Rate this Novel
Episode 31
سلطان مینشن میں دن کا آغاز اپنی روٹین کے مطابق ہوا تھا۔۔ حرم نیناں کو دیکھنے آئی تھی کیونکہ کافی دیر ہو گئی تھی مگر وہ اپنے روم سے باہر نہیں نکلی تھی۔۔
مگر حرم اس کا خالی روم دیکھ کر بے تحاشا گھبرائی تھی۔۔ وہ ہراساں سی ڈائینگ ٹیبل تک آئی تھی۔۔
میر،،، نیناں اپنے روم میں نہیں ہے،،، بلکہ میں نے ہر جگہ دیکھا وہ کہیں نہیں ہے،،
شاہ میر چونکا تھا مگر،،،،
گھبراؤ مت حرم وہ اسے جونئیر لے کر گیا ہے اپنے ساتھ،،، شاہ ویر نے سکون سے کہا مگر پری نے پہلو بدلا
کدھر برو،،،، اور گھر میں کسی کو بتایا کیوں نہیں،،، میر بے چین ہوا۔۔
یہ تو ہمیں بھی نہیں پتا،،، کہتا سرپرائز ہے نیناں کے لئے ،،،اسی لئے گھر میں بھی کسی کو نہیں بتایا تھا۔۔شاہ ویر نے پھر جھوٹ بولا۔۔۔
میر اور حرم نے عجیب نظروں سے شاہ ویر کو دیکھا کیونکہ جانتے تھے جونئیر ابھی بھی نیناں کی طرف سے خفا تھا تو پھر یہ سب کیا تھا۔۔
پھر پورا دن شاہ ویر بے چین رہا اور رات کو کہیں جا کر جونئیر کے فون نے اور اس اطلاع نے سکون پہنچایا تھا کہ جولی جہنم رسید ہو چکی ہے اور نیناں بلکل ٹھیک ہے۔۔
میر اور حرم جلے پیر کی بلی کی طرح پورے گھر میں چکراتے پھرے نیناں کو فون بھی آف تھا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ سامنے نگاہیں جھکائے اس سے پوچھ رہی تھی کہ واپس نہیں چلنا کیا۔۔
اور ویر کا دل کیا بول دے کہ دل تو کرتا ہے یہاں سے بھی تمھیں لیے دنیا کے کسی کونے میں چلا جاؤں جہاں ہمیں کوئی بھی ڈسٹرب نا کر پائے۔۔
مگر ویر کچھ کہتا اس سے پہلے ہی فون رنگ ہوا۔۔
اسلام وعلیکم ڈیڈ،،،،
شاہ ویر کا فون تھا یہ کہنے کے لیے کہ نیناں کی حرم اور میر سے بات کروا دے۔۔
یس ڈیڈ کرواتا ہوں،،،، ابھی واش روم میں ہے،، باہر آتی ہے تو بات کرواؤں گا۔۔
ویر نے کہہ کر فون رکھا۔۔
نیناں نے پہلو بدلا۔۔
آپ نے جھوٹ کیوں بولا،،،؟ وہ بے چین ہوئی
تمھیں بتانے کے لئے سویٹ ہارٹ کے سلطان مینشن میں کسی کو نہیں معلوم کہ ہم لندن میں ہیں،، نہیں تو لندن کا نام سنتے ہی حرم مما کو کچھ ہو جاتا،،، ویر نے سنجیدگی سے کہتے اسے جتایا تو وہ شرمندہ ہو گئی۔۔
پھر اپنے ڈیڈ کو کال ملائی اس یقین کے ساتھ کے وہ نمبر چھپا لیں گے،،،،فون نیناں کو تھمایا۔۔
فون یس ہونے پر حرم کی پریشان حال آواز کانوں سے ٹکرائی،، نیناں کہاں ہو تم ،،،،؟کیسی یو،،، ؟ فون کیوں آف ہے،،،؟ یہ کوئی طریقہ ہے ماں کو پریشان کرنے کا ،،، حرم رو دی۔۔
ائم سوری مما،،، وہ اچانک،،،،،، نیناں سے کوئی بات نا بن پائی،،، اب دل زور سے دھڑکا تھا،، اور اگر اس کی مما کو اس کی حرکت کا پتا چل جاتا۔۔سامنے بیٹھے بے نیاز سے بنے الائچی چباتے شخص نے اسے صاف بچا لیا تھا سارا الزام اپنے اوپر لے کر ،،،،
مما میں بلکل ٹھیک ہوں آپ پریشان نا ہوں ناں،،،، وہ روہانسی ہوئی۔۔
مگر حرم کا گلا رندھ چکا تھا تبھی فون رکھ دیا تھا۔۔
مگر نیناں بے چین ہو گئی،، اور پھر سوں سوں کرتی رونے کا شغل فرمانے لگی۔۔۔
ویر نے غور سے اسے دیکھا۔۔۔سڑی بھنڈی،،،،،
پھر وہ بے اختیار اٹھ کر ویر کے پاس صوفے پر آ کر بیٹھی۔۔
سنیں ،،،واپس چلیں ،،،،،مجھے مما کے پاس جانا ہے،،،
ویر نے بے اختیار اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے سے لگایا۔۔
سو سویٹ،،، بےبی نے مما کے پاس جانا ہے،، حالانکہ تمھیں اس وقت صرف اپنے ہبی پر توجہ دینی چاہیے۔۔
وہ اس کے بالوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں بساتا بولا
شاہ ذل،،،،،،، پپ ،،،،پلیز،،، نیناں بوکھلائی
تبھی ویر نے اپنے ہونٹوں سے وہ قیمتی موتی ان خوبصورت آنکھوں سے چنے تھے۔۔
وہ اس کے بہت قریب ویر کے دل کی پاگل ہوتی دھڑکن آسانی سے سن سکتی تھی۔۔
تبھی ویر نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا،،، چہرے کے ایک ایک نقش کو عقیدت سے چوما۔۔
نیناں کا وجود ہلکے سے لرز رہا تھا۔۔۔
کیا ہوا،،، ویر نے پوچھا ،،،آنکھوں میں شرارت تھی۔۔
خمار آلود نگاہوں سے اس کے گداز لبوں کو دیکھا۔۔۔
ویر کی آنکھوں کا پیغام پڑھ کر نیناں کی زبان جیسے تالو سے چپکی۔۔اسی لئے بس نفی میں سر ہلا سکی۔۔
مگر ویر کی دونوں کلائیاں نیناں کے نرم ہاتھوں کی گرفت میں تھیں۔۔۔
ویر نے بغیر وقت ضائع کیے ان لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لیا تھا۔۔
نیناں اس لمس کو پا کر پگھلی۔۔
اب محسوس کرنے لگی،،، ویر کی محبت سر چڑھ کر بولنے لگی،،،
اسی لیے خود کو اپنے وجود کو ویر سلطان کے سپرد کر دیا۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مطی بیڈ پر بیٹھی بور ہو رہی تھی۔۔
بکس پڑھ کر بھی اب بیزار ہو گئی تھی۔۔اور کاٹیج بھی گھوم پھر کر دیکھ لیا تھا۔۔
وہ کالام سے آگے جس جگہ تھے وہ آبادی سے بھی دو کلو میٹر آگے گاؤں مٹلتان تھا۔۔
اریش صبح سے آبادی کی طرف شہر میں گیا تھا۔۔
وہ کچھ سوچ کر باہر نکلی۔۔
کاٹیج کے پچھلی طرف بنے بیرونی دروازے تک پہنچی تو گارڈ نے روکا۔۔۔
میم پلیز،،،،
کہیں نہیں جا رہی یہ سامنے جو دریا نظر آ رہا ہے بس وہاں تک جانا ہے۔۔ تمھارے سر کو میں دیکھ لونگی۔۔۔اب ڈسٹرب مت کرنا۔۔
وہ مسکین سی شکل بنا کر رہ گیا۔۔وہ مڑی تو گارڈ اس کے پیچھے لپکا مگر کندھے پر ہلکے سے دباؤ سے وہ رک گیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو اریش تھا۔۔
اریش نے اسے وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔۔
مطی باہر آئی،،،، برفباری تو نہیں تھی مگر شدید دھند اور گہرے بادل تھے۔۔وہ تھوڑی آگے بڑھی۔۔
بلیک فراک پاجامے میں گرے شال کندھوں پر ڈالے وہ باہر نکلی تھی۔۔
بہتا دریا مگر گہرائی نا ہونے کے برابر،،، صرف چوڑائی تھی۔۔
گہرائی تو اتنی ہی تھی کہ اس میں تیرتی مچھلیاں بھی نظر آ رہی تھیں۔۔۔
وہ دلچسپی سے دیکھے گئی۔۔
دریا کے اس پار اخروٹ کے درختوں کا جنگل تھا۔۔اب اسے وہاں جانے کا تجسس ہوا۔۔
کیونکہ وہاں بندروں کے چھوٹے چھوٹے بچے نظر آ رہے تھے۔۔
بڑے محتاط طریقے سے پتھروں پر پاؤں رکھتی آگے بڑھی۔۔
پتھروں پر بے تحاشا پھسلن تھی۔۔وہ پھر بھی آگے بڑھتی رہی۔۔
درختوں کے پاس آ کر وہ ایک بڑے سے پھتر پر بیٹھ گئی۔۔
ہاتھ میں چاکلیٹ تھی،، ابھی ریپر کھول کے دو تین بائٹ ہی لیے تھے کہ ایک بندر کا بچہ بہت قریب آ کر بڑی معصومیت سے چاکلیٹ کو گھورنے لگا۔
ہاؤ کیوٹ،،،،،،، اس نے چاکلیٹ اس کی جانب بڑھائی جو کہ اس نے بڑی تیزی سے چھین لی۔۔
باقی نوٹی بچوں کو مطی کا یہ عمل کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا اسی لئے وہ چاکلیٹ اس سے چھیننے کے لئے اس بچے پر پل پڑے۔۔
اب جنگل میدان جنگ بن چکا تھا،، ان کی چیخ وپکار پورے علاقے میں گونجی۔۔
مطی گھبرائی،،،، اس سے پہلے واپس پہنچتی،، بچوں کی مائیں وہاں پہنچ چکی تھیں اور مطی پر غرانے لگیں۔۔
اریش،،،،،، وہ گھبرا کر چلائی۔۔اریش،،،،، مطی کی آواز جنگل میں گونجی۔۔
اریش جو کہ اس کے آس پاس ہی تھا،، بہت گہری مسکان سجی تھی اس کے چہرے پر۔۔۔
تو گویا اس کی بےبی گرل،،، ڈیڈ،، ڈیڈ چلانے کی بجائے اریش اریش پکار رہی تھی۔۔
اریش زبیر ناٹ بیڈ،،،
وہ مطی کی جانب لپکا،،،
مگر بہت دیر ہو چکی تھی وہ گھبراہٹ میں اٹھ کر گھر کی جانب تیزی سے چلی تھی اور ایک پتھر سے پاؤں پھسل کر پانی میں جا پڑی۔۔
بیری،،،،، وہ بہت قریب آیا اسے کھینچ کر پانی میں سے اٹھایا تھا۔۔پانی کی گہرائی نہیں تھی ۔۔
وہ پوری نا سہی مگر آدھی بلکل بھیگ چکی تھی۔۔شال بھی پانی میں گر گئی تھی۔۔
اریش اسے بازوؤں میں اٹھانے لگا۔۔
کیا کر رہے ہو ،،،؟تم بھی بھیگ جاؤ گے ،،،چھوڑو مجھے،،، مطی اس کے پاگل پن سے جھنجھلائی۔۔
شٹ اپ بیری،،، چپ رہو،،، وہ اسے بانہوں میں بھر چکا تھا۔۔بڑی احتیاط سے دریا پار کیا۔۔
اور اسے لئے کاٹیج میں روم میں آیا۔۔
جاؤ بیری ڈریس چینج کرو ،،،،فوراََ ۔۔۔اس نے فٹا فٹ مطی کے اوپر سے بھیگی شال اتار کر،،
اس کے سوئیٹر کے بٹن کھولے۔۔
مطی اس کے عمل میں تیزی اور بے قراری دیکھ رہی تھی۔۔مگر آرام سے کھڑی رہی ۔۔وہ اس کا سوئٹر اتار چکا تھا۔۔ اریش نے اس گداز وجود اور بدن سے چپکے کپڑوں سے نظریں چرائیں ۔۔۔
الماری کی جانب لپکا اور اس کا ڈریس نکال کر مطی کی جانب بڑھایا۔۔
وہ اسے تنگ کرنے کو یونہی سکون سے کھڑی رہی،،،
واٹ،،، کوئی مزاق چل رہا ہیں یہاں،، بیری،،، جاؤ جا کر چینج کرو۔۔۔ وہ چلایا
نہیں کروں گی،،، کیا کرو گے،،، وہ لاپرواہی سے بولی۔۔۔
بیری ،،،بی سیریس،،،شارپ شوٹر ہوں ،،بغیر دیکھے آواز سن کر کئی میٹر تک نشانہ لگا سکتا ہوں،، تو کافی سارے کام آنکھیں بند کر کے کر سکتا ہوں،،،اریش نے جتایا۔۔
اریش نے اسے بازو سے تھام کر واش روم میں بند کیا۔۔
کچھ ہی دیر کے بعد وہ چینج کر کے باہر آئی۔۔۔
اریش نے اس تھام کر کاؤچ پر بٹھایا اور ٹاول سے اس کے بال خشک کرنے لگا۔۔۔
کیا ضرورت تھی مینڈکی پانی میں چھلانگ لگانے کی،،، اریش نے چھیڑا۔۔
واٹ،،، وہ بھنا کر اٹھنے لگی۔۔۔تب اریش نے دانتوں تلے لب دبا کر ہنسی روکتے اس کندھوں پر دباؤ ڈالتے اٹھنے سے باز رکھا۔۔
ویسے کرنے کیا گئی تھیں وہاں،، اریش پوچھ بیٹھا۔۔۔
تمھارے ریلٹیو نظر آئے تو ملنے چلی گئی ،،،،،بچوں کو تو چاکلیٹ بھی دی۔۔مطی نے اپنا حساب ابھی بے باک کیا۔۔
آ،،،،ہاں،،، مگر میں تو اپنی مینڈکی کے پیچھے ہی مینڈک بن کر پانی میں کودا تھا۔۔۔وہ معصومیت سے بولا،،،
حالانکہ تمھارے ریلٹیو تمھیں فوریسٹ سے ڈھونڈتے ہوئے اتنے قریب چلے آئے تھے۔۔
اب کی بار اریش نے ہنسی ضبط کرنے کی بلکل بھی کوشش نہیں کی تھی۔۔اور قہقہہ لگا کر ہنستا سامنے آیا۔۔
مطی نے بھی چہرہ جھکا کر ہنسی ضبط کی۔۔مگر وہ اسے چن سے تھام کر اپنے روبرو کر چکا تھا۔۔
ہیے ڈمپل گرل،،، اپنا میجکل ڈمپل تو دکھاؤ،،، جسے دیکھنے کی خاطر میں جانے کب سے تڑپ رہا ہوں،،،،،
مگر مطی نے اسے اگنور کیا،،، یو فول تمھاری بھی شرٹ بھیگ چکی ہے،، چینج کرو اسے،،،
کیوں کرو،، مجھے تو تمھاری پرواہ ہے،،، پر میری پرواہ کس نے کرنی ہے،، نہیں کروں گا چینج،،، وہ لاپروائی سے بولا۔۔
تم واقعی ایک بددماغ مینڈک ہو،،، اتارو شرٹ،،، نہیں تو پھاڑ دوں گی اسے۔۔۔مطی بھنا کر بولی۔۔
اچھا پھاڑ دو میں تو نہیں اتاروں گا،،
اوکے رائٹ،، مطی نے کالر سے دونوں سروں سے پکڑ کر شرٹ کھینچی تو بٹن ٹوٹ کر ہوا میں اچھلے تھے۔۔
شرٹ کے سارے بٹن ٹوٹ چکے تھے۔۔۔۔
اریش ہکا بکا اسے دیکھے گیا۔۔کیونکہ اسے واقعی اندازہ نہیں تھا وہ ایسا کر گزرے گی۔۔
اریش کا لال پیلا چہرہ دیکھ کر اب مطی پیٹ پکڑ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔۔
اریش نے مسکراتے شرٹ اتاری۔۔
اور غور سے وہ ہنسی کی کھنک محسوس کی اور ڈمپل دیکھے گیا۔۔
تبھی اس نے مطی کے سر پر ایک بم پھوڑ کر اسے سرپرائز دیا۔۔
ہیے بیری ریڈی ہو جاؤ،،، تمھیں سلطان مینشن لے کر جانا ہے۔۔
مطی کی ہنسی کو بریک لگی۔۔اب حیرت سے منہ کھولنے کی باری مطی کی تھی۔۔وہ یونہی بت بنی اسے دیکھنے لگی۔۔
یو نو واٹ ،،،،میں نے تمھارے ڈیڈ سے پرامس کیا تھا جس دن بیری مصیبت میں ڈیڈ ڈیڈ پکارنے کی بجائے اریش پکارے گی میں اسے لئے لوٹ آؤں گا واپس۔۔
وہ شرٹ لیس اس کے بہت قریب آیا ۔۔مطی گھبرا کر دیوار کے ساتھ پن ہوئی۔۔مگر وہ اس کی کمر کے گرد ہاتھ لپٹا چکا تھا۔۔
اور آج تم نے ،،،،،،یہی کیا ہے بیری،،، تم نے ان لبوں سے مجھے پکارا۔۔۔ اریش نے ہاتھ کے انگھوٹے سے وہ لب سہلائے۔۔
مطی کی سانس اٹکی۔۔
وہ بے خود اور مدہوش سا ہوا۔۔گردن کے گرد وہی ہاتھ لپٹا کر اس کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ الجھائے تھے۔۔
شدت بھرا لمس تھا اریش کا جیسے کوئی برسوں کا پیاسا شدت سے اپنی پیاس بجھائے۔۔
مطی کے رونگٹے کھڑے ہوئے ،،،
مطی مچلی،،، تبھی وہ نرمی سے پیچھے ہٹا،،، اور مطربہ کا سرخ پڑتا چہرہ دلچسپی سے دیکھا ۔۔۔
ہیے بےبی گرل مجھے مس کرو گی،،، اریش نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔۔تو وہ نگاہیں چرا گئی۔۔
اریش کے رگ و پے میں سرور دوڑا۔۔سنو بیری تم صرف میری ہو،،، ابھی تمھیں سلطان مینشن چھوڑ کر چلا جاؤں گا ۔۔۔تمھیں ہمیشہ کے لئے لے اپنے پاس لے کر جانے کے لئے ۔۔تمھارے گھر والے جب خود تمھیں میرے حوالے کریں گے۔۔خاص کر ویر سلطان کا بھروسہ جیت چکا ہوں میں،،، وہ خود تمھیں مجھے سونپے گا۔۔پورے بھروسے اور اعتماد کے ساتھ۔۔یہی چاہتا تھا میں ،،، اور دیکھو میں نے یہ کر دکھایا۔۔
مطی نے اس کے عمل سے اور اس کی باتوں سے سینے میں دھڑک دھڑک کر پاگل ہوتے دل کو بے قابو ہوتے پایا۔۔
چلو ریڈی ہو جاؤ۔۔۔
وہ کہتا باہر جانے کے انتظامات دیکھنے چلا گیا۔۔
مطی دھڑکتے دل سے تیاری کرنے لگی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سہانا کچن میں تھی۔۔ شاہ زین کاؤنٹر پر بیٹھا کافی دیر سے اس کے دماغ کا بھرکس نکالنے میں مصروف تھا۔۔
اس کے شوشے،،، جو وہ کب سے لگا بیٹھا تھا،، سہانا کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے تھے،، اور بوکھلاہٹیں عروج پر تھیں۔۔
اب کیا بنا رہی ہو سہانا،،، اس نے سو بار کا پوچھا سوال دوبارہ پوچھا۔۔
آلو،،،، ،،،،،،
میں دھمال ڈال لو،،،وہ جو آلو گوشت کہنے والی تھی شاہ زین نے اس کی بات بیچ میں ہی اچکی،،،
شاہ زین میں یہ آپ کے سر پر بجا دوں گی۔۔۔سہانا نے تلملا کر چمٹا اس کے آگے لہرایا۔۔
پھر میں بھی تمھاری بینڈ بجا دوں گا۔۔شاہ زین لاپروائی سے بولا۔۔
اچھا اور وہ کیسے،،، سہانا نے بات ہوا میں اڑائی۔۔
بہت سے طریقے ہیں،، ایک تو یہ ہے کہ ابھی کہ ابھی تمھیں اپنے بیڈ روم کی یاترا کروا دوں،،، وہ ذو معنی بولا۔۔
سہانا سٹپٹائی۔۔ شاہ زین آپ کچھ زیادہ ہی بولڈ اور بدتمیز ہو گئے ہیں ،،،،نہیں ؟
ہاں تھا تو نہیں،،،، پر تم نے بنا دیا ہے سہانا بےبی،،، وہ سرد سی آہ بھر کر بولا۔۔۔
ہاں میں نے تو جیسے کلاس دی ہے آپ کو بدتمیزی کی،،،، وہ اس الزام پر تلملائی۔
لو یاد نہیں یونی میں لائبریری میں دی تو تھی،، شاہ زین نے پھر اسے چھیڑا۔۔
حرم مما،،،، وہ چلائی،،، شاہ زین بوکھلایا۔۔۔اور کاؤنٹر پہ سے اتر کر منہ پر بدلا لینے والے سٹائل میں ہاتھ پھیرتا کچن سے واک آؤٹ کر گیا۔۔۔
سہانا قہقہہ لگا کر ہنس دی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ربیع ظہان کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کے روم میں آئی تھی۔۔
وہ پیکنگ کرنے میں مصروف تھا کیونکہ کل کی اس کی فلائیٹ تھی۔۔
ظہان تسی جا رئیے او۔۔۔وہ مسکین سی شکل بنا کر بولی تو ظہان کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی۔۔
تسی نئی جاؤ،،،، میں کس کے دماغ کی دہی کروں گی،،،
والله یہ معصومیت
ظہان کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔۔
اچھا ایک آخری بار مجھے آئسکریم تو کھلا دیں۔۔ اس نے فرمائش کی۔۔
اوکے کھلا دوں گا پہلے میرے کچھ سوالوں کے جواب دو پھر،،، ظہان سنجیدگی سے بولا۔۔
اوکے رائٹ،،، پوچھیں،، وہ بیڈ پر پھیل کر بیٹھ گئی،،،
ظہان نے غور سے پنک ڈریس میں اپنے پٹاخے کو دیکھا۔۔
ایک چیونٹی چیونٹا،، ہزبینڈ وائف اپنے گھر جا رہے ہیں،،، ڈور سے چیونٹا گزر گیا چیونٹی نہیں گزر پا رہی،، حالانکہ وہ تمھاری طرح چھوٹی سی ہے،،، بتاؤ کیوں،،،،؟
وہ جو خود کو بڑا توپ سمجھتی تھی واقعی الجھ گئی۔۔
ہار گئی ،،،آپ بتا دیں۔۔۔وہ منہ بنا کر بولی۔۔
کیونکہ چیونٹی نے ایڑھی والی جوتی پہن رکھی تھی،،، ہاہاہا ہاہاہا،،، آج ظہان کی باری تھی اس کا ہونق چہرہ دیکھ کر ہنسنے کی۔۔
اچھا ایک اور،،، اب سیریس سوال ہے ،،،،سٹوپڈ نہیں،، سچی،،،،
پوچھیں،،، وہ ظہان کو گھور کر بولی،،
انسان کو اپنے ادھورے خواب پورے کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے،،،
او،،،،، واقعی یہ تو سیریس سوال تھا،، وہ لمبا سا لیکچر زہن میں ترتیب دینے لگی ہی تھی جب ظہان نے شوشا چھوڑا۔۔
انسان کو دوبارہ سو جانا چاہئے ،،،ہاہاہا ہاہا ہا
آج ظہان نے سارا حساب بے باک کیا۔۔۔
یو،،، آپ بہت برے ہیں،، میرا مزاق اڑا رہے ہیں،، میں کٹی ہوں آپ سے،،
وہ رونی شکلیں بنا کر واک آؤٹ کر گئی ۔۔
ارے سنو میرے چھوٹے پیکٹ،،، وہ چلاتا اس کے پیچھے لپکا۔۔اب یقیناً آئسکریم کے ساتھ پزے برگر کی بھی پیلنٹی بھرنی تھی۔۔
Continue,,,,,,,,,,,,,
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
