Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

بس بہت ہو چکا تماشا جونئیر ،،،،بہت بد سلوکی کر چکے تم اور بہت سہہ لیا ہم نے اب بس،،،،
حرم روتی بلکتی نیناں کو اپنے روم میں لے جا چکی تھی۔۔

ایک ماہ ہو گیا تمھاری بدسلوکی ہم اس وجہ سے برداشت کر رہے تھے،،، کہ کبھی نیناں نے اپنے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکالا،،، مگر آج اس کے آنسوؤں نے تمھارا ہر بدسلوکی اور ستم کا پول کھول دیا ہے۔۔۔
پری نے اگلا پچھلا حساب بے باک کیا۔۔

مما میں نے کیا کیا ہے،،، وہ جھنجھلایا،،،

شٹ اپ ویر،،، اب بھی ہوچھ رہے ہو کہ تم نے کیا کیا ہے،،، نیناں کے ان آنسوں کا حساب دو ،،،،جو اس کی آنکھوں سے گر رہے تھے۔۔
تم نے دیا کیا ہے اسے صرف ایک گھٹن زدہ بوجھ بنے رشتے کے،،
پری چلائی۔۔

مما پلیز،،، ویر نے کڑوا سا منہ بنایا۔۔

جونئیر،،، ہمیں پتہ ہے تم اب تک اس پر اعتبار نہیں کر پائے اب بھی کہیں ناں کہیں تمھارے دل میں اس کے لئے خفگی ہے،،، تو اس کھوکھلے رشتے کو آگے بڑھانے سے بہتر ہے اسے یہیں ختم کر دو،،، طلاق دے دو نیناں کو،،،
میر سرخ چہرہ اور تنی رگیں لیے ویر سے مخاطب ہوا ،،،

ویر کے پیروں نیچے زمین کھسکی،،

چھوٹے پاپا،،،،

اب اس کا میٹر شارٹ ہوا تھا،،، چہرے پر غصے کی انتہا سے سرخی چھائی۔۔

اوکے رائٹ،،،، چھوٹے پاپا،،،،،،،،اگر میں آپ سے کہوں کہ حرم مما کو چھوڑ دیں تو ایسا کرنا تو دور کی بات ہے آپ کے منہ سے ہاں بھی نکلی تو میں ابھی نیناں کو چھوڑنے کو تیار ہوں۔۔۔

میر کو چپ لگ گئی۔۔۔

کیا بکواس کر رہے ہو جونئیر ہوش میں تو ہو،،، شاہ ویر کو میر کا دھواں دھواں چہرہ دیکھ کر شدید طیش آیا۔۔

میں تو حرم سے محبت کرتا ہوں جونئیر جبکہ تم،،،،،،

میں بھی نیناں سے محبت کرتا ہوں چھوٹے پاپا،،، اس سے الگ ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔

مگر میں حرم کے آنسوؤں کا سبب نہیں بنتا جونئیر۔۔۔میر نے جتایا۔۔

یہ میرا اور میری وائف کا پرسنل میٹر ہے جسے میں سورٹ آؤٹ کر لوں گا،،،،
ڈیڈ،،،،، رات تک میرے آنے سے پہلے نیناں میرے روم میں نہیں ہوئی تو میں اسے اٹھا کر اپنے فارم ہاؤس لے جاؤں گا۔۔

وہ کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔

دیکھا شاہ آپ نے ،،،آپ کے بیٹے کی دھونس اور دھمکیاں،،، پلوشہ آگ بگولا ہوئی۔۔

پلیز پری ،،،،میر،،،،،،وہ تو ہے ہی سرپھرا،، بددماغ،،، یار تم لوگ تو بڑے ہو کر زرا سمجھداری سے کام کو،،، یہ مسئلہ اس طرح غصے سے حل نہیں ہوگا۔۔

پلیز برو،،، لاسٹ چانس دے رہا ہوں میں جونئیر کو،،، صرف آپ کی وجہ سے،، سمجھائیں اسے،،،
میر اپنے روم میں گیا تھا۔۔

شاہ ویر غصے سے بھری اپنی پری کو ہاتھ تھام کر اپنے روم میں لایا تھا تاکہ وہ کچھ ریلیکس ہو جائے۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

مطی بے چینی سے روم میں ادھر ادھر چکراتی پھر رہی تھی۔۔چھوٹی سی جان جیسے کانٹوں پر گھسیٹ لی گئی تھی۔۔
شدید غصے میں دانت بھی کچکچا رہی تھی۔۔

مینڈک،،، بندر،،،
بلکہ نہیں کچھوا کہیں کا سست نکما ایڈیٹ،،، وہ اپنی ہی حالت سے سخت جھنجھلائی بیزار سی اریش کو کوسے جا رہی تھی۔۔

کیا کروں،،، بھول گیا،،،، بھاڑ میں جائے،،، خود کا عادی بنا کر اب کہاں دفعان ہو گیا۔۔

جانے کیسے کیسے خیال دل و دماغ کو ستا رہے تھے۔۔
کیا کروں؟ سو بار کو دہرایا سوال دل میں پھر دہرایا۔۔

پھر تنگ آ کر فون اٹھایا،،، اور اس کا نمبر ڈائل کیا جو کہ پہلی ہی بیل پر رسیو کر لیا گیا تھا۔۔
مطی کو چپ لگی۔۔۔

ہیے بیری،،، اب بولو،،، جان،،،، تمھیں تو تمھاری سانسوں کی کھنک سے پہچان لوں میں،،، جانتا ہوں اٹس یو،،،، مس کرو رہی ہو بےبی گرل،،،؟
خمار آلود لہجے میں پوچھا گیا سوال،،،

مطی کے ہتھیلیاں پسینے میں بھیگیں۔۔ مگر ازلی غصہ عود کر آیا۔۔

یو ایڈیٹ،،، مینڈک بندر کہیں کے،،، کال کیوں نہیں کی مجھے،،،، کہ چار دن کا تھا عشق کا بھوت،،،،، جو جاتے ہی کسی میم کو دیکھ کر بھک سے کہیں اڑ گیا۔۔وہ غرائی

اریش کا قہقہہ بے ساختہ تھا،،، ایک مرتبہ ہاتھ تو لگ جاؤ ڈمپلی کوئین،،، پھر بتاؤں گا بہت اچھے سے کہ بھوت چار دن کا ہے یا چار سو سالوں کا۔۔۔اور کتنا پاگل ہے۔۔۔
لہجہ ذومعنی تھا۔۔۔
مطی گڑبڑائی۔۔۔

مرو تم مینڈک کہیں کے،،، دانت پیس کر بولی۔۔

مرتا تو ہوں اپنی مینڈکی پر،، اور کتنا مروں،،؟ وہ پوچھ بیٹھا۔۔

لگتا تو نہیں ،،،مطی نے بات ہوا میں اڑائی۔۔

ثبوت چاہئے بےبی گرل کو میری محبت کا،،، انداز میں چیلنج تھا۔۔۔

یقینا،، کیونکہ میں بھول گئی ہوں اریش نامی شخص کو،،، اطمینان قابلِ دید تھا مطی کا۔۔

اوکے رائٹ،، آٹھ گھنٹے بےبی گرل،،، صرف آٹھ گھنٹے دو،،، پھر آ کر دیتا ہوں ثبوت،،،، اس بار تمھارے وجود پر اپنی محبت کا ایسا رنگ چڑھاؤں گا کہ پھر نہیں بھول پاؤ گی اریش نامی شخص کو ۔۔۔

مطی کے ارے ارے کہنے کے باوجود وہ فون رکھ چکا تھا۔۔وہ کانوں تک سرخ ہوئی،
یقینا اس نے جانے انجانے بھڑ کے چھتے میں ہاتھ مارا تھا۔۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ گئے رات سڑکیں چھانتا پھرتا رہا۔۔

اپنا ضروری کام کیے تقریباً گیارہ بجے واپس آیا تھا۔۔
ایک بڑی مچھلی پر ہاتھ ڈالا تھا۔۔جو کہ ڈرگز ڈیلنگ میں ملوث تھی۔۔
اسی دوران آج اسے گہری چوٹ بھی لگی تھی۔۔ سینے پر دائیں طرف۔۔

سارا غصہ ساری کڑواہٹ،، سارا اشتعال ٹارچر سیل میں نکال آیا تھا۔۔

رات کی خاموشی میں سلطان مینشن داخل ہوا تو اتنی تکلیف کے باوجود یہ سوچ زیادہ بے چین کر رہی تھی کہ اس کا سکون اس کے ہر درد کی دوا جانے روم میں موجود ہوگی کہ نہیں۔۔
نہیں ہوئی تو اٹھا لاؤں گا،، جبڑے بھنچ گئے۔۔

کلک کی آواز سے ڈور ان لاک ہوا۔۔روم میں داخل ہوا تو ملگجا سا اندھیرا تھا۔۔
روح تک میں سرشاری اور سرور کی سی کیفیت دوڑ گئی۔۔کیونکہ وہ وجود بیڈ پر موجود تھا،،، جس کی موجودگی ہی اس کے جینے کا سبب بن چکی تھی۔۔

پیچھے مڑ کر ڈور لاک کیا۔۔اور قدم قدم چلتا بیڈ تک آیا۔۔۔
شرٹ اتاری اور بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔۔اپنے بائیں طرف دیکھا۔۔وہ نیند میں بھی بے چین سی تھی۔۔

جیسے نظروں کی تپش سے پگھلی ہو۔۔
جانے کیوں مگر ویر کو وہ زرد چہرہ لیے تھوڑی کمزور سی لگی۔۔
کمر میں ہاتھ ڈال کر نرمی سے اپنی جانب کھینچا۔۔۔
وہ کچی نیند میں ہی تھی شاید ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔

آپ،،،،
قریب تو تھی ہی۔۔۔ویر نے آستین ہٹا کر بازو پر پڑتا سرخ نشان دیکھا جو اس کی وحشت کا نتیجہ تھا۔۔

آئم سوری،،،،،،فائنلی ویر کے منہ سے گولڈن ورلڈ ادا ہوئے۔۔قریب آؤ نیناں،،،، بھاری گھمبیر لہجہ
نیناں کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی۔۔
مگر پھر بھی قریب کھسک آئی۔۔

سو جاؤ،،،، اپنے کندھے پر سر رکھا ،،،تبھی نیناں کو دایاں کندھا پٹیوں میں جکڑا نظر آیا۔۔

یہ،،،، یہ آپ کو چوٹ لگی ہے،، وہ لیٹتی لیٹتی مچل کر پھر اٹھ بیٹھی۔۔۔آنکھوں میں خوف اور پریشانی تھی۔۔

معمولی سی ہے،،، سو جاؤ،،، ویر نے نرمی سے کہا اور دوبارہ اس کا سر اپنے کندھے پر رکھا۔۔
تبھی وہ ایک مرتبہ پھر جھٹکے سے اس کی پناہوں سے نکلی۔۔اور بھاگ کر جا کر واش روم میں دم لیا۔۔
صبح سے ابکائیاں لے لے کر نڈھال ہو چکی تھی۔۔

مگر متلی اور قہ رک نہیں رہی تھی۔۔
ویر کا اتنی بڑی اور خاص تبدیلی آنے پر دل بلیوں اچھل پڑا،،،،
وہ نڈھال سی باہر آئی۔۔

نیناں کو بھی خود میں آنے والی تبدیلی کا احساس ہو چکا تھا،، مگر ابھی تو خود سے بھی نظریں چرائے پھر رہی تھی۔۔کسی سے کیا شئیر کرتی۔۔

کیا ہوا،،،؟ تم ٹھیک تو ہو،،، ویر نے جان بوجھ کر پوچھا۔۔۔

جی ٹھیک ہوں،،شاید فوڈ پوائزننگ ہے،،، وہ صاف دامن بچا گئی،،، مگر ویر بھی اپنے نام کو تھا۔۔۔زندگی کی سب سے بڑی گڈ نیوز اسی کے ہی منہ سے سنے گا ۔۔۔تہیہ کر لیا۔۔۔اور انجان بن گیا۔۔

اوکے،،، میڈیسن لی،،،؟
جی،،،

چلو پھر سو جاؤ،،، ویر نے نرمی سے کہا۔۔وہ پھر آ کر اپنی جگہ پر لیٹ گئی،، کچھ دیر بعد ہی نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔۔
ویر نے مسکرا کر اس کی جانب کروٹ لی۔۔

پاگل لڑکی،،،، سڑی بھنڈی،،،،، بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرا۔۔۔پھر نرمی سے وہی ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھ کر کچھ خاص محسوس کرنے کی کوشش کی۔۔
ڈیڈ اور مما تو خوشی سے پاگل ہو جائیں گے۔۔

جھک کر عقیدت سے محبت کا ایک ایک نقش چوما،،، گداز ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے،، اور فورا پیچھے ہٹا،،،

وہ مسکرایا ،،یونہی میٹھے سپنے بنتے آنکھ لگ گئی۔۔

مگر نہیں جانتا تھا ابھی تو جدائی اور قاتل ہجر کے سورج نے محبت کے آسمانوں پر پوری آب و تاب سے جگمگانا ہے۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

صبح وہ واش روم سے فریش ہو کر باہر آیا تو نیناں روم میں نہیں تھی اس نے سرد سی آہ بھری۔۔

ابھی ریڈی ہو ہی رہا تھا کہ ہیڈ کوارٹرز سے آنے والی کال نے اس کے پیروں نیچے سے زمین کھسکائی۔۔

وہ طوفان بنا سلطان مینشن سے باہر نکلا تھا۔۔
ہیڈ آفس پہنچ کر اب سر جھکائے کھڑا تھا اور کرنل عظیم اس پر گرج برس رہے تھے۔۔
جبکہ کرنل وسیم بھی وہیں موجود تھے۔۔

آفیسر ویر اتنی حساس انفارمیشن صرف دو جگہ پر سیو تھی،،، ایک آپ کے موبائل فون میں دوسرا کرنل وسیم کے پاس تو وہ لیک کیسے ہو گئی،،، اس لاپرواہی کا میں کیا مطلب نکالوں،، وہ انفارمیشن لیک ہونے کی وجہ سے کتنا نقصان ہوا ہے آپ جانتے بھی ہیں۔۔۔۔

ائم سوری سر،،،،

واٹ سوری،،،،مکمل انکوائری ہوگی۔۔جب تک یہ معاملہ کلئیر نہیں ہو جاتا آپ کو سسپینڈ کیا جاتا۔۔ اور یہ بات بھی ابھی ہم تینوں کے بیچ میں رہے گی یو گیٹ دیٹ،،،،،،
کرنل عظیم نے ویر کے سر پر بم پھوڑا

سر پلیز،،،

جائیے آفیسر،،، جا کر پتا لگائیے،،، کہ یہ کیسے ہوا،،، ٹائم ویسٹ مت کیجئے۔۔۔۔

وہ آگ بنا وہاں سے نکلا تھا،،، غم و غصہ آؤٹ آف کنٹرول تھا،،، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی جیسے مفلوج ہو چکی تھی۔۔
سوچ سوچ کر پاگل ہو چکا تھا کہ اس سے کہاں مسٹیک ہو گئی۔۔

اور اس حالت میں اسے گھر واپس تو ہر گز نہیں آنا چاہئے تھا،، سلطان مینشن آیا۔۔سب روٹین کے مطابق اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔۔
وہ اپنے روم میں آیا تھا۔۔جہاں نیناں الماری میں منہ دئیے جانے کیا کر رہی تھی۔۔

وہ سوچ رہا تھا کہ کل ایک پل کو بھی کب اس کا موبائل اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوا تو یاد آیا کہ صبح جب وہ فریش ہونے گیا تو موبائل روم میں تھا۔۔
اور اس وقت روم میں کون تھا۔۔۔
اس کا دماغ الٹ گیا تھا شاید،،، تبھی ایسی سوچیں دماغ میں آ رہی تھیں۔۔

وہ نیناں کے قریب گیا۔۔آہٹ محسوس کر کے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔ویر کو ایسے خود کو دیکھتے پایا تو دل اچھل کر حلق میں آیا۔۔

آپ ،،،،کچھ چاہئے آپ کو،،،، نیناں پوچھ بیٹھی۔۔

میرے موبائل فون سے انفارمیشن لیک ہوئی ہے،، جس کی وجہ سے مجھے سسپینڈ کر دیا گیا،،، کیا یہ تم نے کیا نیناں،،، اپنی انسلٹ کا بدلا لینے کے لئے،،،
ویر کا سرسراتا لہجہ۔۔نیناں کو لگا ویر نے اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا ہے۔۔۔

خالی خالی پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جو ایک سیکنڈ نہیں لگاتا تھا جلتی دھوپ میں اسے بے آسرا کر کے ننگے پاؤں اور ننگے سر گھسیٹنے میں۔۔۔

آپ کو پتا ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں،،،؟ نیناں نے گھٹی گھٹی آواز میں پوچھا۔۔

میں پوچھ رہا ہوں نیناں درانی کہ یہ تم نے کیا؟ ہاں یا ناں؟
نیناں درانی،،، یعنی اب خود سے تعلق اور رشتہ بھی اس شخص نے سوالیہ نشان بنا ڈالا تھا۔۔

اگر آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں تو میں آپ کی زندگی میں کیا کر رہی ہوں شاہ زل سلطان،،، یہاں آپ کے روم میں کیا کر رہی ہوں،،،
نیناں پھٹ پڑی تھی۔۔

یہ میرے سوال کا جواب نہیں،،،؟ ہاں یا ناں ؟

نیناں کو گلے میں آنسوؤں کا پھندہ لگ چکا تھا۔۔زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔۔
میں بلکل بھی وضاحت نہیں دوں گی آپ کو شاہ ذل،،

شاہ زل نے اسے بازوؤں سے دبوچا۔۔میرا ضبط مت آزماؤ نیناں،،،

تو جو آپ سے ہوتا ہے آپ ایک ہی مرتبہ کر گزریں،،، وہ پھنکاری،،،

شاہ زل نے اسے جھٹکے سے پیچھے ہٹایا۔۔اور وہاں سے نکلتا چلا گیا یہ جانے بغیر کہ اب محبت مٹھی سے سوکھی ریت کی مانند پھسل جائے گی۔۔
جرم بھی تو کم نہیں تھا۔۔محبت کو بے اعتبار کرنے والے رسوا ہی ہوتے ہیں۔۔تڑپتے ہیں،، آہیں بھرتے ہیں،، مگر جب محبت روٹھ جائے تو منانا مشکل امر بن جاتا ہے۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

بے اعتبار شخص تھا سو وار کر گیا،،
لیکن میرے وجود کو،، بیدار کر گیا،،

وہ تو جا چکا تھا اس کے ذات کے بخیے ادھیڑ کر،،، پیچھے وہ گرتی پڑتی پلوشہ کے روم میں آئی تھی۔۔

اندر آ کر دروازہ لاک کیا تھا۔۔پلوشہ کو حیرت ہوئی مگر وہ بوکھلائی تو تب جب،،،

بڑی مما،،، وہ کہہ کر پلوشہ کے گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کر روئی تھی۔۔
نیناں کیا ہوا میری بچی،،،
پلوشہ کے ہاتھ پیر پھول چکے تھے۔۔

کافی دیر وہ اپنا غم غلط کرتی رہی آخر نڈھال ہو کر پلوشہ کے بازوؤں میں ہی جھول گئی تھی۔۔ پلوشہ نے حرم اور حبہ کو آواز دی۔۔
فورا ڈاکٹر کو بلوایا گیا تھا۔۔
ڈاکٹر نے ایک اچھی خبر سنائی مگر نیناں کی اس قدر تشویشناک حالت پر بے حد فکر اور ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔۔

کیسے پیرنٹس ہیں آپ لوگ،،، بچی کی حالت دیکھی ہے آپ نے،،، اتنا بی پی لو،، اتنا سٹریس،،، پیلا زرد رنگ،،، اسے مینٹلی ٹارچر کیا گیا ہے،، اگر خوشخبری چاہیے تو اپنے گھر کا ماحول ٹھیک کریں۔۔
وہ جانے کیا کیا سنا رہی تھی۔۔

پلوشہ کا دل کیا دھرتی پھٹے اور وہ اس میں سما جائے،، اتنی شرمندگی شاید ہی کبھی زندگی میں محسوس ہوئی ہے۔۔کہ ڈاکٹر کو ان کے گھر کا ماحول خراب لگ رہا تھا۔۔یعنی وہ ٹیپکل ساس کا خطاب پا چکی تھی۔۔

ڈاکٹر جا چکی تھی۔۔
حرم پاس بیٹھی رو رہی تھی۔۔
پلوشہ نے دانت کچکچائے،، پتہ نہیں بیٹا کہاں کہاں شرمندہ کروانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔
اب تو ہر حد پار کر دی تھی اس زلیل نے۔۔۔

نیناں کو ہوش آ چکا تھا،، پلوشہ اس کے قریب آئی اسے سہارا دے کر بٹھایا،، وہ پھر ماں کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی۔۔

نیناں چپ ہو جاو،، مجھے بتاؤ کیا ہوا،،، کیا کیا ویر نے،، اب کی بار وعدہ کرتی ہوں تم سے اس کی جتنی بڑی خطا ہوئی اتنی ہی بڑی سزا ملے گی اسے ۔۔اب بتاو مجھے۔۔

نیناں نے ہچکیوں کے دوران ساری بات بتا دی تھی۔۔۔
بڑی مما میری بس ہو چکی ہے،،، اب میں مزید اپنی زات کا یوں روندے جانا برداشت نہیں کر پاؤں گی،، مر جاؤں گی بڑی مما،، میں مر جاؤں گی۔۔وہ سسک رہی تھی ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی۔۔

الله نا کرے بچی،،، ایسا مت بولو،،، اکیلی تھوڑی ہو تم جو مرنے کی باتیں کر رہی ہو،، ایک اور ننھی سی جان ہے تمھارے ساتھ،،، جس کا خیال رکھنا ہے تمھیں۔۔پلوشہ نے اسے سینے میں بھینچ کر سمجھایا۔۔۔

حرم اور نیناں میری بات غور سے سنو،،، گواہ رہنا اپنے بیٹے کو سزا دینے جا رہی ہوں،، اور اب کی بار ایسی سزا دوں گی کہ پھر کبھی زندگی میں محبت کی توہین نہیں کر پائے گا۔۔

اس نے حرم اور نیناں کو سمجھایا۔۔۔۔حبہ بھی موجود تھی۔۔نیناں کو بڑی مشکل سے سنبھالا۔۔
اور پھر تمام تفصیل حرم کو بتائی۔۔کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔۔

پلوشہ نے سمیع کو بتایا تھا۔۔اور ان سے وعدہ لیا تھا کہ اس بات کا شاہ ویر سلطان کو بھی معلوم نہیں ہونا چاہئے۔۔
سمیع نے اس شرط پر ایسا کرنے کی حامی بھری تھی کہ ان کی بیٹی نیناں کی دیکھ بھال کیلئے ساتھ جائے گی۔۔

پلوشہ مان گئی،،،حرم نے نیناں کی پیکنگ کی تھی۔۔

پلوشہ نے سلطان مینشن کے تمام سی سی ٹی وی کیمرے بند کروا دیئے تھے۔۔
ان تینوں میں سے کسی نے اپنا موبائل ساتھ نہیں لیا تھا۔۔ نیناں نے وہاں جا کر نیا موبائل اور نمبر لینا تھا جو کہ نمبر صرف سمیع کے دماغ میں محفوظ ہونے والا تھا۔۔

وہ تینوں سلطان مینشن سے نکلے تھے۔۔کافی دور جا کر مین بازار تک گئے۔۔
اور وہاں سے بھیڑ میں گم ہوئے تھے۔۔
پلوشہ اور حرم کا ایسی حالت میں اسے خود سے دور کرنے پر کلیجہ منہ کو آیا تھا۔۔مگر اب ایسا کرنا بہت ضروری ہو گیا تھا۔۔

بہت ہی زیادہ ضروری۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔۔

وہ فارم ہاؤس میں تھا جب دوبارہ کرنل عظیم کا فون آیا ۔۔اسے فوراََ آفس آنے کو بولا گیا تھا۔۔

کچھ دیر بعد ہی کرنل عظیم کے سامنے کھڑا تھا اور کرنل وسیم شرمندہ شرمندہ سے اپنی غلطی کا اعتراف کر رہے تھے۔۔

میں نے انکوائری کی تو اپنے آفس کے سی سی ٹی وی کیمرے سے پتہ چلا کہ میرا پیوئن اس معاملے میں ملوث ہے،،، اور وہ کل کا غائب بھی ہے،، مگر اسے پکڑ کر اس سے اعتراف کروا لیا گیا ہے کہ یہ سب اس نے کیا،، سو انفارمیشن میرے فون سے لیک ہوئی۔۔ویر سلطان آپ کی کوئی غلطی نہیں تھی اس میں،،،،

ویر کا دل جیسے کسی نے پتھر کے نیچے رکھ کر کچلا۔۔۔

آپ کے سسپینشن آرڈرز کینسل کر دئیے گئے ہیں،،، میں شرمندہ ہوں آفیسر،،، کرنل عظیم نے کہا۔۔۔

اٹس اوکے سر،،،، اس نے پھیکی سی مسکان لیے کہا۔۔
چند ضروری باتیں کر کے وہ وہاں سے نکل آیا۔۔

گاڑی میں بیٹھ کر اپنی دکھتی کنپٹیاں سہلائی تھیں۔۔بس ایک ہی سوال تھا دل میں،،،

کیا میں جو اس کے ساتھ کر چکا ہوں اس کا مداوا ممکن ہے،،،
بہت مشکل،،،،، بہت ہی زیادہ

اب وہ بے یقینی سے پھٹی نگاہیں،،، صدمے کی شدت سے لرزتے کپکپاتے نازک لب،،، گلے میں اٹکا آنسوؤں کا پھندہ یاد آیا اور اسے بے چین کر گیا۔۔

اللہ کرے اس نے گھر میں کسی کو کچھ نا بتایا ہو،،
آئی سوئیر نیناں آج جب تمھارے پاس آؤں گا تو اپنے لفظوں سے اظہار سے تمھارے زخم زخم وجود پر مرحم رکھ دوں گا،، تمھارے ہر دکھ ہر درد کا مداوا کرے گا یہ تمھارا گناہگار،،،،
وعدہ کرتا ہوں اب کبھی محبت کو بے اعتبار نہیں کروں گا۔۔

وہ یہ ارادے باندھ رہا تھا،،، یہ جانے بغیر کہ محبت تو روٹھ کر اس سے دور بہت دور جا چکی ہے
جسے منانا اب کی بار پل صراط پار کرنے جتنا مشکل امر ہونے والا تھا۔۔

اس قدر قرض ہے محبت کا
سوچتا ہوں تو ہول اٹھتا ہے

Continue,,,,,,,

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺