Rate this Novel
Episode 16
تجھے بن جانے،،،،، بن پہچانے میں نے ردے سے لگایا،، پر میرے پیار کے بدلے میں تونے مجھ کو یہ دن دکھلایا،، جیسے برہا کی رت میں نے کاٹی تڑپ کے آہیں بھر بھر کے جلے من تیرا بھی کسی کے ملن کو ،،،انامیکا تو بھی تڑپے آگ سے ناتا،،،،،،،،نار سے رشتہ ،،، کاہے من سمجھ نا پایا مجھے کیا ہوا تھا،،اک بے وفا پر ہائے مجھے کیوں پیار آیا
تیری بے وفائی پر ہنسے جگ سارا گلی گلی گزریں جدھر سے
جلے من تیرا بھی کسی کے ملن کو، ،،،،انامیکا تو بھی تڑپے
ویر نیم غنودگی میں اس بیسمنٹ کے فرش پڑا تھا۔۔آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔۔ہر ممکن کوشش کی تھی اپنے آپ کو ہوش میں رکھنے کی،، جب غنودگی طاری ہونے لگی۔۔
تبھی سیڑھیوں سے قدموں کی چاپ نیچے کی جانب آتی سنائی دی۔۔ویر کی نظر میں ہر منظر دھندلا رہا تھا۔۔
ملگجا سا اندھیرا اب تیز روشنی میں بدلا تھا۔۔
تبھی اپنی شرٹ کے بٹن کھلتے محسوس ہوئے ،،دو نفوس اس کے اوپر جھکے ہوئے تھے۔۔وہ سن سکتا تھا۔۔مگر ہل نہیں پا رہا تھا۔۔
Parker,,,, do something is flowing fast,,,
،، ایک نسوانی انجان سی آواز سنائی دی۔۔
I’ve checked, no worries will be surgery.,,,,,
The bullet did not cause internal damage through the skin.,,,,,
ایک اور. مردانہ آواز آئی،،،، اب اپنا زخم صاف کیا جاتا محسوس ہوا،،، وہ ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔۔جب غصے کی انتہا سے وہ جھٹپٹایا اور وہ ہاتھ جھٹکے کی کوشش کی۔۔
مگر دو نرم ہاتھوں نے اس کی بھاری کلائیاں جکڑی۔۔
اوہہہہہ یہ ضدی غصے کے بھرے سلطانز،،،،، مرنے کو ہے پھر بھی چین نہیں،،، ضد دکھانے سے باز نہیں آتے،،
وہ جو کوئی بھی تھی آدھی اردو انگلش لہجے میں افسوس سے بولی۔۔
اب اسے انجیکشن لگائے جا رہے تھے،،،، اس کے زخم کو سٹچ کیا جا رہا تھا۔۔
پھر وہ مکمل بے ہوشی میں چلا گیا۔۔
نیناں اور پارکر ویر کے پاس سے اٹھے۔۔
Mam, you disloyalty to Julie,,,, Why did it,,,,
پارکر نے پوچھا،،،
I don’t know,,,,,,Do your job,,,
وہ سنجیدگی سے کہتی اوپر جانے لگی،،
اسے پتہ تھا انجیکشن بہت پاور فل تھے اب جلد وہ ٹھیک ہو جائے گا۔۔
وہ جیسے چپکے سے نیچے آئے تھے ایسے ہی چپکے سے اوپر چڑھے ۔۔جولی اور زبیر کو نہیں معملوم تھا کہ لینا ادھر موجود ہے اور کیا کرتی پھر رہی ہے۔۔
اس نے پارکر کو چپکے سے بھگایا۔۔
وہ اس پر گولی نہیں چلا پائی تھی۔۔دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑا تھا۔۔پھر جولی کو جان بوجھ کر بہانا بنا کر کان میں بول کر گئی تھی کہ آپ ہینڈل کریں میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔
جب گولی چلنے کی آواز آئی تو اس کی روح کانپ اٹھی تھی۔۔تب پتہ چلا وہ اس کے لئے کیا ہے۔۔شاید اس کی خود کی بھی زندگی سے بڑھ کر کچھ۔۔۔۔۔تبھی جولی سے غداری کرنے کی جرات کر بیٹھی تھی۔۔
مجھے مما کو سمجھانا ہو گا کہ آپ غلط سوچتی ہیں پاکستانیوں کے بارے میں،، ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا،، شاہ زل بہت اچھا ہے اب اس کے بڑون نے مما کے ساتھ برا کیا تو اس میں اس کا کیا قصور،،، میں منا سے بات کرتی ہوں،،، وہ دل میں خود سے ہمکلام جولی کے روم کی جانب آئی تھی۔۔
جب اپنی ماں کے شیطانی سے قہقہے پر قدم ٹھٹھک گئے۔۔
چیئرز،،،،،،، جولی اور زبیر نے وائن کے گلاس سے گلاس ٹکرائے،، یہ تمھارا سلطانز سے برسوں پرانا بدلہ پورا ہونے کی خوشی میں،، ہاہاہا ہاہاہا
جولی بھی قہقہے لگا کر ہنس رہی تھی۔۔
ویسے سو کمینے مرے ہوں گے تو تم پیدا ہوئیں ہو گی جولی جو اپنا بدلہ پورا کرنے کے لئے اپنے سگے بیٹے کو بھی دھوکہ دے گئی۔۔لینا تو خیر تمھاری بیٹی ہے ہی نہیں اسے بھی ساری زندگی دھوکے میں رکھا۔۔
وہ بیچارے سلطانز جو پہلے بھی تمھاری مکاری کا نشانہ بنے،، شاہ زر پر جھوٹا الزام لگایا پھر اس کی بیوی کا خون کرنا چاہا تو اس کے بھائی نے تمھاری ٹانگ پر گولی مار دی۔۔اور اب اپنی معزوری کا بدلہ لینے کے لئے تم نے اپنے بچوں کو ان کے بچوں کے پیچھے لگا دیا۔۔اور آخر کار انھیں مروا کر ہی سکون لیا،،، اس کے ساتھ ساتھ وومن ٹریفکنگ بھی کرتی رہی اور اپنے بچوں سے اس کے ثبوت تک مٹواتی رہیں،،،،
جے ہو جولی ماتے
جے ہو،،،،
وہ ہندؤں کے طریقے سے اس کی جے جے کار کرنے لگا۔۔
اور جولی فرضی کالر جھاڑتی مکروہ قہقہے لگا رہی تھی۔۔
اور نیناں کو وجود جیسے ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں تحلیل ہو رہا تھا۔۔
وہ لینا،،،، جولی حقارت سے بولی،،، اس کے ہاتھ کانپ گئے اس ایجنٹ کو مارتے ہوئے،، ضرور اس کے دل میں کچھ چل رہا ہے،، وہ شطرنج کی بساط کی وہ رانی تھی جو راجہ کو قابو کرنے اور شکست دینے کے لیے تھی۔۔
صرف استعمال کرنے لئے ایک مہرہ،،، اس لئے اب اس کو بھی راستے سے ہٹانے کا وقت آ گیا،،، بلکہ راستے سے ہٹانے کا نہیں کیش کروانے کا وقت ،،، ہاہاہاہاہاہا
نیناں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا اور اپنی چیخیں دبائیں۔۔۔اور سننے دیکھنے کی سکت نہیں تھی اسی لئے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ہوسپیٹل کے سرد سے کوریڈور میں شاہ زر پینچ پر بیٹھا بے آواز آنسو بہا رہا تھا۔۔
اس کے ساتھ ازھاد بھی تھا جسے جونیئر نے بھیجا تھا۔۔شاہ زر کے پیچھے۔۔
اچانک کندھے پر جانا پہچانا مہربان سا لمس محسوس ہوا،، سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے شاہ ویر سلطان کھڑا تھا۔۔
لہو ٹپکاتی آنکھوں سے۔۔
بگ بی،، وہ ویر سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔۔۔۔
ہیے حوصلہ کرو یار،،،، ویر نے اسے زبردستی خود سے الگ کر کے اس کے سرخ چہرے کو دیکھا،،،
وہ بگ بی وہ جولی،، شاہ زر نے بتقنا چاہا مگر اسے نمیرا اور ازھاد پیلے ہی سب کچھ بتا چکے تھے۔۔اسی لئے وہ ہہلی فلائٹ پکڑ کر ترکی آیا تھا۔۔
اب کی بار اس کی ٹانگ پہ نہیں گندے دماغ پر گولی ماروں گا۔۔ٹینشن مت لو،،،،
وہ میری پرنسز بگ بی،،،
شاہ زر ادھر میری طرف دیکھو،،، جو جو کہتا ہوں کرتے جاؤ،،، سمجھے ۔۔میں ابھی آتا ہوں۔۔ضروری کال کرنی ہے۔۔
کچھ ہی دیر بعد میرسن کے ایک بڑے قبرستان میں مطی کی آخری رسومات ادا کی جا رہیں تھیں ۔۔
یہیں اسی قبرستان میں ایک ،،،،محبت کو ہارا ہوا شخص بھی وہیں کھڑا تھا۔۔
اور اپنی محبت اور عشق کو منوں مٹی تلے دبتا دیکھ بے بسی،، صدمے اور خون روتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔
مگر اب صرف پچھتاؤں کے ناگوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا تھا جو ساری زندگی اسے ڈسنے والے تھے۔۔
تبھی اس کا فون رنگ ہوا۔۔اس نے اٹھا کر کان کو لگایا تو لینا تھی۔۔
مگر وہ بھیگی آنکھوں سے چونکا کیوں کہ لینا دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔۔
ہیے ڈول کیا ہوا ،،،،لینا بتاؤ مجھے ۔۔۔وہ تڑپا
برو میں کچھ نہیں بولوں گی،، بس تمھیں کچھ دکھانا ہے،،، جلدی سے چلے آؤ۔۔ابھی ،،،وہ ہچکیوں کے دوران بولی،،،
پر لینا کچھ تو بتاؤ،، تمھیں کچھ ہوا تو نہیں ۔۔وہ جلدی سے قبرستان سے نکلتا بولا
محبت تو کھو ہی چکا تھا اب جو دنیا میں واحد رشتہ تھا ،،،بہن کا اسے نہیں کھونا چاہتا تھا۔۔
سو فوراَ وہاں سے نکلا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
شاہ زین حاتم مینشن سے گاڑی لے کر نکلا تو اپنی مما کو فون کیا ۔۔۔حرم نے کال رسیو کی۔۔
یس میرے شیر،،،،
مما مجھے اپنے روم سے کچھ ضروری چیزیں لینی،، ہٹائیں اسے وہاں سے۔۔ شاہ زین کو لگا ابھی بھی وہ اسی کے روم میں ہوگی۔۔
بے فکر ہو کر آ جاؤ شاہ زین،،، سہانا تمھارے روم میں نہیں مطی کے روم میں رہ رہی ہے،،، حبہ نے ہی کہا تھا۔۔
اوکے مما،، اس نے فون رکھا۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ مخصوص سٹائل میں الائچی چباتا پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے سلطان مینشن کے لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔۔پلوشہ پریشان سی لاؤنج میں ہی بیٹھی تھی۔۔ْ
بڑی مما کیا ہوا آپ کو آپ اتنی سیڈ کیوں ہیں ۔۔وہ پلوشہ کے پاس آیا۔۔
پتہ نہیں پہلے شاہ زر بزنس میٹنگ کے سلسلے میں دبئی چلا گیا اب تمھارے بڑے پاپا بھی،،،،،،، اچانک کل رات تمھارے بڑے پاپا بھی بغیر کچھ کہے سنے چلے گئے،،، اور کتنی مرتبہ کہا ہے ایسے کہیں نا جایا کریں،،، اب میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔وہ جھنجھلائی
او تو بڑی مما یہ کہیں ناں کہ بڑے پاپا کو مس کر رہی ہیں،،، اس نے گہری مسکان لئے چھیڑا،،، تو اس کا قاتل ڈمپل کا منظر پھر کسی نے اپنے دل میں اتارا۔۔
چل ہٹ بدمعاش،،، پلوشہ نے اسے ایک دھپ رسید کی،، تم پر بھی جونئیر کا سایہ پڑ گیا ہے کیا،،، پلوشہ ہنسی اصلی بات تو یہ تھی کہ پل پل بیٹے کو مس کر رہی تھی،،، اور اب بیٹے کے ابا جی بھی غائب تھے تو مزید موڈ خراب ہوا۔۔۔
شاہ زین پلوشہ کا منہ چوم کر اٹھا تو وہ مسکرا دی،،
شاہ زین اپنے روم میں آیا،، بیڈ پر نظر پڑی تو خود سے بھی شرمندہ ہو کر نظر چرائی،، واقعی غصے میں انسان اندھا ہو کر کتنا کچھ غلط کر بیٹھتا ہے۔۔
غصہ اپنی جگہ مگر اب وہ اپنی اس قدر بدتمیزی پر پچھتا رہا تھا۔۔
اپنی ضروری چیزیں لیں۔۔باہر نکلا
مما،،،، اس نے حرم کو آواز دی
کچن میں ہوں شاہ زین،،،،،،، حرم نے کہا مگر وہاں موجود سہانا کے دل نے ایک سو بیس کی رفتار پکڑی۔۔
کچن سے آواز آئی تو وہ کچن کی طرف گیا۔۔
کچن میں داخل ہوا تو ایک سرسری سی نظر نے اچھا خاصا جھٹکا لگایا اسے۔۔
سہانا بےبی،،،حرم کے ساتھ والی ڈائینگ چئیر پر مطی کے سادہ سے ییلو کلر کے شلوار قمیص میں حجاب سٹائل دوپٹہ اوڑھے سر جھکائے بیٹھی سبزی کاٹنے میں مصروف تھی۔۔بلکہ یوں کہنا بہتر ہوگا کہ سبزی سے جنم جنم کا بدلہ لیتے ہوئے اس کا کچومر نکال رہی تھی،، ۔
اوہہہہہہہہ تو یہ بات ہے۔۔۔ شاہ زین کو دل میں ہنسی آئی مگر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے رکھا۔۔
مما میری نیو شرٹس کدھر ہیں،،، اس نے نارمل سا پوچھا۔۔
وہ میں نے بیگ میں ڈال دیں تھیں میرے روم میں ہے بیگ،،،
اوکے مما،،، وہ جانے لگا۔۔
سہانا تو شرمندہ سی سر مزید جھکا گئی تھی۔۔
شاہ زین کھانا کھا کر چلے جانا ،،،،حرم نے کہا،،
رہنے دیں مما،،، ابھی مجھے کچھ عرصہ یونہی دربدر رہنے دیں،،، کچھ لوگوں کو سکون مل جائے شاید،،،، وہ ٹونٹ کرنے سے خود کو باز نہیں رکھ سکا۔۔
اؤچ،،،، سہانا کی انگلی کٹی تھی۔۔کیونکہ وہ بار بار پہلو بدل رہی تھی۔۔
شاہ زین ،،،حرم نے تنبیہی آواز میں اسے پکارا۔۔
اس نے ایک گہری نظر اس کے سرخ چہرے اور بھیگی پلکوں کو دیکھا اور وہاں سے فوراً ہٹا۔۔
اونہہہہہ،،، ابھی کہاں سہانا بےبی ابھی تو باری آئی ہے شاہ زین سلطان کی،،، دیکھتی جاؤ،،، آگے آگے ہوتا کیا ہے،،، کیا کرتا ہوں میں تمھارے ساتھ ۔۔وہ گہرا مسکرایا
اور سلطان مینشن سے باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اریش ہیلی سے انطالیہ پہنچا تھا۔۔
اریش نے نیناں کو کال ملائی جو کہ پہلی بیل پر رسیو کر لی گئی ۔وہ اب بھی زار و قطار رو رہی تھی۔۔
کدھر ہو لینا میں آ گیا،،،، وئیر آر یو ڈیم اٹ،،، وہ چلایا،،
میں بیچ والے کاٹیج میں ہوں جینفر ساتھ ہے میرے،، جلدی پہنچو برو،،، وہ اب بھی سسکی۔۔
اریش آندھی بنا گاڑی بھگا کر بیچ پر بنے کاٹیج میں پہنچا۔۔
لینا،،، لینا،، وہ دھاڑا،، وہ سامنے ہی چھوٹے سے لاؤنج میں بیٹھی رو رہی تھی۔۔
وہ بھاگ کر اس کے قریب گیا،، گھٹنوں کے بل زمیں پر بیٹھ کر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیلے میں بھرا،،
ہیے میری ڈول کیا ہوا،،، کس نے رلایا میری بہن کو،،، بتاؤ مجھے،،، میں زندہ گاڑھ دوں گا اسے،،، وہ غصے سے بولا
نیناں نے اپنا موبائل اٹھایا اور وہ ویڈیو ریکارڈنگ آن کر کے اریش کی آنکھوں کے سامنے کی جو وہ جولی اور زبیر کی ریکارڈ کر چکی تھی۔۔
ماں کا یہ شیطان صفت روپ دیکھ کر اس کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید ہوا تھا ۔۔ابھی ابھی تو بیری کو دفن ہوتے دیکھ کر آ رہا تھا۔۔
کیا ہوتا ہے؟ لینا اور ڈائمن جیسے انسانوں کو جب ان کو پتہ چلے کہ
ان کا ہونا غلط تھا،،
ان کی زندگی کا مقصد غلط تھا،،
وہ ساری زندگی ایک غلط راستے پر چلتے رہے،، غلط لوگوں میں رہے،،
غلط لوگوں پر بھروسہ کیا۔۔
کسی کی ہاتھ کی کٹھ پتلی تھے،،، اور اریش اسے تو اس کی سگی ماں نے ساری زندگی دھوکے میں رکھا،،،
مہرے،،، جو کہ بری طرح اپنی زندگی اور محبت سے پٹ چکے تھے۔۔
اریش نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے،،، مگر جلد ہی ہوش آیا۔۔
پھر نیناں کو بازوؤں سے تھام کر جھنجھوڑا۔۔جس کے قطار در قطار آنسو خشک ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔
سنو نیناں،،، میری طرف دیکھو،،، نیناں نے اریش کی آنکھوں میں دیکھا،، کوئی کچھ بھی کہہ لے میری نظر میں تم ہمیشہ میری بہن میری ڈول ہو ۔۔اب غور سے سنو،،
آج سے تم نیناں درانی ہو ،،ویر سلطان کی نیناں،،،سمجھیں،، اپنا نیناں درانی والا آئی ڈی کارڈ یوز کرنا،، اور اب جاؤ نکالو اسے وہاں سے۔۔ میں اپنی محبت کھو چکا ہوں،، تم یہ غلطی مت کرنا نیناں،، بچا لو اسے،، نہیں تو ساری زندگی خود کو معاف نہیں کر پاؤ گی،،،،
نیناں نے اریش کی طرف دیکھا ،،،جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ وہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔۔مگر
سنو نیناں میں اور جینفر جولی کو ڈاج دیں گے،،، اس نے مما کہنے کی بجائے نفرت سے جولی کہا جو کہ جولی کی سب سے بڑی ہار تھی۔۔ تم ویر کے بندوں سے رابطہ کر کے اسے لئے وہاں سے نکلو گی،، اس کے ساتھ پاکستان چلی جانا،، جس عورت نے اپنے سگے بیٹے کو نا چھوڑا وہ تمھاری کیا سگی ہو گی،، نہیں چھوڑے گی تمھیں اسی لئے اسی کے ساتھ پاکستان چلی جانا۔۔
ابھی اس کو لے کر اپنے اسی ٹھکانے پر جانا فوریسٹ میں جو تمھیں اور صرف مجھے پتا ہے،، وہاں سے نکلنے میں آسانی ہو گی مجھے پتہ ہے جولی اور زبیر کے کتے پورے ملک میں کتوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں،،،
برو وہ بہت ضدی ہے کبھی میری مدد قبول نہیں کرے گا۔۔نفرت کرے گا مجھ سے،، شکل تک نہیں دیکھے گا میری،،،
پھر اپنے اصلی حلیے میں واپس آ جاؤ،، تمھاری آواز ،،آنکھوں کا کلر،، سکن اور بالوں کا کلر ،،،وہ نہیں پہچان پائے گا،،، منہ پر نقاب کر لینا۔۔اب جلدی کرو اس سے پہلے کے وہ دونوں اسے مزید نقصان پہنچائیں،، جینفر تم بلکل لینا والا حلیہ بناؤ،، اور میرے ساتھ آؤ
نیناں تم نکلو،،
نیناں نے سارا میک اپ ریموو کر کے بلیک جیکٹ اور بلیک پینٹ پہنی،،، سکارف سے منہ ڈھانپا اور کاٹیج سے نکلی،،
گاڑی میں بیٹھے بیٹھے نمیرا کو کال ملائی جو اپنے آدمیوں کے ساتھ ویر کو ہر طرف ڈھونڈ رہی تھی۔۔
اس نے کال رسیو کی،،
سنو اگر ویر سلطان کو بچانا چاہتی ہو تو میسج کیے گئے ایڈریس پر پہنچ کر مجھے کال کرنا ۔۔۔
تم کون ہو،،،،
ویل وشر،،، کہتے نیناں نے فون رکھا،،،
اریش نے جولی کو کال ملائی،، کال رسیو کی گئی،، جلو چہکی۔۔
ڈائمن مائی سن،،،،
ڈائمن نہیں اریش،،،، مطربہ شاہ زر سلطان کا اریش،،،،، جولی آئی ہیٹ یو،،، ماں کہلانے کے لائق نہیں ہو تم،،، ایک خود غرض عورت ہو،، ماں کے نام پہ دھبہ ہو تم،،، وہ نفرت سے بولا
جولی ہق دق ہوئی مگر سنبھلی،،
یہ کیا کہہ رہا ہو ڈائمن،،، ضرور تمھیں دشمن نے بھٹکایا ہے اپنی ما،،،،،،،
او کم آن،،،، بھٹکا تو تم رہی تھیں اتنے سالوں سے ہمیں ،،مگر اب نہیں،، اب میں حقیقت جان چکا ہوں،،، میں اور لینا ویر سلطان کو لے کر جا رہے ہیں،، یہاں سے ،،،،اس کے خاندان کے حوالے کرنے،،، روک سکو تو روک لو۔۔
اچھا اتنی جرات ہے تم میں،،، وہ پھنکاری،، چیلنج قبول کیا،،، اب لے جا کر دکھاؤ اسے۔۔
اریش کا دل کیا اس بے حس عورت کے سو ٹکڑے کر دے جو اب بھی زرا بھی شرمندہ نہیں تھی۔۔
اسے تو لگا تھا شاید میں گھبرا جائے،، معافی مانگنے لگے،،، گڑگڑانے لگے،،
پر یہاں تو الٹا چیلنج کیا جا رہا تھا،،
لے جا کر دکھاؤ نہیں ،،جولی،،، لے جا چکا،، اب روکو کر دکھاؤ،،،
وہ کہتا فون رکھ چکا تھا۔۔۔
جینفر کو لئے ،،،،،ساتھ گاڑی لئے نکلا،،،
کوئی نہیں بول سکتا تھا کہ اس کے ساتھ لینا نہیں،،، اب جینفر کا حلیہ لینا جیسا تھا،،
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
نیناں اس بلڈنگ میں پہنچی تو حسبِ توقع وہ تقریباً خالی تھی اور اریش کی چال کامیاب ہوئی تھی۔۔
جولی ،زبیر اور ان کے کتے بغیر بیسمنٹ چیک کیے وہاں سے اریش کے تعاقب میں نکل چکلے تھے۔۔
عمارت میں جو چند آدمی تھے بہت جلد نیناں انھیں موت کی نیند سلا چکی تھی۔۔
ویر کو ہوش آ چکا تھا،، شرٹ کے بٹن کھلے تھے اور ڈریسنگ کی گئی تھی ۔۔اٹھ کر دیوار سے ٹیک لگائی اور نیم دراز ہو گیا۔۔
تبھی سیڑھیوں سے آہٹ سنائی دی۔۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک لڑکی تھی۔۔ مگر چہرے پر نقاب کلرڈ آنکھیں،،،
وہ پہچان نہیں پایا تھا۔۔
جلدی اٹھو ویر سلطان،،، ہمیں نکلنا ہے یہاں سے ،،،وہ انگلش ملے لہجے میں اردو میں بولی،،
اور میں تم پر بھروسہ کیوں کروں،،، وہ پھنکارا۔۔
کیونکہ یہ سوچنے کے لئے تمھارے پاس وقت نہیں ہے کہ بھروسہ کروں یا نا کروں۔۔۔وہ بھی تڑخ کر بولی
کون ہو تم،،،،،
ویل وشر سمجھ لو،،، وہ اطمینان سے بولی
وہ تلخیہ اور تمسخرانہ سا ہنسا۔۔
میرا اس شہر عداوت سے تعلق ہے جہاں لوگ سجدوں میں بھی، لوگوں کو برا سوچتے ہیں
اچھا،،، یہاں کب سے دھوکے بازوں میں ویل وشرز پیدا ہونے لگے،، اس کی تلخ لہجے پر نیناں کے دل نے ایک بیٹ مس کی،،
جس دھوکے باز کہ بات کر رہے ہو اس بیچاری کی تو خود کی پوری زندگی ایک دھوکہ تھی،،، خیر مر گئی ہے وہ
نیناں سکون سے بولی
ویر نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے گھورا تبھی نیناں کا فون بجا
جس کا اسے انتظار تھا۔۔
نمیرا کا ۔۔۔اس نے کال یس کر کے ویر کو فون دیا۔۔
ویر نے فون کان کو لگایا۔۔
سر یہ سچ کہہ رہی ہے نکلیں وہاں سے وقت نہیں ہمارے پاس۔۔
یہ کہہ کر نمیرا نے فون رکھا،،
نیناں نے اس کے آگے اس کی بیلٹ اور گنز بڑھائیں جو کہ اس نے چپ چاپ تھام لیں،، وہ بمشکل اٹھا،،
اور وہ دونوں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھے۔۔
ویر کے آدمی بھی پہنچ چکے تھے۔۔
باہر آکر ویر کے آدمیوں نے سہارا دے کر اسے گاڑی میں بٹھایا۔۔
اور گاڑیاں فورا وہاں سے نکالیں۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
