Rate this Novel
Episode 14
انطالیہ پورٹ پر آج شپمنٹ کے ذریعے چپ لائی گئی تھی۔۔
ویر اور اس کے ساتھی بھیس بدل کر پورٹ پہ آئے تھے ۔۔اس کے خاص آدمی چاروں طرف پھیل گئے تھے۔۔
اس کے ساتھ نمیرا تھی وہ بظاہر ہزبینڈ وائف اور بزنس پارٹنر کے اپنے سامان کی ترسیل کے لئے یہاں آئے تھے۔۔
ان کے ساتھ شہباز ان کے سیکرٹری کے طور پر تھا۔۔
وہ مطلوبہ شپ کی جانب بڑھے تھے۔۔جس کے نیچے ببنے بیسمیںٹ میں ان کا مطلوبہ ہدف تھا۔۔
مالک ان کے ساتھ ملا ہوا تھا سو انھیں بہت رازداری اور چپکے سے وہاں سے وہ بندہ اڑانا تھا۔۔
وہ اس شپ کے مالک سے ملے اور اندر سے دیکھنے کی گزارش کی،،،
Our equipment is delicate so we’ll want to see it from within.,,,,
مالک نے اجازت دی تو وہ شپ کے اندر چلے گئے ۔۔
شپ کو گھوم پھر کر دیکھا۔۔مالک ساتھ تھا۔
کچھ دیر بعد ویر نے کہا۔۔
I have to go to the washroom,,,,
مالک نے ویر کو واش روم دکھایا۔۔
نمیرا نے اسے باتوں میں الجھایا۔۔
ویر واش روم گیا وہاں کے
bright
سے رکاوٹیں ہٹا کر اس کی بیک سے باہر آیا۔۔جہاں پتلی سی راہ داری میں فالتو سامان تھا۔۔
تھا۔ راہداریوں سے گزرتا بیسمنٹ اترا۔۔۔۔
وہاں حسب توقع بظاہر کوئی نہیں تھا۔۔وہ چپکے سے آگے بڑھا۔۔
وہ بڑے بڑے کاٹنز کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔۔ویر کے پاس وقت بلکل نہیں تھا۔۔اس آدمی نے ویر پر حملہ کیا مگر ویر نے تیزی سے بچاؤ کرتے ہوئے اپنی بیلٹ نکال کر اس کی گردن کے گرد لپٹائی اور ہلکا سا جھٹکا دیا۔۔
وہ بے ہوش ہو گیا،، ویر اسے کندھے پر لاد کر اوپر لایا اسی راہداری میں آ کر اسے خاموشی سے سمندر میں اتارا
جہاں انڈر واٹر اس کے ماہر تیراک موجود تھے،،، اب انھوں نے اس آدمی کو اپنے ٹھکانے لے جانا تھا۔۔
وہ پھر روشن دان سے واش روم آ کر اطمینان سے باہر آیا۔۔
اب ان کا کام ختم ہو چکا تھا سو اطمینان سے باہر آئے،، اور واپسی کی راہ لی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ دونوں ائیر پورٹ آئے تھے۔۔وہ جو بہت ہوشیاری سے اپنی گیم کھیل رہے تھے یہاں آ کر گیم چینج ہو چکی تھی۔۔
پورا ایرپورٹ چھان مارا مگر نہ چِپ ملی نا آ دمی۔۔
نیناں اور اریش سخت تلملائے،، تبھی اریش کا فون بجا۔۔
اور فون پر سننے والے ہر لفظ نے اس کے تاثرات خطرناک حد تک بدلے تھے۔۔
واٹ دا ،،،،،،،،،،،،،،، اس کے منہ سے گالی نکلی۔۔
لینا،،، ویر سلطان کدھر ہے ۔۔تمھیں اس پر نظر رکھنی تھی ناں،،،، اریش سخت تلملایا۔۔
نیناں چونکی۔۔کیوں کیا ہوا ڈائمن،،، مجھے بتاؤ،،،
Sssshhhhhiiittttt,,,,,,
ہوا کیا بتاؤ گے بھی برو،،،
جو بات ہمیں پتہ نہیں چلی وہ اسے کیسے پتہ چلی ۔۔کہ چِپ کس زریعے سے ترکی آنے والی ہے،،،۔۔۔چِپ بائی ائیر نہیں بائی شپ آنے والی تھی،،، ڈیم اٹ،،، وہ لے اڑا اسے،،، لینا پورے ایک منتھ کی محنت بیکار ہو گئی۔۔۔
اریش دانت پیس کر بولا
نہیں اتنی جلدی ہم ہار نہیں مانے گیں،،، چِپ چھینی بھی جا سکتی ہے ،،،ابھی وہ رستے میں ہوگا چلو۔۔
وہ وہاں سے طوفان بنے نکلے،،،
کاٹیج سے تین چار کلو میٹر کی دوری پر ہی انھوں نے اسے جا لیا۔۔
زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔۔
ویر نے بہت جلد جان بوجھ کر سر انڈر کر دیا۔۔۔
(تاکہ اس کے آدمیوں کو جانی نقصان نا ہو) اس نے ہاتھ اوپر اٹھائے ۔۔۔
تبھی ایک گاڑی سے نکل کر لڑکا اور لڑکی اسے اپنی جانب آتے دکھائی دئیے ۔۔۔مکمل سیاہ لباس ۔۔۔بلیک پینٹ کے اوپر بلیک جیکٹس اور منہ پر مکمل ماسک۔۔
What you want,,,,,,,, ?
وہ دونوں بغیر بولے اسے کے قریب آئے اور اس کی تلاشی لی۔۔پینٹ کی پچھلی پاکٹ میں اریش کو وہ چپ کا چھوٹا سا باکس مل گیا،،،
اس نے وہ نکال لیا،،، ویر کے چہرے پر سایہ سا لہرایا۔۔
اریش نے وہ باکس کھول کر دیکھا،،، چپ موجود تھی۔۔
وہ یونہی بغیر بولے پیچھے ہٹے اور ان کی دونوں گاڑیوں کے ٹائرز پر فائر کرتے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئے۔۔
وہ فتح کے نشے میں چور اب جولی کے سامنے بیسمنٹ میں کھڑے تھے۔۔
اریش نے اپنا موبائل نکالا اور چِپ نکال کر موبائل میں موجود نمبرز سے چِپ کے نمبر میچ کیے۔۔
تبھی غصے کی انتہا سے اس نے موبائل،، چِپ باکس سمیت دیوار میں دے ماری تھی۔۔
کیا ہوا برو یہ کیا کر دیا،،
الو بنا گیا وہ ہمیں لینا،،،، نقلی چِپ ہے یہ،،، اس کی آنکھوں نے لہو ٹپکایا۔۔۔
جولی بھی غصے سے پاگل ہو گئی۔۔
وہ کیسے مگر ہم نے تو اس کی پاکٹ سے نکالی تھی اور اگر یہ نقلی ہے تو اصلی کہاں ہے،،، لینا نے بھی سر پکڑا،،
وہ واقعی گیم چینجر تھا۔۔۔۔
اسی کے پاس ہے،،، ہمیں جلد از جلد اپنے آخری قدم اٹھانے ہیں لینا،،، ورنہ وہ چلے جائیں گے کامیاب ہو کر،،، اریش نے دانت پیسے،،
پھر اگلا پلان،،
الگ الگ کر دو ان سب کو ان کا ایکا ٹوٹا تو سمجھو یہ ٹوٹے،،، پھر تم لوگ آسانی سے قابو کر سکتے ہو انھیں،،، جولی غصے سے پھنکاری۔
ٹھیک ہے مام تو وقت آ گیا ہے کہ میں اسے اپنے پاس لے آؤں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے،،،
وہ جنون کی انتہا سے بولا،،،
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
شاہ زین اسے لئے روم میں آیا تھا،، دھاڑ سے دروازہ لاک کیا۔۔
اور سہانا کو اپنے بیڈ پر پٹخا۔۔
وہ بیڈ پر اوندھے منہ گری تھی۔۔تڑپ کر سیدھی ہوئی،، سامنے دیکھا تو سلطان مینشن کی چھت جیسے اس کے سر پر گری تھی۔۔۔
وہ بڑی فرصت سے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے میں مصروف تھا۔۔
یہ کیا کر رہے ہیں شاہ زین،،،، وہ چلائی ،،،
اپنی بیوی کو اس کا حق دے رہا ہوں،،، وہ پھنکارا،،، میں تو امید کر رہا تھا تمھیں اپنی غلطی کا احساس ہو گا،،، تم سوری بولو گی یونی میں میرا تماشا لگانے کا،،،،، تو میں بھی سوری بول دوں گا اپنے رویے کے لئے ۔۔پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا،،، مگر آج جو تم نے کیا سب ختم ہو گیا سہانا،،،، اور اب آج مجھے حیوان ثابت کرنے والی میرا ڈیول روپ دیکھو پھر،،،
شاہ زین کا سرسراتا لہجہ،،،،
آ،،،،، آپ،،، مم،، میرے،، ساتھ،،، ای،،،ایسا،نہیں،،،کک،،کر سکتے،،وہ سسکی،،
او رئیلی،،، میں ایسا ہی کرنے والا ہوں،،، اب اپنی بیوی کو خوش بھی تو رکھنا ہے،،
کیا بیوی بیوی لگا رکھا ہے شاہ زین آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ۔۔
نو،،، میں کچھ نہیں جانتا ۔۔بقول تمھارے اگر یہ نکاح ہوا ہے تو ہوا ہے۔۔اب اپنا کیا چپ چاپ بھگتو،، وہ شرٹ اتار کر دور اچھال چکا تھا،،
جارحانہ تیور لئے اس کی جانب بڑھا۔۔۔
نہیں شاہ زین ،،، آپ مجھے اس طرح بے عزت نہیں کر سکتے ۔۔وہ تڑپتی پیچھے کی جانب سرکی
آ ہاں،،، سہانا بےبی تم اپنے اور میرے خاندان کے سامنے مجھے بے عزت کر سکتی ہو تو میں تو پھر بھی تنہائی اور بند کمرے میں تمھیں بے عزت کروں گا ،،
وہ اسے پاؤں سے کھینچ کر اپنے سامنے گھسیٹ چکا تھا،، وہ بے تحاشا روئی۔۔
اب اپنے کئے گئے عمل کی سنگینی کا احساس ہو چلا تھا کہ شاہ زین کو اتنی انسلٹ کے بعد کیا محسوس ہوا ہو گا۔۔
سلطانز کے غصے اور جنون کو ہوا دینے والے آج تک پچھتائے ہی ہیں سہانا بے بی ،،،تم بھی پچھتاو گی جب حرام زندگی جیو گی،، شاہ زین نے اس کا دوپٹہ کھینچ کر دور اچھالا،،
وہ اٹھ کر شاہ زین کے قریب سے بھاگنے لگی جب شاہ زین اس کی کمر کے گرد بازو لپیٹ کر دوبارہ اسے بستر پر پٹخا،،
کیوں سہانا بے بی اتنے میں ہی جان ہوا ہو گئی،،، ابھی تو شروعات ہوئی ہے۔شاہ زین اس کے اوپر جھکا،، مزاحمت کے لئے تیزی سے چلتے ہاتھ جکڑ کر اس نے بیڈ سے لگائے تھے۔۔
تنی رگیں سرخ چہرہ آنکھوں میں وحشت اور جنون،، اس وقت کون کہتا کہ وہ یونی کا کالم بوائے شاہ زین سلطان ہے۔۔
شاہ زین چھوڑیں مجھے،،، ائم سوری،، وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی۔۔
واؤ ،،،،خوب،،،،، سہانا بے بی،، معافی لفظ کہنا اور بولنا کتنا آسان ہے ناں تمھارے لئے،،، ایک پتھر اٹھایا،، کیچڑ میں پھینک کر میرا دامن داغدار کیا،، اور بول دیا سوری،،، میں اپنا پتھر واپس لیتی ہوں ۔۔وہ دانت پیس کر بولا
شاہ زین کو خود سے اور اپنے بیڈ پر موجود اس نازک وجود سے پے پناہ نفرت،، کرایئت اور گھن محسوس ہوئی۔۔
دوبارہ اسے بیڈ پر پٹخا اور یوں دور ہوا جیسے کوئی اچھوت ہو۔
مرو سہانا تم،،، آئی ہیٹ یو،،،،،لاکھ چاہنے کے باوجود میں تمھارے ساتھ وہ نہیں کر سکتا،،،، جو تم نے میرے ساتھ کیا،،،، میں تو تمھاری جانب قدم بڑھانا چاہتا تھا مگر اب زندگی میں کبھی پلٹ کر تمھاری شکل بھی نہیں دیکھوں گا،،
وہ کہتا اپنی شرٹ اٹھا کر دھاڑ سے دروازہ بند کر کے جا چکا تھا۔۔
پیچھے وہ پچھتاؤں کہ انگاروں پر گھسیٹ لی گئی تھی۔۔ارشد کاکا نے کتنا سمجھایا مگر اس نے ایک نا سنی۔۔اور ایک غلط فیصلے غلط حرکت نے اس سے اس کا سب کچھ چھین لیا تھا۔۔
اور وہ جو تھپڑ پڑا تھا شاہ زین کو یقیناً اسی کی وجہ سے زندگی میں پہلی مرتبہ پڑا تھا
ہچھتاوا،، شرمندگی،، محبت کو دکھی اور شرمندہ کرنے کا غم سب کو پریشان کیا ،،،
اب کیا کروں،،کیا کروں میں کہ اپنے کیے کا مداوا کروں، اس نے بیڈ پر لیٹے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے،،
شاہ زین تن فن کرتا سلطان مینشن سے جا چکا تھا،، سلطان مینشن واپس نا آنے کے لئے،،،،
حاتم مینشن پہنچا تو روپ اس کا رویا چہرہ دیکھ بہت پریشان ہوئی مگر وہ خود کو،، وہاں موجود اپنے کمرے میں بند کر چکا تھا۔۔
روپ نے بھی کریدنا ضروری نا سمجھا۔۔اور پھر کچھ ہی دیر بعد حرم اور میر چلے آئے اس کے پیچھے
وہ شاہ زین کے روم کی جانب آئے۔۔
دروازہ ناک کیا مگر وہ ٹس سے مس نا ہوا۔۔
لاک کھلا تھا۔۔وہ اندر آ گئے۔۔وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا۔۔ اپنی مما اور ڈیڈ کو دیکھ کر سیدھا ہوا۔۔
حرم خاموشی سے پاس آ کر بیٹھی اور اس کا سر گود میں رکھا۔۔
میر بھی پاس آ کر بیٹھا،،
آنسوؤں نے آنکھوں کی باڑ کو توڑا،،،، مما میں نے کچھ نہیں کیا،، وہ جھوٹ بول رہی تھی،،۔
ہمیں معلوم ہے شاہ زین،،، حرم نے اطمینان سے کہا۔۔
ہمیں تم پر پورا بھروسہ ہے شیر،،، اور برو کو بھی،،بلکہ سب گھر والوں کو،،، میر نے بھی اس کے سر پر بم پھوڑ
وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور شاکی نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا۔۔
مما آپ نے مجھے تھپڑ مارا،،،،،
وہ تمھیں نہیں مارا تھا اس ضدی لڑکی کی ضد،، انا اور محبت کو مارا تھا،، اس کی روح کو جھنجھوڑا تھا،، تاکہ اسے اس کی غلطی کی سنگینی کا احساس ہو۔۔حرم نے سکون سے کہا ۔۔
ڈیڈ اس وقت آپ لوگوں نے مجھ پر بھروسہ نہیں جتایا،، شاہ زین نے پھر شکوہ کیا۔۔
وہ اس لئے کہ وہاں ایک بیٹی کا باپ موجود تھا جس کے پہلے ہی کندھے جھکے ہوئے تھے،، اس وقت اگر ہم کچھ کہتے وہ جیتے جی مر جاتا،اور یہی سمجھتا کہ ہم اپنے بیٹے کو بچا رہے ہیں، وہ بہت نیک اور نفیس انسان ہے اپنی بیٹی کی غلطی پتا چلتی تو شرمندہ ہوتا،، اس لئے ہم اور خاص کر ویر برو خاموش رہے نہیں تو وہ سب کچھ جھوٹ ثابت کرنا برو کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا،،، شاہ میر نے اطمینان سے کہا تھا اسے کچھ سکون ہوا،،،،،،
مگر پھر حیرت ہوئی،،، مما میں اسے اپنے روم میں لے گیا،، تو پھر آپ لوگوں نے جانے کیوں دیا،،،؟ وہ حرم کی گود میں منہ دئے شرمندگی سے بولا۔۔
کیونکہ مجھے اپنی تربیت پر پورا بھروسہ ہے،، حرم نے مسکرا کر اس کے بالوں میں ہاتھ دیا۔۔۔
اب ہمیں بتاؤ شروع سے کیا ہوا تھا۔۔وہ اتنی کیوٹ اور خوبصورت بچی اتنی بڑی غلطی کیوں کر بیٹھی۔۔
اونہہہہ کیوٹ بچی،،،،، آئی ہیٹ ہر مما،،،، وہ چڑ کر بولا اور ساری بات بتاتا چلا گیا۔۔
حرم اور میر کو بیٹے کی کیوٹ سی لو سٹوری سن کر بہت ہی زیادہ ہنسی آئی مگر صاحبزادے کے بگڑے تیور دیکھ کر عافیت اسی میں جانی کہ ہنسی دبائے رکھی۔۔
اب آگے کیا کرنا ہے شاہ زین،،،؟ حرم نے پوچھا تو اس نے برا سا منہ بنایا۔۔
کیا کرنا ہے مما،، آئی ہیٹ ہر،،،،، میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔
تو ٹھیک کچھ دن میں اسے اپنے پاس رکھوں گی تم یہیں حاتم مینشن میں رہنا،،، اسے ایک ماں کی تربیت کی ضرورت ہے،، حرم نے کہا تو اس کا پھر منہ کڑوا ہوا۔۔
مما آپ اس کی وجہ سے مجھے خود سے دور کریں گی،،
نہیں تمھاری وجہ سے،، حرم نے معنی خیز سا کہا۔۔
مجھے کوئی پرواہ نہیں اس کی،، وہ لاپروائی سے بولا۔۔
اوکے ٹھیک ہے،، مگر ہمارے کہنے پہ تھوڑا کمپرومائز کر لو،،
میر نے کہا تو وہ خاموش ہو گیا۔۔
میر اور حرم کافی دیر اس کے پاس رہے پھر چلے گئے۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ کاٹیج لوٹا تو کامیاب لوٹا تھا
دشمن کو بھی ڈاج دینے میں کامیاب ہو گیا۔۔
جب ویر نے اس آدمی کو سمندر میں پھینکا تھا اصلی چِپ اپنے آدمیوں کو تھما دی تھی۔۔اور نقلی خود رکھ لی۔۔
پتہ تھا دشمن کسی بھی طرف سے حملہ کر سکتا ہے،، اور اب وہ مطی کے پاس آیا تھا۔۔۔
کیسی طبعیت ہے تمھاری،،، ؟
ہمم ٹھیک ہوں،،، مطی چونکہ میڈیسنز لے چکی تھی تو اب کچھ بہتر تھی۔۔
سنو مطی،،، کل ہمیں نکلنا ہے یہاں سے ،،مگر میں چاہتا ہوں کہ یہ چِپ تم سنبھالو،،، کیونکہ آج ہم سب دشمن کی نظر میں آ چکے ہیں،، مگر تم ،،تم سے ناواقف ہیں،، اب جان دے دینا مگر یہ چِپ نہیں دینا کسی کو،،، میں یہ امانت تمھیں سونپتا ہوں۔۔
ویر نے باکس مطی کی جانب بڑھایا۔۔
مطی نے باکس لے کر اس میں سے چِپ نکالی۔۔باکس الماری میں چھپا دیا مگر چپ نکال کر بلکل چھوٹے سے پلاسٹک میں لپیٹ کر اسے اپنی فراک کی پہلو میں موجود سیکرٹ پاکٹ میں رکھ لیا۔۔
اپنا خیال رکھنا،،، ویر کہتا اس کا کندھا تھپتھپا کر اپنے روم میں آ گیا۔۔
تبھی نیناں کا میسج آیا۔۔
کدھر ہو؟
کیوں یاد آ رہی ہے؟ 😜
جوابی میسج پڑھ کر نیناں گڑبڑائی۔۔۔
اونہہہہ مجنون کی اولاد۔۔پھر جواب دیا۔۔
ویر ہنسا،، جواب دیا،،
رائٹ میرے ڈیڈ ایک بہت بڑے مجنوں ہی ہیں،، پر سوچ رہا ہوں میرے بچے کیا ہوں گے مجنوں یا رانجھے،،،
ویر نے پھر چھیڑا۔۔۔نیناں کے ہاتھوں میں واضع لرزش تھی۔۔مگر اپنا مقصد بھی پورا کرنا ضروری تھا۔۔
میں فری ہوں،، کچھ دیر کے لئے آ جائیں پھر ڈنر اکٹھا کرتے ہیں۔۔
نیناں نے میسج کیا،، کچھ دیر بعد ہی رپلائی آ گیا۔۔
اوکے ابھی آیا۔۔
ویر کہتا اٹھا،، اور گاڑی لے کر نکلا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رات کی تاریکی میں چند ہیولے بے تحاشا خاموشی سے کاٹیج میں داخل ہوئے تھے۔۔
بلیک ڈریس اور بلیک ماسک۔۔۔
ان میں سے ایک اطمینان سے چلتا مطی کے روم کی طرف آیا۔۔کھڑکی پھلانگ کر اندر داخل ہوا تو وہ بے خبر میڈیسنز کے زیر اثر سو رہی تھی۔۔
وہ بیڈ کے قریب آیا۔۔
نیند میں بھی کچھ غیر معمولی لگا تو پٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں مطی نے ۔۔
ملگجے سے اندھیرے میں کوئی ہیولہ کمرے میں نظر آیا تو اس نے چلانے کو منہ کھولا۔۔
جو کہ سامنے والے نے بجلی کی سی تیزی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ اس کی آواز کا گلا گھونٹا۔۔
تب مطی کو اپنی گردن میں سوئی سی چبھتی محسوس ہوئی۔۔
یہ جو بھی تھا بلکل ٹھیک نہیں تھا۔۔ویر بھی نہیں تھا نہیں تو وہ تو خطرے کو بھانپ لیتا۔۔
مطی جلد ہی بے ہوش ہو کر اس کی بانہوں میں جھول گئی تب اس نے اپنا ماسک اتارا۔۔
اریش نے مسکرا کر اس دشمنِ جان کو دیکھا۔۔جو نیلی فراک میں اسے نیلی پری لگ رہی تھی۔۔
ہیے بیری،،، تمھیں دنیا سے چرانے کا وقت آ گیا ہے بےبی گرل،، وہ بے خود سا ہو کر اس کے نرم و گداز لبوں پر جھکا۔۔
دل تھا کہ بھرتا نہیں تھا،، روح تھی جو سیراب نہیں ہو پا رہی تھی۔۔
کافی دیر خود کو سیراب کرنے کے بعد وہ پیچھے ہٹا اور اسے بازوؤں میں بھرا۔۔
ابھی بھی اریش کی نظر اس کے چہرے کے ہر نقش کو چوم رہی تھی۔
پاگل کر دو گی مجھے بیری تم،،،،،،،
وہ کہتا اسے باہر لایا۔۔
پھر جتنی خاموشی سے وہ لوگ کاٹیج میں داخل ہوئے تھے۔۔اپنا مقصد پورا کر کے اتنی ہی خاموشی سے وہاں سے چلے بھی گئے۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ویر واپس لوٹا،، تو ایک قیامت آ کر گزر چکی تھی۔۔
اسے بہت جلد کچھ غلط ہونے کا احساس ہو گیا تھا۔۔
وہ مطی کے کمرے کی جانب آیا چیک کرنے۔۔
مطی۔
،،، مطی، کمرہ خالی تھا،،، واش روم کے پاس گیا۔۔
چھٹکی،،، وہ جھنجھلا کر چلایا۔۔
مگر جواب ندارد۔۔ہلکا سا ڈور کو پش کیا کھلتا چلا گیا۔۔وہ بھی خالی تھا۔۔
چند لمحوں میں کاٹیج سر پر اٹھا لیا تھا اس نے ازھاد اور نمیرا شرمندہ سے کھڑے تھے۔
اور وہ بے حد پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔
Sssssshhhhhiiiitttttt
گئی کہاں وہ،،،،؟ زمین کھا گئی کہ آسمان نگل گیا،، وہ دھاڑا۔۔
ان کیمروں کے علاوہ جو باہر لگے ہیں دوسرے خفیہ کیمرے چیک کرواؤ ابھی۔۔
شہباز نے جلدی سے کیمرے کھولے،، ملگجے اندھیرے میں کچھ ہیولے اندر آتے اور مطی کو اٹھا کر باہر جاتے دکھائی دئے تو ویر کے سر پر آسمان گرا۔
یہ جان کر کہ وہ کڈنیپ ہو چکی ہے۔۔
اففففففف
آدھی رات کو شاہزر،، ویر اور میر سٹڈی میں تھے جب جونئیر کا فون آیا۔۔
یا الله خیر،،، ویر نے کہتے کال اٹینڈ کی مگر سامنے سے جو سننے کو ملا وہ اس کے سر پر بم پھوڑنے کو کافی تھا۔۔
جونئیر تم کدھر تھے ،،،اسے تمھاری زمہ داری پر نبھیجا تھا ہم نے ،،اتنی بڑی لاپروائی کیوں کی،، ویر دانت پیس کر بولا
شاہ زر تڑپا۔۔۔ کیا ہوا بگ بی،،، پلیز بتائیں مجھے۔۔
مطی کی کڈنیپ کر لیا کسی نے،، شاہ زر کے پاؤں تلے سے زمین کھسکی۔۔
جونئیر شرمندہ سا چند اور ضروری باتیں بتا کر فون بند کر چکا تھا۔۔
شاہ زر نے سر پکڑا اور کاٹ پر ڈھے گیا۔۔
حوصلہ کرو یار کچھ نہیں ہوگا ہم چلتے ہیں ان کے پیچھے،، ویر نے کہا۔۔
نہیں بگ بی آپ نہیں میں خود جاؤں گا۔۔
میں جلتا ہوں تمھارے ساتھ۔۔میر بے چین ہوا۔۔
نہیں اگر اکٹھے گئے تو حبہ کو شک ہو جائے گا،، میں نہیں چاہتا اسے بھنک بھی لگے اور ایک نیا طوفان کھڑا ہو جائے،، اسی لئے فی الحال میں جاؤں گا۔۔ لندن بزنس ڈیل کا بہانہ کر کے،،
اوکے جاؤ تیاری کرو۔۔میں دیکھتا ہوں اگر ابھی کی کوئی فلیٹ ہے چار گھنٹے لگے گے صبح تک تو پہنچ جاؤ گے۔۔
اوکے بگ بی،،،، وہ کہتا اپنے روم کی جانب آیا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا
اور چھٹی حس کہتی تھی کچھ برا ہونے والا ہے۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
