Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 29) 2nd Last Episode ( Part - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 29) 2nd Last Episode ( Part - 1)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
رات کے کھانے کے بعد مہر حفصہ بیگم کے کمرے میں گئی جہاں رخسانہ بیگم پہلے سے موجود تھیں۔ اس کے اندر داخل ہوتے ہی وہ دونوں خاموش ہو گئیں۔
” کیا باتیں ہو رہی تھیں ؟ ” مہر نے آنکھوں کی پتلیاں سکوڑیں۔
” ایسے ہی ادھر اُدھر کی باتیں۔۔۔۔۔آ جا بیٹھ ” حفصہ بیگم نے اسے اپنے پاس بلایا۔ مہر مشکوک انداز میں سامنے بیٹھیں رخسانہ بیگم کو اور پھر حفصہ بیگم کو دیکھا۔
” اماں پھر میں کہہ رہی تھی لہنگا داؤد کی پسند کا بنوا لیتے ہیں ” رخسانہ بیگم نے کنکھیوں سے مہر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
” ہاں یہ ٹھیک رہے گا ” انھوں نے ہاں میں ہاں ملائی۔
” کیوں ؟؟ شادی میری ہے۔۔۔۔۔پہننا میں نے ہے لہنگا یا انھوں نے جو انکی پسند ہوگی ” مہر کو تو غصہ ہی آگیا تھا۔
” تو تم اپنی پسند کا لو گی؟ ” رخسانہ بیگم نے جلدی سے پوچھا۔
” جی بالکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ میری شادی ہے سب میری مرضی کے مطابق۔۔۔۔۔۔جیسے میں چاہوں گی ویسا ہوگا ہونہہ ” ہاتھ کمر پر رکھے گردن اکڑا کر اسنے علان کیا تھا۔ اسکے انداز پہ دونوں کے لبوں پر دبی دبی سی مسکراہٹ نمایا ہوئی۔ آخر انکا پلان کامیاب ہوگیا تھا۔
” ابھی تھوڑی دیر پہلے تک تو تم مان نہیں رہی تھی کہ جلدی کیا ہے۔۔۔۔۔ اور اب خودی تیاریاں کرو گی ” حفصہ بیگم نے طنز کیا۔
” مانی تو میں ابھی بھی نہیں۔۔۔۔۔لیکن انھوں نے جو دھمکی دی ہے نا مجھے اس لیے بہتر ہے میں چپ چاپ ہاں کر دوں۔۔۔۔۔۔کم سے کم میں اپنی شادی تو انجوائے کروں گی ” وہ خود سے ہی دھیمی آواز میں بڑبڑائی۔
” ارے کیا بول رہی ہے ؟ ” حفصہ بیگم نے اسے خود سے ہی بات کرتے دیکھا تو پوچھ بیٹھیں۔
” کچھ نہیں دادو ” کہہ کر وہ ان کے کمرے سے نکل گئی۔
پیچھے حفصہ بیگم اور رخسانہ ہنس دیں تھیں۔
” اف شکر ہے اماں یہ مسلئہ تو حل ہوا ” رخسانہ نے بیگم نے خوش ہوتے ہوئے کہا تو حفصہ بیگم نے بھی مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔
*********************
کچھ دن ایسے ہی پر لگا کر اڑ گئے۔ ان دنوں گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ مہر بھی بڑھ چڑھ کر اپنی شادی کی تیاریوں میں حصہ لے رہی تھی۔ ہر چیز اسکی پسند کے مطابق ہورہی تھی۔ اب مہر داؤد کے سامنے کم سے کم جاتی بلکہ یہ کہنا صحیح تھا اس دن کے بعد سے مہر داؤد سے چھپتی پھیر رہی تھی اور یہ بات داؤد با خوبی جانتا تھا۔
” میرا فون کہاں گیا ؟ ” مہر لاونج میں موجود اپنا فون تلاش کر رہی تھی۔
” موسیٰ کے ہاتھ میں دیکھا تھا تمہارا فون ” رخسانہ بیگم پاس ہی بیٹھیں تھی انھوں نے بتایا۔
” کہاں ہے وہ ؟ ” مہر نے پوچھا۔
” میرے خیال میں اوپر گیا تھا ” مہر جلدی سے وہاں سے نکل کے زینے چڑھنے لگی۔
اوپر داؤد کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور سامنے بیڈ پر موسیٰ مہر کے فون پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔ مہر موسیٰ کو آواز دیتے ہوئے بنا آگے پیچھے دیکھتے ہوئے کمرے میں گئی۔ اس بات سے بے خبر کے پیچھے صوفے پر داؤد موجود تھا۔ داؤد صوفے پر بیٹھا سامنے ٹیبل پر رکھے لیپٹاپ پر کام رہا تھا۔
” آپ میرا فون لے کر کہاں گھوم رہے ہو اور میں کب سے ڈھونڈ رہی تھی ؟ ” مہر نے موسیٰ سے کہا۔
” میں گیم کھیل رہا اوں ” موسیٰ نے بنا اسکی طرف دیکھے جواب دیا۔
” بعد میں کھیلنا ابھی مجھے دے دیں “
” یار آؤٹ او جاؤں گا “
” چلو جی انکی گیم میرے کاموں سے زیادہ اہم ہے ” مہر نے نفی میں سر ہلایا۔ داؤد اپنا کام چھوڑ کر صوفے سے ٹیک لگائے بڑی فرصت سے مہر کو دیکھنے لگا۔ جیسے اس سے اہم اب کوئی کام نہیں۔
” موسیٰ !!!! مجھے کال کرنی ہے ” مہر نے پھر سے کہا۔
” میرے فون سے کر لو ” داؤد نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا۔ جبکہ مہر اسکی آواز سن کر وہیں جم گئی۔
” ہائے اللّٰہ جی یہ کہاں سے آگئے ” مہر بنا مڑے آنکھیں پھیلائے خود سے بولی۔ داؤد جو اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا اسکی آواز سنی تو مسکرا دیا۔
” میں تو کب سے یہیں ہوں تم نے دیکھا نہیں ” داؤد نے پیچھے سے اسکے کان میں کہا۔ مہر نے داؤد کی سانسوں کی تپش محسوس کی تو اپنی آنکھیں میچ گئی۔
” موسیٰ آپکی ماما بلا رہی ہیں جاؤ جلدی سے انکی بات سنو ” داؤد نے موسیٰ سے کہا تو وہ فوراً بیڈ سے اترا اور بھاگ کر کمرے سے نکل گیا۔ مہر بھی جلدی سے جانے کیلئے مڑی اور اسے بنا دیکھے دروازے کی طرف بڑھی لیکن اس سے پہلے ہی داؤد اسکے پیچھے سے ہی دونوں ہاتھ دروازے پر رکھے دروازہ بند کر چکا تھا۔ مہر داؤد کے حصار میں کھڑی بند دروازے کو گھور رہی تھی۔
” مہر !!!! ” داؤد نے اسے پکارا تو مہر اسکی طرف مڑی تھی۔
” کتنا بھاگو گی مجھ سے جبکہ آنا تم نے ایک دن میرے پاس ہی ہے ” داؤد گھمبیر لہجے میں کہتے ہوئے اس کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑسنے لگا۔ داؤد کی شوخ مسکراتی نظریں مہر کو بری طرح پزل کر گئی تھیں۔
” مم۔۔۔۔۔۔۔میں کیوں بھاگوں گی بھلا ؟ ” ہمت کرتے ہوئے اس نے داؤد سے کہا۔
” اچھا ایسا ہے تو ابھی تم کہیں نہیں جا رہی کتنے دنوں سے تمہے ٹھیک سے دیکھا نہیں ” داؤد نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے لیے آگے بڑھا۔
” اچھا یہ تو بتاؤ تم مجھے میرے نام سے کیوں نہیں پکارتی ” داؤد نے رک کر سوال کیا۔ اسکے سوال پر مہر ایک دم خفا سی ہوئی۔
” کیونکہ دادو مجھے ہمیشہ بچپن میں ڈانٹتی تھیں کہ میں آپکو بھائی بولوں ” مہر نے منہ بناتے ہوئے بتایا۔
” اوووو یعنی تمھے بچپن سے ہی مجھ پر کرش تھا ” داؤد مسکرایا تھا۔
” او خوش فہمی۔۔۔۔۔۔وہ تو مجھے غصہ آتا تھا انکی ڈانٹ سے تب سے میں نے بھی سوچ لیا تھا کہ آپکا نام ہی نہیں لینا تو ڈانٹ بھی نہیں پڑے گی “
” اچھا !! “
” جی !! اور آپ۔۔۔۔۔۔ خود آپ مجھ پر بچپن سے ہی غصہ کرتے ہوئے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اسی لئے آپ مجھے بالکل اچھے نہیں لگتے تھے ” مہر نے خفگی سے کہا۔
” تھے؟؟؟؟؟ مطلب اب اچھا لگتا ہوں ” داؤد نے اسکا شکوہ نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مطلب کی بات پکڑی۔
” نہیں جی۔۔۔۔۔۔۔ اور آپ بھول گئے ایک دن آپ مجھے اتنی رات کو لان میں سے کیسے گھسٹتے ہوئے لائے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی زور سے پکڑا تھا مجھے اتنا درد ہوا تھا ” اب اسکا اگلا شکوہ بھی حاظر تھا۔ داؤد کو وہ رات یاد تھی۔
” ہاں لیکن اس میں غلطی تمہاری تھی۔۔۔۔۔ اس رات تم خود میں اتنی مگن تھی کہ تمھے پتا ہی نہیں چلا سامنے گھر سے ایک لڑکا کھڑا تمھے دیکھ رہا تھا ” داؤد نے دھیرے سے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بتایا۔
” ہیں ؟؟؟ مجھے تاڑ رہا تھا ؟ ” مہر نے چیختے ہوئے کہا۔
” تاڑ ؟؟؟ تاڑ واٹ ؟ ” داؤد نے ناسمجھی سے پوچھا۔
” او ہو اسے چھوڑیں آپ مجھے بتائیں وہ کونسے والا لڑکا تھا وہ جو باڈی بلڈر ہے یا جس کی بڑی بڑی مونچھیں ہیں ” اسکی بات پر داؤد کے ماتھے پر بل پڑے۔
” تم انھیں جانتی ہو ؟ ” داؤد نے آنکھوں میں برہمی لئے پوچھا۔
” ظاہر ہے بھئی ہمسائے ہیں ہمارے کتنی بار آتے جاتے دیکھا ہے ” مہر نے بتایا تو داؤد نے سرد سانس خارج کی۔
” اب بتا بھی دیں۔۔۔۔۔۔میں جا کر اس کے دانت توڑ کر آؤں گی اسکی ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے تاڑنے کی ” داؤد اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگا۔
” کاکروچ سے تم ڈرتی ہو اور اس لڑکے کے تم دانت توڑو گی ” داؤد نے آنکھیں گھمائیں تھیں کیونکہ اسکے رومانس کا تو مہر اچھا خاصا بینڈ بجا چکی تھی۔ اب وہ مزید اسے اس دن کاکروچ سے ڈرنے کی وجوہات بتانے لگی تھی جسے داؤد مسکرا کر سن رہا تھا۔
*********************
شادی میں مزید دس دن باقی رہ گئے تھے اور گھر میں ڈھولک رکھی جا چکی تھی۔ سارے قریبی رشتے دار اور مہر کی دوستیں بیا اور انعم ڈھولک کیلئے روز رات ان کے گھر موجود ہوتے۔ اس طرح شادی سے پہلے گھر میں خوب رونق میلہ لگتا۔ مایوں سے ایک دن پہلے مہر نے گرینڈ ڈھولک بھی رکھوائی جسکو باقاعدہ ایک فنکشن سمجھا جانا تھا۔ اس ڈھولک پر بھی صرف قریبی رشتے دار مدعو تھے۔ پورا گھر دولہن کی طرح سجایا گیا۔ لان میں کھانے کا بندوبست کیا گیا جبکہ گھر کے اندر لاونج سے ساری چیزیں ہٹوا کر وہاں ڈانس وغیرہ کا بندوبست تھا۔ لاونج کے کارنر پہ میوزک سسٹم سیٹ کروا رکھا تھا۔ مہمان آنا شروع ہو چکے تھے۔ عظمیٰ بیگم کی فیملی بھی آ چکی تھی۔ سارہ نے کالے رنگ کا سادہ سا لمبا کلیوں والا فراک پہنا ہوا تھا۔ ہلکی گلابی لپسٹک اور آنکھوں میں کاجل ڈالے وہ سادگی میں بھی بہت پیاری نظر آ رہی تھی۔ مہر ٹی پینک شارٹ شرٹ جس پر سلور گوٹے اور تار کا کام ہوا تھا اور نیچے ہم رنگ شرارا پہنے ہوئے تھی۔
ہاتھوں میں سلور چوڑیاں، بالوں کو سٹریٹ کیے کھلا چھوڑا اور ماتھے پے بندیا لگائے، ہلکا میک اپ کیے وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد میوزک سسٹم پر گانے بھی بجنا شروع ہوگئے۔ مرد حضرات سب لان میں موجود تھے جبکہ خواتین گھر کے اندر لاونج میں۔ داؤد اپنے کمرے میں ہی تھا کیونکہ اسے یہ شور و غل بالکل پسند نا تھا۔
میرا جھمکا اٹھا کے لیا پھر یار وی
جو گیرا تھا بریلی کے بازار میں
میں تو ٹھمکا لگاکے شرما گئی
بولی گھونگر بندھا دیں گے میں آ گئی
مجھکو ناچا کے ناچ لے
آجا نچ لے نچ لے میرے یار تو ناچ لے
جھانک جھانک جھنکار
اے نچ لے نچ لے میرے یار تو نچ لے
اب تو لوٹا ہے بازار۔
سب کو بھولا کے نچلے
آ جا نچ لے نچ لے میرے یار تو ناچ لے
جھانک جھانک جھنکار
گانا بجا تو انعم اور بیا نے اس گانے پر خوبصورت سا رقص کیا جسے وہاں موجود سب خواتین نے سراہا۔ اگلا گانا بجا تو عالیہ نے سارہ اور حمزہ کی بیوی ہانیہ نے بھی مہر کے ہمراہ اس گانے ہر خوب ڈانس کیا۔
بلو نی تیرا لال گھاگرا۔
بلو نی تیرا لال گھاگرا۔
ہے ترپاوے، سدی جان کد جاوے
تیرا لال گگھرا
ہے ترپاوے، سدی جان کد جاوے
تیرا لال گگھرا
رتن دی نیند اراویہ،
بلو نی تیرا لال گھاگرا۔
بلو نی تیرا لال گھاگرا۔
بلو نی تیرا لال گھاگرا۔
باغن وچ خیرے جیواں پھول سوہنی
لگدے، انج تیرے گھاگرے تے پھول بوتے سجدے۔۔۔
باغن وچ خیرے جیواں پھول سوہنی
لگدے، انج تیرے گھاگرے تے پھول بوتے سجدے۔۔۔
تریاں تم مہنگا تیری لک
تے نا رہندا تیرا لال گھاگرا۔
ہر طرف خوشی ہنسی اور رونق لگی ہوئی تھی۔ سب خوب انجوائے کر رہے تھے۔ مہر اپنی دوستوں کے ساتھ اور باقی سب کے ساتھ تصویریں اور سیلفیاں لے رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد سب خواتین بھی کھانے کیلئے لان میں آگئی۔ علی نے سارہ کو دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔ وہ ایک کونے میں کھڑی موسیٰ کے ساتھ باتیں کر رہی تھی۔ جب علی اسکے پاس آ رکا۔
” کیسی ہیں آپ ؟ ” علی نے دھیمی مسکراہٹ لئے پوچھا۔
” ٹھیک ہوں ” سارہ نے بس اتنا ہی کہا۔ موسیٰ اس سے اپنا ہاتھ چھوڑا کر وہاں سے بھاگ گیا۔ تو سارہ بھی وہاں سے جانے لگی لیکن علی کی بات پر رک گئی۔
” آپ ابھی تک ناراض ہیں کیا ؟ “
” بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔آپ غلط سمجھ رہے تھے اس دن بھی اور آج بھی۔۔۔۔۔ ایکچلی آئی ایم سوری میں آپ سے کچھ زیادہ روڈ ہوگئی آئی ہوپ آپ نے مائنڈ نہیں کیا ہوگا ” سارہ نے کہا۔
” اٹس اوکے ! میں خوبصورت لڑکیوں کی بات کا بالکل برا نہیں مناتا ” علی نے شوخی سے کہا۔ جبکہ سارہ کو اسکا اسے یوں خوبصورت کہنا ناگوار گزرا تھا۔
” آپ فلرٹ کر رہے ہیں ؟ ” سارہ نے تیکھے لہجے میں کہا۔ آنکھوں میں واضح ناگواری تھی۔
” میری اتنی مجال۔۔۔۔۔۔ میں تو بس آپکی تعریف کر رہا تھا کیونکہ میرا منانا یہ ہے کہ ہر خوبصورتی کو سراہا جانا چاہیے ” اسکی بات پر سارہ نے اسے گھورا اور وہاں سے جانے کیلئے پلٹی لیکن ایک بار پھر علی کے پکارنے پر رکی تھی۔
” سنیں !!!!”
” کہیے ؟؟؟” سارہ نے بنا پلٹے بات کرنے کی اجازت دی۔
” مجھ سے دوستی کریں گی ؟ ” علی نے بڑے پیار سے پوچھا۔
” ہرگز نہیں ” سارہ کہہ کر وہاں ایک پل نہیں رکی تھی۔ اور پیچھے علی مسکرا دیا۔ نا جانے کیوں وہ اسے اچھی لگنے لگی تھی۔
**********************
کچھ مہمان واپس جا چکے تھے بس اب گھر والے موجود تھے۔ ایسے میں عالیہ نے مہر سے کہا کہ وہ گانا ںگوائے وہ داؤد کو بلوا کر لاتی ہے۔ جبکہ داؤد کا سن کر مہر کو بھی یاد آیا اسکا ایک عدد شوہر بھی ہے جو آج اپنے ہی شادی کے فنکشن میں نہیں آیا۔ مہر اپنی تیاریوں اور مستی میں اسے بالکل فراموش کر چکی تھی۔ میوزک سسٹم میں ایک بار پھر گانا بجنا شروع ہوا تو عالیہ اوپر داؤد کو لینے چلی گئی۔ جبکہ مہر موسیٰ کو ڈانس کرتے دیکھ اس کے ساتھ ہنستے ہوئے ڈانس کرنے لگی۔
عالیہ اوپر داؤد کے کمرے میں اسے نیچے آنے کا کہنے لگی جو آرام دہ انداز میں بیڈ پر ٹیک لگائے گود میں لیپٹاپ رکھے کوئی ڈاکومنٹری دیکھ رہا تھا۔
” میں کیا کروں گا نیچے ؟ “
” اف داؤد تمہاری شادی کا فنکشن ہے ” عالیہ نے اسے آنکھیں دیکھائیں۔
” شادی کا اصل فنکشن رخصتی والا دن ہے اور تم فکر نہیں کرو اس دن میں تمھے سب سے آگے نظر آؤں گا ” داؤد نے کہا۔
” ہاں ہاں ہمیں پتا تمھے بہت جلدی ہے لیکن ابھی تو آؤ نا یار۔۔۔۔۔۔۔ سب مہمان جا چکے ہیں صرف ہم گھر والے ہیں ” عالیہ نے التجاء کی۔ اور داؤد نا چاہتے ہوئے بھی مان گیا۔ داؤد ابھی آدھی سیڑھیاں ہی اترا تھا کہ نیچے کا منظر دیکھ کر وہیں جم گیا۔
بولے چوڑیاں بولے کنگنا
ہائے میں ہو گئی تیری سجنا
تیرے بن جیو نہیں لگدا
مین تے مار جاوا
لہجہ لہجہ سونیے لہجہ
لہجہ دل لہجہ لہجہ
ہاے ہاے میں مار
جاوا مار جاوا تیرے بن
اب تو میری راتیں
کٹتی تارے گن گن
بس تجھکو پُکارا کرے
میری بندیہ اشارا کرے
میوزک سسٹم پر گانا بج رہا تھا اور مہر اس گانے پر ڈانس کر رہی تھی۔ اور داؤد بنا پلک جھپک اسے دیکھ رہا تھا۔ جبکہ عالیہ نیچے اسے ایسے دیکھ اپنی مسکراہٹ دبا کر واپس اوپر آئی۔
” پیاری لگ رہی ہے نا ؟ ” عالیہ نے بھی مہر کر طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا جو اب حمزہ کے ساتھ ڈانس کے سٹیپ لیتے ہوئے ہنس رہی تھی۔
” بہت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” داؤد نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔ عالیہ نے اسکے جواب پر اپنی ہنسی لبوں پر دبائی اور اسکی آنکھوں کے سامنے اپنا ہاتھ لہرا کر ہوش دلایا۔
” بس میرے بھائی ادھر ہی کھڑے رہ کر دیکھنا ہے کہ نیچے بھی چلنا ہے ” داؤد جلدی سے سڑھیاں اتر کر نیچے گیا۔ مہر کی نظر جب داؤد پر گئی تو وہیں تھم گئی۔ وائٹ سفیٹ شرٹ بلیک ٹراؤزر میں ملبوس وہ دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ بال ماتھے پر بکھرے آنکھوں میں چمک لئے وہ مہر کو دیکھ رہا تھا۔ مہر کو اپنی دل کی دھڑکنیں تیز سنائی دینے لگی۔ اب میوزک سسٹم پر دوسرا گانا بجنا شروع ہوا تو حمزہ سب کو بھاری بھاری اٹھا کر ڈانس کروا رہا تھا۔
بلے بلے نی ڈور پنجاب دی
ہو بلے بلے نی ڈور پنجاب دی
ہو جٹی کھل دی مارونا نائیو چل دی دور پنجاب دی
ہو جٹی کھل دی مارونا نائیو چھل دی دور پنجاب دی ہو بلے بلے!
رات کی رنگینی دیکھو کیا رنگ لائی ہے۔
ہاتھوں کی مہندی بھی جیسی کھل-کھل آئی ہے۔
مستیاں نی آنکھ یون کھلی اے۔
جھومتی دھڑکن یہ بولی۔
بلے بلے
سب ڈانس کر رہے تھے۔ حفصہ بیگم صوفے پر بیٹھی اپنے بچوں کو ایسے کھلکھلاتے ہنستے مسکراتے دیکھ خوش تھیں۔ مہر نے موسیٰ کا ایک ہاتھ تھامے اسکے ساتھ ہنستے ہوئے ڈانس کر رہی تھی۔ دفعتاً داؤد آگے بڑھا جہاں مہر تھی۔ داؤد نے مہر کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔ مہر نے پیچھے مڑ کر دیکھا کوئی بھی انکی طرف متوجہ نہیں تھا۔ داؤد اسے جلدی سے زینے چڑھتے ہوئے اوپر اپنے کمرے میں لے آیا۔
********************
