Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 1)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
لیونگ روم میں سے باتوں اور قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، شام کا وقت تھا سب گھر والے مل بیٹھے تھے۔ ایسے میں بڑے بھی سب بچوں کی ہنسی مذاک سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔
دادی جان اپنے بچوں کو ایسے دیکھ کر بے تحاشہ مطمئن تھیں، اب بس ایک خواہش باقی تھی کہ وہ اپنے بڑے پوتے کا گھر بسا ہوا دیکھ لیں اور یہ نہ جانے کب ممکن تھا، کیونکہ ان کے لاڈلے پوتے کو شادی میں فلحال کوئی دلچسپی نہ تھی، وہ بس اپنے business پر concentrate کرنا چاہتا تھا اور اسے بلندی پر لے جانے میں مصروف رہتا۔
******************
وہ اپنے دفتر میں بیٹھا کسی فائل میں مصروف تھا۔دروازے پر دستک ہوئی تو داؤد نے اندر آنے کی اجازت دی ، پیلے رنگ کا سوٹ پہنے ایک پیاری سی لڑکی اندر داخل ہوئی۔
“داؤد ! گھر نہیں جانا کیا آج”؟ سارہ نے مسکرا کے پوچھا
“ہاں بس نکل ہی رہا تھا، تمھے تمہارے گھر ڈراپ کر دوں؟”
“نہیں میں آج تمہارے ساتھ تمہارے گھر چلوں گی”۔
” ہمم چلو” داؤد نے کہا اور دونوں ایک ساتھ باہر چل دیے ۔
*******************
حفصہ بیگم اور غازی صاحب کے تین بچے تھے۔ بڑے بیٹے ابراھیم چھوٹے بیٹے سکندر اور بیٹی عظمیٰ۔
ابراھیم صاحب کی شادی آمنہ بیگم سے ہوئی تھی ان کے دو بچے تھے بڑی بیٹی عالیہ اور بیٹا داؤد جو عالیہ سے ایک سال چھوٹا تھا۔
سکندر صاحب کی بیوی رخسانہ بیگم تھیں ان کی ایک ہی لاڈلی بیٹی تھی مہر ۔
بیٹی عظمیٰ کی شادی جنید صاحب سے ہوئی تھی انکا ایک بیٹا حمزہ اور بیٹی سارہ تھی ۔
یوں تو یہ ایک خوشحال گھرانہ تھا، لیکن ایک روز ابراھیم صاحب کا کار حادثے میں انتقال ہوگیا، ابھی انکی بیٹی عالیہ گیارہ اور بیٹا داؤد صرف دس سال کا تھا، غازی صاحب کو اپنے بیٹے کی موت کا گہرا صدمہ ہوا جس کی وجہ سے وہ بیمار رہنے لگے اور ایک دن وہ بھی خالق حقیقی سے جا ملے،ان سب کو اس دکھ سے نکلنے میں کافی وقت لگا تھا اور یوں سال گزر گے، یہ گھرانہ اسلامآباد میں مقیم تھا اب غازی انڈسٹریز کی ساری ذمداری سکندر صاحب اور داؤد ابراہیم پر تھی جو اب دس سال کا بچا نہیں بلکہ ایک خوبرو انتیس سال کا مرد تھا ۔
*****************
داؤد اور سارہ بھی اب سب کے ساتھ شامل تھے۔ سارہ تو خوشی کے ساتھ سب سے باتوں میں مگن ہوگئ البتہ داؤد سنجیدہ سا دادو کے پاس بیٹھا تھا۔ اسے شوروغل زیادہ پسند نہیں تھا۔ اور محفل بھی کیا خوب جمی تھی سب موجود تھے پھوپھو بھی یہاں تھی اسی لیے سارہ داؤد کے ساتھ اپنی نانو کی طرف آگئی تھی۔
آمنہ بیگم نے بیٹے کی طرف دیکھا تو سمجھ گئی کے وہ کمفرٹیبل نہیں۔ “داؤد جاؤ تم فریش ہو جاؤ اور تھوڑا آرام کرلو میں تمھے کھانے کے وقت بلوا لوں گی” اسنے ماں کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلا کر اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
یہ گھر کافی بڑا تھا نیچے والے پورشن میں بڑا سا لیونگ روم تھا، ایک کچن تھا، دادو اور باقی سب بڑوں کے کمرے نیچے تھے جب کے داؤد عالیہ اور مہر کا کمرہ اوپر تھا ۔ عالیہ کی شادی پانچ سال پہلے سکندر صاحب کے دوست کے بیٹے سے ہوگئی تھی اب اسکا تین سال کا پیارا سا بیٹا تھا اور اجکل وہ اپنے شوہر عرفان اور بیٹے موسیٰ کے ساتھ دبئی گئ ہوئی تھی۔
******************
شارٹ بلیو شرٹ کے ساتھ بلیو ٹرووثر پہنے،کندھے کی ایک طرف شیفون کا ہی بلیو دوپٹہ جھول رہا تھا وہ عجلت میں سیڑھیاں اتر رہی تھی کے سامنے سے آتے داؤد سے بری طرع ٹکرا گئی۔ “افف ! دیکھ کر نہیں چل سکتے ” وہ غصے میں اور کچھ کہتی لیکن جب نظریں اوپر اٹھی تو ایک دم چپ هوگئ داؤد اسے کندھے سے پکڑ کر کھڑا تھا۔ پھر بینا کچھ کہے سرد نظر سے مہر کو دیکھ کر آگے بڑھ گیا۔ ” عجیب ہیں یہ دادو کے لاڈلے پوتے بندہ کوئی لحاظ کرلیتا ہے کے کزن کو سوری بول دوں پوچھ لوں کے میرے لوہے کے بنے سینے سے ٹکرا کر کہیں تمھے چوٹ تو نہیں لگ گئ، لیکن نہیں یہ کہاں کچھ کہیں گے”۔ مہر اپنا سر سہلاتے اور بڑبڑاتی ہوئی نیچے چل دی ۔
