Rate this Novel
Episode 30
تیری جدائی بھی جو اک عزاب ہوتی ہے
عزاب جیسی کوئی چیز اور بھی تو نہیں
تجھے میں چھوڑ کے جاؤں کہاں زمانے میں
جناب جیسی کوئی چیز اور بھی تو نہیں
پوری رات کے سفر کے بعد قریباً آٹھ گھنٹوں بعد اس نے لندن کی سرزمین پر دوبارہ قدم رکھا تھا۔۔
اب اپنے خاندان کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔۔
تئیس سال پہلے اس کے باپ نے قربانی دی تھی تو وہ بھی تو انھیں کا خون تھی،،، کیوں پیچھے ہٹتی۔۔۔
مگر فرق اتنا تھا یہاں سے گئی لینا زبیر تھی۔۔مگر جو لوٹ کر آئی تھی وہ نیناں شاہ زل سلطان تھی۔۔۔
شاہ زل سلطان کی بیوی،،، سلطانز کی بیٹی۔۔۔
ائیرپورٹ سے باہر نکلی تو سامنے ہی ایک ریڈ کلر کی گاڑی تھی جس میں اسے بیٹھنے کو بولا گیا تھا۔۔
وہ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔
گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دوان تھی۔۔
رستہ جانا پہچانا تھا،، یہ جولی کا وہ بہت پرانا فارم ہاؤس تھا جہاں وہ بچپن میں کبھی جاتے تھے۔۔
یعنی وہ زلیل عورت اس پرانے ٹھکانے پر رکی تھی۔۔
فارم ہاوس میں گاڑی داخل ہوئی تو اس کے سر پر گن تان کر اسے گاڑی سے باہر نکالا گیا۔۔
پھر اس کی چیکنگ کی گئی۔۔
اور اسے اندر لے کر جایا گیا۔۔
اندر فارم ہاؤس میں کوئی نہیں تھا۔۔اسے کرسی سے بہت بری طرح رسیوں سے جکڑ کر باندھا گیا تھا۔۔
ہیے یو بلاؤ اس بچ کو،،،، کہاں ہے مطربہ،،، چھوڑو مجھے،،، وہ بری طرح چلائی۔۔
مگر وہ اسے وہاں باندھ کر بند کر کے جا چکے تھے۔۔گھپ اندھیرا،،، اکیلی نیناں اس نے دل کی گہرائیوں سے الله تعالیٰ کے بعد اپنے محافظ کو پکارا۔۔
کیونکہ وہ بہت بری طرح ٹریپ ہو چکی تھی۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رات کو سہانا ربیع کے پاس سے اٹھ کر کافی لیٹ روم آئی تھی۔۔
مڑ کر ڈور لاک کیا۔۔
کافی تھک چکی تھی۔۔کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا،،صرف زیرو پاور کی لائٹ کمرے میں پھیلی تھی۔۔، وہ آ کر بیڈ پر ڈھے گئی،،
دوپٹہ گلے سے نکال کر سائیڈ پر رکھا۔۔
جب بیڈ پر کسی اور وجود کی موجودگی کا احساس ہوا تو رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔۔
بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کر لیمپ جلانا چاہا مگر اس سے بھی زیادہ تیزی سے کسی نے اس پر حاوی ہو کر اس کا چیخنے کو کھلتا منہ بند کیا تھا۔۔
کوشش بھی مت کرنا سہانا بےبی،،، جانی پہچانی سانسوں کی خوشبو سانسوں سے ٹکرائی تو وہ بری طرح چونکی۔۔
شاہ زین نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا،،، اس نے برا سا منہ بنایا۔۔
اور چہرے دائیں طرف موڑ لیا،،،
ناراضگی کے اظہار کے طور پر۔۔
آپ کیوں آئے میرے روم میں،،، اور میرے بیڈ پر بھی لیٹ گئے،، کیوں،، یہ میرا روم اور میرا بیڈ ہے،، وہ منہ پھلا کر بولی ۔
شاہ زین نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔۔ تو تمھیں یہ شکایت ہے چلو جلد ہی کچھ ایسا انتظام کر دوں گا کہ یہ ہمارا روم اور ہمارا بیڈ بن جائے،،، وہ شرارت سے بولا،، ڈمپل گہرا ہوا۔۔
سہانا نے چور نگاہوں سے اس ڈمپل کو دیکھا۔۔
مگر شاہ زین نے اس کی یہ چوری پکڑ لی۔۔قریب جو تھا۔۔
ویسے میں یہ ڈمپل دیکھنے کا کوئی ٹکٹ نہیں لیتا،،، تم ڈائریکٹ بھی دیکھ سکتی ہو اسے،،،
وہ ایک کہنی اس کے تکیے پر ٹکائے سر کو اس ہاتھ سے سہارا دئیے دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر رکھے دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
اونہہہہ ،،، یہ ڈمپل ہی ڈھنگ کی چیز ہے آپ کے پاس جس کی نمائش کرتے رہتے ہیں آپ،،، اتنا بھی پسند نہیں مجھے،،، وہ لاپروائی سے بولی۔۔
آں،،،، ہاں،،، حالانکہ کسی نے مجھے کہا تھا دنیا میں اس ڈمپل سے زیادہ میجیکل سین اس نے کہیں نہیں دیکھا،،، وہ بھی کہاں بخشنے والا تھا۔۔
آپ پرانی باتیں بھول کیوں نہیں جاتے،،وہ خفت کے مارے جھنجھلائی۔۔
تو مجھے کوئی نئی باتیں سناؤ گی تو پرانی بھولوں گا نا سہانا بےبی۔۔
خبردار جو مجھے بےبی کہا آپ نے،، وہ بھنا کر بولی۔۔
کہوں گا،،، بلکہ میں تو اپنے بچوں کو بھی بتاؤں گا کہ سہانا میری بےبی ہے،،، وہ بے حد شرارت سے بولا۔۔
ہیں،،،، کدھر ہیں آپ کے بچے،،، وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھتی بولی۔۔
آ جائیں گے جلد ہی،،، پہلے ان کا ڈیڈ ان کی ممی کو منا تو لے،، شاہ زین نے اپنے دہکتے لب سہانا کی شہہ رگ پر رکھے تھے۔۔
میں مان گئی ہوں اب آپ جائیں مہربانی فرما کر،، سہانا نے اپنی پاگل ہوتی دھڑکنوں پہ قابو پاتے بمشکل بولا۔۔
مگر شاہ زین نے اس کے نرم وگداز لبوں پر جھک کر محبت کو خراج بخشا تھا۔۔
لمس میں نرمی اور محبت تھی۔۔
سہانا نے اس کی گردن کے گرد بازو، لپٹائے۔۔۔خود سپردگی کا عالم تھا اور لمحے فسوں خیز۔۔
وہ نرمی سے پیچھے ہٹا،،، اور اس کا سرخ ٹماٹر چہرہ دیکھا۔۔
جائیں شاہ زین آپ،، اس نے ہاتھوں سے چہرے چھپایا اس کی پرتپش نگاہوں سے بچنے کے لئے۔۔
وہ اس ادا پر فدا ہوا۔۔زرا مشکل ہے وائفی،،،،سو جاؤ،،،
واٹ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ،،،،
شاہ زین مسکراتا سیدھا ہوا،، اور اس کا سر اپنے کشادہ سینے پر رکھا۔۔
سو جاؤ ،،،
مگر،،،
سو جاو سہانا بےبی کچھ نہیں کہوں گا،،، وہ شرارت سے بولا،، تو واقعی وہ دبک گئی۔۔
کچھ دیر بعد ہی نیند کی دیوی مہربان ہوئی تھی دونوں پر،،
دونوں کے چہروں پر بے حد سکون تھا،،
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
جولی پولیس سے چھپتے چھپاتے سارا دن گزار کر شام ڈھلنے کے بعد اس مقام تک پہنچی تھی،،، جہاں نیناں کو چھپایا گیا تھا۔۔
وہ وئیل چئیر گھسیٹتی اندر داخل ہوئی،،، مکروہ چہرے پر خباثت اور شیطانیت تھی۔۔
اس کے آدمی نیناں کے دائیں بائیں پھیل گئے۔۔جولی کے ساتھ چار شیخ بھی تھے جو کہ بہت گندی نگاہوں سے نیناں کو دیکھ رہے تھے۔۔
یو،،، بچ،، کدھر ہے مطربہ چھوڑو اسے،،، تم دھوکے باز مکار عورت،،، تم نے دھوکہ کیا میرے ساتھ،،، نیناں چلائی۔۔۔ مگر میں یہ کیسے بھول گئی کہ جو مکار اور غلیظ عورت اپنے سگے بیٹے کو دھوکہ دے سکتی ہے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔۔
او ہو لینا بےبی کیسے پھڑپھڑا رہی ہے ،،،ہاں میں نے دھوکہ کیا،،، مطربہ میرے پاس نہیں مگر کوئی بات نہیں ۔۔تم تو ہو،،،، مجھے یہ بات کیسے ہضم ہو جاتی کہ جسے میں نے اتنے سال سلطانز کے پاس نا جا نے دیا اب اسے سکون سے ان کا ہونے دوں گی۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔۔
تم ایک انتہائی گھٹیا اور زلیل عورت ہو جولی،،، عورت اور ماں کے نام پہ ایک دھبہ ہو،،، نیناں نے نفرت سے اسے گھورا۔۔
شٹ اپ،،،، چلو تمھیں ایک گڈ نیوز سناتی ہوں،،، یہ شیخ آج یہاں تمھاری عزت کا تماشہ لگائیں گے جس کی لائیو ویڈیو سلطانز کو دکھائی جائے گی ۔۔۔کیسا ہے آئیڈیا،،، جولی نے حقارت سے کہا۔۔
نیناں کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔۔۔
اپنی طرف بڑھتے ان شیطانوں کو دیکھ وہ زور زور سے چلائی۔۔
وہ شیطان اس کی جانب بڑھ رہے تھے جب فضا میں فائرنگ کی آواز گونجی تھی۔۔اور کئی شیطان اور نیناں کی جانب بڑھنے والے درندے جہنم رسید ہو کر زمین پر گرے،،
جولی نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے چاروں اور دیکھا،،، حرام خوروں جوابی فائرنگ کرو،،، وہ چلائی۔۔
نیناں نے نگاہ گھما پیچھے دیکھا تھا،،، جب شاہ زل سلطان موت کے فرشتے جیسے تیور لئے،،،، موت کا فرشتہ بنا ان سب شیطانوں کو موت کے گھاٹ اتار رہا تھا۔۔
اسے دیکھ جہاں نیناں کو روح تک میں سکون اترا،،، وہیں نئی فکریں بھی لاحق ہو گئیں ۔۔۔
چارون اور سے پولیس اور اسپیشل فورسز نے اندر داخل ہو کر مزاحمت کرنے والوں کو موت کی نیند سلایا تھا۔۔
مگر جو جنون سب شاہ زل سلطان کی نگاہوں اور عمل میں دیکھ رہے تھے ۔۔وہ دیکھ سب کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔۔
بہت اذیت ناک موت دے رہا تھا وہ ان درندوں کو۔۔۔
وہ نیناں کے قریب آیا۔۔اور اسے رسیوں سے کھولا۔۔۔
اے کون ہو تم،،، جولی کے کام میں مداخلت کرنے کی کس کی جرات ہوئی ہے،،، وہ غصے سے پاگل ہوتی پھنکاری۔۔جب نیناں کھل کر بے قراری سے اس کے سینے سے لپٹی تھی۔۔۔جس کی شکل اس کے سب سے بڑے دشمن سے ملتی جلتی تھی۔۔
پولیس اور فورسز کے اہلکاروں نے اس پاگل عورت کو حیرت سے دیکھا جو سامنے شکست ہوتی نظر آنے پر زخمی ناگن کی طرح پھنکار رہی تھی۔۔
ویر سلطان ہوں میں،،، جانتی تو ہو گی تم مجھے،،،،،اور یہ میری بانہوں میں نیناں ویر سلطان ہے،،، ویر نے سلطان پر زور دے کر حقارت سے کہا۔۔
اچھا اب آ گئے تو اسے زندہ واپس نہیں لے جا پاؤ گے،،، جولی نے اپنی گن نکال کر نیناں پر نشانہ لیا۔۔
مگر اس سے پہلے ویر سلطان کی گن سے نکلنے والے فائر نے اس کے غلیظ ماتھے میں سوراخ کیا تھا۔۔
نیناں نے ویر کے سینے میں منہ دیا،، کئی آنسو ٹوٹ کر ویر کے گریبان میں گرے۔۔
مگر ویر سلطان کا ہاتھ رکا نہیں تھا اس نے اپنی گن اس شیطان صفت عورت کے دماغ میں خالی کی تھی۔۔۔
شاہ زل نے کرنل وسیم سے بول کر لندن ہیڈ کوارٹرز سے رابطہ کیا تھا۔۔
جس سے انھیں وہاں کی سکیورٹی فورسز سے پروٹوکول ملا تھا۔۔
پارکر کو اس نے پولیس کو انفارم کرنے کو بولا تھا۔۔۔
جب نیناں ائیرپورٹ سے نکلی تو فورسز کے جوان اور پولیس اس کے ساتھ ساتھ تھی۔۔
کیونکہ نیناں کی تمام ڈیٹیلز فورسز اور پولیس کے پاس موجود تھیں۔۔
جب نیناں کو باندھا گیا تھا تب وہ پولیس اور فورسز کی نگرانی میں ہی تھی۔۔
انھیں انتظار تھا تو جولی اور اس کے کتوں کے آنے کا۔۔ نیناں کے تو چاروں اور وہ چھپ کر دشمن کے انتظار میں بیٹھے تھے۔۔
جب تک وہ آئے شاہ زل بھی لندن پہنچ کر پارکر کے ساتھ اس جگہ پر پہنچ چکا تھا۔۔
شاہ زل کا جو روپ نیناں نے دیکھا تھا اس سے وہ بہت خوفزدہ ہو چکی تھی۔۔مگر پاگل نہیں جانتی تھی،، ویر تو اس کی خود کی فکر میں وحشی اور پاگل ہو چکا تھا۔۔
سارا علاقہ کلئیر کر دیا گیا تھا۔۔وہ وہاں سے ہیڈ کوارٹرز گئے تھے۔۔شاہ زل نے چند ضروری کاغذی کارروائی نمٹائی۔۔
پھر بہت جلد وہ فری ہو کر نیناں کا ہاتھ تھامے باہر آیا تھا۔۔پارکر باہر موجود تھا گاڑی لے کر۔۔
سر یہ گاڑی آپ لے جا سکتے ہیں اس میں آپ کا بیگ بھی ہے۔۔
اوکے فائن،،، تھینکس،،، اور اپنے سر اریش کو بھی تھینکس بول دینا،،، ویر نے سنجیدگی سے کہا،،،
اور نیناں کے لئے فرنٹ ڈور کھولا،، وہ چپ چاپ بیٹھ گئی،،
خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی وہاں سے نکالی۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
یہ لندن کا ایک غیر معروف سا ہوٹل تھا جس میں وہ اسے لئے آیا تھا۔۔
ویر نے ہوٹل میں ایک روم بک کروایا تھا۔۔
یہاں رات کے دس بج چکے تھے۔۔
اندر آ کر سب سے پہلے اس نے کھانا آرڈر کیا تھا۔۔
ایک فیملی کیبن میں بیٹھ کر انھوں نے کھانا کھایا ،،، نیناں کے نوالے تو حلق میں اٹک رہے تھے،، ویر کے ماتھے کے بل دیکھ دیکھ کر۔۔۔
کھانا کھا کر وہ اس کا ہاتھ تھامے اب روم کی طرف جا رہا تھا۔۔
نیناں دھیمے قدموں،،، دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے پیچھے چل رہی جس نے اسی غصے سے بھرے چہرے سے اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا جس سے نیناں کی جان جاتی تھی۔۔
تنی رگیں،،، سرخ آنکھیں اور چہرہ اور مضبوطی سے تھاما اس کا ہاتھ۔۔
اوپر سے اس ہوٹل میں روم بھی ایک ہی بک کروایا تھا۔۔
اب ویر سلطان کونسا قہر ڈھانے والا تھا اس پر
وہ جانتی تھی سنگین غلطی کر بیٹھی ہے،،
اب کونسی سزا دے گا وہ،،، سوچ سوچ کے ہی اس کا ماتھا بار بار پسینے میں بھیگ رہا تھا اور رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔۔
وہ روم میں داخل ہوا اور ڈور لاک کیا۔۔
روم میں آ کر نیناں کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔
خاموشی سے بیڈ تک گیا ہاتھ میں جو چھوٹا سا سفری بیگ تھا اس میں سے اپنا ڈریس نکال کر واش روم چلا گیا۔۔
نیناں کو اپنی عافیت اسی میں نظر آئی کہ وہ جلدی سے کہیں دبک جاتی۔۔سو فوراََ ادھر ادھر دیکھا ۔۔الماری تک گئی اور ایک قدرے بڑا اور گرم سا کمفرٹر نکالا،، صوفے کی جانب لپکی اور سر سے پاؤں تک کمفرٹر تان کر لیٹ گئی۔۔
ویر ٹاول سے بال رگڑتا شرٹ لیس باہر آیا تھا،، ایک نگاہ اس گھٹڑی پر ڈالی۔۔
ٹاول ڈریسنگ پر رکھا۔۔
اور بیڈ پر آ کر نیم دراز ہو کر سکون سے آنکھیں موندیں۔۔
دل میں اسے مخاطب کیا۔۔
نیناں سلطان اچھا نہیں کیا تم نے مجھے،،،،،،، شاہ زل سلطان کو ڈرا کر،،، آج میں بہت ڈر گیا تھا،، تمھیں کھونے کے ڈر سے،، تم میرا عشق ہو،،، جنون،،، میری دیوانگی،،، میرا سب کچھ۔۔
اب تو تمھاری طلب نے میرے سینے میں میری سانسیں تک الجھا رکھی ہیں۔۔
اسی لئے آج،،،،
آج،،، یہ میرا عشق،،، جنون اور پاگل پن تمھیں اپنے اس وجود پر جھیلنا ہے۔۔ جو غلطیاں کر چکی ہو،،، سزا تو یہی ہے کہ منہ سے کبھی نہیں بولوں گا۔۔۔کبھی نہیں۔۔ محسوس کر سکتی ہو تو آج میرے لمس میں میری پاگل قربت میں اپنے لئے اس عشق کی شدت کا اندازہ لگا لینا جو مجھے تم سے ہے۔۔
نیناں بیڈ پر آؤ،،، بوجھل آواز میں اسے پکارا،،
نیناں کی روح فنا ہوئی۔۔زور سے آنکھیں بند کر کے سوتی بن گئی۔۔
وہ بیڈ سے اٹھا اور اس تک آیا۔۔
نرمی سے کمفرٹر اس پر سے ہٹایا،، وہ ہڑبڑا کر اٹھی،،، مگر ویر اسے بانہوں میں بھر چکا تھا۔۔
نیناں کا چہرہ خوف سے سفید ہوا۔۔
ویر نے لا کر اسے بیڈ پر لٹایا،،، اور خود اس پر جھکا۔۔
شش،، شاہ زل یہ کیا کر رہے ہیں آپ،،، وہ بوکھلائی۔۔
چھوٹی بچی ہو کیا،،،، پانی کو مم مم بولتی ہو جو پتہ نہیں کہ کیا کرنے لگا ہوں،،،، ویر نے سنجیدگی سے کہا،،، اور اس کی شہہ رگ پر اپنے پرتپش لب رکھے۔۔
نو،،،شاہ زل،،،،،،نیناں بری طرح مچلی،،
مزاحمت بند کرو نیناں،،،، نہیں تو یہ رات تمھارے لئے اذیتوں کے نئے باب لکھ دے گی۔۔ وہ سنجیدگی سے بولا پر نگاہوں میں جزبوں کا ایک سمندر موجزن تھا۔۔
ویر اس کی گردن پر جھکا،،
جھوٹ بول رہا تھا وہ،، بکواس کر رہا تھا،،بھلا وہ اسے اذیت پہنچا سکتا تھا،،،،، اب اسے ایسے چھو رہا تھا جیسے وہ موم کی بنی ہو،،،
اپنے وجود پر سفر کرتے ویر کے دہکتے لبوں نے اس کی روح کو چھوا تھا۔۔
اپنے وجود سے شرٹ کھسکتی محسوس ہوئی تو نیناں کی سٹی گم ہوئی۔۔
وہ ایک مرتبہ پھر مچلی،،، شاہ ذل چھوڑیں مجھے،،، وہ اٹھ کر شاہ زل سے دور ہونے لگی تھی،،، جب شاہ زل نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچا تھا۔۔
سٹاپ اٹ،،، وہ غرایا،، اب آواز سنائی دی تو باندھ دوں گا نیناں سلطان،،،
مم،،،، مگر ،،،،،،،،،،،
ویر نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی تھی کیونکہ وہ آج اس کی سننے کے موڈ میں ہر گز نہیں تھا۔۔
وہ اس کے لبوں پر جھکا خود کو سیراب کر رہا تھا مگر تشنگی تھی جو بڑھتی جا رہی تھی۔۔
اسی لیے لمحہ با لمحہ اس کی شدتوں میں اضافہ ہوا تھا۔۔
اور اس کی بڑھتی شدتوں اور پاگل پن سے گھبراتی نیناں اپنے آپ میں سمٹ رہی تھی۔۔
وہ مکمل مدہوش اور بے خود سا ہو چکا تھا،، اور نیناں اپنی روح میں اترتی اس کی خوشبو میں پور پور ڈوب رہی تھی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رات بہت گہری تھی اور اریش کی بے چینی سوا نیزے پر ۔۔۔
وہ کھڑکی میں کھڑا اندھیرے میں باہر جانے کیا تلاش کر رہا تھا۔۔
مطی بھی نوٹ کر رہی تھی اس نے کچھ کھایا تھا نا کچھ پیا تھا۔۔
ہاں مگر مطی کو زور زبردستی کھانا کھلا کر میڈیسن دے چکا تھا۔۔
آج تو میڈیسن لینے کے باوجود نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
پھر کچھ ہی دیر بعد پارکر کا فون آیا۔۔
پارکر نے اریش کو تمام ڈیٹیلز بتا دیں۔۔
نیناں اور ویر سلطام بلکل محفوظ ہیں ،،،،، اور اب اس وقت ایک محفوظ مقام پر ہیں۔۔
جولی کی دردناک موت کا بھی بتایا۔۔
اریش نے فون رکھا،،
جیسی بھی تھی ،،، کسی طرح کی بھی آخر تھی تو پیدا کرنے والی۔۔
ضبط غم نے پھر اعصاب چٹخائے تھے،،، وہ اس بات پر رویا کہ کاش اس کی ماں ایسی نا ہوتی،،،، تو اس کی بھی لائف نارمل رہتی۔۔۔
مطی اسے دیکھ کر ٹھٹھکی تھی۔۔مگر دھیرے سے قدم اٹھاتی اس کے پاس آئی تھی۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔نیناں اور ویر ٹھیک ہیں ناں،،، رو کیوں رہے ہو،،، مطی پوچھ بیٹھی۔۔
وہ دونوں بلکل ٹھیک اور محفوظ ہیں،،،، کہہ کر وہ خاموش ہوا۔
تو پھر،،،، مطی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔
جولی کو دردناک موت دی ہے.ویر سلطان نے،،،،،،،، وہ نظریں چرا کر بولا،،، مگر وہ ڈیزرو کرتی تھی،،،، جو اپنے سگے بیٹے کے ساتھ مخلص نہیں رہی وہ یہی ڈیزرو کرتی تھی۔۔
صبح سے وہ اس شوخ و شنگ شخص کو اسی حالت میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہی تھی ۔۔۔جانے کیوں مگر مطی کو اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔
مطی نےاسے تسلی دینے کو لرزتا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔۔ اریش نے بے تحاشا چونک کر اس کی جانب دیکھا۔۔ان نگاہوں میں اپنے لئے فکر اور نرمی دیکھ اریش کی روح میں سکون اترا تھا۔۔
تبھی اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سینے سے لگایا اور اس کی بالوں میں منہ چھپایا تھا۔۔
مطی کو اپنی گردن پر نمی محسوس ہوئی،، یعنی وہ اب بھی رو رہا تھا،،، وہ جو اسے دھتکار کر پیچھے جھٹکنا چاہتی تھی،،،
اب جھجکتے گھبراتے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے تھے۔۔
کچھ دیر بعد ہی نرمی سے وہ خود ہی پیچھے ہٹا۔۔اریش اسے کندھوں سے تھام کر بیڈ تک لایا تھا۔۔۔
اسے بیڈ پر بٹھایا۔۔
سو جاؤ بیری،،، نرمی سے کہا وہ نیم دراز ہوئی تو اریش نے اس پر کمفرٹر دیا۔۔
خود بھی دوسری سائیڈ آ کر نیم دراز ہوا۔۔ کچھ پلوں کے بعد ہی اریش نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے پر گرایا تھا۔۔
وہ بوکھلائی۔۔۔۔مگر،،، سو جاؤ بیری،،،، اریش کی بوجھل گھمبیر آواز پر وہ اسے گھورے گئی۔۔
تب اریش نے کروٹ لے کر اس کی جانب رخ کیا،،، تمھیں اب بھی لگتا ہے بیری کہ اب بھی میں تمھاری مرضی کے خلاف کچھ کروں گا۔۔
اس کے بے ہودہ سوال سے بچنے کے لئے مطی نے جھنجھلا کر اسی کے سینے میں چہرے چھپا کر آنکھیں موند لیں تھیں۔۔
یہ دن کی پہلی مسکراہٹ تھی جو اس کے لبوں پر رینگی تھی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ جو ویر سلطان نے زبان سے اظہار نہیں کیا تھا نہیں جانتا تھا کہ زندگی سی سب سے بڑی غلطی کر بیٹھا ہے۔۔
اور وہ جو اس کا عشق تھی اس کی محبت جنون دیوانگی،،،، ویر جانتا بھی تھا کافی سر پھری اور پاگل ہے۔۔
اب بھی وہ یہ سوچ سوچ کر رو رو کر پاگل ہو رہی تھی کہ ویر نے صرف اسے سزا دینے کو اس سے نیا رشتہ قائم کیا۔۔ یہ ویر سلطان کی نیناں کے لئے اس کی محبت نہیں سزا تھی۔۔۔
تو گویا محبت صرف ایک سزا ٹھہری۔۔۔
اس کی زندگی کی نئی شروعات اتنی بھیانک سوچ سے ہوگی نیناں نے سوچا نہیں تھا۔۔
دبی دبی سسکیوں کی آواز سے ویر کی آنکھ کھلی تھی۔۔
اس نے کروٹ بدل کر نیناں کی جانب دیکھ جو دوسری جانب رخ کیے کمفرٹر سر تک تانے رونے کا شغل فرما رہی تھی۔۔
ویر نے سرد سی آہ بھری۔۔اور ایک مرتبہ پھر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال اسے اپنے اوپر گرایا۔۔
وہ ایسی حالت میں پھر اس کے قریب آنے پر بوکھلائی۔۔
بھیگی پلکیں اور سرخ چھوٹی سی ناک۔۔
جزبات کا ایک طوفان پھر ویر کے سینے میں اٹھا۔۔
کیوں رو رہی ہو، ،،،زبردستی کی میں نے تمھارے ساتھ،، بوجھل گھمبیر لہجے میں وہ پوچھ بیٹھا۔۔
ہاتھ سے چہرے پر آتی شرارتی لٹیں پیچھے ہٹائیں۔۔
نن نہیں،،، بالوں کو سہلاتا ویر کا ہاتھ،،، گستاخ نگاہیں،،، کمر پر لپٹا بازو،،، اور اس کے کشادہ سینے پر گری،،،
وہ پھر پانی پانی ہوئی۔۔۔
تو پھر ان آنسوؤں کی وجہ،،،؟ ویر کی بے قرار نگاہوں نے پھر اس کے وجود کو نہارا،،،،
وہ ،،،ممم،، میں،، چھوڑیں،،، واپس نہیں جانا،،، وہ اسے رات والے جنونی روپ میں واپس آتا دیکھ گھبرائی۔۔
ویر نے کروٹ لی اور اس پر حاوی ہوا۔۔
یہ میرے سوال کا جواب تو نہیں،،، ہونٹوں نے پھر چن سے شہہ رگ تک کا فاصلہ طے کیا۔۔
وہ میں ،،،،،
رہنے دو،،، مت بولو،،،، ویر نے پھر اس کی گردن میں منہ چھپایا۔۔
نیناں نے اس کی شدت سے گھبرا کر آنکھیں سختی سے بند کیں تھیں۔۔۔
ویر اس کی قربت میں دنیا بھلا بیٹھا تھا۔۔نیناں کو پھر اس کا پاگل پن جھیلنا پڑا۔۔۔
نیناں فریش ہو کر واش روم سے باہر آئی تو ویر بریک فاسٹ پر اس کا ویٹ کر رہا تھا۔۔
وہ جھجھکتی قریب آئی اور اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
دونوں نے خاموشی سے کھانا شروع کیا۔۔۔
واپسی کے لئے کب نکلنا ہے،،، وہ دھیمے سے بولی۔۔۔
Continue,,,,,,,,,,,,,,
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
