Rate this Novel
Episode 34
گئے رات ویر سلطان مینشن میں داخل ہوا تو کچھ غیر معمولی سا احساس ہوا۔۔
کوئی بھی نظر نہیں آیا ۔
جیسے بہت عجیب موت کا سا سناٹا پھیلا ہو ہر طرف۔۔
اپنے روم میں آیا تو ایک سرد سی آہ بھری،، خالی کمرہ منہ چڑھا رہا تھا۔۔
اب اتنا تو ناراض ہوگی ہی۔۔ویر سلطان ڈیزرو کرتے ہو ،،اب مرو،، وہ جھنجھلایا۔۔
اپنے کپڑے نکالنے ڈریسنگ کھولی تو پیروں تلے سے زمین کھسکی،، نیناں کے کپڑے ،،کوئی چیز کچھ بھی تو نہیں تھا وہاں،،،
ٹھیک،،، یہ بھی ٹھیک ہو گیا۔۔ تو نیناں بےبی ناراض ہو کر میکے چلی گئی ہے۔۔کوئی بات نہیں جان منا لوں گا۔۔
فریش ہو کر آیا اور بیڈ پر نیم دراز ہوا۔۔
ایڈیکٹ ہونا کیا ہوتا ہے ویر سلطان کو پتا چلا۔۔
بستر پر جیسے کانٹے اگ آئے تھے۔۔اپنا ہی بیڈ جیسے جیتی جاگتی بھٹی بن چکا تھا،، جس میں ویر سلگ رہا تھا۔۔ جل رہا تھا۔۔
جھنجھلا کر اٹھا۔۔
کیا کروں،،، افففففففففففففف
ایک مرتبہ دیکھ آؤں،،، نہیں کہیں اور ناراض نا ہو جائے،،،
بیڈ کی سائیڈ ڈراد کھولی،، وہ ییلو دوپٹہ نکالا جو کسی قیمتی متاع کی طرح سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔۔
اسے فولڈ کر کے تکیے پر رکھا۔۔
اس کے لمس کی وجود کی دلفریب خوشبو سانسوں میں اتری جس کی مہک روح تک میں بس چکی تھی۔۔
نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔
وہ نہیں جانتا تھا اگلی کئی راتیں اس نے اسی دوپٹے کے سہارے ہجر کی سولی پر لٹک کر گزارنی ہیں۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رات کے دس بج چکے تھے۔۔مطی روم میں اپنے موبائل میں لگی ہوئی تھی۔۔
ایک شخص کی محبت نے جب اعتبار جیت لیا تھا تو اس کا عشق رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا تھا۔۔ اس ایک ماہ میں کوئی ایسا پل نہیں ہوگا جب اس نے اریش کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔۔
ڈاکٹر نے مطی کو کوئی زہنی ٹینشن دینے سے منع کیا تھا سو پلوشہ نے کوئی بھی بات مطی تک پہنچنے نہیں دی تھی۔۔
سب گلے شکوے دور ہو چکے تھے نیناں سے۔۔ اب تو مطی نیناں سے بے تحاشا محبت کرنے لگی تھی،، ایک عقیدت ایک احترام سا تھا اس کے لئے دل میں ،،کیونکہ وہ جانتی تھی اگر میر پاپا نے وہ سب کچھ نا کیا ہوتا تو آج نیناں کی جگہ وہ خود ہوتی۔۔
وہ نیناں کی جانب سے پھر ٹینشن لے کر ادھ موئی ہو جاتی تبھی اس کو فی الحال کسی نے کچھ پتہ نہیں چلنے دیا تھا۔۔
وہ کچی نیند میں تھی جب کھڑکی سے ایک ہیولہ روم میں داخل ہو کر کھڑکی لاک کی تھی۔۔
اریش بیڈ کے قریب آیا اور مسکرا دیا۔۔
کمرے میں بس ایک لیمپ کی مدھم روشنی تھی۔۔
وہ بیڈ پر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ مطی اچھل کر اٹھ بیٹھی۔۔
مگر سامنے بیٹھے مسکراتے شخص کو دیکھ کر اس کے ہوش اڑے۔
تم،،، تم پھر کھڑکی سے آئے مینڈک کہیں کے،،یو،،،،
وہ کہتی اٹھنے لگی تبھی اریش نے اس کے گرد اپنے بازو حمائل کر کے اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا۔۔ اور بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔۔
مطی اس کے اوپر گری۔۔
یہ کیا کر رہے ہو،، چھوڑو مجھے،،، مطی بوکھلائی،، مگر گرفت آہنی تھی۔۔
ثبوت دینے آیا ہوں بےبی گرل اپنی محبت کا،،، اسی پہ کام شروع کرنے لگا ہوں،،، وہ بے حد شرارت سے بولا،، تو مطی کے پسینے چھوٹے۔۔
تم پاگل ہو گئے ہو چھوڑو مجھے،،،
دونوں کو ایک دوسرے کی دل کی چیختی چنگھاڑتی دھڑکنیں صاف سنائی دے رہیں تھیں مطی اپنی ہی کیفیت سے جھنجھلائی۔۔
وہ جھٹکے سے کروٹ لے کر مطی پر حاوی ہوا،، اور اس کے ہاتھ بیڈ سے لگائے۔۔
اب اریش کے ہونٹوں نے اس کی بیوٹی بون پر محبت کی مہر ثبت کی تھی۔۔
مطی کی سانس اٹکی۔۔
اریش،،، وہ پکار بیٹھی۔۔
یس بےبی گرل،،،
چھ،،، چھوڑو مجھے،،، وہ کانوں تک سرخ ہوئی۔۔
پہلے بتاؤ ڈمپل گرل،،،، مجھے مس کیا،،، اب اریش نے اس کی چن پر اپنے لب رکھے تھے۔۔
وہ مچلی مگر ہل بھی نہیں پائی۔۔
تبھی اریش نے اس کی کمر کے گرد بازو لپٹا کر اسے اپنے سینے میں بھینچ کر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھے تھے۔۔
لمس میں شدت اور محبت تھی۔۔
مطی کو لگا وہ اس کے لمس کی حدت سے پگھل جائے گی،، کچھ دیر بعد ہی وہ نرمی سے پیچھے ہٹا۔۔ اور دلچسپی سے اس کا لال ٹماٹر چہرہ دیکھا۔۔
بولا تھا نا بیری میرے محبت کا رنگ تم پر چڑھ جائے گا،،، تم تو بلش کر رہی ہو،،، اووووووووو مینڈکی سبز سے سرخ پڑ گئی،،
اریش نے چھیڑا ۔
یو ایڈیٹ،،، سانڈ،،، ہٹو میرے اوپر سے،، میری پسلیاں چٹخ جائیں گی۔۔۔مطی نے اس کے سینے پر مکے برسائے۔۔
وہ قہقہ لگاتا پیچھے ہٹا۔۔
مطی بھنا کر اٹھ بیٹھی۔۔ اریش گیٹ لاسٹ ،،،،،پٹ جاؤ گے میرے ہاتھوں سے۔۔
نہیں جاؤں گا،، یہیں سوؤں گا،، کر لو کیا کرو گی،،، وہ اطمینان سے بولا۔۔
میں مما اور ڈیڈ کے پاس چلی جاؤں گی،،، وہ بھی سکون سے بولی۔۔
میں جانے دونگا تب ناں،،،، وہ بیڈ پر نیم دراز بولا،، مطی جو کہ بیڈ سے اتر چکی تھی۔۔دروازے کی جانب لپکی۔۔
مگر اس سے پہلے ہی اریش بجلی کی سی تیزی سے اس کے سامنے آیا
اور اسی تیزی سے اسے بازوؤں میں اٹھایا۔۔
اریش،،، وہ سخت جھنجھلائی۔۔
وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا،،، کوشش بھی نا کرنا بےبی گرل،،، وہ اسے بیڈ پر لٹا کر خود بھی اس کے قریب نیم دراز ہو گیا۔۔
پورا ایک ماہ،، بےبی ڈول،،تمھارے بغیر تڑپتے گزارا، اب ایک پل بھی نہیں۔۔
وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔۔تبھی مطی نے گھبرا کر اس کے سینے میں منہ دیا تھا۔۔
وہ بھی مسکراتا سکون سے آنکھیں موند گیا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
صبح معمول کے مطابق طلوع ہوئی تھی۔۔
سب بریک فاسٹ کے لئے ٹیبل پر موجود تھے۔۔
مگر ویر بار بار پہلو بدلتا ہر ایک منٹ بعد حرم مما کے روم کے دروازے کو دیکھ لیتا۔۔
سب خاموشی سے بریک فاسٹ کر رہے تھے۔۔
مما نیناں کہاں ہے،،، وہ اتنی دیر پیشنس رکھ ہی نہیں سکتا تھا۔۔
ویر یہ جیم کا جار مجھے پکڑاؤ،،، پلوشہ نے کہا،، اسے دھچکا سا لگا۔۔
اپنے ڈیڈ کی طرف دیکھا جو گہری سنجیدگی سے اپنی پلیٹ پر جھکا تھا۔۔
وہ خود ہی اٹھ بیٹھا۔۔۔
اور حرم کے روم کی طرف گیا۔۔
پھر ربیع کے روم تک گیا۔۔وہ سب اگنور کیے بیٹھے رہے،، ویر کی رگیں تو اس وقت تنیں جب پورے سلطان مینشن میں وہ کہیں نظر نہیں آئی۔۔
کسی سے کچھ بھی پوچھے بغیر گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر آیا۔۔گاڑی کا رخ حاتم مینشن کی جانب تھا۔۔
مگر جب وہاں بھی اس کی غیر موجودگی کنفرم ہو گئی تو اب سچ مچ ویر سلطان کے ہوش اڑے تھے۔۔
ہوا سے باتیں کرتا گھر واپس آیا۔۔
سب بڑے ابھی ڈائینگ ٹیبل پر ہی تھے۔۔
ڈیڈ نیناں کہاں ہیں،،،؟
میر تم برھانز کے ساتھ ڈیلنگ کے مطلق کچھ کہہ رہے تھے،،، شاہ ویر نے اسے اگنور کیا،،
پری رات کو شاہ ویر میر اور شاہ زر کو بتا چکی تھی کہ وہ کیا کر چکی ہے،، سب اس سے ناراض تھے۔۔
سو کسی نے ضرورت محسوس نا کی اسے کچھ بتانے کی۔۔
ویر کا غصہ اب ضبط کی آخری منزلوں کو چھو رہا تھا،، وہ وہاں سے پھر ربیع کے روم میں گیا،،،
وہ کالج کے لئے تیار ہو رہی تھی۔۔
جی بھیا،،،
ربیع تمھاری آپی کدھر ہے،،،؟ وہ خطرناک حد تک سنجیدگی سے بولا۔۔
مجھے تو نہیں معلوم بھیا،،، کل جب آپو کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ بے ہوش ہو گئی تھیں تو بڑی مما کے روم میں ڈاکٹر آئی تھیں،، تب وہ انھیں کہ روم میں تھیں اس کے بعد بڑی مما انھیں ہوسپیٹل لے کر گئی تھیں،،، پھر مجھے لگا وہ روپ دادو کے پاس چلی گئی ہوں گی،،، کیا ہوا بھیا وہ ادھر نہیں ہیں کیا۔۔
ویر کے دل کو جیسے کسی نے پتھر کے نیچے کچلا،،، اتنا کچھ ہو گیا اور اسے کسی نے بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔
بھیا آپی ٹھیک تو ہیں ناں،، اب ربیع پریشان ہوئی۔۔
ہاں وہ ٹھیک ہے،، اوکے تم اپنا کام کرو،، مجھے ضروری کام ہے۔۔وہ لاؤنج سے گزرتا باہر گیا۔۔
پھر باہر واچ مین کی سختی آئی تھی۔۔۔۔ویر کے تیور دیکھ کر ۔تب اس نے اگل دیا کہ میم سمیع اور ان کی بیٹی کے ساتھ کہیں گئیں ہیں،، اور شاید بڑی بیگم صاحبہ نے انھیں کہیں بھیجا ہے۔۔
آج ویر سلطان نے اپنی دل کو سورج کی طرح غموں اور پچھتاؤں کی مغرب میں ڈوبتے پایا تھا۔۔
مگر اب بھی ہمیشہ کی طرح غصہ سوا نیزے پر چڑھائے اپنی مما کے روم میں داخل ہوا تھا۔۔
سامنے ہی پلوشہ ایک باکس میں نیو بورن بےبی کے کپڑے ترتیب سے رکھنے میں مصروف تھی۔۔
شاہ ویر اس کے پاس بیٹھا تھا۔۔
مما نیناں کہاں ہے،،، ویر کی آواز میں جتنی بے قراری اور وحشت تھی،،، پلوشہ کے انداز میں اتنا ہی سکون۔۔۔
مجھے نہیں معلوم ،،،،،پلوشہ لاپروائی سے بولی۔۔
مما میں پورے سلطان مینشن کو آگ لگا دوں گا،،،،،وہ بال مٹھیوں میں جکڑ کر بولا جیسے طیش اور اشتعال کا طوفان اپنے اندر دبانے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔
جاؤ لگا دو ،،،،،پلوشہ پر خاطر خواہ اثر نہیں ہوا تھا۔۔
پری پلیز،،،، شاہ ویر کا بیٹے کو دیکھ کر دل جیسے کسی نے مسلا تھا،،، روندا تھا۔۔
ٹوٹی بکھری حالت میں اس میں شاہ ویر کو پچیس سال پہلے کا شاہ ویر نظر آیا۔۔
مگر پلوشہ پھر یونہی پہلے کی طرح پتھر دل بن چکی تھی۔۔
شاہ آپ چپ کریں،،، یہ میرا اور اس کا معاملہ ہے،،، آپ بیچ میں مت بولیں۔۔
مما مجھے معلوم ہو چکا ہے یہ سب آپ نے کیا سمیع انکل کو بول کر،، پلیز مما مجھے بتا دیں،،، میں مر جاؤں گا اس کے بغیر ،،،
اب اسے نے ڈریسنگ کے شیشے میں واس مار کر اپنا غصہ نکالا تھا۔۔
اچھا،،، یہ تو نیناں سے جانوروں جیسا سلوک کرنے سے پہلے سوچنا چاہیئے تھا،، اب کیا فائدہ۔۔
مما میں اس سے معافی مانگ لوں گا،،، سب غلط فہمیاں دور کر دوں گا،،، میں اب کوئی تکلیف،،،،،
کب تک ویر،،،،، کب تک اس سے وحشیوں سا سلوک کر کے معافی مانگتے رہو گے۔۔
مما میں جانتا ہوں آج سے پچیس سال پہلے آپ نے ڈیڈ کے ساتھ یہی کیا تھا مگر میں شاہ ویر سلطان نہیں ہوں جو اتنا صبر اور پیشنس رکھ سکوں،، مما میں کچھ کر بیٹھوں گا پلیز بتا دیں وہ کہاں ہے۔۔
وہ اب سرخ چہرے کے ساتھ بھیگی آنکھیں لیے التجائیہ بولا تھا۔۔
شاہ ویر نے پلوشہ کو دیکھا شاید اسے بیٹے پر رحم آ جائے مگر،،
تم سر پھرے سلطانز اس سے کم کے جھٹکے پر مانتے نہیں ناں ،،،ویر جاؤ اپنا کام کرو،، پلوشہ بیزاری سے بولی۔۔
مما آپ جانتی ہیں وہ پریگننٹ ہے،،،،،ویر کا سرسراتا لہجہ،،، آپ کیسے اپنے گرینڈ چائلڈ کے ساتھ اتنا بڑا رسک لے سکتی ہیں،،،، اس کا خیال،،،،،،،،،
ویر نے پلوشہ کو اموشنل بلیک میل کرنا چاہا۔۔
تم تو خیال رکھنے کی بات نا ہی کرو ویر سلطان،،، تو بہتر ہے،،، پلوشہ غرائی۔۔۔کیونکہ میرے گرینڈ چائلڈ کو فی الوقت سب سے بڑا خطرہ تو تم سے ہی تھا جتنا تم نے نیناں کو زہنی ٹارچر کیا،،،،،
مما پلیز،،،،، ویر تڑپا،،،،،،
جاؤ ویر اپنا کام کرو،،، خود پتہ لگا لو،، مجھے نہیں معلوم،،، پلوشہ نے بیٹے کی ماہی بے آب کی طرح تڑپتی حالت کو بڑی مشکل سے اگنور کیا۔۔۔
مگر اب ویر سے نیناں کے ایک ایک آنسو کا حساب چاہیے تھا پلوشہ کو۔۔
مما میں نے سمیع انکل سے آفیسر بن کر اگلوایا تو آپ لوگوں کو بلکل اچھا نہیں لگے گا،،،
ویر اس دشمن جاں کو ڈھونڈنے کی خاطر ہر حربہ آزمانا چاہتا تھا۔۔
خبردار جونئیر،،،،،،، کوشش بھی مت کرنا،،،، شاہ ویر نے وارننگ دی۔۔۔
وہ جیتا جاگتا آگ کا طوفان بنا وہاں سے نکلا تھا۔۔ دل بیٹھ رہا تھا اور روح کو جیسے کسی نے اندھیرے پنجرے میں بند کر رکھا تھا،،،،، جو پھڑپھرا رہی تھی۔۔
ویر سلطان کو اس کے بغیر دم گھٹتا محسوس ہوا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
جدائی پہ جانڑی
جو تینوں کہنڑی سی
گل دل وچ رہ جانڑی
وہ راکنگ چئیر پر جھولتا اپنی جان سگریٹ میں جھونک رہا تھا۔۔
تین ماہ۔۔
تین ماہ کافی تھے سلگتے تڑپتے پل پل اذیت میں گرزرتے۔۔
وہ اگر آفیسر تھا تو پلوشہ اس کی ماں تھی۔۔
پلوشہ نے اسے ایسی کسی جگہ چھپایا تھا کہ اس نے بتہیری ایڑھیاں رگڑی تھیں۔۔
مگر وہ نہیں ملی تھی اسے۔۔
پلوشہ نے نیناں تک پہنچنے کے تمام زریعے مٹا ڈالے تھے،،، ہر رستہ بند کر دیا تھا۔۔
وہ ناں ماں سے اور ناں سمیع انکل سے سختی کر سکتا تھا۔۔تبھی بے بس تھا۔۔
بکھرا حلیہ،،، بڑھی بئیرڈ سرخ انگارہ آنکھیں،،، کمرے میں ملگجا سا اندھیرا کیے وہ بیٹھا تھا۔۔
کمرے میں دھوئیں کے مرغولے سے اٹھ رہے تھے جب پلوشہ اسے بلانے روم میں داخل ہوئی۔۔
یہ کیا بے ہودگی ہے ویر سلطان،،،، پلوشہ تلملاتی آگے بڑھی۔۔اور اس کے سر پر سوار ہوئی۔۔
اس نے دھیمے سے اٹھ کر کمرے کی کھڑکی کھولی۔۔کہ دھواں باہر نکل جائے،،،
میں نے پوچھا یہ کیا بے ہودگی ہے ویر،،، کیا کر رہے تھے تم یہ،،، پری نے جلی سگریٹوں اور راکھ سے منہ تک بھری ایش ٹرے کی جانب اشارہ کیا۔۔
جانے دیں مما،،، پرانی ہو چکی ہے یہ بات،،، اس نے جیسے خود کا مزاق اڑایا۔۔ آپ کو کب سے اپنے بیٹے کی پرواہ ہونے لگی۔۔ویر کا لہجہ تلخ تھا۔۔
پلوشہ نے اپنے لب کاٹے۔۔
خیر جانے دیں،،،، کچھ کام تھا۔۔۔
کھانے کے لئے بلانے آئی تھی۔۔پلوشہ کی آنکھو نم ہوئیں۔۔۔
مجھے بھوک نہیں مما،،،، ویسے ایک بات بتائیں مردہ دل بھی کھانے کھایا کرتے ہیں۔۔۔۔
ویر،،، پلوشہ چلائی،،
اوکے چلیں ،، مما مجھے سب سے ضروری بات کرنی ہے ،،وہ چپ چاپ چلتا پری کے پیچھے پیچھے ڈائنگ ہال میں آیا۔۔
کھانے کی ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔۔
شاہ ویر نے ایک نظر بیٹے کو دیکھا۔۔
ڈیڈ مجھے ضروری بات کرنی ہے،،،
بولو ویر ہم سن رہے ہیں،،،، شاہ ویر اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔
آپ شاہ زین اور مطی کی جلد از جلد شادی کی ڈیٹ فکس کر دیں۔۔جو سوچی ہوئی ہے وہی،، ہفتے بعد کی،،، کیونکہ زین اور سہانا بھی فری ہو گئے ہیں اور اریش کی بھی سیٹنگ ہو چکی ہے،،، ویسے تو آپ لوگوں ایک عرصہ ہی ہوا میری سننی بند کر دی ہے۔۔
اس نے ایک درد سے بھر پور نگاہ ماں پر ڈالی۔۔پری نے پہلو بدلہ
مگر پھر بھی اٹس آ ریکوسٹ،،،
وہ کہتا کھانا کھائے بغیر سلطان مینشن سے نکلا تھا۔۔
جب سے نیناں گئی تھی،،، وہ یونہی خود کو مسلسل ٹارچر کر رہا تھا۔۔
کہ شاید کسی کو اس کی حالت پر رحم آ جائے۔۔
مگر اس کی سزا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سکون تو ادھر بھی نہیں تھا۔۔
وہ سارا سارا دن پڑی یونہی کسی نقطے کو گھورتی رہتی تھی۔۔
نازیہ (سمیع کی بیٹی) اسے کی دیکھ بھال کرتی رہی۔۔
یہ اماں حاجن کا ہی گھر تھا۔۔جہاں ان کی ایک طالبہ نے اسلامی اور قرآنی تعلیمات کے لئے مدرسہ کھول رکھا تھا۔۔
ہر ماہ پری ایک بھاری رقم مدرسے کی تعمیر و ترقی کے لئے مریم بی بی کو بھیجتی تھی۔۔
بہت ہی نیک عورت تھی۔۔اسی لئے پری کو ان پر بھروسہ تھا اور نیناں کو مریم بی بی کے پاس رکھا گیا تھا۔۔
چھوٹا سا گھر تھا۔۔مریم خود بے اولاد تھی اور نیناں سے ایک خاص سی انسیت ہو گئی تھی۔۔
وہ اس کی بہت اچھے سے دیکھ بھال کر رہیں تھیں۔۔
نازیہ کو اس بے حد حسین لڑکی پر بے حد ترس آتا تھا جو سارا دن اداس اور کھوئی کھوئی رہتی۔۔
وہ بھی کیا کرتی۔۔۔
جوگن تھی،،،، عشق کی روگی۔۔ کیسے اس ظالم کے بغیر صبر آتا۔۔
جو زخم دیتا تھا تو بعد میں مرحم بھی تو رکھتا تھا۔۔
بخیے ادھیڑتا،،، ،تو چارہ گر بھی تو وہی تھا۔۔
مگر،،،،
جب ملا وہ خفا ملا ہم کو،،
بخت کیا چاند سا ملا ہم کو
چارہ سازوں کا کوئی جرم نہیں
درد ہی لادوا ،،،،،،ملا ہم کو
Continue,,,,,,,,,,,
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
