Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

ساتھی میرے خلوص کی شدت تو دیکھ تُو
پھر آ گیا ہوں ،،،،،،،،،گردشِ دوراں کو ٹال کر

وہ کھڑکی پھلانگ کر اندر داخل ہوا تھا جہاں بیڈ پر اس کی زندگی میٹھی نیند سو رہی تھی۔۔
وہ بیڈ کے قریب آیا۔۔

نیند میں بھی اریش کی کمرے میں موجودگی شاید وہ محسوس کر چکی تھی تبھی بے چین سی ہو کر کمفرٹر ہاتھوں میں دبوچا۔۔

وہ اس کے پاس بیٹھا۔۔۔چہرہ اس کے چہرے کے قریب تر لایا ،،،
بہت قریب،،،
پھر گردن پر دہکتا لمس چھوڑا۔اور اس پر حاوی ہوا۔۔۔مطی نیند میں مچلی نیند سے جاگ کر خوف سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے اوپر اس وجود کو دیکھا۔۔

جو اب دیوانہ وار جھک کر اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے پیاسے لبوں سے چھو رہا تھا۔۔
مطی کا پورا جسم جیسے پیرالائز ہوا تھا ۔۔وہ اپنا پورا زور لگا کر بھی ہل نہیں پا رہی تھی۔۔اسے خود سے پرے جھٹک کر اسے دور نہیں دھکیل پا رہی تھی۔۔

جو اب اس کی گردن کے قریب جھک کر کان میں سرسراتے لہجے میں بولا۔۔
میری بیری میں آ گیا۔۔۔

مطی کی چیخوں کی آواز سن کر شاہ زر اور حبہ اس کے روم میں آئے تھے۔۔جو سوتے میں بری طرح چیخنے چلانے میں مصروف تھی۔۔
شاہ زر دوڑ کر اس قریب آیا اور اسے کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑا۔۔
مطی،،، میری پرنسز،،،، کیا ہوا۔۔

تبھی پسینے میں نہائی مطربہ کی بے تحاشا روتے ہوئے آنکھ کھلی تھی۔۔
ڈیڈ،،، وہ چیخ مارتی شاہ زر سے لپٹی۔۔اور بے تحاشا رو دی۔۔
یہی تو ہو رہا تھا اس کے ساتھ وہ بے وفا شخص نائٹ مئیر بن چکا تھا اس کے لئے۔۔

روز خواب میں ڈرتی۔۔۔کبھی سلیپ پیرالائز، ہو جاتا۔۔مگر روز اسلامی طریقے کے مطابق خواب کے اثر کو زائل کرنے کے لئے تین بار تعوذ پڑھ کر شیطان کو دھتکار دیتی۔۔۔

مگر آج جبکہ فجر کی اذانوں کا وقت تھا،، مسجدوں سے پاک پکار سنائی دے رہی تھی۔۔۔
آج تو وہ اس قدر ڈری تھی کہ خواب کا اثر زائل کرنے کے لئے دعا بھی پڑھنا بھول گئی تھی۔۔۔

ڈیڈ وہ آ گیا ڈیڈ،،،،، یہ،، ونڈو،،، یہ بند کروا دیں ڈیڈ،،، مجھے نہیں چاہیے ڈیڈ،، وہ آ جائے گا یہاں سے،، میرے پاس آ جائے گا ڈیڈ،،، میں مر جاؤں گی،،

شاہ زر یہ کیا بول رہی ہے کون آ جائے گا،،، حبہ اس کی حالت دیکھ کر رو پڑی اور جھنجھلا کر پوچھ بیٹھی۔۔

پلیز حبہ تم تو خاموش رہو ،،،،وہ خواب میں ڈر گئی ہے ،،،جانے کیسا خواب ہوگا۔۔شاہ زر نے حبہ کو خاموش کروایا۔۔

پرنسز کوئی نہیں آئے گا چپ کرو تم،،، کوئی نہیں ہے،،، کسی کی اتنی جرات نہیں یہاں آئے،،،،
Don’t cry my child….

شاہ زر نے بہت مشکل سے اپنی گڑیا کو سنبھالا تھا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے
گر حرفِ خطا ہوں، تو مٹا کیوں نہیں دیتے
سایہ ہوں تو پھر ساتھ نا رکھنے کا سبب کیا
پتھر ہوں تو رستے سے ہٹا کیوں نہیں دیتے
رہزن ہو تو پھر،،،، شوق سے لوٹو میری دنیا
رہبر ہو تو پھر گھر کا پتہ کیوں نہیں دیتے

نیناں نڈھال سی بیڈ پر لیٹی تھی اور روپ اس کے سرہانے بیٹھی تھی جب پلوشہ اور شاہ ویر پریشانی کے عالم میں اندر داخل ہوئے۔۔

صبح صبح آئے روپ کے فون نے انھیں ہلایا تھا۔۔اور اب نیناں کی یہ حالت دیکھ کر وہ سچ مچ پریشان ہوئے تھے۔۔
گلے پر سرخ نشان،،، پٹرول کی پھیلی بدبو،،، سرخ کلائی پر انگلیوں کے نشان،،،
شاہ ویر اور پری کو اپنے بیٹے سے اس پاگل پن کی توقع نہیں تھی جبکہ روپ تو کچھ اور ہی سمجھ کر دہل رہی تھی۔۔۔

وہ اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگے کیونکہ وہ غنودگی میں تھی۔۔

کچھ دیر بعد اسے ہوش آیا تھا۔۔تو وہ سنجیدگی سے اٹھ کر بیٹھی گئی۔۔

بیٹا بلا جھجھک بتاؤ،،، جونیئر نے کیا کیا تمھارے ساتھ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا،، تمھاری یہ حالت کیسے ہوئی،،،، پلوشہ نے اس کے پاس بیٹھ کر پوچھا۔۔

اب وہ کیا بتاتی،،، اسے کوئی گلہ نہیں تھا ،،،آخر اپنا ہی بویا کاٹ رہی تھی،،، اپنا ہی کیا بھگت رہی تھی۔۔۔
مگر پھر بھی ان سب کی تسلی کے لئے سب کچھ بتاتی چلی گئی۔۔
وہ مم،،،، میری ہی غلطی تھی،، منع کیا تھا تو مجھے نہیں جانا چاہئے تھا باہر،،، وہ نظریں جھکا کر بولی،،

پلوشہ کو اب غصہ آنے لگا تھا شاہ زل پر،،، لڑکی کے ساتھ یہ سلوک کرنا تو نہیں سکھایا تھا اس نے اپنے بیٹے کو۔۔
شاہ ویر مگر پری کو مکمل آبزرو کر چکا تھا۔۔

روپ دادو میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔۔وہ کہہ کر سر جھکائے اپنے روم میں جا چکی تھی۔۔

شاہ ویر اور پلوشہ واپسی کے لئے نکلے۔۔
شاہ ویر نے پری کی خاموشی نوٹ کی۔۔

کیا بات ہے پری،،، اتنی خاموش کیوں ہو،،،؟

آپ کو نہیں لگتا شاہ،،، آپ کا بیٹا کچھ زیادہ ری ایکٹ کر رہا ہے،،،

پری کی بات پر شاہ ویر نے ہنسی دبانے کے لئے دانتوں تلے لب دبایا۔۔وہ میرا بیٹا ہے پری اسی لئے زیادہ ری ایکٹ کر رہا ہے۔۔شاہ ویر نے میرا پر زور دے کر کہا۔۔

جی جانتی ہوں غصیلے سلطانز،،، جنون تو ورثہ میں ملا ہے اور پاگل پن گھٹی میں،،، پری جل کر بولی

شاہ ویر ہنس پڑا۔۔۔

مگر گھر پہنچے تو ایک نیا شوشا تیار کر رکھا تھا انھیں کہ سپوت نے۔۔
اب وہ ان کے سامنے بیٹھا بڑی لاپروائی سے اپنی اور مطی کی انگیجمنٹ کا ڈرامہ رچانے کو بول رہا تھا اور وہ بھی آج ہی۔۔

شاہ زل تم پاگل،،،،

یس مما ہو گیا ہوں پاگل،،، لیکن اگر اس پاگل پن سے مطی اور چھوٹی ممی میں سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے تو میں یہ پاگل پن کرنے کو تیار ہوں،،، وہ سکون سے بولا۔۔
شاہ ویر نے بیٹے کو غور سے دیکھا۔۔

اسے چھوڑو اپنی آج کی بدسلوکی کی وضاحت دو ویر جو تم نے آج اس لڑکی،،،،

پلیز مما ،،،،میں آج اس ٹاپک پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا،، ائم سوری نا میں وضاحت دونگا۔۔ وہ نظریں چرا کر بولا۔۔

پری غصے میں واک آؤٹ کر گئی۔۔شاہ زل نے بے بسی سے لب بھینچے۔۔

جونئیر یہ سب،،،،، شاہ ویر نے بات ادھوری چھوڑی۔۔

مطی کے لئے ڈیڈ،،، وہ،،،،

او کم آن جونیئر،، مجھ سے تم یہ تب کہتے اگر میں تمھیں جانتا نہیں ۔۔یہ سب اسے ٹارچر کرنے کے لئے کر رہے ہو،،، رائٹ،،، وہ سنجیدگی سے بولا۔۔

شی ڈیزرو،،،، ڈیڈ،،،

جان لو جونئیر،،، آگ کا دریا ہے،،، جتنا اسے ٹارچر کرو گے خود بھی اتنا ہی تڑپو گے اتنی ہی تکلیف اٹھاؤ گے تو اچھا ہوگا اسے تکلیف دینے سے باز رہو۔۔

بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی ڈیڈ فی الحال وہی کریں،، جو میں نے کہا ہے۔۔۔وہ کہتا کمرے سے جا چکا۔۔
شاہ ویر نے اپنی کنپٹیان سہلائیں۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

لندن کے اس کلب میں رات کے اس عجیب بے ہودگی کا علم تھا ۔۔
اریش بڑی مشکل سے بیٹھا یہ برداشت کر رہا تھا۔۔

لڑکیاں نیم برہنہ حالت میں سرو کر رہی تھیں۔۔
جولی زبیر اور ان کے وہ شیخ کسٹمرز جشن منا رہے تھے کیونکہ پاکستان سے ان کی کنسائمنٹ جلد ہی آنے والی تھی جس کا کروڑوں کا ودا وہ کر چکے تھے۔۔

اریش کا بس چلتا تو ابھی کہ ابھی ان فرعون میاں بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیتا جو سامنے بیٹھے اب شراب پی رہے تھے۔۔

وہ بھی بظاہر انجوائے کر رہا تھا۔۔ جب پارکر اس کے قریب آ کر بیٹھا۔۔۔

پارکر کو اس کی بکھری حالت تکلیف دیتی تھی۔۔
سر آپ میم کے پاس کب جائیں گے،،،؟ پارکر نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔۔

اس ناگن کا سر کچل کر ،،،،،،جولی کی طرف اشارہ کیا،،، اور اس راون کی لنکا کو جلا کر بھسم کرنے کے بعد ،،زبیر کو نفرت سے گھورا۔۔پھر ہی اپنی جان کے پاس جاؤں گا کہ اس کی نازک جان کو پھر ایک آنچ بھی نا پہنچے،،

سر آپ نے پتہ کیا وہ کہاں ہیں،،،، ؟

ہہممم جانتا ہوں،،، وہ مبہم سا بولا۔

کدھر ہیں،،، پارکر کو تجسس ہوا۔۔۔

پاکستان میں ہی ہے،،، شاہ زر سلطان کے پاس ہے میری امانت،، ڈیم شیور کے وہ سنبھال کر رکھے اسے،،،

پارکر اپنے سر کا مزاق سمجھ کو مسکرایا۔۔

سر لینا میم کا کوئی اتہ پتہ،،،

ہاں جینیفر سے پوچھا تھا وہ ویر سلطان کی فیملی کے پاس ہی ہے یعنی میری بیری کے پاس،، وہ خواہ مخواہ خوش ہوا۔۔

آپ نے کیوں نہیں کونٹیکٹ کیا؟

اب کی بار ہر چھوٹی سی چھوٹی بات میں ہم ان سے فئیر رہنا چاہتے ہیں پارکر،،، کل کو انھیں یہ نا لگے کہ لینا نے بتایا مجھے بیری کا۔۔یا وہ کسی بھی چیز میں انوالو رہی ہے۔۔اریش اس کی الجھن دور کی۔۔

سر آپ میم کے لئے اتنا تڑپ رہے ہیں اگر وہ آپ سے اتنا ناراض ہوئیں کے ساتھ آنے سے انکار کر دیا تو،،،؟

وہ دھیما سا مسکرایا۔۔۔اب کی بار اسے میرے پاس آنا ہوگا چاہے اس کی مرضی ہو نا ہو،،، پارکر،، میں نے جو پلین کر رکھا ہے،، اب وہی ہوگا۔۔بس میں اور وہ،،، اور کوئی نہیں،، اور ناراض تو ہوگی،،، مجھ سے نفرت بھی کرے گی،، مگر میں منا لوں گا،،، اس کی نفرت محبت میں بدل دوں گا،، اس کی سانسوں کو بھی میرا پابند ہونا ہوگا اب ۔۔۔وہ لاپروائی سے بولا۔۔۔

وہ بہت دھیمے لہجے میں بول رہا تھا۔۔ اب تک وہ بہت کچھ ایسا کر چکا تھا جو جولی کو کم از کم پھانسی کے پھندے تک پہنچانے کو کافی تھا۔۔
اب زبیر کی باری تھی اسے اس کی کنڈلی نکلوانی تھی جس کی شروعات انڈیا سے کرنی تھی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

رات کے آٹھ بجے تھے جب روپ سجی سنوری سی اس کے روم میں آئی تھی۔۔

بیٹا کیسی طبیعت ہے تمھاری ،،انھوں نرمی سے پوچھا ۔۔۔

ٹھیک ہوں دادو،،، بہتر ہوں،، آپ کہیں جا رہی ہیں۔۔نیناں نے پوچھا۔

ہاں سلطان مینشن جا رہی ہوں۔۔ جلدی سے تیار ہو جاؤ تم بھی چل رہی ہو،، روپ اس کے ڈریسنگ کی طرف بڑھی۔۔نیناں کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی۔۔

مگر دادو،،،،

ویر کی ٹینشن مت لو آج خود اس نے پرمیشن دی ہے تمھیں سلطان مینشن آنے کی،،، آج اتنا بڑا دن جو ہے،، پگلا خوش ہوگا،، آخر بچپن کی دوستی ہے،،،

نیناں نے الجھن اور حیرت بھری نگاہوں سے روپ کو دیکھا۔۔۔یہ بات ہضم کرنا زرا مشکل تھی کہ اسے ویر نے اجازت سی تھی۔۔

اففف میں بھی کیا بولے جا رہی ہوں،،، تمھیں تھوڑی سمجھ آ رہی ہو گی،،، آج ویر اور مطی کی انگیجمنٹ ہے،، جلدی سے ریڈی ہو جاؤ۔۔

نیناں نے خالی خالی نگاہوں سے روپ کو دیکھا۔۔حاتم مینشن کی دیواریں اس کے سر پہ گری تھیں۔۔
جیسے مطی کو نہیں معلوم تھا کہ نیناں اریش کی بہن ہے ویسے نیناں کو بھی اریش نے نکاح کے بارے میں بے خبر رکھا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ دادو،،، مم،، میری اتنی بھی طب،،،، طبعیت ٹھیک نہیں ،،وہ میں،، گلے میں پھندہ لگ کیا تھا الفاظ گلے میں اٹکے۔۔

لو ابھی تو تم کہہ رہی تھی بہتر ہو،، ویر کے خیال سے منع مت کرو،،، اور پرامس اگر تم کمفرٹیبل نہیں رہی تو میں ڈرائیور کے ساتھ تمھیں اسی وقت واپس بھیج دوں گی۔۔
روپ نے ایک بلیک ڈریس نکال کر اس کے آگے بڑھایا۔۔

اس نے سیاہ لباس کو دیکھا اور اپنے سیاہ پڑتے مقدر کو،،، آج کی نسبت سے یہ سیاہ(ماتم) رنگ خوب ہی حصے میں آیا تھا اس کے۔۔
وہ خود کو گھسیٹتی اٹھی۔۔۔

چینج کر کے باہر آئی۔۔آئینہ میں خود کو دیکھا۔۔بلیک فراک بلیک چوڑی دار پاجامہ اور بڑا سا باریک سیاہ دوپٹہ،،

اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں آؤں،، تو میں آؤں گی،، اگر مجھے تڑپا کر آپ کو سکون ملے گا تو یہ تڑپ سر آنکھوں پر،،، اگر مجھے خون روتے دیکھ آپ کے دل کی آگ پر ٹھنڈے چھینٹے پڑے گیں تو سودا مہنگا نہیں شاہ زل سلطان،،،،
وہ دل میں اس ستمگر سے مخاطب تھی۔۔
چلو نیناں درانی اپنا ضبط آزماتے ہیں،،،

ہلکی سی گلوز لگا کر باہر آئی۔۔اور چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔

خدا نہ کرے کہ آپ کی نبض کِسی کی مُٹھی میں ہو اور اُسے اِس بات سے فرق ہی نہ پڑتا ہو کہ اِس کی رفتار کیا ہے؟
مدھم ہے، چل رہی ہے یا بند ہونے کو ہے،،،،،

تم ہو گاڑی میں سے تکتی ہوئ آنکھیں میرے دوست
میں وہ منظر ہوں،،،،،،،،، جو پیچھے کہیں رہ جاتا ہے

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سلطان مینشن میں کافی رونق تھی۔۔
حرم سہانا اور ربیع کو تیار ہونے کا بول کر باہر کچن میں گئی تھی۔۔

ربیع اور سہانا کا ایک جیسا ڈریس تھا بس کلر مختلف تھے۔۔لونگ فراکس تھیں۔۔ربیع تیار ہوئی۔۔سہانا نے مدد کی ۔۔مگر جب وہ فریش ہو کر باہر آئی تو ربیع میڈم گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تھی۔۔

اس نے ہلکا سا میک تو کر لیا۔۔مگر

اب مسئلہ پچھلے گلے کی ڈوری کا تھا ۔۔جس کے ساتھ وہ کافی گھل چکی تھی مگر اسے باندھ نہیں پائی تھی۔۔
پھر حرم کے انتظار میں وہیں بیٹھ گئی۔۔

اس دن کا اپنے کمرے سے بہت کم نکلی تھی وہ۔۔۔
یہ سوچ شدید تکلیف کا باعث بنی تھی کہ سہانا کے قریب آنا وہ خود کے لئے اور سہانا کے لئے ایک سزا سمجھتا ہے۔۔
کئی مرتبہ اسی خیال سے رو بھی چکی تھی۔۔

باہر لاؤنج میں کافی گہما گہمی تھی۔۔سب موجود تھے۔۔حبہ کافی خوش تھی اور شاہزر اور مطی سے بات چیت بھی کر رہی تھی۔۔
مطی نے لائٹ براؤن میکسی پہنی ہوئی تھی اور بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔

جونیئر خاموشی سے صوفے پر بیٹھا موبائل میں مصروف تھا۔گرے تھری پیس میں بے تحاشا ہینڈسم لگ رہا تھا۔جب جانی پہچانی آہٹ سی محسوس ہوئی۔۔اس نے ایک غلط نگاہ اٹھا کر سامنے دیکھا۔۔

لاؤنج کے دروازے سے روپ اور نیناں اندر داخل ہوئے تھے۔۔
بلیک ڈریس میں جانے کیوں پر سب کو وہ سوگوار سی لگی۔۔آج مطی نے بھی بغور اسے دیکھا تھا۔۔روپ ان دونوں کے پاس چلی آئی جبکہ وہ پری کے پاس بیٹھ گئی۔۔
ظہان نے حور سے اس بلیک ڈریس والی کو دیکھا۔۔اور ان کے پاس چلا آیا۔۔
دوسرے صوفے پر بیٹھ کر پری اور نیناں سے باتیں کرنے لگا۔۔

اب سب موجود تھے۔۔حرم نے ادھر ادھر دیکھا۔۔

شاہ زین جاؤ سہانا کو بلا لاؤ،،، حرم نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتا اس کے روم کی جانب آیا۔۔

اس دن سے کم ہی سامنا ہوا تھا سہانا بےبی کا اس سے۔۔یہ بھی مسئلہ تھا۔۔۔اس کی دھڑکنوں کو پور پور جگہ کر میڈم جانے کیوں اب چھپتی پھر رہی تھی۔۔

وہ روم میں داخل ہوا تو بھنا اٹھا۔۔۔

آہٹ پا کر سہانا بیڈ سے اٹھی،،، حرم مما یہ،،،،،، مگر پیچھے مڑ کر دیکھا تو سانس اٹک گئی،، لپک کر دوپٹہ اٹھایا۔۔

یہ کیا بے ہودگی ہے۔۔۔؟ وہ غرایا،،، ڈوری کھلی ہونے کے باعث پچھلا گلا کافی گہرا لگ رہا تھا۔۔
وہ بے اختیار دیوار سے لگی۔۔

وہ ،،،یہ ،،،حرم مما نے لے کر دیا ہے،، وہ دھیمے سے نگاہیں جھکا کر بولی۔۔تب اس نے غور کیا کہ ربیع نے بھی ایسا ہی ڈریس پہنا ہے۔۔وہ سنجیدہ سا قریب آیا۔۔
براؤن ٹو پیس میں ظالم بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔اب وہ سہانا کے بلکل رو برو تھا۔۔
سہانا کا سانس اٹکا۔۔

جب شاہ زین نے اس کی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر خود کے قریب گیا۔۔سہانا کا چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا۔۔ مگر اس نے کمر کے پیچھے سے ہاتھ لے جا کر ڈوری تھامی۔۔
الائچی کی دلفریب مہک سہانا کی سانسوں سے ٹکرائی۔۔شاہ زین کی انگلیوں نے اسکی کمر کو ٹچ کیا۔۔
مردانہ کلون کی خوشبو حواسوں پر سوار ہوئی۔۔

ادھر وہ بھی تو اسے مبہوت سا دیکھے جا رہا تھا جو ہلکے میک میں نک سک سی تیار ہوئی اس کا دل دھڑکا گئی تھی۔۔
وہ ڈوری باندھ کر فوراََ پیچھے ہٹا۔۔

چلو باہر سب ویٹ کر رہے ہیں،،، وہ اس کے گداز وجود سے نظریں چرا کر باہر جا چکا تھا۔۔
وہ پھر اسے اس کی بے رخی اور ناراضگی ہی سمجھ کر اداس ہو گئی۔۔
اور باہر آئی۔۔

باہر آئی تو سب اسی کا ویٹ کر رہے تھے۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ایک قیامت خیز سا منظر تھا۔۔ شاہ زل نے مطی کو رنگ پہنائی تھی۔۔

نیناں کی نگاہوں کے سامنے سمندر کنارے کا ایک منظر لہرایا۔۔
جب
وہ دونوں سمندر کنارے پتھروں پر بیٹھے تھے۔۔

ہیے تمھیں پتہ ہے آج میں تمھارے لئے کچھ لایا ہوں،،
نیناں نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔۔
تب وہ اپنی پاکٹیں کنگھالنے لگا۔۔

اوہہہہہہ مجھے لگتا ہے میں نے وہ چیز گم کر دی۔۔۔اس نے افسوس سے کہا۔۔مگر آنکھوں میں شرارت تھی۔۔
نیناں کا منہ لٹک گیا۔۔تب وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔۔

ویسے تم منہ لٹکاتی بلکل سڑی جلیبی لگتی ہوں،، نیناں کی آنکھیں صدمے سے پھٹی۔۔وہ غصے میں اٹھ کر جانے لگی۔
جب بے اختیار ویر نے اٹھ کر اس کا ہاتھ تھاما تو وہ توازن برقرار نا رکھ پائی
اور اس کے کشادہ سینے سے ٹکرائی تھی۔۔

دونوں کے دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہوئی تھیں وہ بہت قریب تھی جب ویر نے ہاتھ تھام کر اس کی انگلی میں وہ رنگ پہنائی تھی۔۔
اس کے بعد نیناں کے کچن میں بھی اس نے دوبارہ اس کے دوسرے ہاتھ میں رنگ پہنا کر یورپ کی کس والی رسم کا کہہ کر اسے چھیڑا تھا۔۔

حال تالیوں سے گونجا تو وہ فلیش بیک سے نکلی تھی۔۔
آنکھوں میں ایک سمندر اکٹھا ہونے لگا تھا۔۔

ویر نے مطی کو رنگ پہنا کر ایک نظر اس سیاہ لباس والی کو دیکھا

میں دل پہ جبر کروں گا ،،،،،تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سز دوں گا

ایک نظر پاس بیٹھی مطربہ شاہزر سلطان کے سوگوار چہرے کو دیکھا۔۔

وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
پرانی قبر پہ کتبہ،،،،،،،،، نیا لگا دوں گا

نیناں کو بظاہر اتنے سکون سے بیٹھے دیکھ ویر نے بری طرح پہلو بدلا۔۔مطی نے ایک نظر نیناں کا خون نچڑا چہرہ دیکھا اور صوفے پر مزید ویر کے قریب کھسک آئی۔۔

وہ تو پہلے سے ہی انگارے چبا رہا تھا،، جھٹپٹایا۔۔

واٹس پرابلم ود یو چھٹکی،،،،؟ وہ دانت پیس کر مگر دھیمے سے غرایا ۔۔

اووو ڈریمون بےبی کا یہ رِنگ والا گیجڈ کام نہیں کر رہا ،،سو سیڈ،،، اس نے صاف مزاق اڑا کر حساب بے باک کیا۔۔

ادھر نیناں نے پہلو بدلہ،،،
سانسوں میں جلن سینے میں طوفان سا کیوں ہے
اس شہر میں ہر شخص،،،،،،،،پریشان سا کیوں ہے
اندر کی جلن نے پورا جسم پھونک ڈالا تھا،، تبھی بخار نے شدت اختیار کی۔۔وہ اٹھ کر روپ کے پاس گئی۔۔

رستے میں ظہان نے روک لیا۔۔
میرا خیال آپ کی طبعیت ٹھیک نہیں،، آپ کا چہرہ بہت سرخ ہو رہا ہے،،، ٹمپریچر ہے آپ کو،،، وہ قریب کھڑا تفکر سے پوچھ رہا تھا اور اس منظر نے کسی کا خون ابالا تھا۔۔

جی،، نیناں نے مختصر جواب دیا اور اگنور کر کے روپ کے پاس چلی گئی وہ بھی پیچھے ہی گیا۔۔۔

روپ دادو میری طبعیت ٹھیک نہیں۔۔۔اس سے کھڑے ہونا مشکل ہو گیا تھا۔۔
روپ پریشان ہوئی۔۔
چلو بیٹا گھر چلتے ہیں مجھے تو خیال ہی نہیں آیا۔۔
تبھی پری قریب آئی۔۔

روپ مما مگر کھانا تو کھا لیں تھوڑا سا،،، نیناں بھی کھا لے گی،، اور جا کر بس میڈیسن لے کر سو جائے گی۔۔

نو،،، مما پلیز،،، مجھے نہیں کھانا،،، نیناں نے نڈھال سا کہا۔۔

پگلی ہو بلکل چلو آؤ،،، اسے ڈائیننگ ٹیبل پر بٹھا کر روپ بھی اس کے قریب بیٹھ گئی۔۔

ہم بعد میں کھا لیں گے ۔۔

خالہ مجھے بھی شدید بھوک لگی ہے مجھے بھی ابھی دے دیں کھانا۔۔ویسے بھی میں روپ دادو کے ساتھ انھیں گھر تک چھوڑنے جانے والا ہوں ،،ظہان نے نیناں کو فوکس کرتے بولا۔۔

پری نے اثبات میں سر ہلا کر کھانا سرو کر دیا۔۔ظہان بار بار روپ اور نیناں کو گے۔۔
اٹھا کر دے رہا تھا ۔۔نیناں نا انکار کر رہی تھی نا اقرار بس اس کے ہاتھ سے ڈش لے کر ٹیبل پر رکھ دیتی۔۔

شاہ ویر سلطان کب سے صوفے پر بیٹھا اپنے بچوں کے تماشے ملاحظہ فرما رہا تھا اب بھی بیٹے کی ڈائننگ ٹیبل کی طرف اٹھتی وقتاً فوقتاً خونخوار نگاہ شاہ ویر سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔۔

کہا بھی تو مت کھیلو آگ سے اپنے ہاتھ اور دامن بھی نہیں بچا پاؤ گے۔۔

روپ نے کھانا کھایا،،، نیناں نے تو چند نوالے ہی زہر مار کیے تھے۔۔آنسؤؤں کا پھندہ گلے میں اٹکا ہوا تھا کھانا کیسے نیچے اترتا۔۔

کھانا کھا کر وہ نکلے تھے۔۔ ظہان بھی ان کے ساتھ تھا۔۔

تبھی شاہ زل بھی سب سے نظر بچا کر وہاں سے اپنی ہیوی بائیک پر آگ بنا ان کے پیچھے ہی نکلا تھا۔۔
شاہ ویر کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے۔۔

پتا نہیں اب کیا قہر ڈھانے نکلا تھا۔۔

Continue,,,,,,,,,,,,,

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺