Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 28)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 28)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
یہ منظر مہر کے کمرے کا تھا جہاں وہ ہر چیز سے بے نیاز خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔ پڑھائی سے جان چھوٹنے پر پوری رات اس نے خوشی منائی تھی۔ صبح فجر کی نماز کے بعد جا کر کہیں وہ سوئی تھی۔ اور اب دوپہر کے تین بجنے والے تھے اور وہ ابھی تک نہیں جاگی تھی اس بات سے بے خبر کے گھر والوں نے اس کیخلاف ایک اور سازش تیار کر لی ہے۔ رخسانہ بیگم اس کے کمرے میں داخل ہوئیں تو اسے ایسے سوتے دیکھ اپنا ماتھا پیٹا۔ اتنی سردی میں وہ بنا کچھ اپنے اوپر لئے اوندھے منہ پڑی تھی۔ رخسانہ بیگم نے آگے بڑھ کر اس پر کمبل دیا اور پھر پاس بیٹھ کر اسے اٹھانے لگیں۔ مہر نے کروٹ بدل کر سیدھے لیٹی۔
” مہر تین بج چکے ہیں اٹھ جاؤ اب “
” او تین بج گئے؟ ” مندی مندی آنکھوں سے رخسانہ بیگم کو دیکھتے ہوئے بولی۔
” مہر اب یہ سب نہیں چلے گا “
” ماں کیا ہے ؟ آپ بندہ سو بھی نہیں سکتا ؟ “
” سونے سے کسی نے منع نہیں کیا لیکن بے وقت سونا کہاں کی اچھی بات ہے؟ کیوں رات دیر تک جاگتی ہو ؟ “
مہر نے انکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا بس اٹھ کر بیٹھی اور ان کے کندھے پر سر رکھ لیا۔
” مہر اب تمھاری شادی ہونی ہے تو تمھے اپنی عادات بدلنی پڑھیں گی، یہ بے فکری، کھیل کود شرارتوں کے دن گئے تمھارے ” رخسانہ بیگم اسے سمجھانے لگیں۔ مہر نے انکی بات پر منہ بنا لیا۔
” ابھی سے جلدی سونے اور اٹھنے کی عادت اپناؤ، داؤد صبح جلدی اٹھ کر آفس جاتا ہے تو تمھے بھی اس کے ساتھ ہی جاگنا پڑے گا اسکی ہر چیز دیکھنی ہے اسکا کھانا پینا، اسکی پسند ناپسند ” جیسے جیسے وہ کہے جا رہی تھیں مہر کے منہ کے تاثرات ویسے ویسے بدل رہے تھے۔
” اس لئے جب تک رخصتی نہیں ہوتی ابھی سے ان چیزوں کا خیال کیا کرو، داؤد کے چھوٹے موٹے کام خود اپنے ہاتھوں سے کیا کرو ” انھوں نے پیار سے کہہ کر بات مکمل کی۔ مہر نے فوراً سے ان کے کندھے سے سر ہٹایا اور انھے دیکھنے لگی۔
” میں کیوں کروں ان کے کام ؟ ” مہر نے ناک چڑھائی۔
” بری بات شوہر ہے تمھارا ” انھوں نے تنبیہ کی۔
” ہاں تو ابھی سے کیوں کروں جب شادی ہوگی تب “
” شادی کونسا سالوں بعد ہونی ہے نکاح ہوچکا اور رخصتی بھی جلد ہو جائے گی ” وہ کہتے ہوئے اسکے بیڈ سے اٹھ گئیں۔ جبکہ مہر انکی بات پر شاک سی بیٹھی تھی۔
” ماں رخصتی کیوں جلدی ہوگی ؟ مجھے نہیں جانا آپ کو اور بابا کو چھوڑ کر ” وہ جلدی سے کہہ کر بھاگ کر انکے گلے لگی۔ انداز ایسے اپنایا تھا جیسے وہ اداس ہے بہت اور اسکی اداسی سے اسکی ماں رخصتی کا سوچے گی بھی نہیں۔
” شروع ہو گئے تمھارے ڈرامے ” رخسانہ بیگم نے اس کے بازو پر تھپڑ رسید کیا تھا۔
” آاااا ماں ” مہر بازو سہلانے لگی۔ رخسانہ بیگم مسکرا کر اسکے کمرے سے نکل گئیں۔ مہر چل کر آئینے کے سامنے آئی اور اپنے عکس کو دیکھنے لگی۔
” اب ان لاڈ صاحب کے کام بھی کرنے ہوں گے ہونہہ ” مہر نے ناک چڑھائی اور پھر کسی خیال کے تحت مسکرا دی۔
*********************
رات کا کھانا خاموشی سے کھایا جا رہا تھا۔ داؤد بالکل سنجیدہ سا کھانے میں مصروف تھا۔ مہر ہر لمحے بعد نظر اٹھا کر سامنے بیٹھے داؤد کو دیکھتی۔ اسے رخسانہ بیگم کی آج دوپہر کی باتیں یاد آئیں تو ایک شرمگیں مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا۔ لیکن وہ شام سے نوٹ کر رہی تھی داؤد نے ایک بار بھی اسکی طرف دیکھا نہیں تھا۔ پہلے مہر نے اپنا وہم سمجھا لیکن ابھی بھی وہ آسکے سامنے تھی اور وہ کھانے میں لگا تھا۔ پہلے تو اسکی نظریں مہر سے ہٹتی نہیں تھیں اور اب کیسے بیگانہ بنا بیٹھا تھا۔ مہر نے برا سا منہ بنا لیا۔
کھانا کھانے کے بعد داؤد لان میں چلا گیا۔ مہر بھی جلدی جلدی سے ہاتھ چلاتے ہوئے برتن اٹھا کر کچن میں رکھے اور پھر داؤد کے پیچھے باہر لان میں آگئی۔ اس نے دیکھا وہ فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے ٹہل رہا تھا۔ مہر بھی تھوڑا فاصلے پر سینے پر ہاتھ باندھے ٹہلنے لگی۔ جب داؤد کا فون بند ہوا اندر جانے لگا تو سامنے مہر کو کھڑے پایا وہ اسے دیکھ کر مسکرائی لیکن داؤد پاس سے گزر کر اندر چلا گیا۔ مہر پیچھے کھلے منہ کے ساتھ کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔
” خود کو سمجھتے کیا ہیں ہونہہ ” مہر پیر پٹختی اندر کی جانب بڑھ گئی۔
***********************
داؤد بیڈ پر ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے نیم دراز تھا۔ ہونٹوں پر مسکان سجائے اپنی دشمن جان کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ وہ جان بوجھ کر مہر کو اگنور کر رہا تھا تاکہ اسے بھی تھوڑا احساس ہو۔ وہ ڈائنگ پر خوب اچھے سے اسکی نظریں خود پر محسوس کر رہا تھا۔ حالانکہ یہ مشکل ترین کام تھا داؤد کیلئے کہ مہر اس کے سامنے ہو اور وہ اسے نظر بھر کر دیکھے بھی نا۔ اور تھوڑی دیر پہلے ہی آمنہ بیگم نے اسے بتایا تھا کہ انکی شادی کی تاریخ بھی رکھی جا چکی ہے۔ اور اس بات سے ڈھیروں سکون دل میں اترا تھا اور ساتھ میں مہر کے ریکشن کا بھی سوچ رہا تھا اب اسے صحیح معنوں میں علم ہوگا کہ داؤد ابراہیم کو زبان دے کر مکرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
**********************
مہر بھی اپنے کمرے میں بے چین تھی اسے داؤد کا یوں اسے نظر انداز کرنا بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔
” ہائے کہیں مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں ” ایک خیال دماغ میں آیا۔
” لیکن میری کیا غلطی ہے اس میں ؟ آئے بڑے ” مہر منہ بسورے اٹھی۔
” جا کر پوچھ لیتی ہوں کہ کیا مسئلہ ہے بھئی۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں یہ ہی صحیح رہے گا ” کہتے ہوئے جلدی سے اس نے جوتا پہنا اور اپنے کمرے سے نکلی۔ پورا گھر خاموشی میں ڈوبا تھا۔ سب اپنے اپنے کمروں میں سونے کیلئے جا چکے تھے۔ مہر داؤد کے کمرے کے باہر آ کر ہلکے سے ناک کیا اور پھر ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر کھولا تو دروازہ کھول گیا۔
مہر نے اندر قدم لیا تو داؤد کو سامنے بیڈ پر نیم دراز پایا۔
” شکر ہے جاگ رہے ہیں ” مہر نے سوچا۔ داؤد نے اسے اپنے کمرے میں اس وقت آتے دیکھا تو تھوڑا حیران ہوا۔
” تم اس وقت ” داؤد اٹھ کر بیٹھا۔ مہر نائٹ سوٹ پر ایک لمبا کھلا سا سویٹر پہنے ہوئے تھی۔ بال کھلے ایک طرف کیے تھے۔ رات کے اس پہر ایسے سردی کے موسم میں وہ اس وقت داؤد کے سامنے سراپا امتحان بنی کھڑی تھی۔
” ہاں وہ میں نے پوچھنا تھا۔۔۔۔۔۔کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں؟ ” چہرے پر معصومیت سجائے اس نے پوچھا۔ داؤد ایک بار پھر حیران ہوا تھا۔ مطلب اسے اسکی زرا سی بے رخی اتنی چبھی تھی کہ وہ رات کے اس پہر بنا کسی چیز کے پروا کیے اسکے کمرے میں موجود تھی۔
” کیا نہیں ہونا چاہئے ؟ ” داؤد نے ابرو اچکا کر پوچھا جبکہ نظریں مہر کے سراپے پر الجھ رہی تھیں۔
” دیکھیں آپ کی غلطی تھی آپکو پتا ہونا چاہیے تھا مجھے پڑھائی سے کتنی چڑ ہے “
” ہاں مجھے خواب آنا تھا کہ تمھے پڑھائی سے کتنی چڑ ہے ” داؤد نے آنکھیں گھمائی تھیں۔
” اچھا نا تو اب یہ مسلئہ حل ہو تو گیا ہے تو پھر آپ ایسے کیوں ناراض ہیں ؟ “
” ریلی ؟ مسئلہ تمہارا حل ہوا ہے۔۔۔۔۔میرا کیا ؟”
” آپکا کیا ؟ ” مہر انجان بنی۔
” اففف ” داؤد کیلئے اب مشکل ہو رہا تھا۔ اسکے دلکش روپ سے نظریں ہٹنے سے انکاری تھیں۔
” مہر مجھے تنگ نہیں کرو اور جاؤ اپنے کمرے میں ” داؤد نے بیڈ پر بیٹھے بیٹھے کہا۔
” لیکن میری بات۔۔۔۔۔۔۔” اس سے پہلے وہ بات پوری کرتی داؤد کہہ اٹھا۔
” مہر اگر تم یہاں دو منٹ بھی مزید رکی تو آئی سویر تمھے پوری رات یہاں سے جانے نہیں دوں گا ” داؤد نے جس سنجیدگی سے یہ بات مہر کو دیکھتے ہوئے کہی تھی مہر الٹے قدموں وہاں سے بھاگی تھی۔ اسکی تیزی پر داؤد کھل کر مسکرایا۔
” پاگل نا ہو تو ” داؤد نے اٹھ کر لائٹ اوف کی اور سونے کیلئے لیٹ گیا وہ الگ بات تھی نیند اسے اب کہاں آنی تھی۔
**********************
اگلی دوپہر کو عالیہ بھی آگئی تھی اور اس بار وہ رہنے کیلئے آئی تھی۔ موسیٰ کو موسم سرما کی چھٹیاں تھیں تو عالیہ نے وہ چھٹیاں اپنے میکے میں گزارے کا سوچا۔ وہ اس وقت لاونج میں سب کے ساتھ بیٹھی اتنی جلدی شادی کی تاریخ رکھنے پر بحث کر رہی تھی۔
” امی اتنے کم سمے میں سب کچھ کیسے ہوگا؟ ” عالیہ نے آمنہ بیگم سے کہا۔
” او ہو عالیہ ابھی ایک ماہ دس دن ہیں پورے آرام سے تیاری ہو جائے گی ” آمنہ بیگم نے جواب دیا۔
” امی ایک ہی بھائی ہے میرا اتنا کچھ سوچا تھا میں نے لیکن اتنے کم وقت میں مشکل ہے کہ کوئی مزہ آئے ” عالیہ خفا سی کہنے لگی۔
” ہائے عالیہ تجھے کب سے مہر والے شوق ہو گئے ” حفصہ بیگم نے تجسس سے پوچھا۔ انکی بات پر عالیہ ہنس دی۔
” مہر سے یاد آیا۔۔۔۔۔۔ چچی مہر کے لہنگے کا آرڈر کب دینا ہے؟” عالیہ اب رخسانہ بیگم سے مخاطب تھی۔
” وہ ہی سوچ رہی ہوں لیکن اس سے پہلے مہر کو کون بتائے گا یہ سب سے بڑا مسلئہ ہے ” انھوں نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
” کیا ؟؟؟ مہر کو بتایا نہیں ابھی ؟ ” عالیہ نے حیرت سے پوچھا۔
” یہ زمہداری تو اماں کی ہے ۔۔۔۔۔مجھے پتا ہے اتنی جلدی کا سن کر وہ کتنا ناٹک کرے گی۔۔۔۔۔۔۔اسی لئے اماں ہی اسے صحیح سے سمجھا لیں گی ” رخسانہ نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
*********************
داؤد آفس سے جلدی گھر لوٹ آیا تھا۔ ابھی باتھ روم سے فریش ہوکر نکلا تو عالیہ اس کے کمرے میں آئی۔
” ہاں جی دولہے میاں ! بڑی جلدی میں ہو ” عالیہ نے شوخی سے کہا۔
” ایک تو تم سب کی مجھے سمجھ نہیں آتی، پہلے شادی پر راضی نہیں ہوتا تھا تب بھی مسئلہ اب ہوگیا ہوں تو تب بھی مسئلہ ” داؤد نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے افسوس کیا۔
” ارے میرے دولہے بھائی ہم نے کب کہا کہ مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اتنی جلدی بھی تو نا کرو کے ہم اپنے ارمان بھی نا پورے کر سکیں ” عالیہ نے دہائی دی۔
” عالیہ ابھی ٹائم ہے بہت سب کچھ ہو جائے گا ” داؤد نے اسے تسلی دی۔
” ہاں بھئی تمہارا تو ہو ہی جائے گا اصل مسئلہ تو ہم لڑکیوں کا ہوتا ہے اور مہر۔۔۔۔۔۔۔۔مہر کا لہنگا اتنے کم وقت پر کیسے ہو گا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
” اور کیا ؟ ” داؤد نے جلدی سے پوچھا۔
” دلہن کو تو ابھی تک یہ بھی نہیں خبر کے اسکی شادی ہو رہی ہے ” عالیہ نے سانس خارج کی۔
” اندازہ تھا مجھے کہ ابھی کسی نے اسے بتایا نہیں ” داؤد نے دھیمے سے کہا۔ اور پھر کچھ سوچ کر مسکرا دیا۔
*********************
مہر لاونج میں موسیٰ کے ساتھ مل کر اسکے فون پر کوئی گیم کھیل رہی تھی جب فرزانہ اس کے پاس آئی۔
” مہر باجی اماں جی آپکو اپنے کمرے میں بلوا رہی ہیں ” فرزانہ نے کہا۔
” اچھا جاتی ہوں ” مہر نے گیم میں گھم ہی جواب دیا۔ تھوڑی دیر بعد مہر وہاں سے اٹھی۔
” موسیٰ تم کھیلو میں بڑی نانو کی بات سن کر آتی ہوں “
” جی دادو آپ نے بلوایا ” مہر حفصہ بیگم کے کمرے میں جاتے ہی بولی۔
” ہاں زرا میری کھدر کی پھولوں والی شال دیکھ کدھر رکھی ہوئی ہے فرزانہ کو کب سے کہا ہے ڈھونڈ لیکن اسے ملی نہیں ” حفصہ بیگم نے کہا۔ مہر نے اثبات میں سر ہلایا اور انکی الماری میں شال تلاش کرنے لگی۔ اور اسے مل بھی گئی۔
” یہ رہی آپکی شال ” مہر نے نکال کر ان کے سامنے رکھی۔
” ہاں ادھر ہی رکھی تھی اس کام چود کو نظر نہیں آئی “
” لائیں میں آپ کے بال بنا دیتی ہوں ” مہر نے انکو بال کنگھی کرتے دیکھا تو خود ان کے ہاتھ سے کنگھی لے کر بیڈ پر چڑھی اور ان کے پیچھے بیڈ پر گھٹنوں کے بل بیٹھے ان کے بال بنانے لگی۔ حفصہ بیگم خوش ہوئیں وہ ایسے ہی ہمیشہ تیار رہتی تھی انکی خدمت کیلئے اور انھیں یقین تھا شادی کے بعد وہ ایک بہت اچھی بیوی بھی ثابت ہوگی اور انکا پوتا اور پوتی ہمیشہ ایک ساتھ خوش رہیں گے۔
” مہر !! ” انھوں نے اسے پکارا۔
” جی “
” مہر اپنی ماں کے ساتھ جا کر شادی کیلئے لہنگا پسند کر آ “
” کس کی شادی دادو ؟ “
” تیری اور کس کی ؟ “
” کیا میری ؟ ” مہر جلدی سے بال باندھ کر بیڈ سے اتری۔
” آئے ہائے آرام سے گر جاتی تو “
” لیکن دارو شادی میں تو ابھی ٹائم ہے نا اتنی جلدی کیا ہے ؟”
” کہاں ہے ٹائم ایک مہینہ دس دن بھی کوئی زیادہ ہوتا ہے ” انھوں نے شال خود پر اوڑھی۔ جبکہ مہر ناسمجھی سے انھے دیکھے گئی۔
” لیکن کب کیسے کیوں ؟؟؟ ” مہر کو لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسے عمر قید کا حکم سنا دیا ہو۔
” لڑکی کیا مسئلہ ہے تمہارا نکاح ہو چکا ہے تو رخصتی بھی تو ہونی ہے نا “
” لیکن دادو اتنی جلدی کیوں؟ اور مجھے بتائیں یہ شوشا اگر آپکے لاڈلے پوتے نے چھوڑا ہے نا تو میں انکو چھوڑوں گی نہیں ” میر نے تیکھے انداز میں استفسار کیا۔
” تمہارے باپ کا فیصلہ ہے “
” بابا کا ؟ “
” ہاں ! جا جا کر اپنے بابا کے سامنے جلدی کا رونا رو “
” دادو میں بابا سے اس بارے میں کیسے بات کروں گی ؟ پلیز کچھ کریں نا ” مہر روہانسی ہوئی اور انکی گود میں سر رکھ کر بیٹھ گئی۔
” چھوٹی بچی ہو تم جو ایسے ضد کر رہی ہو، بری بات ہے بیٹا ” مہر نے کچھ نہیں کہا بس منہ بنا کر انکی بات سنتی رہی۔
” سب بچیوں کی شادی ہوتی ہے کوئی بھی تمہاری طرح تھوڑی کرتا ہے۔۔۔۔۔۔تم تو میری سب سے پیاری سمجھدار بچی ہو پھر کیوں کرتی ہو ایسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔چل شاباش اٹھ آجا باہر چلیں اور اب خبردار جو تو نے ایسا کچھ کیا، اپنی ماں کو تنگ نا کرنا زیادہ ” انھوں نے کہا اور اسکا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ باہر لے گئیں۔
********************
داؤد اپنے کمرے میں کھڑا فون پر بات کر رہا تھا۔ اسکا رخ بالکونی کی طرف تھا اس لیے پیچھے کھڑے وجود سے وہ لا علم تھا۔ مہر اس سے بات کرنے آئی تھی اور اسکے پیچھے کھڑے اب فون بند ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ داؤد بات کرتے کرتے مڑا تو پیچھے مہر چہرے پر پریشانی سجائے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ داؤد کے لبوں کو مسکان نے چھوا اور مزید دو منٹ بات کر کے اس نے فون رکھ دیا۔
” تم یہاں ؟ ” داؤد نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” آپکو کچھ اندازہ ہے کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے ؟ “
” کیا ؟ “
” ہماری شادی کی تیاریاں ” مہر نے اپنی طرف سے جیسے کوئی بہت اہم ہونے والی سازش کا انکشاف کیا تھا۔ داؤد کو اسکے انداز پر ہنسی آئی جو وہ ضبط کر گیا۔
” ریلی ؟؟؟ ” داؤد نے ایسے دکھاوا کیا جیسے اسے بھی ابھی پتا چلا ہو۔
” جی “
” اوکے ” داؤد نے کندھے جھٹک کر کہا۔
” صرف اوکے ؟؟ اپ کچھ کریں گے نہیں ؟ “
” میں کیا کروں گا ؟؟ ” داؤد نے سوالیہ انداز میں آبرو اچکا کر پوچھا۔
” دیکھیں صرف آپ ہی ہیں جو یہ سب روک سکتے ہیں ” مہر نے التجاء کی۔
” اور تمھے کیوں لگتا ہے کہ میں یہ کروں گا؟” داؤد نے سینے پر ہاتھ باندھے۔
” آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا ایسا کرتے ہیں میں آپکی وہ بات ماننے کیلئے تیار ہوں۔۔۔۔۔۔ آپ جہاں کہیں گے جاؤں گی۔۔۔۔۔جو کہیں گے کروں گی اللّٰہ کا وعدہ پکے والا ” اسکے معصوم انداز پر داؤد بالکل مبہوت اسے دیکھے گیا۔
” نہیں اصل میں۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا اس میں زیادہ فائدہ ہے ” داؤد نے معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے مہر کو اپنی طرف کھینچا تھا۔
” پلیز مان جائیں نا ” اتنی نزدیکی کی پرواہ کیے بنا وہ پھر التجا کرنے لگی۔
” ناممکن اور یہ سزا ہے تمھاری تم نے پہلے مجھے انکار کیا تھا نا ” داؤد اسکا گال سہلانے لگا۔
” اچھا تو اب آپ مجھ سے بدلہ لیں گے ؟ “
” ایسے ہی سمجھ لو ” داؤد اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
” ٹھیک ہے میں خود کچھ کر لوں گی چھوڑیں مجھے ” وہ خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ اسکی حرکت پر داؤد کی گرفت مزید سخت ہوئی۔
” ایسا سوچنا بھی مت کیونکہ میں ایسا ہونے نہیں دوں گا “
” کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟”
” کیونکہ میری جان یہ دوریاں اب ناقابل برداشت ہیں ” داؤد نے بھاری آواز میں کہتے ہوئے مہر کے ناک کے ساتھ اپنا ناک رگڑا ۔ مہر کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ اس نے پھر سے داؤد سے دور ہونا چاہا لیکن ناکام رہی۔
” داؤد پلیز ” بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔ اسکے منہ سے پہلی بار اپنا نام سن کر داؤد کو خشگوار حیرت ہوئی۔
” پھر سے کہو ” داؤد نے خوشی سے سرشار لہجے میں کہا۔
” کیااااا ؟؟؟؟ ” مہر نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” میرا نام “
” داؤد!!!!!! ” اسکے کہنے پر داؤد نے جھک کر شوخ سی جسارت کی۔ اسکی حرکت پر مہر بالکل سن ہوگئی پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ داؤد کو اسکی حالت پر مزہ آیا۔
” تمہارے لبوں سے میرا نام کتنا اچھا لگتا ہے ” داؤد اس کے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے گویا ہوا۔ مہر ایک دم ہوش میں آئی اسکی حرکت سے مہر کے چہرے پہ گلال بکھر گیا۔
” مم۔۔۔۔۔۔۔مجھے جانا ہے ” مہر نے آنکھیں جھکائے کانپتے لہجے میں کہا۔
” چلی جانا لیکن پہلے بتاؤ اب تم جو ہو رہا ہے اسے ہونے دو گی اور بالکل بھی رخصتی کیلئے انکار نہیں کرو گی۔۔۔۔۔نہیں تو میں ایک ماہ کا بھی انتظار نہیں کروں گا اور ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے آؤں گا ” داؤد نے اسے اچھے سے باور کروا دیا کہ اگر کچھ بھی کرنے کا سوچا تو انجام کیلئے تیار رہے۔ مہر نے دو تین بار سر ہاں میں ہلایا۔
” گڈ گرل ” داؤد نے مسکرا کر اسے آزاد کیا تو وہ وہاں سے ایسے بھاگی جیسے دو منٹ بھی مزید رکتی تو بے ہوش ہو کر گر جاتی۔
*********************
