Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 24)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 24)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
داؤد کے جانے کہ بعد وہ کتنی ہی دیر روتی رہی تھی۔ وہ اتنا سنگ دل اور ظالم کیسے ہو سکتا تھا۔ اس نے تو بس اسے منانے کیلئے یہ جھوٹ بول دیا تھا کہ وہ سب کو اور گھر کو چھوڑ دے گی لیکن یہ چال اسی کے گلے الٹی پڑ گئی۔ اور اب اگر وہ ہاں نا کرتی تو وہ اسے سچ میں کہیں لے جاتا تو وہ کیا کرتی؟ رہ رہ کر اسے خود پر غصہ آرہا تھا اور اب وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
*********************
بالکونی میں اندھیرا تھا۔ داؤد وہیں کھڑا تھا۔ گہری رات کے ساتھ باہر کافی ٹھنڈ ہوگئی تھی۔ لیکن وہ سردی کی شدت سے بے نیاز کھڑا خلا میں کہیں دور گھور رہا تھا۔ یہ سب آسان نہیں تھا۔ جو بھی ہوا وہ ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نا تھا۔ مہر اسکی شہہ رگ تھی۔ وہ چاہ کر بھی اس سے دستبردار نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ خیال ہی اس کیلئے سوہان روح ثابت ہوا تھا۔
ایک طرف تو مہر نے ہاں کردی تھی جس سے وہ تھوڑا پر سکون تھا لیکن دوسری طرف داؤد کو ابھی بھی تسلی نہیں ہوئی تھی کیونکہ مہر سے کچھ بھید نہیں تھا وہ اپنی بے وقوفی اور جذباتی پن میں کبھی بھی کچھ بھی کر سکتی تھی۔ شاید وہ مہر کو کبھی ایسی دھمکی نا دیتا لیکن اس کے مسلسل انکار کرنے پر داؤد کے پاس یہ ہی ایک آپشن تھا کہ وہ اسے ڈرا دھمکا کر کسی بھی طرح راضی کرے۔ صد شکر کہ وہ مان گئی بس ایک دن مزید اس کے بعد وہ ہمیشہ کیلئے اسکی ہو جائے گی۔
*********************
سارہ اپنے کمرے میں بیٹھی ناجانے کن سوچوں میں گھم تھی۔ جب عظمیٰ اس کے پاس آئیں تھی۔
” ارے امی آپ ابھی تک سوئیں نہیں ” اس نے وال کلاک پر ٹائم دیکھا تو جو رات کا ایک بجا رہا تھا۔
” جب تم جاگ رہی ہو تو میں کیسے سو سکتی ہوں ” وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولیں۔
” جس ماں کی بیٹی کا نکاح ہوتے ہوتے رہ گیا ہو وہ ماں کیسے سکون سے سو سکتی ہے ” وہ مزید گویا ہوئیں۔
” امی پلیز ! اس بات کو اب بھول جائیں جو ہونا تھا وہ ہوگیا ” سارہ نے دھیمے لہجے میں سر جھکا کر کہا۔
” تم بھول جاؤ گی سارہ ؟ اپنی محبت کو ؟ دیکھ پاؤ گی اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے ؟ ” وہ سوال در سوال کر رہی تھیں کیونکہ وہ جاننا چاہتی تھیں اس کے دل کا حال۔
” امی محبت کرنا ہمارے بس میں نہیں ہوتا لیکن اس محبت سے دور چلے جانا ہمارے بس میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔ شاید میرے لئے ابھی یہ مشکل ہو لیکن یہ اس تکلیف سے بہت کم ہے اگر مجھے داؤد سے نکاح کے بعد یہ سب پتا چلتا۔۔۔۔۔۔۔تب شاید وہ دکھ میں سہہ نا پاتی اور ویسے بھی یہ یک طرفہ محبت تھی۔۔۔۔۔۔ اور یک طرفہ محبتوں کا یہ ہی انجام ہوتا ہے “۔ اپنی بات مکمل کرکے سارہ نے ایک گہری سانس لی۔ عظمیٰ بیگم کو اپنی بیٹی کی سوچ پر فخر محسوس ہوا اور اس کے اس دکھ پر انکی آنکھیں نم ہوئیں۔ سارہ نے کے آنسو صاف کیے۔
” داؤد اور مہر ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اور انھی کو ایک ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔ وہ کیوں میرے لئے اپنی محبت قربان کریں۔۔۔۔۔۔۔اور مہر امی ہماری مہر وہ میرے لئے یہ سب کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اس بات سے مجھے خوشی بھی ہوئی اور دکھ بھی۔۔۔۔۔ خوشی اس بات کی ہوئی کہ وہ مجھ سے کتنی محبت کرتی ہے اور دکھ اس بات کا اسے یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا، مجھے بتاتی تو صحیح۔۔۔۔تو شاید بات یہاں تک نا پہنچتی ” عظمیٰ بیگم نے اسکا ماتھا چوما۔
” بابا اب کیسے ہیں اب تو نہیں خفا ؟ ” سارہ کو جنید صاحب کا خیال آیا تو فوراً سے پوچھا۔
” اب ٹھیک ہیں وہ۔۔۔۔ تمھے تو پتا ہے انکا غصہ تھوڑی دیر کا یوتا ہے جب بات کو ہر پہلو سے سمجھا تو خودی شانت ہو گئے تھے، اماں نے فون کرکے معزرت بھی کی تھی ” اس بات سے سارہ بھی تھوڑا ریلکیس ہوئی۔
********************
اگلے دن دوپہر کو رخسانہ بیگم اور سکندر صاحب مہر کے ماموں کے گھر موجود تھے۔ انھوں نے ان سے مہر اور علی کے رشتے کیلئے معذرت کی اور ساتھ ہی مہر اور داؤد کے نکاح کی تقریب میں شرکت کا بھی کہا تھا۔ ان کے جانے کہ بعد شگفتہ بیگم نے اس بات پر خاصی ناراضگی کا اظہار کیا تھا لیکن علی نے انھیں سمجھایا تو وہ مان گئی تھیں۔ علی کو اس بات سے کوئی دکھ نہیں ہوا تھا کیونکہ اسے مہر سے ایسی محبت نا تھی کہ وہ اس بات کا غم کھاتا۔ مہر اسکی کزن اور اسکی بہت اچھی دوست تھی وہ اسے بہت عزیز تھی اسی لئے اس رشتے سے انکار نہیں کیا تھا اسے بس خوشی تھی اسکی دوست اسکی جیون ساتھی بننے جا رہی ہے۔ علی شگفتہ بیگم کو قائل کرکے ان کے پاس سے اٹھا اور کچھ سوچتے ہوئے وہ گھر سے باہر نکل گیا۔
**********************
یہ منظر داؤد کے کمرے کا تھا۔ وہ آج آفس نہیں گیا تھا۔ اس نے جانا تو چاہا لیکن آمنہ بیگم نے صاف انکار کردیا کہ صبح تمہارا نکاح ہے اور آج تم آفس جاؤ گے اور ویسے بھی انھوں نے اسکا سوٹ جو انھوں نکاح کیلئے بنوایا تھا وہ اسے پہنا کر چیک کرنا چاہتی تھیں۔ اسی لئے اب گھر میں اس نے اپنے آفس کے سارے کام نمٹائے تھے۔ ابھی وہ لیپ ٹاپ پر بیٹھا ہاتھ میں فائل پکڑے کوئی کام کررہا تھا جب عالیہ اسے کے کمرے میں آئی تھی۔
” او ایم جی !! داؤد کوئی کہے گا کہ تمہارا نکاح ہے کل؟ ” عالیہ اندر آتے ہی شروع ہو چکی تھی۔ داؤد نے اسے دیکھا اور پھر نفی میں سر ہلا کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ وہ آگے بڑھی اور دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اب اس کے سر پر کھڑی تھی۔ داؤد نے پھر سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
” کیا بات ہے عالیہ ؟ میں کام کررہا ہوں ” اس نے مصروف سے انداز میں پوچھا تھا۔
” بات ہی تو نہیں ہے میرے بھائی ! یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ کیا میں جان سکتی ہوں ؟ ” عالیہ نے جھک کر اسکا لیپ ٹاپ بند کر دیا۔ داؤد جھنجھلا اٹھا لیکن پھر اپنی بہن کے تیور دیکھ کر وہیں صوفے پر پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اسے پتا تھا جب تک اپنی بہن کے سوالوں کے جواب نہیں دے گا اب یہاں سے ہل بھی نہیں سکے گا۔
” گڈ ! اچھا تو اب بتائیں داؤد صاحب یہ سب کیا ہے ؟ میں ہمیشہ سے یہ ہی سمجھتی تھی کہ تم اور سارہ ساتھ پڑھے ہو ،ساتھ کام کرتے ہو تمہاری اس سے بہت اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے تو ہو سکتا تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور نکلا ” عالیہ ویسے ہی کمر پر ہاتھ دھرے اب سوالیہ انداز میں داؤد کو دیکھ پوچھ رہی تھی۔
” ہاں تو ! ” داؤد نے اسکی اتنی لمبی تقریر کے جواب میں اتنا ہی کہا تھا۔
” ہاں تو ؟؟؟؟ داؤد !!! تم اور سارہ تو سمجھ آتے ہو لیکن تم اور مہر ؟ مہر ؟؟؟؟؟ آر یو سیریس ؟ ” عالیہ ڈرامائی انداز میں بولی۔
” اب تم میرے ہی سامنے میری مہر کا مذاک اڑاؤ گی؟” داؤد نے آنکھیں سیکوڑ استفسار کیا۔
” ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری مہر ؟؟؟؟ ہمممم میرے بھائی تم تو مہر کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب چکے ہو” عالیہ نے حیرانی سے ہنستے ہوئے کہا۔
” واٹ ایور ” داؤد اسکی بات ہر آنکھیں گھماتے ہوئے وہاں سے اٹھ گیا لیکن عالیہ کی بات نے اسے مزہ بہت دیا تھا۔
” اچھا نا اب زیادہ بھاؤ نہیں کھاؤ اور مجھے بتاؤ یہ سب کب سے چل رہا ہے؟ ” عالیہ اس کے سامنے آتے ہوئے تھوڑا شوخی سے پوچھا۔
” پہلے تم بتاؤ اس بات کا کیا مطلب تھا کہ میں اور مہر؟”
” ارے میرا مطلب تھا کے تم خود کو دیکھو اور مہر کو۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنا فرق ہے دونوں میں کہاں تم غصیلے اور کہاں ہماری چنچل سی مہر، مجھے لگتا تھا تمھے اپنی طرح کی کوئی لڑکی پسند آئے گی سارہ جیسی لیکن میرے بھائی۔۔۔۔۔ گڈ چوائس ” سارہ نے وضاحت کی اور ساتھ اسکی پسند کو سراہا بھی۔ داؤد نے سر ہلایا تو اب وہ دوبارہ سے اس سے مہر اور اسکے بارے میں پوچھنے لگی جو کہ داؤد ابراہیم اسے کبھی نہیں بتانے والا تھا۔
*********************
وہ اوندھے منہ بیڈ پر لیٹی تھی۔ اسکا فون کب سے بجا چلے جا رہا تھا لیکن اس نے نا اُٹھایا۔ لیکن فون کرنے والا بھی کوئی ڈھیٹ تھا جو فون نا اٹھانے پر مسلسل کرتا ہی چلا جا دہا تھا۔ تنگ آ کر مہر نے فون ہاتھ میں لیا لیکن اب فون آنا بند ہو چکا تھا۔ وہ واپس رکھنے ہی والی تھی جب فون پھر سے رینگ ہوا اور فون کرنے والا علی تھا۔ علی کا نام دیکھ کر مہر کو اسکا بھی خیال آیا پتا نہیں وہ کیا سوچتا ہوگا۔ مہر نے کال پک کی اور فون کان سے لگایا۔
” یار حد ہے لڑکی کبھی تو فون اٹھا لیا کرو میرا ” علی فون اٹھاتے ہی اس پر چڑھ دوڑا۔ مہر خاموش ہی رہی۔
” ہیلو سنو وائٹ ؟ ” آگے سے خاموشی سننے کو ملی تو علی نے اسے پکارا۔
” ہونہہ ” مہر نے محض یہ ہی کہا۔
” شکر ہے ! ” علی نے بے ساختہ کہا۔
” مہر کیا بات ہے ؟ تم چپ کیوں ہو ؟ “
” علی وہ میں تم سے۔۔۔۔۔۔ “
” مہر یار کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں میں سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اسی لئے تمھے کال کر رہا تھا کہ میری طرف سے تمھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہم اچھے دوست ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ” یہ کہہ کر وہ خاموش ہوا۔
” لیکن ؟؟؟ ” مہر نے پوچھا۔ دل میں اسکی طرف سے تسلی بھی ہوئی۔
” لیکن مہر تم نے مجھے سے۔۔۔۔۔۔ اپنے بیسڈ فرینڈ سے یہ بات چھپائی۔۔۔۔۔۔۔ میں اس بات پر ضرور خفا ہوں ” علی نے خفگی سے کہا۔
” کونسی بات ؟ “
” یہ کہ تم داؤد کو چاہتی ہو اور وہ تمھے ” اسکی بات پر مہر کا چہرہ سرخ ہوا۔
” نہیں ! ” مہر صاف مکر گئی۔
” ہائے لڑکی اب کوئی فائدہ نہیں چھپانے کا، راز سے پردہ اٹھ چکا ہے ” علی نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔
” علی کے بچے ” مہر خفت سے چیخی تھی اور دوسری طرف علی نے قہقہہ لگایا تھا۔
*********************
جمعے کا مبارک دن بھی آن پہنچا۔ آج کا دن غازی ہاؤس میں خوشیوں کا سما لایا تھا۔ نکاح کی ساری تیاریاں مکمل تھیں۔ سب ہی قریبی مہمان آ چکے تھے۔ کیونکہ نکاح گھر میں ہی ہونا طے پایا تھا اس لئے صرف قریبی رشتے داروں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔ سارے مرد حضرات جمعے کی نماز ادا کرنے قریبی مسجد گئے تھے پھر وہاں سے واپسی پر نکاح ہونا تھا۔ مہر گھر پر ہی تیار ہوئی تھی۔ انعم اور بیا صبح سے ہی یہاں آ چکی تھیں اور وہ دونوں بےحد خوش تھیں مہر کیلئے۔
سفید اور سنہرے رنگ کے امتزاج کی قمیض نیچے ہم رنگ ہی شرارا پہنے، سر پر دوپٹہ سیٹ کیے، ہلکا سا میک اپ کیے، ماتھے پہ ٹیکا سجائے کانوں میں جگمگاتے جھمکے پہنے وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔ قمیض اور ڈوپٹے کے گھیرے پر سنہری گھٹے والی لیس لگی تھی۔ البتہ شرارا سادہ ہی تھا۔ وہ اپنے کمرے میں تیار بیٹھی تھی۔ اس نے ایک بار بھی خود کو آئینے میں نہیں دیکھا تھا جبکہ انعم اور بیا نے کتنی ہی کہا تھا لیکن وہ نہیں مانی۔ جیسے جیسے وقت قریب آرہا تھا مہر کی گھبراہٹ بڑھتی چلی جارہی تھی۔ مہر گود میں رکھے ہاتھوں کو گھور رہی تھی جب سارہ اس کے کمرے میں آئی۔ مہر نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا تو اسکی آنکھیں بھیگ گئیں۔
” ارے مہر یہ کیا ؟” سارہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسکے آنسو پونچھے تھے۔ وہ سوں سوں کرکے باقاعدہ رونے لگی۔ سارہ تو ہلکان ہوگئی اسے چپ کروانے کے چکر میں۔
” مہر تم کیوں کررہی ہو یہ سب میں نے سمجھایا تھا نا ؟ دیکھو داؤد کی خوشی تمہارے ساتھ تھی وہ میرے ساتھ کبھی بھی خوش نا رہتا اور مجھے بھی خوش نا رکھ پاتا ۔۔۔۔۔کیا تم یہ چاہتی تھی کے میں داؤد سے شادی کے کبھی خوش نا رہوں ؟” سارہ کے پوچھنے پر مہر نے نفی نیں سر ہلایا۔
” تو پھر ایسے ہی تم پریشان ہو رہی، چلو اب چپ کر جاؤ سارا میک اپ خراب کردیا رو رو کر لڑکی ” سارہ نے اس کا چہرہ صاف کیا اور اسے پانی پلانے لگی۔
**********************
مرد حضرات جمعے کی نماز ادا کرکے آ چکے تھے۔ باہر لان میں چھوٹا سا سٹیج بنا کر وہیں سارا انتظام کر رکھا تھا۔ داؤد سفید شلوار قمیض پر سنہرے رنگ کی واسکٹ پہنے کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔ داؤد کا چہرہ آج الگ ہی داستان بیان کر رہا تھا۔ مولوی صاحب آئے اور پھر نکاح پڑھوایا گیا۔ نکاح کی رسم مکمل ہوئی تو ہر طرف مبارک باد کی صدائیں گونجیں۔ نکاح ہوتے ہی داؤد کے دل میں اطمینان سا اترا اور مہر کیلئے جتنے گلے شکوے تھے وہ سب اس کے تین بار قبول ہے کہنے سے ہی دور ہوگئے تھے۔
دوسری طرف سارہ جو سفید رنگ کے فراک میں ملبوس تھی، آنکھوں میں کاجل اور بس ہلکی پینک لپ اسٹک لگائے سادہ سی لیکن پیاری دیکھ رہی تھی۔ سب کو مبارکباد دے کر وہاں سے اپنی نانو کے کمرے میں جانے کیلئے اٹھ گئی۔ راستے میں اسکا تصادم علی سے ہوا جر کالے رنگ کی شلوار قمیض پہنے کافی ڈیشنگ لگ رہا تھا۔
” او ایم سوری ” علی نے بے ساختہ کہا تھا۔ سارہ کی آنکھیں نم تھیں جنہے چھپانے کی گرذ سے وہ وہاں سے جارہی تھی۔ لیکن علی سے اسکی یہ نم آنکھیں مخفی نا رہ سکیں تھی۔ سارہ نے آنسو صاف کیے اور سر اٹھا کر علی کو دیکھا تھا۔
” اٹس اوکے ” سارہ کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی اور علی کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا۔
**********************
داؤد عرفان سے باتیں کر رہا تھا جب سامنے سے مہر کو لایا جا رہا تھا۔ داؤد نے نظر اٹھا کر دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ آنکھیں جھکائے جیسے جیسے آگے آرہی تھی داؤد کا دل اتنی ہی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ سرخ و سفید چہرہ جھکی ہوئی نگاہیں وہ آج اسے آسمانوں سی اتری پری ہی لگی تھی۔ دونوں ایک ساتھ بیٹھے مکمل لگ رہے تھے۔ ہر کوئی انکی جانب ستائشی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ داؤد تو بار بار اپنے پہلو میں بیٹھی متاعِ جاں کو دیکھ رہا تھا البتہ مہر نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔
**********************
کھانا کھانے کے بعد سب مہمان جا چکے تھے۔ عظمیٰ بیگم کی فیملی بھی رخصت ہو گئی تھی کیونکہ رات کو حمزہ کی مہندی تھی۔ مہر کے ماموں اور ممانی بھی اسے ڈھیروں دعائیں دے کر جا چکے تھے۔ جبکہ علی کتنی ہی دیر مہر کو داؤد کے نام سے چھیڑتا رہا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں واپس آگئی تھی۔ انعم اور بیا اسے کمرے میں چھوڈ کر اس سے مل کر چا چکی تھیں۔
وہ اپنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے خود کو دیکھ رہی تھی۔ تو آخر کار وہ مہر سکندر سے مہر داؤد ابراہیم بن چکی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ اس بات پر وہ خوش ہو یا دکھی۔ آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے وہ سوچوں میں گھری تھی جب اسے خود پر نظروں کی تپش محسوس ہوئی۔ اس نے اپنا رخ مڑا تو اپنے کمرے کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑے داؤد کو دیکھا۔ اسکی آنکھوں میں آج ایک الگ سی چمک تھی۔
” آ آپ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ ” اس دیکھ کر نا جانے کیوں لیکن اسے غصہ آیا تھا اس لئے اس پر چلائی۔ داؤد نے آئی برو اچکاتے اسکا یہ انداز دیکھا۔
” میں اپنی بیوی سے ملنے آیا ہوں ” کہتے ہوئے داؤد نے اپنے قدم اسکی طرف بڑھائے۔ اس کے بیوی کہنے پر مہر کا دل ڈھڑک اٹھا۔ ہمیشہ کی طرح اسکے اپنی جانب اٹھتے قدموں پر وہ اپنے قدم پیچھے لینے لگی۔
” کک۔۔۔۔۔کون بیوی ؟ ” اپنے دھک دھک دل کو قابو کرتے ہوئے وہ کیا پوچھ رہی تھی اسے خود نہیں پتا تھا۔ داؤد کو اسکے احمقانہ سوال پر ہنسی تو آئی لیکن ضبط کرگیا۔ داؤد آگے بڑھا اور سارے فاصلے ختم کرتا اسکی پیشانی پر اپنی محبت کی پہلی نشانی ثبت کی۔ اسکی اس جسارت پر مہر اپنی دھڑکنے ہی شمار کرتی رہ گئی۔
” یہ میری بیوی ” داؤد نے پیار بھرے لہجے میں باور کروایا۔ وہ اس کے قریب ہی کھڑا اسکو بغور دیکھ رہ تھا جیسے اپنے دل میں سما لینا چاہتا ہو۔ مہر اسی طرح آنکھیں جھکائے کھڑی رہی اس میں بالکل ہمت نہیں تھی وہ اسے ایک نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔
**********************
