280.2K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Mera Piyar (Episode - 16) Part - 1

Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad

داؤد نے مہر کی بند آنکھوں کو دیکھا تو ایک دم ہوش میں آیا۔

” وہ یہ کیا کرنے جا رہا تھا اتنی بے اختیاری کیسے ؟ “

داؤد فوراً مہر سے دور ہٹا تھا اور اسے دیکھتے ہوئے الٹے قدم اٹھاتا گیا۔ مہر ابھی بھی آنکھیں میچ کھڑی تھی۔

” ائی ایم۔۔۔۔۔ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔۔میرا دھیان کہیں اور تھا”۔

اسکی آواز دور سے سنی تو مہر نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ داؤد شرمندہ سے کھڑا مہر کو دیکھ رہا تھا۔ مہر نے ایک نظر داؤد کو دیکھا پھر اپنی آنکھیں جھکا لی۔ داؤد نے اس سے رخ پھیر لیا۔ کتنی ہی دیر دونوں خاموشی سے کھڑے رہے۔ مہر نے نگاہیں اٹھا کر ایک بار پھر اسے دیکھا اور پھر کمرے سے نکل گئی۔

********************

مہر تیزی سے کمرے میں آکر دروازہ بند کر کے اس کے ساتھ ہی لگی کھڑی رہی۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ مہر نے اپنا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھ لیا جیسے ایسا کرنے سے اسکی دل کی دھڑکن تھوڑی کم ہو جائے گی۔ اسے بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب ہوا کیا تھا۔ دماغ جیسے سن تھا۔ اپنا دوپٹہ اتار کر وہیں ساتھ صوفے پر پھینکا اور الماری سے نائٹ ڈریس نکال کر واشروم میں بند ہو گئی۔ واشروم سے نکل کر وہ بیڈ پر چت لیٹی چھت کو دیکھتی رہی۔ دماغ پر زور ڈال کر پھر سے وہ لمحہ یاد کرنا چاہا تو سب کچھ ذہن کے پردے پر واضح ہوا وہ وہاں روکی کیوں رہی تھی۔ اسکی آنکھوں میں ایسا کیا تھا جو مجھے ان میں خود کو دوبٹا ہوا محسوس ہوا۔

” ہائے اللّٰہ جی کہیں کالا جادو تو نہیں کرتے ” ایک دم مہر اٹھ بیٹھی تھی۔

“اوفف ایک منٹ کیلئے تو میں کھو ہی گئی تھی ان کی آنکھوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔عجیب انسان ہیں یہ۔۔۔۔۔کبھی غصہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔کبھی جھگڑا کرتے ہیں۔۔۔۔کبھی اپنے دل میں چھپا درد بھی کہہ دیتے ہیں۔۔۔۔۔کبھی خود سے دور رہنے کا بولتے ہیں۔۔۔۔کبھی خود اتنے قریب آجاتے ہیں۔۔۔۔کبھی میری اتنی پروا کرتے ہیں۔۔۔۔۔سمجھ نہیں آتا ان کا اصلی روپ کونسا ہے؟” گود میں تکیہ رکھے وہ مختلف سوچوں میں گھری رہی۔ پھر ایک دم ذہن میں داؤد کے کہے الفاظ یاد آئے۔

” دھیان کہیں اور تھا کا کیا مطلب؟۔۔۔۔۔۔۔۔ ہائے اللّٰہ مجھے کہیں اپنی وہ فون والی گرل فرینڈ تو سمجھ رہے تھے۔۔۔۔۔توبہ توبہ بہت ہی کوئی بے شرم ہیں ” کانوں کو ہاتھ لگا کر تکیہ درست کرتی وہ اب دوبارہ لیٹ گئی۔ انہی باتوں کو سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔

**********************

مہر کے جاننے کے بعد داؤد کتنی دیر بالکونی میں ہی کھڑا خود کو ملامت کرتا رہا۔ وہ ایسے کس طرح مہر کے اتنے قریب جا سکتا تھا۔ وہ اس کے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی۔ کہیں کچھ غلط نا سمجھنے لگے وہ تو ہے بھی ایسی اپنی مرضی کا کچھ بھی مطلب نکال لیتی ہے۔ داؤد اب غصے میں یہاں سے وہاں ٹہلنے لگا۔

” میرا دل میرے ہی بس میں نہیں رہا۔۔۔۔۔یہ مہر کو دیکھتے ہی بے قابو ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔dammnnnn !!!!

داؤد ابراہیم !!!!!! تم اتنی بڑی کمپنی کو سنبھالتے ہو لیکن اپنا ایک دل نہیں سنبھلتا۔۔۔۔۔شاید آج جو ہوا۔۔۔۔۔کتنا ڈر گیا تھا وہ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو وہ کیا کرتا۔۔۔۔۔۔ہاں اسی وجہ سے وہ اس کے اتنا قریب گیا ” خود سے مخاطب وہ خود کو ہی اپنے کیے کی وضاحتیں دینے لگا۔

**********************

صبح کی دودھیا روشنی میں سورج کی سنہری تاریں ملیں تو آسمان مزید روشن ہو گیا۔ داؤد آج اکیلا ہی آفس کیلئے گھر سے نکل چکا تھا۔ باقی گھر والے بھی ناشتے کے بعد سے معمول کے کاموں میں لگے تھے البتہ رخسانہ بیگم فون پر کسی سے مسکرا کر گفتگو کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ ڈائننگ سے ناشتے کے برتن اٹھا رہی تھیں۔ سکندر صاحب اور حفصہ بیگم لاونج میں موجود تھے۔ ٹی وی پر نیوز چینل لگا تھا۔ آمنہ بیگم فرزانہ سے گھر کے کام کروا رہی تھیں۔ اور مہر اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی۔

رخسانہ بیگم نے فون رکھا اور لاونج میں آکر سب کو بتایا کے ان کے بھائی کینیڈا سے واپس پاکستان آرہے ہیں۔

اس بات سے سب خوش ہوئے تھے۔ رخسانہ بیگم کے ایک ہی بھائی تھے منصور جو پانچ سال پہلے پاکستان سے کینیڈا شفٹ ہوگئے تھے انکی اہلیہ شگفتہ اور ایک ہی بیٹا علی تھا۔ انکے بیٹے علی کو کینیڈا کی ایک کمپنی میں جاب آفر ہوئی تو اسے جانا تھا لیکن شگفتہ بیگم اپنی ایک لوتی اولاد کے بغیر نہیں رہنا چاہتی تھیں اس لیے انہوں نے اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ منصور صاحب خود ایک ریٹائرڈ آرمی آفیسر تھے۔ ان پانچ سالوں میں وہ لوگ تین بار پاکستان آئے تھے تو اپنے ہی گھر میں رہیے تھے جو انہوں نے بیچا نہیں تھا کیونکہ وہ ان کے آباؤاجداد کا گھر تھا اور رخسانہ لازمی ہر ماہ وہاں جا کر صفائی ستھرائی کرواتی رہتی تھیں۔ تاکہ جب بھی ان کے بھائی بھابھی واپس آئیں ان کو اپنا گھر بالکل ویسے ہی ملے جیسا وہ چھوڑ کے گئے تھے۔

********************

دوپہر کو عظمیٰ بیگم اور جنید صاحب مہر کے ساتھ ہوئے حادثے کا سن کر آئے ہوئے تھے۔وہ تھوڑی دیر رکے تھے پھر واپس چلے گئے تھے۔ جبکہ شام کو عالیہ اپنے شوہر اور موسیٰ کے ساتھ آئی تھی۔

” عالیہ رات کا کھانا تم اور عرفان ادھر ہی کھاؤ گے نا؟ “

آمنہ بیگم نے عالیہ کو مخاطب کیا تھا۔

” نہیں امی یہ نہیں رکیں گے انہوں نے کہیں اور کام سے جانا ہے، میں رکوں گی رات تک بس ” عالیہ نے اپنی امی کو جواب دیا۔

” تو کوئی بات نہیں بیٹا کام سے فارغ ہو کر جب رات کو اسے لینے آؤ گے تو کھانا ہمارے ساتھ ہی کھاؤ ” آمنہ بیگم اب اپنے داماد سے کہہ رہی تھیں۔

” نہیں آنٹی آج تھوڑا مشکل ہے ایون میں اسے رات کو پک کرنے بھی نہیں آسکوں گا اسے داؤد کے ساتھ ہی آنا ہوگا اس لیے انشاء اللہ پھر کبھی ” عرفان نے بہت نرمی سے اپنی ساس کو وجہ بتائی۔

” چلو ٹھیک جیسے تم بہتر سمجھو ” آمنہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔

ابھی یہ باتیں ہی ہو رہی تھی جب داؤد آفس سے گھر لوٹا تھا اور لاونج میں سب کو دیکھ وہ اسی طرف آیا سب کو سلام کہہ کر وہ عرفان سے گلے لگ کر ملا تھا۔ اسکی آواز سے مہر جو موسیٰ کے ساتھ فون پر گیم کھیل رہی تھی ایک نظر اٹھا کر داؤد کو دیکھا تھا لیکن داؤد بالکل بھی اس طرف نہیں دیکھ رہا تھا وہ سب سے excuse کرتا اپنے کمرے میں فریش ہونے چلا گیا بنا مہر کی طرف ایک غلط نگاہ ڈالے۔ جبکہ مہر تو اسے ہی دیکھ رہی تھی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوا۔

********************

رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا گھر کے اندر رات کے کھانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے حمزہ اور سارہ بھی مہر سے ملنے آ چکے تھے کیونکہ وہ دوپہر عظمیٰ بیگم کے ہمراہ اپنے کام پر ہونے کی وجہ سے نہیں آسکے تھے۔ اور اب وہ کھانے تک یہں ہی روک گئے تھے۔ مہر سارہ کو لئے باہر لان میں آگئی تھی۔ اور دونوں ٹہلتے ہوئے باتیں کررہی تھیں۔

” میں حمزہ بھائی کی شادی کیلئے بہت excited ہوں ” مہر نے چہکتے ہوئے کہا۔ وہ ایسی ہی کوئی بھی فنکشن کے لیے پرجوش ہوا کرتی تھی۔

” ہاں تم تو حمزہ بھائی سے بھی زیادہ خوش لگتی ہو ” سارہ نے مسکراتے ہوئے اسے چڑایا تھا۔

“ہاں تو ہمارے گھر میں ہیں ہی کتنے لوگ جن کی شادی ہونی ہے، چھوٹا سا تو خاندان ہے ہمارا۔۔۔۔۔عالیہ آپی کی شادی پر تو میں چھوٹی تھی اس لیے اتنا مزہ نہیں آیا اور انکی شادی بہت سادگی سے ہوئی تھی۔۔۔۔۔تو ایک طرح سے یہ ہمارے گھر میں پہلے کسی لڑکے کی شادی ہونے جا رہی ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ایک دم وہ بات کرتے چپ ہوگئی تھی۔

” اور کیا ؟؟ ” سارہ نے اس کے بات بیچ میں چھوڑنے پر پوچھا۔

” اور وہ بھی ہیں نا دادو کے کھڑوس پوتے مسٹر داؤد ابراہیم ان کے تو پتا نہیں کیا ارادے ہیں شادی کرنی بھی ہے کہ نہیں ” داؤد کی شادی کی بات پر سارہ بلش کر گئی تھی وہ جانتی تھی مہر کو اس کے اور داؤد کے رشتے کے بارے میں علم نہیں ہے اور نا خود سارہ اسے کچھ بتایا تھا۔

” ہاں تو ہو جائے گی ان کی بھی ” سارہ نے دھیمی مسکان ہونٹوں پر سجائے کہا۔ اسکا دل چاہا وہ مہر کو بتا دے کہ وہ داؤد سے کتنی محبت کرتی ہے ویسے بھی وہ مہر سے سب باتیں کرتی تھی لیکن یہ بات وہ کبھی داؤد سے نہیں کہہ پائی تھی تو پتا نہیں مہر سے کیسے کہے گی۔ مہر نے کندھے جھٹک دیے(ہو ہی نا جائے اس جن کی شادی ہونہہ)۔

مہر نے ایک دم سارہ کے سامنے روک کر ادھر ادھر دیکھا کے کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ پھر آہستہ سے سارہ کے قریب ہو کر دھیرے سے بولی۔

” تمہیں پتا ہے انکی کوئی گرل فرینڈز بھی ہے ” اسکی بات پر سارہ کی آنکھیں پھیل گئی۔

” مہر کیسی باتیں کر رہی ہو تم ” سارہ نے گھبراتے ہوئے پوچھا تھا۔

” ہاں نا میں نے انکو اکثر رات کو کال پر باتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے اور پرسوں تو دوپہر کو یہ کسی لڑکی کے ساتھ لنچ پر بھی گئے تھے۔۔۔۔۔لڑکی کو کہہ رہے تھی میں تمہیں پک کرنے آرہا ہوں ” دھیرے دھیرے وہ رازداری سے سارہ کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

اسکی بات پر سارہ نے اپنی رکی ہوئی سانس بحال کی تھی وہ تو ڈر ہی گئی تھی۔

” ارے پاگل وہ میرے ساتھ گیا تھا لنچ پر ” سارہ نے اس کے سر پر ایک تھپڑ رسید کیا تھا۔

” ہیں !!!!!!! تو تم ہو ان کی گرل فرینڈز ” مہر نے حیرانگی سے چیخ کر پوچھا۔

” پاگل لڑکی ہم بزنس لنچ پر گئے تھے اور وہ رات کو مجھ سے ہی کام کے سلسلے میں بات کرتا ہے اکثر ” سارہ نے بتایا۔

” اچھا !!! “

” ہاں اب چلو اندر ” سارہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔ جبکہ مہر پیچھے سوچوں میں الجھ گئی اگر کوئی لڑکی نہیں ہے انکی زندگی میں پھر وہ سب میرے ساتھ کیا تھا۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *