Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 16) Part - 2
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 16) Part - 2
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
ڈائننگ ٹیبل پر اس وقت خشگوار ماحول میں کھانا کھایا جا دہا تھا۔ داؤد کے سامنے مہر بیٹھی تھی جسکا دھیان کھانے میں کم داؤد پر زیادہ تھا بس چمچ پلیٹ میں ایسے ہی چلا رہی تھی دماغ میں نئی سوچ نے جنم لیا تھا۔ گاہے بگاہے داؤد کو دیکھتے ہوئے سوچتی۔
” اگر ان کی زندگی میں کوئی لڑکی نہیں ہے تو پھر مجھے یہ کیوں کہا تھا کے دھیان کہیں اور تھا ” (ظاہر ہے اس بات کا مطلب یہ ہی ہوا نا کے وہ اس وقت کسی اور کو سوچ رہے تھے)۔
” ہممم دال میں کچھ تو کالا ضرور ہے ” وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
بلیک ڈریس شرٹ کے سلیوز کلائی سے تھوڑی اوپر تک فولڈ کیے، ہلکی سی ڈارھی مونچھ، چہرے پر سنجیدگی سجائے اپنی پلیٹ میں جھکا کھانا کھا رہا تھا۔
” ویسے ہینڈسم تو بہت ہیں ” مہر نے ایک دم سوچا اور پھر خودی اپنی سوچ کو جھٹکا۔
” استغفر اللہ ! یہ میں کیا سوچ رہی ہوں “۔
***********************
دو تین دن ایسے ہی گزر گئے تھے۔ ان دنوں میں داؤد نے مہر کو ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ سامنے ہوتی تو بھی اسکی طرف نگاہ اٹھا کر نا دیکھتا۔ کیونکہ اسے لگتا تھا اسکا دل مہر کو دیکھتے ہی بغاوت پر اتر آئے گا۔ اور اب کی بار وہ کوئی بے اختیاری نہیں چاہتا تھا۔
دوسری طرف مہر کا حال اس کے برعکس تھا۔ اس کے دل و دماغ صرف داؤد کو ہی سوچنے لگے تھے۔ وہ خود بھی اپنی کیفیت سے پریشان تھی۔
یہ منظر مہر کے کمرے کا تھا۔ وائٹ ٹی شرٹ نیچے بلیک ٹراؤزر وہ اپنے محصوص نائٹ سوٹ میں ملبوس تھی۔ بیڈ کی الٹی سائڈ پر اوندھے منہ لیٹی ہاتھ بیڈ کے ساتھ نیچے لٹک رہے تھے۔ ایک ہاتھ کی طرف کوک کا ٹھنڈا کین اور چپس کا پیکٹ تھا اور دوسرے ہاتھ میں فون پر کوئی مووی کا سین چل رہا تھا۔ نظریں تو فون پر تھیں لیکن دماغ کہیں اور۔ اسے غصہ آیا تو فون بند کرکے پاس ہی بیڈ پر پٹک دیا۔
” اوفف ” اب وہ الٹے سے سیدھی چت لیٹ گئی اور اب پھر سے ایک ہی انسان کے خیال۔ کتنی کوشش کررہی تھی وہ کہ اسکا دھیان کسی طرح بٹ جائے۔ انعم سے کال پر بات کی پھر بیا سے کی لیکن پھر بھی اسکا خیال تھا کے جاتا نہیں تھا۔ آنکھیں بند کرتی تو یا تو اسکا ہنستا ہوا چہرہ زہن میں آتا جسے سوچ کو وہ خود بھی مسکرا دیتی یا وہ پل جب وہ اس کے اتنے نزدیک تھا اور یہ ایک پل اس کے ذہن میں آتے ہی اسکی دل کی دھڑکنیں شور مچانے لگتی تھیں۔
” ہائے میں کیا کروں کہیں میں سچ مچ والی پاگل تو نہیں ہوگئی۔۔۔۔۔ اس جلاد۔۔کھڑوس۔۔جن نے میرا جینا حرام کر رکھا ہے۔۔۔۔۔چھوڑوں گی تو نہیں اسکو ” خود سے ہم کلام وہ آنکھیں بند کرگئی کیونکہ اب اسے بس سونا تھا۔
***********************
اگلے دن مہر دوپہر بارہ بجے جاگی تھی۔ اچھے سے تیار ہو کر وہ نیچے گئی اور کچن میں جاکر اپنے لئے ناشتہ بنانے لگی کیونکہ رخسانہ بیگم جو اس سے خفا تھیں انہوں نے مہر سے ناراضگی ختم کرنے کیلئے کچھ شرطیں رکھیں تھیں جن میں ایک یہ کے وہ جس دن لیٹ اٹھا کرے گی اپنا ناشتہ خود بنایا کرے گی۔ مہر کو کوکنگ آتی تھی لیکن دیسی کھانے نہیں بنانے آتے تھے دال سبزی چھوڑ کر وہ سب بنا لیتی تھی اور کافی ذائقہ بھی تھا اس کے ہاتھوں میں۔ شروع شروع میں جب اسکی بی ایس سی کے امتحان ہوئے تھے ابھی رزلٹ آنا تھا تو جب تک اسکا رزلٹ نہیں آیا تھا تو روز وہ کچن میں گھس کر کچھ نا کچھ بناتی رہتی تھی۔ اور رزلٹ آنے کے بعد سے اسکا وہ کوکنگ کا جنون بھی ختم ہوگیا۔ ناشتہ کرکے مہر تھوڑی دیر لاونج میں ٹی وی کے آگے بیٹھی رہی ساتھ حفصہ بیگم بھی موجود تھیں جو کہ اسے کچھ کہہ رہی تھیں لیکن اسکا دھیان پھر سے کہیں اور تھا۔ ٹی وی پر نظریں گاڑے ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے وہ خیالوں میں گھم تھی جب حفصہ بیگم نے زور سے اس کے بازو پر تھپڑ رسید کیا تھا۔
” آوچ دادو !!! ” مہر بازہ سہلاتے ہوئے ہوش میں آئی تھی۔
” کیا دادو کی بچی کب سے کہہ رہی ہوں ٹی وی کی آواز تو کھول کب سے لگا کر ایسے ہی دیکھے جا رہی ہے “۔ حفصہ بیگم نے کہا تو مہر نے ٹی وی کی آواز تھوڑی تیز کردی اور وہاں سے اٹھ گئی۔
غصے میں مہر اوپر آئی اور داؤد کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر گئی۔ دونوں ہاتھ کمر پر دھرے وہ غصے میں داؤد کے کمرے کو دیکھ رہی تھی جیسے کمرہ نہیں داؤد ہی کھڑا ہو اس کے سامنے۔
” کیا تکلیف ہے آپکو کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں “
داؤد کے کمرے کو خفت بھری آنکھوں سے دیکھتے ہوئے وہ تیز آواز میں بولی۔ کیونکہ داؤد کے سامنے اسے کچھ بھی کہنے کی ہمت نیں رکھتی تھی اسی لئے ایسے اپنا غصہ اتار رہی تھی۔ پھر پیچھے مڑی صوفے پر سے کشن اٹھا کر بیڈ پر پھینک دیے۔ اس سے بھی غصہ کم نا ہوا تھا بیڈ پر پڑے کمفرٹر کو بھی کھول کر زمین ہر پھینک دیا۔ پھر تکیے اٹھائے انکو بھی ایسے ہی کمرے کے ایک کونے میں جارحانہ انداز میں پھینک دیا۔ اتنے میں ہی اسکی سانسیں پھول گئی تو واپس جانے گی لیکن پھر رخ بیڈ کی طرف کیے کھڑی ہو گئی اور کمرے کی حالت دیکھ کر دل کو سکون سا ہوا۔
” ہممم ویری گڈ مہر ! اب اگر میرے خیالوں میں آئے نا آپ مسٹر۔۔۔۔ تو اس سے بھی برا حال کروں گی۔۔۔اس بار کمرہ بگاڑا ہے اگلی بار میرے خیالوں میں آئے یا آپکی وجہ سے میری نیند ڈسڑب ہوئی تو آپکا بھی ایسا حال کروں گی ہونہہ ” یہ سب باتیں وہ کہے جا رہی تھی اس بات سے بے خبر کے کوئی اس کے پیچھے کھڑا سب سن رہا تھا۔
جیسے ہی وہ پیچھے مڑی داؤد کو دیکھا جو سینے پر ہاتھ باندھے دیوار سے ٹیک لگائے بہت دلچسپی سے مہر کو دیکھ رہا تھا۔ مہر کی تو آنکھیں پھیل گئی۔
” آ۔۔ آ۔۔ آپ۔۔۔۔۔۔۔ “
” ہاں مم۔۔۔۔میں ” اسی کی انداز میں کہتے ہوئے داؤد نے اپنے قدم مہر کی طرف بڑھائے تھے۔ اور مہر نے اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ اپنے قدم الٹی جانب لئے۔
” تم کچھ کہہ رہی تھی ” داؤد ایسے ہی ایک قدم اٹھاتا مزید آگے ہوا آنکھوں میں الگ سی چمک تھی۔
” نن۔۔۔نہیں تو ” پیچھے ہوتے ہوئے وہ داؤد کے بیڈ کے ساتھ جا لگی اور اب مزید پیچھے ہونے کیلئے جگہ نہیں بچی تھی اور سامنے داؤد بالکل اس کے قریب کھڑا تھا اور وہ بیچاری بیچ میں پھنس گئی۔ اگر وہ مزید آگے آتا تو یقیناً مہر پیچھے بیڈ پر گرتی۔
” تم کچھ کہہ رہی تھی اپنے خیالوں کے بارے میں ” داؤد نے اس کے گھبرائے ہوئے خوبصورت چہرے کو نظروں کے حصار میں لئے کہا۔
” پتا نہیں آپ کیا بات کررہے ہیں ” ہمت کرتے ہوئے اس نے کہا اور داؤد کی سائڈ سے تیزی سے باہر بھاگ گئی۔
پیچھے داؤد کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ آن ٹھہری۔ وہ ایک ضروری کام سے گھر آیا تھا لیکن اسے نہیں پتا اس ٹائم آج گھر آنے پر اتنا حسین سرپرائز ملے گا۔ داؤد نے اپنے کمرے کی حالت دیکھی تو آج غصہ نہیں آیا بلکے وہ مسکرا رہا تھا یہ سب دیکھ کر۔
**********************
