Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

مطی کی آنکھ کھلی۔۔ سر شدید بھاری ہو رہا تھا۔۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر نقاہت سے جسم چور،، وہ واپس نڈھال سی بیڈ پر ڈھے گئی۔۔

کنپٹیاں سہلائیں اور یاد کرنے کی کوشش کی کہ ہوا کیا تھا۔۔
سب یاد آنے پر اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے تڑپ کر اٹھی۔۔اور سب سے پہلے اپنے وجود کو دیکھا۔۔

جو بالکل محفوظ تھا پھر اردگرد کا جائزہ لیا،، بہت خوبصورت کمرہ جس میں سامان کے نام پر بس ایک بیڈ اور منی فریزر رکھا ہوا تھا۔۔

وہ بوکھلا کر اٹھی۔۔اور دروازے کی جانب لپکی۔ دروازہ ہر طرح سے کھولنے کی کوشش کی،، سیکھے گئے طریقے بھی ٹرائی کیے مگر ناکام۔۔

کوئی ہے کھولو اسے،، وہ انگلش میں چلائی۔۔۔

یہ میرسن کی ایک بڑی سی کمرشل بلڈنگ کے بیسمنٹ کا ساؤنڈ پروف روم تھا۔۔۔۔جس بلڈنگ کو یوز کرنے کا اختیار صرف لینا اور ڈائمن کے پاس تھا۔۔۔۔
اریش اسے یہاں بائی ہیلی لے کر آیا تھا۔۔

اسی بلڈنگ کے ایک اور روم میں اریش اپنے موبائل میں اپنی ڈمپل گرل کی ایک ایک حرکت اس کا جھٹپٹانا گہری مسکان سے دیکھ رہا تھا۔۔

ٹھنڈی آہ بھری ۔۔۔میری بیری اگر تم شاہ زر سلطان کی بیٹی نہیں ہوتیں تو اس وقت میری بانہوں میں ہوتیں،،،،

پھر فون اٹھایا ۔۔
ڈائل کیا،،، جو کہ دوسری بیل پر رسیو کر لیا گیا۔۔

یس سر،،

صبح کو کسی پبلک بوتھ سے فون کر دینا جیسے میں نے سمجھایا ہے۔۔

یس سر ہو جائے گا،، اور کوئی حکم۔۔ اور سر آپ کے لئے ایک اور نیوز ہے۔۔

کیا،؟ اریش چونکا۔۔

سر شاہ زر سلطان ترکی آیا ہے اپنی بیٹی کو ڈھونڈنے۔۔

اوہہہہہ،، بریلینٹ،،، زبردست،، اچھی بات ہے اب وہ ہی آئے گا میرے روبرو،،، دیکھتے ہیں،، ہے کیا چیز،، جس نے میری مما کو برباد کیا،، میں اسے برباد کر کے خون کے آنسو رلاؤں گا ،،،،

اریش کی آنکھوں میں سے درندگی ٹپکی۔۔
سنو پلین چینج اب جیسے بولوں فون کر کے بلکل ویسے بولنا،، اوکے،،،

کہہ کر فون رکھا اور پھر اپنی بیری کی جانب متوجہ ہو گیا۔۔

مطی نے ہر طور کوشش کی مگر وہاں تو اس دروازے کے علاوہ کوئی آنے جانے کی راستہ تھا ہی نہیں۔۔

وہ تھک ہار کر بیڈ پر بیٹھی،، مگر روئی نہیں،، مجھے اپنے آخری سانس تک یہاں سے باہر نکلنے کی کوشش جاری رکھنی ہے۔۔

وہ دل میں عزم لئے خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئی اور کسی نقل و حرکت کے ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

اس ایک رات میں ویر نے پورا انطالیہ چھان مارا تھا۔۔
مگر مطی کا کوئی سراغ نہیں مل پایا۔۔

صبح تک شاہ زر بھی ترکی ویر کے پاس پہنچ چکا تھا جنھیں دیکھ کر ویر پریشان ہوا اور شرمندہ بھی۔۔

سوری چھوٹے پاپا،،، میں مطی کا خیال نہیں رکھ سکا،، پتہ نہیں کیسے مجھ سے بھول ہو گئی ،،اس کا چہرہ لہو ٹپکا رہا تھا،، بچپن کا ساتھ تھا اور اب اس کی فکر تھی جو چین نہیں لینے دے رہی تھی۔۔۔

نو اٹس اوکے جونئیر،، ڈونٹ وری،، بس اب یہ دیکھو کہ تمھاری چھوٹی ممی کو یہ بات پتا چلنے سے پہلے ہمیں مطی کو ڈھونڈنا کیسے ہے نہیں تو گنجا کر دے گی تمھیں وقت سے پہلے۔۔

شاہ زر نے جونئیر کی لٹکی شکل دیکھ کر اسے چِل کرنا چاہا مگر کلیجہ تو خود کا بھی منہ کو آ رہا تھا اپنی پرنسز کا سوچ کر،،،

کوشش کر رہا ہوں،، آپ بیٹھیں۔۔میں ابھی آتا ہوں،،، ویر شہباز کے پاس گیا تاکہ کیمروں میں ہر باریک سے باریک چیز دیکھ کر کوئی کلو ڈھونڈ سکے۔۔

مگر کچھ ہاتھ نہیں لگا۔۔
وہ پھر شاہ زر کے پاس چلا آیا،،
ابھی کچھ بولتا کہ فون کی بیل بجی،، ان ناؤں نمبر تھا،، کڈنیپر کا بھی ہو سکتا تھا۔۔وہ شاہزر کو اشارہ کرتا فورا شہباز کے پاس آیا اور نمبر دکھا کر ٹریس کرنے کو کہا۔۔

کسی پبلک فون بوتھ کا نمبر تھا۔۔

شاہ زر بھی موجود تھا جب اس نے کال رسیو کر کے کان کو لگائی۔۔

ہیلو۔۔ویر سلطان سپیکنگ،،،،

نو یو ناٹ،،،، یو آر شاہ زل سلطان سیکرٹ ایجنٹ،،،، اب غور سے سنو کیونکہ وقت نہیں میرے پاس،،مجھے وہ مائیکرو چپ چاہیے جو تمھارے پاس ہے،،،، اپنی کزن زندہ سلامت چاہئے تو وہ مائیکرو چپ مجھے دے دو،، نہیں تو اس کے ٹکڑے شام تک بھیج دوں گا تمھارے پاس،،،،

وہ اردو میں غرا کر بات کر رہا تھا،،

یو باسٹرڈ،، ویر کو آگ لگی۔۔

شٹ اپ شاہ زل سلطان،،، تم اس کنڈیشن میں نہیں ہو کہ مجھے کوئی گالی دو یا بات بھی کرو،، اب سنو مائیکرو چپ اپنے چچا شاہ زر سلطان کو دے کر میرسن بھیج دو،،،میرے بندوں کی تمھارے قدم قدم پر نظر ہے،،،، تم انطالیہ سے باہر نکلے تو اسی وقت مطربہ شاہ زر سلطان کا سر دھڑ سے الگ کر دوں گا سمجھے،،،،
اب اسے چِپ دے کر باہر کھڑی بلو گاڑی میں روانہ کر دو ابھی اور اسی وقت،، کیونکہ نا تمھارے پاس سوچنے کا وقت ہے نا مطربہ کے پاس زندہ رہنے کے لئے ،،

ویر نے ماتھا سہلایا۔۔۔اب اس کے پاس ان کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔مطی کی زندگی کا سوال تھا۔۔اور سپیکر وہ ازھاد اور نمیرا کو سنانے کے لئے کب سے آن کر چکا تھا تو شاہ زر بھی اس کی تمام گفتگو سن چکا تھا۔۔ شاہ زر نے ویر کو تسلی دی،،

ٹھیک ہے میں بھیج رہا ہوں مگر اسے کچھ ہوا تو پورا ترکی جلے گا یاد رکھنا باسٹرڈ بزدل،،، کہہ کر ویر نے جان بوجھ کر فون رکھ دیا۔۔

چھوٹے پاپا غور سے میری بات سنیں وقت نہیں،، میں آپ کو باکس دوں گا مگر وہ خالی ہے کیونکہ چِپ مطی کے پاس ہی ہے اور اسے پتہ ہے کہ وقت پڑنے پر اسے سپوئل کر دینا ہے ،،آپ جائیں،،،میں یہاں سے نہیں نکل سکتا،،مطی کی زندگی کا سوال ہے،،، میں میرسن کی پولیس اور ہیڈ کوارٹرز سے رابطہ کرتا ہوں وہ وقت پر وہاں پہنچ جائیں گے،، آپ کے جوتے میں ٹریکنگ ڈیوائس چھپا رہا ہوں لوکیشن کے لئے ،،،وہ کپڑے چیک کریں گے جوتے نہیں ،،،آپ سمجھ گئے ناں۔۔

ہاں ویر میں سمجھ گیا ہوں،،،
ویر جلدی سے مطی کے روم میں گیا اور وہ باکس لے آیا،،،،

باکس پاکٹ میں رکھے شاہ زر باہر نکلا،، کچھ دوری کے فاصلے پر ایک بلو کلر گاڑی نظر آئی وہ اس میں بیٹھا تو دو آدمی اس کے دائیں بائیں دیکھے اور چیکنگ مشین سے اس کے کپڑے چیک کیے۔۔

انھوں نے شاہزر کے ہاتھ پیچھے باندھے اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔۔
اب گاڑی تیزی سے چل رہی تھی۔

تقریباً آدھا گھنٹہ گاڑی چلنے کے بعد انھوں نے شاہ زر کو گاڑی سے نیچے اتارا اور ہیلی میں بٹھایا۔۔

اب ہیلی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سہانا بیڈ پر لیٹی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی جب حرم روم میں داخل ہوئی۔۔

حرم کو سہانا کے لباس نے خائف کیا،، عجیب بے ہودہ لباس گھٹنوں تک ٹی شرٹ،، سلیولیس بازو اور بلکل چست سی ٹائٹس۔۔
گلے میں چھوٹا سا دوپٹہ۔۔۔

سہانا سیدھی ہو کر بیٹھ گئی مگر ہنوز روتی رہی ۔۔حرم آ کر اس کے پاس بیٹھی اور نرمی سے اسے سینے میں بھینچا۔۔

تو وہ اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔حرم نے اسے گود میں لٹا کر اس کے سلکی براؤن بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔

جب وہ جی بھر کر سارا غبار نکال چکی تو حرم نے پوچھا۔۔

کیوں رو رہی ہو بیٹا،، فکر مت کرو وہ ٹھیک ہو جائے گا۔۔

آ،،،،، آنٹی،، ممم،،،، میں،، نے،سسب،، جج،، جھوٹ بولا،، وہ پھر سے سسکی،،

جانتی ہوں ۔۔۔حرم اطمینان سے بولی،، سہانا کی آنکھیں صدمے سے ہھٹی رہ گئیں۔۔

ا،، آپ نے پھر بھی ان پر ہاتھ اٹھایا،،

وہ اسے نہیں تمھاری محبت کو لگایا تھا،، یہ چیک کرنے کے لئے کہ یہ پیاری مگر گندی سی بچی میرے بیٹے سے کتنی محبت کرتی ہے۔۔حرم نے اس کا گداز گال کھینچا تو وہ سوں سوں کرتی بلش کر گئی۔۔

ائم سوری آنٹی،،، اس کے چہرے سے لگ رہا تھا وہ اپنے کئے پر دل پر شرمندہ ہے۔۔

کوئی بات نہیں،،، نادانی میں ہو جاتی ہیں غلطیاں،، سہانا نے سر اٹھا کر اس عظیم اور نفیس عورت کے بلند ظرف کو دیکھا۔۔
خوبصورت ہاف وائٹ سے دوپٹے کو حجاب سٹائل لئے وہ بلکل فرشتہ سی لگ رہی تھیں ۔۔

کیا دیکھ رہی ہو،،، حرم مسکرائی۔۔

یہی کہ شاہ زین بلکل آپ پر گئے ہیں،،، اس نے نظریں جھکا کر کہا۔۔

مگر تم اپنی مما پر بلکل نہیں،،، حرم نے اس کی ناک کھینچی۔۔

وہ تو جب میں بہت چھوٹی تھی تو گزر گئیں اس لئے میں ان جیسی نہیں بن پائی مگر اب میں آپ جیسی بننا چاہتی ہوں آنٹی۔۔۔
اس نے حسرت بھری آنکھوں سے ایک امید سے حرم کی طرف دیکھا۔۔

میرے بیٹے کا دل جیتنے کے لئے،،،، حرم نے دانت تلے لب دبا کر چھیڑا،،،

نہیں آنٹی اپنے لئے،،، وہ پھر رو دی،، ان سے معافی مانگنے کے لئے،،

تو پھر مجھے آنٹی نہیں مما ہی بولو،،، اس شرط پر،،، حرم مسکرائی،،،

جی،،، مما،، سہانا کو یہ لفظ ادا کرنا سکون دے گیا،، مما وہ مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے،، اسے نئی فکر لاحق ہوئی،،،

ہمممم اس مسئلے کا بھی کوئی نا کوئی حل نکال لیں گے،،،

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ویر اپنے کاٹیج میں بے چین سا تھا جب موبائل پر نیناں کا میسج آیا۔۔

کسی نے گھر پر حملہ کیا ہے،، جلدی آئیں۔۔
وہ ازھاد اور نمیرہ کو اطلاع دے کر فوراً گاڑی لے کر نکلا ،،جب نیناں کے گھر پہنچا تو باہر سے کچھ لوگ فائرنگ کر رہے تھے۔۔

اس کی جوابی فائرنگ سے وہ بھاگ چکے تھے۔۔
وہ جارحانہ تیور لئے اندر آیا۔۔اندر بھی کچھ لوگ موجود تھے۔۔

اب وہ اپنی بیلٹ نکال چکا تھا ۔۔بہت جلد وہ اس کیلوں والی بیلٹ کی مار سے گھبرا کر بھاگ چکے تھے۔۔

تبھی وہ بیلٹ چھوڑ کر نیناں کی جانب لپکا اور یہی وہ پل تھا جب اس کی بیلٹ ری پلیس کر دی گئی تھی ۔۔نیناں جو زمین پر زخمی حالت میں پڑی تھی۔۔اس کا سر گود میں رکھا۔۔

نیناں،،، نیناں ،،،آنکھیں کھولو ڈیم اٹ،، اس نے آنکھیں کھولیں تو اسے خود پر جھکے پایا۔۔

کیا ہوا بتاؤ مجھے مگر وہ نفی میں سر ہلاتی اٹھی اور بڑی صفائی سے اس کی گنز بھی نکال چکی تھی۔۔
آخری داؤ دل پر پہاڑ جتنا پتھر رکھ کر کھیل رہی تھی۔۔کیونکہ دل کمبخت فل بغاوت پر اتر بیٹھا تھا۔۔

اس نے گنز وہیں صوفے کے نیچے سرکا کر فون اٹھایا اور میسج ٹائپ کیا۔۔

کچھ لوگ تھے،،، جینفر کو اٹھا کر لے گئے،، مگر میں نے پہچان لیا،،، وہ وہی تھا جو میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا تھا،،، میں نے مزاحمت کی تو جینفر کو لے گئے،،، میں چھپ گئی تھی ابھی نکلی باہر،،،،

اوکے چلو پھر ،،وہ لوگ جینفر کو وہیں لے کر گئے ہوں گے جہاں تمھیں رکھا تھا۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ساتھ چل دی۔۔ویر نے اپنی بیلٹ اٹھائی اور باہر بھاگا،،

ویر نے تیزی سے ڈرائیونگ کی،، کچھ ہی دیر بعد وہ اسی جگہ پر تھے،، جہاں نیناں کو رکھا گیا تھا،،
تم گاڑی میں ہی بیٹھی رہنا،، اور باہر نکلنے کی کوشش بھی مت کرنا سمجھیں،،، اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

وہ جارحانہ تیور لئے دھاڑ سے اندر داخل ہوا مگر اندر کوئی نہیں تھا۔۔
پھر اچانک،،،،،،، بہت سے لوگ اندر داخل ہوئے تھے۔۔جن میں ایک آدمی بھی تھا،،

ویر کے سر پر چاروں طرف سے گن تانیں گئیں تھیں ،،،اس نے اپنی سیکرٹ پاکٹ ٹٹول کر دیکھی مگر اس کی گنز وہاں موجود نہیں تھیں۔۔۔

اسے حیرت کے ساتھ ساتھ شاک لگا۔۔
مگر اس وقت وہ سب سے زیادہ پریشان ہوا تھا۔۔۔جب بیلٹ نکالی تو وہ اس کی مخصوص بیلٹ نہیں تھی۔۔
بلکہ عام سی لیدر بیلٹ تھی۔۔

کیا ڈھونڈ رہے ہو شاہ ذل سلطان،،،،، زبیر پھنکارا۔۔تبھی نیناں وہیل چیئر دھیکلتی وہاں آئی۔۔

ویر کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی اور آسمان سر پر گرا۔جب نیناں نے بھی آ کر تمسخرانہ ہنسی کے ساتھ اس کے اوپر گن تان لی۔۔ اسے سمجھنے میں سیکنڈز نا لگے کہ اس ساری گیم پلان کے پیچھے کون تھا،،، کون اس کی ہار کا سبب بن رہا تھا،، کس نے اس کی گنز اور بیلٹ غائب کیں تھیں ،،، اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ کر پاؤں میں مسلا تھا۔۔۔

تب جولی ویر کی جانب گھورتی بولی۔۔۔

اب تمھیں یہ الجھن ہو گی کہ میں کون ہوں ۔۔۔چلو مرنے سے پہلے آخری خواہش کہ طور پر میں بتا ہی دیتی ہوں کہ میں سلطانز کی جانی دشمن ہو پہلے تم مرو گے،،، جو کہ شاہ ویر سلطان کو گفٹ ہو گا میری طرف سے،،، پھر وہ تمھاری کزن مرے گی جو کہ شاہ زر سلطان کو گفٹ جائے گا۔۔۔۔
ہاہاہا ہاہاہا۔۔۔وہ پاگل عورت پاگلوں کی طرح ہنس دی۔۔۔

مگر ویر لہو ٹپکاتی آنکھوں سے صرف نیناں کو دیکھ رہا تھا۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ ہارا تھا،،، محبت کے ہاتھوں شکست کھائی تھی،،،

ہار گیا تھا اعتماد کرنے سے،،،، اور یہ ہار اس کی زندگی کی سب سے بڑی ہار تھی۔۔جس نے اس کی کمر توڑ دی تھی ۔۔جھکا دیا تھا ایک گیمر کو،،، توڑ دیا ۔۔۔اس کے وجود کو جیسے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے گئے تھے۔۔۔۔

کوئی آخری خواہش ۔۔۔۔۔جولی نے شاہانہ انداز میں پوچھا۔۔

ہان مجھ پر پہلی گولی یہ چلائے گی،،، ویر نے نیناں کی طرف اشارہ کیا۔۔

نیناں کی روح جھنجھنوڑی تھی شاید کسی نے،،، چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی ۔۔

کم آن لینا،،،، میری جان،،، دشمن کی خواہش پوری کرو،،، جولی نے کہا۔۔
نیناں کے گن تانے ہاتھ لرز رہے تھے۔۔
پانچ سیکنڈز
دس سیکنڈز

وہ نیناں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔مگر وہ فائر نہیں کر رہی تھی۔۔
تبھی وہ پیچھے ہٹی ۔۔جولی کے کان میں کچھ کہا اور وہاں سے چلی گئی ۔۔۔

پیچھے جولی کی گن سے فائر ہوا تھا۔۔۔۔ایک سنسناتی گولی تھی جو ویر کے پہلو کو چیرتی ہوئی نکلی،،،
وہ جھٹکے سے بھیگی پلکوں سمیت زمین بوس ہوا تھا۔۔

آج وہ ویر مر گیا تھا جو کہ اپنی محبت ہارا تھا۔۔۔ محبت میں ہارا تھا۔۔

لے جاؤ اسے اور پھینک دو بیسمنٹ میں ،،،جب شاہ زر کی بیٹی مرے گی تو اکھٹی ہی لاشیں گفٹ کروں گی سلطانز کو۔۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

شاہ زر کو وہ لوگ اسی کمرشل بلڈنگ میں لائے تھے،،، جہاں اریش موجود تھا،،

بڑے سے حال میں اریش نفرت اور تمسخرانہ سا گھورتا شاہ زر کے رو برو آیا۔۔
مگر سامنے دشمن کی جگہ اریش کو دیکھ کر شاہ زر کی صدمے سے آنکھیں پٹھیں

مجھے جانتے ہو،، اریش کا سرسراتا لہجہ،،

ہاں تم اریش زبیر ہو۔۔۔زاہ زر نے کہا۔۔

ماں کا نام پوچھو،،،،، ؟ لہجے میں حکم تھا،۔۔۔۔

تم بتاؤ،،،،؟

جولی،،، جولی نام ہے میری ماں کا،، جولی کے نام پر شاہ زر بے تحاشا چونکا،، اور سمجھنے میں ایک سیکنڈ نا لگا کہ اب اس پاگل عورت نے اپنے بچوں کے دماغوں میں کیا کیا گند نہیں بھرا ہوگا جو سامنے کھڑا وہ لڑکا اس سے اس قدر نفرت سے بات کر رہا تھا۔۔

چِپ دو،،، اریش پھنکارا،،

میری بیٹی میرے حوالے کرو پہلے۔۔۔شاہ زر نے اطمینان سے کہا،، اسے آگ لگی،،،

وہ تو تمھیں نہیں ملنے والی اب،،،

تو تمھیں چِپ بھی نہیں ملے گی،، شاہ زر نے بھی چلا کر کہا،،
کیونکہ باہر اب پولیس کی گاڑیوں کے سائرن کی آوازیں آنے لگیں تھیں ۔۔

اور انھوں نے حملہ بھی کیا تھا شاید جس سے شارٹ سرکٹ ہونے کے باعث چاروں طرف جیسے آگ پھیل گئی تھی۔۔۔

رئیلی،،، میں چھین لوں گا،،، یہ کہتا وہ تن فن کرتا شاہ زر کے پاس آیا اور اس کی پاکٹ سے چِپ والا باکس نکالا. مگر اسے خالی پا کر وہ غصے سے پاگل ہو گیا اور. کہیں گیا تھا۔۔نفرت نے اسے اندھا کر دیا تھا۔۔وہاں موجود ڈیکوریشن پیس کی صورت دیوار پر لگی میان سے اس نے تلوار نکالی تھی۔۔

مطی بیڈ پر بیٹھی تھی جب دروازہ کھلنے کی آواز آئی،، وہ تڑپ کر اٹھی اور کوئی ہتھیار ڈھونڈنے کے لئے نگاہ تیزی سے ادھر ادھر گھمائی۔۔

اتنے میں دروازہ کھول کر اریش اندر داخل ہوا تھا۔۔
وہ اس کی جانب لپکی۔۔

اری۔۔۔۔۔اریش نے اس کی بات مکمل نہیں ہونے دی جب اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لیا۔۔وہ گر پڑتی جب سہارا لینے کے لئے اس نے اریش کی گردن کے گرد ہاتھ لپیٹے۔۔

وہ دور ہوا۔۔۔مگر مطی بری طرح سانس بحال کر رہی تھی۔۔۔

بیری،،، ویر سے کوئی چِپ چھیننے کے لئے تمھیں کڈنیپ کیا گیا تھا۔۔

مگر آپ کو کیسے پتہ چلا،،، وہ چونکی

اس کا ٹائم نہیں ہے چلو میرے ساتھ انھوں نے تمھارے ڈیڈ کو بھی قبضے میں کر لیا ہے۔۔اریش کی آنکھوں میں اس وقت بس بدلے کا جنون اور پاگل پن تھا۔۔

واٹ ڈید یہاں،،، اسے شاک لگا،، اپنے ڈیڈ کا سن کر اس کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی۔۔ یقینا اس کی کڈنیپنگ کا سن کر ڈیڈ آئیں ہوں گے،،، اففففف ڈیڈ آپ کیوں آئے،، اسے خود سے زیادہ اپنے ڈیڈ کی فکر ہوئی

وہ اسے ساتھ گھسیٹتے باہر لایا۔۔

سامنے ہی شاہ زر کے سر پر گن تانے ایک آدمی کھڑا تھا۔۔۔

اے چھوڑو انھیں۔۔۔ وہ دھاڑی۔۔

میرے تین تک گننے تک اس آدمی نے چِپ مجھے نا دی تو اس کا بھیجا اڑا دونگا ۔۔۔

شاہ زر نفی میں سر ہلاتا رہا جب مطی پھنکاری۔۔۔
یو بزدل وہ چِپ ان کے نہیں،،،، میرے پاس ہے،،،یہ دیکھو،،، مطی نے اپنی پاکٹ سے چِپ نکالی،،،، چھوڑو میرے ڈیڈ کو ،،،،،،نہیں تو آگ میں ہھینک کر سپوئل کر دوں گی۔۔

نہیں اتنی جلدی نہیں بےبی گرل،،، پاس کھڑے اریش نے اس کے ہاتھ سے چِپ چھین لی،،،

مطربہ کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی.. آسمان سر پر گرا تھا اور چہرہ صدمے کی انتہا سے لٹھے کی طرح سفید پڑ چکا تھا.
سر ہلکا سا جھکا کر اپنے پیٹ پر رکھی گئی اس تلوار کی نوک کو دیکھا پھر اس تلوار کو رکھنے والے اس شخص کو

اپنی محبت
اپنے عشق اریش کو۔۔۔۔۔۔جس نے اس سے مائیکرو چِپ چھین کر اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی.. اور مطربہ آگے بڑھ کر وہ چِپ چھین نا لے۔۔۔۔۔
اسی لئے اسے روکنے کو بائیں ہاتھ سے مطی کے پیٹ پر تیز دھار تلوار کی نوک رکھی ہوئی تھی۔۔۔

میں نے تمھاری بیٹی کے ساتھ وہی کیا شاہ زر سلطان جو تم نے میری ماں کے ساتھ کیا،،،، اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ اس بات کا گواہ ہے کہ اس نے میری کتنی راتیں رنگین کی ہوں گی،،،،، اریش نے خباثت سے کہتے آنکھ ونک کی،،،،

اریش،،،، مطربہ دھاڑی،،،،،باپ کے سامنے یہ سب سن کر اس کی آنکھوں اور کانوں سے جیسے لہو ٹپک رہا تھا۔۔۔

اریش نہیں ڈائمن ڈارلنگ،،،، فکر مت کرو. ڈائمن اپنی چیزوں کو استعمال کر کے چھوڑتا نہیں،،،، میرے پاس ہی رہو گی ہمیشہ،،،،، اور میرا دل بہلاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شٹ اپ یو باسٹرڈ،،،،،شی از یور لیگلی ویڈڈ وائف،،،،، انتقام میں اتنے اندھے ہو گئے ہو کہ اپنے بچے کو گالی دے رہے ہو،،،،، شاہ زر دھاڑا،،،،اور آگے بڑھنے لگا،،،،

یو شٹ اپ،،، اینڈ سٹاپ ،،،،اریش نے خونخوار نظروں سے مطربہ کو گھورا جس نے نکاح کی بات اپنے باپ کو بتا کر اس کا سارا مزا کرکرا کر دیا تھا،،،،،

یو نو واٹ شاہ زر سلطان تمھیں مجھے روک نہیں پاؤ گے،،،،تمھارے ملک کے بڑے اہم راز ہیں ناں اس مائیکرو چپ میں،،،،، اب یہ چپ Raw (انڈین خفیہ ایجنسی) کے پاس جائے گی،،،، اور تمھاری بیٹی ہمیشہ کے لئے میرے پاس،،،،
دراصل ابھی میرا جی نہیں،،،،

شٹ اپ اریش،،،، مطربہ دھاڑی ،،،،اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ جو تم کہو گے ویسا ہوگا،،،، آنسوؤں سے تر چہرے سے وہ زخمی سا مسکراتی سرسراتے لہجے میں بولی،،،،

اور پھر اچانک

بہت اچانک مطربہ تلوار کو پکڑے آگے بڑھی۔۔۔۔تیز دھار تلوار اس کے پیٹ کے آر پار ہوئی تھی۔۔۔۔ مطربہ نے اتنی ہی تیزی سے اریش کے ہاتھ سے وہ چپ چھین کر آس پاس بھڑکتی آگ میں پھینک دی۔۔۔

مطی،،،شاہ زر تڑپا،،،،،، اریش پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھنے لگا جو لڑکھڑا کر زمین بوس ہونے والی تھی،،،
بہت بے اختیار اس کے ہاتھوں نے مطربہ کو تھاما تھا،،،،

ڈونٹ ٹچ می باسٹرڈ،،،،

مطربہ نے زمین پر گرتے ہوئے بڑی زور سے اریش کو دھکا دیا تھا،،،
جس سے وہ تلوار سمیت بڑی دور لڑکھڑا کر گرا،،،،

تلوار مطی کے پیٹ سے نکلی تو ایک دلخراش چیخ تھی جو عمارت میں گونجی تھی،،،،،بھل بھل بہتا خون اس کے چاروں اور پھیلا۔۔۔

شاہ زر ماہی بے آب کی طرح تڑپتا اپنی گڑیا تک پہنچا،،،،اس کا سر اپنے سینے میں بھینچا،،،،میری جان،،،، مطی،،،،،آنسوؤں سے چہرہ تر ہوا،،،،تمھارا بہت خون بہہ رہا ہے میری گڑیا،،،،

اریش بے تحاشا تڑپ کر کھڑا ہوا،،،،،مطی نے اس کی جانب نفرت اور حقارت سے دیکھا،،،،
پھر اپنے ڈیڈ کو دیکھا۔۔۔ اچھا ہے ڈیڈ،،مم میرے،،،، مرنے سے پہلے ایک غدار اور دھوکے باز کا گندا خون،،،،،ممم،،،،میرے جسم سے الگ ہو جائے۔۔۔۔

پولیس کے سائرن چاروں اور گونجے تھے،،، اریش کے آدمیوں نے اس باہر گھسیٹنا چاہا۔۔۔
سر نکلیں یہاں سے پولیس آ گئی ہے،،،، پلیز،،،
مگر وہ تو پتھر کا بت بنا سامنے زمین پر آخری ہچکیاں لیتی اپنی بیری کو دیکھ رہا تھا،،،

ڈیڈ مم،،،مجھے،،،،،پپ پاکستان مت،،، لے جانا،،،،،یہیں،،،، دفن،،،، میرے،،ملک،،،کی،،،،مٹی،،،مجھے،،، کبھی،،،معاف،،، نہیں،،،،
مم،،،میں نے،،،، دشمن،،،، پر،،،،بب،،،، بھروسہ،،،،کک،،،،،کیا
توڑ توڑ کر لفظ ادا کرتی وہ بے تحاشا رو رہی تھی.

نہیں،،، میری گڑیا،،،، پاکستان کی مٹی کو اپنی اس سپاہی پر ناز ہوگا،،، جس نے اپنی جان کی قربانی دے کر اپنے اہم راز دشمن تک نہیں پہنچنے دئیے،،،،،

ڈیڈ مم،،، میں،،،، شش،،،،شہید،،،،مطربہ کی آنکھوں میں چمک سی تھی،،،،پھر اس کا سر شاہ زر کے بازو پہ لڑھک گیا..

اریش کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی،،،،
پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی بیری کو مرتے دیکھا۔۔۔۔

شاہ زر بے تحاشا رو دیا۔۔اریش نے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا۔۔جنھوں نے لپک کر شاہ زر کو پیچھے کھینچا۔۔

تب وہ تڑپ کر آگے بڑھا اور اس بے جان سے وجود کو بازوؤں میں بھرا۔۔اس کا چہرہ پاگلوں کی طرح تھپتھپایا۔۔نبض ٹٹولی جو تھم چکی تھی۔۔۔
ہیے یو،،،، بیری،،، آنکھیں کھولو،،، میری طرف دیکھو،،، ڈمپل دکھاؤ،، وہ چلایا،،،

یو باسٹرڈ دور رہو میری بیٹی سے،،، ڈونٹ ٹچ ہر،،، شاہ زر دھاڑا مگر وہ تو جیسے سن ہی نہیں رہا تھا۔۔

اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکایا،،، یو نو واٹ تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتیں،، ناؤ کم آن،، ٹاک ٹو می ڈیم اٹ،، وہ دھاڑا۔۔

تبھی اس کے آدمی اسے گھسیٹتے وہاں سے بیسمیںٹ لے جا چکے تھے۔۔۔کسی خفیہ راستے سے بھاگنے کے لئے۔۔

پیچھے پولیس چاروں جانب پھیل چکی تھی۔۔شاہ زر کو اور مطی کی باڈی کو ایمبولینس میں ہوسپیٹل لے جایا گیا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺