھی۔۔
مگر کچھ ہی دور جا کر ایک جانے پہچانے آہنی سینے سے پھر ٹکرائی۔۔گھبرا کر سامنے زرا اوپر دیکھا تو اریش کے چہرے اس قدر خطرناک تاثرات تھے کہ ایک مرتبہ تو مطی کی بیک بقن میں بھی سرسراہٹ ہو گئی۔۔
بہت جلد وہ اس بازو سے نرمی سے تھامے واپس لانے لگا مگر وہ مزاحمت کرنے لگی۔۔
چھوڑو مجھے،،، اریش چھوڑ دو،،، وہ جھنجھلائی۔۔
مگر اریش ایک جھٹکے سے اسے کھینچ کر اپنے بازوؤں میں اٹھا چکا تھا۔۔
چھوڑو مجھے،، اس نے غراتے ہاتھ پیر چلائے
اسے واپس لاتے اریش کے چہرے پر اس قدر بھیانک سنجیدگی تھی کہ وہ اندر ہی اندر کانپ کر رہ گئی
وہ کاٹیج واپس آیا تھا،،، اریش کی بانہوں میں میڈم کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔۔
اریش نے مطی کو نیچے اتار اور اس تھر تھر کانپتے اس کے جسم پر اپنی گرم جیکٹ پہنائی تھی۔۔
پھر وہ بیلٹ ناکلے گارڈ کی جانب لپکا تھا،،، اور اپنی بیلٹ سے اسے دھنکا تھا۔۔
مطی خوف سے پھٹی آنکھوں سے اریش کا یہ جنونی روپ دیکھ رہی تھی۔۔
سر معاف کر دیں غلطی ہو گئی مجھ سے۔۔۔
یو باسٹرڈ،،، تمھاری اس لاپرواہی کا کیا نتیجہ نکل سکتا تھا جانتے یو،، اسے ٹھنڈ لگ سکتی تھی،،، اریش اسے ادھیڑتے مسلسل بول رہا تھا۔۔وہ راستہ بھٹک سکتی تھی،،، مجھ سے پھر دور ہو جاتی،،، کوئی ھادثہ ہو جاتا،،، کون زمہ دار،، ،،،
سٹاپ،،، مطی چلائی،،، چھوڑو اسے پاگل انسان،، وہ اریش کے سامنے آئی۔۔
اریش کا ہاتھ رکا۔۔
بیری ہٹو سامنے سے،،، وہ سرخ آنکھیں لئے بولو۔۔۔
مطی نے پیچھے مڑ کر اس مسکین کو دیکھا،،، ہیے یو جاؤ تم،، اپنا کام کرو،،، گارڈ سر جھکائے کھڑا تھا۔۔
میں نے کہا جاؤ،،،
گارڈ باہر چلا گیا۔۔اینڈ یو،، وہ اریش کی جانب مڑی،،، بھاگی تو میں تھی ،،،غلطی میں نے کی،،، سزا بھی مجھے دو،،،، تو مارو مجھے ،،، کم آن،،،
وہ اس کے سامنے آئی تھی۔۔۔
Continue,,,,,,,,,,,,,,
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
