Rate this Novel
Episode 24
Episode 24…
وہ عشق بسایا ہے دل میں
کوئی ریت پہ لکھا نام نہیں
اب موت ہی جدا کر سکتی ہے
انسان کے بس کا کام نہیں
ویر کچھ دیر بعد یونہی پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے باہر بیک یارڈ میں اپنے بھیڑیوں کے پنجرے کے پاس کھڑا تھا۔۔
جو کہ اب خالی تھا۔۔۔وہ انھیں نہیں رکھ پایا تھا
کیوں ۔۔
کیونکہ بھیڑیے کسی کا،،،،، ان کے آگے پھینکا ہوا کھانا کبھی نہیں کھاتے ۔۔وہ اپنا شکار خود کرتے ہیں۔۔اسی لئے ویر کو انھیں وہیں پہنچانا پڑا جہاں سے وہ انھیں لے کر آیا تھا ۔۔۔
اب اس پنجرے میں سفید شیروں کی جوڑی تھی۔۔
ویر بہت پر سکون تھا،،، بے حد شانت،، جیسے دودھ میں ابال کے بعد چولہا بند کر دینے پر شانتی چھا جاتی ہے۔۔
نکاح کے دو بول نے جیسے سینے میں جلتے بھانبھڑ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے پھینکے تھے۔۔اب پتا چلا وہ کیا چاہتا تھا۔۔
رات کے آٹھ بج چکے تھے۔۔وہ کافی دیر سے وہیں تھے۔۔اب دھیمے قدموں سے چلتا پھر رخ اسی کمرے کی جانب تھا۔۔
جس میں اب اس کی ملکیت تھی۔۔
وہ دروازہ کھول کر روم میں آیا تو وہ ہنوز گھٹنوں میں سر دئیے سوں سوں کرنے کا شغل فرما رہی تھا۔۔
ویر نے دانتوں تلے لب دبایا۔۔
اونہہہہہ دی گریٹ لینا زبیر،،،،
سیکرٹ ایجنٹ،،
سلطانز کے ہتھے چڑھ کر بینڈ بج گئی بیچاری کی۔۔۔
اسے اپنی سوچ پر ہنسی آئی مگر دبا گیا۔۔
وہ جو اس کی کہے کی حقیقت جاننے کے لئے اس کی تمام ڈیٹیلز کراس چیک کروا چکا تھا۔۔حیرت زدہ تھا کہ وہ اتنی ٹاپ کی ایجنٹ تھی مگر شاہزل سلطان کی محبت نے اسے دنیا بھلا دی تھی ۔۔
مگر ابھی کہاں نیناں شاہ زل سلطان،،، ابھی سزا اور باقی ہے،،،،،، تم چاہے کچھ بھی کرتیں مگر تمھیں اس دل کے ساتھ میرے جزبات کے ساتھ میری محبت کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہیے تھا۔۔
رنج ایسا بھی نہیں کے چیخوں اس پر
بات ایسی بھی نہیں کے بھلائی جا سکے
وہ بیڈ کے قریب آیا۔۔دیکھنے کا انداز بدل چکا تھا۔۔
زاویہ نگاہ کسی اور طرف ہی بھٹکا۔۔رشتہ بدل چکا تھا۔۔تو سب کچھ ہی جیسے بدل گیا۔۔
رات کا وقت،، تنہائی،، محبت سراپا قیامت بنی سامنے اتنے قریب،، دسترس کے اندر۔۔
اس سے پہلے کے جزبات کے طوفان کے ریلے پر بندھ باندھنا ناممکن ہو جاتا اسے یہاں سے نکلنا تھا۔۔
بھاری بوجھل آواز میں پکارا۔۔
اٹھو واپس جانا ہے،،،
گھٹڑی میں حرکت ہوئی۔۔اس نے سر اوپر اٹھایا،، ویر کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی،،، بھیگا چہرہ چھوٹی سی ناک
اب اٹھو گی،،، یا چاہتی ہو گود میں اٹھا کر لے کر جاؤں،،، وہ سنجیدگی سے کہتا چھیڑنے سے باز نہیں آیا۔۔
وہ بوکھلا کر اٹھی۔۔مگر میکسی میں الجھ رہی تھی۔۔ریشمی دوپٹہ بھی پنز سے آزاد ہو کر اب کبھی گود میں جھول رہا تھا۔۔کبھی گستاخیاں کرتے ہوئے اس کے وجود سے سرک رہا تھا۔۔
کچھ سامنے والے کی نگاہوں کی تپش نے گڑبڑانے پر مجبور کر رکھا تھا۔۔
جو پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اطمینان سے کھڑا اسے اپنی میکسی اور دوپٹے میں الجھتا دیکھ ایسے جیسے حظ اٹھا رہا تھا اور جیسے زندگی میں اس سے اہم کام تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔
اب وہ دوپٹہ جیسے تیسے اپنے گرد لپیٹے مضبوطی سے اسے ایک ہاتھ سے جکڑے دوسرے ہاتھ سے میکسی اٹھائے بیڈ سے اتری تھی۔۔مگر اب ہائی ہیل نے دغا دی تھی۔۔
وہ لڑکھڑا کر زمین بوس ہوتی جب ایک آہنی ہاتھ پیٹ کے گرد لپٹتا محسوس ہوا۔۔
ویر کا دل اتھل پتھل ہوا۔۔مگر ضبط کر گیا۔۔نیناں بھی اس جان لیوا لمس کی حدت سے پگھلی۔۔
ویر نے ایک جھٹکے سے اسے سیدھا کیا تھا۔۔
واٹس پرابلم ود یو،،، یہیں میرے ساتھ رات گزارنی ہے تو سیدھی طرح بتاؤ،،، مجھے کوئی اوبجیکشن نہیں ہوگا،، وہ اطمینان سے کہتا اس کے اوسان خطا کر گیا۔۔
نن،، نہیں وہ یہ،،، مم میں کیری نہیں کر پا رہی،، وہ پھر رونی شکل بنا کر بولی۔۔اس سے پہلے پھر شروع ہوتی وہ بھنا کر زرا سا جھکا۔۔اور اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔
یہ،،،، یہ،، کک،،، کیا،، کر رہے،، ہیں،، آپ،،، چچ، چھوڑیں مجھے،، وہ مچلی۔۔
شٹ اپ،،، اب ہلی بھی تو یہیں سے لے جا کر ٹائیگرز کے پنجرے میں پھینک دوں گا۔۔وہ اسے اٹھائے باہر لایا۔۔
باہر گارڈز نے ٹائیگرز کو پنجرے سے نکال رکھا تھا،، ویر باہر آیا تو ٹائیگرز اپنے مالک کے قریب تر آئے۔۔
نیناں نے ڈھیلے سے ہاتھوں سے اس کی شرٹ تھام رکھی تھی۔۔اب اتنے بڑے بڑے ٹائیگرز کو اتنے قریب دیکھ کر اچانک اپنے بازو مضبوطی سے ویر کی گردن کے گرد لپیٹے۔۔
اور چہرہ اس کے سینے میں چھپایا،،،،،ایک قاتل ڈمپل کے اتنے دنوں کے بعد درشن ہوئے۔۔
ٹائیگرز نے نیناں کا دوپٹہ دانتوں میں دبا کر کھینچا،،،
تب نیناں کی گرفت اور مظبوط ہوئی تھی،،، شش شاہ پیچھے ہٹائیں انھیں،،،، وہ گھٹی گھٹی آواز میں اتنا ہی کہہ پائی۔۔۔
ایک نرم و گداز وجود کی خوشبو رگوں میں سمائی تو مسکان بھی گہری ہو گئی۔۔۔
ہاں یاد ہے کسی کی وہ پہلی نگاہِ لطف
پھر خوں کو یوں رگوں میں ناں دیکھا رواں کبھی
ویر کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا مگر گارڈز کی طرف اشارہ کیا وہ انھیں بیک یارڈ میں لے گئے۔ ویر اسے لئے گاڑی تک آیا۔۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔۔
اور خود آ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔۔۔
پھر راستے بھر خاموشی چھائی رہی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
شاہ ویر جانتا تھا ایسا ہی کچھ ہونے والا ہے۔۔۔اسی لئے وہ تو اطمینان سے بیٹھا رہا۔۔
جب مطی ایسے جلد بازی میں گاڑی لے کر نکلی تھی تو اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ ضرور ان کا شہزادہ کچھ کارنامہ کرنے والا ہے۔۔
اور اب جبکہ کافی دیر ہو چکی تھی نیناں مطی کو کوئی اتا پتا نہیں تھا
تو اس نے آہستگی سے سب کو سب کچھ اور اپنا اندازہ بتا دیا تھا۔۔
ظہان کو تو وہ پہلے ہی بتا چکا تھا بلکہ وہ شرمندہ ہوا اور شاہ ویر کو بول دیا تھا کہ اگر پتا ہوتا کہ وہ اس کے بڑے بھائی کی پسند ہے تو وہ ایسی گستاخی کرتا ہی نہیں۔۔
تب شاہ ویر کو اس پر فخر محسوس ہوا ۔۔
اب سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔
حبہ تو کاٹو تو بسن میں لہو نہیں کی مثال نہیں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔
جبکہ ظہان اطمینان سے بیٹھا رہا کیونکہ پہلے سے ہی جانتا تھا۔۔
میں چاہتا ہوں کہ چونکہ اتنا مبارک وقت ہے اور مجھے ظہان پر فخر ہے کہ یہ میرے خاندان کا حصہ ہے تو میں نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ حرم کی ربیع کا نکاح ظہان سے کر دیا جائے۔۔
ربیع بوکھلائی،، شاہ ٰزین نے حیرت سے بڑے پاپا کو دیکھا،،، مگر ظہان
بہت ہی اچھا اور سلجھا ہوا لڑکا تھا سو بڑے پاپا کے فیصلے پر مطمئن تھا۔۔
سب کی رضا مندی سے ربیع کا نکاح ظہان سے کر دیا گیا تھا۔۔
کچھ دیر بعد ہی مطی میڈم خراماں خراماں داخل ہوئی تھی سلطان مینشن
اور ماں سے نظریں چراتے اپنے روم میں بند ہو چکی تھی۔۔۔
شاہ زر نے حبہ کا ہاتھ دبایا کہ سکون کرو ابھی کیونکہ پریہا اور جلال بہت کوش تھے۔۔
ظہان نے آس پاس دیکھا ربیع میڈم بھی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تھی۔۔
شاہ زین نے ٹھنڈی سانس بھری کیونکہ سہانا بےبی بھی وہاں سے کھسک چکی تھی۔۔۔
رات ڈنر کا وقت تھا۔۔سب لاؤنج میں بیٹھے تھے جب نو بجے ویر کی گاڑی کی آواز سنائی دی۔۔
کچھ دیر بعد ہی وہ بڑے حق سے نیناں کا ہاتھ تھامے لاْؤنج میں داخل ہوا تھا۔۔
سب اٹھ کر کھڑے ہوئے وہ اب سے پہلے اسے لئے پلوشہ کے قریب آیا تھا۔۔۔نیناں پلوشہ سے لپٹ کر رونے لگی۔۔
چٹاخ،،،،،، زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا جونئیر کو جو پورے لاؤنج میں گونجا۔۔مگر وہ اطمینان سے کھڑا رہا۔۔
پری،،،،،،،،،،،،شاہ ویر آگے بڑھا۔۔مگر پری نے ہاتھ اٹھا کر انھیں روک دیا۔۔
اس بدسلوکی کی وجہ بتاؤ ایک مرتبہ مجھے شاہ زل جو تم نے اس لڑکی کے ساتھ کر رکھی ہے،،، میں نے ایسی تربیت تو نہیں کی تمھاری،،،،، پلوشہ بھیگی پلکوں سے اس سے سوال کر رہی تھی جو اب اطمینان سے کھڑا زمین پہ جانے کیا تلاش کر رکھا تھا۔۔
تبھی اس کے فون کی بیل بجی۔۔ضروری کال تھی۔۔اس کی گلو خلاصی خدا کی طرف سے ہی ہو گئی جب وہ کال سنتا سلطان مینشن سے نکلتا چلا گیا۔۔
پیچھے پری اسے لئے اپنے روم میں چلی گئی تھی۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
بڑی باریک بینی سے اریش نے جولی اور زبیر کے خلاف ان کی ایک ایک کالے دھندے کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے تھے۔۔
اور بڑی چپکے سے اس نے وہ تمام ثبوت لندن ہیڈ کوارٹرز تک پہنچا دئیے تھے نا صرف لندن بلکہ ایک ایک کاپی ترکی ،،،دبئی انڈیا اور پاکستان بھی پہنچ چکی تھی۔۔
اریش نے اپنی ماں کے کالے کاروبار کا سارا کٹھا چٹھہ کھول کر رکھ دیا تھا جو اگر وہ سمجھتی تو اس کی سب سے بڑی ہار تھی۔۔
اب دونوں جیل کی ہوا کھانے جیل یاترا پر پہنچ چکے تھے۔۔قانون کا شکنجه بہت سخت تھا ان پر۔۔
اریش نے مگر بظاہر ہاتھ پاؤں مارے تھے مگر ان کو یہ پتہ ہی نہیں چلنے دیا کہ وہ سب اس نے کیا۔۔۔
ان سب جھنجھٹوں سے جان چھڑا کر اب وہ آزاد تھا ،،،خوش تھا۔۔
پھر پہلی فرصت وہ لندن سے نکلا تھا
پاکستان کی پاک سر زمین پر پہلی مرتبہ پاؤن رکھ کر کافی اچھا لگ رہا تھا یا بیری کے پاس جانے کی خوشی تھی یا کچھ بھی۔۔
مگر وہ بے حد خوش تھا۔۔
بیری میں آگیا۔۔۔دھیمے سے دل میں اس دشمنِ جاں کو پکارا۔۔
ہاتھوں میں چند ضروری پیپرز کی فائل تھی۔۔
سب سے پہلے پاکستان ہیڈکوارٹرز گیا تھا کچھ ضروری کام کرنے۔۔
آخر اپنی بیری کو حاصل کرنے کے لئے سلطانز سے ٹکر لینی تھی کوئی معمولی بات تو نہیں تھی۔۔نا وہ اسے معمولی سمجھ رہا تھا۔
سب سے پہلے تو اسے شاہ ویر سلطان اور اس کے بیٹے کا سامنا کرنا تھا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مطربہ اپنے روم میں تھی۔۔
عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی۔۔
حبہ نے اس سے بہت سوال پوچھے تھے۔۔اس پر بہت چلائی تھی کہ اس نے اپنے منگیتر کا نکاح کسی اور سے کروا دیا،،،، کیا اس سے بھی زیادہ پاگل تھا کوئی اس دنیا پہ۔۔
مگر وہ چپ چاپ سنے گئی۔۔بس کہا تو اتنا کہ ویر مجھ سے نہیں نیناں سے محبت کرتا ہے۔۔ تو میں اس سے شادی کیسے کر سکتی تھی۔۔
حبہ تو جانے مطمئن ہوئی نہیں ہوئی۔۔۔
مگر آج خود اس کی کیفیت عجیب سی تھی ایک انجانا سا خوف تھا دل میں،،،،
جس سے بچنے کے لئے سامنے کچھ بکس پھیلا رکھی تھیں۔۔۔
تبھی موبائل رنگ ہوا۔۔۔
اسلام آباد کا کوئی لوکل نمبر تھا۔۔
پہلے اس نے توجہ نہیں دی۔۔مگر مسلسل چنگھاڑتے فون سے عاجز آ کر اس نے فون رسیو کر کے کان کو لگایا۔۔
ہیلو،،،، یس،،، وہ کتاب ہاتھ میں لئے مصروف سی بولی۔۔
مگر سامنے والے نے شاید گونگے کا گڑ کھا کر فون کیا تھا جو خاموشی سے جانے کیا سننا چاہتا تھا۔۔
ادھر سے صرف بھاری سانسوں کی آواز سنائی دی تو ،،،،
مطی نے کان سے ہٹا کر فون کو گھورا۔پھر اکتا کر فون کان سے لگایا ۔۔۔
یس،،،،،،، اس نے دانت پیس کر کہا۔۔۔
میری بیری،،،،،،،،،،،،،، سرسراتے دھیمے لہجے میں کہا گیا۔۔۔
الفاظ تھا کہ بم پھوٹا تھا مطی کے سر پر،،، خوف سے لٹھے کی طرح سفید پڑتے اس نے فون ایسے خود سے دور پھینکا جیسے کہ وہ کوئی موذی چیز ہو۔۔
ڈیڈ،،،، وہ حلق کے بل چلائی۔۔ مما،،، وہ چلاتی کمرے سے بھاگ چکی تھی۔۔
دوسری جانب اریش نے مسکراتے فون رکھا،،، اور ایک ٹھنڈی آہ بھری۔۔
کچھ نہیں ہو سکتا اریش بیٹا تمھارا۔۔ وہ ڈیڈ کی پرنسز ڈیڈ کی فنگر چھوڑے کی تو تمھاری باری آئے گی۔۔
اس نے سر پکڑا۔۔
جبکہ ادھر مطی نے رو رو کر سلطان مینشن سر پر اٹھا لیا تھا۔۔ شاہ زر کو ہچکیوں کے درمیان بتایا تھا کہ فون پہ اس نے کیا سنا۔۔
شاہ زل کو پتہ چلا تو کچھ دیر میں ہی اس فون بوتھ کی اس وقت کی فوٹیج اس کے ہاتھ میں تھی۔۔
جو کہ مطی کو دکھائی گئی
وہان کوئی بھی ایسا غیر مطلقہ شخص نظر ہی نہیں آیا۔۔
تو مطی نے سکون کا سانس لیا کہ اس کا وہم ہوگا۔۔
ادھر اریش نے فوٹیج بدلوا دی تھی۔۔کیونکہ پتا تھا شاہ زل سلطان بڑی جلدی اس فوٹیج تک پہنچنے والا ہے۔۔
وہ جانتا تھا بہت ہی بڑے صدمے سے گزری ہے اس کی بیری۔۔بہت اچانک اور یکدم اس کے سامنے جانا اس کے لئے بلکل ٹھیک نہیں ہوگا۔۔
وہ دیوانہ تو اس کی میڈیکل رپورٹس تک جا پہنچا تھا۔۔
جس میں صاف لکھا تھا وہ مینٹلی ڈسٹرب ہے اور اس ٹروما میں بہت بری طرح الجھی ہے۔۔
سو آہستگی سے اس کے قریب جانا تھا۔۔
اور بھی احترام ہے اس کا،،
اس سے اب میری دوستی نہیں ہے
اس کے غصے سے لگ رہا ہے وصی
وہ جدا ہونا چاہتی نہیں ہے۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
