Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

گاڑی تیزی سے انطالیہ سے نکلتی آبادی سے دور ہوتی جا رہی تھی۔اس گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر نیناں،،، اس کے ساتھ نمیرا۔۔

پیچھے ویر کے ساتھ شہباز اور وقار تھے۔۔
وقار بڑے ماہرانہ طریقے سے اس کی ڈریسنگ چیک کر کے اسے دوبارہ انجیکشن لگا چکا تھا تاکہ زخم جلدی بھر جائے۔۔

اس نے سیٹ سے سر ٹکا کر آنکھیں موند رکھیں تھیں دو کلرڈ آنکھیں بیک ویو مرر سے اسے وقتاً فوقتاً اپنے اوپر پڑتی محسوس ہو رہی تھیں جنھیں وہ بڑی دیر سے آبزرو کر رہا تھا،،
مگر آنکھیں موندے رکھیں،،،

ہم کہاں جا رہے ہیں،،،، نمیرا نے پوچھا۔۔

بلغراد فوریسٹ،،، وہ سکون سے بولی،،

نمیرا چونکی،،، مگر وہ تو انطالیہ سے بہت دور ہے اور ترکی کے دوسرے کونے پر ہے،،

یس آٹھ گھنٹے لگے گیں،،، بائی ڈرائیو،،،، اس کی آواز میں اب بھی سکون تھا۔۔

مگر وہیں کیوں،،،؟ نمیرا الجھی۔۔

کیونکہ وہی سب سے سیو جگہ ہے جس کا تم لوگوں کے دشمن جولی اور زبیر کو نہیں پتہ اور تم لوگوں کو وہیں لے کر جانے کے آرڈرز ملے ہیں مجھے،،،

کس نے آرڈر دیا،،، نمیرا اب اسے گھور رہی تھی۔۔

نیناں اور اریش نے،،، اس نے حقیقت بتائی۔۔

واٹ ،،،،،،اور تم ہمیں ہمارا ویل وشر بتا رہی ہو،،، گاڑی روکو نہیں تو گولی مار کر بھیجا اڑا دوں گی سمجھیں ،،،ہمارے دشمنوں کے آرڈرز پر چل کر پھر ہمیں کہاں پھنسانے لے جا رہی ہو،،،
نمیرا نے چلاتے اس کے سر پر گن تانی۔۔

سکون سے بیٹھو،،، وہ لاپروائی سے بولی،،، میری بات سن لو،، پھر بیشک اڑا دینا بھیجا۔۔

جلدی بولو،،، نمیرا غرائی۔۔

پھر وہ ان کو ،،، ان بد نصیب بہن بھائی کی کہانی سناتی چلی گئی ۔۔جنھیں ان کے اپنوں نے ساری زندگی ان کی رگوں میں قطرہ قطرہ میٹھا زہر گھولا تھا۔۔۔اپنوں نے ہی دھوکے میں رکھا ۔۔
کہتے ہیں پیدا کرنے والی سے زیادہ پالنے والی ماں کا درجہ بلند ہوتا ہے ۔
مگر جولی وہ عورت تھی جو کہ پیدا کرنے والی کے درجہ کا بھی حق ادا نہیں کر پائی تھی۔۔
وہ سب بات بتا رہی تھی کیونکہ جانتی تھی ایک شخص بند آنکھوں کے پیچھے سے بھی اس کی آواز سن رہا ہے،،،
وہ انھیں ان دونوں کی کہانی سنا چکی تھی۔۔

جولی وہ پاگل عورت اپنے خود کے بیٹے سے چیلنج کر چکی ہے،، اور جولی کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ اپنا چیلنج پورا کرنے کو کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔۔اس کے کتے پہلے ہی پورے ترکی میں موجود ہیں اسی لئے وہ جگہ محفوظ ہے اور ایک اور بات
نیناں اور اریش دونوں کوئی کریمنل نہیں تھے،،،،،بلکہ آپ لوگوں کی طرح سیکرٹ ایجنٹ تھے،،،،،،

اونہہہہہ وہ گھاس چر کر سیکرٹ ایجنٹ بنے تھے جو اتنے بڑے دھوکے کو نہیں جان پائے،، نمیرا نے اپنا غبار نکالا،،،،

مگر نیناں بول نا سکی کہ بی بی پھر یہ بتاؤ وہ دونوں اگر گھاس چر کر ایجنٹ بنے تھے تو تمھارے سر نے کیوں دھوکا کھایا۔۔کیونکہ دھوکہ بندہ وہیں کھاتا ہے جہاں بے پناہ محبت اور بے تحاشا اندھا اعتبار ہو۔۔
محبت میں اندھا شخص سامنے پڑے پتھر تک کو نہیں دیکھ پاتا اور اوندھے منہ گر پڑتا ہے،،
مگر اس سے پہلے ہی ویر دھاڑا تھا (شاید دکھتی رگ پر پاؤں آیا تھا)

شٹ اپ نمیرا اینڈ یو،،، جسٹ شٹ اپ،،، مجھے سکون چاہیے،،،
Can you stop this non sense….

ان دونوں کو چپ لگی تھی۔۔

نیناں کا دل دہلا تھا اس کا یہ روپ دیکھ کر،، لال انگارہ آنکھیں تنی رگیں۔۔سرخ چہرہ،،،

ابھی تک تو اس نے اس کا اتنا سوفٹ اور کیئرنگ روپ دیکھا تھا۔۔
مگر اب
افففففففف توبہ یہ غصیلے سلطانز،،،،،،

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ بڑی مشکل سے کنفیوز سی حرم مما کے کہنے پر یونی آئی تھی سادہ سے براؤن قمیض ٹراؤزر اور بڑے سے دوپٹہ میں الجھی اپنی کلاس میں گئی تھی۔۔

سب نے اس کی اس تبدیلی کو معنی خیز نگاہوں سے نوٹ کیا تھا۔۔مگر سہانا شبیر سے الجھنے کا حوصلہ کسی میں نہیں تھا،، سو عافیت اسی میں جانی کہ اپنے کام سے کام رکھا۔۔

وہ اپنی چھوٹی سی جان اتنا بڑا دوپٹہ کیری کرنے میں ہی ہلکان کیے جا رہی تھی۔۔
اور برے برے منہ بنا رہی تھی۔۔

افففف یہ دوپٹہ ہے کہ ٹینٹ،،،، اس سے تو پورے ایک ہاتھی کی چَڈّی بن جائے،،، وہ بڑبڑائی۔۔

یہ جو خود کو میں نے بدلا،
یہی تجھ سے میرا بدلہ ہے،

سارا دن وہ اس دوپٹے سے الجھتی رہی مگر گھبرائی نہیں،،
اب عادت تو ڈالنی تھی ناں۔۔

اپنی کلاس سے بھی نہیں نکلی تھی کہ شاہ زین سلطان سے سامنا نا ہو،، مگر کب تک،، پیٹ میں چوہے دوڑے تو کینٹین گئی۔۔
مگر اس یقین کے ساتھ کے وہ وقت شاہ زین کے کینٹین میں موجودگی کا نہیں تھا۔۔

مگر اس کی یہ غلط فہمی بھی جلدی دور ہو گئی۔۔جب اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی شاہ زین فارس کے ساتھ کینٹین میں انٹر ہوا۔۔

فارس کی سامنے نظر پڑی تو سہانا کی کایا پلٹ دیکھ کر حیرت کا جھٹکا لگا مگر نیچے منہ جھکا گیا۔۔

تبھی پتا چلا کہ شاہ زین کیوں ،،،،،،،

وہ کینٹین میں آ کر بیٹھے۔۔

سہانا آرڈر دے چکی تھی،،، مگر اب بھوک مر چکی تھی،، سو چپکے سے وہاں سے چلی آئی۔۔
شاہ زین نے بغور اسے جاتے دیکھا،،

اب وہ لائبریری آئی تھی،،، اور ایک کونے میں بیٹھ گئی،، مگر یہ تو شاہ زین کے لائبریری آنے کا وقت تھا۔۔
مگر است تسلی تھی۔۔کہ وہ اسی کونے میں بیٹھی تھی جہاں سے اسے دیکھتی تھی۔۔

مگر وہ نہیں دیکھ پاتا تھا۔۔وہ مسلسل اسی دشمن جاں کے بارے میں بیٹھی سوچ رہی تھی تبھی وہ سامنے سے جلوہ گر ہوا۔۔

سادہ سے گرے شلوار قمیص میں وہ ظالم نظر لگ جانے کی حد تک ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔
وہ مبہوت سی بار بار نظر بھر کر دیکھے گئی۔۔
وہ بڑی دیر سے الائچی چباتا آبزرور کر رہا تھا خود پر وہ جانی پہچانی نظروں کی تپش،،،
مگر سپاٹ چہرہ کیے رکھا،،

وہ مگن سا نوٹس بنانے میں مصروف تھا،، جب سہانا کے موبائل پر میسج رنگ ہوا۔۔
اس نے اوپن کر کے دیکھا تو۔۔

دل کی یہ آرزو تھی کوئی دلربا ملے لو کھل گئے نصیب کے تم ہم سے آملے اب زندگی سے جانے ،،،،،،،کیا نیا ملے اب تک تو جو بھی دوست ملے بے وفا ملے

وہ اچھلی،، ان ناؤن نمبر تھا،،، اب یہ کون تھا۔۔کانپتے ہاتھوں سے میسج ڈلیٹ کر دیا۔۔۔ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے،،،،

اس کی پتلی ہوئی حالت دیکھ کر کسی کو وہاں بیٹھے اپنا ڈمپل چھپانا مشکل ترین امر ہو گیا تو جان بوجھ کر پین نیچے گرا کر جھک کر گہرا مسکرایا پھر سنجیدہ سا ہو کر سیدھا ہو گیا۔۔

سیدھا ہوا تو سہانا بے بی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تھی یقیناََ اب گھر جا کر حرم مما کے آنچل میں چھپے گی اب اس نے پیچھے مڑ کر فارس کو دیکھا۔۔جس کے ہاتھ میں اس کا موبائل تھا ،اور شاہ زین کے پاس فارس کا۔۔۔

فارس نے وکٹری کا نشان بنایا تو

وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔۔کیونکہ اب انجوائے کرنے پٹانے اور شرارتیں کرنے کی باری اس کی تھی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

اریش نے بہت دور تک انھیں اپنے تعاقب میں بھگایا تھا،،

جتنا ہو سکے اتنا۔۔
مگر کب تک،،، انطالیہ سے مخالف سمت میں بھاگتے جولی نے آگے اور پیچھے سے اس کے آدمیوں نے اریش کو جا لیا۔۔۔

اریش کے آگے پیچھے اب گاڑیوں کا ہجوم تھا،، جولی کے آدمیوں نے اسے گاڑی سے باہر نکلنے کو کہا۔۔

جولی اور زبیر بھی گاڑیوں سے باہر آگئے۔۔اور اس کی جانب بڑھے۔
انھیں باہر نکال کر ان ماسک اتارے گئے اور لینا کی جگہ جینیفر کو دیکھ کر جولی کا میٹر شارٹ ہوا۔۔

پوری گاڑی چھانی گئی۔۔مگر ویر سلطان نے نہیں ملنا تھا نا ملا۔۔
اب جولی پاگل ہو چکی تھی،،

شرافت سے بتادو ڈائمن کہ کہاں ہے وہ دونوں نہیں تو اچھا نہیں ہوگا۔۔ جولی کی دم پر پاؤں آیا۔۔

وہ زبیر کی جانب گھوما،، اس جیسی گھٹیا عورت کو مخاطب کرنا میں اپنی توہین سمجھتا ہوں،،، نہیں بتاؤں گا اکھاڑ لو جو اکھاڑا جاتا ہے ۔۔۔اریش نے نفرت سے کہا۔۔

جولی نے اپنے آدمی کو اشارہ کیا۔۔
اکھاڑ تو میں بہت کچھ سکتی ہوں ڈائمن،،، مگر ابھی تم درمیان سے ہٹ جاؤ،، وہ پھنکاری

پیچھے اپنی گردن پر جب سوئی سی چبھتی محسوس ہوئی تو اریش کو بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔

یو باسٹرڈز،،،،،، وہ دھاڑا مگر جلد ہی بے ہوش ہو کر زمین بوس ہو گیا۔۔
لے جاؤ اسے لندن اور قید کر دو جا کر،،یہاں اب اس کا کوئی کام نہیں ۔۔۔۔۔جب تک میں سلطانز کو موت کے گھاٹ نا اتار دوں یہ قید سے نکلنا نہیں چاہیے۔۔

اس کے آدمی اریش کو اٹھا کر لے گئے۔۔تبھی وہ جینفر کی جانب بڑھی۔۔

معاف کر دیں میڈم،،،، مجھے تو سر نے گن پوائنٹ پر جو کرنے کے کہا تھا میں کرتی چلی گئی،،،، میں تو آپ کی وفادار ہوں۔۔۔
اس نے سکھائے گئے جملے بولے۔۔۔

جولی نے سر ہلایا۔۔جس کا مطلب تھا کہ اسکی گلو خلاصی ہو چکی ہے۔۔۔تبھی وہ واپسی کے لئے نکلے۔۔

ٹھکانے پہنچ کر رات تک وہ ناگن بنی پھنکارتی رہی پھر رات کو جو کال آئی اسنے اس کو سکون پہنچایا۔۔

میڈم میرے خیال میں وہ بلغراد فوریسٹ کی جانب گئے ہیں دو تین سی سی ٹی وی کیمرے میں دو مشکوک گاڑیاں ہائی وے پر اس طرف جاتی دکھائی گئی ہیں۔۔

فائن ختم کر دو ان سب کو،،،، مگر لینا مجھے زندہ چاہئے۔۔ سمجھے،، وہ پھنکاری،،،

جی میم،،،، کہہ کر فون رکھا گیا تو وہ مکروہ قہقہہ لگانے لگی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

آٹھ گھنٹوں کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ فوریسٹ پہنچے تھے۔
نیناں اس راستے سے وہاں آئی تھی جہاں سے انھیں بہت کم فاصلہ طے کر کے بلغاریہ جانا پڑتا ۔۔

اور اب تقریباً رات کے گیارہ بج چکے تھے۔۔
یہاں انھیں رات گزارنی تھی،،

اور اگلی صبح فوریسٹ کراس کر کے بلغاریہ اینٹر ہونا تھا۔۔
اب وہ مزید گاڑیاں لے کر آگے نہیں جا سکتے تھے۔۔سو نیناں نے وہیں گاڑیاں چھپا دیں۔۔

اور انھیں لئے جنگل کے مخصوص راستے پر چلنے لگی ۔۔کچھ ہی دور جا کر ایک بلکل چھوٹا سا کاٹیج تھا۔۔
جو کہ جینفر کی مہربانی تھی۔۔کیونکہ اکثر جب وہ اپنے خاص کاموں کے لئے ترکی آتے تو یہیں آ کر چھپتے تھے۔۔

جینفر نے ہی اسے اس جگہ کا بتایا تھا۔۔جینفر اور پارکر دونوں میاں بیوی تھے جن پر نیناں اور اریش کے بہت احسانات تھے اور اب وہ دونوں نیناں اور اریش کے بہت وفادار تھے۔۔

گاڑی میں سے نیناں نے ایک بڑا سا بیگ بھی نکالا تھا،، جس میں کھانے پینے کا سامان تھا۔۔

وہ گاڑیوں سے نکلے ۔۔شہباز نے ویر کو سہارا دینا چاہا جب از نے منع کر دیا یہ کہہ کر کہ وہ بہتر محسوس کر رہا ہے۔۔

وہ کاٹیج کے اندر آئے اور نیناں نے سب سے پہلے اب کو کھانا کھانے کا کہا۔۔

نمیرا میری بات ازھاد سے کرواؤ سب سے پہلے۔۔

جی سر۔۔ نمیرا نے فون ملا کر ویر کو تھمایا۔۔وہ بات کرنے کاٹیج سے باہر آگیا۔۔
سامنے سے اسے جو جو سننے کو ملا وہ اس کے سر پر آسمان گرانے کو کافی تھا۔۔

اپنے ڈیڈ اور شاہزر سے بھی بات کر چکا تھا۔۔ اب انھیں آگے پلین کے مطابق چلنا تھا۔۔
اس کے ڈیڈ نے اسے بار بار باور کروایا تھا کہ وہ جیسے جیسے کہے جونئیر کرتا جائے،،،

سرخ بھیگی پلکوں سمیت وہ وہیں کھڑا بڑی دیر مطی کے بارے میں سوچتا رہا۔۔

اس کے ساتھ جو ہوا سو ہوا مطی کے ساتھ۔۔مطی کے کڈنیپ ہونے کے بعد اس نے اس کے سارے روم کو چھلنی کی طرح کنگھالا تھا تب اس کے ہاتھ وہ گفٹس کے ساتھ نکاح نامے کے پیپر اور پریگننسی روپوٹ ہاتھ لگی تھی جو جانے اس نے کب کروائی تھی۔

تبھی وہ پیپر اس نے ازھاد کو دیے تھے،،، شاہزر کو تو دینے کی ہمت بھی نہیں ہوئی،،،

مطی کے ساتھ اتنا کچھ ہو گیا اور وہ بے خبر رہا۔۔۔دشمن نے بہت کاری وار کیے تھے۔۔جو جسموں پر تو اتنے اثر انداز نہیں ہوئے
مگر ان کی روحوں کو ضرور چھلنی کر گئے تھے۔۔ اور شاید ہی یہ زخم کبھی بھر پاتے۔۔

کیا تھا وہ،، اور آج اس وحشتِ عشق نے کیا بنا دیا تھا اسے۔۔عشق نے اس کی کمر توڑ کر ایسا جھکایا تھا اسے کہ اب شاید ہی زندگی میں وہ کبھی اٹھ پاتا،، ایسا بھروسہ ٹوٹا تھا کہ اب زندگی میں شاید خود پر بھی بھروسہ نا کر پاتا،،، محبت نے اس کے سینے میں نفرت ،،وحشت،،، اذیت بھر دی تھی۔۔
اذیت کی بھٹی میں سلگتا وہ سب کچھ خاکستر کر دینا چاہتا تھا۔

سر پلیز کھانا کھا لیں آ کر،، شہباز نے پکارا۔۔

چلو،،، وہ سنجیدگی سے کہتا اندر آیا،، اس نے نوٹ کیا سب موجود تھے سوائے اس کے جو انھیں یہاں لائی تھی۔۔

مگر وہ خاموشی سے بیٹھ گیا اور سب کا ساتھ دینے کے لئے کھانا کھانے لگا۔۔
وہ کھانا کھا چکے تو وہ بھی اپنا پیکٹ تھامے اندر داخل ہوئی۔۔شاید ان سے الگ بیٹھ کر کھانا کھایا تھا۔۔

شہباز نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا،،، کافی دیر وہ اپنے کام کی چیزیں کرتا رہا،، ویر نے اسے ہیڈکوارٹرز میں ضروری میل بھیجنے کو بولا کہ اور کہا کہ انفارم کر دے کہ چِپ ڈسٹروئے کر دی گئی ہے۔۔اور وہ جلد لوٹنے والے ہیں۔۔

ویر اسے چند ہدایات دیتا پھر باہر چلا گیا۔۔
جب ضروری چیزیں دیکھتے شہباز نے ایک چیز دیکھی۔۔وہ فورا باہر آیا۔۔

سر ایک ضروری بات بتانی تھی،،،

شہباز تمھارے پاس سگریٹ ہے تو دو،،، سر نے آگے سے انوکھی فرمائش کی۔۔

شہباز نے جھٹکے سے شاکڈ ہو کر اپنے سر کو دیکھا کیونکہ وہ سموکنگ نہیں کرتا تھا۔۔
مگر جھجھکتے سگریٹ نکال کر اسے تھما دی۔۔ وہ چند پلوں میں سگریٹ سلگا کر اب یوں سموکنگ کر ریا تھا جیسے کہ جانے کتنے سالوں سے چین سموکر ہو۔۔

تھوڑے فاصلے پر دو اور آنکھیں چھپ کر اسے ماہی بے آب کی طرح تڑپتے دیکھ کر شاید اس سے بھی زیادہ تڑپ محسوس کر رہی تھیں۔۔

بولو کیا ضروری بات تھی۔۔

سر وہ،،،،،، وہ،،، شہباز بات کرتا جھجھکا۔۔

کم ٹو دی پوائنٹ،،، ڈیم اٹ،،، ویر نے شاید ہی کبھی اسے ڈانٹا ہو یا اپنے سٹاف میں سے کسی کو کبھی ڈانٹا ہو،،، مگر اب اسے بری طرح جھڑکا تھا۔۔

سر وہ نیناں درانی،،، شہباز منمنایا،،

شٹ اپ شہباز،،، وہ دھاڑا،، گدی میں سے زبان کھینچ لوں گا اگر دوبارہ کسی نے یہ نام لیا میرے سامنے۔۔

اس کی دھاڑ سن کر نمیرا بھی فوراً باہر آئی اور اپنے سر کو پہلی مرتبہ شہباز پر دھاڑتے دیکھا۔

مگر سر،،، سن تو لیں۔۔

شٹ اپ،،، بھاڑ میں جاؤ،،، مجھے سکون چاہئے،، گیٹ لاسٹ شہباز،،، ویر نے دانت پیس کر کہا تو وہ منہ لٹکا کر اندر چلا گیا۔۔
کانچ آ نکھوں سے تواتر سے لہو ٹپکا۔۔

وہ پیچھے ہٹی،،، اتنی نفرت،، اس کے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوئے۔۔۔مگر آنسو صاف کرتی پیچھے ہٹی اور شہباز کے پاس آئی۔۔

وہ نیناں درانی کے بارے میں کیا نیوز تھی مجھے دکھاؤ۔۔
شہباز نے لیپ ٹاپ اس کے سامنے کیا تو دبئی کی کوئی ڈارک ویب تھی۔۔
وہ یہ دیکھ کر اپنے آپ کو تقریباً گھسیٹتی کاٹیج کی دوسری منزل پر بنے ایک کمرے میں آئی۔۔وہ سکارف جس سے نقاب کر رکھا تھا اتار کر سختی سے تھوڑا سا منہ میں ٹھونسا اور کچھ اپنے منہ پہ رکھ لیا ۔۔اپنی چیخوں آہوں اور دھاڑوں کا گلا گھوٹنے کے لئے۔۔

بہت بھاری رات تھی،،، بہت درناک،، اذیتوں میں ڈوبی،، کوئی بھی نا سو پایا،،،
دو جانوں کو تو کانٹوں پر گھسیٹ لیا گیا تھا۔۔آگ کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

اگلی صبح وہ تھوڑا بہت ناشتہ کر کے وہاں سے نکلے تھے۔۔
کاٹیج سے باہر نکلے۔۔۔
آدھا جنگل کراس کیا تھا۔۔۔اب یہاں آ کر ایک ٹوٹی پھوٹی عمارت تھی جہاں انھیں تھوڑی دیر کے لئے آرام کرنا تھا۔۔

ابھی وہ کچھ دور تھے جب ان پر حملہ ہو گیا۔۔

نیناں کو اس کی توقع نہیں تھی مگر جولی جتنی چالاک اور مکار تھی کچھ نا کچھ تو کیا ہو گا جو ان پر حملہ ہو گیا۔۔

انھوں نے منہ توڑ جواب دیا۔۔
ایک آدمی ویر کے ہاتھ لگ گیا۔۔

ویر غصے سے پاگل ہوا اب اس شخص کو اپنی بیلٹ سے ادھیڑ رہا تھا۔۔
اور نمیرا حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اپنے سر کا یہ وحشی روپ پہلی مرتبہ دیکھ رہی تھی۔۔
کیونکہ اس کا سر چیخ و پکار سن کر سکون حاصل کر رہا تھا۔۔

جب سامنے ایک درخت کے پیچھے سے ایک آدمی نے اس کے دل کا نشانہ لیا تھا،، وہ غصے میں دیکھ ہی نہیں پایا تھا۔۔

مگر وہ دیکھ چکی تھی،، اور بجلی کی سی تیزی سے ویر کے سامنے آئی ،،ایک سرسراتی گولی کندھے سے زرا نیچے کمر میں پیوست ہوئی اور ایک دلخراش چیخ مارتی زمین بوس ہو چکی تھی۔۔

ویر اس کی جانب لپکا۔۔اور اسے اٹھانا چاہا۔۔

جاؤ بھاگ جاؤ،،، چلے جاؤ اپنی جان بچاؤ،،، نقاب کے پیچھے سے غراہٹ سنائی دی۔۔کلرڈ آنکھوں میں ویر کے لئے فکر تھی۔۔

کبھی نہیں،،، وہ بھی دھاڑا۔۔خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔۔وہ غنودگی میں جاتی بھی بولتی رہی۔۔

چلے جاؤ،،، چھوڑ دو مجھے،،

وہ منزل پر پہنچ ہی چکے تھے،، بلغراد جنگل کے بیچ و بیچ وہ چھوٹی سی ٹوٹی پھوٹی عمارت تھی۔۔
نمیرا تعاقب کرنے والے تمام بندوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی تھی۔۔

ویر اسے اٹھائے اندر آیا۔۔جو کہ اب بے ہوش ہو چکی تھی اور ایک میلے سے بستر پر لٹایا۔۔
پھر فائرنگ ہوئی۔۔۔
ویر ان کو منہ توڑ جواب دینے شدید غصے سے باہر گیا۔۔

نمیرا تجسس کے مارے اس لڑکی کے پاس آئی جو بلیک جیکٹ،، بلیک پینٹ پر منہ پر سکارف یوں لپیٹے کہ بس آنکھیں نظر آتی تھیں۔۔۔پاس آئی ۔۔

دیکھوں تو سہی کون ہے جو ہمارا ساتھ دینے یہاں تک چلی آئی اور سر کے لئے گولی بھی کھا لی۔۔
نقاب ہٹایا تو نمیرا کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی یہ دیکھ کر کہ وہ نیناں ہے۔۔

افففففف،،، آہٹ سنائی دی تو جلدی سے سکارف اس کے اوپر گرایا،،،،،

پیچھے مڑ کر دیکھا تو ویر تھا،،
نمیرا نے خاموشی سے نیناں کو کروٹ دلوائی اور اوندھے منہ کر دیا۔۔

اس کی بلٹ میں خود نکالوں گا،،، ویر کی بات پر نمیرا کی سانس اٹکی۔۔

نن،،، نو ،،،،سر میں کر لوں گی،، وہ گڑبڑائی،، اگر ویر کو پتہ چل جاتا کہ یہ وجود کس کا ہے تو پتہ نہیں کیا قیامت لاتا۔۔۔۔

شٹ اپ نمیرا،،، میں نے کہا ناں میں نکالوں گا،، ویر پاکٹ سے اپنی سوئس نائف نکالتا اس کی جانب بڑھا۔۔

نمیرا پیچھے ہٹ گئی
ایک نا ایک دن تو پتہ چل ہی جاتا،،،،۔۔

ویر قریب گیا،، کندھے سے نائف سے جیکٹ چاک کی،،، اور بڑے ماہرانہ انداز میں وہ گولی نکال دی ۔۔ایک دلخراش چیخ پھر سنائی دی۔۔

اٹس اوکے،،،،، سب ٹھیک،،،،،، ویر کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے جب غنودگی میں تڑپتی اس لڑکی کے چہرے پر نظر پڑی،،

وہ جھٹپٹا کر پیچھے ہٹا،، جیسے کسی اچھوت کو چھو لیا ہو۔۔

نمیرا چلو یہاں سے،،، وہ دھاڑا۔۔

اسے چھوڑ کر،،،

بھاڑ میں جائے یہ،،، اس کی آنکھوں اور چہرے سے لہو ٹپکا۔۔۔

سر اس نے اپنے اوپر گولی کھائی ہے آپ کو بچانے کے لئے ۔۔نمیرا نے جتایا

مجھے کوئی پرواہ نہیں،، میں نے نہیں کہا تھا۔۔۔وہ پھنکارا۔۔

جولی نے دبئی کی ڈارک ویب پر اعلان کیا ہے کہ لینا زبیر کو پکڑ کر لانے والے کو ایک کروڑ انعام دیا جائے گا۔۔اور بعد میں اسے بے لباس کر کے نیلامی کے لیے پیش کیا جانے والا ہے۔۔
شہباز سے پوچھ لیں۔۔ اب بھی فرق نہیں پڑے گا آپ کو،،،، وہ سنجیدگی سے بولی۔۔

یہ سن کر ویر کے کانوں سے دھویں نکلے تھے،، دروازے کو زور دار ٹھوکر رسید کر کے تن فن کرتا کچھ بھی کہے بغیر باہر نکل گیا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺