Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 12)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 12)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
سارہ اپنے کمرے میں کرسی پر بیٹھی سامنے میز پر رکھے لیپٹاپ پر کوئی میل چیک پڑھ رہی تھی جو داؤد نے بھیجی تھی۔ عظمیٰ بیگم کمرے میں آئیں اور کافی کا کپ سارہ کے پاس میز پر رکھا۔ سارہ نے انکی طرف مسکرا کر دیکھا اور تھینکس بول کر دوبارہ اپنا کام کرنے لگی۔ عظمیٰ بیگم سارہ کے پیچھے بیڈ پر بیٹھ گئیں۔
” تمہاری پھوپھو نے تمہارے بابا کو تمہارے لئے ایک رشتہ بتایا ہے” عظمیٰ بیگم نے بات شروع کی۔ سارہ کے لیپٹاپ پر چلتی انگلیاں تھمی تھیں۔
“انھوں نے لڑکے کی فیملی کو بلوا لیا ہے کے آکر وہ تمہیں دیکھ لیں اور ہم سے مل لیں، تمہاری پھوپھو پہلے ہی ان کو تمہارا بتا چکی تھیں اسں لئے وہ ہی آنا چاہتے تھے تو جنید(سارہ کے بابا) نے اجازت دے دی” اس کی طرف سے خاموشی کے بعد وہ مزید گویا ہوئیں۔ سارہ کرسی کھسکا کر اٹھی تھی اور عظمیٰ بیگم کے پاس نیچے بیٹھی، اپنے ہاتھ انکی گود میں رکھے ہاتھوں پر رکھے۔
“امی میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں” سارہ نے ہمت کرتے ہوئے کہا۔ عظمیٰ بیگم نے سر کو خم دیتے ہوئے بات جاری رکھنے کو کہا۔
“میں کسی کو پسند کرتی ہوں” نظریں جھکائے سارہ نے کہا۔
“جانتی ہوں” انکی بات پر سارہ نے بے یقینی سے آنکھیں اٹھائے انہیں دیکھا۔
“ماں ہوں میں سارہ ! اپنی اولاد کی ہر چیز سے واقف ہوں، تمہارے رویے نے بہت کچھ باور کروادیا تھا مجھے، جیسے تم رشتے والی بات سے اداس ہوئی اور پھر گم سم رہنے لگی مجھے اندازہ ہو گیا تھا” اسکی بے یقین آنکھوں کو دیکھتے ہوئے انہوں نے وضاحت دی۔
“اب تم بتاؤ کیا چاہتی ہو؟ کون ہو وہ؟ مجھے سب بتاؤ تاکہ ہم کوئی فیصلہ لے سکیں تمہارے لئے” اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے نرمی سے کہا۔
“امی وہ۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔میں داؤد کو چاہتی ہوں” ہچکچاہٹ سے کہتے ہوئے سارہ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
“کیا ! داؤد کو۔۔۔۔۔” وہ حیران ہوئی تھیں۔ سارہ نے آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھا اور جی کہتے ہوئے سر ہلایا۔
“کیا داؤد بھی تمھے”
“نہیں۔۔۔پتا نہیں۔۔۔۔وہ تو یہ بھی نہیں جانتا کہ میں اسے کتنا چاہتی ہوں۔۔۔۔مگر امی میں صرف داؤد سے شادی کروں گی اور کسی سے نہیں”
“سارہ اگر داؤد کسی اور کو۔۔۔۔۔” وہ بات پوری بھی نا کر پائیں تھی کہ سارہ نے ان کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ اسکا دل کانپا تھا ان کی بات کے مفہوم سے۔
“امی! ایسا مت کہیں۔۔۔میں داؤد کو جانتی ہوں۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔اگر ہوتا تو مجھے پتا ہوتا۔۔۔”
“اگر ایسا ہے تو مجھے فخر ہے تمہاری پسند پر” انھوں نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر مسکراتے ہوئے کہا۔ سارہ بھی مسکرائی۔
“آپ بابا سے کیا کہیں گی؟”
“ان سے نہیں ابھی میں اماں سے بات کروں گی پہلے، ویسے بھابھی خود تمہارا ہاتھ مانگتی تو کتنا اچھا ہوتا لیکن کوئی بات نہیں میں اماں سے ذکر کروں گی تو وہ بھابھی سے اپنے طور پر بات کریں گی” ان کے کہنے پر سارہ کے دل میں سکون سا اتر آیا۔
*********************
مہر داؤد کے پیچھے ہی آئی تھی۔ داؤد گاڑی میں سے اپنا فون لینے آیا تھا جو وہ بھول گیا تھا۔ فون پر کافی مسڈ کالز تھیں داؤد نے فوراً کال بیک کی اور اب وہ لان میں ادھر سے ادھر چکر لگاتے ہوئے بات کر رہا تھا۔ مہر تھوڑی دور کھڑی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے فون بند ہونے کا انتظار کر رہی تھی جو پچھلے پانچ منٹ سے کوئی بزنس کی بورنگ باتیں کررہا تھا۔ کال بند ہوئی تو داؤد اندر جانے لگا تھا کہ مہر نے روکا۔
“سنیں آپ کہہ رہے تھے آپ excuse کرنا چاہ رہے تھے مجھ سے” داؤد واپس مڑا مہر کی طرف۔
“ہاں کر تو لیا”
“ہیں ! کب کہا آپ نے سوری؟ میں نے تو نہیں سنا”
“میں اور سوری بولوں گا وہ بھی تم سے ؟” داؤد نے سینے پر ہاتھ باندھ کر پوچھا۔
“جی ہاں مجھ سے” مہر بھی اب داؤد کی طرح سینے پر ہاتھ باندھ کھڑی تھی۔
“خوش فہمی ہے تمہاری میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا”
“تو پھر excuse کونسا کر رہے تھے”
“یہ ہی کے مجھے تم سے اس دن ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی”
“بس یہ ہی؟” مہر کو تو مانو صدمہ ہوا تھا۔
داؤد شانے جھٹک کر مہر کے پاس سے گزر گیا۔ اور مہر اسے بس جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔
********************
کچھ دن ایسے ہی پر لگا کر اڑ گئے تھے۔ ان دنوں میں حمزہ کی شادی دو ماہ بعد تہہ پائی تھی۔ اور عظمیٰ بیگم نے حفصہ بیگم سے داؤد اور سارہ کی بات بھی کر لی تھی جس پر اونہوں نے کہا تھا وہ اور آمنہ بھی یہ ہی چاہتی ہیں۔ اس بات سے سارہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ دوسری طرف بیا کی شادی کے دن قریب آگئے تھے۔ مہر اب روز بیا کے گھر ڈھولک پر جانے لگی تھی۔ داؤد اور مہر کی چھوٹی موٹی نوک جھوک ساتھ ساتھ چلتی رہتی تھی۔
آج اتوار کا دن تھا اور ہمیشہ کی طرح عظمیٰ بیگم سارہ کے ساتھ اور عالیہ موسیٰ کے ساتھ غازی ہاؤس میں موجود تھے۔ دوپہر کے دو بج رہے تھے اور مہر ابھی تک سو رہی تھی۔ رات کو بیا کے گھر سے لیٹ واپس آئی تھی اور کچھ تھکاوٹ کی وجہ سے وہ ابھی تک نہیں اٹھی تھی۔ موسیٰ تو بنا مہر کے یہاں بور ہو جاتا تھا جس کے ساتھ کھیلتا تھا وہ ابھی تک سو رہی تھی۔ اس لئے وہ خود ہی مہر کو جگانے اس کے کمرے میں موجود تھا۔
مہر کے بیڈ پر چڑھ کر وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مہر کو جگا رہا تھا۔
“مہر خالہ اٹھو” وہ اسے اتنی دیر سے جگا رہا تھا لیکن مہر بالکل ہوش وحواس سے بیگانہ پڑی تھی۔ اتنے میں سارہ موسیٰ کو آوازیں دیتی ہوئی مہر کے کمرے میں آئی۔
“اوفف مہر !” سارہ نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔ سارہ کو ایک شرارت سوجھی تو اس نے موسیٰ کو چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے مہر کے ڈریسنگ ٹیبل سے کاجل اٹھایا اور اسے لے کر مہر کے قریب بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اور اب وہ اس کاجل سے مہر کے چہرے پر مونچھیں بنا رہی تھی۔ موسیٰ ہنسنے لگا تھا اسے دیکھ کر۔ سارہ نے کاجل واپس رکھا۔
“موسیٰ ابھی ہم مہر کو اٹھائیں گے تو آپ نے کچھ بتانا نہیں ہے مہر کو اوکے؟” سارہ نے دھیرے سے بولتے ہوئے موسیٰ کو سمجھایا۔ موسیٰ نے ہنستے ہوئے ٹھیک ہے کہا۔
“مہر اٹھو جلدی” سارہ نے مہر کو اچھی طرح جھنجھوڑا۔
“ہائے اللّٰہ کیا ہوا زلزلہ آگیا کیا؟” مہر گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔
“نہیں زلزلہ نہیں آیا لیکن تمہاری شامت آئی ہے، اٹھو نیچے نانو تمہیں بلا رہی ہیں” سارہ نے اسے بازہ سے تھام کر بیڈ سے اٹھایا۔
“کیوں بھائی میں نے کیا کیا ہے جو میری شامت آئی پڑی ہے”
“یہ تو تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ کونسی شرارت کی ہے تم نے” وہ اسے کمرے سے باہر لے جانے لگی۔ موسیٰ بھی دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ہنس رہا تھا۔
لاونج میں سب خواتین کپڑے رکھے بیٹھی تھیں جو حمزہ کی شادی کی تیاریوں میں شامل تھا۔ سکندر صاحب اپنے کسی دوست کی عیادت کے لیے گئے تھے اور داؤد اپنے کمرے میں تھا۔ سارہ مہر کو لئے نیچے آئی۔
“آؤ مہر” سارہ نے اسکا بازو چھوڑا اور سب کے ساتھ صوفے پر جا بیٹھی تھی۔ سب نے سارہ کی آواز پر مہر کی جانب دیکھا تو ایک دم ہنسنے لگے۔
“اوفف مہر” عالیہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنستی چلی جارہی تھی۔ حفصہ بیگم رخسانہ اور آمنہ بیگم بھی ہنس رہی تھیں۔ موسیٰ بھی کھلکھلا کر ہنسا رہا تھا۔ مہر جو اوپر سے نیچے آتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں کونسا کارنامہ اسکا سب کے سامنے آگیا ہے جس پر ڈانٹ پڑنے والی ہے سب کو ہونک بنی کھڑی دیکھ رہی تھی۔
ایک دم مہر کی تیوری چڑھی۔
“یہ کیا طریقہ ہے مجھے نیند سے اٹھا کر آپ سب پاگلوں کی طرح ہنس رہے ہیں” کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“کیا مصیبت ہے بھائی؟ کیوں ہنس رہے ہیں سب” مہر نے جھنجھلا کر کہا۔
“جا مہر جا کر شیشہ دیکھ کر آ” حفصہ بیگم کے کہنے پر مہر تیزی سے وہاں سے نکل کر اوپر کی طرف بڑھ گئی۔ داؤد کمرے سے نکلا تو سامنے سے آتی مہر کی طرف دیکھا۔ گوری رنگت پر گال لال جو زیادہ دیر سونے سے ہوئے تھے اور بڑی بڑی مونچھیں بنی وہ بالکل چھوٹی کیوٹ بچی لگ رہی تھی۔
داؤد کو اسے دیکھ کر ہنسی آئی تو وہ کنٹرول نہیں کر پایا اور زور سے ہنس دیا۔
مہر نے داؤد کو دیکھا تو ایک دم رک کر اسے دیکھے گئی۔ وہ ہنستا ہوا اتنا پیارا لگ رہا تھا مہر کو۔
“ارے واہ آپ ہنستے بھی ہیں” مہر نے مسکرا کر کہا تو داؤد کی ہنسی تھمی۔
“ایسے ہی ہنستے رہا کریں ہاں اچھے لگتے ہیں”
“تم یہ کیا بنی ہوئی ہو؟” داؤد نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
“وہ ہی تو۔۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں سب مجھے دیکھ کر ہنس رہے ہیں جیسے میں کوئی جوکر ہوں” مہر نے منہ پھلائے کہا۔
“وہ تو تم ہو” داؤد کہتے ہوئے مہر کے پاس سے گزر کر نیچے چلا گیا۔
“آپ۔۔۔۔۔۔۔! دیکھ لوں گی” مہر پیر پٹختی اپنے روم میں گئی۔
شیشے کے سامنے جا کر مہر نے اپنا چہرہ دیکھا تو منہ کھل گیا پھر خود کو دیکھ کھلکھلا کر ہنسی اور اپنا فون اٹھا کر دو تین سیلفیاں لیں۔
********************
رات کو سب کے جانے کے بعد حفصہ بیگم نے داؤد کو اپنے کمرے میں بلا لیا تھا۔ وہ اپنے بیڈ پر پاؤں اوپر کیے بیٹھی تھیں۔ داؤد بھی ان کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
“کہیں دادو آپ نے کوئی بات کرنی تھی”۔
“ہاں ! پھر کیا ارادہ ہے شادی کا؟” انھوں نے بنا کوئی تمہید باندھنے بات کا آغاز کیا۔
“دادو پلیز۔۔۔۔۔ کتنی بار بتا چکا ہوں کر لوں گا۔۔۔۔لیکن ابھی نہیں۔۔۔۔”
“دیکھ میرے بچے تیری دادی بوڑھی ہو گئی ہے، زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں میں جانے سے پہلے تیرا گھر بسا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ اسے اپنی دادی کی آخری خواہش سمجھ کر پورا کردے” حفصہ بیگم نے اداس ہوتے ہوئے کہا۔
“دادو کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔۔۔ اللّٰہ آپ کو ہمیشہ ہمارے سر پر سلامت رکھے” داؤد نے ان کے ہاتھ تھامے کہا۔
“پھر بتا تو کرے گا نا شادی؟”
“جی ہاں کروں گا” داؤد نے ہار مانتے ہوئے کہا۔
“ماشاءاللہ میرا شیر” حفصہ بیگم نے داؤد کر سر پر پیار دیتے ہوئے کہا۔
“لیکن ! آپ لوگ ابھی جلدی نہیں کریں گے”
“ہاں ٹھیک ہے۔۔۔۔یہ بتا کوئی لڑکی پسند ہے؟”
“نہیں”
“تو ہم خود دیکھ لیں؟”
“جی”
“سارہ کیسی رہے گی؟” ان کی بات پر داؤد جو اتنی دیر سے نظریں زمین پر گاڑھے ہوا تھا آنکھیں اٹھا کر ان کی طرف دیکھا۔
“آپ کو جو بھی اچھی لگے” داؤد نے کہہ کر آنکھیں ایک بار پھر جھکا دیں۔
“اللّٰہ تجھے ہمیشہ خوش وخرم رکھے” حفصہ بیگم نے اسکی فرمانبرداری پر دعا دی۔ وہ اگے بھی مزید کچھ کہتیں کے مہر کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آئی۔
“اوو۔۔۔۔۔۔۔ دادی پوتا آج ساتھ ساتھ” مہر نے اندر آتے ہوئے سوچا اور بیڈ کی بائیں جانب رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔
کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔
“کیا ہے بھائی میرے آتے ہی آپ لوگ چپ کیوں کرگئے” مہر نے کہا۔
“ارے کچھ نہیں ہوا” حفصہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
لیکن مہر اپنی آنکھیں چھوٹی کیے کبھی اپنی دادو کو دیکھتی تو کھبی ان کے پاس بیٹھے داؤد کو(ہونہہہ دال میں کچھ کالا ہے)۔
“اچھا دادو میں چلتا ہوں آپ بھی آرام کریں اب” داؤد کہہ کر کمرے سے جا چکا تھا۔ جبکہ مہر اپنے ہاتھ کی مھٹی بنائے چہرے کے نیچے رکھے اب اپنی دادو کو دیکھ رہی تھی۔
“چل آجا میرے سر پر مالش کر دے پھر میں سوؤں گی آج میں بہت تھک گئی ہوں”۔
******************
مہر حفصہ بیگم کے کمرے سے نکلی تو آمنہ بیگم ہاتھ میں کافی کا مگ لیئے کچن سے باہر آئیں۔
“مہر بیٹا !
“جی بڑی مام”
“اوپر اپنے کمرے میں جارہی ہو نا ذرا داؤد کو کافی بھی دے جانا” آمنہ بیگم نے مہر کو ٹرے پکڑاتے ہوئے کہا۔ وہ خود چلی جاتی لیکن اس وقت انہیں اماں کے پاس جانے کی جلدی تھی۔
“اوکے” مہر نے مسکراتے ہوئے انکا گال چوما تھا۔ وہ بھی مسکرا دیں۔
*******************
لگتا ہے آج بھی خلائی مخلوق ڈھونڈنے نکلے ہیں” مہر نے داؤد کو بالکونی میں کھڑے دیکھ سوچا۔ داؤد دونوں ہاتھ ریلنگ پر رکھے آج بھی ایسے ہی آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔
“آپکی کافی لائی ہوں”۔ داؤد نے مڑ کر کافی کا مگ اٹھایا اور دوبارہ مہر سے روخ مڑے کھڑا ہوگیا۔
“آپ ٹھیک ہیں؟” مہر نے پوچھا۔
“جانتی ہو دس سال کا بچہ جسے زندگی موت کا کچھ پتا نہیں ہوتا یوں اپنے جان سے پیارے بابا کو کھو دے تو کیا گزرتا ہوگا اس پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سکول میں parents day ہوتا تھا سب کے ماما بابا دونوں آتے تھے لیکن میرے ساتھ صرف امی ہوا کرتی تھیں تو میں کتنا اداس ہو جایا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Fathers day پر مس کرتا تھا بابا کو۔۔۔۔۔۔۔ جب جب بابا یاد آتے تب تب خود کو کوستا کہ کیوں میں نے ان سے ضد کی اس دن۔۔۔۔۔۔۔کاش میں انھیں کال نا کرتا تو وہ گھر آجاتے تو آج یہ پچھتاوے نا ہوتے میری زندگی میں اور بابا ہمارے ساتھ ہوتے۔۔۔۔۔۔۔صرف بابا نہیں مہر۔۔۔۔۔دادا جان بھی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بابا کے جانے کا دکھ سہہ نہیں پائے” داؤد نے بات مکمل کرکے ایک سرد سانس خارج کی۔
“سب اپنی زندگی پہلے ہی لکھوا کر آتے ہیں، یہ حادثے اور بیماریاں صرف بہانا بنتی ہیں ورنہ زندگی اور موت کب کسی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ آپ یہ سوچیں اگر تایا ابو آپ کو ایسے دیکھتے ہوں گے تو کتنا دکھی ہوں گے۔ آپکو چاہیے جب بھی ان کی یاد آئے تو آپ ان کیلئے دعا کیا کریں اس سے آپ کبھی بھی دکھی نہیں ہوں گے اور نا ہی کوئی پچھتاوا ہوگا”
مہر کی بات پر داؤد نے آنکھیں اٹھائے اس کی طرف دیکھا اسے نہیں تھا اندازہ کے مہر جیسی لڑکی بھی ایسی باتیں کر سکتی ہے۔ مہر نے داؤد کو دیکھا اور مسکرائی اور گڈناہٹ کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔ پیچھے داؤد کتنی دیر مہر کی کہی باتوں کو سوچتا رہا۔
********************
اگلے دو روز بھی گزر گئے۔ لیکن آج گھر میں مہر کا شور مچا تھا۔ آج بیا کی مہندی تھی اور وہ سب سے رات پہننے والے کپڑوں کے ساتھ چیزوں کا پوچھ رہی تھی۔ کبھی یہ کے اس کے ساتھ یہ چوڑیاں اچھی لگیں گی یا وہ دوسری کبھی جوتا یہ اچھا ہے یا وہ ہیل پہن لوں کبھی کچھ اور کبھی کچھ۔
بیا نے تو ضد کی تھی کہ مہر اس کے گھر روکے اور وہیں اس کے ساتھ تیار ہو لیکن مہر نے صاف انکار کردیا تھا کیونکہ وہاں اس کے ننھیال کے سارے کزن اور دوسرے کتنے رشتے دار آۓ ہوۓ تھے اور مہر ان کے ساتھ کمفرٹر ٹیبل نہیں تھی۔ انعم بھی اسی وجہ سے نہیں روکی تھی اور دونوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے گھر سے ہی تیار ہو کر آئیں گی۔ بیا ان کی بات مان تو گئی تھی لیکن وہ ناراض بھی ہوگئ تھی۔
شام کے سات بجے سب لاونج میں تھے اور مہر دو گھنٹوں سے اپنے کمرے میں بند تھی۔ داؤد بھی سب کے ساتھ ہی تھا۔ حفصہ بیگم نے سب کو داؤد کی سارہ سے شادی پر رضامندی کا بتا دیا جس پر سب خوش ہوئے تھے۔
ابھی بھی سب بیٹھے اسی بارے میں باتیں کر رہے تھے جبکہ داؤد اپنے فون پر مصروف تھا۔
“کیسی لگ رہی ہوں میں؟” مہر وہاں تیار کھڑی سب سے پوچھ رہی تھی اس کی آواز پر سب اسکی طرف متوجہ ہوئے۔ داؤد نے بھی فون سے نظریں اٹھا کر مہر کو دیکھا اور پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔
پیلے رنگ کی گھٹنوں سے اوپر تک آتی قمیض جس پر سلور رنگ کا کام ہوا تھا اور سلور رنگ کی موٹی لیس قمیض کے گھیرے پر لگی تھی نیچے ڈارک پریل رنگ کا شرارا اور قمیض کے ہم رنگ ہی دوپٹہ ایک کندھے پر ڈھلا تھا۔ بال کھلے چھوڑے تھے اور کانوں میں جھمکے پہنے ہوئے تھے، دونوں ہاتھوں میں بھر بھر چوڑیاں پہنی اور ہلکا سا میک اپ کیے وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔
داؤد بنا پلکیں جھپکائے مہر کر دیکھ رہا تھا۔ داؤد نے آج تک مہر کو ایسے نہیں دیکھا تھا۔ اسے لگا وہ مہر سے اپنی نظریں نہیں ہٹا پائے گا۔ آس پاس سب کیا کہہ رہے کیا بول رہیں داؤد کو کچھ نہیں سنائی دے رہا تھا۔
*******************
