Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

عقاب کو تھی غرض،،،،، فاختہ پکڑنے کی
جو گِر گئی تو یونہی نیم جان چھوڑ گیا
عقب میں گہرا سمندر،،، ، ہے سامنے جنگل
یہ کس انتہا پہ،،، ،،میرا مہربان چھوڑ گیا

حبہ سوپ کا باؤل لئے سلطان مینشن کے کچن سے نکل کر اب بنگلے کے اوپر کے بنے پورشن میں جا رہی تھی۔۔جب ہلکے سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔

سامنے ہی بیڈ پر وہ نیم جان نیم مردہ سا وجود اس کی زندگی سے بھر پور ہنستی کھلکھلاتی بیٹی کا تھا۔۔جو اب پیلے زرد رنگ کے ساتھ برسوں کی مریضہ دکھائی دے رہی تھی۔۔

وہ بیڈ کے قریب آئی۔۔دل تو کرتا تھا بیٹی کی اس حالت پر دھاڑیں مار مار کر روئے مگر وہ پتھر کی بن چکی تھی۔۔کہا تھا،،، نہیں معاف کرے گی۔۔
کبھی بھی نہیں ،،،،،
کسی صورت نہیں،،،،

مطربہ،،،،، اس نے آواز دی۔۔۔مطی نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں۔۔
جو پہلا لفظ منہ سے ادا کیا وہ تھا۔۔

ڈیڈ،،،
اتنے میں ہی شاہ زر روم میں داخل ہوا تھا۔۔

یس میری جان،،، مائی لٹل ڈول،،، وہ مسکرایا اور اس کے سرہانے آ کر بیٹھا۔۔کندھوں سے سہارا دے کر اسے تکیوں پر نیم دراز کیا۔۔

بکھرے بال،،، اجڑا حلیہ،، ہلدی کی طرح زرد رنگ،، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے،،، کون کہہ سکتا تھا وہ مطی تھی،،

حبہ نے سوپ کا باؤل شاہ زر کو خاموشی سے تھمایا،،، بول تو وہ شاہ زر سے بھی نہیں رہی تھی۔۔اور یہی بات شاہ زر کو تکلیف دے رہی تھی۔۔

ہیے پرنسز چلو فٹا فٹ منہ کھولو،،، یہ سارا سوپ فنش کرنا ہے بھئی۔۔

وہ چپ چاپ سوپ پینے لگی۔۔نا بحث،، نا ضد،،، نا کوئی شرارت
نہیں تو پہلے تو بیماری میں اسے سوپ پلانا ہی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا تھا۔۔
تھوڑا سا پی کر ،،،

بس ڈیڈ،،، مجھے ریسٹ کرنا ہے۔۔ وہ آہستگی سے بولی۔۔

اوکے ،،،شاہ زر نے باؤل سائیڈ پر رکھا۔
ادھر آؤ، تکیہ پر سر رکھ کر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا،، وہ دوبارہ سرد و سپاٹ آنکھوں سے چھت کو گھورنے لگی۔۔

جب سے ہوش میں آئی تھی۔۔یہی تو کر رہی تھی۔۔بس سرد و سپاٹ چہرے سے چھت کو گھورے جاتی۔۔۔شاہ ویر نے ان تینوں کو ہیلی میں پاکستان بھیج دیا تھا۔۔اس کی سرجری ہو چکی تھی۔۔ کوکھ اجڑ چکی تھی۔۔۔۔خون کافی بہہ گیا تھا مگر خوش قسمتی وہ بچ گئی تھی۔۔
باقی علاج پاکستان آ کر ہوا۔۔

زخم کافی حد تک مندمل ہو چکے تھے۔۔مگر جو روح پر لگے تھے وہ تو شاید ساری زندگی نا ہو پاتے۔۔
اسے زندہ بچ جانے پر افسوس ہوا تھا۔۔اور اب ماں کی بے رخی اور ناراضگی بھی جھیل رہی تھی۔۔
اب روح پر لگے یہ زخم ساری زندگی ناسور بن کر اسے تکلیف اور اذیت دینے والے تھے۔۔

شاہ ویر ،،، جونیئر اور نیناں پہلے سلطان مینشن ہی آئے تھے۔۔ شاہ ویر نے نیناں کو روپ کے سپرد کیا تھا۔۔

روپ مما یہ اب ہماری زمہ داری ہے اس کا بہت اچھے سے خیال رکھنا ہے آپ نے۔۔ جب حاتم مینشن جائیں گی تو اسے ساتھ لے جانا۔۔

کہہ کر شاہ ویر مطی سے ملنے گئا تھا۔۔ جونیئر تو پہلے ہی جا چکا تھا۔۔

روپ نیناں کے صدقے واری گئی۔۔کتنی پیاری بچی ہو،، کیا نام ہے بیٹا۔۔

نیناں درانی،،، اس کی پلکیں بھیگیں

آؤ میں تمھیں روم دکھا دوں۔۔فریش ہو جاؤ۔۔اور آرام کرو۔۔پھر کھانا بھی کھانا ہے۔۔
نیناں چپ چاپ ان کے ساتھ ایک روم میں آ گئی۔۔

ارے تم فریش ہو جاتیں،،، مگر تمھارے پاس تو کپڑے ہی نہیں ہیں،، میں ایسا کرتی ہوں ابھی فی الحال مطی یا سہانا کا ڈریس تمھیں دے جاتی ہوں بعد میں ڈھیر ساری شاپنگ کریں گے اوکے۔۔

اس نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا۔۔روپ کے کچھ دیر بعد ہی ایک میڈ اسے آ کر ایک ڈریس دے گئی۔۔

کافی دیر بعد وہ فریش ہوئی تھی تو کافی سکون ملا تھا۔۔کپڑے کافی ڈھیلے ڈھالے تھے۔۔بھیگے بالوں سمیت وہ باہر آئی۔۔
اور سکون سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔

ادھر شاہ ویر اور جونئیر مطی کے پاس بیٹھے تھے۔۔
تبھی باقی سب بھی روم میں آئے تھے۔۔پلوشہ اپنے بیٹے کے گلے لگ کر بہت روئی تھی۔۔

سب کی آنکھیں اشکبار تھیں۔۔ سوچا نہیں تھا ایسا ہو گا۔۔
مگر جلد ہی ربیع کی بک بک نے ان کا دھیان بٹایا تھا۔۔۔

شاہ زل نے ویر کو اشارہ کر کے باہر بلایا۔۔
ویر باہر آیا۔۔۔
ڈیڈ مجھے کرنل وسیم سے ملنا ہے۔۔شام تک آتا ہوں۔۔

اوکے،،،، خیال رکھنا اپنا،، ویر نے اس کی سرخ آنکھیں غور سے دیکھیں ۔۔

کم آن ڈیڈ بچوں کی طرح تو ٹریٹ نہیں کریں ،،،میں رکھ سکتا ہوں اپنا خیال ،،وہ جھنجھلایا

وہ جانے لگا جب قدم پھر روکے،، ویر بیٹے کی جانب متوجہ ہوا۔۔

ڈیڈ اسے کہنا اگر حاتم مینشن سے قدم باہر نکالا تو ٹانگیں توڑ کر چیل کووں کو کھلا دوں گا۔۔ شاہ زل کا سرسراتا لہجہ

ویر نے بیٹے کی پشت کو دیکھا اور بِھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا۔

پابند کرنا چاہتے ہو اسے،،، کس حق سے؟

اس نے غصہ ضبط کرنے کو جبڑے بھینچے۔۔۔کم آن ڈیڈ ،،بات دراصل یہ ہے کہ مجھے رتی برابر بھی اس پر بھروسہ نہیں،،، کیا پتہ اب بھی دشمنوں نے بھیجا ہو اسے اور اب بھی کوئی گیم کھیل رہی ہو ہمارے ساتھ،،، ایکٹنگ تو کمال کی کرتی ہے ناں
وہ اس کی ذات کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف تھا جو کہ اس روم میں یہ سب گفتگو سن رہی تھی۔۔

شاہ زل،،، ویر نے تنبیہہ کی،، مگر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔

تبھی پلوشہ ویر کے پاس آئی تھی۔۔کیونکہ اپنے بیٹے کی تمام گوہر افشانی سن چکی تھی۔۔

شاہ مجھے بتائیں کیا ہوا اسے،،، پری نے کڑے تیور لئے ویر سے پوچھا۔۔

پری وہ،،، ویر نے ٹالنا چاہا۔۔

آپ کو پتہ ہے آپ مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتے ۔۔پلیز شاہ مجھے بتائیں۔۔
ویر پلوشہ کو سٹڈی میں لے کر گیا اور ترکی کی ساری کہانی سنا دی۔۔
پلوشہ کے ماتھے پر بل آئے۔۔

شاہ اتنا کچھ ہو گیا،،، آپ مجھے اب بتا رہے ہیں وہ ناراض ہوئی۔۔

مجھ سے ناراض ہونے کی بجائے اپنے بیٹے کو سنبھالو پری،، ٹوٹ گیا ہے وہ۔۔
سنبھل جائے گا انشاءاللہ،، پلوشہ نے پر عظم لہجے میں بولا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پلوشہ ہلکا سا ناک کر کے نیناں کے روم میں داخل ہوئی اور اس کے پیچھے شاہ ویر سلطان۔۔

اس کی لال انگارہ آنکھوں سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ کتنی شدت سے روئی ہوگی۔۔اور شاہ زل کی تمام بات سن چکی ہو گی۔۔

وہ بیڈ پر فرش پر ٹانگے لٹکائے سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔مگر ان دونوں ہستیوں کو اپنی طرف آتا دیکھ سیدھی ہق گئی۔۔

پری کو جانے کیوں وہ جانی پہچانی اور اپنی اپنی سی لگی۔۔

وہ کھڑی ہو گئی۔۔ سامنے یقینا شاہ زل کی مما تھی۔۔وہ سخت نروس اور شرمندہ ہوئی۔۔

بیٹھو بیٹا،،شاہ ویر نے نرمی سے کہا،،شاہ ویر صوفے پہ بیٹھ گیا جبکہ پلوشہ اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔

کیسی ہو،،، بھوک تو نہیں لگی،، کچھ چاہیے،، پلوشہ نے نرمی سے پوچھا۔۔ نیناں کو ان کی نرمی پر حیرت کا جھٹکا لگا،، تبھی پلوشہ سے بھی وہی سوال پوچھ بیٹھی جو شاہ ویر سے پوچھا تھا،،

آپ کو پتا ہے میں نے آپ کے بیٹے کے ساتھ کیا کیا،،،؟

پلوشہ خاموش ہو گئی۔۔مگر
جو بھی ہوا اس میں تمھاری غلطی تھوڑی تھی وہ تو غلط فہمی تھی۔۔تمھیں بھٹکایا گیا تھا۔۔غلط بتایا گیا تھا۔۔مگر اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔

نیناں نے بے یقینی سے سامنے بیٹھی ہستی کو دیکھا۔۔پر سسک پڑی،، پری نے مسکرا کر اسے اپنی آغوش میں بھر لیا۔۔پتا جو تھا اس بے وقوف لڑکی کی سانسیں اس کے پاگل بیٹے کی لائف لائن تھیں۔۔

پری کافی دیر اس کے پاس بیٹھی رہی۔۔ماں کی آغوش کا سکون کیا ہوتا ہے کیا معنی رکھتا ہے وہ آج جان پائی تھی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

عجیب بے کل سے دن تھے۔۔پورے بیس دن گزر چکے تھے۔۔
مطی بلکل صحت یاب ہو چکی تھی۔۔مگر قسم کھانے کو بھی اپنے روم سے نا نکلی۔۔

جونیئر ویر نے اپنے آپ کو کیسز میں الجھا لیا تھا،، اب تو جولی کو جہنم واصل کر کے ہی سکھ کا سانس لینا تھا اس نے۔۔

نیناں روپ کے ساتھ حاتم مینشن چلی گئی تھی۔۔

گھر میں بے تحاشا اداسی اور افسردگی تھی۔ تبھی اس افسردہ سے ماحول میں ایک دن ظہان(پریہا اور جلال کا بیٹا) بلکل اچانک ایک خوشگوار جھونکے کی مانند لندن سے چلا آیا۔۔

یہ ان سب کے لئے بہت بڑا سرپرائز تھا۔۔اس کی عمر شاہ زین جتنی تھی۔۔
بہت ہنس مکھ اور شرارتی تھا۔۔آتے ہی گھر پر چھائی بے رونقی کو رونق میں بدل ڈالا۔۔

۔تبھی اسی اداسی کے اثر کو زائل کرنے کے لئے حرم اور میر نے پلوشہ اور شاہ ویر کی مکمل رضا مندی اور شاہ زر اور حبہ سے مشورہ کر کے ایک فیصلہ کیا تھا۔۔

آج سب سبھی سلطان مینشن کے لاؤنج میں اکٹھے ہوئے تھے۔روپ اور حاتم بھی تھے۔۔۔۔سب بڑے سب بچے ۔۔مطی اور جونئیر بھی۔۔
حرم نے شبیر عثمانی کو بھی بلا رکھا تھا۔۔سہانا یونی سے آئی تو اپنے پاپا کو سامنے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔۔
وہ اپنے پاپا کے پاس بیٹھ گئی۔۔

تبھی شاہ ویر نے شبیر عثمانی کو مخاطب کیا۔۔
بھائی صاحب جیسا کہ آپ کو پتہ ہے کہ پہلے جو بھی حالات رہے۔ میں دہرا کر ماحول افسرده نہیں کرنا چاہتا مگر اب ہم باقاعدہ اور سب بڑوں کی دعاؤں میں آج شاہ زین اور سہانا کا نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔۔اگر آپ کی اجازت ہو تو،،،، فون پر تو میں بتا ہی چکا تھا۔۔مگر اب آپ اپنی رضا مندی دے دیں۔۔۔

شبیر کے چہرے پر چمک سی تھی۔۔میں بہت خوش ہوں شاہ ویر،، سوچا نہیں تھا بات ایسے سنبھل جائے گی۔۔ بہر حال میری مکمل رضامندی ہے۔۔

شاہ زین بظاہر سنجیدہ سا کھڑا تھا۔۔مگر دل میں طوفان سا اٹھا۔

سہانا نے پہلو بدلا۔۔۔حرم نے نوٹ کیا۔۔اسی لئے بہانے سے اسے کچن میں بلایا۔۔

کیا بات ہے سہانا،،، کوئی پرابلم ہے،، حرم نے نرمی سے پوچھا۔۔

حرم مما ایک مرتبہ ان سے پوچھ،،،،

اگر اسے کوئی اعتراض ہوتا تو اسی وقت بول دیتا ویسے تمھاری تسلی کے لئے ہم پوچھ چکے رات کو،،، تو اس نے کہا جیسے ہماری مرضی،،،، اب بے فکر ہو جاؤ،، اور زہن بناؤ اس نکاح کے لئے،،، تیاریاں مکمل ہیں،، بس تمھیں تیار ہونا ہے،، ویسے یہ سرپرائز تھا،، حرم گہری مسکرائی۔۔

وہ بلش کر گئی۔۔۔مگر پھر پلکیں بھیگ گئیں
ارے اب کیا ہوا بچی،،، حرم نے اس کے آنسو صاف کیے۔۔

حرم مما میں پاپا کو سب بتا دوں گی۔۔میں اپنی نئی زندگی کی شروعات ایک جھوٹ کا بوجھ اٹھائے نہیں کر سکتی۔۔

خبردار سہانا،،، اگر ایسا کیا تو میں ناراض ہو جاؤں گی۔۔ابھی تم نہیں جان پاؤ گی اس بات کی گہرائی کو،، اسی لئے میں ہر گز اجازت نہیں دوں گی تمھیں اس بات کی۔۔

سہانا نے بے دردی سے اپنے لب کاٹے۔۔گلاب کی پنکھڑیوں سے لبوں سے یہ سلوک کھڑکی کے اس پار سے دیکھتے ایک شخص سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔
مگر ابھی صبر کر گیا۔۔
اور مطی کے روم میں چلا آیا جہاں جونئیر اور ربیع بھی تھیں۔۔

اتنے دنوں میں جونیئر پہلی مرتبہ دل سے مسکرایا تھا۔ حتیٰ کہ مطی بھی مبہم سا مسکرا رہی تھی۔۔

چھپے رستم،،، کالم بوائے،،، لگتے تو نہیں ایسے،،، شاہ زل نے چھیڑا

شاہ زین مسکرا دیا..

ڈوب مرو دو تین سال چھوٹے ہو اور نمبر لے گئے سب سے پہلے ہاں،، ویر نے پھر شوشا چھوڑا۔۔

ظہان بھی کہاں کم تھا شاہ زین کے ناک میں دم کر رکھا تھا،، اور ربیع اس کا پورا پورا ساتھ دے رہی تھی۔۔

بھائی ،،مجھے سہانا آپی بلکل بھی پسند نہیں تھی،،ربیع شاہ زین کے گلے میں جھول گئی۔۔ اور منہ بنایا۔۔

مگر وہ تو پہلے کی بات ہے نا اب بتاؤ میری گڑیا۔۔ شاہ زین نے لب دانتوں میں دبایا کہیں دل کی چوری ویر ظہان اور مطی نا پکڑ لیتے۔۔

اب اچھی لگنے لگی ہیں کچھ کچھ،،، اس نے فراغ دلی کا مظاہرہ کیا تو وہ ہنس پڑے۔۔
اور پھر آپس میں باتیں کرنے لگے۔۔ ظہان لندن کی باتیں سنانے لگا۔۔
اور بتایا کہ وہ اصرا کر کے پہلے آ گیا،، بہت جلد پریہا اور جلال بھی آنے والے ہیں پاکستان۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پری نے نیناں کو فون کیا تھا کہ فنکشن میں وہ بھی چلی آئے نیناں نے ہر ممکن کوشش کی تھی بہانے بنانے کی۔۔ بچ نکلنے کی ۔۔ابھی کچھ دنوں سے تو زندگی پرسکون ہوئی تھی۔۔سارا دن اپنے کمرے میں یا روپ کے پاس گزار دیتی۔۔سلطان مینشن سے کوئی آتا تو خود کو کمرے میں بند کر لیتی۔۔

لیکن پلوشہ اور شاہ ویر باقاعدہ اس سے ملنے آتے رہتے تھے اور وہ بھی گھنٹوں ان کے پاس بیٹھتی۔۔حتی کے حرم بھی اس سے ملنے آئی جانے کیا کشش تھی اس لڑکی میں کہ سلطان مینشن کے ہر فرد کو وہ عزیز ہو گئی تھی۔۔

اپنی جان میں ٹال بھی دیا تھا پری اور روپ کو ۔۔مگر جب روپ خود گاڑی لئے اسے لینے چلی آئی تو ہل کر رہ گئی پھر اسے ناچار تیار ہونا پڑا۔۔

روپ نے اس کے لئے ڈھیر ساری شاپنگ کی تھی۔۔انھیں میں سے ایک ڈریس خود ہی سلیکٹ کیا۔۔وہ بے دل سی تھی۔۔اسی لئے دھیان نہیں دیا۔۔

مگر جب پہن کر باہر آئی تو رونگٹے کھڑے ہو گئے کیونکہ وہ اتفاقاً بلو کلر کا ڈریس تھا۔۔یوں بھی جسے دن رات پل پل سوچتی تھی مگر اب اس کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی،،، بلکل بھی۔۔اور اس ڈریس میں،،،
استغفر الله،،،،،

بلو اور فیروزی کنٹراسٹ کی فراک کے نیچے پاجامہ اور انھیں دو کلر کا دوپٹہ۔۔
وہ آج پھر نیلی جل پری لگ رہی تھی۔۔روپ تو مبہوت سی دیکھے گئی۔۔بے تحاشا گوری رنگت،،، کانچ آنکھیں اور براؤن لمبے بال۔۔میک کے نام پہ لبوں پہ پنک گلوز

وہ واپس مڑنے لگی۔۔

ارے کہاں چل دیں۔۔

وہ یہ ڈریس زیادہ ہیوی ہے دادو۔۔مجھ سے کیری نہیں ہو گا۔۔اس نے بہانہ گھڑا ۔۔

کہیں نہیں،،،،،، بہت اچھا لگ ریا ہے اب چپ چاپ چلو کیونکہ دوبارہ چینج کرنے کا وقت نہیں ہے۔۔پری کا فون آ رہا ہے نکاح شروع ہونے والا ہے۔۔۔روپ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر گھسیٹا۔۔

سارے رستے،،، جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو،، کا ورد کرتی آئی۔۔کیونکہ وہ بول چکا تھا حاتم مینشن سے نکلی تو،،،،،

گاڑی سلطان مینشن داخل ہوئی تو دل جیسے اچھل کر حلق میں آیا تھا۔۔
مریل قدموں سے باہر نکلی۔۔اور روپ کے پیچھے آہستگی سے چلتی جیسے چھپ جانا چاہتی ہو۔۔

لاؤنج میں داخل ہوئے تو سکون آیا۔۔نکاح شروع ہونے والا تھا۔۔ویر کوئی ضروری کال سننے اپنے روم میں گیا تھا۔۔
وہ سب سے سلام دعا کر کے پری کے پہلو میں بیٹھی۔۔

وہاں بیٹھے ظہان نے اس نیلی جل پری کو بڑی گہری نظر سے سر تا پا دیکھا۔۔ اور پھر ربیع کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔

نیناں جلد ہی بہانا بنا کر کچن میں آگئی۔۔

سہانا تیار ہوئی دلہن کے روپ میں اپنے پاپا کے ساتھ بیٹھی بے تحاشا خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
بلڈ ریڈ میکسی کے اوپر ہلکا میک اپ،،، اس نے خود اصرار کر کے حجاب لیا تھا۔۔وہ بے تحاشا حسین لگ رہی تھی۔۔
اور شبیر کو یہ خوشگوار تبدیلی بہت اچھی لگی تھی۔۔

کم تو شاہ زین بھی نہیں لگ رہا تھا۔۔۔بلیک تھری پیس سوٹ میں وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔۔

جونئیر نے بھی پری کے اصرار کے بعد ٹوپیس پہن لیا تھا۔۔جبکہ مطی کا ڈریس حبہ نے نکالا تھا وہ تو پہلے ہی نہیں بول رہی تھی اب ڈریس نا پہن کر اور ناراض نہیں کر سکتی تھی ماں کو او ہلکے کام والی شاکنگ فراک پہن لی۔۔۔ سوگوار سی وہ بے تحاشا حسین لگ رہی تھی۔۔

نکاح خواں نکاح پڑھانا شروع کر چکے تھے۔۔ویر بھی آ کر بیٹھ گیا۔۔نیناں نے چپکے سے کھڑکی سے اس ظالم کو دیکھا جس نے اس کی دل کی دنیا ہلا کر رکھ دی تھی۔۔
وہ مبہم سا مسکرا رہا تھا۔۔

مگر سب سے زیادہ حیرت اسے مطی کو دیکھ کر ہوئی تھی جسے اس نے آج دیکھا تھا اور یہ جان کر بےحد بے حد خوش ہوئی کہ وہ زندہ اور سہی سلامت ہے۔۔اسے دیکھ کر اپنا ٹوٹا بکھرا بھائی یاد آیا۔۔

حجاب و قبول کا مرحلہ طے پا چکا تھا۔۔لاونج میں مبارک باد کی صدائیں گونج اٹھی۔۔

اب مٹھائی کھائی جا رہی تھی۔۔کتنا پرفیکٹ منظر تھا۔۔ایک ہیپی فیملی کا،،، مگر وہ یہاں کیا کر رہی تھی،، نیناں بری طرح ڈسٹرب ہوئی۔۔۔وہ خود کو یہاں مس فٹ محسوس کر رہی تھی تبھی کچن کے پچھلے دروازے سے پچھلے لان میں چلی آئی۔۔اور آ کر کین کی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔ رات کے تقریباً آٹھ بج چکے تھے۔۔ شدید ٹھنڈ کے سن تھے ہو طرف گھپ اندھیرا تھا۔۔

اندر ایک ہنگامہ برپا تھا۔۔ربیع اور ظہان نے شور مچا رکھا تھا۔۔اور ڈھیر ساری تصویریں اور سیلفیاں بنانے کے بعد بھی پکس بنائے جا رہے تھے۔۔

ربیع نے دلہا دلہن کو ایک ساتھ بیٹھانے کی فرمائش کی۔۔
سہانا شرم سے دوہری ہو رہی تھی۔۔سکون کا سانس آیا۔۔اب اسے کوئی تنگ بھی نہیں کر پائے گا۔۔
ادھر بظاہر سنجیدہ بیٹھے دلہے میاں زہن میں نئی کچھڑی پکا رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ پاس بیٹھی اس خوبصورت بلا کو دوبارہ کیسے پریشان کیا جائے کہ مزا آ جائے ۔۔

پھر ایک خرافاتی آئیڈیا دماغ میں آ ہی گیا۔۔آخر۔۔

سرونٹس نے کھانا لگایا۔۔۔
پلوشہ نے ربیع کو آواز دی۔۔۔

ربیع جاؤ دیکھ کر آؤ نیناں آپی کدھر ہے،، کھانے پر بلاؤ اسے،،،

پلوشہ نے کہا تو محفل میں بیٹھا ایک شخص خواہ مخواہ متوجہ ہوا،، ناصرف متوجہ ہوا بلکہ چہرے سے مسکراہٹ بھی غائب ہو گئی۔۔

وہ فوراََ اٹھا اور اپنے روم میں چلا آیا۔۔
جانے کیوں مگر دل نے کہا،،،،،
شٹ اپ یو باسٹرڈ،،،،
اس نے دل کو زور دار گالی دی۔۔جو پھر بے اختیار ہو چلا تھا۔۔
مگر وہ اب کبھی دل کی نہیں سننے والا تھا ۔۔۔

پر یہ بھی اس کی خام خیالی ہی تھی۔۔اب بے اختیار قدم پچھلے لان کی جانب کھلنے والی کھڑکی کہی ی جانب بڑھے تھے۔۔

اس کا دم گھٹا تو کھڑکی کھول ہی دی۔۔سامنے کے منظر نے پھر دل کا خون کیا۔۔۔رگیں تنیں۔۔اور جبڑے بھینچ گئے۔۔
اب وہ خود کھڑکی تک آیا تھا اس میں سامنے والی کا تو کوئی قصور نہیں تھا ناں
اس نے تو ہر ممکن کوشش کی تھی۔۔
بچ نکلنے کی،، گریز کی،،، اپنا دامن انگاروں سے نہ بھرنے کی۔۔

نیناں پرسکون کرسی پر بیٹھی تھی۔۔مگر اب ٹھنڈ بھی محسوس ہو رہی تھی سو دوپٹہ پھیلا کر اوڑھ لیا۔۔وہ اس بات پر خوش تھی کہ بچ نکلی تھی۔۔۔مگر

تبھی وہاں ایک شخص آتا دیکھائی دیا۔۔ظہان ربیع کو منع کرتا خود اسے دیکھنے چلا آیا تھا ۔کچن سے باہر لان میں نظر پڑی تو ادھر چلا آیا۔۔

آپ لگتا ہے پاکستان کی ملتان یا سبی کی پیداوار ہیں،،، ظہان نے آتے ہی شوشا چھوڑا۔۔وہ بے تحاشا چونکی اور اس کی بے تکی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔

Meaning,,,,,,,,,

مطلب آپ گرمی سے بہت زیادہ پریشان ہوں گی تبھی یہاں ٹھنڈ میں بڑے شوق سے اپنی قلفی جما رہی ہیں۔۔رائٹ۔۔

اب سمجھ آنے پر وہ مسکرائی تھی۔۔ کہہ بھی کیا سکتی تھی کہ کیوں بیٹھی تھی۔۔یہاں
جب کے اس منظر نے ایک دل کو جل بھن کر کباب کیا تھا۔۔

چلیں میں تو گرمی سے پریشان ہوں،، آپ کو کس نے کہا سردی میں باہر آنے کا۔۔

پری خالہ نے بلایا ہے آپ کو کھانے پہ،، اب جلدی چلیں کبھی آپ کے چکر میں میں بھی شہید ہو جاؤں،، وہ ٹھٹھرا
نیناں پھر مسکرائی۔۔

مگر اندر جانے کے نام پہ پھر سانس اٹکی،،

Continue.………………..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺