Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

اک یہی آس ہی کافی ہے میرے جینے میں
دل نہیں آپ دھڑکتے ہیں میرے سینے میں
تجھ سے جو گھاؤ ملے دل سے لگا لیتے ہیں
کتنی لذت ہے تیری ذات کے غم پینے میں

اریش زخموں سے چور،، مگر اب بھی تڑپتی بے قرار نگاہیں اس دشمنِ جاں کے معصوم چہرے کا طواف کر رہیں تھیں
وہ بمشکل اب لاونج کے پلر سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔

ویر نے اپنی گن نکال کر اریش پر تانی تھی۔۔
وہ غصہ میں پاگل ہو چکا تھا۔۔

بیری میری بات سنو،، آئی لو یو،،، تم صرف میری ہو،، بس ایک مرتبہ مجھے معاف کر دو،،،
میں تمھارے ہر دکھ کا مداوا کروں گا۔۔
ہر غم کو خوشی میں بدل دوں گا۔۔

وہ ایک ایک بیلٹ کھانے کے بعد بس اپنی بیری سے مخاطب تھا اور مطی کی یہ خون خرابہ دیکھ جان ہر بن آئی تھی۔۔

تبھی وہ مطی کے قریب چلا آیا تھا۔۔
مطربی پیچھے بھاگی اور پیچھے پڑی ٹیبل سے فروٹ باسکٹ سے چاقو اٹھا لیا۔۔

خبردار میرے قریب آئے میں جان لے لوں گی اپنی،،، وہ جنونی سی چلا کر بولی۔۔

نو بیری کوشش بھی مت کرنا پھر سے خود کو ہارم پہنچانے کی،،، وہ اس دوران پہلی مرتبہ غصے سے دھاڑا۔۔
مطی اوتھی۔۔
زدہ ہو گئی۔۔۔

شاہ زر نے لپک کر مطی کو پکڑ کر اسے اپنے پیچھے چھپایا۔۔

شاہ زل پھر دانت پیس کر اس کی جانب لپکا۔۔

ہاؤ ڈئیر یو باسٹرڈ،،،،،

وہ اب بھی ڈھیٹ بنا ادھڑے جسم کے ساتھ مطی کے پاس جانے کی اسے مخاطب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔

اس سے پہلے ویر اس پر گولی چلاتا مطی کے منہ سے ایک دلخراش چیخ سنائی دی تھی۔۔پھر شاہ ویر نے جونئیر کا ہاتھ روکا تھا۔۔

ڈیڈ مت روکیں مجھے،،، شوٹ کر نے دیں اسے،،،، وہ بپھرا

جونیئر پاگل ہو گئے ہو چھوڑو اسے،، مجھے سننا ہے وہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے۔۔ اتنی مار کھا رہا ہے کس لئے،، سٹاپ دس،،، شاہ ویر نے جونئیر کو روکا۔۔

ڈیڈ پر،،، شاہ زل نے دانت پیسے،، باقی سب بھی دبخود سے کھڑے شاہ زل کا یہ جنونی روپ دیکھ رہے تھے۔۔
تبھی سلطان مینشن میں گاڑیوں کی آوازیں آئیں تھیں۔۔
کچھ دیر بعد ہی کرنل وسیم اور فورس کے کچھ جوان اندر آتے دکھائی دیئے۔۔

شاہ زل کو حیرت ہوئی۔۔مگر وہ سیدھا ہو کر الرٹ ہو گیا۔۔
شاہ ویر نے آگے بڑھ کر کرنل وسیم کا استقبال کیا اور ان سے ہاتھ ملایا۔۔
نوجوان اریش کی جانب لپکے ۔۔اور سہارا دے کر اسے کھڑا کیا۔۔

یہ آپ کیا کر رہے ہیں مسٹر شاہ زل سلطان،،، کرنل وسیم نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔

سر،،،، وہ الجھا،،، مگر بولا کچھ نہیں۔۔

مجھے نہیں پتہ کہ آپ لوگوں کو کیا پرسنل پرابلمز ہیں مگر اتنا پتہ کہ مسٹر اریش زبیر ایک بہت ہی قابل آفیسر ہیں،،، جس نے اپنے سگے ماں باپ کو جرم کرنے کی پاداش میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔۔ اور پاکستان کا بھی بہت ساتھ دیا اس چل رہے وومن ٹریفکنگ کے بڑے نیٹ ورک کو توڑنے میں،،

جی سر،، شاہ زل نے ایک نگاہ اریش زبیر کو دیکھا جو ابھی بھی صرف مطی کی جانب ہی دیکھے جا رہا تھا،،، مگر وہ شاہ زر کے پیچھے تقریباً چھپی کھڑی تھی۔۔

مسٹر اریش مجھے تمام سچائی پتا چکے ہیں کہ اس مائیکرو چِپ کو لے کر اور بہت سی چیزوں کو لے کر انھیں بھٹکایا گیا تھا۔۔مگر یہ اب اپنی غلطی سدھارتے ہوئے سب کچھ ٹھیک کر چکے ہیں،، یہاں اپنی بیوی کے لئے آئے ہیں،، اب آپ لوگ بھی اپنی پرسنل پرابلمز سلجھا کر ایسے مار پیٹ کی بجائے مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔۔۔
مجھے یہی کہنا تھا کہ میں ہر طرف سے تسلی کر کے ایک سپاہی کا ساتھ دینے یہاں چلا آیا جس نے پاکستان کی اتنی مدد کی مجھے اس پر بھروسہ ہے امید ہے آپ لوگ بھی کریں گے۔۔
اسے ہوسپیٹل لے کر چلیں،،،

کرنل وسیم کہتے اٹھے تھے اور اب بے ہوش ہوئے اریش کو لے کر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔

شاہ زل نے بال مٹھیوں میں جکڑے،،،
اور اس ظالم لڑکی کو دل میں مخاطب کیا جو ہر مرتبہ اس کے اعتبار کو ٹھیس پہنچاتی تھی۔۔
نیناں سلطان اگر اس میں تمھارا زرا سا بھی ہاتھ ہوا تو آئی سوئیر میں اب کی بار تمھیں چھوڑوں گا نہیں۔۔

وہ اپنے روم میں جا چکا تھا۔۔
مگر حبہ نے پورا سلطان مینشن اہنے سر پر اٹھا لیا تھا حقیقت پتا چلنے پر۔۔
اور اب دونوں ماں بیٹی رو رو کر ہلکان ہو رہیں تھیں۔۔

کرنل وسیم کی باتوں نے شاہ ویر،،، میر اور شاہ زر پر بہت گہرا اثر چھوڑا تھا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ آیا اریش کو ایک اور چانس دینا چاہئے بھی کہ نہیں۔۔

شاہ زر نے یہ بات کرنا چاہی مگر حبہ نے طوفان مچا دیا تھا۔۔

خبردار شاہ زر نام بھی لیا اس شخص کا اس گھر میں کسی نے،،، میں اپنی بیٹی کنوئیں میں پھینک دوں گی اپنے ہاتھوں سے،،،،،، مگر اس درندے کے حوالے کبھی نہیں کروں گی جس نے میری معصوم بچی کے ساتھ وہ سب کیا۔۔اسے زہنی مریضہ بنا دیا۔۔
اچھا ہوا وہ آ گیا اب جلد از جلد اس سے طلاق دلوائیں مطی کو،،،،،،،
حبہ نے اپنا آخری فیصلہ سنایا۔۔لہجہ اٹل تھا۔۔

ادھر شاہ زین کو پتہ چلا تو اس نے جو سہانا کے لئے پلین کر رکھا تھا وہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔۔۔
اس کو کسی اور دن پر ٹال کر وہ جو سہانا کو لئے گھر واپس آ گیا تھا۔۔
اب اتنی ٹینشن والی صورتحال میں وہ خود کے لئے کیسے سوچ سکتا تھا۔۔
گھر پہنچے تو ماحول میں ایک عجیب ہی تناؤ اور کھنچاؤ سا تھا۔

مطی پھر زہنی طور پر بے حد ڈسٹرب ہوئی تھی۔۔مگر اسے کیا پتہ تھا کہ ابھی اریش زبیر نے واپس آنا ہے
اس کے لئے پھر سے ڈائمن ڈیول بن کر،،،

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

تین دن گزر چکے تھے،،، گھر میں عجیب سا تناؤ تھا۔۔

شاہ زل نے سلطان مینشن کی سکیورٹی بڑھا دی تھی۔۔۔اور ایک مرتبہ پھر نیناں پر اعتبار نا کرتے ہوئے اس کی کال ڈیٹیلز اور سلطان اور حاتم مینشن سے آنا جانا چیک کر چکا تھا مگر نیناں کے اس میں انوالو ہونے کا کوئی کلو نہیں ملا تھا۔۔

وہ تو پھر بھی اعتبار نہیں کر رہا تھا اور اسی انتظار میں تھا کہ کوئی کلو ہاتھ آئے تو نیناں سے باز پرس کرے۔۔

آدھی رات کے وقت جبکہ سب اپنے اپنے روم میں تھے۔۔
نیناں روپ کے بیمار ہونے کی وجہ سے حاتم مینشن میں ہی تھی۔۔

سب اپنے اپنے کمروں میں سو رہے تھے اور شاہ زل ڈیوٹی پر تھا،، ایک ہیولہ سلطان مینشن کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوا تھا۔۔

وہ ڈائمن ڈیول تھا جو اپنی بےبی گرل کو لے جانے آیا تھا،،، اسے سب سے پہلے بیری کا پھر سے اعتبار جیتنا تھا باقی کسی کی بھی اس کو کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔

کتے بے ہوشی کے بسکٹ کھا کر پہلے ہی ہوش کھو چکے تھے،، پچھلی سائیڈ کے گارڈز کو بھی وہ وقتی طور پر بے ہوش اور سکیورٹی کیمرے ہیک کر چکا تھا۔۔
تاکہ اس کا کام مکمل ہونے تک شاہ زل سلطان تک کوئی اپ ڈیٹ نا پہنچے۔۔

وہ اندر آیا اور اب دعا کر رہا تھا کہ بیری اپنے روم میں ہی ہو بس اپنے ڈیڈ اور مما کے پاس نا دبکی بیٹھی ہو۔۔
بیری کی کھڑکی تک آیا تو وہ مضبوطی سے بند تھی وہ مسکرایا۔۔
اب دنیا کی کوئی ایسی کھڑکی یا دروازہ نہیں تھا جو اسے اس کی بیری تک پہنچنے سے روک دیتا۔۔

اس نے بڑی مہارت سے کھڑکی کھولی تھی۔۔
اندر آ کر گہرے سکون کا سانس لیا کیونکہ اس کی بیری سامنے بستر ہر موجود تھی۔۔
وقت نہیں تھا اسے جلد از جلد نکلنا تھا وہ بیری کے قریب آیا۔۔اور اس پر حاوی ہوا۔۔
وہ اٹھی اور پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے اتنے قریب منہ پر ہاتھ رکھے اسے دیکھا

وہ مچلی مگر منہ پر رکھے گئے رومال کی وجہ سے جلد بے ہوش ہو چکی تھی۔۔اریش نے اسے اپنی بانہوں میں بھرا
اور اتنی ہی خاموشی سے وہاں سے نکلا جتنی خاموشی سے وہاں پر آیا تھا۔۔

شاہ زر کے لئے ایک نوٹ ضرور چھوڑ کر گیا تھا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

جونیئر نے طوفان مچا رکھا تھا پورے سلطان مینشن میں۔۔
گارڈز کی بھی سختی آئی تھی۔۔

اپنے طور ہر ممکن جگہ پر ڈھونڈ چکا تھا مگر مطی کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں ملا تھا۔۔

مطی کی کڈنیپنگ کی وجہ سے سارا سلطان مینشن ہل چکا تھا۔۔

حبہ نے رو رو کر اپنی حالت بری کر لی تھی۔۔ شاہ زر مگر حبہ کو تسلیاں دیتا قدرے پرسکون سا تھا۔۔
نوٹ اس کی پاکٹ میں تھا جس میں اریش نے لکھا تھا۔۔

سر،،،،،
ہوپ سو آپ مجھے سمجھیں گے۔۔ میں مطربہ سے اس قدر شدید محبت کرتا ہوں کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے،، چاہے آپ کو غصہ آئے مگر آپ سے بھی کہیں زیادہ محبت ہے مجھ اس سے ،،، اس کے بغیر اب ایک پل بھی نہیں رہ سکتا۔۔اسی لئے اپنی امانت لیے جا رہا ہوں،۔۔مجھے پتہ ہے اس کی مینٹلی کنڈیشن بھی،،، سو وعدہ کرتا ہوں اس کا اتنا خیال رکھوں گا جتنا آپ بھی نہیں رکھ پائے ہوں گے،، وعدہ کرتا ہوں کبھی اس سے بدسلوکی نہیں کروں گا،، وعدہ کرتا ہوں آپ کی بیٹی کو کانٹوں سے تو کیا پھولوں تک سے آنچ بھی نہیں آنے دوں گا۔۔۔۔
وعدہ کرتا ہوں بہت جلد وہ اپنی ہر پریشانی میں ڈیڈ کی جگہ اریش اریش پکارے گی،، تب اسے لئے واپس لوٹ آؤں گا۔۔امید ہیں آپ مجھے معاف کر دیں گے۔۔
آپ کا گناہگار اریش۔۔۔

اسی لیے شاہ زر نے زیادہ ری ایکٹ نہیں کیا تھا۔۔کہ اسے کچھ تسلی تھی۔۔اسی لئے اس نوٹ کے بارے میں اس نے جونیئر کو بھی نہیں بتایا تھا۔۔

شاہ زل تن فن کرتا پہلے کرنل وسیم کے پاس گیا تھا اور انھیں ساری صورتحال بتائی۔۔

ناممکن شاہ زل ضرور آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے،، اسے تو میرے جوان کل ہی ائیرپورٹ پر سی آف کر کے آئے۔۔مگر پھر بھی تم ایک ایجنٹ ہو تسلی کر لو کہ وہ کل فلائیٹ میں گیا بھی ہے کہ نہیں۔۔

کرنل وسیم اطمینان سے بولے
وہ انھیں قدموں وہاں سے نکلا۔۔

پھر ائیرپورٹ پر فلائیٹس کی انکوائری کروائی تو پتہ چلا کہ واقعی وہ کل جا چکا ہے۔۔
مگر اسے پتہ تھا کہ ڈائمن ڈیول بھی منجھا ہوا کھلاڑی ہے ضرور کوئی گیم کھیل رہا تھا۔۔

اسی لئے شاہ زل نے یہ ماننے کی بے وقوفی ہر گز نہیں کی تھی کہ اریش زبیر لندن واپس جا چکا ہے۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

مطربہ نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔
صدمے سے بے حال ہوتے اس نے اٹھنا چاہا تب یہ دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔۔

کہ اس کہ دونوں ہاتھ اس انجان بے تحاشا خوبصورت کمرے کے خوبصورت بیڈ کے کراؤن کے ساتھ باندھے گئے تھے۔۔

زرا سا اوپر ہو کر دیکھا تو پاؤں بھی بندھے ہوئے تھے۔۔خوف سے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے جب اپنے بلکل قریب کسی اور وجود کی موجودگی محسوس ہوئی۔۔۔

اپنے بائیں جانب دیکھا تو بری طرح مچلی کیونکہ بالکل قریب نیم دراز اریش لبوں پر مسکان لیے دائیں گال کے نیچے دونوں ہاتھ رکھے دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ جیسے سامنے جانے کتنا خوش کن منظر تھا۔۔

یوں جیسے صدیوں کا پیاسا کوئی کنوئیں کو دیکھتا ہے۔۔
وہ بری طرح جھٹپٹائی۔۔

کھولو مجھے ،،،چھوڑو،، وہ چلائی اور شدید پینِک ہوئی۔۔

ہیے بیری،،، کالم ڈاؤن،،، جان ،،،اریش نے اس کو چھونا چاہا۔۔

دور رہو مجھ سے،،وہ چلائی،،، ڈیڈ،،، وئیر آر یو،،،

دور ہی ہوں بیری،،، کب چھوا تمھیں،،، وہ نرمی سے بولا

تو باندھا کیوں ہے مجھے کھولو،،، وہ پھر چلائی۔۔۔چلا چلا کر اس کا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔۔

صرف اس لئے کہ اس دن کی طرح تم مجھے ہارم پینچانے کے لئے خود کو نا نقصان پہنچاؤ بے بی گرل،،، وہ زرا قریب آیا۔۔

کیا چاہتے ہو اب مجھ سے،،،وہ غرائی۔۔

زیادہ کچھ نہیں،،، مائی ڈمپل گرل بس مجھے اپنا بےبی واپس چاہیے تم سے،،، وہ یوں اطمینان سے بولا جیسے چھوٹا بچا ہو اور مطی سے جھنجھنے کی فرمائش کر رہا ہو۔۔

مطی نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس پاگل آدمی کو دیکھا،،، جو اب اس کے تھوڑا اور قریب کھسک آیا تھا۔۔

یو باسٹرڈ،،، چیپ،، دور رہو مجھ سے،، چھوڑو مجھے،، وہ پھر چلائی،،، اب تو چلا چلا کر اس کا گلا بھی بیٹھ چلا تھا۔۔آواز بھاری ہو گئی۔۔وہ رونے لگی۔۔

اریش اس پر حاوی ہوا،،بہت نرمی سے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا۔۔۔

ہیے یو،،،سٹاپ کرائنگ رائٹ ناؤ،، کچھ نہیں کہوں گا،، اب کی بار بلکل تمھاری مرضی سے اور مکمل ہوش میں تمھارے قریب آؤں گا بیری۔۔کالم ڈاؤن بے بی،، وہ رونا بھول کر اس کی جانب دیکھنے لگی۔۔

جو لمحہ بہ لمحہ اس کے قریب تر آتا جا رہا تھا۔۔
احساس ہونے پر مطی پھر بری طرح مچلی،،، دور رہو مجھ،،،،،

اریش نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھا ہیے سٹاپ اٹ،،، جسٹ سٹاپ،، اب کی بار وہ زرا غصے میں بولا تھا۔۔کیونکہ وہ اپنا گلا خراب کر رہی تھی۔۔

سٹاپ بیری،،، بہت ہو گیا،، یو نو واٹ بس تمھیں زرا سا چھو کر فیل کرنا چاہتا ہوں کہ تم میرے پاس ہو بہت قریب ہو،،
مزاحمت مت کرنا،،،
ڈائمن بن گیا تو سب کچھ کروں گا،،،
اریش کو بس زرا سا چھونے دو،،،

وہ بکواس کر رہا تھا حالانکہ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔

اب وہ بے حد خوفزدہ ہوئی تھی اور سچ مچ مچلنا بند کر دیا۔۔تب اریش نے زرا سا جھک کر عقیدت سے اس کو ہونٹوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لیا۔۔
اور فورا نرمی سے پیچھے ہٹا۔۔

اس نے بہت سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں۔۔اریش گہرا مسکرایا پیچھے ہٹا اور جا کر کھڑکی میں کھڑا ہو گیا۔۔

اریش کی اس گستاخی سے وہ اب تک خوف سے آنکھیں بند کیے لیٹی تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔

باہر شدید برف باری ہو رہی تھی۔۔
اس نے اپنا ہوم ورک مکمل کیا تھا۔۔جانتا تھا سلطانز چپ نہیں بیٹھے گے اور انھیں ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔۔

یہ بھی اندازہ تھا کہ وہ یہی سمجھیں گے کہ وہ مطی کو لندن لے کر گیا مگر وہ تو یہیں تھا پاکستان میں
سوات سے نوے کلومیٹر دور کالام سے آگے ایک چھوٹے اے غیر معروف عکاقے کے
لڑکی سے بنے کاٹیج میں۔۔۔

شدید برف ہو رہی تھی۔۔
اس کے گارڈز اور پارکر آس پاس کے کاٹیج میں تھے۔۔اب بس وہ تھا اور اس کی بیری۔۔

وہ پھر اس کے قریب آیا اور نرمی سے اس کے بندھے ہاتھ اور پاؤں کھول دئیے۔۔
وہ تڑپ کر اٹھی اور دروازے کی جانب لپکی۔۔
اب وہ ہر طرح سے وہ دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
اور آج وہ اس دروازے کو کھولتے ہوئے بے تحاشا رو رہی تھی۔۔

اریش پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اس کے قریب آیا۔۔

بیری،،، نرمی سے اسے پکارا،،

وہ خوفزدہ سی پیچھے مڑی تھی۔۔

آئی ہیٹ یو،،، وہ پھنکاری۔۔

جانتا ہوں،،، وہ ایک قدم قریب آیا۔۔

مجھے تمھاری شکل سے تمھارے نام سے نفرت ہے،،، مطی نے پھر غصہ نکالا۔۔

جانتا ہوں۔۔۔وہ پھر اطمینان سے بولا

کھولو یہ ڈور،،، جانے دو مجھے،،، ورنہ ویر اس بار تمھیں نہیں چھوڑے گا،،، وہ دانت کچکچکا کر بولی۔۔۔

وہ قریب آیا۔۔۔مطی دروازے سے لگی۔۔اس نے ہاتھ دائیں بائیں رکھے۔۔

تمھارے لئے میں مرنے کو بھی تیار ہوں بےبی گرل،،،، وہ سھیمے سے اس کے کان میں بولا۔۔

مجھ پر اب ان جھوٹی اور فریبی باتوں کا زرا برابر بھی اثر نہیں ہونے والا۔۔۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔۔

میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو ڈمپل گرل،،،، محبت سے چور لہجہ تھا۔۔

مطی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔

آئی ہیٹ یو،،، وہ اپنے مجرم کی آنکھوں میں دیکھ کر ایک مرتبہ پھر غرائی۔۔۔ آنسوؤں نے گال بھگوئے

تمھیں معلوم ہے جاناں،،
کہ تم تو ایک قاتل ہو،،
میرے اندر کا ہنسا ہوا انسان،،
تم نے مار ڈالا ہے،،،

مگر اریش اس کے مزید قریب ہوا،، اب ان کے درمیان فاصلہ نا ہونے کے برابر تھا۔۔
اریش کی سانسوں کی مہک اسے اپنے ماتھے پر محسوس ہوئی۔۔

ہیے بےبی گرل مانتا ہوں تمھارا مجرم ہوں،،، جو چاہے سزا دو،، اپنے ہاتھوں سے جان لے لو،،، میں اپنے ہر جرم ہر گناہ کا مداوا کرنا چاہتا۔۔مگر ایک کام کرنا۔۔۔مجھے خود سے دور مت کرنا،، بہت تڑپا تھا،،، بہت رویا تھا تمھاری موت کے ڈرامے کو دیکھ کر،، مگر اب ایک پل بھی اپنی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دے سکتا۔۔۔
نو،،،، نیور
ایورر،،،،

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔۔
مطی نے منہ پھیر لیا تھا اس سے۔۔۔اس کی محبت سے۔۔ اس کی باتوں سے،،،،

قسم جو کھائی تھی اب کبھی کسی پر اعتبار نا کرنے کی۔۔

Continue,,,,,,,,,,

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺