Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 20)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 20)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
اگلے دن سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نکلا آسمان پر کسی سنہری تھال کی طرح چمک رہا تھا۔ آج سنڈے تھا۔ سب گھر والے ناشتے سے فارغ ہو کر اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔ مہر ہمیشہ کی طرح ابھی تک اپنے کمرے میں سو رہی تھی۔ داؤد نے آج حفصہ بیگم سے بات کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ اب تو سارہ سے شادی کی کوئی وجہ ہی نہیں بنتی تھی کیونکہ مہر کے دل میں بھی اس کیلئے محبت ہے یہ بات اب واضح تھی۔ داؤد اسی متعلق سوچ رہا تھا جب عالیہ موسیٰ کے ہمراہ لاونج میں داخل ہوئی۔
” اسلام وعلیکم ! ” عالیہ نے اندر آتے ہی کہا۔
موسیٰ بھاگتا ہوا داؤد کی طرف گیا تو داؤد نے بھی اسے گود میں اٹھا لیا۔ عالیہ سب سے مل کر اب وہیں بیٹھی سب کے ساتھ باتیں کرنے لگی۔ داؤد اب بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ایک بج چکا تھا لیکن مہر ابھی تک جاگی نہیں تھی۔
********************
فون مسلسل بجتے چلے جا رہا تھا لیکن مہر کو ہوش پھر بھی نا دلا پا رہا تھا یہ چیختا فون۔۔۔پھر ایک دم اپنے کانوں پر رکھے تکیے اٹھا کر دور اچھال دیے اور منہ بناتے ہوئے فون کو تلاشنے لگی۔
” کیا تکلیف ہے علی ؟ ” فون پر علی کا نمبر دیکھ کر مہر نے چیختے ہوئے پوچھا۔ اس کے اتنے تیز چلانے ہر علی نے اپنا فون کان سے ہٹا لیا۔
” آرام سے۔۔۔۔۔آرام سے۔۔۔۔۔ کیوں میرے بچارے کانوں سے خون نکلوانا ہے ” علی نے دہائی دی۔
” تمھے اپنے کانوں کی پڑی ہے اور میری نیند کا کیا جو برباد کی ہے ” آنکھیں مسلتے ہوئے اب سستی سے کہا۔
” مجھے پتا تھا تم اب تک جاگی نہیں ہوگی اسی لئے جان بوجھ کر کال کررہا تھا ” علی نے ہنستے ہوئے اسے چھیڑا۔
” تمہارا تو میں خون پی جاؤں گی ” مہر کو اسکی بات سے غصہ آیا تھا۔ علی نے قہقہہ لگایا۔
” سنو وائٹ ہو تم۔۔۔۔۔۔۔کیوں چڑیلوں والے کام کرتی ہو ” علی مزید اسے تنگ کرتے ہوئے گویا ہوا۔
“میں کیا ہوں یہ تمھے مل کر بتاتی ہوں علی کے بچے ” مہر نے کال کاٹ کر فون رکھا اور کسلمندی اٹھ بیٹھی۔
گھٹنوں پر اپنا چہرہ ٹکا کر مندی مندی آنکھوں سے سامنے دیوار کو دیکھے گئی۔ دفعتاً کل رات کے منظر ذہن کے پردے پر رونما ہوئے تو مہر مسکرا دی پھر ایک دم داؤد کا خیال آیا اور جلدی سے بیڈ سے اتر کر واشروم جانے ہی لگی تھی کی ایک بار پھر سے اسکا فون بجا۔ مہر نے واپس پلٹ کر فون چیک کیا تو علی ہی کی کال تھی۔
” کرتے رہو میں نے بھی اٹھانا ” مہر نے منہ بنا کر فون کو بیڈ پر واپس رکھا اور واشروم میں بند ہوگئی۔
*********************
نیلے رنگ کا سوٹ پہنے وہ تیار ہو کر اپنے کمرے سے نکلی۔ ہاتھ میں پکڑے فون پر میسج کی رنگ ٹون بجی تو مہر نے فون دیکھا۔ علی کی کئی مسڈ کالز اور میسیجز تھے۔ مہر میسج کھول کر پڑھنے لگی۔ داؤد بھی اوپر کمرے کی طرف ہی آرہا تھا جب وہ سامنے سے آتی دیکھی۔ داؤد کے چہرے پر اسے دیکھ کر ایک الگ سی چمک در آئی۔ وہ فون میں اتنا کھوئی ہوئی تھی کہ سامنے سے آتے داؤد کو دیکھا ہی نہیں اور داؤد بھی اسے اسطرح دیکھ جان بوجھ کر وہیں رک گیا۔ داؤد سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا جب مہر آ کر اس سے ٹکرائی۔
” ہائے اللّٰہ جی !!! ” مہر کے منہ سے بے ساختہ نکلا پھر نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو داؤد اپنی پر کشش آنکھوں میں محبت لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ داؤد بھی خود کو ان جھیل جیسی آنکھوں میں ڈوبتا ہوا محسوس کررہا تھا۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی آنکھوں میں کتنی ہی دیر کھوئے رہے جب موسیٰ کی آواز سے دونوں ہوش میں آئے جو ان کے پاس کھڑا انہیں آواز لگا رہا تھا۔ مہر نے جھک کر موسیٰ کے گال چومے اور اسے گود میں اٹھا لیا۔
” یہ تم جان بوجھ کر مجھ سے ٹکراتی ہو ” داؤد نے مہر سے پوچھا۔
” نہیں تو ” مہر نے اچنبھے سے کہا۔
” دھیان سے چلا کرو۔۔۔۔۔۔ ایسے بار بار مجھ سے ٹکراتی رہو گی تو مجھے کچھ اور لگے گا ” داؤد نے تھوڑا سا اسکی اور جھک کر مسکاتے ہوئے کہا۔
مہر بڑھتی دھڑکنوں کے ساتھ تھوڑا سا پیچھے ہوئی۔ داؤد نے موسیٰ کا گال تھپکا اور آگے سے ہٹ گیا۔ مہر تیزی سے موسیٰ کو لیے سڑھیاں اترنے لگی پھر رکی اور مڑ کر اوپر دیکھا وہ ابھی بھی وہیں کھڑا اپنی جان لیوا مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اوفف یہ مسکراتے ہوئے کتنے پیارے لگتے ہیں ” مہر نے دل میں سوچا تھا۔
********************
دوپہر گزری تو عظمیٰ بیگم بھی سارہ کے ہمراہ وہاں آگئیں۔ گھر کی ساری خواتین لاونج میں موجود شادی کی تیاریوں پر بات چیت کررہی تھیں۔ سکندر صاحب کسی کام سے باہر چلے گئے تھے اور داؤد اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔ حمزہ کی شادی میں اب کچھ ہی وقت رہ گیا تھا۔ عظمیٰ بیگم کو جنید صاحب نے کہہ دیا تھا کہ سارہ کا نکاح ساتھ ہی کریں گے۔ ایک بار تو وہ حفصہ بیگم سے کہہ چکی تھیں کہ داؤد کو راضی کریں بنا انھیں یہ بتائے کہ جنید کا زور ہے کے نکاح ہر حال میں وہ جلد کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن حفصہ بیگم نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔ اس لیے انھوں نے آج دو ٹوک بات کرنے کا سوچ لیا تھا۔
” اماں مجھے آپ سے بات کرنی تھی، آپ میرے ساتھ اپنے کمرے میں آئیں ” عظمیٰ نے ساتھ ہی بیٹھی حفصہ بیگم کو دھیرے سے کہا۔ باقی سب ویسے ہی باتوں میں مصروف تھے۔
” کیا بات ہے عظمیٰ ” حفصہ بیگم نے پوچھا۔
” اماں آپ آئیں تو سہی، یہاں شور ہے بہت اسی لئے کہہ رہی ہوں ” عظمیٰ بیگم نے ہلکی مسکان سے کہا اور پھر دونوں اٹھ کر وہاں سے حفصہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
سارہ جو مہر کی باتیں سن رہی تھی لیکن اب اسکا دھیان دوسری طرف تھا وہ جانتی تھی امی آج نانو سے نکاح کی بات کرنے والی ہیں۔ سارہ خوش بھی تھی اور تھوڑا ڈری ہوئی بھی تھی کہ اگر داؤد ابھی نہیں کرنا چاہ رہا تو کوئی بات نہیں تھی اس کیلئے یہ ہی بہت تھا کہ وہ مان گیا لیکن اب اسطرح اس کے بابا جلدی کردہے تھے تو اس بات سے داؤد کو برا نا لگ جائے بس اسی بات سے وہ ڈری ہوئی تھی۔
” کیا ہوا ہے ؟ ” مہر نے اسے ایسے گھم سم دیکھا تو پوچھ بیٹھی۔
” کچھ نہیں ” سارہ نے نفی نیں سر ہلایا۔
” کیسے کچھ نہیں ہوا ابھی اچھی بھلی میرے سے ہنس کر باتیں کر رہی تھی اور اب ایسے اداس ہوگئی ہو ” مہر نے شکی نظر سے اسے دیکھا۔
” پاگل ! ” سارہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر مہر کا ہاتھ تھام کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
” آؤ میرے ساتھ” سارہ اسے لئے اوپر مہر کے کمرے کی طرف جانے لگی۔
********************
” اماں آپ داؤد کو سمجھائیں نا ” عظمیٰ بیگم نے ساری بات حفصہ بیگم کے سامنے رکھی۔
” جنید کو کیا جلدی ہے بھلا، دونوں کی بات پکی ہے نا۔۔۔۔پھر آرام سے اگلے سال تک کر دیں گے شادی۔۔۔۔نکاح اب ہو یا بعد میں ایک ہی بات ہے۔۔۔۔اگر وہ رخصتی اگلے سال پر کہہ رہا ہے تو نکاح بھی اگلے سال سہی ” حفصہ بیگم نے سمجھنا چاہا۔
” او ہو اماں میں نے کی تھی یہ بات جنید سے اب وہ نہیں مان رے تو کیا کروں؟ آپ داؤد سے کہہ کر دیکھیں مجھے یقین ہے وہ مان جائے گا “
“اچھا چل کرتی ہوں بات، میرا بچا ہے مجھے انکار نہیں کرنے لگا ” حفصہ بیگم نے بڑے مان سے کہا تھا۔ عظمیٰ بیگم نے مسکرا کر سر کو خم دیا۔ وہ بھی جانتی تھیں داؤد کو تھوڑا منایا جائے تو وہ انکار کھبی نہیں کرے گا اور اماں کو تو ہرگز نہیں کرے گا اس لیے اب وہ مطمئن نظر آرہی تھیں۔
********************
” کیا ہوا تم مجھے کمرے میں کیوں لے آئی ” مہر نے سامنے بیٹھی سارہ سے استفادہ کیا۔
” مہر ! میں وہ۔۔۔۔۔۔۔تم سے۔۔۔۔۔۔میں ” سارہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے مہر کو بتائے.
” کیا بکری کی طرح میں میں کررہی ہو ” مہر کے کہنے پر سارہ نے اس کے بازہ پر تھپڑ رسید کیا۔
” بد تمیز ! میں آگے ہی ہمت نہیں جھٹا پا رہی اور تم ایسے کر رہی ہو ” سارہ نے خفگی سے کہا۔
” اچھا نا بھئی بتاؤ ایسی بھی کیا بات ہے کہ تمھیں مجھ سے بات کرنے کیلئے ہمت چاہیے “
” مہر ! تمھے شاید کسی نے بتایا ہے یا نہیں مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔۔ویسے تو یہ بات مجھے تمھے خود بتانی چاہیے تھی۔۔۔۔۔۔لیکن نانو نے منا کیا تھا کہ تمھیں بتایا تو تم۔۔۔۔ اصل میں میری اور داؤد کی شادی کی بات طے ہو گئی ہے ” سارہ نے بات مکمل کرکے مہر کی جانب دیکھا۔ مہر بالکل خاموشی سے سن رہی تھی۔
” اور میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ میں مہر۔۔۔۔۔۔ میں داؤد کو بہت پسند کرتی ہوں ” اس نے دھیرے سے یہ بات کہی تو اس کے ہونٹوں پر شرمگیں مسکراہٹ آگئی۔ جبکہ مہر کو لگا اس کا سانس روک گیا ہو۔ سارہ اب بیڈ سے اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل تک آئی وہاں پڑی چیزوں کو سیٹ کرنے لگی۔
” مجھے خود نہیں پتا کب سے میرے دل میں داؤد کی محبت سما گئی۔۔۔۔۔۔۔شاید بہت چھوٹی تھی تب سے۔۔۔۔۔۔اور یہ پسندگی نہیں ہے۔۔۔۔۔ نا محبت ہے۔۔۔۔۔۔یہ عشق ہے جو میں داؤد سے کرتی ہوں ” سارہ اپنی کہی جا رہی تھی۔
مہر کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں۔ سارہ کا عکس دھندلا سا گیا۔ اسے لگا اسکا دل دھڑکنا بند ہوگیا ہے۔ مہر نے فوراً ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھا۔ اس سے پہلے سارہ اسے ایسے دیکھتی مہر نے تیزی سے اپنے آنسو پونچھے اور اپنی آنکھیں صاف کیں۔ سارہ پلٹ کر مہر کی طرف آئی تو مہر نے بہت مشکل اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ لائی۔
” مہر یہ بات میں نے تم سے چھپائی تم مجھ سے ناراض تو نہیں؟” سارہ نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے پوچھا۔ مہر بنے کوئی جواب نا دیا تو سارہ دوبارہ گویا ہوئی۔
” مہر میری بہن پلیز خفا مت ہونا۔۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں یہ بات مجھے تمھے بہت پہلے بتا دینی چاہیے تھی،لیکن میں ایسی ہی ہوں اپنے دل کی بات کسی سے کرنا میرے لیے بہت مشکل تھا “
” تم صحیح کہہ رہی ہو یہ بات تمھے مجھے بہت پہلے بتا دینی چاہیے تھی ” مہر نے سنجیدہ لہجے میں کہا تو سارہ اداس ہوگئی۔
” تو اب تم مجھ سے خفا رہو گی؟ ” سارہ نے بے چارگی سے پوچھا۔
” نہیں ” مہر نے بس اتنا ہی کہا۔
” اچھا نا بابا سوری ” سارہ نے اپنے کان پکڑے۔
” ارے پاگل ایسی بھی بات نہیں ” مہر نے اس کے ہاتھ کانوں سے ہٹائے۔
” میں بہت خوش ہوں تم دونوں کیلئے ” مہر نے سارہ کے ہاتھ تھام کر ہلکی مسکان ہونٹوں پر سجائے کہا۔ سارہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔
********************
رات کا کھانا کھانے کے بعد سب اپنے گھر لوٹ چکے تھے۔ کھانے کے دوران داؤد مسلسل مہر کو ہی دیکھ رہا تھا جس نے نظر اٹھا کر ایک بار بھی اسکی طرف نہیں دیکھا تھا۔ داؤد کو وہ کھوئی کھوئی لگی۔ دو تین بار تو حفصہ بیگم نے بھی اسے ڈپٹا کے کیا وہ پلیٹ میں چمچ چلائی جارہی ہے اور کھانا نہیں کھا رہی۔ لیکن وہ پھر بھی ایسے ہی رہی۔ حفصہ بیگم اپنے کمرے میں جانے کیلئے اٹھنے لگی تو داؤد فوراً اٹھ کر ان کے پاس گیا اور انکا تھام کر انھیں اٹھنے میں مدد دی۔
” میں لے جاتا ہوں آپ کو۔۔۔۔مجھے آپ سے کچھ بہت ضروری بات بھی کرنی ہے ” داؤد نے حفصہ بیگم سے کہا
تو مہر جو اوپر کمرے میں جانے لگی تھی یہ سن کر فوراً پلٹی تھی۔ اسے لگ رہا تھا داؤد ضرور سارہ سے شادی کیلئے انکار کرنے والا ہے۔ مہر وہیں کھڑی سوچنے لگی اسے کیا کرنا چاہیے۔ سارہ کی کہی باتیں اس کے کانوں میں گونجنے لگیں۔
” نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گی ” مہر نے خود سے کہا ۔
وہ اگے بڑھ کر داؤد کو روکنے والی ہی تھی لیکن وہ وہاں نہیں تھا۔ بلکہ کوئی بھی نہیں تھا۔ سب اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ مہر تیزی سے لاونج میں سے گزر کر حفصہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھی تو اندر حفصہ بیگم بیڈ پر بیٹھی تھیں اور داؤد انکو رات کی دوا دے رہا تھا۔ مہر کے اندر آنے پر دونوں نے اسے دیکھا تھا۔
” آجاؤ اندر وہاں کیوں ٹک گئی ہو ” حفصہ بیگم نے اسے وہیں کھڑے دیکھ کہا۔ داؤد نے بھی اسے دیکھا اور آئی برو سوالیہ انداز میں اٹھائی۔
” جی دادو ” مہر نے پیچھے ڈور بند کیا اور اندر آکر سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔ داؤد اسے ناسمجھی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ دادو سے بات کرنے آیا تھا اور مہر جانتی بھی تھی پھر بھی یہاں آگئی۔ وہ اس کے سامنے دادو سے بات کرے گا تو اسے لگا وہ شرما جائے گی۔
” یہ لڑکی بالکل پاگل ہے ” داؤد نے کندھے جھٹکتے سوچا اور حفصہ بیگم کی طرف رخ مڑ لیا۔
*********************
