Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

یہ جانتے کہ محبت،،بھی اک دکھاوا ہے 😔
تو دل کہ داغوں سے چہرہ سجا لیا ہوتا 🤧
گزرتی تم پہ بھی ایسی جو ہم پہ گزری ہے 😕
تو آسمان کو سر پر اٹھا لیا ہوتا 😡

نیناں گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکائے آنکھیں موندے ہوئے تھے۔۔
حاتم مینشن پہنچ کر روپ اسے اندر لے کر آئیں۔۔پھر میڈیسنز دیں۔۔

ظہان اس کے پر حدت سرخ معصوم چہرے کو بغور دیکھے گیا۔۔

دادو میں آرام کروں گی،، وہ دھیما سا بولی۔۔

أؤ میں تمھیں تمھارے روم تک چھوڑ آؤ۔۔

نہیں دادو میں چل سکتی ہوں،،، آپ اپنے مہمان کو وقت دیں۔۔
وہ دھیمے قدموں سے چلتی اپنے آپ کو گھسیٹتی اپنے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔
اندر آکر اس نے روم لاک کیا تھا۔۔
گلے میں اٹکے آنسوؤں کے پھندے نے سانس لینا دوبھر کر رکھا تھا۔۔

ویر جو ان کے پیچھے نکلا تھا ان سے پہلے پہنچ کر پچھلے گیٹ سے بائیک اندر لایا تھا۔۔واچ مین کو کہا کہ کسی کو نا بتائے کہ وہ آیا ہے۔۔
اور اب اس کے کمرے کی کھڑکی کے پاس اندھیرے میں پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اطمینان سے کھڑا تھا۔۔

وہ اندر آئی تھی مگر لائٹ آن نہیں کی،، تبھی اپنی گردن سے دوپٹہ نکال کر اس کا گولہ سا بنایا تھا۔۔
وہی گولہ اپنے منہ پر سختی سے رکھا اپنی آہیں اور سسکیاں دبانے کو ،،،
پھوٹ پھوٹ کر روتی وہ وہی دروازے کے ساتھ لگی زمین پر بیٹھتی چلی گئی اور اب بے تحاشا رو کر اپنا غم غلط کرنے میں مصروف تھی۔۔

وہ جو باہر غور سے اسے دیکھ رہا تھا ایک زخمی سی مسکان لبوں پر رینگی۔۔سلطان مینشن میں اس کا سکون سے بیٹھنا یاد آیا۔۔

تم تو ابھی تک کمال کی اداکارہ ہو نیناں درانی،،،، دبی دبی سسکیاں کھڑکی سے باہر سنائی دے رہی تھیں۔۔
رات بہت بوجھل تھی۔۔

اسے لگا تھا یہ سسکیوں کی آواز اسے سکون پہنچائیں گی۔۔

مگر
صرف اسے لگا تھا،،،،

وہ وہیں دیوار سے ٹیک لگائے ٹھنڈے فرش پر بیٹھتا چلا گیا ۔۔
ایک گھٹنا فولڈ کیے دوسری ٹانگ ٹھنڈے فرش پر پھیلائے دیوار سے سر ٹکایا۔۔۔پینٹ کی پاکٹ سے سگریٹ نکال کر اس سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگا۔۔۔

اتنی ٹھنڈ میں بھی وہ پورا کا پورا سلگ رہا تھا۔۔۔لال انگارا آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔۔
اندر وہ قطرہ قطرہ موم بن کر پگھل رہی تھی اور باہر اس نے اپنی جان جلا رکھی تھی۔۔

اسی خیال سے گزری ہے،،،،، شامِ غم اکثر
کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا

وہ کہتے ہیں کہ شمع جلتی ہے تو پروانے تک تپش پہنچنے میں دیر نہیں لگتی جلتا تو وہ بھی ہے۔۔
کافی دیر کے بعد ہچکیوں کی آوازیں آنا بند ہو گئیں تھیں۔۔مگر وہ یونہی آنکھیں موندے وہاں بیٹھا رہا۔۔

کافی دیر بعد کسی خیال کے تحت اٹھا اور واپس جانے لگا تب ایک آخری نظر اندر ڈالی تو قدم وہیں جم گئے۔۔

اندر وہ گھٹڑی سی بنی وہیں دروازے کے قریب فرش پر دواؤں کے زیرِ اثر سو چکی تھی۔۔
تب وہ کھڑکی پھلانگ کر اندر داخل ہوا تھا۔۔

آہستگی سے اس کے قریب آیا۔۔ ایک گھٹنے کے بل زمین پر بیٹھ کر اسے دیکھا۔۔بخار کی حدت سے سرخ پڑتا چہرہ۔۔ آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان،،، بکھرا وجود،،

اس نے ہاتھ بڑھا کر چہرے پر آتے بال پیچھے کیے۔۔
پھر بے حد نرمی سے اسے بازوؤں میں بھرا۔۔

لا کر بیڈ پر لٹا کر کمفرٹر دیا۔۔ماتھے پر دو انگلیاں رکھ کر ٹمپریچر چیک کیا۔۔جو کہ اب نارمل ہو چلا تھا۔۔ نیند میں بھی جیسے وہ بے چین سی تھی بے تحاشا اذیت میں۔۔

اپنے کہے الفاظ کانوں میں گونجے،،،،

آواز نیچی کرو نیناں درانی،،، نہیں تو سچ مچ بند کر دوں گا اسے ہمیشہ کے لئے ۔۔دماغ تو کچھ ایسا ہی کرتا ہے میرا کہ تمھیں تڑپاؤں،، ،اور اتنا تڑپاؤں کے گڑگڑاؤ میرے آگے،،، بھیک مانگو مجھ سے رحم کی،،،، اتنی تکلیف دوں کہ تمھاری روح کانپ جائے ۔۔

وہ جھکا اور اس کے دائیں بائیں بیڈ ہر ہاتھ رکھ کر اسے گہری نظر سے دیکھا۔۔
اور دل میں اسے مخاطب کیا۔۔

اور جانتی ہو میرا دل کیا کرنے کو کہتا ہے۔۔یہ کہ تمھارا یہ بکھرا وجود خود میں سمیٹ لوں،،، تمھیں معاف کردوں،،، اپنا لوں،،، کبھی خود سے دور نا جانے دوں،، زمانے سے چھپا کر اپنے پاس رکھ لوں۔۔تمھارے اتنے قریب آؤں کے تمھیں سانس لینا مشکل لگے۔۔

وہ پیچھے ہٹا اور کھڑکی پھلانگ کر باہر نکلا،،،
مگر میں نے اپنے دل کی اب کبھی نہیں سننے کی قسم کھائی ہے نیناں درانی۔۔۔۔

وہ اب اسی خاموشی سے حاتم مینشن سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ کوٹ کندھے پر لٹکائے آدھی رات کے وقت سلطان مینشن داخل ہوا تو پری اور شاہ ویر اس کے انتظار میں جاگ رہے تھے۔۔

کدھر سے آ رہے ہو جونئیر،،،؟ شاہ ویر نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔وہ اب تنگ آ چکا تھا اس کی ٹوٹی بکھری حالت دیکھ کر۔۔
اب بس ہو چکی تھی شاہ ویر سلطان کی بھی ۔۔اب کچھ ضروری اقدام اٹھانے والا تھا وہ۔۔
کیونکہ وہ شاہ زل سلطان کا باپ تھا۔۔

کہیں سے نہیں ڈیڈ،،، اپنے فارم ہاؤس گیا تھا،،، کچھ ضروری کام تھا۔۔۔اس نے نظریں چراتے جھوٹ بولا۔۔

پلوشہ رونے لگی۔۔وہ تڑپ کر ماں کے قریب آیا۔۔ہیے مام،،، پلیز واٹ ہیپنڈ یار،،، کیا ہوا آپ کو،،،،، ان کے کندھوں کے گرد بازو حمائل کرتا وہ بولا۔۔

شاہ زل حالت دیکھو تم نے اپنی کیا بنا لی ہے،،، پلوشہ بھیگے لہجے میں بولی۔۔

مام میں بلکل ٹھیک ہوں یار،،، آپ کو تو پتہ ہے میری ڈیوٹی،،، اور رونا بند کریں اور مجھے بتائیں کہ کہیں ڈیڈ سے تو جھگڑا نہیں ہوا جس کا بل آپ میرے سر پہ پھاڑ رہی ہیں،،، وہ نارمل ہوتا اب شرارتی لہجے میں بولا تو پلوشہ کی جان میں جان آئی۔۔

بیٹے کے کشادہ سینے پر سر ٹکایا،، شاہ زل واقعی تم ٹھیک ہو نہ ،،، اپنی ماں کی پریشانی وہ سمجھ رہا تھا۔۔

کم آن مما میں بلکل ٹھیک ہوں،،، اب جلدی سے کھانا لگا دیں بہت بھوک لگی ہے میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔
پلوشہ مسکراتی اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔۔
شاہ ویر غور سے اسے دیکھے گیا۔۔

ڈیڈ گھورنا بند کریں،،، پتہ ہے کہ آپ سے بھی زیادہ ہینڈسم ہوں،،، وہ پھر نارمل سا بولا،،،
مگر سامنے شاہ ویر سلطان تھا یعنی اس کا باپ۔۔۔۔

جونئیر تم نے سموکنگ کرنا شروع کر دی ہے،،، شاہ ویر نے سنجیدگی سے پوچھا۔اور اس کے قریب چلا آیا۔۔۔
تو اسے یکدم چپ لگ گئی۔۔

چٹختے اعصاب،،،،،، اب بس ہو چکی تھی۔۔تبھی اپنے ڈیڈ سے لپٹ گیا۔۔

شاہ ویر کو اس کی حالت نے پھر تکلیف پہنچائی۔۔

وہ الگ ہوا۔۔۔ڈیڈ مما کو مت بتائیے گا سموکنگ والی بات،،،، میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔۔وہ کہہ کر جا چکا تھا۔۔

شاہ ویر نے کے ارادے اور مضبوط کرتا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

صبح نیناں کی آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ پر پایا۔۔
کافی حیران ہوئی۔۔
اپنے جسم پر جانے پہچانے لمس کے احساس نے پھر اسے توڑا۔۔
آخر ایک کام کیوں نہیں کرتا۔
یا اتنی شدت کی نفرت نبھائے
یا تو بے تحاشا محبت جتائے

دونوں ایک ساتھ کیسے کر رہا تھا۔۔وہ پھر روئی۔۔

کافی دیر سے دروازے پر ہلکی دستک ہو رہی تھی۔۔اسی لئے
آنکھ کھلی تھی۔۔

اس نے بمشکل اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔
روپ تھیں،،، تبھی وہ پھر وہیں گر کر بے ہوش ہوئی تھی۔۔
اور پھر تین دن اسے بخار نے توڑا تھا۔۔

پلوشہ حاتم مینشن میں اس کے پاس تھی۔۔تیسرے دن کہیں جا کر اس کی طبعیت سنبھلی تھی۔۔

تبھی شاہ ویر نے پلوشہ کو اسی دن سٹڈی میں لے جا کر ایک اہم بات کی تھی۔۔

پری میں چاہتا ہوں کہ اب جبکہ پریہا اور جلال بھی آ چکے ہیں اور ظہان کی خواہش پر انھوں نے تم سے بات بھی کی ہے تو جلد از جلد بلکہ آج ہی نیناں کا نکاح ظہان سے کروا کر اسے لندن بھیج دیا جائے ۔۔وہ جب تم یہاں رہے گی جونیئر خود کو اور اسے ٹارچر کرتا رہے گا۔۔وہ چلی جائے تو شاید وہ اس فیز سے باہر آ پائے۔۔ہمیں اب اپنے بچوں کی خاطر یہ سٹیپ لینا پڑے گا،،،، کیا کہتی ہو۔۔

میں آپ کی بات سے بلکل ایگری کرتی ہوں،،، پلوشہ سے نیناں کی یہ حالت برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔

تو جاؤ پھر نیناں سے بات کرو اور اسے ایگری کرو۔۔

جی،،، وہ کہتی نیناں کے روم میں چلی گئی،،

جونیئر تیار رہو آر یا پار کرنے کے لئے،،،، اور مجھے پتا ہے تمھارا ری ایکشن کیا ہوگا،،،پرانا کھلاڑی ہوں یار،،، پتہ ہے کب کہاں سے کس وقت کون سی نبض دبانی ہے ،،،،،تمھارے اندر کا سویا ویر سلطان جگانا ضروری ہو گیا ہے۔۔
شاہ ویر معنی خیز سا مسکرایا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

نیناں پلوشہ کے پاس بیٹھی تھی اور پلوشہ کے سوال پر اب خالی خالی نگاہوں سے پلوشہ کو دیکھ رہی تھی۔۔

میں نے کوئی ایسی پہیلی تو نہیں بجھوائی،، سیدھا سیدھا پوچھا ہے کہ میرے بھانجے ظہان سے نکاح کروں گی،، ان کے ساتھ لندن چلی جاؤ،،، سارے جھنجھٹوں اور تکلیفوں سے دور،،، بہت دور،، مجھ سے اب تمھاری اور اپنے بیٹے کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی،،، جانتی ہوں وہ تمھیں اور خود کو مسلسل ٹارچر کر رہا ہے۔۔اسی لئے مجھے اور اس کے پاپا کو یہی سلیوشن سوجھا،،،،،،
اب تم بتاؤ،،،،؟

جیسا آپ کو بہتر لگے،، وہ پتھر بن گئی۔۔۔اپنی تو خیر تھی مگر اس شخص کو ان تکلیفوں سے نجات دلانے کے لئے اس کی نگاہوں سے اوجھل ہونا ہی ٹھیک تھا شاید۔۔

مگر ظہان،،،نیناں کی روح کانپ گئی۔۔

پر وقت سب سے بڑا مرحم ہے شاید ادھڑے دل کے بخیے وقت کے ساتھ ساتھ سل جائیں،، شاید اسے بھی دوبارہ جینا آ جائے۔۔
اس نے خود کو آگ کی بھٹی میں جھونکنے کا فیصلہ کیا۔۔

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

آج شام کے وقت ویر ایک ضروری کام نمٹا کر سلطان مینشن داخل ہوا تو غیر معمولی سی گہما گہمی اور رونق محسوس ہوئی۔۔

ابھی دو دن پیلے لندن سے پریہا اور جلال آئے تھے۔۔
مگر آج کچھ خاص ہی ہلچل تھی،، کیونکہ سب تیار ہو رہے تھے۔۔وہ اپنے ڈیڈ اور مما کے روم میں چلا آیا۔۔

حیرت انگیز، وہ بھی تیار ہو رہے تھے۔۔۔

ڈیڈ کوئی خاص بات سلطان مینشن میں کافی ہلچل سی ہے،، خیرت،،،،؟

ہاں وہ آج ظہان کا نکاح ہے،،، پری نے مصروف سا بتایا۔۔تم بھی جلدی سے ریڈی ہو جاؤ میں نے کپڑے نکال دیئے تمھارے،،، پری نے کہا۔۔

شاہ زل کے دل نے ایک سو بیس کی رفتار پکڑی،،، کچھ انہونی ہونے کا احساس ہوا۔۔
کس کے ساتھ مما،،،، وہ پوچھ بیٹھا۔۔

نیناں کے ساتھ،، وہ پھر پریہا لوگوں کے ساتھ لندن چلی جائے گی۔۔
پلوشہ نے اس کے سر پر بم پھوڑا۔۔

اب اس کے تاثرات دیکھ کر پلوشہ بھی گڑبڑا گئی تھی۔۔مگر نظر انداز کر گئی۔۔
بیٹے کے ماتھے پر ڈھیروں بل اور تنی رگیں دیکھ شاہ ویر نے دوسری جانب رخ موڑا تھا۔۔

ڈیڈ کس سے پوچھ کر یہ سب کر رہے ہیں آپ لوگ،، شاہ زل نے حتی الامکان لہجہ دھیما رکھنے کی کوشش کی۔۔
جبڑے بھینچے وہ مٹھیاں سختی سے بند کیے اب اپنا غصہ کنٹرول کرنے کے چکروں میں ہلکان ہو رہا تھا۔۔
اسے لگا جیسے جیتے جاگتے اس پر کسی نے پٹرول ڈال کر آگ لگائی تھی۔۔

تو تم بتا دو جونئیر ہمیں کس سے پوچھنا چاہئے تھا۔۔کس کا حق ہے اس پر یہاں جس سے اسپیشل سوال کرنے جاتے،، شاہ ویر لاپروائی سے بولا۔۔

مگر وہ اور کوئی سوال جواب کیے بغیر وہاں سے جا چکا تھا۔۔
شاہ ویر نے اس کی پیٹھ کو گھورا۔۔
اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔

وہ طوفان بنا مطی کے روم میں داخل ہوا تھا جو سکون سے بیڈ پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی
مگر اب ویر کو اس حالت میں دیکھ کر اپنی جگہ سے اچھلی تھی۔۔

کیا ہوا ویر،، وہ پریشان سی اس کے پاس آئی اور کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
اس نے لال انگارا آنکھیں اٹھا کر اسے شکایتی نگاہوں سے گھورا۔۔

کیا چاہتے ہو،،،؟ مطی نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔

نہیں جانتا،،، اس نے بے بسی سے اپنے گھنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔۔

تو مرو پھر،،، وہ چڑ گئی،، پھر جانتے کیا ہو،،،؟

بس اتنا جانتا ہوں کے اگر اس نے یہ نکاح کرنے کی کوشش بھی کی تو میں اسے گولی مار دوں گا۔۔وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپا۔۔

فارم ہاؤس جاؤ،، وہاں نکاح کا بندوبست کرو جا کر،،، میں اسے لے کر آتی ہوں،،، مطی اطمینان سے بولی۔۔
ویر نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔

جاؤ،،،، مطی نے زور دے کر دانت پیس کر کہا۔۔

وہ اٹھا اور یونہی اندھی بنا سلطان مینشن سے نکلا۔۔

مطی باہر آئی۔۔سب تیار تھے۔۔ساری تیاری مکمل تھی ۔۔صرف دلہن نے آنا تھا حاتم مینشن سے۔۔

تبھی شاہ ویر نے شاہ زین سے کہا تھا۔۔
جاؤ شاہ زین نیناں کو لے آؤ حاتم مینشن سے،،، فون کیا ہے وہ ریڈی ہے بلکل ۔۔

بڑے پاپا میں جاؤں گی اسے لینے۔۔مطی نے کہا۔۔اور ان کے ہاتھ سے گاڑی کی چابی لے کر باہر نکلنے لگی۔۔

مگر مطی،،،،،

کم آن مما،،، ٹوکنا مت،،، نیک کام کرنے جا رہی ہوں،،، خود ہی کہا تھا روم سے نکلو،، گھر سے نکلو اب نکلنا چاہتی ہوں تو مت ٹوکیں پلیز،،، وہ نارمل سی بولی اور حبہ کو چپ کروا گئی۔۔

شاہ زر نے جانے کا اشارہ کیا۔۔
وہ گاڑی لے کر نکلی۔۔

کچھ ہی دیر میں حاتم مینشن پہنچی۔۔گاڑی سے نکل کر اندر گئی۔
اندر اس کے کمرے تک گئی۔۔

سجی سنوری وہ آسمان سے اتری کوئی نازک اندام اپسرا لگ رہی تھی۔۔
مگر مطی نے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا۔۔
کتنا آسان ہے ان لوگوں کے لیے دوسروں کو برباد کر کہ خود کو آباد کرنا۔۔
اس نے نخوت سے سوچا۔۔

نیناں کی آئینے میں سے اپنے پیچھے اسے لینے آنے والی پر نظر پڑی تو اس کی سانس اٹکی۔۔

بے اختیار اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔

چلو،، مطی نے ایک حرفی لفط بولا،، نیناں نے اپنا کلچ اور موبائل اٹھایا اور دھیمے قدموں سے اس کے پیچھے چل دی۔۔
بیوٹیشن تو کب کی جا چکی تھی۔۔

وہ باہر آئی،، نیناں الجھی خود کو اس پیچ لونگ میکسی میں سنبھال نہیں پا رہی تھی،، مطی ایک طرف کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
جب دانت پیس کر آگے بڑھی اور بازو سے پکڑ کر اسے گاڑی میں دھکیلا،، میکسی اور دوپٹہ اٹھا کر اندر کیا اور دروازہ بند کیا۔۔

فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی نکالی۔۔اب گاڑی تیزی سے سڑکیں ناپ رہی تھی۔۔
وہ بلکل خاموش تھی۔۔نیناں کا دل کیا کم از کم اسے تو وضاحت دے دے سو۔۔۔۔۔دھیمے لہجے میں بولی۔۔

وہ مجھے بلکل نہیں پتا تھا کہ بھائی نے،،،،،،،،،

شٹ اپ،،، جسٹ شٹ اپ،،، مطی غرائی اور اس کا منہ بند کروا دیا۔۔
نیناں چونکی تو اس وقت جب سلطان مینشن کی جانب جانے والی سڑک پیچھے چھوٹ گئی۔۔

وہ یہ غلط رستہ ہے،،، سہی،،،،،

شٹ اپ،،، چپ چاپ بیٹھی رہو،،اپنی بات کرو تمھارا ہر رستہ ہر منزل اب اسی راستے کی جانب جاتی ہے۔۔
وہ پر اسرار سا بولی۔۔
نیناں نے بری طرح پہلو بدلا۔۔

اب اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا،، نیناں الجھی. ۔مگر مطی میڈم کے چہرے پر نو لفٹ کا بورڈ دیکھ کر مجبوراً چپ رہی۔۔

ویر نے فارم ہاؤس پہنچ کر ازھاد کو کال ملائی تھی ۔۔اور کچھ ہی دیر میں ازھاد نے نکاح کی ارینجمنٹ کر دیی تھی۔۔

گاڑی ایک جھٹکے سے ایک بڑی عمارت کے پورچ میں رکی تھی۔۔
مطی نے فرنٹ سیٹ سے اتر کر اسے بازو سے گھسیٹ کر باہر نکالا تھا۔۔

مطربہ یہ کدھر لائی ہیں آپ مجھے،، اب اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔

وہ شاہ زل سلطان کا فارم ہاؤس تھا۔۔

مطی کے ہاتھ کی گرفت اس کے بازو پر جان لیوا تھی۔۔
نیناں اس کے ساتھ گھسٹتی بس چلے جا رہی تھی۔دلہن بنی وہ اس پیچ رنگ لونگ میکسی میں کئی مرتبہ لڑکھڑائی تھی۔۔

تبھی ایک روم کا دروازہ کھول کر مطی اسے لیے اندر داخل ہوئی اور سامنے صوفے پر جو شخص بھسم کرنے والے انداز میں بیٹھا اپنی جان سگریٹ کے دھویں میں جھونک رہا تھا۔۔۔اسے دیکھ نیناں کے گلے میں گٹھلی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔ پیروں کے نیچے سے زمین کھسکی۔۔

مطی نے اسے زمین پر پٹخا تھا۔۔ وہ اوندھے منہ شاہ زل سلطان کے قدموں میں گری تھی۔۔
مطی جا چکی تھی روم لاک کر کے۔۔

وہ تڑپ کر سیدھی ہوئی مگر بولنے کی گستاخی نہیں کی تھی۔۔ گھٹنوں کے گرد بازو فولڈ کر کے گھٹنوں میں منہ دے لیا۔۔

ویر نے اس کا یہ دلہن والا روپ خونخوار نگاہوں سے دیکھا۔

تم تو میری گناہ گار ہو نیناں درانی،،ظہان سے نکاح کر کے لندن جانا چاہتی ہو،، بھاگنا چاہتی ہو سزا سے،، مجھ سے،،،
اس کے لہجے صاف ہتک آمیز تھا۔۔

اس نے سر اٹھایا اور مضبوط بھیگے لہجے میں بولی۔۔
مجھے آپ کہ دی ہوئی ہر سزا قبول ہے،،

چلو پھر باہر،،، مجھ سے ابھی اور اسی وقت نکاح کرو یہی سزا ہے تمھاری،،

نیناں کی روح فنا ہوئی بے یقینی سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا تب وہ جھٹکے سے اٹھا۔اور نیناں کی کلائی تھامی اسے لئے باہر آیا۔۔

باہر مطی،، ازھاد،، نمیرا کچھ اور لوگ اور مولوی صاحب تھے۔۔
اس نے آخری امید کے طور پر مطی کو دیکھا مگر وہ نفرت سے منہ پھیر گئی ۔
ویر اسے لئے صوفے پر بیٹھا ۔۔

بہت جلد ایجاب و قبول کا مرحلہ طے پایا تھا۔۔اور وہ نیناں درانی سے نیناں شاہزل سلطان بن گئی۔۔
مگر ساتھ بیٹھا شخص شاید اپنے سلگتے جسم و جاں کی تپش کی لپیٹ میں نیناں کی جان کو بھی لپیٹنا چاہتا تھا تبھی اس کے دور بھاگنے کا ہر رستہ بند کر چکا تھا۔۔

اس نے اشارے سے سب کو جانے کا بول دیا تھا۔۔اسے کلائی سے جکڑ کر پھر روم میں آ کر ڈور لاک کر چکا تھا۔۔

شاہ زل کی اگلی بات اور سرسراتے لہجے نے اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا تھا۔۔
Take off your clothes,,,,,,

وہ اطمینان سے کھڑا اپنے حکم کی تعمیل چاہتا تھا۔۔

وہ تڑپ کر قریب آئی۔۔
شش،،، شاہ زل مم،،، مجھے سزا دینی ہے ناں،، اپنی بیلٹ سے ماریں مجھے،، ادھیڑ دیں،، میں اف بھی نہیں کروں گی۔۔مم۔مگر میری روح کو مت روندیں،، میں مر جاؤں گی۔۔پلیز،،، وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی۔۔

شاہ زل نے اسے پکڑ کر بیڈ پر پٹخا تھا۔۔

اور تم جو کرنے جا رہی تھیں میرے ساتھ یا کرتی آ رہی ہو نیناں شاہ زل سلطان وہ کیا تھا،، وہ دانت پیس کر بولا

اب شاہ زل اس کے اوپر جھکا تھا۔۔نیناں نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے دور کرنا چاہا ۔۔

مگر وہ اس کے دونوں ہاتھ بیڈ سے لگا چکا تھا۔۔۔

نو شاہ زل چھوڑیں مجھے،،، وہ بے تحاشا روتی مچلی،، مگر گرفت آہنی تھی۔۔

شاہز زل نے اس کی گردن پر اپنا لمس چھوڑا تھا۔۔ گردن سے وہ شہہ رگ پر آیا تھا۔۔
تبھی شاہ زل بہت بے اختیار ہو کر ان نرم وگداز لبوں پر جھکا تھا۔۔جنھوں نے صدیوں سے جیسے اس کے حلق میں کانٹے اگا رکھے تھے۔۔
شاہ زل کے عمل میں بہت شدت اور پاگل پن تھا۔۔ نیناں اذیت سے مچلی کیونکہ اس کے لب پر کٹ آیا تھا،،،
سانس اکھڑنے لگی۔۔۔

وہ پیچھے ہٹا،،،

بڑی تکلیف ہو رہی ہے نیناں سلطان اپنی روح کے روندے جانے پر،، تب خیال نہیں آیا جب یہی شغل خود فرما رہی تھی۔۔وہ بہت قریب غرایا۔۔
کندھے سے شرٹ نیچے کھسا دی۔۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
تب وہ اس سے دور ہوا تھا۔۔شیشے کی ٹیبل اس کے پاؤں کی ضرب سے چکنا چور ہوئی تھی۔۔
نیناں بہت بری ڈری۔۔

مرو نیناں سلطان تم،، اور سزا تمھاری یہ ہے کہ ساری زندگی نا میں تمھیں چھوڑوں گا اور نا اپناؤں گا۔۔۔

مجھے یہ بھی سزا قبول ہے،، وہ ہچکیوں کے درمیان چہرے پر ہاتھ رکھے بولی۔۔

تب وہ اس پر ایک نگاہ غلط ڈالتا باہر نکلا۔۔
پیچھے نیناں نے قدرت کی اس ستم ظریفی پر آنسو بہائے تھے کہ اب تو وہ خود سزا کہ طور پر اس سے دور جانا چاہتی تھی
مگر شاہ زل سلطان نے اسے یہ بھی نہیں کرنے دیا تھا۔۔

Continue,,,,,,,,,,,,,,

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺