Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad NovelR50490 Tera Mera Piyar (Episode - 26)
No Download Link
Rate this Novel
Tera Mera Piyar (Episode - 26)
Tera Mera Piyar By Laiba Ahmad
تھوڑی دیر بعد سب اپنے اپنے کمروں میں سونے کیلئے چلے گئے تھے۔ مہر حفصہ بیگم کو ان کے کمرے میں چھوڑنے گئی تھی اور کافی ٹائم سے وہیں تھی۔ داؤد لاؤنج میں ہی اسکا انتظار کرنے لگا۔ جتنی دیر مہر کمرے میں تھی داؤد ایک کپ کافی کا بنا کر پی چکا تھا۔ چند لمحوں بعد مہر حفصہ بیگم کے کمرے سے نکلی تو داؤد فوراً سے اس کے سر پہنچا۔
” چلو ” سرد نگاہوں سے دیکھتے ہوئے داؤد نے اسے ساتھ چلنے کو کہا۔
” نن۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس سے پہلے وہ انکار کرتی داؤد نے اسکی کلائی اپنی گرفت میں لی اور اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔ پورے راستے مہر نے اپنی کلائی چھوڑوانے کی کوشش کی لیکن بے سود، داؤد نے ٹیرس پر لاکر ہی اسکی کلائی آزاد کی۔
” ہاں اب بتاؤ مجھے کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ ؟ ” داؤد سینے پر ہاتھ باندھے سرد نظروں سے استفادہ کرنے لگا۔
” کوئی مسلئہ نہیں ہے اور مجھے جانے دیں ” منہ پھلائے اس نے وہاں سے جانا چاہا۔ لیکن داؤد اس کے سامنے سے ایک انچ بھی نہیں ہلا۔
” مہر !!!!! سیدھے سیدھے یہیں کھڑی رہو پچھلے دو گھنٹوں سے تمہاری فضول حرکتیں برداشت کر رہا ہوں اب نہیں کروں گا ” دانت پیستے ہوئے داؤد نے اسے تنبیہ کی۔
مہر نے بھی سینے پر ہاتھ باندھ لئے اور ایسے ہی اس کے سامنے کھڑی ہوگئی جبکہ سردی سے اسکی ناک لال ہوگئ تھی۔ لیکن اس نے بھی سوچ لیا تھا وہ بس چپ چاپ کھڑی رہے گی اور بولے گی کچھ نہیں۔
” میں نے کچھ پوچھا ہے ؟ کیا تکلیف ہے تمھے اب ؟ کیوں یہ سب کر رہی ہو ؟ ” داؤد نے اسے آرام سے کھڑے دیکھا تو اپنے سوال پوچھے۔ لیکن مہر نے کوئی جواب نہیں دیا بس ایسے ہی کھڑی رہی۔
” مہرررررر !!!! ” اسکے کچھ نا بولنے پر داؤد نے دانت پر دانت جمائے اسکا نام لیا اور آگے بڑھا تو مہر فوراً ڈر کر پیچھے ہوئی۔ اسکے پیچھے ہونے پر داؤد نے ایک سانس ہوا کے سپرد کی اور خود کو ریلکیس کیا۔
” مہر تم نے پچھلے کچھ دنوں میں مجھے بہت زیادہ ہرٹ کیا ہے پھر بھی میں سب بھول کر آگے بڑھ چکا ہوں اور اب تمہارا یہ رویہ میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔۔اس لئے یہ فضول بات میں آئندہ نہیں سنوں گا کہ تم اس نکاح کو نہیں مانتی ” داؤد نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تھوڑے سخت لہجے میں کہا تھا البتہ اب اسکے چہرے پر غصہ نہیں تھا۔
” ہاں تو کیوں مانوں میں ؟ آپ نے مجھے دھمکی دے کر زبردستی نکاح کیا تھا شاید بھول گئے ہیں ” مہر نے شکوہ کیا۔
” تو تم نے کوئی اور راستہ چھوڑا تھا ؟ نکاح کیلئے تم مسلسل انکاری تھی ایسے میں تم جیسی بے وقوف کیلئے یہ ہی طریقہ تھا میرے پاس ” داؤد نے عاجز آکر کہا تھا۔ اور مہر کو اسکا اسے بے وقوف کہنے پر صدمہ ہوا۔
” آپ نے مجھے بے وقوف کہا ؟ ” مہر نے ڈھیروں خفگی چہرے پر سجائے پوچھا۔ داؤد کو اسکے ایسے پوچھنے پر ڈھیروں پیار آیا اسکا سارا غصہ اڑن چھو ہوا تھا۔
” تم نے مجھے ہرٹ کیا تھا وہ یاد ہے ؟ ” داؤد نے بھی تھوڑا خفا سا کہا تھا۔ وہ اب اسکا بے وقوف والی بات سے دھیان ہٹانے کیلئے یہ بولا تھا۔ مہر کو یاد آیا تھا اس رات اس نے داؤد کو اپنی باتوں سے کتنا ہرٹ کیا تھا اس لیے وہ تھوڑا افسردہ نظر آنے لگی۔
” میں نے جان بوجھ کر نہیں کہا تھا وہ تو بس ” وہ شرمندہ ہوئی۔ جبکہ داؤد نے شکر کیا تھا وہ اسکا دھیان بٹانے میں کامیاب ہوا تھا۔
” تو اب تم دوبارہ سے یہ سب کرکے مجھے ہرٹ کرنا چاہتی کو ؟”
” میں نے کیا کیا ہے اب؟؟ وہ تو آپ نے۔۔۔۔۔۔۔” وہ بول ہی رہی تھی جب داؤد نے اسے کمر سے تھام کر اپنے قریب کیا تھا۔ مہر کی چلتی زبان کو ایک دم بریک لگی تھی۔
” میں نے جو بھی کیا ہے اگر نا کرتا تو ہم آج ایک نا ہوتے لیکن پھر بھی اگر تم مجھ سے اس بات پر ناراض ہو تو آئی ایم سوری ” مہر اسکے سینے پر ہاتھ رکھے دونوں کے بیچ فاصلہ بنائے کھڑی اسکی بات سن رہی تھی لیکن اسے برا لگا غلطی اسکی زیادہ تھی اور معافی وہ مانگ رہا تھا۔
” میں بھی سوری ہوں آپ سے ” وہ سر جھکائے شرمندہ سے بولی۔ داؤد نے اسکا چہرہ اوپر اٹھایا اور اپنے ہاتھ کی پشت سے اسکے گال سہلانے لگا۔ مہر کا چہرہ اسکی حرکت پر سرخ ہوا۔
” مم ۔۔۔۔۔مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔میں اب جاؤں؟” داؤد جو اسکے اتنے قریب ہونے پر کھو سا گیا تھا۔ اسکی آواز سے ہوش میں آیا۔
” ہممم ” داؤد کہہ کر اس سے دور ہوا۔ رات کافی ہو چکی تھی اور سردی بھی بڑھنے لگی تھی اسے اب اتنی دیر چھت پر انکا رکنا مناسب بھی نا لگا تھا۔ اس لیے خودی اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔
*********************
سارہ کچھ گھر کا سامان لینے مارکیٹ آئی ہوئی تھی۔ وہ پارکنگ میں کھڑی اپنی کار میں سامان رکھ رہی تھی جب زرا سے فاصلے پر موجود علی اپنی گاڑی سے نکلا تھا وہ بھی کچھ چیزیں لینے ہی مارکیٹ آیا تھا فرق صرف اتنا تھا وہ ابھی آیا تھا اور سارہ واپس جا رہی تھی۔ علی کی سارہ پر نظر پڑی تو وہ اسکی طرف آیا۔
” ارے آپ یہاں ” علی اس کے سامنے آکر پوچھنے لگا۔
” کیوں میں یہاں نہیں آسکتی ” سارہ نے جواب دیا۔
” میرا مطلب تھا کہ عجیب اتفاق ہے نا آپ اور میں یہاں اچانک ایسے مل رہے ہیں ” علی نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
” جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ” سارہ نے کوفت ذدہ کہا۔
” ایک بات تو بتائیں آپ ہمیشہ مجھ سے بات کرتے وقت ایسے اتنی روڈ کیوں ہو جاتی ہیں ” علی نے آج اسکے اس رویے کی وجہ پوچھ ہی لی تھی۔
” جی نہیں آپکو غلط لگتا ہے “
” اچھا آپکو شاید یاد نہیں آپ کے بھائی کی شادی پر جب میں نے آپکو مبارکباد دینی چاہی تب بھی آپکا کچھ ایسا ہی رویہ تھا میرے ساتھ ” علی نے اسے حمزہ کی بارات ہر ہوئی انکی وہ ملاقات یاد کروائی جس میں سارہ نے ایسے ہی روڈ ہو کر بات کی تھی۔
” ہاں تو آپ کے اور میرے بیچ ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے جو میں ہنس ہنس کر آپ سے بات کروں گی “
” کیسے نہیں ہے رشتہ ؟ ہم تو بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور مہر کے حوالے سے یہ ایک رشتہ ہے تو صحیح ہمارا “
” جی یاد ہے مجھے وہ بچپن جب جب آپ میری نانو کے گھر آتے تھے اور مجھ سے لڑتے تھے اور میرے بال کھینچنا آپکا پسندیدہ کھیل ہوا کرتا تھا ” سارہ نے تھوڑا ایسے انداز میں کہا تھا کہ علی کو لگا وہ اس سے شکوہ کر رہی ہے۔
” او مائے گاڈ ریلی ؟ آپ اس وجہ سے مجھ سے ایسے بات کرتی ہیں؟ ” علی نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔ سارہ کو اسکا ہنسنا زہر لگا تھا اس لیے اس کے پاس سے گزرنے ہی لگی تھی جب اس کی آواز ہر رکی۔
” دیکھیں آپ بچپن کی اس بات کو اب تک دل سے لگا کر بیٹھیں ہیں مجھے اندازہ نہیں تھا لیکن آئی اپولوجائز فور ڈیٹ ” علی نے اپنی ہنسی کو دبایا تھا۔ سارہ غصے سے اسکی طرف پلٹی تھی اور کچھ کہنا چاہا لیکن کہہ نہیں پائی اور ایسے ہی خشمگیں نگاہوں سے اسے گھور کر گاڑی میں بیٹھ گئی اور وہاں سے چلی گئی۔ علی اسکے جانے تک وہیں کھڑا رہا تھا۔
” انٹرسٹینگ ” علی اس راستے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جہاں سے سارہ گئی تھی۔
**********************
داؤد آفس سے گھر آیا اپنے کمرے میں فریش ہونے گیا تھا۔ فریش ہو کر وہ نیچے لاونج میں آیا جب آمنہ بیگم چائے کا کپ لئے آئیں۔ اسے چائے تھما کر وہ وہیں داؤد کے پاس بیٹھ گئیں۔ داؤد کی نظریں ادھر ادھر کسی کو تلاش کرتے دیکھ ان کے چہرے پر مسکان آئی۔
” گھر پر نہیں ہے وہ ” آمنہ بیگم نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے کہا تو داؤد تھوڑا جھینپ گیا۔
” نہیں میں دادو کا پوچھنے والا تھا کہاں ہیں وہ ؟ اپنے روم میں ” داؤد نے جلدی سے وضاحت دی۔
” اماں ڈاکٹر پر گئی ہیں روٹین چیک اپ کیلئے اور مہر بھی ساتھ گئی ہے ” آمنہ بیگم نے بتایا کیونکہ وہ جانتی تھی وہ اماں کا کہہ کر اصل میں مہر کو ڈھونڈ رہا تھا۔
” او اوکے ” داؤد نے کہتے ہوئے چائے کا مگ لبوں سے لگایا تھا۔
” داؤد تم خوش تو ہو نا ؟ ” آمنہ بیگم جانتی تھیں داؤد کی خوشی مہر میں ہے اور داؤد کافی بدل بھی گیا تھا جو کہ ایک اچھی بات تھی اور اس کے پیچھے صرف مہر کا ہاتھ تھا لیکن وہ ایک بار اس کے منہ سے سننا چاہتی تھیں۔
” اور آپکو میں خوش نظر نہیں آرہا ؟ ” داؤد نے مگ ٹیبل پر رکھ کر مسکرا کر پوچھا تھا۔ آمنہ بیگم نے دھیمی مسکان سے سر کو ہاں میں ہلایا۔
” آپ بتائیں آپ خوش ہیں ؟ آئی مین مہر آپکو تو ؟ ” داؤد نے ان کے ہاتھ تھامے وہ اپنی ماں کی پسند بھی جان لینا چاہتا تھا۔
” ارے میں تو بہت خوش ہوں اور مہر میری شہزادی ہے تم سے زیادہ پیاری ہے وہ مجھے ” انھوں نے اسے تسلی دی کہ اسکی پسند پر وہ بھی راضی ہیں۔ دفعتاً رخسانہ بیگم کچن سے باہر آئیں تو داؤد نے انکو دیکھا اور پھر ان سے مخاطب ہوا۔
” چچی میں نے سوچا ہے مہر کو آگے ایڈمیشن لے لینا چاہیں ویسے بھی وہ گھر میں فارغ رہتی ہے اس سے اچھا ہے اسے آگے ماسٹرز کر لینا چاہیے ۔۔۔۔۔ اسکی بوریت بھی دور ہو جائے گی اور پڑھائی بھی مکمل “
” بیٹا بہت دفعہ کہہ چکی ہوں مجال ہے وہ لڑکی میری سن لے، تم خود سمجھاؤ اسے “
” میں نے یہ ایڈمیشن فارمز لئے ہیں آپ ایک بار بات کیجئے گا اگر نا مانی تو پھر میں دیکھ لوں گا ” داؤد نے اپنے ساتھ لائے ہوئے ایک یونیورسٹی کے فارمز انہیں پکڑائے تھے۔
**********************
مہر جب واپس گھر آئی تو رخسانہ بیگم نے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا۔ وہ ایڈمیشن فارم ہاتھ میں لئے چیخی تھی۔
” کییییا !!! میں ماسٹرز کروں گی؟ “
” ڈرامے بند کرو اپنے اور آہستہ۔۔۔۔۔۔یہ کیا طریقہ ہے ؟ اب تمہارا نکاح ہو چکا ہے اسطرح کی حرکتیں مت کیا کرو ” رخسانہ بیگم نے اسے ڈپٹا۔
” ماں !!!! یہ تو کہنے والی تھی میں اب میرا نکاح ہو چکا ہے اب مجھے پڑھائی کی کیا ضرورت بلا ؟ “
” مہر بری بات ہے بیٹا آج کل کی سب لڑکیاں ماسٹرز تو لازمی کرتی ہیں اور ویسے بھی سارا دن گھر میں گدھوں کی طرف ادھر ادھر گھومتی رہتی ہو راتوں کو جاگ کر فلمیں دیکھتی ہو اس سے اچھا ہے کچھ کرو بیٹا تمہارا ہی فائدہ ہے “
انکی بات پر مہر نے منہ بنایا تھا لیکن وہ جانتی تھی اپنی ماں کو کہنے کا کوئی فائدہ نہیں اس لیے وہ ان کے کمرے سے نکل کر باہر لاونج میں آئی جہاں سکندر صاحب اور حفصہ بیگم موجود تھے۔
” بابا پلیز ماں کو سمجھائیں کے مجھے آگے کوئی نہیں پڑنا ” وہ ان کے پاس ہی صوفے پر منہ پھلائے بیٹھ گئی۔
” بیٹا آپکو اپنی ماں کا پتا تو ہے مان لیں انکی ” سکندر صاحب نے وہی کہا تھا جو انھیں کہنے کیلئے بولا گیا تھا کیونکہ رخسانہ نے انھیں سختی سے مہر کی سائڈ لینے سے پہلے ہی منع کر دیا تھا۔
” بابا آپ بھی ؟ ” مہر نے بے یقینی سے انھیں دیکھا۔
” تو حرج ہی کیا ہے لڑکی؟ تیری سہیلی بھی تو پڑھائی کر رہی ہے ” حفصہ بیگم نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔
” دادو آپ تو میری بات سمجھیں ” مہر نے افسردگی سے کہا۔
” مہر بیٹا آخر بی ایس بھی تو آپ نے کیا ہے تو آگے پڑھنے میں کیا برائی ہے بیٹا ” سکندر صاحب نے اسے سمجھنا چاہا وہ الگ بات تھی وہ یہ چاہتے نہیں تھے ان کیلئے مہر کی خوشی سب سے بڑھ کر تھی لیکن بیچارے آج اپنی زوجہ کے ہاتھوں مجبور تھے جنہوں نے انھیں صاف صاف کہا تھا کہ اگر آج انھوں نے مہر کو اپنی من مانی کرنے دی تو وہ ان سے کبھی بات نہیں کریں گی اور انھوں یہ بھی بتایا تھا کہ داؤد کی بھی یہ خواہش ہے۔
*******************
مہر اب آمنہ بیگم کے پاس کچن میں موجود رات کے کھانے کیلئے سلاد بنا رہی تھی۔
“بڑی ماں آپ سمجھائیں نا سب کو مجھے آگے نہیں پڑھنا” وہ اب انکو اپنی طرف کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ آمنہ بیگم ہانڈی میں چمچ چلاتی ہوئیں مسکرائیں۔
” میں تو پہلے ہی رخسانہ کو کہا تھا بھئ کہ مہر اب میری بہو ہے تو وہ جو چاہے گی وہی ہوگا لیکن وہ نہیں مانی ” انکے بہو کہنے پر مہر شرما گئی۔
“لیکن ایک شخص ہے جو تمہاری ماں کو سمجھا سکتا ہے”۔ انھوں نے اپنی ہنسی لبوں پر دبا کر مزید کہا۔ مہر فوراً سلاد چھوڑے انکی طرف آئی۔
” کون ؟؟ ” آنکھوں میں چمک لئے اس نے پوچھا۔
” داؤد ” انھوں نے کہہ کر چولہا بند کیا۔ جبکہ داؤد کے نام پر مہر سوچ میں پڑ گئی۔
**********************
مہر اب داؤد کے کمرے میں موجود اس سے سفارش کرنے آئی تھی۔ وہ کافی مصروف نظر آرہا تھا۔ مہر اسکے کام سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
” کچھ کہنا ہے ؟ ” داؤد نے مصروف سے انداز میں فائل پر نظریں جمائے بنا اسکی طرف دیکھے پوچھا۔
” ہاں وہ آپ میرا ایک کام کردیں پلیز ” مہر اس کے پاس ہی کھڑی تھی۔
” کیا کام ؟؟؟ ” داؤد نے بنا دیکھے ہی پوچھا تھا۔
” وہ مجھے آگے پڑھنا نہیں ہے آپ پلیز ماں کو سمجھائیں نا وہ زبردستی مجھے ماسٹرز کرنے کا کہہ رہی ہیں ” مہر نے جھنجھلاتے ہوئے التجا کی۔ داؤد نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
” کیوں ماسٹرز کرنے میں کیا حرج ہے ” داؤد نے فائل بند کی اور اپنی جگہ سے اٹھا کیونکہ یہ کہاں ممکن تھا کہ مہر کو دیکھنے کے بعد وہ کسی اور چیز پر دھیان دے پاتا۔
” اور ماسٹرز کرکے میں آپکی طرح سوٹ ووٹ پہن کر آفس جایا کروں گی ؟ ” داؤد نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے قریب کیا۔
” ویسے ایسے تم کیوٹ لگو گی بہت ” داؤد نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
“او ہو بھئی آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں۔۔۔۔۔مجھے فائدہ کیا ہونا ہے اتنا پڑھنے کا۔۔۔۔کل کو تو میری شادی ہی ہونی ہے نا اور پھر میں نے گھر اور بچے ہی سنھبالنے ہیں”
اس کے حصار سے نکل کر وہ تھوڑا دور ہوئی۔ جبکہ داؤد اسکی بات سن کر حیران ہوا اور اس نے مہر کی طرف دیکھا جو کمر پر ہاتھ رکھے آنکھیں گھما رہی تھی اس کے چہرے پر داؤد کو ایسے کوئی تاثرات نظر نہیں آئے جسکی وہ توقع کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔شاید اسے خود علم نہیں تھا وہ کس کے سامنے کیا بات کر گئی ہے۔ ایک خیال کے تحت داؤد کی آنکھیں چمکیں۔
” ایک طریقہ ہے جس سے تمہاری اس پڑھائی سے جان چھوٹ جائے گی ” داؤد اس کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا۔
” کیا ؟ ” مہر نے جلدی سے پوچھا۔
” ابھی تم نے خود ہی حل بتایا ہے ” داؤد کہہ کر اس کے قریب ہوا تو مہر پیچھے ہوئی۔
” کونسا ” مہر نے اچھنبے سے پوچھا۔ داؤد اس کے پاؤں کی طرف دیکھ رہا تھا کیونکہ جیسے جیسے وہ ایک قدم اسکی طرف لیتا تھا وہ ایک قدم پیچھے لیتی تھی۔
” یہ ہی کے تمہاری اگر شادی ہو جائے۔۔۔۔۔۔وہ تو ویسے ہو چکی ہے بس رخصتی ہونی باقی ہے تو پھر شاید۔۔۔۔۔۔ ” مہر پیچھے کمرے کے بند دروازے سے لگی کھڑی تھی۔ داؤد نے ایک ہاتھ اس کے سر کے پاس رکھے تھوڑا اسکی اور جھک کر کہا۔
” رر۔۔۔۔۔۔۔۔رخصتی ” مہر نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
” ہاں رخصتی۔۔۔۔۔ پھر تم گھر اور بچوں کو سنبھالنا ” داؤد نے گھمبیر آواز میں کہا۔ اسکی بات سن کر مہر کی آنکھیں پھیل گئیں اور شرم سے وہ کانوں کی لوح تک سرخ ہوئی اس نے دوسری طرف سے اس کے حصار سے نکلنا چاہا تو داؤد نے دوسری طرف ہاتھ رکھ اسکا راستہ روکا۔
” آ آ۔۔۔۔۔۔آپ پتا نہیں کیا باتیں کر رہے ہیں میں تو بس۔۔۔۔۔” کہتے ہوئے مہر اس کے بازو کے نیچے سے نکل گئی اور دور جا کر کھڑی ہوگئی۔ داؤد اسکی حرکت ہر مسکرایا اور اسکی جانب گھما۔
” سوچ لو۔۔۔۔۔۔ یہ ہی ایک بیسٹ آپشن ہے ” داؤد نے اپنی لبوں پر آئی مسکراہٹ کو دبا کر کہا تھا۔
” جی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ مم۔۔۔۔۔میں کچھ اور کرلوں گی ” مہر خفت اور شرم کی ملی جلی کیفیت سے کہتے ہوئے اس کے پاس سے گزر کر تیزی میں کمرے سے نکل گئی۔
*********************
