280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 9)

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

“کیا سیکھا رہی ہو بچے کو؟” داؤد کی سرد آواز مہر نے سنی تو آنکھیں پوری کھل گئیں۔

“ہائے اللّٰہ جی ! میں تو گئی۔۔۔۔۔۔ مہر بڑبڑائ اور پھر کرسی سے اٹھ کر پلٹی تھی۔ سارہ اور حمزہ اپنی ہنسی چھپانے کی ناکام کوشش کررہے تھے اور داؤد کی چبھتی نظریں اسی پر جمی تھیں۔ حمزہ سے مزید رہا نہ گیا تو وہ کھل کر ہنسا۔

“مہر واؤ ! سیریسلی تم نے بالکل سہی پہچانا ہے داؤد کو اور ہاں موسیٰ کو بالکل دی گریٹ مہر جیسا ہونا چاہیے”

حمزہ نے کہتے ہوئے ایک قہقہہ لگایا سارہ بھی ہنس دی۔ داؤد نے ایک گھوری سے حمزہ کو نوازا تو اسکی ہنسی کو بریک لگی۔

“ہاں تو کیا کہہ رہی تھی تم؟ موسیٰ کو تمہارے جیسا ہونا چاہیے۔ you mean تمہارے جیسا غیر ذمہدار۔۔۔۔۔ لاپروا۔۔۔۔۔ اور بنا کسی مقصد کی زندگی گزار دے Right؟” مہر کا تو منہ ہی کھل گیا۔

“او ہیلو ! کیا مطلب ہے آپکا کے میں لاپروا اور غیر ذمہدار ہوں؟ آپ۔۔۔۔ آپ خود کیا ہیں۔۔۔ اور کیا یہ آپ جیسا بنے اکڑ مزاج، کھڑوس سڑیل، بد لحاظ جس کی زندگی بے رنگ ہو” مہر دونوں ہاتھ کمر پر رکھے تیز تیز بولتی جا رہی تھی۔

داؤد کو غصہ آیا ” you !” ابھی وہ آگے کچھ کہتا کے حمزہ نے اسے روکا۔

“داؤد ! its okay یار کوئی بڑی بات نہیں ہے آجاؤ اندر چلتے ہیں”۔ حمزہ اور سارہ تو حیران تھے ان دونوں کو ایسے لڑتے ہوئے دیکھ۔ داؤد ابھی بھی شعلہ بار نظروں سے مہر کو دیکھے جا رہا تھا کم مہر بھی نہیں تھی وہ بھی اسی طرح غصے سے داؤد کو دیکھ رہی تھی۔

“ایڈیٹ” داؤد کہہ کر مڑ گیا۔ مہر کے تو سر پہ لگی تلوؤں پہ بجھی۔

“اسکی تو میں۔۔۔۔۔۔۔” مہر داؤد کے پیچھے لپکی ہی تھی کے سارہ نے اسے بازہ سے تھام کر روکا۔

“اوفف لڑکی رک جاؤ۔۔۔۔۔۔موسیٰ آپ اندر جاؤ اپنی ماما کے پاس” سارہ نے موسیٰ کو پیار سے کہتے بھیجا۔

” تم نے سنا وہ مجھے کیا بول کر گیا ہے؟ تم ! تم کیسے کام کرتی ہو اس بدتمیز کے ساتھ”

“مہر بری بات تم سے بڑے ہیں”

“ہاں تو ! کہیں کا منسٹر لگا ہے کیا….. آیا بڑا ” مہر نے منہ بگاڑ کر کہا۔

“او ہو جانے دو اس بات کو،چلو آؤ تھوڑی دیر باتیں کرتے ہیں” سارہ نے مہر کا ہاتھ تھاما اور اب دونوں لان میں ٹہل رہیں تھیں۔

*******************

اگلا دن روشن ہوا تو معمول کے مطابق داؤد آفس کیلئے تیار ہو رہا تھا۔ آئینے کے سامنے کھڑے وہ سٹڈ لگا رہا تھا۔ آج چہرے پر سنجیدگی کے بجائے جھنجھلاہٹ تھی۔ آنکھیں رات جگے کی چغلی کھا رہی تھیں۔ رات کمرے میں آکر جب داؤد چینج کر کر بیڈ پر آرام کرنے کی غرض سے لیٹا ہی تھا کے کرنٹ کھا کر اٹھا تھا۔ سارا بیڈ بھیگا ہوا تھا پانی سے، داؤد نے دوسری سائیڈ چیک کی وہ بھی ایسے ہی تھی۔ داؤد کو سخت کوفت ہوئی۔ اسے لگا ضرور فرزانہ سے پانی گرا ہے اور ڈانٹ کے ڈر سے اس نے بتایا نہیں۔ رات ساری ٹو سٹر صوفے پر داؤد نے غیر آرام دہ گزاری تھی۔

نیچے آکر داؤد نے آمنہ بیگم کو بتایا اور تاکید کی وہ خود چیک کیا کریں کے فرزانہ ٹھیک سے کام کرتی ہے یا نہیں۔ ناشتہ کرنے کے بعد داؤد گھر کے باہر ڈرائیو وے پر کھڑی اپنی کار کی جانب آیا تو نظر پنکچر ٹائر کی طرف گئی۔ صرف ایک ہی نہیں پچھلہ ٹائر بھی پنکچر تھا۔

“واٹ دا۔۔۔۔۔۔۔۔” داؤد کو بے تحاشہ غصہ آیا۔

“آج کا دن ہی خراب ہے” داؤد خود سے بڑبڑاتے واپس اندر چلا گیا۔

********************

کل کی شام سب گھر والوں نے ساتھ گزاری تھی۔ تقریباً رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب عظمیٰ بیگم کی فیملی رخصت ہوئی تھی۔ اس سے ایک گھنٹہ پہلے عالیہ بھی اپنے سسرال واپس جا چکی تھی۔ مہر نے کل رات داؤد کے ساتھ ہوئی لڑائی کا بدلہ داؤد کی گاڑی کے ٹائر پنکچر کرکے لیا۔

اس وقت مہر کے کمرے میں دیکھیں تو وہ سو رہی تھی کہ اس کا فون زورو شور سے بجنے لگا۔ مہر نے کروٹ بدلی۔ فون بجنا بند ہوا لیکن ایک منٹ بعد پھر سے بجنے لگا۔ مہر نے تکیہ اٹھا کر چہرے پر رکھ لیا۔۔۔فون کی دوسری طرف بھی کوئی ڈھیٹ تھا اس لیے ایک بار پھر سے فون بجا۔ مہر نے بدمزہ ہو کر تکیہ منہ سے ہٹا کر فون اٹھایا۔

“کیا مصیبت ہے۔۔۔۔۔” مہر کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز کمرے میں گونجی۔

” ہیلو مہر ! بدتمیز کل رات کو کہہ رہی تھی میں صبح ٹائم پر آجاؤں گی اور ابھی تک تم سوئی پڑی ہو” بیا اس کے فون اٹھاتے ہی شروع ہو چکی تھی۔ مہر نے کوئی جواب نہیں دیا، فون کان سے لگائے وہ پھر سے آنکھیں موند گئی تھی۔ دوسری طرف بیا اس کے جواب نا دینے پر فون کان سے ہٹائے دیکھ رہی تھی کہ کال کٹ تو نہیں گئی۔ لیکن کال اون تھی۔ ” ہیلو مہر۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔۔سو مر گئی ہو کیا؟” بیا نے چلا کر کہا تو مہر جو آنکھیں بند کیے تھی اس کے ایسے چلانے سے فون کو کان سے ہٹایا تھا اور اٹھ کر بیٹھی، فون دوبارہ کان سے لگایا جہاں بیا ہیلو ہیلو کیے جا رہی تھی۔

” کیا موت پڑی ہے؟ چلا کیوں رہی ہو” مہر نے بھی اونچی آواز سے کہا۔

” میں کب سے بکواس کر رہی ہوں تم جواب نہیں دو گی تو کیا کروں” بیا نے غصے سے کہا۔

“اچھا بولو کیا ہے؟” مہر نے اب نرمی سے دریافت کیا۔

“تم نے کہا تھا میں پورے بارہ بجے تمہاری طرف آجاؤں گی اب ٹائم دیکھو ایک بجنے والا ہے”

“اوفف یار میں صبح فجر تک جاگتی رہی ہوں۔۔۔کل شام کو سو گئی تھی اس لیے مجھے نیند نہیں آئی پوری رات۔۔۔۔۔ لیکن میں اٹھ گئی ہوں۔۔۔ تھوڑی دیر میں پہنچ رہی ہوں”۔ یہ کہہ کر مہر نے فون بند کردیا۔

********************

داؤد اپنے آفس میں ماتھے پر بل لیے کھڑا ٹیبل پر پڑی ساری فائلز دیکھ چکا تھا۔ صبح وہ سکندر صاحب کی گاڑی میں آفس آیا تھا، سکندر صاحب کی طبیعت تھوڑی ناساز تھی اس لیے وہ آج دفتر نہیں آئے۔

“داؤد میں دیکھ چکی ہوں فائل مجھے نہیں لگتا کے آفس میں ہے” سارہ داؤد کے آفس روم کے سارے دراز چیک کر چکی تھی اور فائل مل کر نہیں دے رہی تھی۔

سارہ نے کچھ دن پہلے دبئی کی جس کمپنی کو presentation دی تھی اس کمپنی نے غازی انڈسٹری کے ساتھ ڈیل کر لی تھی آج بس کچھ پیپرز پر اس کمپنی کے اونر نے سائن کرنے تھے اور ان کی آج ہی رات دبئی کی واپسی تھی۔

اس لیے آج لازمی یہ کام ہونا تھا ورنہ یہ پروجیکٹ داؤد کے ہاتھوں سے نکل سکتا تھا اور پیپرز والی فائل مل نہیں رہی تھی۔ داؤد نے موبائل اٹھایا گھر کال کی اور آمنہ بیگم سے اپنے کمرے میں فائل دیکھنے کا کہا۔

” مل جائے کی فکر نہیں کرو ” سارہ نے تسلی دی۔ داؤد نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

*******************

لاونج میں سکندر صاحب اور حفصہ بیگم موجود تھے۔ رخسانہ بیگم کیچن میں دوپہر کا کھانا تیار کر رہی تھیں اور آمنہ بیگم داؤد کی جب سے کال آئی تھی، فرزانہ کے ساتھ مل کر داؤد کے کمرے میں فائل ڈھونڈ رہی تھیں۔ اور مہر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی جلدی سے ناشتہ کر رہی تھی کیونکہ وہ بہت لیٹ ہو گئی تھی اور بیا کی کالز پر کالز آرہی تھیں۔ رخسانہ بیگم نے اسے بتایا تھا کے خان بابا آج نہیں آئے(ان کی بیٹی کی منگنی تھی وہ اس سلسلے میں اپنے گاؤں گئے تھے)۔

“بابا آپ مجھے ڈراپ کر دیں بیا کے گھر ” مہر نے اپنے بابا سے کہا۔

“بیٹا میں چھوڑ تو آؤں آپکو لیکن اس کے لیے گاڑی چاہئے جو میرے پاس نہیں ہے”

“ہیں ! گاڑی ہے تو سہی”

“وہ داؤد لے کر گیا ہے آفس، اس کی گاڑی خراب تھی جو کہ باہر کھڑی ہے اور آج خان بھی نہیں آیا ورنہ وہ ٹھیک کروا لاتا اب تک”

“اوفف ! ٹائر پنکچر کرنے کا نقصان تو مجھے ہوگیا ہے الٹا اور وہ لاڈ صاحب بڑے آرام سے میرے بابا کی گاڈی لے گیا، میں بھی پاگل ہوں بلا یہ خیال کیوں نہیں آیا کے وہ بابا کی گاڈی میں بھی تو آفس جا سکتا تھا”۔

“ملی فائل؟” سکندر صاحب نے اوپر سے آتی آمنہ بیگم سے پوچھا۔

“نہیں بھائی صاحب سارا کمرہ دیکھ لیا”

“میرے پاس بھی نہیں ہے تو کہاں جاسکتی ہے۔۔۔ میں ذرا داؤد کو کال کر کے دیکھتا ہوں۔۔۔ہو سکتا ہے مل گئی ہو۔۔۔۔” کہتے ہوئے سکندر صاحب نے کال کی، دوسری طرف یہ ہی کہا گیا کے آفس میں بھی نہیں ہے۔ مہر پاس بیٹھی سننے کی کوشش کررہی تھی۔ سکندر صاحب نے فون رکھ کر بتایا کے نہیں ملی۔

(اور ملے گی بھی نہیں) شیطانی مسکراہٹ لیے مہر نے سوچا۔

*******************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *