Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

رات کے وقت جونئیر ویر اسلام آباد کے ایک نائٹ کلب میں موجود تھا۔۔۔

وہ بظاہر صوفے پر بیٹھا بڑے انہماک سے ڈرنک کر رہا تھا۔۔
بیہودہ گانوں پر ناچتے تھرکتے لڑکوں میں وہ بار بار خونخوار نظر ایک لڑکے پر ڈال رہا تھا۔۔

کئ حسینائیں اس ہینڈسم اور ڈیشنگ ڈمپل بوائے کو ڈانس کی آفر کر چکی تھی ۔۔۔
مگر وہ سب کو ،،،،
Not interested ,,,
بول دیتا۔۔۔

ویر کو اس کا ٹارگٹ نظر آ چکا تھا۔۔تبھی خاموشی سے اٹھ کر جانے لگا جب ایک لڑکی آ کر جان بوجھ کر لڑکھڑائی اور اس پر گرنے لگی۔۔۔۔

جب وہ ڈمپل بوائے بجلی کی سی تیزی سے اس لڑکی کے ارادے بھانپ کر سائیڈ پر ہوا تھا۔۔
لڑکی اوندھے منہ اس صوفے پر گری جس سے ابھی وہ اٹھ کر کھڑا ہوا تھا۔۔
وہ خفت سے سرخ چہرہ لئے جلدی سے اٹھ کر کھڑی ہوئی،،،،

وہ نخوت سے مسکرایا۔۔۔۔۔ محترمہ جس سکول میں پڑھی ہیں اس کا پرنسپل میرے پاس آج بھی ٹیوشن لینے آتا ہے۔۔۔

وہ جانے لگا تبھی اس لڑکی کی فرینڈز ان کی جانب آئیں جن سے وہ شاید شرط لگا کر آئی تھی اس ڈمپل بوائے کی توجہ حاصل کرنے کی۔۔۔۔۔

اے یو،،،،،، چھیڑ رہے ہو اس لڑکی،،، جانتے نہیں ہم کون ہیں،،، کیوں بدتمیزی کر رہے ہو،،،،
ان میں سے اس کی ایک فرینڈ ویر کو پھانسنے اور پبلک پلیس پر بے عزت کرانے کو جان بوجھ کر چلا کر بولی۔۔۔

وہ اطمینان سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا ہوا۔۔۔۔

نہیں محترمہ،،، یہ تو خود ہی چھڑ رہیں تھیں،،، پر میں ان میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں،،،، میں تو آپ میں انٹرسٹڈ ہوں،،،
ویر نے ہاتھ کے اشارے سے فون نمبر مانگا۔۔۔۔۔۔

اب لڑکی ایسے شانت ہوئی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں مسکراتی پاس گئی اور اپنا کارڈ نکال کر ویر کو تھمایا،،،

ویر نے مسکراتے کارڈ پکڑا،،،،، ابھی تو سوئٹی مجھے ضروری کام ہے،،، پھر بات ہوگی،،،

وہ بتا کر فورا وہاں سے نکلا تھا۔۔۔۔

باہر نکل کر کارڈ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے،،، پاگل سٹوپڈ گرل۔۔۔وہ ایک مرتبہ پھر کسی لڑکی کو بڑی آسانی سے الو بنا کر اپنی جان چھڑا آیا تھا۔۔۔۔۔

پارکنگ میں آیا۔۔وہ شخص جسے کرنل وسیم نے زندہ پکڑنے کے آرڈرز دئے تھے ۔۔اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔۔
ویر لڑکھڑاتا اس کے قریب آیا ۔۔۔

لبوں میں سگریٹ دبا کر جان بوجھ کر پاکٹیں کنگھالیں ۔۔۔

بھائی ماچس ہوگی کیا تمھارے پاس،،،،، ویر نے اس سے سوال کیا

ہاں کیوں نہیں،،،، ہے میرے پاس،،، اس نے کہتے ماچس ویر کو دی۔۔

ویر نے سگریٹ سلگائی۔۔۔
تم پیو گے،،،،، ویڈ کی ہے،،،،،،، ویر نے اسے آفر کی ۔۔۔

ہاں کیوں نہیں شیور،،،، ویر نے پاکٹ سے پورا پیکٹ نکال کر اس کے سامنے کیا۔۔۔۔اس نے ایک نکال کر لبوں میں دبا کر سلگائی۔۔۔

ایک دو کش لینے کہ بعد ہی وہ زمین بوس ہو چکا تھا۔۔۔۔
بے وقوف،،،،
ویر نے اسے اٹھا کر اسی کی گاڑی کی ڈگی میں اس صفائی سے پھینکا کہ کوئی بندے کی نظر میں تو کیا وہ تو کیمروں کی نظروں میں بھی نہیں آیا ہوگا۔۔۔

وہ اسی کی گاڑی میں جا نے لگا تبھی پارکنگ میں اسے وہ لڑکا دکھائی دیا۔۔۔۔

Ooohhh not bad,,,,,,,
تو کیوں نا ایک تیر سے دو شکار کر لئے جائیں ۔۔۔۔۔

پاس سے گزرتے اس لڑکے کو بجلی کی سی تیزی سے پکڑ کر گردن پر مخصوص دباؤ ڈال کر وہ اسے بھی گاڑی میں پھینک چکا تھا

اب گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں تھوڑی دور جا کر اس کے اسپیشل وفادار آدمیوں نے گاڑی چینج کروائی تھی۔۔

پیچھے رہ جانے والی گاڑی کو وہ نظرِ آتش کر چکے تھے۔۔
اب گاڑی اس کے فارم ہاؤس کی پارکنگ میں رکی تھی۔۔

یہ وہ فارم ہاؤس تھا جہاں پر تو مطی تک کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔مگر آج ازھاد اور نمیرا یہاں موجود تھے۔۔

وہ اطمینان سے گاڑی سے اترا۔۔
وہ دونوں اس کے ٹارچر سیل پہنچا دئے گئے تھے۔۔ کرنل وسیم کو بندے کے ہاتھ آ جانے کی اطلاع دی ۔۔

منہ پر رومال باندھ کر بیسمنٹ میں ٹارچر سیل میں داخل ہوا۔۔

اب وہ کرسیوں سے باندھ دئیے گئے تھے۔۔اور تواضع کر کے ہوش ٹھکانے لگا دئیے گئے تھے ۔۔

وہ دونوں الگ الگ شیشے کہ کیبن میں باندھے گئے تھے کہ ایک دوسرے تک ان کی آواز نہیں پہنچ سکتی تھی۔۔
مگر وہ ایک دوسرے کو بڑا واضح طور پر دیکھ سکتے تھے۔۔
وہ پہلے اس ادمی والے سیل میں داخل ہوا تو ویر کے ایک آدمی نے کرسی اس کے سامنے رکھی۔۔

وہ سکون سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا،،

کون ہو تم؟ وہ غرایا،،،،،، جانتے ہو کس کا آدمی ہوں،،؟

میں کون ہوں یہ رہنے دو،،،،، تم کس کے آدمی ہو یا عورت،،، مجھے اس سے دلچسپی نہیں ہاں مگر جو پوچھوں اس کا سہی سہی جواب نا دیا تو یہ جو میرے پیچھے میرا آدمی (ازھاد)کھڑا ہے تمھارا وہ حشر کرے گا کہ سوچ بھی نہیں سکتے،،،،،،
ویر نے لہو ٹپکاتی آنکھوں سے کہا۔۔۔۔۔

کر لو جو کرنا ہے میں کچھ نہیں بتانے والا،،، وہ اطمینان سے بولا

آں ہاں،،، اب ویر نے اپنی پاکٹ سے اپنا موبائل نکالا تھا،،، اور ہینڈ فری،،،، ہینڈ فری موبائل سے اٹیچ کر کے کانوں میں لگائے بہت لاؤڈ میوزک لگایا پاؤن جھلا کر پیچھے کھڑے ازھاد کو اشارہ کیا۔۔
نمیرا بھی وہیں موجود تھی ۔۔
اور وہ اچھے سے جانتی تھی کہ ان کے سر کو ٹارچر کرنا اور انسانی چیخیں سننا زرا نہیں پسند۔۔۔

ایک یہی کام تھا ۔۔۔جو ویر کو اپنی ڈیوٹی میں سخت ناپسند تھا۔۔۔ٹارچر کرنا اور انسانوں کی چیخ و پکار سننا۔۔۔اسی لئے وہ کانوں میں ہینڈ فری ٹھونس لیتا تھا۔۔۔کسی کو مارتے وقت بھی اپنی چھوٹی کیلوں والی بیلٹ گردن پر لپٹا کر ایک ہی مرتبہ کسی بھی چیخ و پکار کے بغیر گردن چٹخا دیتا تھا۔۔۔یا تو وہ چھوٹی کیلیں کام تمام کر دیتی تھی۔۔۔۔

اب ازھاد نے اس کے منہ پر ٹیپ لگا کر کٹر سے اس کا ایک کان کاٹ ڈالا تھا۔۔۔۔
وہ بری طرح پھڑپھڑایا۔۔۔۔

اور اس سے پہلے ازھاد اس کا دوسرا کان کاٹتا اس نے زور سے اثبات میں سر ہلایا۔۔
ازھاد نے اس کے منہ سے ٹیپ اتاری ۔۔

اب وہ پوپٹ کی طرح بول پڑا تھا۔۔اور ان کی مطلوبہ ساری انفارمیشن انھیں دے چکا تھا۔۔

اب ویر اٹھ کر دوسرے کیبن میں اس لڑکے کی طرف آیا تھا۔۔جو پہلے ہی خوف سے گھگھیا گیا تھا۔۔
ازھاد نے چئیر رکھی ۔۔۔ویر بیٹھ گیا،،

ممم میں نے کک کچھ نہیں کیا،،،، جج جو پوچھنا ہے پپ پوچھ لو ممجھے ٹارچر مم مت کرنا،،،، وہ رئیس زادہ اتنے سے ٹارچر سے گھبرا گیا اور جو خود کیا۔۔۔۔

نوری کدھر ہے،،،؟ ویر کے سوال پر وہ بے تحاشا چونکا،، مگر جھوٹ بولنے اور مکرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ،،جو اس کے اور نوری کے بارے میں جانتا تھا وہ یقیناً اس کی ہسٹری جغرافی بھی جانتا ہوگا۔۔

مم میرے پاس ہے،، اس کی گردن میں گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہوئی ۔۔۔

کتنی بار پامال کر چکے ہو اسے،،،، ویر کی آنکھیں لہو ٹپکا رہی تھیں،،

مم میں صبح ہی اس سے نکاح کروں گا۔۔اسے با عزت طریقے سے اپناؤں گا۔۔مم محبّت کرتا تھا اس سے ۔۔اس نے ٹھکرا دیا تت تو بدلہ لیا۔۔مم مگر اب نکاح کروں گا،،،، وہ شرمندگی سے کہتا آنکھیں جھکا گیا۔۔۔مگر ویر کو اب اس کی شرمندگی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔
مگر یہ بھی سچ تھا کہ سامنے بیٹھے بیغیرت لڑکے کی آنکھوں میں شرمندگی تھی جو لڑکی کے انکار کو انا کا مسئلہ بنا لیا کرتے تھے۔۔

ہہممم گڈ۔۔۔اب مجھے کوئی کمپلین نہیں ملنی چاہیے،،، نہیں تو یہ سامنے والے آدمی کے تو صرف کان کاٹے ہیں ،،،،تمھیں تو ایسی سزا دوں گا پھر کبھی کسی کو بے عزت نہیں کر پاؤ گے،،،، سمجھے۔۔۔ویر غرایا

اور وہاں سے نکل کر اوپر چلا آیا۔۔۔اب اسے پتہ تھا انھیں ازھاد ہینڈل کر لے گا۔۔۔
وہ سکون سے سلطان مینشن چلا آیا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سہانا یونی وقت سے پہلے آ جا یا کرتی تھی۔۔

اب بھی بلیک جینز کی پینٹ کر اوپر ییلو ٹاپ اور ییلو مفلر گلے میں پہن رکھا تھا۔۔

وہ اپنی محبت اپنے عشق شاہ زین کا پیچھا کرنے کے لئے وقت سے پہلے بھاگ رہی تھی۔۔
سٹڈی کو بھی توجہ دینی ضروری تھی ۔۔

اور دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس دشمنِ جاں کے پیچھے بھی کچے دھاگے سے بندھی چلی جاتی تھی۔۔
مگر ابھی تک کسی کو کان کو کان خبر بھی نہیں ہونے دی تھی کہ وہ کیا کرتی پھر رہی ہے۔۔

شاہ زین کی گاڑی گیٹ سے باہر نظر آئی تو دل نے ایک سو بیس کی رفتار پکڑی۔۔
مگر وہ نارمل سی وہیں کھڑی رہی۔۔

وہ اندر داخل ہوا اور اس کے قریب سے گزر کر جا چکا تھا۔۔۔۔مردانہ کلون کی خوشبو نے حواس سلب کر ڈالے وہ اس کے جاتے قدموں کو دیکھتی رہی ۔۔
پھر اپنی کلاس میں آ گئی۔۔

وہ جو کلاس میں داخل ہوا۔۔فارس اور حمزہ آج پہلے سے موجود تھے۔۔
جلد ہی ان کی کلاسز شروع ہو چکی تھیں ۔۔۔

ایک بجے وہ کینٹین آئے۔۔
آج کچھ غیر معمولی نہیں ہوا تھا۔۔تو شاہ زین نے مابائل کی جانب دیکھا۔۔

لگتا ہے میری رات کی باتوں سے ہرٹ ہو گئیں محترمہ،،،، دل میں سوچا۔۔۔
چھوڑو بھی،،،، میں کیوں سوچ رہا ہوں اس کے بارے ميں

اس نے سر جھٹکا۔۔

دو بجے وہ اپنے مخصوص ٹائم لائبریری آیا تھا۔۔۔حمزہ اور فارس جا چکے تھے۔۔
وہ بکس میں مگن سا تھا۔۔چھوٹی الائچی چباتے اس نے ارد گرد کا ایک طائرانہ سا جائزہ لیا۔۔جب پروفیسر خورشید کی سجیسٹ کی کوئی ایک بک تلاش کرنے اپنی جگہ سے اٹھا۔۔

کافی تلاش کے بعد وہ بک ملی تھی ۔۔اپنے ٹیبل تک آیا تو پھر ایک سرپرائز منتظر تھا۔۔
اس کی بکس کے پاس ایک ریڈ روز رکھا ہوا تھا۔۔اور نوٹ بک پر بڑی آب و تاب سے مخصوص ہینڈ رائٹنگ میں لکھا تھا،،

تم ازل سے دکھوں کے،،،،، ڈیرے ہو
چاہے خود کو غموں سے گھیرے ہو
جب سے پیدا ہوئے ہو،،،،،،،میرے ہو
آج کھولیں گے لب سیے اپنے
تم بہت سال رہ لئے،،،،،،اپنے
اب میرے صرف میرے ہو کہ رہو،،، SS

شاہ زین کو ہنسی آئی ۔۔۔۔مگر سنجیدہ سا نوٹ بک سے ایک پیپر الگ کیا۔۔

اس پر ایک نوٹ لکھا۔۔۔اور اپنی چیزیں اٹھا کر وہاں سے چلا گیا۔۔

اور آج فائنلی تین چیزیں ہوئی تھیں جن سے سہانا کا دل کیا اٹھ کر جھوم جائے۔۔۔

ایک شاہ زین نے اس کا نوٹ پھاڑ کر ڈسٹ بن میں نہیں پھینکا تھا۔

دو وہ جاتے جاتے وہ روز بھی اٹھا کر ساتھ لے گیا تھا۔۔جو سہانا نے اس کے لیے رکھا تھا،،

اور تیسری اور سب سے خاص بات آج تو وہ اس کے لیے بھی نوٹ چھوڑ کر گیا تھا۔۔
جس مزاج کا وہ تھا،،،،،،، سہانا کو پکا یقین تھا کہ وہ جا چکا ہو گا اور رک کر یہ انتظار نہیں کرنے والا ہوگا کہ وہ نوٹ کون اٹھائے گا۔۔

سو تسلی سے اس کے ٹیبل پر اسی چئیر پر آ کر بیٹھ گئی ۔۔
نوٹ پر بڑی خوبصورت ہینڈ رائٹنگ میں جگمگا رہا تھا

محترمہ،،،، پہلے زرا سی ہمت کر کے سامنے تو آئیں ۔۔پھر اس بات کا فیصلہ تو بعد میں ہی ہوگا کہ آپ کا ہو کر رہنا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔

سہانا نے عقیدت سے وہ نوٹ چوما۔۔گہری مسکان لئے اٹھا کر اپنی بک میں رکھ لیا۔۔اسی ٹیبل پر ایک اور چیز پر نظر پڑی۔۔
الائچی تھی۔۔جو کہ شاہ زین کی پاکٹ سے نکالتے شاید گر گئی تھی۔۔

تو وہ یہ چیز ہے جو وہ ہر وقت چباتا رہتا ہے،،،
سہانا نے اٹھا کر منہ میں رکھا۔۔۔
وہ تو عادی تھا ۔۔

مگر سہانا کو کڑوی لگی۔۔زور دار ابکائی آئی مگر ضبط کر گئی چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا۔۔
الائچی کو منہ میں دبائے رکھا۔۔
اب اس کی بھی تو عادت ڈالنی تھی ۔۔اس نے مسکین سی شکل بنائی

اففففف محبت میں انسان کیا کیا کرتا ہے خود بھی سمجھ نہیں پاتا۔۔اس نے اپنے ہاتھوں میں سر تھام لیا۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سلطان مینشن میں ایک ہلچل سی تھی۔۔
جونئیر کو آرڈرز آ چکے تھے تیاری کرنے کے ۔۔۔

انھیں کل نکلنا تھا۔۔
سو وہ بیڈ پر بیٹھا موبائل میں لگا ہوا تھا ۔۔شاہ ویر اس کے پاس بیٹھا تھا۔۔

جبکہ پلوشہ سوں سوں کرتی اس کی پیکنگ کر رہی تھی۔۔۔وہ کال سے فری ہوا تو ماں کی طرف متوجہ ہوا۔۔

ڈیڈ کو اشارہ کیا تو شاہ ویر نے کندھے اچکا دئیے۔۔
وہ پلوشہ کے قریب آیا۔۔

مما کیا بات ہے آپ اتنی اپ سیٹ کیوں ہیں،،،،، کندھے سے تھام کر پری کو اپنی جانب گھمایا ۔۔۔

شاہ زل جانے کیوں مگر میرا دل بہت گھبرا رہا ہے،،، ایسا لگتا ہے کہ تم لوگ جاؤ گے اور بہت بڑی مصیبت میں پھنس جاؤ گے،،، میں کیا کروں بہت سمجھایا اپنے دل کو مگر،،،
وہ بیٹے کے سینے سے لگ کر رو دی۔۔

او کم آن،،،، مما،، ایک سپاہی کی ماں ہیں یار بریو بنیں،،، اس طرح تو آپ مجھے بھی کمزور کر رہی ہیں،،،
شاہ زل نے مدد طلب نگاہوں سے اپنے ڈیڈ کو آیا۔۔

ویر بھی ان کے قریب آیا۔۔

پری سنبھالو خود کو،،،، ابھی تو حبہ گڑیا کو سنبھالنا ہے،،، اس طرح تو تم جونئیر کا بھی دل برا کر رہی ہو،،، ان کو خوشی خوشی ایک عزم لئے جانے دو یار،،،،
ویر نے نرمی سے سمجھایا،،، اور اس کے گرد بازو حمائل کیا

پری ویر کے کندھے سے لگ کر رو دی۔۔۔
ماں کا دھیان بٹانے کو شاہ زل کی زبان میں پھر کجھلی ہوئی

کیا یار ڈیڈ،،،،، جوان بیٹے کا تو خیال کر لیا کریں،،، آپ کے اس طرح مما کے ساتھ رومانس کرنے سے جوان جذبوں پر کیا کیا گزرتی ہوگی۔۔ نہیں تو مجھے بھی ایک پری لا کر دیں،،، مجھے بھی کوئی آسرا ہو،،

پری بوکھلا کر ویر سے دور ہوئی۔۔۔ویر نے مصنوعی غصے سے جونئیر کو گھورا۔۔

اور تم کوئی موقع نا چھوڑا کرو کباب میں ہڈی اور حلوے میں نمک بننے کا،،،،،،

شاہ زل قہقہہ لگا کر ہنس پڑا
تو کیا میں نے غلط فرمائش کر دی ڈیڈ،،،،، ایک عدد پری مجھے نہیں مل سکتی،،،،؟

ہمیں کیا پڑی ہے کسی معصوم غریب کی زندگی برباد کرنے کی،،،،
ویر بھی کونسا کم تھا۔۔ شاہ زل کا ہی ڈیڈ تھا۔۔ حساب بے باک کیا۔۔۔۔

ڈیڈ،،،،،،،،، شاہ زل نے اپنے ڈیڈ کو گھورا،،، مطلب رئیلی،،، میں اتنا برا ہوں کہ کسی لڑکی کی زندگی خراب کروں گا،،،،، اس کا مطلب آپ لوگ مجھے نہیں ڈھونڈ کر دیں گے پری،،،،،،
جونئیر کو صدمہ لگا۔۔۔

اب یار ترکی جا ہی رہے تو ڈھونڈ لینا کوئی حورم سلطان خود ہی،،،، شاہ ویر نے جونئیر کو دیکھ کر آنکھ ونک کی۔۔

نہیں مجھے نہیں چاہیے حورم وورم،،،، مجھے تو پری ہی چاہیے ۔۔

اچھا اب بس بھی کریں۔۔ڈنر کے لیے چلیں۔۔وہ جو خفت سے سرخ ہوئی باپ بیٹے کی نوک جھونک سن رہی تھی۔۔اب دھیان بٹا تو ڈنر کا خیال آیا۔۔۔
پیکنگ ہو چکی تھی۔۔
سو وہ تینوں باہر آئے۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ادھر کل کے مطربہ کے جانے کا سن کر حبہ اپنے روم میں ہی بند تھی اور رو رو کر برا حال کر رکھا تھا۔۔

پیکنگ کر کے مطی باہر آئی۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل پر سب موجود تھے۔۔جانے کیوں مگر شاہ زر بھی بری طرح ڈسٹرب تھا سو سٹڈی میں تھا۔۔

پہلے وہ سٹڈی میں آئی اور اپنے ڈیڈ کے کندھوں کے گرد بازو حمائل کیے۔۔۔
کیا بات ہے ڈیڈ،،،، کیوں پریشان ہیں،،، مطی نے شاہ زر کی گال کو چوما۔۔

کچھ نہیں میری پرنسز،،، بس پریشان ہوں حبہ کی طرف سے،،، شاہ زر نے اسے بازو سے تھام کر اپنے سامنے کاٹ پر بٹھایا۔۔ تمھیں پتہ ہے نا تمھارے ڈیڈ تم سے کتنا پیار کرتے ہیں،،،

یس ڈیڈ مجھے پتہ ہے پر آپ،،،،،،

غور سے سنو مطی،،، ، تمھیں پتہ ہے میں تمھاری ماں سے کتنی محبت کرتا ہوں ،،،اور صرف اپنی پرنسز کی فرمائش پر زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے اس کی ایک نہیں سنی اور اس کی مخالفت کے باوجود تمھیں تمھاری مرضی کرنے دی،،،،
اپنا بہت سارا خیال رکھنا مطی ،،، کیونکہ اگر تمھیں کچھ ہو گیا تو یقین کرو مطی میری پرنسز ،،حبہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی،،،

شاہ زر کا لہجہ آج جانے کیوں بھیگا ہوا تھا،،،

کم آن ڈیڈ،،، مطی قریب ہو کر اپنے ڈیڈ کے سینے سے لگی،، اوکے پرامس میں اپنا بہت سارا خیال رکھوں گی،، پلیز ڈیڈ بی بریو،، آپ ایسا کریں گے تو مما کو کون سنبھالے گا،،

شاہ زر نے فوراً اپنی نم آنکھیں خشک کیں۔۔۔چلو زرا تمھاری ماں سے دو دو ہاتھ ہو جائیں ،،،،وہ مسکراتا اپنی گڑیا کا ہاتھ تھامتا اٹھا۔۔
وہ دونوں روم میں آئے تو حسبِ توقع حبہ رونے میں مصروف تھی۔۔۔دونوں باپ بیٹی نے لمبی سی سانس کھینچی۔۔

مطربہ آ کر اپنی ماں سے لپٹ گئی تو وہ اور زور سے رونے لگی ۔۔۔

مما پلیز،،، وہ روہانسی ہوئی۔۔۔جب حبہ جی بھر کر رو چکی تو بیٹی کا منہ چوما۔۔۔

اور پھر تقریباً وہی باتیں دہرائیں جو کہ شاہ زر اس سے بول چکا تھا۔۔

مطی یاد رکھنا ،،،،کر لو اپنی من مانی،،، تمھیں کچھ ہوا تو میں کبھی تم باپ بیٹی کو معاف نہیں کروں گی،،، حبہ کا سرسراتا لہجہ مطی کو جھر جھری آئی

مما آپ میرے لئے دعائیں مانگنا تو دیکھنا مجھ پر کوئی مصیبت نہیں آئے گی۔۔

پھر کچھ ہی دیر کی کوشش کے بعد آخر حبہ کا بھی موڈ بحال ہو ہی گیا تو وہ باہر ڈنر پر آئے
اور حسب معمول ہی ڈنر پر جونئیر،، مطی،، شاہ زین اور ربیع کے شور شرابے اور ہنگامے پر سب وقتی طور پہ ہی سہی اپنی تمام ٹینشنز بھول چکے تھے۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺