Rate this Novel
Episode 8
ویر بے تحاشا غصے میں اسے بازو سے دبوچے گاڑی تک لایا تھا۔۔
گھما کر اپنے سامنے کیا۔۔
کیا کر رہیں تھیں یہاں پر،،،،؟ کیسے آ گئیں ؟
وہ ایسے اسے ڈانٹنے پھٹکارنے میں لگا ہوا تھا جیسے ویر جانے کتنی دیر سے جانتا ہو اسے۔۔
مگر وہ جواب دینے کی بجائے رونے میں مصروف تھی۔۔تو ویر نرم پڑا۔۔
گھر ڈراپ کروں۔۔؟
ابھی بھی خاموشی۔۔۔
بہری بھی ہو کیا،،،،؟وہ پھنکارا،،، تو اس نے آنسو بھری آنکھوں سے ایک شکایتی نظر ویر پر ڈالی۔۔
اب وہ ویر کا ضبط آزما رہی تھی ۔۔
فون پر میسج رنگ ہوا۔۔
چاروں آدمی پکڑے جا چکے تھے۔۔اچھی خبر تھی ۔۔یہاں سے بھی اس آدمی کو شہباز پکڑ کر لے جا چکا تھا۔۔
انھیں اپنے مخصوص ٹھکانے پر پہنچا دیا گیا تھا۔۔اب کی بار انھیں پہلے ہی باندھا تھا انھوں نے سو وہ کچھ نگل بھی نہیں پائے تھے۔۔
اس نے فون ملایا۔۔
ہممم گڈ،،، ویٹ کرو،، ضروری کام کر کے آتا ہوں ۔۔وہ بغور سامنے کھڑی اس روتی بسورتی لڑکی کو گہری نظر سے دیکھ رہا تھا۔۔
فون رکھ کر وہ پھر اس لڑکی کی جانب متوجہ ہوا۔۔وہ اس کا قیمتی وقت ضائع کر رہی تھی۔۔ویر نے سرد سی آہ بھری اور اب کی بار پھر اسے بازو سے دبوچ کر گاڑی میں تقریباً پٹخا۔۔
وہ پورے رستے سوں سوں کرتی رہی۔۔جب گاڑی اس کے کاٹیج کے دروازے کے آگے رکی تو وہ بے تحاشا چونکی اور سوالیہ نظروں سے وہر کی جانب دیکھا۔۔
ویر کو لگا جیسے وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ اسے اس کے گھر کے ایڈریس کا کیسے پتہ چلا۔۔۔
میں اس دن تم لوگوں کے پیچھے ادھر سے ہی گزرا تھا ۔۔تب پتہ چلا۔۔ویر نے جھوٹ بولا
جو کہ سامنے والی اچھے سے جانتی تھی۔۔
وہ تیزی سے گاڑی سے اتری۔۔
سامنے ہی جینیفر پریشان سی کھڑی تھی وہ اس کے گلے لگ کر بے آواز رو دی۔۔
تم کہاں چلی گئیں تھیں نیناں ،،،،،تم تو آنٹی کی میڈیسن لینے گئیں تھیں ناں،،،، پھر کیا ہوا،،،، وہ انگلش میں پوچھنے لگی
اس نے اشارہ کیا۔۔میں میڈیسن لینے ہی گئی تھی،، راستے میں کچھ غنڈوں نے مجھے پکڑ لیا اور زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ۔۔پھر پیچھے کھڑے شخص نے مجھے بچایا۔۔
اہوووو،،، شکر ہے یہ وقت پر پہنچ گئے ۔۔شکریہ آپ کا،، جینفر نے ویر کو مخاطب کیا تو وہ چونک گیا۔۔
کیونکہ وہ بہت دیر سے کھویا کھویا سا نیناں کو دیکھنے میں مصروف تھا۔۔جو آج ریڈ فراک میں چاندی کی طرح دمک رہی تھی۔سہما ہوا معصوم چہرہ ،،،اور پھر ویر کی جیکٹ پہنے ،،، وہ ویر کو جانے کیوں پر دل کے بہت قریب لگ رہی تھی۔۔
اٹس اوکے،،، وہ نارمل ہوا۔۔۔۔
پلیز آپ اندر آئیں،، ہم آپ کو کافی پلا کر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔جینیفر نے بہت اصرار کیا۔۔
شیور۔۔۔وہ ان کے ساتھ اندر آیا۔۔
چھوٹا سا مگر صاف ستھرا کاٹیج تھا۔۔چھوٹے سے لاؤنج میں بنا بلکل قریب ہی اوپن کچن تھا۔۔
نیناں چینج کرنے چلی گئی تب جینفر نے اسے ایک کمرے میں لے جا کر ایک بیمار سی عورت سے ملوایا۔۔
یہ نیناں کی مدر ہیں ،،،،،اور آپ،،، سوری مگر آپ نے اہنے بارے میں نہیں بتایا۔۔
میں ویر سلطان ہوں،،، پاکستانی ہوں اور ٹورسٹ بھی،،، ویر نے مختصر سا اپنا تعارف کروایا۔۔
نیناں چینج کر کے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔اب وہ فیروزی ڈریس میں تھی۔۔
آپ کا شکریہ،،، اس نے اشارہ کر کے جیکٹ واپس کی۔۔جو کہ ویر نے تھام لی۔۔
یہ کون ہے بیٹا،،، بیڈ پر پڑے کمزور سے وجود نے ویر کے بارے میں نیناں سے پوچھا۔۔۔
یہ میرے دوست ہیں مما،،، انھوں نے میری مدد کی،،،، نیناں نے اشارہ کیا اور جینفر نے ترجمہ کیا۔۔
دوست کے نام پر ویر نے چونک کر نیناں کو دیکھا۔۔جو جانے کیوں مگر سرخ چہرہ لئے(شرما کر )اس سے نظریں چرا رہی تھی۔۔
ویر کو ایک پل بھی نا لگا ماننے میں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلیں لاؤنج میں چلتے ہیں،،،، جینفر نے اشارہ کیا،
وہ ان کے ساتھ لاؤنج میں آ گیا۔۔وہ دونوں کچن کی جانب چلیں گئیں ۔۔۔۔
او،،، نیناں پلیز آئم سو سوری یار،،، مگر مجھے بہت ضروری کا ہے تم اپنے فرینڈ کو کافی سرو کرو،،،، میں شام تک واپس آ جاؤں گی،،، یہ کہہ کر جینفر جان بوجھ کر ان دونوں کو تنہا چھوڑ کر باہر جانے لگی۔۔
نیناں نے سر ہلا کر اسے جانے کا کہا۔۔تو وہ ویر سے بھی گڈ بائے کہتی چلی گئی۔۔
اب وہ بیٹھا فرصت سے نیناں میڈم کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔۔
ادھر زندگی میں پہلی بار وہ اس کی نظروں سے خائف سی بار بار پہلو بدل رہی تھی۔۔بار بار دل کی دھڑکنیں ایک سو بیس کی رفتار پکڑ لیتیں ۔۔وہ سچ مچ کنفیوز ہو رہی تھی۔۔اور اپنی حالت پر جی بھر کر جھنجھلا بھی رہی تھی۔۔
وہ کانپتے ہاتھوں سے کافی پھینٹ رہی تھی۔۔
جب خاموش فضا میں فون کی رنگ گونجی۔۔
جونئیر نے پاکٹ سے فون نکال کر دیکھا۔۔اس کے ڈیڈ ویر کا تھا۔۔اس نے یس کر کے کان کو لگایا فون۔۔۔
دعا سلام کے بعد اس نے پوچھا،،
یس ڈیڈ،،،
کیا بات ہے بھئی،،، وہاں جا کر بھول ہی گئے،،، کہیں سچ میں حورم سلطان تو نہیں مل گئی،،،،، ویر نے چھیڑا
شاہ زل نے گہرا مسکراتے صوفے سے ٹیک لگائی۔۔ایک ہاتھ گھنے بالوں میں پھیرا،، گہری نظر سامنے موجود اس پری پیکر کو شدید کنفیوز ہوتے دیکھ کر بولا،،
Actually ,,,,,,,Yes dad I’m in Love,,,,,,
اس کی بات پر نیناں کے ہاتھ سے کافی کامگ چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔۔۔جبکہ وہ اب مزے سے بیٹھا کنفیس کر گیا۔۔ایک ہی نظر دیکھ پائی اس جگمگاتے ڈمپل کو اور پیروں نیچے سے زمین کھسک گئی ۔
A girl in blue dress,,,,,,,,,,
ہممممم،،، خوبصورت ہے پری کی ہونے والی بہو،،، ٹکر کی ہے،مجھ پر ہی گئے ہو،آج سے پچیس سال پہلے میں نے بھی تمھاری ماں کو ایک نظر میں ہی بلو ڈریس میں ہی پسند کیا تھا،،،،، ویر سکون سے بولا
ڈیڈ،،،، جونیئر چلایا،، کہیں آپ نے ان جاسوس سمیع انکل کو میرے پیچھے تو نہیں بھیجا،،،،،، شاہ زل نے دانت پیسے،،،، اکبر کا سایہ بیربل،،،
تم مجھے اکبر بول رہے ہو جونئیر،،، ویر نے اچھا خاصا مصنوعی برا منایا،،، اور قہقہہ ضبط کیا۔۔
نہیں میں ان سمیع انکل کو بیربل بول رہا ہوں،،، شاہ زل نے پھر دانت پیسے۔۔
تو ویر قہقہہ لگا کر ہنس ہی پڑا۔۔
ایکچوئلی سمیع تو نہیں پر وہ اور اس کا بیٹا شہباز تم سے پہلے تمھارے باپ کے وفادار ہیں،،،، اب شہباز سے بلو ڈریس والی لڑکی کی ڈیٹیلز نکلواؤ گے تو وہ اتنی اہم بات مجھے نہیں بتائے گا۔۔ویر اطمینان سے بولا۔۔
ڈیڈ دس از ناٹ فئیر،،، میری لائف میں کوئی پرائیویسی نام کی چیز بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔اس نے برا سا منہ بنایا۔۔
(وہ جو منہ کے مختلف زاویے بنا کر کبھی ہنس کر کبھی ڈمپل کی نمائش کر کے باتیں کر رہا تھا۔۔اس کا ایک ایک تاثر کسی کے دل میں حشر برپا کر رہا تھا)
ویر نے سرد سی آہ بھری،،، اور مجھ سے یہی شکایت تمھارے چاچوؤں کو بھی تھی۔۔اچھا چھوڑو نا یار،،، تو کب لا رہے ہو اسے پاکستان،،،، ویر نے ایک اور شوشا چھوڑا ۔۔۔
ہاں اور آپ کے خیال میں یہ سب اتنا ہی آسان ہے ناں ڈیڈ،،،، شاہ زل چمک کر بولا۔۔۔ابھی تو اظہار بھی نہیں کیا تھا اور ویر۔۔۔
آسان ہی ہے،،،،، اٹھا لاؤ،،،، بعد میں سب ٹھیک ہو جاتا ہے،،،،، ویر لاپروائی سے بولا
ڈیڈ میں آپ کو بعد میں کال کرتا ہوں ،،،نیناں کو ٹرے لئے اپنی جانب آتا دیکھ ویر کے ارے ارے کہنے کے باوجود وہ کال کٹ کر چکا تھا۔۔۔
نیناں نے ٹرے اس کی جانب بڑھائی۔۔اس کے ہاتھوں میں واضح لرزش تھی جو کہ وہ مٹھیاں بھینچ کر کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔
ویر نے مگ اٹھا کر اس کی مشکل آسان کی ۔۔وہ سامنے صوفے پر ٹک کر بیٹھ گئی ۔۔سوچا نہیں تھا یہ سب کرنا اس کے لیے جان کا آزار بن جائے گا۔۔
سامنے بیٹھا شخص کیوں بری طرح اسے ڈسٹرب کرے گا۔۔وہ اپنا مگ اٹھا کر نظریں کارپٹ پر گاڑھے گھونٹ گھونٹ کافی پینے لگی۔۔
ابھی تم نے سنا میں نے اپنے ڈیڈ سے کیا کہا،،، ویر اطمینان سے بولا،،،،آخر سلطانز انتظار کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتے تھے،،،،نا انھیں انتظار کرنے کی عادت تھی۔۔
اس نے پہلو بدلا
(وہ جو چاہتی کہ جلدی جلدی ہو اور اب جب ہو رہا تھا تو اسے کیا موت آئی تھی)
مجھے محبت ہو گئی ہے،،،زندگی میں پہلی بار ،،ویر سلطان کو محبت ہو گئی ہے،،، سٹرینج،،،،،،،وہ جیسے خود کو باور کروا رہا تھا
وہ خاموش ہی رہی مگر سر مزید جھکا لیا۔۔
جاننا چاہو گی کس سے۔۔۔.؟ ویر نے کہا تو اس نے بے اختیار زور سے نفی میں سر ہلایا کہ اسے نہیں جاننا
مگر میں بتانا چاہتا ہوں ،،،،
A magical mermaid girl in blue dress,,,,,,,
وہ اطمینان سے کہتا اسے بے سکون کر گیا۔۔۔
کافی پی چکا تھا۔۔
تھینکس فار دا کافی۔۔ابھی چلتا ہوں۔۔۔وہ سر جھکائے بیٹھی اس فیروزی جل پری پر گہری نظر ڈالتا اٹھا۔۔
اپنی جیکٹ پہنی۔۔۔اور پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے۔۔
ایک کارڈ نکال کر سامنے ٹیبل پر رکھا۔۔جس پر صرف ویر کا نمبر لکھا ہوا تھا۔۔
جب مجھ پر اور میری بات پر ٹرسٹ ہو جائے تو اس نمبر پر میسج کر دینا۔۔ مجھے میری بات کا جواب مل جائے گا ۔۔
وہ کہتا باہر کی جانب بڑھا۔۔
لینا نے اس کی پشت کو گھورا،،، بدتمیز لوفر کہیں کا،، جادوگر ایڈیٹ۔۔وہ اپنی حالت سے کوفت زدہ پھنکارتی اسے کوسنے لگی۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مطی کو ہوٹل میں مطلوبہ آدمی ملا تو وہ اپنے بندوں کی مدد سے اسے اٹھا لائی تھی۔۔
کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی تھی۔۔
وہ اسے دوسرے ٹھکانے لے گئے تو مطی کاٹیج آ گئی ۔۔
ازھاد اور نمیرا تو دوسرے سیکرٹ ٹھکانے پر ہی تھے اور پکڑے گئے آدمیوں کی نگرانی کر رہے تھے،،
وہ اپنے کمرے میں آئی،،، روز تقریباً صبح شام وہ سب گھر والوں خاص کر مما اور اپنے ڈیڈ سے بات کیا کرتی تھی
اب بھی بات کر چکی تھی۔۔
فون رکھا۔۔
اب آدمی تو پکڑے جا چکے تھے شاید چپ کا پتا چل جائے اور پھر وہ جلدی سے واپس جا سکیں ۔۔۔
اور پھر میں اپنے کہے کے مطابق اس ایڈیٹ سے پھر کبھی نہیں ملوں گی۔۔
واپسی کا سوچتے وہ بے تحاشا چونکی۔۔کیونکہ وہ واہسی کے ساتھ ساتھ کسی اور کو بھی سوچ رہی تھی۔۔
بوریت سے دل گھبرایا تو یونہی چہل قدمی کرتے باہر آ گئی،،
میرون ڈریس میں میرون چھوٹی سی بیری،،،،،،،
کیونکہ تم فلرٹ کے لیے نہیں عشق کرنے کے لیے بنی ہو،،،،،،
جانے کیوں پر الفاظ کانوں میں گونج رہے تھے۔۔ابھر رہے تھے اور ابھر کر معدوم ہو رہے تھے،،،
وہ چہل قدمی کرتے کاٹیج سے کافی دور آبادی والی جگہ پر نکل آئی تھی۔۔جب اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی ۔۔پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔تو دنگ رہ گئی ۔۔۔
میرے بارے میں سوچ رہی تھیں،،، وہ اچانک سامنے آ کر بولا۔
ہاں،،،، ممم میرا مطلب نہیں ۔۔۔۔وہ گڑبڑائی
تو وہ گہرا مسکرایا۔۔
نہیں پہلا سچ تھا دوسرا جھوٹ،،، تم میرے بارے میں ہی سوچ رہی تھیں ،،،،،،وہ آپ سے تم پر چلا آیا
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں زرا بتانا پسند کریں گے ،،،وہ اپنی خفت مٹانے کو تڑخ کر بولی۔۔
سچ بولوں کہ جھوٹ؟ اریش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔
سچ،،،،،
تمھارے پیچھے آیا،،، تم نظروں سے اوجھل ہو گئیں یوں لگا دنیا اندھیر ہو گئی ،،،سب کچھ ختم ہو گیا،، مطربہ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مجھے تم سے محبت ہے،،، پہلی نظر نے ہی مجھے تمھاری طرف اٹریکٹ کیا تھا،،،
اریش اپنی ہڈی کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے سکون سے بولا۔۔۔
(جانے کیوں وہ اپنی طرف سے تو جھوٹ بول رہا تھا مگر اس کی آنکھیں اس کی زبان کا پورا پورا ساتھ دے رہی بھی )
آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے جو مجھ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں ،، پٹنا تو نہیں ،،،، بلیک بیلٹ ہوں،،،، وہ سنجیدگی سے بولی
تمھاری یہی بات تو مجھے سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے کہ تم اس قدر نازک اور معصوم ہونے کے باوجود بریو ہو،،، اور میں چاہتا ہوں کہ ساری زندگی تم میری عزت کی حفاظت کرو،،،
آخر میں وہ شرارت سے بولا تو مطی کو ہنسی آئی مگر ضبط کر گئی ۔۔
آپ پاگل ہو گئے ہیں مسٹر اریش جا کر اپنا علاج کروائیں،،،،، وہ کہہ کر جانے لگی
مگر اریش اس کے رستے میں حائل ہو گیا۔۔۔
ہاں ہو گیا ہوں بیری،،،، تمھارے لیے پاگل ہو گیا ہوں،،، اچھا سنو یہ میرا وزٹنگ کارڈ ہے ،،پاکستان میں کہاں رہتا ہوں،، ساری ڈیٹیلز ہیں اس میں،، اور میں چاہتا ہوں ایک اچھی اور بریو لڑکی کی طرح تم ہر طرف سے تسلی کر کے مجھ پر ٹرسٹ کرو،،، اور یہی میرا محبت کرنے کا انوکھا طریقہ ہے،، میں مزاق نہیں کر رہا،،، یہ میری زندگی کا سوال ہے مزاق نہیں،،، اپنا اڈریس دو ،،،وہیں سے میرے گھر والے تمھارے گھر رشتہ لے کر چلے جائیں گے،،
اریش مطی کی طرف کارڈ بڑھاتے بولا،،، اور اس کے ہر لفظ سے مطربہ ہل کر رہ گئی ۔۔۔۔
مطی نے کارڈ تھام لیا،،، اور جانے لگی،، تم بڑی دیدہ دلیری سے اریش نے اس کی کلائی تھامی تھی۔۔
وہ تلملائی،،،، واٹ دا،،،،،،،،،،
اشششش،،،،، میں صرف تمھیں چھو کر محسوس کرنا چاہتا تھا،،،، کر لیا میری بیری ،،، یہ کہتے اس نے کلائی چھوڑی
مطی نے بھنا کر اپنی فراک میں موجود سیکرٹ پاکٹ سے پیپر سپرے نکالا،،،
اریش قہقہ لگا کر اس سے دور بھاگا،،، اور ہاتھ سے اس کو فلائینگ کس دی،،،اور آنکھ ونک کی۔۔۔۔۔
کوئی بہت ہی زیادہ لوفر اور موالی قسم کے لڑکے ہو آپ،،، وہ سرخ چہرہ لئے دانت پیس کر بولی۔۔۔
میں تو سیدھا سادھا بزنس مین تھا،،، یہ جو کچھ بھی بول رہی ہو تم نے مجھے بنایا ہے بیری ،، وہ اطمینان سے بولا
قریب تو آئیں زرا آپ کے ہوش ٹھکانے لگا کر آپ کو دوبارہ انسان بناؤں،،، وہ چمک کر بولتی پیپر سپرے والا ہاتھ فضا میں لہرایا،،،
میں اس سے نہیں ڈرتا،،، اور اب دیکھو خود ہی بول رہی ہو کہ قریب آؤں،،،تو اگر آ گیا اس میں سراسر نقصان تمھارا ہو گا بیری،، وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتا بولا
مطی گڑبڑائی۔۔۔
یو ایڈیٹ،،،،، اب کی بار اس نے دانت پیس کر اپنی سینڈل اتاری تھی۔۔مطی کے ارادے بھانپ کر وہ دانت نکالتا سر پٹ بھاگ گیا۔۔
پیچھے وہ اس کے تماشوں پر ہنستی چلی گئی۔۔
یہ جانے بغیر کہ یہ ہنسی اسے اتنا رلائے گی کہ اس کا کلیجہ منہ کو آ جائے گا۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
آج حرم کی برتھ ڈے تھی شاہ زین مال آیا ہوا تھا ۔۔اپنی ماں کے لئے گفٹ لینے کے لئے ۔۔اور اب گفٹ شاپ میں کھڑا تھا۔۔
مگر مجال ہے جو کچھ سمجھ آ رہی تھی۔۔
اپنے ڈیڈ سے سبقت لے جانا چاہتا تھا جو مجال ہے اسے حرم کے معاملے میں کبھی آگے آنے دیتے تھے۔۔
ہر دفعہ اس کا سرپرائز پہلے سرپرائز دے کر خراب کر دیتے تھے۔۔
سہانا لیڈیز گارمنٹس کی شاپ پر کھڑی اپنے لئے ڈریس سلیکٹ کر رہی تھی کہ اس کی نظر شاہ زین پر پڑی۔
دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔
پرس میں سے فون نکالا۔۔اور شاہ زین کا نمبر ڈائل کیا۔۔
فون رنگ ہوا تو شاہ زین نے نمبر دیکھا اور کچھ سوچ کر یس کر کے کان کو لگایا۔۔۔
تو کیوں نا میڈم ایس سے ہی ہیلپ لے لی جائے
ہیلو،،،،
کدھر ہیں آپ،،،، سہانا نے پوچھا۔۔۔
میں،،، میں تو سٹڈی کر رہا ہوں،،،، وہ لاپروائی سے بولا،،
آں ہاں،،، اور آپ کی سٹڈی ٹیبل کے پیچھے والی گارمنٹس شاپ پر میں شاپنگ کر رہی ہوں،،،،، وہ جل کر بولی۔۔
شاہ زین کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔
جانتا ہوں یہیں کہیں ہیں آپ شرافت سے بتا دیں،،، اسی لئے جھوٹ بولا،،، وہ اطمینان سے بولا تو سہانا اس کی چالاکی پر عش عش کر اٹھی۔۔
کون ہے وہ لکی جس کے لئے گفٹ اور کارڈ لے رہے ہیں،،،،،
ہے ایک لڑکی جسے دنیا میں،،، میں سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں،،کل اس کا برتھ ڈے ہے،، اسی لئے ،،،شاہ زین نے عورت کی بجائے لڑکی جان بوجھ کر کہا اور سہانا پر بجلی گرائی۔۔
دوسری طرف سانپ سونگھ گیا تھا جیسے۔۔۔ شاہ زین کو بات کی سنگینی کا احساس ہوا۔۔شاید محترمہ اس کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ حساس تھیں ۔۔۔
اپنی مدر کی بات کر رہا ہوں آپ کا کیوں سانس اٹک گیا،،،، شاہ زین نے چھیڑا ۔۔ہنسی روکنے کو دانتوں تلے لب دبایا جسے وہ سامنے ہی کھڑی غصے سے گھور رہی تھی۔۔
آپ نے اٹکائی میری سانس،،،، وہ بھنا کر بولی۔۔۔
ّرونگ اتنا بڑا الزام نا لگائیں مجھ معصوم پر ،،،، میں تو فون پر بات کر رہا ،،،ابھی تو روبرو بھی نہیں ہوا محترمہ،،، وہ معصومیت سے بولا۔۔
مگر سہانا کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی اس کی بات کا مطلب سمجھ کر،،
خفت سے چہرہ سرخ ہوا،، یو،،، آپ،،، آپ بہت بڑے،،، سہانا سے بات نہیں بن رہی تھی،،، دانت پیس کر بولی،،
شاہ زین کا قہقہہ جاندار تھا۔۔
کیا بہت بڑے ،،،وہ پوچھ بیٹھا ۔۔۔
بہت بڑے میسنے ہیں ،،،سہانا نے اپنا حساب بے باک کرنا چاہا۔۔
اچھا مزاق چھوڑیں ناں،،، شاعرہ صاحبہ،،، میری دنیا کی سب سے خوبصورت مدر کے لئے کوئی شاعری ہی سینڈ کر دیں،،، جو میں اس کارڈ کی زینت بناؤں،، جو میری ماں کے شایانِ شان ہو،،،
وہ مدعے پر آیا۔۔
کب دینا ہے آپ نے،،،، سہانا کچھ سوچ کر بولی،،
رات بارہ بجے،،،
اوکے میں گھر جا کر سینڈ کرتی ہوں،،، سہانا نے کہہ کر فون رکھا وہ مسکرا دیا۔۔
گفٹ خرید چکا تھا۔۔
اسی لیے گھر آ گیا۔۔شام تک اس نے ویٹ کیا۔۔پھر میسج ٹون نے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔
کھول کر دیکھا تو واقعی نظم اس کی مما کے شایانِ شان تھی۔۔
اس نے کارڈ پر لکھی۔۔
اور آج تو اس نے بارہ بجے کا بھی ویٹ نہیں کیا اور ڈنر کے بعد ہی اپنی مما کو گفٹ اور کارڈ دے آیا۔۔جس پر شاہ میر نے اسے شکایتی نظروں سے گھورا۔۔
وہ ہنسا ۔۔۔کیا ڈیڈ ہر مرتبہ آپ سبقت لے جاتے ہیں اس مرتبہ آپ کا بیٹا بازی لے گیا۔۔
حرم اور شاہ زین ہنستے چلے گئے ۔۔پھر حرم نے کارڈ کھول کر پڑھا۔۔۔
چاند کا ٹکڑا دھوپ میں بادل جھیل کا پانی جون کی بارش صبح کا تڑکہ شام کا کاجل مہک زمیں کی رات کی رانی نئی کہانی پنچھی،،،،،،، دولت ،،،،،،پیسہ کوئی نہیں ماں جیسا
I love you the most in the world, Mom,,,,,,,,
حرم کو اپنے بیٹے پہ بے تحاشا پیار آیا۔۔۔چٹا چٹ اس کا سارا منہ چوم ڈالا۔۔
یہ آج تک کا سب سے بیسٹ کارڈ تھا شاہ زین میں بہت خوش ہوں ۔۔حرم کے چہرے پر واقعی ایک خاص چمک تھی۔۔
شاہ میر نے بھی بیٹے کا کندھا تھپتھپایا۔۔
تھینکس شیر میری بیگم کو اتنی خوشی دینے کے لئے۔۔۔
My pleasure dad,,,,,
وہ زرا جھک کر بولا۔۔اور ڈھیر ساری باتیں کر کے اپنے روم میں آ گیا۔۔
اور فائنلی آج اس کا نمبر ملایا۔۔
جو کہ پہلی بیل پر رسیو کر لیا گیا۔۔
تھینکس میم،،، میری مدر بہت خوش ہوئیں،،،، بہت زیادہ،، یقینا ہر سال آپ اپنی مدر کو بھی ایسے ہی خوش کرتی ہوں گی،،،
سہانا کو چپ لگ گئی،،،
کیا ہوا،،،، شاہ زین کو فکر ہوئی،،،
ہر کوئی آپ کی طرح لکی نہیں ہوتا شاہ زین،،،، اس کا لہجہ بھیگا ہوا تھا۔۔۔
کیا مطلب،،، شاہ زین الجھا۔۔
مطلب میری مدر کی ڈیتھ میرے بچپن میں ہی ہو گئی تھی،،، یہ کہہ کر وہ برداشت نہیں کر پائی اور فون رکھ کر بے تحاشا رو دی۔۔
شاہ زین کو دلی دکھ ہوا۔۔وہ شوخ و شنگ لڑکی اپنے اندر کتنا دکھ سمیٹے بیٹھی ہے۔۔۔
اففففففف وہ بھی جانے کیوں بے چین سا ہوا۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
